Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 24)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 24)
Blind Friends By Isra Rao
“کون ہو تم؟” منہا اکیلے کمرے میں بیٹھی تھی جب اندر ایک ایک شخص داخل ہوا۔۔۔۔
منہا گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
اس کے چہرے پر نقاب تھا۔۔۔۔
“میں نے پوچھا کون ہو تم۔۔؟ اور مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔۔؟”
منہا کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔۔۔۔
“تم مجھے جانتی ہو منہا۔۔۔بہت اچھے سے”
اس شخص نے سادگی سے کہا۔۔۔
“باسل۔۔۔۔تم باسل ہو نا؟”منہا کو آواز پہنچاننے میں لمحہ بھی نہیں لگا۔۔۔۔
“واہ تم تو میری آواز تک پہنچانتی ہو”
اس نے نقاب ہٹایا۔۔۔۔
“مجھے یہاں کیوں لائے ہو۔۔۔باسل۔۔۔۔مجھ۔۔۔مجھے جانے دو”
منہا نے بھیگے گال صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔
وہ بلیک ڈریس میں دلہن کی مانند سجی تھی۔۔۔۔
ہاں رو رو کر۔ کا میک اپ مرجھا گیا تھا۔۔۔۔
مگر وہ اب بھی سیاہ رنگ میں کسی کو بھی ایکٹریکٹ کرنے کے لیے کافی تھی۔۔۔۔
“تم پر یہ رنگ بہت جچتا ہے منہا۔۔۔”
وہ وحشیانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگا
“باسل آرب جان سے مار دے گا تمہیں۔۔۔۔اگر اسے پتا لگا تو۔۔۔”
منہا نے اسے دھمکی دی
“اس کی جان ہی تو نکالنی ہے۔۔۔۔وہ کیا سمجھتا ہے اتنی آسانی سے تمہیں حاصل کرلے گا اور میں تماشہ دیکھتا رہوں گا۔۔۔۔نہیں۔۔۔تم میری ہو بس۔۔۔۔”
وہ غراتے ہوئے کہنے لگا
“باسل….تم بدلے میں اس حد تک بھی گر سکتے ہو مجھے نہیں معلوم تھا۔۔۔۔مجھے جانے دو پلیز۔۔۔۔”
منہا نے کہا
وہ قدم چلتا اس کے قریب آیا
منہا پیچھے کو کھسکی۔۔۔۔
“مجھے ہاتھ نہیں لگانا۔۔۔۔باسل تم میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔تمہیں کیا ہوگیا تم ایسے تو نہیں تھے۔۔۔۔”
منہا نے آواز بھر آئی تھی
“میں ایسا بن گیا آرب کو بھی تو پتا لگے۔۔۔بدلہ کسے کہتے ہیں۔۔۔۔”
وہ اس کے قریب آرہا تھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔” وہ دیوار سے جالگی۔۔۔
“اور تم۔۔۔اس آرب میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں۔۔۔کیوں تم نے اس آرب کو مجھ پر فوقیت دی۔۔۔۔تم میری نہیں ہوئی تو اس کی بھی ہونے لائک نہیں چھوڑوں گا میں تمہیں۔۔۔۔”
وہ اسےشانوں سے پکڑے کہنے لگا۔۔۔۔
منہا کے رونے میں شدت آگئی تھی۔۔۔
وہ اس وقت موت کی تمنا کر رہی تھی۔۔۔۔
وہ چاہتی تھی اسی وقت کچھ ایسا ہوجائے کہ اس ی سانس نکل جائے ۔۔۔
کوئی کرشمہ ہوجائے۔۔۔۔
“باسل ۔۔۔۔۔” اس کا دماغ چکرانے لگا تھا۔۔۔۔
گھبراہٹ سے ہاتھ پاؤں سن پڑ چکے تھے۔۔۔۔
تبھی دروازہ زوردار طریقے سے کھلا۔۔۔۔
سامنے ہی ایک شخص کھڑا دکھائی دیا۔۔۔۔
جس کے چہرے پر رمال نقاب کی صورت میں بندھا تھا۔۔۔۔
وہ تیزی سے اندر آیا۔۔۔۔
وہ باسل کو گردن سے پکڑ کر سامنے کیا۔۔۔۔
اور بنا سوچے سمجھے اس پر لاتوں اور گھوسوں کی بوچھاڑ شروع کردی۔۔۔۔
منہا اسی طرح دیوار سے لگی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
وہ باسل کو بری طرح سے مار رہا تھا۔۔۔۔
