Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 7)

Blind Friends By Isra Rao

“کباب تو بہت ہی مزے کے تھے”

منہا نے ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا

“یہاں کی چکن مغلئی میری فیورٹ ہے”

آرب نے کہا۔۔۔۔

“فرائیڈ رائس بھی اچھے تھے۔۔۔”

کامی نے منہ صاف کیا

“ہاں تونے دبا کے کھائے ہیں۔۔۔۔میری نظر تجھ پر ہی تھی۔۔۔”

ابراہیم نے ہنس کر کہا

“ہاں تو تو نظر ہی رکھ۔۔۔اب پکا پیٹ میں درد ہوگا میرے”

کامی نے ٹوکا

“چلتے ہیں یار ۔۔۔۔بل منگوا لیتا ہوں”

آرب نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

“بل پلیز۔۔۔۔”ویٹر بل رکھ کر چلا گیا تھا

چلو پیسے نکالو سب” آرب نے سب کو پرسکون بیٹھے دیکھ کہا

“چل منہا پرس خالی کر”

ابراہیم نے سامنے بیٹھی منہا کو دیکھا

“لڑکی سے بل لو گے؟ تم چاروں مرد نہیں بھر سکتے۔۔۔۔شرم کرو”

منہا نے ہاتھ جھاڑتے ہوئے کہا

“یہ اچھا ایکسکیوز ہے؟”

کامی نے ابراہیم کو دیکھا

“چل کوئی نہیں تو بھردے”

اس نے کامی کو کہا

“یہ بریسلیٹ میں نے ہی دیے ہیں۔۔۔۔اب بل بھی میں دوں؟”

وہ منہ بنا کر پوچھنے لگا

“چل نوریض تو بھردے؟”

اس بار ابراہیم نے نوریض کو ٹوکا جو

“میں تو اپنا والٹ ہی گھر بھول آیا”

نوریض نے معصومیت سے کہا۔۔۔۔

آرب خاموشی سے سب کو باری باری دیکھ رہا تھا

“تو بھردے نا”

نوریض نے الٹ ابراہیم کو گھیرے میں لیا

“میں بیٹا تم لوگوں کے جیسا نہیں ہوں۔۔۔نیں بھر دیتا اگر میرے پاس کیش ہوتا”

وہ سادگی سے کہنے لگا

“تو کارڈ دے دے”

اس بار کامی نے کہا

“ابے میں بنا بولے کارڈ دیتا مگر میں کل ہی آیا ہوں۔۔۔اور کارڈ گھر ہی بھول گیا۔۔۔۔چاچو کو کہوں گا بھجوا دیں گے ۔۔۔پھر دیکھنا میں تم سب کو کھلاؤں گا۔۔۔۔”

ابراہیم نے الفاظوں میں شیرا گھولا۔۔۔

جو آرب کو اندر تک سلگھا گیا

منہا اور نوریض منہ پر ہاتھ رکھتے ہنسی روکنے لگے۔۔۔

“مجھے پتا تھا۔۔۔۔پتا تھا مجھے تم سب یہی کہو گے۔۔۔۔اتر آئے نا کمینگی پر۔۔۔۔”

آرب نے غصے سے کہا

“یار کیسی باتیں کر رہا ہے۔۔۔۔دوستی میں پیسہ نہیں آنا چاہیے”

نوریض نے کہا

“بھاڑ میں گئی دوستی۔۔۔دوبارہ نہیں آؤں گا میں تم سب کے ساتھ”

اس نے جیب سے والٹ نکالا۔۔۔۔

اور پیسے نکال کر اس میں رکھے ۔۔۔

“کہاں تھے تم؟”

وہ اسے گھر آتا دیکھ پوچھنے لگی۔۔۔

“یونیورسٹی سے سیدھا ریسٹورنٹ چلے گئے تھے”

وہ بیگ پھینکتا کہنے لگا

“کھانا۔۔۔کس نے کھلایا؟”

وہ آخر کو پوچھ بیٹھی۔۔۔

“آرب نے؟”

وہ ہنسا

“شرم کرلو۔۔۔پچھلی بار بھی اسی نے بھرا تھا بل۔۔۔۔”

