Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 28)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 28)
Blind Friends By Isra Rao
“میں کل جاؤں گی پارلر۔۔۔فیشل کرواؤں گی ہیئر کٹنگ۔۔۔۔اور”
وہ روانی سے بولتی چلی جارہی تھی جب ابراہیم نے ٹوکا
“ہیئر کٹنگ؟ خبردار۔۔۔۔تمہارے بال مجھے بہت پسند ہیں”
وہ روہانسی ہوا
“بال پسند ہیں میں نہیں۔۔۔”
وہ مسکرائی
“تم میں اور ہے ہی کیا؟”
وہ شرارتی انداز میں پوچھنے لگا
“ایبو۔۔۔۔” اس نے چڑ کر ایک مکہ اس کی بازو پر رسید کیا
ابراہیم ہنس کر بازو سہلانے لگا
“بس اب میں بات ہی نہیں کر رہی”
وہ منہ پھلائے کہنے لگی
“مزاق کر رہا تھا۔۔۔میری جان”
وہ اس کے گرد بازوں حمائل کرتے کہنے لگا
“مجھے پیزا لا کر دو”
منہا نے اسی انداز میں کہا
“پیزا؟ اس ٹائم؟”
ابراہیم چونکا
منہا نے اثبات میں سر ہلایا
“یار چار بجنے والے ہیں۔۔صبح لادوں گا”
ابراہیم نے بے چارگی سے کہا
“نہیں ابھی۔۔۔جاؤ اور لے کر آؤ یہ سزا ہے تمہاری”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگی
“یار منہا۔۔۔۔اب تم زیادتی کر رہی ہو”
ابراہیم نے منہ بنایا
“اٹھو۔۔۔جلدی جاؤ”
منہا نےروب۔ دار لہجے میں کہا
وہ اسے گھورتا منہ بناتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
اور گاڑی کی چابی اٹھاتا باہر نکل گیا
منہا مسکرا دی۔۔۔۔
یہ شخص ہی تو تھا جو نخرے اٹھوانا بھی جانتا تھا اور اٹھانا بھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ پزا لیے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔
اور کمرے میں آتے ہی سانس بحال کیے۔۔۔۔
“کیا ہوا؟”
منہا نے اسے دیکھ پوچھا
“چچی جاگ گئی تھی شکر انہوں نے دیکھا نہیں۔۔۔۔یہ آدھی رات کی تمہاری فرمائشیں بھی مجھے اسمگلر بنا دیتی ہیں”
وہ منہ بسورتا کہنے لگا ۔۔
اور منہا اس کی حالت دیکھ کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔
..
وہ کشمالہ پاس بٹھائے اس کے بال بنانے میں مصروف تھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔
وہ اٹھ کر جاتا اس سے پہلے ہی رتبہ دروازے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔
وہ بیٹھ کر پھر سے کشمالہ کے بال سنوارنے میں لگ گیا۔۔۔۔
“سوری میں نے پہنچانا نہیں”
رتبہ کی آواز پر وہ چونکا۔۔۔۔
پھر اٹھ کر باہر گیا۔۔۔۔
سامنے ہی ایک لڑکی کھڑی تھی ۔۔جنس پر ہلکے براؤن رنگ کا ٹاپ پہنے۔۔۔۔اسٹیپ کٹنگ بال کاندھوں پر بکھرے۔۔۔۔وہ کوئی عام لڑکی نہیں لگ رہی تھی اسے۔۔۔
“مجھے نوریض سے ملنا ہے”
اس نے کہا
“جی میں ہوں نوریض۔۔۔مگر آپ کون؟”
نوریض چلتا قریب گیا
“میں انابیہ ہوں۔۔۔ابراہیم کی فرینڈ”
اس نے تعارف کروایا۔۔۔۔
نوریض نے ابرو اچکائی۔۔۔۔۔
پھر رتبہ کی جانب دیکھا۔۔۔۔
“اندر آئیں۔۔۔۔”
رتبہ نے کہا۔۔۔۔
وہ اندر جا کر صوفے پر بیٹھی۔۔۔۔
“مجھے ابراہیم سے ملنا ہے”
