Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 31)

Blind Friends By Isra Rao

“اسے فکر ہے یار تیری”

نوریض نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہا

“رہنے دے” ابراہیم کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا

“میں سچ کہ رہا ہوں۔۔۔مجھے روز کہتی ہے نوریض میرے ایبو کو ساتھ لے کر آنا۔۔۔۔اور دیکھو فائنلی اس کی دعائیں قبول ہوگئی”

نوریض نے مسکرا کر کہا

ابراہیم ہلکے سے مسکرایا

“وہ بس تجھ سے ناراض ہے۔۔۔کیونکہ کامی نے اسے تیری اور انا یہ کی تصویر دکھا دی ہاسپیٹل کی۔۔۔۔”

نوریض نے سامنے دیکھتے یوئے کہا

“اس کامی کا تو علاج کرتا ہوں میں”

ابراہیم نے چڑتے ہوئے کہا

“تجھے منانا پڑے گا اب اسے۔۔۔۔وہ ناراضگی کی وجہ سے تجھ سے ملنے نہیں آئی مگر اسے فکر بہت ہے تیری۔۔۔انفیکٹ اسی کی وجہ سے تو باہر آیا ہے”

نوریض نے کہا

“آرب کی وجہ سے”

اس نے تصحیح کی

“نہیں اس نے سب سے ہیلپ مانگی۔۔۔پہلے فرقان انکل سے پھر آرب سے مجھ سے۔۔۔۔اس نے سب کی منت کی ہے تیرے لیے۔۔۔۔”

نوریض نے سنجیدگی سے کہا

“ایک منٹ بابا سے کیوں؟”

وہ الجھا

“ہاں وہ ریکارڈنگ کے لیے ریسٹورنٹ میں انہوں نے ہی بات کی تھی۔۔۔ورنہ مجھے تو کوئی دکھاتا نا”

نوریض نے تفصیل دی

ابراہیم کی نسیں تنی۔۔۔۔

“تو مجھے گھر چھوڑ دے”

ابراہیم نے بس اتنا کہا

“مگر منہا تو رتبہ کے پاس ہے میرے گھر پر”

نوریض نے بتایا

“میں نے کہا نا تو مجھے گھر چھوڑ دے۔۔۔مجھے فریش ہونا ہے”

ابراہیم نے سنجیدگی سے کہا

“ٹھیک ہے۔۔۔۔”

نوریض نے گاڑی اس کے گھر کی جانب موڑی۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“میرے پیچھے یہاں کون کون آتا تھا منہا کے پاس؟”

ابراہیم نے ملازم سے پوچھا۔۔۔

“ایک بار کمیل صاحب اور ان کی بہن آئے تھی۔۔۔۔باقی نوریض صاحب اور آرب صاحب کافی بار آئے تھے۔۔۔”

ملازم نے تفصیل سے بتایا

“آرب نوریض کے ساتھ آتا تھا؟” ابراہیم نے سوال کیا

“نہیں جی۔۔وہ اکیلے ہی آتے تھے”

ملازم نے ادب سے بتایا

“ٹھیک ہے جاؤ” ابراہیم وہیں صوفے پر بیٹھا۔۔۔

وہ گہری سوچ میں ڈوبا تھا جب منہا آئی۔۔۔

اسے دیکھ مسکرائی۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔” وہ ناراضگی بھول کر اس کی جانب لپکی۔۔۔

ابراہیم اسے دیکھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

“کیسے ہو؟” وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھے پوچھنے لگی۔۔۔

ابراہیم خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

بنا کوئی جواب دیے۔۔۔

“تونے بابا سے ہیلپ لی تھی؟” ابراہیم نے سنجیدگی سے سوال کیا۔۔۔

اس کے چہرے سے یک دم مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔۔

وہ یک دم چہرہ موڑ گئی۔۔۔

“ارے میں تو بھول ہی گئی۔۔۔میں تو تجھ سے ناراض تھی”

اس نے اس کے سوال کو اگنور کرتے خفگی ظاہر کی۔۔۔

“میری بات کا جواب دے” ابراہیم نے اسے بازوں سے پکڑ کر سامنے کیا

“ایبو۔۔۔تجھے کس نے بتایا یہ؟”

وہ الٹ سوال کرنے لگی۔۔۔

“کسی نے بھی بتایا ہو۔۔۔تو یہ بتا تو نے ہیلپ مانگی تھی بابا سے؟”