وہ شرمندہ کرنے لگی

“تو اگلی بار تو بھر دینا۔۔۔۔”

وہ صوفے پر لیٹتے ہوئے کہنے لگا

“میں تو آرب کی طرح پاگل نہیں ہوں”

وہ کہنے لگی۔۔۔

بدلے میں وہ بس ہنسا تھا زور سے۔۔۔

“ویلکم میڈم۔۔۔۔اپنے سسرال میں پہلی بار قدم رکھا ہے آپ نے”

وہ گاڑی سے اترتا کہنے لگی۔۔۔

منہا مسکراتی اس کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔۔۔

“مام۔۔۔۔مام۔۔۔۔”

اس نے آواز لگائی۔۔۔

“کیا ہوگیا آرب۔۔۔۔۔”

وہ اپنے روم سے باہر نکلی۔۔۔

“اسلام وعلیکم”

منہا نے انہیں دیکھتے ہی سلام کیا

“وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔منہا؟”

وہ مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔۔

وہ سمپل سے بلیک شلوار قمیض میں ملبوس تھی۔۔۔

لمبے سلکی بال ہائی پونی میں قید تھے۔۔۔۔

صاف شفاف رنگت تیکھے نقوش۔۔۔۔دبلی پتلی سی وہ لڑکی واقع خوبصورت تھی۔۔۔۔

سارہ بیگم نے اسے سر تا پاؤں بغور دیکھا

“کھڑی کیوں ہو؟ بیٹھو”

وہ مسکرا کر کہتی اس کے قریب آئی۔۔۔

“کلثوم کو کہو کھانے کا انتظام کرے”

وہ پاس کھڑے آرب کو دیکھ کہنے لگی۔۔

“اور بیٹا۔۔۔۔اپ کے بابا کیا کرتے ہیں؟”

وہ دوبارا مخاطب ہوئی

“جی وہ آرمی میں ہیں “

منہا نے معصو سے کہا

“اور بھائی۔۔۔۔؟”

وہ دوبارا پوچھنے لگی۔۔۔

“جی وہ جاب کرتے ہیں۔۔۔۔میڈیکل کمپنی میں”

وہ سادگی سے بتانے لگی۔۔۔

“یہ ان کی شادی کا کارڈ ہے”

منہا نے ان کی جانب بڑھایا

“میں تو نہیں آسکوں گی۔۔۔۔ہاں آرب ضرور آئے گا۔۔۔”

سارہ بیگم نے بہانہ بنائے بنا کہا

“تمہارے کالج کی فیس وغیرہ کیسے افورڈ کرتے ہیں پھر آپ کے گھر والے؟کیوں کے انکی انکم تو نہیں۔۔۔جو اتنے مہنگے کالج کے خرچے افورڈ کرسکے۔۔۔”

وہ تفصیل پوچھ کر حیران ہوئی تھی

کیوں کہ وہ جس کالج میں پڑھتی تھی وہ واقع بہت مہنگا تھا

“میں اسکالر شپ پر پڑھ رہی ہوں آنٹی۔۔۔۔بہت جلد کوئی جاب ڈھونڈ لوں گی”

وہ معصومیت سے کہنے لگی۔۔۔جب کہ انکا رویہ اسے عجیب لگا تھا

وہ ہلکا سا سر کو خم دیتی مسکرائی۔۔۔

“آؤ میں اپنا روم دکھاتا ہوں “

آرب جو کچن میں تھا آتے ہی کہنے لگا

“ہاں جاو”

سارہ بیگم کے کہنے پر وہ اٹھ کھڑی ہوئی

سیڑھیاں چڑھتا وہ روم میں آئے

دونوں اطراف میں گلاس وال تھی۔۔۔

سامنے سے کوریڈور کا راستہ دکھائی دے رہا تھا ۔۔۔

سینٹر میں ترکش بیڈ اپنی خوبصورتی آپ کا۔۔۔۔

منہا بنا پلکیں جھپکائے دیکھ رہی تھی۔۔۔

“کیسا لگا میرا روم۔۔۔۔جو بہت جلد ہم دونوں کا ہوجائے گا”

اس نے پیچھے کھڑے اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔

منہا ہلکا سا مسکرائی۔۔۔

“بہت خوبصورت روم ہے تمہارا”