منہا نے منہ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔وہ شخص فرشتے کی صورت میں وہاں آیا تھا۔۔۔
وہ باسل کو مارتے ہوئے باہر لے گیا تھا۔۔۔۔
منہا جلدی سے وہاں سے بھاگنا چاہتی تھی۔۔۔
وہ بھاگنے لگی تھی کہ ہیل کی وجہ سے اس کا پاؤں مڑا اور وہ زمین پر جاگری۔۔۔۔
اس کے منہ سے آہ نکلی۔۔۔۔
وہ دوبارا کھڑی ہوتی مگر اس سے پہلے ہی اس کی نظر سامنے پڑے بریسلیٹ پر پڑی۔۔۔۔
جس پر بلائنڈ فرینڈز لکھا تھا
اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا۔۔۔۔تبھی وہاں نوریض بھاگتا ہوا آیا۔۔۔
“منہا۔۔۔منہا۔۔تم ٹھیک ہو۔۔۔”
وہ پریشانی سے پوچھنے لگا۔۔۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔اور اسے سہارا دے کر کھڑا کیا۔۔۔۔
“انہوں نے کچھ کیا تو نہیں؟ ٹھیک ہو تم۔۔۔؟”
نوریض کو فکر ہورہی تھی
“نہیں۔۔۔میں ٹھیک ہوں”
منہا نے سے تسلی دی۔۔۔۔
مگر اس کا دماغ ماؤف ہوچکا تھا
وہ شخص کون تھا۔۔۔۔؟
..
(حال)
“مجھے اس ہوٹل کے کام کوئی کوتاہی نہیں چاہیے۔۔۔۔”
وہ آنکھوں پر چشمہ چڑھائے روب دار لہجے میں کہنے لگی
“آپ ٹینشن ہی نہ لیں میم۔۔۔۔آپ کا کام ہم ایسا کریں گے آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا”
اسامہ صاحب نے اسے تسلی دی۔۔۔
وہ اچھی خاصی عمر کا شخص تھا۔۔۔۔
جس کی ڈاڑھی اور سر کے بال سفید ہوچکے تھے ۔۔مگر ہمت اور روب آج بھی جوانوں سے زیادہ رکھتے تھے
“میں یہ آرڈر کسی کو بھی دے سکتی تھی۔۔۔مگر میں نے آپ کی تعریف سنی تھی۔۔۔۔کہ آپ ایماندار ہیں۔۔۔تو میں امید کرتی ہوں۔۔۔۔مال میں ملاوٹ نہیں ہوگی۔۔۔۔۔”
اس نے صاف گوئی سے کہا
اس بات سے آپ بے فکر رہیں ۔۔۔اسامہ سکندر خود بھی ایماندار ہیں اور ملازم بھی۔۔۔۔ملاوٹ کا کام ہماری کمپنی نہیں کرتی”
اسامہ سکندر نے پر اعتمادی سے کہا۔۔۔۔
نوریض نے ابرو اچکائی۔۔۔۔
اچھی بات ہے کیوں کہ بے ایمان کو میں چھوڑتی نہیں ہوں۔۔۔۔”
وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی
نوریض بھی ان کے ساتھ ہولیا
..
“تو اب یہ پتا لگانا ہے کہ وہ شخص کون تھا؟”
ابراہیم نے سوچتے ہوئے کہا
“ہاں۔۔۔۔۔یا تو آرب ہوسکتا ہے یا کمیل۔۔۔۔”
نوریض نے الجھتے ہوئے کہا
“تجھے کیا لگتا ہے کون ہوسکتا ہے؟”
ابراہیم نے پوچھا
“مجھے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔”
وہ سوچنے لگا
“کمیل۔۔۔۔۔” دونوں نے بیک وقت کہا۔۔۔۔
اور ایک دوسرے کو دیکھ مسکرائے۔۔۔۔
“مگر کنفرم کرنا لازمی ہے “
ابراہیم نے کرسی سے ٹیک لگائی
“میں لگا کر دوں گا پتا۔۔۔۔”
نوریض نے فخریہ کہا
“واہ میرے شیر۔۔۔۔۔جیو”
ابراہیم نے خوش دلی کہا
“تھینک یو تھینک یو”
وہ کالر اٹھاتا اترایا
“زیادہ پھیل نہیں۔۔۔یہ بتا میٹنگ ہوگئی؟”
ابراہیم نے اس کے فخر کو پاؤں تلے روندہ
“ہاں۔۔۔۔” اس نے مختصر کہا
“گڈ۔۔۔اب بندہ تیار کر۔۔۔جو آرب کا نام مٹی میں ملا سکے”
ابراہیم مسکرایا
“میں نے آرٹم کمپنی کا ایک ملازم خرید لیا ہے۔۔۔۔جو وہی کرے گا جو ہم کہیں گے۔۔۔۔”
نوریض نے کہا۔۔۔۔
“اب اس آرب کو میں نے اتنا ہی ذلیل نہ کیا۔۔۔۔جتنا اس نے تجھے اور منہا کو کیا تھا۔۔۔تو میرا نام بھی ابراہیم قریشی نہیں۔۔۔۔”
اس نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا
..
