Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 16)

Blind Friends By Isra Rao

“کیسی ہو؟”

اس نے فارملی پوچھا

“ٹھیک ہوں۔۔۔۔تم مے آج مجھے کیسے کال کرلی؟”

منہا نے پوچھا

“ویسے ہی زیمل کا لگ نہیں رہا تھا”

ابراہیم نے صفائی دی۔۔۔۔

“ایک بات پوچھوں ایبو؟”

منہا نے تمہید باندھی

“ہاں پوچھو”

اس نے سادگی سے کہا

“تمہیں پتا تھا نا آرب اور ایدہ کی شادی ہوگئی؟”

اس نے سوال کیا

“ہاں پتا تھا”

اس نے فوراً کہا

“تو تم نے مجھے نہیں بتایا؟”

وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگی

“دیکھو منہا۔۔۔جب کوئی ہمیں چھوڑ دیتا ہے نا۔۔۔ہم پر واجب ہوجاتا ہے کہ ہم بھی اسے بھول جائیں۔۔۔۔”

ابراہیم کی بات پر اس نے ضبط سے لمحہ بھر آنکھیں موندی

ابراہیم کی بات بلکل صحیح تھی۔۔۔۔

اسے کیوں فرق پڑ رہا تھا۔۔۔۔کیوں وہ رو رہی تھی۔۔۔۔؟

وہ خود سے سوال کرنے لگی

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کانگریٹس۔۔۔آپ امید سے ہیں۔۔۔۔”

ڈاکٹر نے سامنے بیٹھی ایدہ کو دیکھا

“واٹ؟”

وہ چونکی

“یس۔۔۔۔دو ماہ کی پریگنینسی ہے آپ کو ۔۔۔۔اپنا خیال رکھنا ہے۔۔۔۔۔میں کچھ ٹیبلیٹس لکھ رہی ہوں۔۔۔۔وہ ٹائم پر کھانی ہے”

ڈاکٹر کہتے ساتھ لکھنے لگی

“مگر مجھے یہ بے بی نہیں چاہیے”

وہ یک دم کہنے لگی

“یہ آپ کیا کہ رہی ہیں۔۔۔۔؟”

ڈاکٹر حیران ہوئی۔۔۔۔

مجھے چاہیے ہی نہیں بے بی۔۔۔۔۔”

وہ اٹل تھی

“دیکھیں آپ گھر جائیں ریلیکس کریں۔۔۔اپنے ہسبینڈ سے ڈسکس کریں۔۔۔۔وہ اس نیوز سے بہت خوش ہوں گے۔۔۔۔”

ڈاکٹر نے نرمی سے سمجھایا ایدہ پرس اٹھاتی باہر نکل گئی۔۔۔

“ہاں یہی بے بی آرب کے دل میں میرے لیے محبت پیدا کرے گا۔۔۔۔”

ایدہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی سوچنے لگی

❤️❤️❤️❤️❤️..

(جب کوئی ہمیں چھوڑ دیتا ہے نا۔۔تو ہم پر بھی واجب ہوجاتا ہے کہ ہم اسے بھول جائیں)

وہ سوچ میں گم تھی۔۔۔۔ جب زیمل روم میں آئی

ہاتھ میں کافی کا کپ تھا

“بھابھی میں آپ کے لیے کافی لائی ہوں۔۔۔آپ چائے نہیں پیتی نا”

وہ مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔۔

اور اس کی جانب کپ بڑھایا جسے منہا نے مسکرا کر تھام لیا

“زیمل کیا ہم دونوں دوست بن سکتے ہیں۔۔۔۔بھابھی نند نہیں”

منہا نے منہ بسورتے ہوئے کہا

“بلکل بن سکتے ہیں۔۔۔مگر میں بھابھی کہنا نہیں چھوڑ سکتی”

زیمل نے فوراً کہا

“ہاں ایبو کی ہی بہن ہو تم بھی”

وہ بڑبڑائی

“آپ ابراہیم بھائی کو ایبو کہتی ہیں؟”

وہ پوچھنے لگی

“ہاں۔۔۔۔ہم۔سب دوست۔۔۔۔۔”

وہ کچھ کہنے لگی تھی۔۔۔پھر یک دم رکی۔۔۔۔

جسے بہت سی پرانی یادیں آنکھوں کے سامنے لہرائی۔۔۔

دل چاہے پھر سے رو دے۔۔۔

❤️❤️❤️❤️..