انابیہ نے بیٹھتے ہی کہا
“تو میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں”
نوریض سامنے صوفے پر بیٹھا
“میں اسے کالز بھی کر رہی ہوں۔۔۔۔آفس بھی گئی تھی میں اس کے۔۔۔۔مگر میری بات نہیں ہوپارہی۔۔۔۔میں نے آپ کا ایڈریس بھی وہیں سے لیا۔۔۔۔صرف آپ ہی ہیں جو میری ہیلپ کرسکتے ہیں۔۔۔۔”
انابیہ نے تفصیل دی
“میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟”
وہ حیرانی سے پوچھنے لگا
“دیکھیں میں سیف نہیں ہوں۔۔۔۔ابراہیم کا ایک فرینڈ ہے کمیل رئیسی۔۔۔جو اتفاق سے میرا بھی دوست تھا۔۔۔۔مگر اب وہ مجھے دھمکی دے رہا ہے۔۔۔۔زبردستی شادی کرنے کی۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے بتانے لگی
“کمیل آپ سے شادی کیوں کرنا چاہتا ہے؟”
وہ حیرانی سے پوچھنے لگا
“کیوں کہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔مگر میں نہیں کرتی۔۔۔میں نے انکار کیا تو وہ دھمکی دے رہا ہے”
انابیہ نے معصومیت سے کہا
“تو آپ اپنے گھر والوں کو بتائیں۔۔۔۔۔”
نوریض نے مشورہ دیا
“میرے گھر والوں کو بھی اس نے کنوینس کرلیا انہیں کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔”
وہ مایوس ہوئی
“آپ کو کیوں نہیں ہے وہ پسند؟”
نوریض نے سوال کیا
“کیونکہ میں ابراہیم کو پسند کرتی ہوں”
انابیہ نے فوراً کہا
نوریض کو مانو جھٹکا لگا۔۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا
..
“یہ گاڑی میں نے لی تھی تو آپ کیسے کسی اور کو دے سکتے ہیں؟”
ایدہ کو غصہ آنے لگا تھا
“دیکھیں میم آپ کوئی اور گاڑی لے لیں۔۔۔وہ ہم بیچ چکے ہیں”
سامنے کھڑے شخص نے ادب سے کہا
“ایسے کیسے بیچ دی۔۔۔یہ کوئی طریقہ نہیں ہوا۔۔۔۔مجھے وہی گاڑی چاہیے”
ایدہ بضد تھی
“وہ تو نہیں مل سکتی مس ایدہ رئیسی”
پیچھے سے آنے والی آواز پر وہ پلٹی
سامنے سے نوریض چلتا اس کے قریب آیا۔۔۔
چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
“نوریض۔۔۔۔”
ایدہ نے بے اختیار کہا
“ہاں۔۔۔میں نے ہی تو گاڑی خریدی ہے۔۔۔۔”
نوریض نے اطمینان سے بتایا
“تم جان بوجھ کر کر رہے ہو نا سب۔۔۔۔؟ “
ایدہ نے پوچھا
“ہاں۔۔۔۔”نوریض نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے لاپرواہی سے جواب دیا
“تم بہت غلط کر رہے ہو نوریض۔۔۔۔ہم دوست ہیں”
ایدہ نے اسے احساس دلانا چاہا
“اوہ تم تو یہ بات چار سال پہلے ہی بھول چکی ہو۔۔۔۔”
نوریض نے یاد دہانی کروائی
“نوریض کیا تم بھول نہیں سکتے سب۔۔۔۔ہم پھر سے دوست نہیں بن سکتے۔۔۔۔؟”
ایدہ نے ٹھنڈے لہجے میں کہا
“دوست ہی تو ہوں۔۔۔جیسی تم تھی چار سال پہلے۔۔۔۔۔”
نوریض مسکرایا
ایدہ نے خاموشی سے اسے دیکھا۔۔۔۔
“اب تو دیکھتی جاؤ تم میں کیسے تم سے اور تمہارے بھائی سے اپنا حساب چکتا کرتا ہوں”
نوریض بے رخی سے کہتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
..
