Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 15)

Blind Friends By Isra Rao

“بیٹا کوئی پرابلم تو نہیں ہے آپ کو؟”

فرقان صاحب نے اس کی سوجی آنکھیں دیکھ پوچھا۔۔۔۔

“جی۔۔۔نن۔۔نہیں۔۔۔۔”

منہا نے ہلکے سے مسکرا کر نفی میں سر ہلایا

اس کی تو ہر رات ہی رو کر گزرا کرتی تھی وہ کسی کو کیا بتاتی۔۔۔۔

“کسی بھی چیز کی ضرورت ہو۔۔۔۔آپ کسی سے بھی کہ سکتی ہیں۔۔۔آپ ہماری بیٹی ہیں۔۔۔۔”

انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

اور اٹھ کر چلے گئے۔۔۔۔

منہا ان کی شفقت دیکھ مسکرا دی۔۔۔۔

“ناشتہ کریں منہا۔۔۔۔۔”

عظمیٰ بیگم نے اس کی پلیٹ میں پراٹھا اور آملیٹ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“میں مہمان نہیں ہوں آنٹی۔۔۔میں لے لوں گی آپ بیٹھ جائیں۔۔۔”

اس نے مسکرا کر کہا۔۔۔

وہ لوگ اس سے کتنی محبت کرتے تھے۔۔۔منہا کو اپنا آپ کم تر لگنے لگا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

(ہاں میں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔۔۔اس کا اور میرا اب کوئی تعلق نہیں)

وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔۔

“کیوں وہ میرے دماغ سے نہیں نکلتی۔۔۔۔۔؟”

وہ سوچنے لگا

“کیا میں ایدہ کے ساتھ زیادتی نہیں کررہا؟”

وہ برابر میں سوئی ایدہ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔

جو آنکھیں موندے نیند کی وادیوں میں گم تھی۔۔۔

“تمہیں بھولنا ہوگا آرب۔۔۔اب جو بھی ہے بس یہی ہے”

وہ اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

مگر کتنا مشکل ہوتا ہے نا محبت کو بھلانا۔۔۔اور کسی کو اپنانا۔۔۔۔آرب کو بھی یہ دنیا کا سب سے مشکل کام لگ رہا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

سبز رنگ کے سادہ سے جوڑے میں سلکی بالوں کی پونی بنائے۔۔۔۔وہ لان میں کرسی پر بیٹھی تھی۔۔۔۔

“بھابھی۔۔۔بھابھی۔۔۔۔۔یہ لیں۔۔۔۔”

زیمل اس کے پاس بھاگتی ہوئی آئی۔۔۔۔

اس کے ہاتھ میں موبائل تھا۔۔۔۔

“کیا ہے یہ”

وہ چونک کر اس کے موبائل کو دیکھنے لگی۔۔۔۔

اسکرین پر ابراہیم کی شکل دیکھ وہ مسکرائی۔۔۔۔

اور سمجھتے ہوئے ہاتھ ہلایا

“تم یہ کیا کر رہی ہو؟”

وہ پوچھنے لگا

“فروٹ کاٹ رہی ہوں”

وہ مصروفیت سے کہنے لگی

“ارے واہ۔۔۔۔کام کرتی ہوئی تم کتنی اچھی لگتی ہو”

ابراہیم نے اسے چھیڑا اور منہا نے اسے گھورا۔۔۔۔

زیمل جو پاس کھڑی تھی زور سے ہنس دی۔۔۔۔

بائے۔۔۔۔”

منہا نے کال کاٹ کر زیمل کو دیکھا۔۔۔۔

“کال کیوں کاٹ دی۔۔۔۔بھابھی۔۔۔”

وہ منہ بنائے پوچھنے لگی

“تو کیا اس فضول آدمی کی بیکار سی باتیں سنتی”

منہا نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا

“جی نہیں۔۔۔۔میرا بھائی فضول تو نہیں”

وہ خفگی سے کہنے لگی

“مطلب تم مانتی ہو کہ وہ فضول نہیں مگر باتیں تو بیکار ہی کرتا ہے”

منہا نے فروٹ کاٹتے ہوئے کہا

“ہاں کبھی کبھی۔۔۔وہ مجھے بھی بہت تنگ کرتے ہیں”