وہ لیپ ٹاپ پر کام کر رہ تھا کہ اس کا فون شور مچانے لگا۔۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا۔۔۔۔
گھر کا نمبر تھا۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم اماں بی۔۔۔۔”
اس نے وڈیو کال پک کی
“میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کی بہو بھی ٹھیک ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے مسکرا کر بتایا
“ہیں کہاں وہ؟” سونیا بیگم نے پوچھا
“وہ کچن میں ہے۔۔۔۔بس آتی ہوگی۔۔۔۔”
ابراہیم نے دروازے کی جانب دیکھتے ہوئے کہا
“تیاریاں کیسی چل رہی ہیں شادی کی۔۔۔۔؟”
وہ پوچھنے لگا
“آپ بھائی ہو زیمل کے۔۔۔۔اور آپ جا کر اتنی دور بیٹھ گئے۔۔۔۔کیا خاک تیاریاں ہوں گی”
اماں بی نے خفگی سے کہا
“ارے اماں بی۔۔۔حکم کریں میں ہر کام کے لیے حاضر ہوں”
وہ مسکرایا
“لو منہا بھی آگئی۔۔۔اس سے بات کریں”
ابراہیم نے منہا کو آتے دیکھ کہا اور فون اسے پکڑایا
“اماں بی میں انہیں روز کہتی ہوں۔۔۔چلتے ہیں گھر یہ لے کر جاتے نہیں۔۔۔۔”
منہا کہتی صوفے پر جا بیٹھی۔۔۔۔
“زیمل ہے کہاں۔۔۔۔؟” منہا نے پوچھا۔۔۔۔
“میں آپ سے ناراض ہوں بھابھی۔۔۔میری شادی قریب ہے اور آپ میرے ساتھ بھی نہیں ہیں”
زیمل نے شکوہ کیا
“ایسا نہیں ہے۔۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔۔اور بہت جلد ہم تمہارے پاس ہوں گے۔۔۔”
وہ خوش دلی سے کہ رہی تھی۔۔۔جب اوپر میسج کی نوٹیفیکیشن آئی۔۔۔۔
منہا نے انگلی سے نوٹیفیکیشن بار کو چیک کیا۔۔۔۔
“میں بعد میں بات کرتی ہوں زیمل بائے”
منہا نے کال بند کرتے ہی دوبارا میسج دیکھا۔۔۔۔
(مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ شادی شدہ ہیں۔۔۔۔مگر مجھے فرق نہیں پڑتا)
(کیا ہم مل سکتے ہیں)
میسیجز پڑھتے ہی منہا کی آنکھیں پھٹی۔۔۔
اس نے نظر اٹھا کر ابراہیم کی جانب دیکھا۔۔۔۔
جو بیڈ پر بیٹھا لیپ ٹاپ چلا رہا تھا
منہا کا غصہ ابل ابل کر باہر آنے کو بے تاب تھا
“اچھا تو یہ تھی وہ دوسری بیوی۔۔۔۔؟”
وہ بیڈ کے قریب گئی۔۔۔۔
“کیا مطلب؟” ابراہیم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا
“اب تجھے میں مطلب سمجھاؤں۔۔۔۔ایبو یہ کون ہے۔۔۔۔؟”
اس نے فون بیڈ پر پھینکا۔۔۔۔
“کس کی بات کر رہی ہے؟”
ابراہیم نے ہاتھ بڑھا کر فون اٹھایا۔۔۔
پھر فون چیک کرنے لگا۔۔۔۔
پھر نظر اٹھا کر سامنے آنکھوں میں لیے کھڑی منہا کو دیکھا
” ایبو یہ کون ہے؟ کون ہے یہ جسے تیرے شادی شدہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا”