منہا نے مسکرا کر کہا

“آج تو یہ مجھے بھی خوبصورت لگ رہا ہے۔۔۔تم جو یہاں ہو۔۔۔۔”

وہ مسکراتا اس کے سامنے آیا

“تمہیں پتا ہے ۔۔۔میں نے مام کو کہ دیا۔۔۔۔کہ اگر میری بیوی نے ضد کی کراچی رہنے کی تو ہم یہیں رہیں گے۔۔۔۔”

اس کے ہاتھ تھا اپنے ہاتھوں میں سموئے محبت سے کہنے لگا

“نہیں ہم حیدرآباد رہیں گے۔۔۔۔ان کے پاس۔۔۔ان کے ساتھ”

وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔

“اگر مام نے تمہاری یہ باتیں سن لی نا کل ہی تمہیں بہو بنا کر لے آئیں گی”

وہ ہنس کر کہنے لگا۔۔۔وہ بھی ہنس دی

“نہ کر۔۔۔۔”

نوریض حیران ہوا ۔۔۔

“سچی۔۔۔۔مگر اب بابا کو کون سمجھائے”

وہ بجھے بجھے لہجے لگا

“تو کرلے۔۔۔تجھے ایک دن تو کرنی ہی ہے”

نوریض نے مشورہ دیا

“خود تو پسند سے منگنی کرلی۔۔۔۔اور مجھے مشورے دے رہے ایسے؟”

وہ جل کر کہنے لگا

“اس چیز میں تو لکی ہوں میں۔۔۔۔میں نے جس سے محبت کی اسی سے منگنی کی”

وہ مسکرایا

“یہ محبت کیسے ہوتی ہے ۔۔۔مجھے تو نہیں ہوئی کبھی۔۔۔۔”

ابراہیم سیدھا ہوا

“محبت ایک بہت خوبصورت احساس ہے۔۔۔یہ بس ہو جاتی ہے”

وہ بتانے لگا

“پتا کیسے لگے گا کہ ہمیں محبت ہوگئی۔۔۔؟”

وہ پوچھ ہی بیٹھا

“جب سامنے والے شخص کی بری عادتیں بھی تجھے اچھی لگیں۔۔۔۔بس دل ضد کرے یہ شخص سب سے الگ ہے ۔۔یہی چاہیے۔۔۔۔تو بلا وجہ ہی ہم اس شخص کے ساتے نخرے اٹھاتے ہیں۔۔۔۔”

نوریض نے آخری بات ہنس کر کہی

لیکن میرا دل نہیں کرتا کسی کے نخرے اٹھاؤں۔۔۔۔”

وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہنے لگا

“جس دن تجھے محبت ہوگی تو بھی نخرے خوشی خوشی اٹھائے گا”

نوریض کہنے لگا

“جیسے آبی اٹھاتا ہے۔۔۔منہا کے؟”

وہ کنفرم کرنے لگا۔۔۔

اور بدلے میں نوریض ہنس دیا

” مام کو کوئی اعتراض نہیں” آرب نے خوش دلی سے بتایا

اس کے برابر میں بیٹھی منہا مسکرا رہی تھی۔۔۔

“تم سب نے آنا ہے شادی پر لازمی”

منہا نے بیگ کاندھے پر ڈالتے ہوئے کہا

“تم شادی کر رہی ہو؟”

نوریض نے چہک کر پوچھا

“میری نہیں بھائی کی ہے ۔۔۔میں کل سے چھٹی پر ہوں۔۔۔میں بس کارڈز دینے آئی تھی تم لوگوں کو”

اس نے ٹیبل پر رکھے کارڈز کی جانب اشارہ کیا

“یہ کامی کہاں ہے؟”

ایدہ نے سوال کیا۔۔۔۔

“وہ رہا سامنے نیو ایڈمیشن ہے لڑکی۔۔۔آج کل اسی کے پیچھے ہوتا ہے روز”

آرب نے ناک سے مکھی اڑائی

“اوہ۔۔۔۔۔میں بھی دیکھ کر آؤں؟”

ابراہیم اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

“تیرے فون میں آلریڈی کرن ہے اور گھر پر صدف۔۔۔۔”

