Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 13)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 13)
Blind Friends By Isra Rao
“سوری منہا۔۔۔ایم سوری”
ایدہ نے ہاتھ میں ٹوٹا ہوا بریسلیٹ دیکھا۔۔۔۔
“اسے اور ہماری دوستی کو تم نے ہی توڑا ہے۔۔۔اب پچھتانے کی ضرورت نہیں ہے”
پیچھے سے روم میں داخل ہوتے ہی کمیل نے کہا
“میں نے توڑا ہے نا ایک دن میں ہی جوڑوں گی۔۔۔۔اور دیکھو ہمارا پلان کامیاب ہوگیا۔۔۔ہم بھی تو یہی چاہتے تھے۔۔۔۔”
ایدہ خوش دلی سے کہنے لگی
“مگر مجھے ابھی بھی سمجھ نہیں آرہی کہ ایبو نے منہا سے شادی کیسے کرلی۔۔۔۔ان دونوں کی تو ویسے بھی زیادہ بنتی نہیں تھی۔۔۔۔”
کمیل نے الجھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اب بن جائے گی۔۔۔۔”
ایدہ مسکرائی
“یہ سب چھوڑو تم اپنا سوچو۔۔۔۔آرب تم سے شادی کرے گا؟”
کمیل نے پوچھا
“اسے کرنی ہی ہوگی۔۔۔۔سارہ آنٹی ہیں نا”
ایدہ نے مسکرا کر ابرو اچکائی۔۔۔
اور کمیل بھی مسکرا دیا
وہ روم میں آیا تو سامنے ہی وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنی جیولری اتار رہی تھی۔۔۔۔
ابراہیم ایک نظر اس پر ڈالتا وارڈ روب کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
منہا نے قدموں کی آواز پر پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔
پھر دوبارا مصروف ہوگئی
وہ اپنے کمرے نکال باتھروم کی جانب بڑھا ہی تھا جب منہا نے پکارا
“ایبو۔۔۔۔۔”
منہا اٹھ کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔” وہ پوچھنے لگا۔۔۔۔
“مجھے باتھروم جانا تھا۔۔۔۔تم بعد میں جانا۔۔۔۔۔”
وہ کہتی باتھروم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
ابراہیم منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
پھر سر جھٹک کر صوفے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
(اتنا پیار کرنے لگی ہو مجھ سے؟)
اس کے کانوں سے جملہ ٹکرایا
(اس سے بھی زیادہ۔۔۔کہ اب تمہارے علاوہ کوئی اچھا ہی نہیں لگتا)
وہ واش بیسن پر ہاتھ ٹکائے سامنے آئینے میں خود کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
آنسوں جو کب سے رکے ہوئے تھے۔۔۔۔آنسوں سے بہ نکلے۔۔۔۔
اس نے منہ پر ہاتھ رکھ آتی سسکی کو روکا۔۔۔۔
وہ کسی کو ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی کہ وہ دکھی ہے۔۔۔وہ ٹوٹ چکی ہے۔۔۔۔
وہ چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی۔۔۔۔
دل ہلکا کرنا چاہتی تھی۔۔۔