منہا نے پاس پڑا تکیہ اٹھا کر اسے دے مارا۔۔۔
“منہا۔۔۔یار میری بات سن لے ایک بار۔۔۔۔”
ابراہیم اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
“کیا سنوں۔۔۔۔۔کہ ملنے کب جائے گا اس سے؟”
منہا نے دوسرا تکیہ بھی اٹھا کر پوری قوت سے اسے پھینکا جسے مہارت سے اس سے کینچ کیا۔۔۔۔
“ٹھنڈی ہوجا۔۔۔میری بات سن لے۔۔۔۔” وہ بیڈ پر چڑھ کر اس کی طرف گیا۔۔۔۔
اور اسے پیچھے سے مضبوطی سے اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔
“چھوڑ دے ایبو۔۔۔۔۔مجھے بات ہی نہیں کرنی تجھ سے۔۔۔دوسری لڑکیوں سے چکر چلاتے شرم نہیں آئی تجھے”
وہ اب رونے لگی تھی
“منہا یار۔۔۔میری جان۔۔۔۔میرا کوئی چکر نہیں۔۔۔۔تیری قسم۔۔۔۔”
وہ نرمی سے صفائی دینے لگا
“پھر یہ کون ہے بتا”
وہ پوچھنے لگی
“یہ کلائنٹ ہے بس ۔۔۔۔اس نے مجھے دھوکے سے ڈیٹ پر بلایا تھا۔۔مگر میں نے انکار کردیا تھا۔۔۔۔۔قسم سے”
ابراہیم نے اس کے گال مس کرتے ہوئے کہا
“تو نے مجھے بتایا؟”
منہا نے گردن موڑ کر اسے گھورا۔۔۔۔
“تو غلط سمجھے گی۔۔۔اسی لیے نہیں بتایا بس۔۔۔۔”
وہ شرمندہ ہوا
“اب تو مجھ ڈے چھپانے گا بھی باتیں۔۔۔۔ٹھیک ہے تیری غلطی نہیں مگر تونے بتایا نہیں یہ غلطی ہے۔۔۔”
وہ خود کو چھڑواتی باہر کی جانب بڑھ گئی۔
“یار منہا۔۔۔ایم سوری ۔۔”
وہ اس کے پیچھے لپکا
وہ پانی کی بوتل سے پانی گلاس میں ڈالنے لگی۔۔۔۔
ابراہیم اس کے پیچھے ہی کھڑا تھا
“مجھ سے بات مت کر ایبو۔۔۔مجھے غصہ آرہا ہے”
وہ گلاس اٹھا کر پینے ہی لگی تھی کہ ابراہیم نے شرارت سے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔
اس کا گلاس منہ تک جاتے جاتے رکا۔۔۔۔
اس نے گھر کر ابراہیم کو دیکھا۔۔۔۔
پھر آؤ دیکھا نہ تاؤ وہ پانی کا گلاس اس کے منہ پھینکا۔۔۔۔
لمحہ بھر ابراہیم ساکت ہوا۔۔۔
اس کے منہ سے پانی کی بوندیں بہ کر گر رہی تھی۔۔۔
اور منہا جو ایسا کر فوراً پچھتائی تھی۔۔۔۔
اسے لگا ابراہیم اس پر چلائے گا۔۔۔۔
مگر الٹ ہوا۔۔۔۔۔
“سوری۔۔۔۔۔” ابراہیم نے مسکرا کر کہا۔۔۔
مانو اسے فرق ہی نہ پڑا ہو
منہا اسے دیکھ نہ چاہتے ہوئے بھی مسکرادی۔۔۔
“کیا چیز ہو تم؟”
منہا نے ہار مانتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“آئندہ سب بتاؤں گا ایم سوری”
اس نے کان پکڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“چائے بنا کر لاؤ”
منہا نے بالوں کو جھٹکا دیا۔۔۔۔
“جو حکم۔۔۔۔۔” ابراہیم نے سر کو جھکاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور منہا بے اختیار ہنس دی ۔۔۔
..