کامی یہ نوریض حد سے زیادہ بڑھ رہا ہے ہے کچھ کر اس کا”
ایدہ نے کہا
“نہیں۔۔۔۔یہ سب نوریض نہیں کر رہا۔۔۔نوریض کر ہی نہیں سکتا۔۔۔۔اس سب کے پیچھے کوئی اور ہے”
کمیل نے سوچتے ہوئے کہا
“کون؟” وہ چونکی۔۔۔۔
“ابراہیم قریشی۔۔۔۔۔”
وہ دماغ پر زور دیتا کہنے لگا ۔۔۔
“ایبو؟ نہیں۔۔۔ایبو ایسا کیوں کرے گا۔۔۔وہ تو ہمارے ساتھ ہے۔۔۔۔”
ایدہ نے ناسمجھی سے کہا
“نہیں۔۔۔۔۔نوریض ہم سب دوستوں میں سب سے شریف رہا ہے۔۔۔ہمیشہ۔۔۔۔اس کے پاس اتنا دماغ ہے ہی نہیں۔۔۔۔”
کمیل نے پر یقین لہجے میں کہا
“مگر ایبو کا تو ہم نے کچھ نہیں بگاڑا۔۔۔الٹا اس دن منہا اور نوریض کو کڈنیپ کروا کر ہم نے اس کا فائدہ ہی کیا ہے۔۔۔۔اسے منہا مل گئی۔۔۔۔اسے ہمارا شکر گزار ہونا چاہیے”
ایدہ نے احسان گنوانا چاہا۔۔۔۔
“اتنی ہی تو عقل ہے تیرے اندر۔۔۔۔۔وہ کوئی منہا کا عاشق نہیں تھا جو ہمارے پلان پر ہمیں داد دیگا۔۔۔۔اس نے مجبوری میں شادی کی تھی ۔۔۔۔اور یہ بھی ہوسکتا ہے وہ آج بھی منہا سے محبت کرتا ہی نہ ہو”
کمیل ے اندازہ لگایا
“نہیں بھی کرتا پھر بھی اس کی ہم سے دشمنی بنتی نہیں۔۔۔۔اور چلو ہم نے نوریض اور منہا کو کڈنیپ کروایا میں نے دھوکے سے آرب سے شادی کی۔۔۔۔تو ہمیں سزا دے نا۔۔۔وہ آرب کے پیچھے کیوں پڑے ہیں۔۔۔۔؟”
ایدہ نے غصے سے کہا
“وہ آرب کے نہیں تیرے پیچھے پڑے ہیں آرب کو تکلیف ہوگی تو تجھے تکلیف ہوگی۔۔۔۔۔”
کمیل نے تلخی سے کہا۔۔۔۔
میں ان کی جان لے لوں گی کامی اگر انہوں نے میرے آرب کو کچھ بھی کیا تو۔۔۔۔میں نے بہت مشکلوں سے اسے حاصل کیا ہے۔۔۔میں اسے کھونا نہیں چاہتی۔۔۔”
ایدہ نے پریشانی اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے کہا۔۔۔۔
مگر دروازے پر کھڑے آرب کے چہرے سے اندازہ لگانا مشکل تھا کہ وہ غصے میں ہے ،پریشانی میں، یا پھر پچھتاوے میں۔۔۔۔۔وہ ساکت کھڑا تھا۔۔۔۔
وقت بہت نکل گیا تھا۔۔۔۔۔بہت آگے۔۔۔۔
..