مگر وہ مجبور تھی۔۔۔ وہ یہاں رو نہیں سکتی تھی۔۔۔۔
“یہ لڑکا تو کسی کی بات ماننے کو تیار ہی نہیں”
سارہ بیگم نے چائے کا کپ بیڈ پر بیٹھے سعید صاحب کو پکڑاتے ہوئے کہا
“مان جائے گا۔۔۔”
انہوں نے کپ تھامتے ہوئے کہا
“میں نے سوچ لیا بس ایدہ کی ہی شادی ہوگی آرب سے بس۔۔۔۔”
وہ اٹل فیصلہ سنانے لگی
“ٹھیک ہے دیکھتے ہیں پھر ماں جیتے گی یا بیٹا”
وہ ہنس کر چائے کا سپ لینے لگے۔۔۔
وہ باتھروم سے باہر نکلی تو بیڈ پر نگاہ ڈالی۔۔۔۔
ابراہیم تکیے پر سر ٹکائے سو چکا تھا۔۔۔۔
وہ خاموشی سے دوسرا تکیہ اٹھا کر زمین پر بستر لگانے لگی۔۔۔۔
نیند تو اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔
آنکھیں رونے کی وجہ سے سوج چکی تھی۔۔۔
مگر وہ اب تھک چکی تھی رو رو کر خود سے لڑ لڑ کر۔۔۔
پوری رات وہ ایسے لیٹی چھت کو گھورتی رہی۔۔۔۔
فجر کی آذان اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
ایک نظر بیڈ پر سوئے ابراہیم پر ڈالی۔۔۔۔جو بیڈ پر پھیل کر سویا ہوا تھا۔۔۔ہمیشہ کی طرح تکیہ منی پر جمائے۔۔۔
وہ سر جھٹک کر باتھروم کی طرف بڑھی۔۔۔
وضو کیا اور نماز پڑھی۔۔۔۔
جب دکھ حد سے بڑھ جائیں تو عبادت کے سوا کسی چیز میں سکون نہیں ملتا۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔”
منہا کی آواز پر وہ سب پلٹ کر اسے دیکھنے لگے۔۔۔۔
جنس پر اونچی سی کرتی پہنے وہ دوپٹہ ایک کاندھے پر ڈالے سلکی لمبے بالوں کو ہمیشہ کی طرح پونی میں قید کیا تھا۔۔۔۔
سونیا بیگم اور عظمیٰ بیگم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔
پھر فرقان صاحب کو۔۔۔۔جو دوبارا کھانا کھانے میں مصروف ہوگئے تھے۔۔۔۔
“ابراہیم کہاں ہے؟”
“سورہا ہے…” منہا نے بنا کسی تاثر کے کہا
“اچھا۔۔۔۔بیٹھو۔۔۔۔ناشتہ کرو۔۔۔۔”
عظمیٰ بیگم نے کہا۔۔۔۔
“نہیں میرا موڈ نہیں ہے۔۔۔۔بعد میں کرلوں گی۔۔۔۔”
وہ ہلکا سا مسکرا کر کہنے لگی
“میں زیمل کو بلانے آئی تھی۔۔۔وہ مجھے ہیلپ چاہیے تھی۔۔۔۔وارڈ روب کو سیٹ کرنے کے لیے۔۔۔۔”
وہ معصومیت سے کہنے لگی۔۔۔
“ہاں ہاں۔۔۔ضرور زیمل جاؤ بھابھی کے ساتھ”
عظمیٰ بیگم نے کہا
اور زیمل مسکرا کر اس کے ساتھ ہولی
وہ روم میں آئی تو سامنے بیڈ پر ابراہیم پھیلا نیند کی وادیوں میں کھویا تھا۔۔۔
“بھابھی ایک بات کہوں۔۔۔۔”
وہ منہا کے بیگ سے کپڑے نکال رہی تھی۔۔۔۔
“ہاں کہو۔۔۔۔”
منہا نے مختصر کہا
“یہ سب کپڑے آپ پہنتی تھی؟”
وہ پوچھنے لگی۔۔۔
زیمل کو اس کے کپڑے دیکھ حیرت ہوئی تھی۔۔۔