زیمل کو جیسے یاد آیا

“منہا بیٹا۔۔۔۔۔کٹ گئے فروٹ؟”سونیا بیگم وہاں آئی

“جی کاٹ دیے ہیں۔۔۔۔۔”

وہ مسکرائی

“اچھا یہ رکھ لو۔۔۔۔”

انہوں نے کچھ پیسے اس کی جانب بڑھائے

“یہ کیا ہے آنٹی؟”

وہ پوچھنے لگی

“پیسے ہیں۔۔۔۔تمہارے انکل نے دیے تھے۔۔۔۔۔”

وہ بتانے لگی

“نہیں مجھے نہیں چاہیے۔۔۔۔۔”

وہ شرمندہ ہوئی

“کیوں نہیں چاہیے۔۔۔۔؟ سب کو چاہیے ہوتے ہیں۔۔۔۔رکھ لو۔۔۔۔ضرورت پڑ سکتی ہے”

انہوں نے زبردستی دیے

“میری ضرورتیں تو آپ لوگ پوری کردیتے ہیں۔۔۔۔”

وہ سر جھکائے کہنے لگی

“پھر بھی خرچی سب کو ملتی ہے۔۔۔تمہارا بھی حق ہے۔۔۔اور ضرورت ہو تو مجھے بتا دینا”

وہ محبت سے کہتی اس کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگی

منہا کی آنکھوں میں جانے کیوں نمی اتر آئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ہیلو…. نوریض”

تین کالز کے بعد رسیو ہوتے ہی منہا نے بے چینی سے کہا

“ہیلو۔۔۔۔آپ کون؟”

دوسری طرف کوئی لڑکی کی آواز ابھری

“یہ نوریض کا نمبر ہے؟”

منہا نے کنفرم کرنا چاہا

“جی۔۔۔۔آپ کون؟”

وہ پھر سے پوچھنے لگی

“منہا۔۔۔۔۔مجھے نوریض سے بات کرنی تھی۔۔۔۔”

منہا کنفیوز ہوئی

“اوہ۔۔۔منہا۔۔۔کیسی ہو آپ۔۔۔۔؟”

وہ خوش دلی سے پوچھنے لگی

“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔آپ؟”

وہ پوچھنے لگی

“رتبہ۔۔۔۔۔نوریض کی وائف”

اس نے اپنا تعارف کروایا

“اوہ۔۔۔ایم سو سوری۔۔۔۔میں نے پہنچانا نہیں۔۔۔۔بائے دی وے کانگریٹس۔۔۔۔”

منہا نے شرمندگی سے معذرت کی

“کس چیز کی مبارک باد دے رہی ہیں۔۔۔شادی کی یا گڈ نیوز کی؟”

وہ خوش دلی سے پوچھنے لگی۔۔۔

“ایم سو سوری ہم آ نہیں شادی پر۔۔۔مگر سن کر بہت خوشی ہوئی کہ آپ کو مزید خوشیاں ملنے والی ہیں۔۔۔۔”

منہا نے اخلاق سے اسے دعا دی

“نوریض منہا کی کال ہے”

رتبہ نے باتھروم سے نکلتے نوریض کو دیکھ اس کی جانب فون بڑھایا۔۔۔

وہ حیران ہوا۔۔۔۔

پھر جھجکتے ہوئے فون تھام لیا اور کان سے لگایا

“ہیلو۔۔”

نوریض نے مختصر کہا

“کیسے ہو نوریض ؟”

منہا کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔

نوریض کی آنکھوں میں جانے کیوں نمی تیر آئی

“ٹھیک ہوں۔۔۔تم کیسی ہو؟”

وہ پوچھنے لگا

“ٹھیک ہوں۔۔۔مجھے تمہاری ہیلپ چاہیے؟”

وہ یک دم کہنے لگی۔۔۔

وہ حیرت سے فون کو دیکھنے لگا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“آج میری ایک دوست آئے گی بیٹا۔۔۔۔تم سے ملنے۔۔۔وہ شادی پر نہیں آسکی تھی نا”

سارہ بیگم نے ایدہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

“سوری آنٹی۔۔۔۔میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔”