“کل سارہ بیگم لینے آئی تھی ایدہ کو”

خاور صاحب نے بتایا

“پھر آپ نے کیا کہا؟”

کمیل نے سوال کیا

“میں کیا کہتا ایدہ نے انکار کردیا۔۔۔۔”

وہ سادگی سے کہنے لگے

کمیل خاموش تھا

“میں نے تو پہلے ہی ایدہ کو کہا تھا لڑکا صحیح نہیں ہے مگر یہ مانے تو”

خاور صاحب نے سنجیدگی سے کہا

“ڈیڈ وہ ضدی ہے آپ جانتے تو ہیں۔۔۔۔”

کمیل نے فوراً کہا

“مجھے نہیں لگتا وہ لینے آئے گا اسےکتنے دن تو ہوگئے۔۔۔ٹا ایدہ نے اپنی طبیعت خراب کرلی۔۔۔”

خاور صاحب نے افسردگی سے کہا

آپ کہیں تو میں بات کروں۔۔۔مگر میں ان دونوں کے بیچ پڑنا نہیں چاہتا”

کمیل نے لاپرواہی سے کہا

“میں اسے دو منٹ میں سیدھا کر سکتا ہوں۔۔۔بس ایدہ کی وجہ سے چپ ہوں”

خاور صاحب نے سنجیدگی سے کہا

“کوئی ضرورت نہیں ہے بات کرنے لگی”

ایدہ جو ان کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔۔تلخی سے بولی

وہ دونوں اسے دیکھنے لگے

“اب تو وہ خود ہی آئے گا مجھے لینے”

ایدہ نے عجیب سے تاثرات کے ساتھ کہا

اور اندر کی جانب بڑھ گئی

❤️❤️❤️❤️❤️..

“منہا بیٹا؟”

سونیا بیگم ان دونوں کے پاس آئی

وہ دونوں میں پودوں کی کٹنگ میں مصروف تھی

انہیں دیکھ اٹھ کھڑی ہوئی

“زیمل عظمیٰ بلارہی ہیں آپ کو۔۔۔جاؤ”

انہوں نے پاس کھڑی زیمل سے کہا۔۔۔۔

وہ اثبات میں سر ہلاتی اندر کی جانب بڑھ گئی

“کل آپ کہاں گئی تھی بیٹا؟”

وہ پوچھنے لگی

“میں اپنی فرینڈ کے گھر گئی تھی۔۔۔۔میں نے بتایا تھا چچی کو۔۔۔آپ سورہی تھی”

منہا نے صفائی دی

“بات بتانے کی نہیں ہے۔۔۔۔ہمارے خاندان کی لڑکیاں یونہی۔۔۔اکیلی کہیں بھی نہیں چلی جاتی۔۔۔۔آپ کو اپنے چاچو کے ساتھ جانا چاہیے۔۔۔۔زیمل یا عظمیٰ کو ساتھ لے جاتی”

وہ سنجیدگی سے سمجھا رہی تھی۔۔۔

“میں آئندہ دھیان رکھوں گی أنٹی”

منہا خاموشی سے سن رہی تھی

“ہممم۔۔۔اور مجھے آنٹی نہیں امی کہا کرو۔۔۔سمجھی۔۔۔”

وہ نرمی سے اس کا گال تھپتھپاتے کہنے لگی

“سوری۔۔۔امی۔۔۔۔”

وہ آنکھوں میں اتری نمی کو پرے دھکیلتی کہنے لگی

“خوش رہو۔۔۔۔”

وہ مسکرا کر اسے پیار کرتی چلی گئی۔۔۔

منہا انہیں دیکھ کر رہ گئی۔۔۔

اسے ان کی ڈانٹ کا برا نہیں لگا تھا

اسے بس شدت سے اپنی امی کی یاد آئی اور آنسوں گال پر بہ نکلے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“نمبر ملا ابھی اور اسے نیوز دے یہ”

ایدہ نے سامنے بیٹھے کمیل کی حکم دیا

“تو خود کردے نا”

کمیل نے فوراً کہا

“نہیں۔۔۔تو کر۔۔۔۔”

ایدہ نے گھورا

“اچھا کر رہا ہوں”