وہ سفید کاٹن کے سوٹ میں اس کے پیچھے آکھڑا ہوا۔۔۔۔
منہا آئینے میں اسے دیکھ مسکرائی۔۔۔
“ویسے اچھے لگ رہے ہو”
منہا نے مسکرا کر کہا
وہ جو گھڑی باندھ رہا تھا اس کی بات پر سر اٹھا کر سامنے دیکھا۔۔۔۔
“مجھے نہیں یاد میں نے لاسٹ ٹائم کب شلوار قمیض پہنی تھی۔۔۔۔مجھے لگتا ہے مجھ پر سوٹ نہیں کرتی ایسی ڈریسنگ”
اس نے تفصیل سے بتایا۔۔۔
وہ شاید آج بھی نہ پہنتا اگر منہا نے زور نہ دیا ہوتا۔۔۔
“پہنا کرو۔۔۔۔اچھے لگتے ہو۔۔۔۔”
منہا نے بال بناتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ابراہیم کی نظر اس کے کمر پر بکھرے بالوں میں اٹک گئی تھی۔۔۔۔
اس کے بال ہمیشہ ابراہیم کو ایکٹریکٹ کرتے تھے۔۔۔۔
وہ چلتا اس کے قریب گیا۔۔۔۔
“مایو زیمل کا ہے تمہارا نہیں”
اس نے اس کے زرد رنگ کے ڈریس کو دیکھ کر طنزیہ کہا۔۔۔۔
“میرا تو ہوا ہی نہیں۔۔۔۔نہ مہندی نا مایو۔۔۔اور نہ ہی بارات۔۔۔۔۔”
اس نے مایوسی سے کہا۔۔۔۔
“تو سوچا زیمل پر ہی یہ پیلا رنگ پہن لوں۔۔۔۔۔”
وہ افسردگی چھپائے مسکرائی۔۔۔۔
ابراہیم خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
وہ مسکرا نہیں سکا تھا۔۔۔۔
“ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔یہ لو بال بناؤ میرے”
منہا نے ہاتھ میں پکڑا کنگھا اس کی جانب بڑھایا۔۔۔۔
ابراہیم نے خاموشی سے تھام لیا۔۔۔۔
پھر خاموشی سے اس کی پشت پر کھڑا بال بنانے لگا۔۔۔۔
“پن لگاؤ”
اس نے پن دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“ویسے دنیا کے سارے مرد یہ کام کرتے ہیں۔۔۔۔یا میں ہی زن مریدی کی لسٹ میں اول آؤں گا؟”
ابراہیم نے منہ بناتے پوچھا۔۔۔۔
“سب کا تو نہیں پتا۔۔۔۔مگر میرا ایبو سب سے الگ ہے”
منہا نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔
“مکھن لگا رہی ہو؟”
ابراہیم نے ہنسی دبائے پوچھا۔۔۔۔
“مکھن نہیں ابٹن۔۔۔۔”
منہا نے پاس رکھے باؤل سے ابٹن اٹھا کر انگلی کی مدد سے اس کے گال پر لگایا۔۔۔۔
ابراہیم نے اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا۔۔۔۔
پھر سامنے کھڑی منہا کو۔۔۔۔جو ہاتھ میں باول لیے باہر کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
..
“مام۔۔۔ہم سے غلطی ہوگئی”
آرب نے سارہ بیگم کی گود میں سر رکھتے ہوئے کہا
“مجھے تو یقین نہیں آرہا یہ ایدہ اس حد تک گر سکتی ہے۔۔۔۔اس نے مجھے دھوکہ دیا ہے”
سارہ بیگم نے کہا
“میں نے منہا پر یقین نہیں کیا تھا مام۔۔۔میں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔میں بہت برا ہوں مام”
اس کی آنکھوں میں آنسوں بھر آئے تھے۔۔۔
“تمہارا کوئی قصور نہیں تھا آرب۔۔۔اس جگہ اگر کوئی اور ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا”
سارہ بیگم نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔۔
لیکن مجھے منہا پر یقین کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔مجھے نوریض پر یقین کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔ہم تو دوست بھی تھے نا۔۔۔۔میں نے دوستی میں اعتبار نہیں کیا مام۔۔۔۔میں نے اپنے دوستوں کو کھو دیا مام۔۔۔۔”
آرب کسی بچے کی طرح رو رہا تھا۔۔۔۔
سارہ بیگم سے اس کے آنسوں دیکھے نہیں جارہے تھے۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگی تھی۔۔۔۔
انہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنا اور اپنے بیٹے کا سکون برباد کیا تھا۔۔۔۔
..