ایدہ نے اکتا کر کہا

“مگر وہ تم سے ملنے آرہی ہے ایدہ۔۔۔۔”

سارہ بیگم نے تلخی سے جتایا

“تو آپ معذرت کر لینا۔۔۔آپ نے مجھ سے پوچھ کر نہیں بلایا آنٹی”

ایدہ نے اکٹاہٹ بھرے لہجے میں کہا اور ٹیبل سے سیل فون اٹھاتی اپنے روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

“کتنی خود سر ہے یہ۔۔۔۔۔”

وہ بڑ بڑائی۔۔۔۔

تبھی آرب کی گاڑی کی آواز آئی۔۔۔۔

سارہ بیگم وہیں رک کر اس کا ویٹ کرنے لگی۔۔۔

“اسلام وعلیکم”

وہ اندر آتے ہی انہیں دیکھ سلام کرتا صوفے پر بیٹھا

“وعلیکم السلام۔۔۔۔”

انہوں نے پھولے منہ سے کہا

“کیا ہوا ہے؟ خیریت؟”

وہ ان کا موڈ آف دیکھ پوچھنے لگا

“خیریت ہوسکتی ہے تمہاری بیوی کے ہوتے۔۔۔”

وہ الٹ پوچھنے لگی

“اب کیا ہوا؟”

وہ پوچھنے لگا

اور سارہ بیگم نے پوری تفصیل دی۔۔۔۔

“میں بات کرتا ہوں۔۔۔”

آرب نے اٹھ کر انہیں خود سے لگاتے ہوئے کہا

“وہ بہت بدتمیز ہوگئی ہے۔۔۔۔مجھے تو کچھ سمجھتی ہی نہیں”

وہ غصے میں تھی۔۔۔۔

“اچھا نا غصہ نہیں کریں میں کرتا ہوں بات”

وہ انہیں پیار کرتا کہنے لگا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“وہ اس وقت جیل میں ہے۔۔۔۔”

نوریض نے بتایا

“جیل میں؟” وہ چونکی

“ہاں۔۔۔۔کچھ دن پہلے ایک آفیسر کے بیٹے پر فائر کیا تھا اس نے۔۔۔۔کیس چل رہا ہے۔۔۔۔۔”

نوریض نے تفصیل دی

“مجھے اس سے ملنا ہے”

منہا نے فوراً کہا

“ملنا ہے؟ منہا ایبو کو پتا۔۔۔۔۔”

وہ کچھ کہنے لگا تھا کہ منہا نے بات کاٹی

“اسے کچھ مت بتانا یہ بات صرف ہم دونوں میں رہے گی۔۔۔۔میرا اس سے ملنا بہت ضروری ہے نوریض صرف ایک بار میری مدد کردو”

منہا نے منت کی

“مگر کیا یہ صحیح ہوگا؟”

وہ پوچھنے لگا

“ہاں۔۔۔۔میری زندگی میں کچھ سوال ہیں جن کا جواب صرف وہی دے سکتا ہے”

منہا نے افسردگی سے کہا

نوریض خاموشی سے سن رہا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“تم نے مام کو ہرٹ کیا ہے ایدہ”

آرب نے سنجیدگی سے کہا

“میں نے کوئی ہرٹ نہیں کیا۔۔۔۔میں نے بس اتنا کہا ہے میری طبیعت ٹھیک نہیں۔۔۔۔”

ایدہ نے بے رخی سے کہا

“تو ملنے میں کتنی دیر لگتی ہے۔۔۔۔کیا بگڑ جائے گا اگر تم مل لو گی”

آرب نے تلخی سے پوچھا

“مجھے نہیں ملنا۔۔۔۔اور وہ مجھ پر زبردستی نہیں کرسکتی۔۔۔۔”

ایدہ نے غصے سے کہا

“کسی نے کوئی زبردستی نہیں کی ہے۔۔۔۔تم ہو ہی بدتمیز۔۔۔۔اسی لہجے میں تم نے مام سے بھی بات کی ہوگی”

وہ غصے سے کہنے لگا

“ہاں کی ہے۔۔۔وہ تو جیسے بہت اچھی ہیں۔۔۔۔انہوں نے تمہیں بھڑکا کر نہیں بھیجا؟”