کیوں کہ سب ہی ایسے تھے۔۔۔کوئی اونچی سی کرتی۔۔۔جنس ٹی شرٹ۔۔۔۔ٹاپ۔۔۔۔اور کچھ شلوار قمیض وہ بھی ڈیزائن کی گئی۔۔۔۔ان میں سے کچھ کے ساتھ تو دوپٹہ ہی نہیں تھا۔۔۔
“ہاں کیوں؟”
وہ پوچھنے لگی
“بھابھی۔۔۔یہ سب کپڑے۔۔۔چھوڑیں۔۔۔میں یہ الماری میں لگا دیتی ہوں”
زیمل نے بات کا رخ بدلا
اور اٹھ کر کپڑے سیٹ کرنے لگی۔۔۔۔
منہا بنا کوئی تاثر دیے بیگ سے کپڑے نکالنے لگی۔۔۔
“بابا۔۔۔۔مجھے باہر جانا ہے۔۔۔”
ابراہیم نے سامنے بیٹھے فرقان صاحب پر نظر ڈالے بنا ہی کہا۔۔۔۔
“کیا آپ کو یہ یاد ہے کہ آپ کی شادی ہوگئی ہے ۔۔۔۔؟”
فرقان صاحب نے اسے بغور دیکھا جو سر جھکائے بیٹھا تھا
“جی۔۔۔۔بابا۔۔۔۔”
اس نے مختصر کہا
“تو پھر آپ اپنی زمہ داری سے کیسے بھاگ سکتے ہیں۔۔۔۔؟”
وہ سوال کرنے لگے
“باہر جانا میرا ہمیشہ سے خواب رہا ہے بابا اور بس تین سال کی ہی تو بات ہے۔۔۔۔پلیز بابا”
اس نے التجا کی۔۔۔۔
“منہا کو کوئی اعتراض ہوا تو؟”
انہوں نے پھر سے سوال کیا
“نہیں اسے نہیں ہوگا۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے فوراً کہا
“ٹھیک ہے۔۔۔اور ہاں منہا کو شاپنگ پر لے جانا آپ۔۔۔انہیں ضرورت ہے”
وہ کہتے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنے روم کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔
ابراہیم جو فرقان صاحب بات سمجھا نہیں تھا۔۔۔سامنے زیمل کے ساتھ لان میں کھڑی منہا پر نظر پڑتے ہی سمجھ گیا۔۔۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
“مام کھانا کھا لیں پلیز۔۔۔۔آپ نے کل سے کچھ نہیں کھایا”
آرب نے ٹرے ان کے سامنے رکھی۔۔۔
“نہیں کھانا مجھے۔۔۔جب تک تم ایدہ سے شادی پر راضی نہیں ہوتے میں نہیں کھاؤں گی بس۔۔۔”
وہ بضد تھی۔۔۔
“میں ایدہ سے شادی نہیں کرسکتا مام۔۔۔۔بات کو سمجھیں”
ارب نے اکتا کر کہا
“مگر کیوں وہ اتنی اچھی ہے۔۔۔میری اتنی عزت کرتی ہے”
سارہ بیگم نے اس کی تعریف کی
“وہ جتنی اچھی ہے اتنی ہی بری بھی ہے مام۔۔۔۔وہ سرپھری ہے بہت۔۔۔ہر چیز اس کے موڈ پر ڈیپینڈ کرتی ہے۔۔۔۔آپ کو کہاں سے اچھی لگ گئی”
آرب نے ایدہ کا صحیح سے تعارف کروایا
“شرم نہیں آرہی۔۔۔۔اپنی ہی دوست ایک ہزار برائی کر رہے ہو۔۔۔”
انہوں نے ٹوکا
“میں سچ بتا رہا ہوں۔۔۔۔۔وہ ایسی بلکل نہیں ہے جیسی نظر اتی ہے۔۔۔۔”
آرب نے سمجھانا چاہس
“جیسی بھی ہے مجھے پسند ہے۔۔۔۔بس تم ہاں کرو”
وہ بھی بضد تھی۔۔۔۔
“مام کسی اور لڑکی کو پسند کریں میں ہاں کردوں گا۔۔۔۔خوش۔۔۔اب کھانا کھائیں”
آرب نے صاف گوئی سے جواب دیا
“نہیں ایدہ کے لیے ہی ہاں کرو۔۔۔ورنہ میں نہیں کھاؤں گی۔۔۔۔۔”
ان کی بات سن آرب کو غصہ آیا۔۔۔۔