سب رسم کر رہے تھے۔۔۔۔زیمل پیلے رنگ میں سادی سی دلہن بنی بیٹھی تھی۔۔۔۔۔
ابراہیم کی نظریں زیمل پر ہی تھی۔۔۔۔
منہا نے اس کی نظروں کے تعاقب میں زیمل کو دیکھا۔۔۔۔
جو نظریں جھکائے بیٹھی کسی پری سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔
“زیمل پیاری لگ رہی ہے نا؟”
منہا نے ابراہیم کی جانب دیکھا
“بہت۔۔۔۔ماشااللہ۔۔۔”
ابراہیم سامنے دیکھ مسکرایا
منہا نے اس کی آنکھوں میں اداسی کو بھانپ لیا تھا
“زیمل بڑی ہوگئی ہے۔۔۔یہ احساس آج ہوا ہے مجھے۔۔۔۔”
ابراہیم ہلکے سے مسکرایا
“بہنیں بھائیوں کے لیے کبھی بڑی نہیں ہوتی۔۔۔۔”
منہا نے کہا
“مگر زیمل بڑی ہوگئی ہے۔۔۔۔کل اس کی شادی ہے۔۔۔وہ ہم سے دور چلی جائے گی۔۔۔۔پتا ہے یہ کبھی کالج بھی اکیلی نہیں گئی۔۔۔۔اتنی ڈرپوک ہے”
ابراہیم بے اختیار ہی ہنسا تھا۔۔۔
“ڈرپوک تو میں بھی تھی۔۔۔۔مگر تم نے مجھے بہادر بنا دیا۔۔۔۔سب کا سامنا کرنا سکھا دیا۔۔۔۔حالات سے لڑنا سکھا دیا۔۔۔۔ہمسفر اچھا ہو تو زندگی بہت آسان ہوجاتی ہے ایبو”
منہا کی نظریں اس کے چہرے پر تھی
ابراہیم نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔۔
جہاں عجیب سی کشش تھی
“میری دعا ہے صرف زیمل کو ہی نہیں ہر لڑکی کو تم جیسا لائف پارٹنر ملے۔۔۔۔۔”
اس نے خوش دلی کہا۔۔۔۔
“آج لگ رہا ہے میرے کان کچھ زیادہ ہی اونچا سن رہے ہیں۔۔۔۔کوئی میری تعریف کر رہا ہے اور مجھے یقین نہیں آرہا”
ابراہیم نے ہنسی روکی
“دیکھ لو تعریف کردی۔۔۔لاؤ پیسے دو اب تعریف کروائی ہے تو”
منہا نے شرارت سے ہاتھ آگے کیا۔۔۔۔
“پیسے نہیں میں تمہیں گفٹ دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔روم میں ہے جا کر لے لو”
ابراہیم نے مسکراہٹ دبائی
“سچ میں؟”منہا نے حیرانی سے دیکھا۔۔۔
ابراہیم نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
..
“وہ لوگ ابھی جانتے نہیں ہیں مجھے۔۔۔۔۔”
کمیل نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
“کیا کرو گے تم؟”
ایدہ نے سوال کیا
“بس تم دیکھتی جاؤ۔۔۔”
کمیل کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگا
“ہممم۔۔۔۔وہ انابیہ کا کیا رہا۔۔۔مان گئی؟”
ایدہ کو جیسے یاد آیا
“مان جائے گی۔۔۔کوئی آپشن نہیں اس کے پاس”
کمیل نے وحشیانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ایدہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
..
“تم اب تک تیار نہیں ہوئی مام بلا رہی ہیں”
وہ کہتے ہوئے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔
وہ ہاتھوں میں ایئر رنگز تھامے کھڑی تھی۔۔۔۔۔
“میں تیار ہوں بس جیولری پہن رہی ہوں”
منہا نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا
“مجھے دکھاؤ”
ابراہیم نے اس کے ہاتھ سے ایئر رنگز لے کر پہنانا شروع کیا۔۔۔۔
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔
اور عظمیٰ بیگم اندر داخل ہوئی۔۔۔۔
“کتنی دیر کردی آپ لوگوں نے”
اعظمی بیگم نے انہیں دیکھ کہا۔۔۔۔
پھر سامنے کا منظر دیکھ خود ہی شرمندہ ہوئی۔۔۔۔
“بس آ ہی رہے تھے چچی۔۔۔۔”
ابراہیم ہڑبڑا کر پیچھے ہوا۔۔۔۔
“اچھا وہ میں یہ کہ رہی تھی کوئی لڑکی آئی ہے”
انہوں نے آنے کی وجہ بتائی
“لڑکی؟”
وہ دونوں چونکے۔۔۔
“ہاں۔۔۔براہیم کا پوچھ رہی ہے ۔۔۔۔”
انہوں نے تفصیل دی
“رتبہ اور نوریض ہوں گے۔۔۔میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔”
ابراہیم کہتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
“آپ بھی آجاؤ بیٹا جلدی۔۔۔آپ کے گھر والے بھی آگئے ہیں”
انہوں نے منہا کی جانب دیکھ نرمی سے کہا اور باہر نکل گئی۔۔۔۔
..
(چار سال پہلے میں نے اپنے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹی تھی)
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا
برابر میں بیٹھی ایدہ لیب ٹاپ پر کام کر رہی تھی۔۔۔
اسے برداشت کرنا اسے بہت مشکل لگ رہا تھا۔۔۔۔
(کسی نے میرا اعتبار نہیں کیا تھا)
اس کے کانوں میں آواز گونجی۔۔۔۔
“وہ بہت روئی تھی منت کی تھی مگر اس کی بات نہیں سنی۔۔۔۔”
وہ دل ہی دل میں کہنے لگا۔۔۔۔
اس کا سر درد سے پھٹا جارہا تھا۔۔۔۔
“وہ لوگ کچھ غلط نہیں کر رہے میرے ساتھ۔۔۔۔میں اس سے بھی زیادہ بری سزا ڈیزرو کرتا ہوں۔۔۔۔”
وہ آنکھیں موندے سوچنے لگا۔۔۔۔
“آبی۔۔۔۔آبی”
ایدہ کے پکارنے پر اس نے آنکھیں کھولی
“مجھے تو ڈیزائنز چیک کرنے ہیں پھر اپروو بھی کرنے ہیں۔۔۔۔تم کیوں جاگ رہے ہو۔۔۔۔سوجاؤ”
ایدہ نے ہاتھ بڑھا کر اس کے گال کو چھوا۔۔۔۔
آرب کا دل کیا اس کا ہاتھ جھٹک دے۔۔۔۔
اسے اس وقت وہ بہت زہر لگ رہی تھی۔۔۔۔
مگر وہ کوئی ریئکش دینے سے پہلے اپنے ان دوستوں سے معافی مانگنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔
اپنے روٹھے دوستوں کو منانا چاہتا تھا۔۔۔۔
اس کا بیٹا چھوڑا تھا۔۔۔۔اسے سوچنے کے لیے وقت چاہیے تھے۔۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔۔
..
“ایک بات ہے زیمل لگ بہت پیاری رہی تھی۔۔۔۔”
رخصتی کے بعد وہ مہمانوں سے فارغ ہوتے ہی وہ لوگ کمرے میں آگئے تھے۔۔۔
رات کے چار بج رہے تھے۔۔۔۔اور وہ دونوں ہی بہت تھک گئے تھے۔۔۔۔
آرام کرنے کا ٹائم ہی نہیں مل پارہا تھا۔۔۔۔
“بابا نے کیوں بلایا تھا؟”
منہا نے پوچھا۔۔۔۔
“کچھ نہیں بس وہ بابا کہ رہے تھے کہ کراچی سے واپس آجاؤ۔۔۔۔”
ابراہیم نے تکیہ سر کے نیچے رکھتے لیٹتے ہوئے کہا۔۔۔
اس سے اب مزید بیٹھا نہیں جارہا تھا
“واپس کیوں؟”
منہا نے پوچھا
“زیمل کی بھی شادی ہوگئی۔۔۔۔ہم۔دونوں کراچی ہوں گے تو گھر تو خالی ہوگا نا۔۔۔۔”
ابراہیم نے وجہ بتائی
“ہاں۔۔۔واقع۔۔۔۔تو ہم یہیں رہتے ہیں نا۔۔۔۔۔”
منہا نے کہا
“پتا ہے چچی کیا کہ رہی تھی؟” منہا نے اداسی سے کہا
“کیا؟” وہ اس کا ہاتھ تھامے پوچھنے لگا۔۔۔۔
“وہ کہ رہی تھی شادی سے فارغ ہوکر ڈاکٹر کے پاس چلنا۔۔۔۔”
منہا نے افسردگی سے کہا
“ڈاکٹر کے پاس کیوں؟” وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگا
“ایبو ہماری شادی کو چار سال سے زیادہ ہوگئے۔۔۔۔اور گھر والے بھی اب چاہتے ہیں کہ ان کے اکلوتے بیٹے کی بھی اولاد ہو۔۔۔۔۔”
منہا نے اس کے سینے پر سر رکھتے ہوئے تفصیل سے بتایا
“تم کیا چاہتی ہو؟”
ابراہیم نے اس کے سلکی بالوں میں انگلیاں ڈالتے ہوئے سوال کیا
“مجھے لگتا ہے مجھے جانا چاہیے”
منہا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
وہ مسکرایا۔۔۔۔
“تو پھر جیسے تمہیں ٹھیک لگتا ہے ویسا ہی کرلینا۔۔۔۔”
وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے نرمی سے مسکرا دیا۔۔۔۔
منہا بھی اس کی بات پر مسکرا دی۔۔۔۔
..
وہ سورہے تھے جب دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔
منہا نے سر اٹھا کر ابراہیم کو دیکھا۔۔۔۔
وہ بھی جاگ گیا تھا۔۔۔۔
ابراہیم نے گھڑی دیکھی۔۔۔۔
پھر کمبل ہٹاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
“ابراہیم باہر آئیں۔۔۔جلدی۔۔۔۔باہر پولیس آئی ہے۔۔۔۔”
سونیا بیگم نے گھبراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“پولیس کیوں؟”
ابراہیم چونکا
“آپ نے کیا کیا ہے ابراہیم۔۔۔۔کیوں آئی ہے پولیس؟”
سونیا بیگم الٹ اس سے سوال کرنے لگی۔۔۔
منہا گھبراتی ان تک آئی۔۔۔۔
“میں نے کچھ نہیں کیا مام۔۔۔۔۔آپ گھبرائیں نہیں۔۔۔کچھ نہیں ہوگا”
ابراہیم نے آگے بڑھ کر انہیں خود سے لگایا۔۔۔۔
“مگر پولیس کیوں آئی ہے ایبو۔۔۔۔۔؟” منہا نے پریشانی سے پوچھا
“میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔۔”
وہ کہتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
سر ہم ابراہیم کو اریسٹ کرنے آئے ہیں۔۔”
پولیس والے نے ادب سے کہا
“کس جرم میں۔۔۔۔۔؟” فرقان صاحب نے پوچھا۔۔۔
“سر ان کے خلاف رپوٹ ہے کہ کل سے ایک لڑکی مسنگ ہے۔۔۔انابیہ نام کی۔۔۔۔اور آخری بار وہ ابراہیم سے ملنے آئی تھی”
انہوں نے تفصیل دی
“تو ملنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ میرے بیٹے نے کڈنیپ کیا ہے اسے۔۔۔۔۔”
فرقان صاحب نے تلخ لہجے میں سوال کیا
“کوئی وارنٹ ہے۔۔۔۔نہیں نا۔۔۔تو وارنٹ لے کر آؤ۔۔۔۔”
فرقان صاحب نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
پولیس والے فرقان صاحب سے بات چیت کر رہے تھے جب تک ابراہیم آیا وہ لوگ جا چکے تھے۔۔۔۔۔