ایدہ غصے سے پوچھنے لگی۔۔۔۔

“انہوں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔تم سب کو اپنے جیسا ہی سمجھتی ہو۔۔۔بدتمیز۔۔۔۔۔”

آرب نے چلا کر کہا

“ہاں اپنی ماں کے بارے میں کیا خیال ہے تمہارا۔۔۔۔۔وہ تو جیسے بہت نیک پروین ہیں۔۔۔۔۔ڈپلومیٹک عورت ہیں وہ۔۔۔۔اور”

ایدہ غصے میں بولتی چلی جارہی تھی جب آرب کے تھپڑ نے اسے چپ ہونے پر مجبور کیا

“خبردار جو میری مام کے بارے میں ایک اور لفظ کہا”

وہ غصے سے غرایا

ایدہ کی آنکھ سے آنسوں گرے۔۔۔۔

مگر مزید کچھ کہنے کے بجائے ٹیبل سے اپنا پرس اور سیل فون اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

“جارہی ہوں اپنے ڈیڈ کے گھر۔۔۔خوش ہوجائیں آپ۔۔۔۔یہی تو چاہتی تھی نا آپ۔۔۔۔”

ایدہ نے بھیگی آنکھوں سے لان میں کھڑی سارہ بیگم کو کہا۔۔۔۔

“ایدہ۔۔۔۔رکو۔۔۔”

انہوں نے فوراً اسے روکنا چاہا

“نہیں۔۔۔اب میں نہیں آؤں گی واپس۔۔۔۔ہم دونوں میں جھگڑا کروا کر سکون مل گیا نا آپ کو۔۔۔۔۔اب آپ اور آپ کا بیٹا رہیں سکون سے”

وہ کہتی تیز قدم بڑھاتی باہر نکل گئی

اور سارہ بیگم پریشان سی اسے جاتا دیکھنے لگی

❤️❤️❤️❤️❤️..

“میں تمہیں کالج ہمیشہ سے پسند کرتا تھا مگر تم نے اس آرب کو چن لیا”

باسل نے غصے سے کہا

“تو تم نے بدلہ لینے کے لیے ہمیں اغواہ کرلیا؟”

نوریض نے تلخ لہجے میں کہا

“ہاں۔۔۔۔۔” اس نے منہ پھیرا

“تم نے یہ کس کے کہنے پر کیا باسل؟”

منہا نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

“میں نے اپنی مرضی سے کیا تھا”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔۔

“نا بتا دو باسل”

منہا نے منت کی۔۔۔

نوریض منہا کو ناسمجھی سے دیکھنے لگا۔۔۔

“میں نے کہا نا۔۔۔میں نے۔۔۔۔”

وہ اپنی بات پوری کرتا مگر منہا نے ایک بریسلیٹ اس کے چہرے کے سامنے کیا۔۔۔

وہ خاموش ہوا۔۔۔۔

“یہ بریسلیٹ تمہارا نہیں تھا۔۔۔۔یہ اس شخص کا تھا جس نے اس دن مجھے بچانے آیا تھا۔۔۔۔۔جس کے کہنے پر تم نے وہ سب کیا تھا…نام بتا دو باسل”

منہا نے بھیگی آنکھوں سے کہا

وہ لمحہ بھر خاموش رہا

“باسل مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں۔۔۔نا ہی میں نے کبھی کسی کو تمہارا نام بتایا۔۔۔۔بس مجھے نام بتا دو جس نے میری زندگی خراب کردی۔۔۔۔۔بتاؤ باسل۔۔۔۔”

وہ منت کرنے لگی

وہ خاموش تھا۔۔۔۔

“بتا دو باسل یہ میرے جڑے ہاتھ دیکھ لو۔۔۔میں تمہارا نام نہیں لوں گی وعدہ رہا۔۔۔بس مجھے بتا دو تاکہ مجھے سکون آجائے۔۔۔بتادو میں نے کس پر اندھا اعتبار کیا تھا۔۔۔۔بتا دو باسل۔۔۔آرب یا کمیل۔۔۔۔بتاؤ باسل”

وہ روتے ہوئے منت کرنے لگی

“ایدہ۔۔۔۔۔” باسل پر اس پر ترس آیا

نام سنتے ہی نوریض اور منہا نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔

“تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔۔وہ آرب تھا۔۔۔۔۔”

منہا نے تصحیح کی

“نہیں۔۔۔۔مجھے ایدہ نے یہ کرنے کو کہا تھا۔۔۔کیوں کہ وہ آرب سے محبت کرتی تھی۔۔۔اور میری آرب سے دشمنی تھی۔۔۔تم مجھے ملی یا نہیں۔۔۔۔مگر آرب کی نہیں ہوسکی۔۔۔۔اس بات کی خوشی ہے”

باسل نے حقارت سے کہا

مگر جو اس دن مجھے بچانے آیا تھا۔۔۔۔وہ”

منہا الجھی

“وہ بھی ایدہ کا بھیجا ہوا کوئی بندہ تھا جسے میں دیکھ نہیں سکا تھا۔۔۔۔”

وہ صفائی دینے لگا

منہا خاموشی سے جانے کے لیے پلٹی۔۔۔۔

نوریض بھی جانے لگا

“تم سب دوست واقع اندھے تھے۔۔۔۔جو ایک دوسرے کا اصل روپ نہیں دیکھ سکے تھے۔۔۔۔”

باسل نے بلد آواز میں کہا۔۔۔۔

اور وہ جملہ کڑوا ضرور تھا مگر سچ تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“تم نے ہاتھ کیوں اٹھایا اس پر؟”

سارہ بیگم نے پوچھا

“وہ بدتمیزی کر رہی تھی”

آرب نے فوراً صفائی دی

“تو تم نے ہاتھ اٹھایا۔۔۔پتا بھی ہے اس کے فادر کتنے پہنچ والے ہیں۔۔۔”

وہ پریشان ہوئی

“میں نہیں ڈرتا”

وہ لاپرواہی سے کہنے لگا

“پھر بھی تمہیں مارنا نہیں چاہیے تھا۔۔۔وہ ناراض ہوکر گئی ہے۔۔۔واپس نہ آئی تو؟”

وہ پوچھنے لگی

“تو کیا نہ آئے آئی ڈونٹ کیئر”

وہ اکتا کر کہنے لگا

“دماغ ٹھیک ہے۔۔۔۔اسے لے کر آؤ”

وہ حکم دینے لگی

“مام۔۔۔۔میں پاگل نہیں جو کچھ بھی کرتا پھروں۔۔۔۔آپ کے کہنے پر۔۔۔آپ کو اتنا ہی ڈر تھا تو مجھے بتاتی نہ آپ”

آرب نے سنجیدگی سے کہا

“مجھے کیا پتا تھا تم تھپڑ مار دو گے اسے”

وہ کہنے لگی

“میں نے پہلے ہی کہا تھا آپ کو وہ کیسی ہے۔۔۔مت کروائیں میری شادی اس سے۔۔۔۔مگر آپ تو بضد تھی اب بھگتیں”

وہ کہتا سیڑھیاں چڑھتا اپنے روم میں چلا گیا

اور سارہ بیگم پریشانی سے سر دونوں میں لیے بیٹھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“مجھے یقین نہیں آرہا ایدہ ایسا کرسکتی ہے”

نوریض نے ڈرائیو کرتے ہوئے کہا

وہ مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

آنسوں متواتر بہ رہے تھے۔۔۔۔

“ایدہ نے اتنا بڑا دھوکا کیا دوست ہوکر۔۔۔ایم سوری منہا میری وجہ سے۔”

نوریض کہتے کہتے رکا

“نوریض ہم نے غلط لوگوں سے دوستی کرلی تھی۔۔۔۔میں نے ایدہ کو اپنی بہن سمجھا تھا۔۔۔۔۔اس نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا”

وہ روتے ہوئے کہنے لگی

“رونے سے کچھ نہیں ہوگا منہا۔۔۔۔اب تو ایدہ اور آرب کی شادی بھی ہوگئی”

نوریض نے فوراً بتایا

منہا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔۔ان دونوں نے شادی کرلی۔۔۔۔ایبو کو بھی پتا ہے۔۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔۔

اور منہا کو جیسے اپنی سانسیں رکتی محسوس ہورہی تھی