نوریض نے اسے تپاپا

ابراہیم نے اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔

“تیرے پیٹ میں بات نہیں رکے گی نا؟”

ابراہیم نے کاٹ دار لہجے میں پوچھا

نوریض نے ہنس کر لبوں پر انگلی رکھی۔۔۔

“کیا کیا چل رہا ہے یہ۔۔۔۔؟”

منہا نے ان دونوں کے اشارے دیکھ پوچھا۔۔۔

“کچھ نہیں۔۔۔بس بتا رہا ہوں۔۔۔کرن تو اب ناراض ہے۔۔۔۔۔یہ۔۔۔اس کے بھائی نے میری سیٹنگ خراب کی تھی۔۔۔۔۔اسائمنٹ چوری کر کے ۔۔۔۔”

ابراہیم نے ایدہ کی جانب اشارہ کیا

“تو تم اس کی کردو جاو”

ایدہ نے ہنس کر مشورہ دیا

وہ سر ہلاتا مڑ گیا۔۔۔۔اس کا رخ سامنے کھڑے کامی کی جانب تھا

“یہ لوگ نہیں سدھریں گے”نوریض نے کرسی سے ٹیک لگائی

“لڑکیوں کے بنا ان دونوں کا گزارا نہیں۔۔۔۔”

منہا نے ہنس کر کہا

“ہاں تو تم دونوں کی سیٹنگ ہے۔۔۔۔۔یہ رتبہ کے ساتھ بزی ہے۔۔۔۔ہم تین سنگل بندے کہاں جائیں؟”

ایدہ نے افسردگی سے کہا

“سدھر جا”منہا نے اس کے سر پر چپت لگائی

بدلے میں وہ زور سے ہنسی۔۔۔

“اچھا۔۔۔۔تو بات تھی۔۔۔۔”

پیچھے سے باسل کی آواز پر وہ چاروں چونکے

“دوستی ہو تو ایسی۔۔۔۔”

باسل ان کے قریب آیا

“باسل جھگڑا مت شروع کر”

اس بار نوریض بھی اٹھ کھڑا ہوا

“جھگڑا تو اس دن تمہارے اس دوست نے شروع کیا تھا۔۔۔۔مجھے مار کر”

باسل نے سنجیدگی سے کہا

“تو اس کا بدلہ تم نے لے لیا تھا ںا ۔۔پرنسپل کو بتا کر”

ایدہ نے فوراً کہا

“پرنسپل نے کیا بگاڑ لیا اس کا…دشمنی تو اس نے شروع کردی اب”

باسل نے چبا کر کہا

“لگتا ہے اس دن کی مار بھول گیا تو”

اس بار آرب نے غصے سے کہا

“بھولا ہوتا تو میں آج یہاں نہ ہوتا۔۔۔۔اب تو…تو ساری عمر یاد رکھے گا تو نے پنگا کس سے لیا”

وہ اکڑ کر کہنے لگا۔۔۔

“دھمکی کسی اور کو دے۔۔۔ڈرتا نہیں ہوں میں”

وہ سرخ آنکھوں سے کہنے لگا۔۔۔

“”باسل کیوں بات کو بڑھا رہے ہو۔۔۔؟ جاؤ یہاں سے”

منہا نے آرب کو بازو سے پکڑ کنٹرول کرنا چاہا۔۔۔

“اس دن تو بڑی نیک بن رہی تھی۔۔۔۔یہ تو نہیں بتایا کہ دوستی کی آڑ میں گھل کھلا رہے ہو دونوں”

باسل نے غصے سے کہا۔۔۔۔

اور اس بار صرف آرب کو ہی نہیں بلکہ نوریض کو بھی غصہ آیا تھا

“ربیہ۔۔۔نائس نیم۔۔۔جتنی آپ خوبصورت ہو۔۔۔اس سے زیادہ خوبصورت آپ کا نام ہے۔۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہ رہا تھا۔۔۔۔

تعریف سنتے ہی ربیہ کی آنکھوں میں چمک اور لبوں پر مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔

“تو تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کہ ربیہ خوبصورت نہیں ہے۔۔۔بس اس کا نام ہی خوبصورت ہے”

پیچھے سے ابراہیم نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔

وہ شرارت سی مسکراہٹ لیے اسے دیکھ رہا تھا

“جی نہیں میں نے ایسا نہیں کہا”

وہ روہانسی ہوا

“یہ کون ہے”

ربیہ اب ابراہیم کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

اس سے پہلے کہ کمیل کچھ کہتا ابراہیم نے فوراً ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔

“میں کمیل کا فرینڈ ہوں۔۔۔۔ابراہیم۔۔۔۔نائس ٹو میٹ یو”

اس نے چہک کر کہا

اس نے مسکرا کر ہاتھ ملایا

کمیل کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابراہیم کا گلا دبا دے۔۔۔

“ہم کہیں اور چل کر بات کریں۔۔۔”

کمیل نے ایک بری نظر ابراہیم پر ڈال کر ربیہ سے مخاطب ہوا

اس سے پہلے وہ کچھ کہتا۔۔۔۔

پیچھے سے شور کی آواز پر وہ پلٹا۔۔۔۔

سامنے ہی آرب اور نوریض کے ساتھ جھگڑا ہورہا تھا۔۔۔

اس نے ایبرو سکیڑ کر دیکھا۔۔۔

“کامی آبی کے ساتھ جھگڑا ہورہا ہے۔۔۔۔چل”

وہ پریشانی سے ان کی جانب بھاگا

کمیل بھی اس کے پیچھے لپکا۔۔۔

آرب کی ناک سے خون بہ رہا تھا۔۔۔۔اس کے ہاتھ باسل کے گریبان پر تھے۔۔۔۔

دوسری طرف نوریض باسل کے دوست کے ساتھ جھگڑ رہا تھا۔۔۔۔

کمیل فورآ نوریض کی جانب بھاگا۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔۔”

منہا نے روتے ہوئے سامنے سے آتے ابراہیم کو پکارا

“تو باز نہیں آئے گا سالے۔۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے جھٹکے سے آرب کا گریبان باسل کے ہاتھ سے چھڑوا کر دھکا دے کر باسل کو پرے دھکیلا۔۔۔۔

“کمینہ نام رکھ کر گروپ کا تم سب خود کو شیر سمجھ رہے ہو”

وہ غراتے ہوئے کہنے لگا

“کمینگی ابھی دکھائی نہیں ہم نے ورنہ۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے انگلی اٹھا کر وارن کیا۔۔۔۔

“ورنہ کیا کرلے گا ہاں۔۔۔۔تمہارے جیسے نہیں ہم۔۔۔۔گروپ میں لڑکیاں شامل کر کے ایش کرتے ہیں جو۔۔۔۔”

باسل نے سرخ آنکھوں سے کہا

“بکواس بند کر اپنی۔۔۔۔۔”

اس بار ابراہیم کا مکہ اس کے چہرے پر پڑا تھا۔۔۔اور وہ لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا۔۔۔۔

وہ سیدھا ہوتے ہی ابراہیم کی جانب بڑھا اور دونوں جھگڑا کرنے لگے۔۔۔۔

سب اسٹوڈنٹس انہیں دیکھ رہے تھے۔۔۔جھگڑا واقع بڑھ گیا تھا۔۔۔۔

“یہ لو صاف کرو۔۔۔۔۔”

ایدہ نے ٹشو آرب کی جانب بڑھایا

اس نے ٹشو خاموشی سے لے لیا۔۔۔

اور ناک سے بہتا خون صاف کرنے لگا۔۔۔۔

پاس ہی ابراہیم اور نوریض بیٹھے تھے ۔۔۔

منہا اور اور کمیل پرنسپل کے آفس میں تھے۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ باہر آئے۔۔۔۔

جاؤ۔۔۔”

منہا نے آتے ہی انہیں دیکھ کہا

وہ سر کو خم دیتے اٹھ کھڑے ہوئے

اور تینوں پرنسپل کے آفس میں داخل ہوئے۔۔۔

“آپ لوگ یہ سب کرنے آتے ہیں کالج؟”

پرنسپل انہیں دیکھ غصے میں آئے۔۔۔

“سر وہ باسل بار بار بدتمیزی کرتا ہے”

آرب نے کہا

“تو میں نے پہلے بھی کہا تھا ہم بیٹھے ہیں ابھی۔۔۔۔جھگڑا کرنے کو کس نے کہا تھا”

وہ تلخ لہجے کہنے لگے

“لیکن سر پہلے اس نے شروعات کی تھی۔۔۔۔”

نوریض نے فوراً کہا

“ان تینوں کے پیرنٹس کو کال کریں۔۔۔۔”

وہ غصے سے کہنے لگے

“مگر سر ہمارا قصور نہیں تھا”

ابراہیم نے صفائی دینی چاہی۔۔۔۔

“آپ لوگ جا سکتے ہیں۔۔۔۔اب بات آپ لوگوں کے گھر والوں سے ہوگی۔۔۔۔”

انہوں نے ہاتھ سے جانے کا اشارا کیا

“پریشان کیوں ہورہا ہے؟”

آرب نے ابراہیم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔جو یہاں وہاں چکر لگا رہا تھا۔۔۔

“یار تو سمجھ نہیں رہا۔۔۔میرے بابا غصہ کریں گے”

اس نے پریشانی سے کہا

تبھی اس کا فون بجنے لگا

اسکرین پر بابا نام جگمگا رہا تھا۔۔۔

ابراہیم کا حلق خشک ہوا

پھر نوریض کے اشارے پر اس نے کال اٹھائی

“اسلام وعلیکم بابا”

اس نے فون کان سے لگاتے ہی کہا

“مگر بابا۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا”

اس نے بس اتنا کہا۔۔۔۔

آرب اور نوریض بغور اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔

چند ہی لمحوں میں اس نے فون بند کردیا۔۔۔۔

“کیا ہوا؟”

نوریض نے پوچھا

“کالج سے شکایت گئی ہے۔۔۔بابا غصے میں ہیں۔۔۔کل آئیں گے”

وہ فکرمندی سے کہنے لگا

“تو فکر مت کر ہم گواہی دیں گے نا کہ تیرا قصور نہیں تھا”

نوریض نے تسلی دینی چاہی

“بابا کو گواہی کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔انہیں تو میرا ہی قصور لگے گا”

ابراہیم نے معصومیت سے کہا

کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ٹینشن نہیں لے”

آرب نے اسے تسلی دی

“یہ میں کیا سن رہی ہوں؟”

وہ غصے میں سامنے بیٹھے آرب سے پوچھنے لگی

“مام۔۔۔جھگڑا اس باسل نے شروع کیا تھا۔۔۔۔”

آرب نے جھنجھلا کر کہا

“تو لوگ کمپلینٹ کرتے۔۔۔۔خود کیوں جھگڑا کیا؟”

وہ تلخ لہجے میں کہنے لگی

“وہ خود آتا ہے جھگڑا کرنے۔۔۔۔ہم نے کچھ نہیں کیا”

وہ صفائی دینے لگا

“تم لوگوں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔تم لوگوں نے اسے مارا ہے۔۔۔پتا ہے اس لڑکے کو کتنی چوٹیں لگی ہیں ۔۔۔”

وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں اسے احساس کروانے لگی۔۔۔

“چوٹ تو مجھے بھی لگی ہے۔۔۔۔وہ کسی کو یاد نہیں”

وہ افسردگی سے کہنے لگا

“آرب۔۔۔۔تمہیں ضرورت ہی کیا تھی یہ سب کرنے کی۔۔۔۔پرنسپل نے بلایا ہے مجھے۔۔۔۔تمہارے ڈیڈ کو پتا لگ گیا تو کتنا غصہ کریں گے”

وہ خود پریشان ہوئی

آرب بنے غصے سے سر کو خم دیا۔۔۔۔

پھر اٹھ کھڑا ہوا

“کہاں جارہے ہو۔۔۔۔بیٹھو۔۔۔کھانا لگوا رہی ہوں۔۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے ٹوکنے لگی

“بھوک نہیں ہے مجھے”

وہ غصے سے کہتا آگے بڑھ گیا

“یار میرے ابو کو پتا لگا کہ میری وجہ سے جھگڑا ہوا۔۔۔۔وہ تو مجھے مار ہی دیں گے”

وہ پریشانی سے کہنے لگی

“تو انہیں کون بتائے گا؟”

ایدہ نے اس کی پریشانی کم کرنی چاہی۔۔۔

“پرنسپل اور کون۔۔۔۔؟ کال کی تھی انہوں نے بھائی کے پاس”

وہ دکھ بھرے لہجے میں کہنے لگی

“کیا؟ تیرا کیا قصور تھا سب میں؟”

وہ حیرانی سے پوچھنے لگی۔۔۔

“قصور یہ ہے کہ میں بھی کمینہ گروپ کی میمبر ہوں۔۔۔۔اور سارا جھگڑا میرے پیچھے ہی ہوا ہے”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔۔۔

اس کی بات پر ایدہ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔

“ہنس کیوں رہی ہے؟”

وہ غصہ ہوئی

“کیوں کہ مجھے لگتا ہے میرے ڈیڈ کے پاس بھی کال گئی ہوگی۔۔۔کیونکہ میں اور کامی بھی کمینہ گروپ میں شامل ہیں۔۔۔۔”

اس نے ہاتھ میں پہنا بریسلیٹ دکھایا۔۔۔۔

جس پر بلائنڈ فرینڈز لکھا تھا ۔۔۔۔

اس کی بات پر منہا بھی مسکرا دی۔۔۔

“یار میری امی کو بھی شکایت دی ہے پرنسپل نے”

نوریض نے منہ بنایا۔۔۔۔

“کیوں؟”

ابراہیم نے اس کی جانب دیکھا۔۔۔۔

“سب کے گھر والوں کو کی ہے۔۔۔ اپنے گروپ سے جلتے ہیں سب”

وہ بدمزہ ہوا

“منہا کے گھر بھی؟”

وہ پوچھنے لگا

“ہاں۔۔۔اس نے میسج کر کے بتایا اس کے بھائی کے پاس کال آئی تھی کل بلایا ہے”

وہ تفصیل دینے لگا

“یہ پرنسپل صاحب نہیں سدھریں گے۔۔۔۔۔”

اس نے نفی میں سر ہلایا

“اس کے گھر میں تو شادی بھی ہے۔۔۔۔”

نوریض نے بتایا

“ہاں۔۔۔اس کے گھر والے سخت ہیں یار۔۔۔۔وہ کیسے ہینڈل کرے گی سب۔۔۔”

اسے فکر ہوئی

“یہ تو کل ہی پتا لگے گا جب اس کا بھائی آئے گا”

نوریض نے کہا

اور ابراہیم اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا

“فرقان صاحب۔۔۔۔ابراہیم کی شرارتیں بڑھتی جارہی ہیں دن بہ دن۔۔۔۔اور شرارتوں تک پھر بھی ٹھیک تھا۔۔۔۔مگر اب تو یہ سب مار پیٹ پر اتر آئے۔۔۔۔”

پرنسپل صاحب۔۔۔سامنے بیٹھے فرقان صاحب کو دیکھ رہے تھے۔۔۔

“شفیع صاحب آپ پرنسپل ہیں۔۔۔پوتا کالج چلا رہے ہیں۔۔۔۔آپ بہتر ہینڈل کرنا جانتے ہوں گے۔۔۔۔مگر”

فرقان صاحب جو کافی دیر سے ابراہیم کی شکایات سن رہے تھے۔۔۔آخر کو خاموشی توڑی

“مگر وہ مثال سنی ہے آپ نے؟ کہ کتے کو بھی پتھر مارا جائے تو وہ بھونکتا ضرور ہے۔۔۔۔۔”

انہوں نے سنجیدگی سے کہا

شفیع صاحب خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

“مجھے نہیں لگتا کہ قصور صرف ابراہیم اور اس کے دوستوں کا ہوگا۔۔۔۔بلا وجہ تو اس لڑکے کو نہیں مارا ہوگا۔۔۔۔کچھ تو اس نے بھی کیا ہوگا”

وہ سنجیدگی سے بات کرنے لگے

“میں یہ نہیں کہ رہا فرقان صاحب کہ سارا قصور ان ہی کا ہے۔۔۔میں بس یہ کہ رہا ہوں کہ ان لوگوں کو ہمیں بتانا چاہیے تھا نا کہ مار پیٹ کرنی تھی”

وہ سمجھانے لگے

“لیکن آپ ہی نے ابھی بتایا کہ کچھ دن پہلے بھی آرب کا جھگڑا ہوا تھا۔۔۔۔اس لڑکے سے۔۔۔۔تو آپ کو حل نکالنا چاہیے تھا تاکہ دوبارا جھگڑا نہ ہو”

انہوں نے پرنسپل کو ہی ٹوکا۔۔۔

“میں نے سمجھایا تھا دونوں کو”

وہ صفائی دینے لگے۔۔۔۔

“سمجھانے سے تو مسئلہ اور بڑھ گیا۔۔۔۔خیر میں بھی سمجھاؤں گا ابراہیم کو۔۔۔۔”

وہ مسکراتے اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔

“خیر میں چلتا ہوں۔۔۔۔نائس ٹو میٹ یو”

وہ ہاتھ ملاتے باہر نکل گئے۔۔۔

“عجیب آدمی ہے۔۔۔اپنے بیٹے کو سمجھانے کے بجائے مجھے سمجھا کر چلے گئے”

شفیع صاحب گہرہ سانس لے کر رہ گئے۔۔۔۔

“کیا کیا تھا اس لڑکے نے جو آپ سن نے اسے اتنا مارا؟”

وہ کرختگی سے سامنے کھڑے ابراہیم اور اس کے دوستوں کو دیکھنے لگے

“انکل وہ ہماری دوست کے ساتھ بدتمیزی کر رہا تھا۔۔۔۔”

نوریض نے سر جھکائے بتایا

“تو مارنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔۔مجھے بتا دیتے مسئلہ حل ہوجاتا۔۔۔۔۔دوبارا میں شکایت نہ سنوں۔۔۔اوکے”

وہ ابراہیم کی جانب دیکھنے لگے۔۔۔جو نظریں جھکائے کھڑا تھا۔۔۔

“جی بابا”

ابراہیم نے ادب سے جواب دیا

“تیرے ڈیڈ نے کیا بولا؟”

ابراہیم نے کمیل اور ایدہ کی جانب دیکھا

“آئے ہی نہیں فون پر ہی بات کرلی تھی۔۔۔۔”

کمیل نے لاپرواہی سے کہا

“ڈانٹا نہیں تم لوگوں کو۔۔۔۔؟”

وہ حیرانی سے پوچھنے لگا۔۔۔

“ذکر تو نہیں کیا۔۔۔۔گھر جا کر کلاس لگ جائے تو کچھ نہیں پتا”

کمیل نے ہنس کر کہا

“میری امی خود نہیں آئی۔۔۔۔فون پر ہی بات کرلی تھی۔۔۔۔”

نوریض نے مسکرا کر کہا

“بس میرے بابا ہی فرمانبردار ہیں پرنسپل کے”

ابراہیم نے منہ بنا کر کہا

“ابے تو۔۔۔کیا بول رہا تھا کہ تیرے بابا یہ کردیں گے وہ کردیں گے۔۔۔۔وہ تو کچھ بھی نہیں کہ کر گئے۔۔۔۔خوامخواہ برا سمجھتا تو۔۔۔۔”

آرب نے شرمندہ کرنا چاہا

“میں خود حیران ہوں ایسا کیسے ہوگیا۔۔۔۔طوفان تھم گیا۔۔۔۔”

ابراہیم نے ہنس کر کہا

“میری مام نے کل اتنی سنائی ہے مجھے۔۔۔۔شکر ہے ڈیڈ کو نہیں پتا لگا وہ اور غصہ ہوتے”

آرب نے سنجیدگی سے بتایا

“باقی جو بھی کہو۔۔۔۔اس باسل کے چہرے کا نقشہ بگاڑ دیا ایبو نے”

نوریض نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔

“دوبارا لڑکیوں کو نہیں چھڑے گا”

کمیل نے کہا

“مجھے تو لگتا دیکھے گا بھی نہیں اب”

ایدہ ہنسی

“مجھے تو لگتا وہ شادی بھی نہیں کرے گا اب “

نوریض کی بات پر باقی سب بھی کھلکھلا کر ہنس دیے۔۔۔۔