“وہ لوگ کیا سوچیں گے کہ رات کو بنا بتائے ہم لوگ آگئے”
رتبہ نے کہا
“ارے کچھ نہیں سوچتے۔۔۔۔اور مجھے فرق نہیں پڑتا ویسے بھی”
نوریض نے ڈرائیونگ کرتے لاپرواہی سے کہا
“تم سب ہی دوست ڈھیٹ ہو ویسے۔۔۔۔۔”
رتبہ نے ہنس کر کہا۔۔۔۔
“کشمالہ چاچو کے پاس جانا ہے؟” وہ رتبہ کی گود میں بیٹھی اپنی بیٹی سے مخاطب ہوا۔۔۔
جو چاچو کا نام سنتے ہی گردن کسی روبوٹ کی طرح ہلانے لگی ۔۔
“یہ تو چاچو کی ویسے بھی دیوانی ہے”
رتبہ اسے دیکھ ہنسی۔۔۔۔
“چلو۔۔۔۔”
نوریض نے گاڑی روکی۔۔۔۔
سامنے ہی ابراہیم قریشی کا خوبصورت سا بنگلہ دکھائی دیا۔۔۔
..
“فیکٹری کیسی چل رہی ہے؟” خاور صاحب نے پوچھا
“بہت اچھی ڈیڈ۔۔۔۔”
کمیل نے فوراً کہا
“شکر ہے ڈیڈ اسے بھی کسی کام سے لگایا آپ نے”
ایدہ جو چائے کا کپ لیے بیٹھی تھی فوراً کہنے لگی
“ویسے اچھا لگا یار کامی دیکھ کر کہ تونے بھی فیکٹری جوئن کرلی”
آرب نے مسکرا کہا
“ہاں بس ڈیڈ کا حکم”
اس نے ہنس کر کہا
“تم بھی بیٹا یہ چھوٹی سی جاب چھوڑ کر میری فیکٹری سنبھال لو۔۔۔۔”
خاور صاحب نے کہا
“نہیں میں اسی جاب سے خوش ہوں۔۔۔۔”
آرب نے سنجیدگی سے کہا ۔۔اور چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا
ایدہ اور خاور صاحب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
..
بیل بجنے پر وہ روم سے باہر نکلی۔۔۔۔
“اس وقت کون آگیا”
وہ ابراہیم کو دیکھ کہنے لگی
“ملازمہ ہوگی کھول دے گی۔۔۔۔۔ چائے تیار ہے۔۔تم چلو اندر۔۔۔۔۔”
وہ چائے ڈالنے لگا
وہ مڑ کر اندر جانے ہی لگی تھی۔۔۔۔
کہ ابراہیم کا پاؤں زمین پر پڑے پانی پر پڑا۔۔۔اور وہ لڑکھڑا کر گرا۔۔۔۔
ہاتھ میں پکڑی چائے اس کے ہاتھ پر گری۔۔۔۔
اس کے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔۔
منہا تیزی سے اس کی جانب بھاگی۔۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔تم ٹھیک ہو”
منہا نے دیکھا۔۔۔۔
اس کا ہاتھ سرخ ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
تکلیف کی شدت اس کے چہرے پر عیاں تھی۔۔۔۔
اس کا دوسرا ہاتھ اس کے پاؤں پر تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا ایبو۔۔۔۔۔”
منہا گھبرائی
“پتا نہیں پاؤں میں درد ہورہا ہے”
وہ منہ بناتا کہنے لگا
“کیا ہوا؟”تبھی نوریض اور رتبہ وہاں آئے۔۔۔۔
انہیں دیکھ چونکے
“نوریض دیکھو نا ایبو سے اٹھا بھی نہیں جارہا اس کے پاؤں میں درد ہورہا ہے۔۔۔۔”
منہا نے نوریض کو کہا
“کیا ہوا ایبو۔۔۔۔”
نوریض نے اس کا پاؤں کا جائزہ لیا
“پتا نہیں یار ہلایا بھی نہیں جارہا۔۔۔۔”
ابراہیم نے کہا
“کہیں ٹوٹ ووٹ نہیں گیا”
نوریض نے فوراً کہا
“تو بکواس ہی کیا کر”
ابراہیم نے اسے گھورا ۔۔۔
“اسے ڈاکٹر کے پاس لے چلتے نوریض۔۔۔اسے درد ہورہا ہے”
منہا رونے کو تیار تھی۔۔۔۔
“چل اٹھنے کی کوشش کر ۔۔۔”
نوریض نے سہارا دیا
“ابے اٹھا نہیں جارہا۔۔۔۔”
ایبو نے تکلیف سے کہا
“تو کیا میں تجھے گود میں اٹھاؤں؟ شرافت سے اٹھ”
نوریض غرایا۔۔۔۔
“اللہ ایسے دوست بھی کسی کو نہ دے”
ابراہیم نے لاچارگی سے کہا۔۔۔۔
“نوریض اسے چوٹ لگی ہے۔۔۔۔”
رتبہ نے ٹوکا
“تجھ سے اچھی تو رتبہ ہے۔۔۔۔کمینے”
ابراہیم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ نوریض کا گلا دبا دے۔۔۔۔
مگر اس وقت اسے اس کی ضرورت تھی
..