ابراہیم غراتے ہوئے پوچھنے لگا

“ہاں۔۔۔لی تھی بابا کی مدد”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔

ابراہیم جھٹکے سے اس کا بازوں چھوڑا۔۔۔

“کس سے پوچھ کر تو نے بابا سے مدد لی؟”

وہ سرخ آنکھوں سے سوال کرنے لگا۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔میں کیا کرتی میں تو تمہارے لیے۔۔۔۔۔۔”

وہ نم آنکھوں سے بات پوری کرتی مگر ابراہیم نے بات کاٹی

“بھاڑ میں گیا میں یار۔۔۔پڑا رہنے دیتی مجھے۔۔۔۔ویسے تجھے بہت فکر ہے میری؟ ایک بار؟ ایک بار بھی آئی اتنے دنوں میں تو ملنے؟”

ابراہیم نے جھنجھلا کر کہا۔۔۔

“ہاں تو کیوں آتی میں؟ تو نے بتایا مجھے تو اس انابیہ سے ہاسپیٹل ملنے گیا تھا۔۔۔۔؟ تو نے بتایا تو ریسٹورنٹ ملنے گیا۔۔۔سب کچھ مجھے دوسروں سے سننے کو ملتا ہے”

منہا نے سرخ چہرے سے کہا

“ہاں تو صاف بول نا کہ بھروسہ نہیں رہا۔۔۔تم میں سے کسی کو مجھ پر بھروسہ نہیں نہ تجھے نہ بابا کو۔۔۔۔نہ کسی اور کو۔۔۔۔تم سب کی نظر میں گھٹیا ہوں نا میں۔۔۔۔”

ابراہیم نے تلخ لہجے میں کہا

“میں نے ایسا نہیں کہا” منہا نے فوراً کہا۔۔۔البتہ غصہ قائم تھا۔۔۔

“ایسا ہی ہے۔۔۔۔اور تیری نظر میں تو پلے بوائے ہوں۔۔۔۔یہی تو کہا تھا تو نے زیمل سے۔۔۔۔”

ابراہیم پرانی باتیں اکھاڑنے لگا

“ہاں۔۔۔ہاں ایسا ہی ہے۔۔۔۔تجھے جو سمجھنا ہے سمجھ۔۔۔۔”

منہا نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔

“اوہ جب میں ایک پلے بوائے ہوں تیری نظر میں تو کیوں میرے ساتھ زندگی خراب کر رہی ہے۔۔۔۔؟”

ابراہیم نے کاٹ دار لہجے میں پوچھا

“مجھے کوئی شوق نہیں تیرے ساتھ رہنے کا۔۔۔۔۔۔”

منہا نے گرتے آنسوؤں کو ہتھیلی سے صاف کیا

“تو چاہتی یہی ہے۔۔۔۔اب تو تجھے مجھ میں نقص ہی نظر آئیں گے نا۔۔۔میں آبی جیسا نہیں ہوں نا”

ابراہیم نے سرخ آنکھوں سے اسے دیکھا

“ایبو۔۔۔کیا مطلب ہے اس بات کا۔۔۔۔؟”

منہا نے سوال کیا

“تو مجھ سے ملنے نہیں آئی۔۔۔مگر آرب سے بہت بار ملی ہے تو۔۔۔۔کب کس وقت کتنی دیر۔۔۔مجھے سب علم ہے۔۔۔۔تو نے بھی مجھے نہیں بتایا”

ابراہیم نے طنزیہ کہا۔۔۔۔

“تو شک کر رہا ہے مجھ پر۔۔۔۔؟ اب تو حد ہی ہوگئی۔۔۔۔ واقع میں تیرے ساتھ اپنی زندگی خراب کر رہی ہوں۔۔۔۔۔”

منہا نے آخری جملے حقارت بھرے لہجے میں اس کے منہ پر دے مارا ہو جیسے۔۔۔

“تو مت کر یار۔۔۔۔۔” وہ غصے سے کہنے لگا

ابراہیم کی نسیں تن گئی۔۔۔۔اس جملے نے اسے اندر تک جھلسا دیا تھا۔۔۔۔

“ٹھیک ہے میں جارہی ہوں یہاں سے۔۔۔تجھ سے دور۔۔۔۔”

منہا نے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے کہا

ابراہیم غصے سے اسے اگنور کرتا باہر نکل گیا۔۔۔۔

جیسے وہ اسے روکنا چاہتا ہی نہ ہو۔۔۔

منہا منہ پر ہاتھ رکھے۔۔۔گھٹی گھٹی آواز میں رونے لگی۔۔۔

آنسوؤں کا گولا گلے میں پھندے کی طرح پھنس گیا تھا۔۔۔

وہ اونچی آواز میں رونا چاہتی تھی۔۔۔چیخنا چاہتی تھی۔۔۔۔

اسے تکلیف ہورہی تھی۔۔۔

اس کا ایبو ایسا تو نہیں تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ایدہ مجھے لگتا ہے آرب نے وہ ریکارڈنگ نکالی ہے”

کمیل نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔

“واٹ؟” ایدہ چونکی

“ہاں۔۔۔ورنہ گھر سے وہ ریکارڈنگ جائے گی کہاں۔۔۔۔؟”

کمیل نے اپنا شک ظاہر کیا

“اچھا ایک منٹ” ایدہ کہتے ساتھ اٹھی اور ڈرار سے کچھ نکالنے لگی

“یہ رہی وہ ریکارڈنگ۔۔۔۔” ایدہ نے پیکٹ اس کی جانب بڑھایا۔۔۔

کمیل نے جھٹ تھاما۔۔۔۔پھر کھول کر کارڈ نکال کر دیکھنے لگا۔۔۔یہ واقع وہی تھا۔۔۔۔

“یہ کہاں سے ملا تجھے؟”

کمیل حیران ہوا۔۔۔

“میں آج ہی تیرے روم کی صفائی کروائی اور یہ مل گیا۔۔۔۔سب سے لاسٹ والے ڈرار سے”

ایدہ نے اسے گھورتے ہوئے بتایا

“مگر میں نے یہ سیف میں رکھی تھی۔۔۔مجھے یاد ہے اچھے سے”

کمیل نے پرجوش لہجے میں کہا

“تو نے یہ سیف میں رکھی ہوتی تو یہ ڈرار سے نہ ملتی”

ایدہ نے کاٹ دار لہجے میں کہا

“یہ وہاں کیسے گئی؟”

وہ سوچنے لگا

“اس کے پاؤں نہیں ہیں کامی۔۔۔۔کسی پر شک کرنے سے پہلے اپنے دماغ کو ٹھیک کر۔۔۔۔آرب ایسا نہیں ہے۔۔۔۔سمجھ آئی”

وہ تلخ لہجے میں کہتی کمرے سے نکل گئی۔۔۔

مگر کمیل ابھی تک س سوچ میں ڈوبا تھا کہ کیا وہ واقع بھول رہا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ جب گھر آیا تو منہا نہیں تھی۔۔۔۔

اس نے روم میں جا کر دیکھا۔۔۔۔

اس کے کپڑے نہیں تھے۔۔۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا۔۔۔۔

اس نے ضبط سے مٹھی بند کی۔۔۔۔

تیزی سے باہر نکلا۔۔۔۔۔لان میں ملازم کو دیکھ وہ اس کے پاس گیا۔۔۔

“منہا کہاں ہے؟”

ابراہیم نے سوال کیا

جی پتا نہیں بتا کر نہیں گئی۔۔۔بس بیگ لیا اور چلی گئی۔۔۔۔

میں نے پوچھا مگر انہوں نے جواب نہیں دیا۔۔۔۔

ابراہیم کی آنکھوں میں مزید غصہ ابھرا۔۔۔۔

وہ کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

“غلطی بھی خود کی۔۔۔۔اور گھر چھوڑ کر بھی چلی گئی”

وہ بڑبڑایا

“ہاں اسے تو موقع چاہیے تھا”

وہ بیڈ پر بیٹھا۔۔۔

(مجھے کوئی شوق نہیں تیرے ساتھ رہنے کا)

اس کے کانوں سے جملہ ٹکرایا۔۔۔۔

ساتھ رکھا تکیہ اس نے اٹھا کر زمین پر پھینکا۔۔۔۔

غصہ بڑھتا چلا جارہا تھا۔۔۔۔

(میں تیرے ساتھ اپنی زندگی خراب کر رہی ہوں)

اس نے بے اختیار ہی اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“بات تو یہ ہے کہ تم کوئی مضبوط کیس بنا کر اسے پھنسا ہی نہیں سکے۔۔۔”

انابیہ نے جھنجھلا کر کہا

“کل تم گھر چلی جانا۔۔۔اب چھپنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے”

کمیل نے بد مزہ ہوتے ہوئے کہا

“فائدہ بہت بڑا ہوا ہے کامی۔۔۔۔”

ایدہ مسکراتی وہاں آ بیٹھی۔۔۔۔

“کیا؟” وہ دونوں چونکے

“ابراہیم اور منہا میں زبردست قسم کا جھگڑا ہوا ہے۔۔۔اور منہا ابراہیم کو چھوڑ کر چلی گئی۔۔۔۔”

ایدہ نے خوش دلی سے کہا

بیک وقت ہی انابیہ اور کمیل کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ایبو۔۔۔تیرا دماغ ٹھیک ہے۔۔۔اس نے صرف تیرے لیے کیا ہے تھا سب “

نوریض نے اسے ٹوکا

“مگر میں نے اسے نہیں کہا تھا گھر چھوڑنے کو۔۔۔وہ خود گئی ہے”

ابراہیم نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔

اسے کوئی پچھتاوا نہیں تھا۔۔۔

“وہ گھر گئی ہے اپنے؟”

رتبہ نے سوال کیا

“مجھے نہیں پتا وہ کہاں گئی ہے۔۔۔مگر خود گئی ہے خود ہی آئے گی واپس۔۔۔۔”

ابراہیم نے بے رخی سے کہا۔۔۔۔

رتبہ اور نوریض ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔

جھگڑتے تو وہ دونوں ہمیشہ ہی تھے۔۔۔مگر اس بار بات سیریس تھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“تم نے مجھے بتایا بھی نہیں”

آرب نے گہری نظروں سے سوال کیا

میں ہمارے آپس کی بات تمہیں کیوں بتاوں گی آرب؟”

منہا نے تلخی سے کہا

وہ شرمندہ نہیں ہوا۔۔۔

بس مسکرا دیا

“تم نہیں بتاؤ گی تو کیا مجھے پتا نہیں چلے گا؟”

وہ پوچھنے لگا

“پتا چل ہی گیا تو وجہ پوچھو۔۔۔۔پتا وجہ کیا ہے۔۔۔؟ تم”

منہا نے بے رخی سے کہا

اس نے ابرو سکیڑی۔۔۔

ماتھے پر شکن پڑے۔۔۔۔

“میں؟ میں نے کیا کیا ہے؟”

وہ پوچھنے لگا

“میرے ماضی میں حال میں تم موجود ہو یہ وجہ کم ہے۔۔۔۔؟ آرب کیوں آئے تم میری زندگی میں۔۔۔۔؟ اور آج بھی کیوں ہو؟ چلے کیوں نہیں جاتے مجھ سے دور۔۔۔۔؟”

وہ نم آنکھوں سے بے بسی کی انتہا پر تھی

آرب خاموشی سے سن رہا تھا۔۔۔

“وہ کہتا ہے وہ تمہارے جیسا نہیں ہے اسی لیے میں اسے چھوڑ رہی ہوں”

منہا نے سامنے بیٹھے آرب سے کہا

وہ صرف اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔بنا پلکیں جھپکے۔۔۔۔

“وہ صحیح کہتا ہے وہ تمہارے جیسا نہیں ہے۔۔۔۔وہ کسی کے جیسا نہیں ہے۔۔۔وہ سب سے الگ ہے۔۔۔۔مگر تم بتاؤ آرب کیا میں۔۔۔میں اسے چھوڑ سکتی ہوں؟”

منہا کی آنکھ سے دو آنسوں گر کر گال بھگو گئے تھے۔۔۔

آرب کو اس کے لہجے میں بے بسی محسوس ہوئی۔۔۔

وہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“میں نے تمہاری اس لیے مدد نہیں کی تھی کہ میں تم سے شادی پر راضی ہوگئی تھی۔۔۔۔”

انابیہ اٹھ کھڑی ہوئی

“میں نے اس لیے مدد کی تھی کہ منہا اسے چھوڑ دے گی۔۔۔۔اور ایسا ہی ہورہا ہے جیسا میں نے سوچا تھا”

انابیہ نے سنجیدگی سے کہا

“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔۔؟ تم ابراہیم سے شادی کرسکتی ہو؟”

کمیل نے سوال کیا

“ہو بھی سکتا ہے”

انابیہ نے پرسکون لہجے میں کہا

وہ اس کی بات پر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

“بات سنو میری۔۔۔۔” اس نے اسے بازو سے پکڑ سامنے کیا

وہ ناسمجھی سے دیکھنے لگی

“تم صرف میری ہو سمجھ آئی۔۔۔آج بھی کل بھی۔۔۔اور ہمیشہ۔۔۔تمہارا نام صرف میرے ساتھ جڑے گا۔۔۔۔ورنہ کسی کے ساتھ نہیں۔۔۔۔”

کمیل کے لہجے میں سنجیدگی تھی

وہ کہتے ساتھ ہی باہر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

وہ آنکھوں میں غصہ لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“مجھے دیر نہیں کرنی اب۔۔۔۔۔ایدہ” وہ ڈرائیونگ کرتے کہنے لگی

“تو کیا کرے گا اب تو؟”

ایدہ نے سوال کیا

“نکاح۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے گھر والوں کے لیے وہ ویسے بھی گمشدہ ہے”

کمیل نے صاف گوئی سے کہا۔۔۔

“کامی ڈیڈ کو پتا لگ گیا تو؟”

وہ ڈری تھی۔۔۔

“کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ایک بار نکاح ہوجائے تو کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا”

وہ اٹل تھا۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ ایک خوبصورت ڈریس اور رنگ خرید چکا تھا۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ گاڑی میں بیٹھتا۔۔۔ سامنے کھڑے آرب پر اس کی نظر پڑی۔۔۔۔جس کے ساتھ کوئی لڑکی تھی۔۔۔۔

اسے لمحہ لگا تھا لڑکی کو پہنچاننے میں ۔۔۔

وہ اس کی جانب پشت کیے کھڑی تھی۔۔۔۔مگر اس سلکی لمبے بال ہائی پونی میں قید تھے۔۔۔ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔

کمیل اسے بالوں سے پہنچان گیا تھا کہ یہ منہا ہی ہے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“منہا سے بات ہوئی؟” نوریض کی آواز میں فکر تھی

“کوئی اور بات کر” اس نے مصروفیت سے کہا

وہ کچن میں کھڑا اپنے لیے کافی بنا رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔

اس نے دیوار پر لگی چھوٹی سی اسکرین کو بٹن دبا کر دیکھا۔۔۔

“بعد میں بات کرتا ہوں۔۔۔۔”

اس نے فون بند کیا

پھر نیچے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

سامنے سے کمیل آرہا تھا۔۔۔۔

وہ اسے دیکھ حیران تھا بس۔۔۔۔

“کیسا ہے بڈی؟” کمیل نے پوچھا۔۔۔

“یہ چوہا بلی کا کھیل بند کردے کامی۔۔۔کھل کر بت کر۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے تیکھے لہجے میں کہا۔۔۔

وہ ہلکا سا مسکرایا

“کھیل تو تو کھیل رہا تھا نوریض کی اور آبی کی آڑ میں”

کمیل نے سنجیدگی سے کہا

“تجھ سے ہی سیکھا ہے سب”

ابراہیم نے بنا کسی جھجھک کے جواب دیا

“ویسے تو اتنا گر گیا کہ انابیہ کو یوز کیا تو نے۔۔۔۔تو تو محبت کرتا ہے نا اس سے”

ابراہیم نے طنزیہ پوچھا

“محبت تو تو بھی کرتا ہوگا اپنی بیوی سے پھر تو نے اسے کیسے استعمال کیا۔۔۔۔آرب کے سامنے پیش کر کے”

وہ پرسکون تھا

“بکواس بند کر۔۔۔۔”

ابراہیم کا خون خولنے لگا تھا

“کیوں برا کیوں لگ رہا ہے؟ تو نے اپنی بیوی کو نہیں بھیجا ہوا کہ آرب کو یوز کرے۔۔۔۔اور میرے خلاف کام کرے”

کمیل نے تلخی سے کہا

“کمیل تو حد سے بڑھ رہا ہے”

اس نے گریبان پکڑتے ہوئے کیا

“میں یا تو۔۔۔۔۔؟ ٹھیک ہے یار ہوگئی تھی غلطی۔۔۔۔مگر اب تو منہا کو آرب سے دور رہنا چاہیے۔۔۔۔۔ابھی ابھی میں انہیں ایک ساتھ دیکھ کر آیا ہوں”

کمیل نے وار کیا

ابراہیم کے ہاتھ اس کے گریبان پر ڈھیلے ہوئے۔۔۔۔

“یقین نہیں آتا تو جاکر دیکھ لے۔۔۔۔”

کمیل نے اسے ایڈریس بتایا۔۔۔۔

وہ اثبات میں سر ہلاتا اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

اور کمیل مسکرا دیا۔۔۔۔