کمیل نے فون نکالا اور آرب کو فون کیا۔۔۔

دوسری ہی رنگ پر کال اٹینڈ ہوئی

“ہیلو بڈی کیا حال ہے؟”

“گڈ تو بتا۔۔۔۔”

مصروف سی آواز کانوں سے ٹکرائی

“کہاں ہے تو؟”

کمیل نے پوچھا

“آفس ہوں۔۔۔۔کیوں خیریت؟”

وہ پوچھنے لگا

“ہاں تجھسے ٹریٹ جو لینی تھی”

کمیل نے آنکھ دبائی

“کون سی ٹریٹ”

وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگا

“ارے یار میں ماموں بننے والا ہوں۔۔۔تو پاپا بننے والا ہے۔۔۔۔کیا یہ وجہ کافی نہیں ٹریٹ کی”

کمیل نے خوش دلی سے خبر دی

“واٹ۔۔۔۔سیریسلی۔۔۔؟”

وہ چونکا

“ہاں۔۔۔ایدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تو اس کی ڈاکٹر نے بتایا”

کمیل نے تفصیل دی

“لیکن مجھے ایدہ نے نہیں بتایا۔۔۔۔وہ ٹھیک ہے اب؟”

آرب کو بے چینی ہوئی

“ہاں ٹھیک ہے۔۔۔۔تو آجا شام کو۔۔۔خود مل لینا”

کمیل نے مشورہ دیا

اور آرب سوچ میں ڈوبا۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“آپ ابراہیم سے بہت پیار کرتی ہیں؟”

منہا جو اماں بی کے پاس بیٹھی تھی انہیں دیکھ پوچھنے لگی

“ہاں۔۔۔میرا اکلوتا پوتا ہے۔۔۔۔وارث ہے ہمارا”

وہ خوش دلی سے کہنے لگی

“وہ تو زیمل بھی ہے نا اماں بی”

منہا نے مسکرا کر یاد دہانی کروائی

“بیٹیاں تو پرائی ہوتی ہیں نا۔۔۔جیسے آپ۔۔۔کسی کی بیٹی تھی۔۔۔بیاہ کر یہاں آئی ہیں۔۔ایسے ہی زیمل بھی چلی جائے گی”

انہوں نے سادگی سے جواب دیا

منہا خاموشی سے مسکرا دی

“آپ تو ہمیشہ ہمارے پاس رہیں گی۔۔۔ہماری نسل کو آگے بڑھائیں گی۔۔۔۔”

وہ اسے لاڈ کرنے لگی۔۔۔۔

اور منہا گہری سوچ میں ڈوب گئی

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کتنے دن سے ایدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی مگر آرب نے ایک فون بھی نہیں کیا؟”

خاور صاحب نے سامنے بیٹھے آرب کو دیکھتے ہوئے کہا

“مجھے نہیں پتا تھا ڈیڈ۔۔۔۔”

وہ شرمندہ ہوا

“وہ ہے کہاں؟”

آرب پوچھنے لگا

“اندر ہے روم میں”

خاور نے کہا

آرب چپ چاپ اٹھ کر روم کی جانب بڑھ گیا

سارہ بیگم بھی جانے لگی تھی کہ خاور صاحب نے اشارہ کیا وہ پھر سے بیٹھ گئی

“دیکھیں آپ ہمارے گھر رشتہ مانگنے خود آئی تھی۔۔۔میں نے اپنی بیٹی بیچی نہیں تھی۔۔۔۔۔”

خاور صاحب نے تلخ لہجے میں کہا

“ایسی بات نہیں ہے خاور بھائی”

سارہ بیگم شرمندہ ہوئی

“دیکھیں میں قطعی برداشت نہیں کروں گا میری بیٹی پر ہاتھ اٹھایا جائے یا اسے ذہنی مریض بنا دیا جائے۔۔۔۔”

انہوں نے صاف گوئی سے کہا

“نہیں۔۔ہم تو اسے لینے آئے ہیں۔۔”

وہ صفائی دینے لگی

“میں اسے ایک ہی شرط پر بھیجوں گا۔۔۔میری بیٹی آپ کے ساتھ نہیں رہے گی۔۔۔۔میں اسے گھر لے کر دے دوں گا”