وہ سر کو نفی میں ہلاتا اٹھ کھڑا ہوا اور باہر نکل گیا
“یہ کپڑے نہیں پہنا کرو منہا۔۔۔۔ہمارے گھر میں الاؤ نہیں۔۔۔۔”
ابراہیم نے لان میں بیٹھی دیکھ کہا۔۔۔۔۔
“میں یہی پہنتی ہوں۔۔۔تم جانتے ہو”
منہا نے سر جھٹک کر جواب دیا
“ہاں۔۔۔مگر یہاں ایسے کپڑوں کو عجیب سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔”
ابراہیم اس کے پاس کرسی کھینچ بیٹھا
“تم کیوں حکم چلا رہے ہو مجھ پر۔۔۔۔؟”
منہا نے کھا جانے والے انداز میں کہا
“بابا نے کہا ہے مجھے۔۔۔۔”
ابراہیم نے بتایا
“کیا؟ انکل نے تمہیں کہا ہے ایسا؟”
منہا کو حیرت ہوئی
“ہاں۔۔۔۔اور یہ بھی کہ تمہیں شاپنگ کروادوں تاکہ تم ڈھنگ کے کپڑے لے لو”
ابراہیم نے منہ بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کیا مزاق ہے یار۔۔۔۔
وہ اکتائی تھی۔۔۔۔
“مام ۔۔۔۔۔مام۔۔۔۔۔”
وہ جیسے ہی باہر سے آیا بھاگتا ہوا روم میں داخل ہوا
“کیا ہوا ہے ڈیڈ۔۔۔۔”
وہ بیڈ پر لیٹی سارہ بیگم کو دیکھتے پریشان ہوا ۔۔۔
“دماغ خراب ہوگیا ہے تمہاری مام کا۔۔۔۔دو دن سے کچھ نہیں کھایا تو طبیعت تو خراب ہوگی نا۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگے
“مام۔۔۔” وہ بیڈ پر سارہ بیگم کے پاس بیٹھا۔۔۔۔
ڈاکٹر ابھی ابھی گیا تھا۔۔۔
“کیوں کرتی ہیں آپ ایسے؟”
وہ پوچھنے لگا
“تمہیں میری کوئی فکر نہیں ہے۔۔۔۔اگر ہوتی تو ہاں کہ دیتے”
انہوں نے گلا کیا
“آپ کھانا کھائیں۔۔۔۔۔”
اس نے ملازمہ سے کھانے کی ٹرے تھام کر بیڈ پر رکھی
“پہلے تم کہو کہ تم ایدہ سے شادی کرو گے”
وہ بضد تھی۔۔۔
“ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔میں کرلوں گا آپ کھانا کھائیں”
وہ اپنے ہاتھوں سے نوالے کھلانے لگا
اور سارہ بیگم پرسکون ہوئی
“میں تمہیں کچھ بتانا چاہتی ہوں ایبو”
منہا نے برابر بیٹھے ابراہیم کو دیکھا جو سامنے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ہاں۔۔۔مجھے بھی”
ابراہیم نے اسی انداز میں کہا۔۔۔۔
“کیا؟”
وہ پوچھنے لگی
“میں باہر جانا چاہتا ہوں۔۔۔۔بابا اگر تم سے پوچھیں تو ہاں کہ دینا”
ابراہیم نے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کہا
“مجھ سے کیوں پوچھیں گے؟”
وہ حیران ہوئی
“کیوں کہ تم میری بیوی ہو۔۔۔۔بقول ان کے اگر تم پرمیشن نہیں دو گی تو وہ مجھے نہیں بھیجیں گے”
وہ سادگی سے بتانے لگا۔۔۔۔
“میں تمہاری بیوی نہیں دوست ہوں۔۔۔۔اور میں کیوں روکوں گی تمہیں۔۔۔۔”
منہا نے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔
تھینک یو۔۔۔۔۔۔ویسے تمہیں بھی کچھ کہنا تھا نا”