“تمہیں ڈیڈ سے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی”
ایدہ غرائی
“کیا کہ دیا ایسا میں نے؟”
آرب نے پوچھا
ڈیڈ تمہارا بھلا چاہ رہے ہیں۔۔۔اور تم ایٹیٹیوڈ دکھا رہے ہو”
ایدہ تلخی سے طنز کیا
“اوہ تم باپ بیٹی اپنابھلا اپنے پاس رکھو”
آرب نے بے پرواہی سے کہا
“بھاڑ میں جاؤ۔۔۔۔۔میری بلا سے”
ایدہ کہتی بیڈ پر آنکھیں موند لیٹ گئی۔۔۔۔
..
“نوریض کیا تم آج مل سکتے ہو؟ مجھے ہوٹل کے کام کو ڈسکس کرنا تھا”
اس نے جلانے کے لیے جتایا کہ آرڈر ان کے پاس ہے
“سوری میں آج نہیں مل سکتا۔۔۔۔ابراہیم کی طبیعت ٹھیک نہیں”
نوریض نے کہا
“کیا ہوا خیریت؟”
آرب نے پوچھا
“پاؤں میں موچ آئی ہے۔۔۔۔رات سے اسی کے گھر پر ہوں”
نوریض نے بتایا
“چلو ٹھیک ہے۔۔۔۔جیسے ہی فری ہو مجھے کال کرنا”
آرب نے کہا اور فون بند کردیا
“کیا ہوا نوریض کو؟”
ایدہ جو موبائل میں گم تھی اس کی ادھوری بات سن پوچھنے لگی
“ابراہیم کو۔۔۔۔۔پاؤں میں چوٹ لگی ہے۔۔۔۔۔”
آرب نے لاپرواہی سے بتایا
“کیا زیادہ چوٹ لگی ہے؟”
اسے فکر ہوئی
“پتا نہیں۔۔۔۔” وہ اسی انداز میں کہنے لگا
“ہمیں چلنا چاہیے اس کے گھر۔۔۔۔”
ایدہ نے فوراً کہا
“تمہیں جانا ہے تو جاؤ میں نہیں جارہا”
وہ لیپ ٹاپ کھولنے لگا
“وہ ہمارا دوست ہے۔۔۔۔۔جو ہمیشہ ہمارے کام آتا تھا۔۔۔۔تم سب بھول گئے۔۔۔مگر مجھے یاد ہے۔۔۔۔اور میں جاؤں گی۔۔۔”
ایدہ نے کہا
وہ اسی طرح بیٹھا تھا
“آرب ایبو ہمیشہ سے بے قصور تھا۔۔۔۔۔تمہاری اس سے ناراضگی بنتی نہیں۔۔۔۔”
ایدہ نے آخری وار کیا اور پرس اٹھانے لگی
وہ لمحہ بھر سوچتا رہا پھر لیپ ٹاپ بند کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
..