وہ حل بتانے لگے۔۔۔۔

سارہ بیگم خاموش ہوگئی

“ہمیں اپنے بچوں کی خوش دیکھنا ہے تو اتنا تو کرنا ہی پڑے گا”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگے

اور سارہ بیگم نے اثبات میں سر ہلادیا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کیا کر رہی ہیں امی؟”

منہا نے کچن میں آتے ہی پوچھا

“آپ کے بابا کی طبیعت ٹھیک نہیں جوشاندہ بنا رہی ہوں۔۔۔۔”

وہ مسکرا کے بتانے لگی

“میں بنا دوں؟”

منہا نے پوچھا۔۔۔۔

“آپ بنادو۔۔۔۔۔”

وہ پیچھے ہوئی۔۔۔۔

مگر اسے دیکھتی رہی کہ وہ کیسے بنا رہی ہے ۔۔۔

“ارے واہ۔۔۔۔آپ کو تو جوشاندہ بنانا بھی آتا ہے”

وہ اسے جانچتے ہوئے کہنے لگی

“میں گھر میں بناتی تھی اکثر جب میری امی بیمار ہوتی تھی۔۔۔تو”

وہ کہتے کہتے رکی۔۔۔۔

آنکھوں میں نمی اتری۔۔۔۔

“میں دے کر آجاؤں بابا کو؟”

وہ نمی کو پرے دھکیلتی پوچھنے لگی

“ہاں۔۔۔۔ضرور”

وہ مسکرائی

اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا

منہا کپ اٹھا کر فرقان صاحب کے روم تک آئی پھر ہلکے سے دستک دی اور اندر داخل ہوگئی

“کیسی طبیعت ہے بابا؟”

وہ مسکرا کر سامنے کمبل میں یپ ٹاپ گود میں لیے بیٹھے فرقان صاحب سے مخاطب ہوئی

“ٹھیک ہوں۔۔” وہ مسکرائے

“آپ کا جوشاندہ”

منہا نے کپ ان کی جانب بڑھایا۔۔۔۔

“یہ کیا آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں اور آپ کام کر رہے ہیں؟”

وہ پوچھنے لگی

“یہ سب ڈیزائنز چیک کر کے اپروو کرنے ہیں۔۔۔۔اور پھر کلائنٹ کے پاس بھی بھیجنے ہیں۔۔۔کام زیادہ ہے۔۔۔۔کرنا تو پڑے گا نا”

وہ مسکرا کر بتانے لگے

“میں ہیلپ کرواؤ آپ کی؟”

منہا پوچھنے لگی

“آپ کرسکتی ہیں؟”

وہ پوچھنے لگے

منہا نے اثبات میں سر ہلایا وہ مسکرا دیے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“تم نے مجھے بتایا تک نہیں؟”

آرب سامنے بیٹھی ایدہ کو دیکھ کہنے لگا

“تمہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔بتانے کا کیا فائدہ؟”

وہ الٹ کہنے لگی

“ایسی بات نہیں ہے یار ۔۔۔۔اس دن میں غصے میں تھا بس۔۔۔۔”

آرب صفائی دینے لگا

“تو غصے میں آنٹی کے کہنے پر مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ گے؟”

وہ پوچھنے لگی

“انہوں نے نہیں کہا تھا تم غلط سمجھ رہی ہو”

وہ اسے دیکھنے لگا

“جو بھی ہے آبی۔۔۔۔کیا میں نے زبردستی تم سے شادی کی تھی۔۔۔نہیں نا۔۔۔۔میں جیسی ہوں، تھی، تم جانتے ہو۔۔۔۔پھر تم مجھے چینج ہونے پر مجبور نہیں کرسکتے”

ایدہ نے سنجیدگی سے کہا

“اچھا تم غصہ نہیں کرو یہ سوپ پیو”

آرب نے ٹھنڈے لہجے میں کہا

وہ اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھا۔۔۔

پھر سوپ اٹھا کر اسے پلانے لگا۔۔۔۔

“تمہیں میری یاد نہیں آئی ہنی۔۔۔۔۔”

ایدہ نے اس کو شکوہ کن نگاہوں سے دیکھا

“کیا تھا نا۔۔۔تبھی تو لینے آیا ہوں۔۔۔”

وہ مسکرایا

“ایسے ہی میرا خیال رکھو گے ہمیشہ؟”

وہ پوچھنے لگی

“ہاں۔۔۔تم نے مجھے سب سے بڑی خوشی دی ہے”

وہ اس کا ہاتھ تھام لبوں سے لگاتا کہنے لگا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ویسے جو بھی کہو۔۔۔ابراہیم ہے تو خوش نصیب جو اسے منہا جیسی لڑکی ملی۔۔۔۔”

عظمیٰ بیگم کہنے لگی۔۔۔۔

“میرا بیٹا بھی تو لاکھوں میں ایک ہے”

سونیا بیگم کہنے لگی

“امی۔۔۔رتبہ کو بیٹی ہوئی ہے۔۔۔میری دوست جس کا بتایا تھا آپ کو”

منہا وہاں آتے ہی نیوز دینے لگی

“ماشاءاللہ۔۔۔۔مبارک ہو۔۔۔۔”

سونیا بیگم مسکرائی

آپ کو جانا ہے؟”

وہ پوچھنے لگی

نہیں۔۔۔۔۔” منہا نے نفی میں سر ہلایا

کیونکہ اس دن کے بعد سے منہا نے نوریض سے کوئی رابطہ نہیں رکھا تھا۔۔۔۔

ایک دو بار کال کی مگر نوریض یا تو اگنور کردیتا یا رتبہ کو دے دیتا۔۔۔۔

ابھی بھی منہا کے پاس رتبہ کی کال آئی تھی۔۔۔اس نے خود بیٹی کی خوشخبری دی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“تمہاری ڈلیوری ہوجائے گی تو میں حیدرآباد چلی جاؤں گی۔۔۔۔”

سارہ بیگم نے اسے دیکھا

ایدہ کھانا کھاتی رکی۔۔۔

پھر ایک نظر برابر بیٹھے آرب کو دیکھا۔۔۔۔

جو رک کر انہیں رہا تھا

“مگر کیوں مام۔۔۔۔؟”

وہ پوچھنے لگا

“کیونکہ وہاں تمہارے ڈیڈ اکیلے ہوتے ہیں۔۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگی

ایدہ خاموشی سے کھانا کھانے لگی

“وہ تو ہمیشہ سے ہوتے ہیں۔۔۔۔پھر آپ کیوں جارہی ہیں۔۔۔۔ایدہ اور مجھے ضرورت ہے آپ کی۔۔۔۔اور ہمارے بے بی کو بھی تو ہوگی”

وہ انہیں دیکھ کہنے لگا

“تو میں کیا دور ہوں۔۔۔۔تم آواز لگاؤ گے میں آجاؤں گی۔۔۔۔۔”

وہ مسکرا کر کھانا کھانے لگی۔۔۔

ایدہ نے اکتاہٹ سے گہرہ سانس خارج کیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“نوریض منہا نہیں آئی ہماری بیٹی کو دیکھنے”

رتبہ نے آئینے کے سامنے کھڑے نوریض کو دیکھ کہا

“تو اس کی مرضی میں کیا کہ سکتا ہوں”

نوریض نے ہاتھ جھاڑے

“تم اسے اگنور کرتے ہو۔۔۔اسی لیے وہ نہیں آئی”

رتبہ نے شکوہ کیا

“میرا اسے اگنور کرنا ہی بہتر ہے۔۔۔۔۔اب مجھے دیر ہورہی ہے ہوٹل جانا ہے”

وہ اسے ٹوکتے کہنے لگا۔۔۔

وہ خاموش ہوگئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“مبارک ہو بیٹا ہوا ہے”

نرس نے بچہ سارہ بیگم کے ہاتھ میں دیا

وہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔

“آرب۔۔۔کتنا پیارا ہے بلکل تمہارے جیسا”

وہ پاس کھڑے آرب کو خود سے لگانے لگی۔۔۔۔

پھر اس کے ہاتھ میں بچے کو تھما دیا

وہ اسے لے کر ایدہ کے روم میں گیا۔۔۔۔

ایدہ اسے دیکھنے لگی۔۔۔

“تھینک یو۔۔۔۔۔ایدہ۔۔۔۔مجھے اتنا پیارا بیٹا دینے کے لیے”

آرب کی خوشی اس کے چہرے پر سجی تھی۔۔۔

“پیارا ہے نا۔۔۔۔بلکل مجھ پر گیا ہے”

ایدہ نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔

“نہیں مجھ پر گیا ہے۔۔۔۔”

آرب نے ہنس کر کہا۔۔۔۔

“میں تم سے زیادہ پیاری ہوں”

ایدہ نے الٹ ٹوکا۔۔۔۔

“نہیں میں زیادہ پیارا ہوں۔۔۔ہیں نا بیٹا۔۔۔۔۔۔بتاؤ اپنی ماما کو کون زیادہ پیارا ہے”

وہ اپنے بیٹے کو لاڈ کرنے لگا۔۔۔۔

اور ایدہ اسے یک ٹک دیکھنے لگی۔۔۔۔

اس لمحے پہلی بار ایدہ کو لگا کہ آرب منہا کو مکمل طور پر بھول گیا ہے۔۔۔۔

وہ بہت خوش تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“منہا بیٹا ایک کپ کافی لادو”

فرقان صاحب نے سامنے سے گزرتی منہا کو دیکھتے ہوئے کہا

“جی بابا۔۔۔۔”

وہ کہتی کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

“آپ نے اپنے بابا کو بھی عادت ڈال دی ہے کافی کی”

سونیا بیگم نے مسکرا کر اسے کافی بناتا دیکھ کہا

“میں نے تو بس ایک ہی دن بنا کر دی تھی بابا کو پسند آگئی”

وہ ہنس کر کہنے لگی

“اب تو بھائی کو منہا کی شکل دیکھتے ہی کافی یاد آجاتی ہے”

عظمیٰ بیگم نے مسکرا کر کہا

“بھابھی۔۔۔۔۔بھابھی”

زیمل کچن میں داخل ہوئی

“ہاں۔۔۔۔بھابھی میرے سارے دوست شادی پر جارہے ہیں۔۔۔۔آپ پلیز بابا سے پرمیشن لے دیں”

زیمل منت کرنے لگی

“وہ نہیں مانیں گے۔۔۔رات کی شادی پر”

منہا نے فوراً ٹوکا

“آپ کو منع نہیں کریں گے بابا۔۔۔۔پلیز بھابھی”

زیمل نے ضد کی۔۔۔۔

منہا ہی تھی جو بنا ڈرے فرقان صاحب سے بات کرسکتی تھی۔۔۔

کچھ ہی عرصے میں وہ فرقان صاحب کے بہت قریب ہوگئی تھی۔۔۔۔

فرقان صاحب زیادہ بات کسی سے بھی نہیں کرتے تھے۔۔۔۔

مگر اب بولتے تو نہیں تھے مگر منہا کی سن لیتے تھے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“یہ کہاں بھیج دیا ڈیڈ نے مجھے”

وہ فون پر بات کر رہا تھا

“شوکت انکل کے بیٹے کی شادی پر کسی کو تو جانا تھا نا میرا بیٹا چھوٹا ہے ورنہ چلی جاتی”

وہ سمجھانے لگی

“یار میں یہاں بور ہورہا ہوں”

وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہنے لگا

“جب بور ہورہے ہیں تو کیوں بیٹھے ہیں آپ؟”

پیچھے سے کسی کی آواز پر وہ پلٹا

سامنے ہی سمپل سے گرے کلر کے سوٹ میں ایک لڑکی کھڑی تھی

اسے دیکھ کمیل کو لگا جیسے اسے رب نے ہر چیز سے نواز دیا تھا۔۔۔رنگ ، قد، بال۔۔۔۔نقش۔۔۔۔شاید اس لڑکی کے پاس سب کچھ تھا

وہ فون بند کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

وہ چلتی اس کے قریب آئی

“آپ ویسے ہیں کون۔۔؟”

وہ پوچھنے لگی

“کمیل رئیسی۔۔۔۔اور آپ؟۔”

کمیل نے اپنا تعارف کروایا

“انابیہ۔۔۔۔انابیہ دارین۔۔۔۔۔”

وہ فخر سے بتانے لگی۔۔۔۔

کمیل کو لمحہ لگا تھا اسے پہنچاننے میں۔۔۔۔

مگر وہ ایک پل کے لیے اس سے نظریں نہیں ہٹا پارہا تھا

وہ تھی ہی اتنی حسین۔۔۔۔۔