وہ یاد آتے ہی پوچھنے لگا
“ہاں مجھے فون چاہیے ایک۔۔۔۔۔”
منہا نے بات بدلی۔۔۔۔
ابھی چل رہے ہیں نا مارکیٹ لے لینا”
ابراہیم نے سادگی سے کہا۔۔۔۔
اور منہا باہر کے چلتے مناظر کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
آرب کے فادر نے رشتے کی بات کی ہے۔۔۔”
خاور صاحب جو ابھی ابھی سعید صاحب سے ملے تھے۔۔۔۔
ایدہ کے آتے ہی اسے بتانے لگے۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔۔ہاں کہ نا پلیز۔۔۔۔۔”
ایدہ نے ضد کی۔۔۔
“مگر میں آرب سے مل تو لوں۔۔۔دیکھ تو لوں کہ وہ تمہارے لائق ہے بھی یا نہیں۔۔۔؟”
وہ ایدہ کو سمجھانے لگے
“میں جانتی ہوں اسے ڈیڈ۔۔۔وہ بہت اچھا ہے۔۔۔کامی بھی جانتا ہے۔۔۔ہمارا دوست ہے وہ”
ایدہ نے بتایا
“پھر بھی میں ان کے گھر کل جاؤں گا پھر ہاں کہوں گا”
خاور صاحب نے کہا۔۔۔۔
“اس میں نوریض کا نمبر سیم کردو۔۔۔۔”
منہا نے موبائل ابراہیم می جانب بڑھایا
“نوریض کا۔۔۔۔؟”
وہ چونکا
“ہاں کیوں؟”
وہ پوچھنے لگی
“ویسے ہی پوچھا۔۔۔میں کردیتا ہوں”
ابراہیم نے نمبر سیو کیا اور فون اسے واپس کردیا
“منہا۔۔۔ایک بات کہ نوریض سے سب کے سامنے بات مت کرنا میرے گھر والوں کو پسند نہیں آئے گا۔۔۔۔یو نو۔۔۔۔”
ابراہیم نے ہدایات دی
“میں سمجھتی ہوں۔۔۔میں احتیاط کروں گی۔۔۔”
وہ اکتا کر کہنے لگی۔۔۔
“بھئی چائے۔۔۔۔میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی ہے۔۔۔”
تبھی زیمل چائے لے کر ان کے قریب آئی۔۔۔
اور ٹرے ان کے سامنے کی۔۔۔
“میں چائے نہیں پیتی”
منہا نے بے رخی سے کہا۔۔۔۔
زیمل کا یک دم منہ اترا۔۔۔۔
وہ خاموشی سے ابراہیم کو کپ دیتی پلٹ گئی۔۔۔
“تمہیں زیمل کو ہرٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔”
ابراہیم نے غصہ پرے دھکیلا
“میں نے ایسا تو کچھ نہیں کیا”
وہ کندھے اچکائے کہنے لگی
“اس نے اپنے ہاتھوں سے ہمارے لیے بنائی تھی۔۔۔۔”
وہ جتانے لگا
“میں نہیں پیتی تم جانتے ہو ایبو”
وہ روہانسی ہوئی
میں سب جانتا ہوں منہا۔۔۔۔دکھ سب کے پاس ہوتے ہیں۔۔۔۔مگر ہم ہر وقت اپنے رویے سے دوسروں کو ہرٹ نہیں کرسکتے’
ابراہیم نے تلخی سے کہا
“کیا مطلب ہے تمہارا؟”
وہ پوچھنے لگی
“میرا مطلب صرف یہ ہے کہ تم اپنے دکھوں کو اپنے کمرے تک محدود رکھو۔۔۔۔سب کے سامنے ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”
وہ کہتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
“ایبو تم۔۔۔۔۔” منہا کو اس کی باتوں سے دکھ ہوا تھا۔۔۔۔
نمی آنکھوں میں پھر سے تیر آئی تھی