“منہا رو کیوں رہی ہو؟” وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا
اور وہ سامنے بیٹھی ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی۔۔۔۔
پیچھے کھڑے آرب کی نظریں اسی پر تھی
“منہا چپ ہوجاؤ۔۔۔وہ ٹھیک ہے”
ایدہ نے تسلی دی۔۔۔
مگر وہ چپ ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔۔
بس روئے چلے جارہی تھی۔۔۔۔
“منہا میں ٹھیک ہوں”
ابراہیم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“نہیں تم ٹھیک نہیں ہو۔۔۔تمہارا ہاتھ بھی جل گیا۔۔۔۔اور دیکھو پاؤں میں بھی موچ آگئی”
وہ اس کا جائزہ لیتی کہ رہی تھی۔۔۔
“نہیں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔سب میں۔۔۔مجھے دیکھو”
ابراہیم نے اسے تسلی دینی چاہی۔۔۔
“میں نے بھیجا ہی کیوں تمہیں چائے لانے سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“وہ چوٹ اس کے نصیب میں تھی اگر تم نہیں بھیجتی تب بھی اسے لگتی۔۔۔۔”
آرب نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
“ہاں صحیح تو کہ رہا ہے آرب۔۔۔تم خود کو بلیم مت کرو۔۔۔۔وہ ٹھیک ہے اب”
ایدہ نے اسے چپ کروانا چاہا۔۔۔
“تم لوگ نہیں سمجھو گے۔۔۔۔اسے چوٹ لگی ہے میری وجہ سے۔۔۔۔کتنا درد ہورہا ہوگا۔۔۔۔بس یہ بتا نہیں رہا۔۔۔۔”
منہا نے بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
ابراہیم اسے دیکھ مسکرایا۔۔۔۔پھر ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔
وہ لمحہ بھر اسے دیکھتی رہی پھر اٹھ کر اس کے پاس گئی۔۔۔۔
“مجھے درد نہیں ہورہا ۔۔۔ہاں تمہیں روتا دیکھ مجھے تکلیف ہورہی ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے محبت سے اسے دیکھا
“ایم سوری۔۔۔۔” وہ اس کے گلے لگ پھر سے رونے کا شغل پورا کرنے لگی۔۔۔۔
پیچھے کھڑے آرب کا مانو ہاتھ کاٹو تو خون نہ نکلے۔۔۔۔
وہ ساکت تھا۔۔۔۔اس نے منہا کی محبت کو بھی کھو دیا تھا۔۔۔۔
وہ رو رہی تھی مگر اس کے لیے نہیں اس کے دوست کے لیے۔۔۔۔
جو اس کا شوہر تھا۔۔۔۔
اور ہاں اس کے لیے رونے والی تو کوئی نہیں تھی۔۔۔۔کوئی نہیں اس بیوی بھی نہیں ۔۔۔۔
..
“ہائے بڈی۔۔۔۔۔کیسا ہے؟” نوریض نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔
کمیل نے خوش دلی سے تھاما
“مجھے بہت اچھا لگا تو میرے گھر آیا”
کمیل نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
“میں نے ایک ڈنر ارینج کیا ہے۔۔۔۔ہم سب دوست ہوں گے۔۔۔پرانے دن یاد کریں گے۔۔۔۔میں اسی وقت میں واپس جانا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
نوریض نے افسردگی سے کہا
“میں بھی۔۔۔وہ دن ہماری زندگی کے سب سے خوبصورت دن تھے۔۔۔۔”
کمیل نے خوش دلی سے کہا
“تو تو آئے گا نا پکہ؟”
نوریض نے پوچھا
“یہ کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ میں ضرور آؤں گا”
کمیل نے محبت بھرے لہجے میں کہا
“ٹھیک ہے پھر 8 بجے ملتے ہیں۔۔۔۔بلائنڈ فرینڈز کی یادیں تازہ کرنے کے لیے”
نوریض ہاتھ ملاتے جانے کے لیے مڑ گیا۔۔۔۔
..
“تو تم دونوں آؤ گے پکا؟”
نوریض نے مسکرا کر پوچھا
“ہاں کیوں نہیں آئیں گے۔۔۔۔بلکل آئیں گے”
ایدہ خوش ہوئی
“وہ بلائنڈ فرینڈز کا بریسلیٹ سب پہن کر آنا۔۔۔کمیل کو بھی کہنا۔۔۔۔میں چاہتا ہوں سب سب پہلے جیسا ہوجائے۔۔۔۔”
نوریض نے سنجیدگی سے کہا
“ہاں میں نے اور آرب نے تو سنبھال کر رکھا ہے بریسلیٹ ۔۔۔۔۔ہم بلائنڈ فرینڈز کو کبھی نہیں بھول سکتے۔۔۔”
ایدہ نےخوش دلی سےکہا۔۔۔۔۔
نوریض مسکراتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔۔
