Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 17)

Blind Friends By Isra Rao

“بھابھی تیار کیوں نہیں ہوئی آپ؟”

زیمل نے اسے بیڈ شیٹ درست کرتے دیکھ کہا۔۔۔۔

“تیار؟”

وہ چونک کر پلٹی

“بھائی آرہے ہیں اور آپ تیار بھی نہیں ہوئی؟”

وہ کمر پر ہاتھ رکھے سوال کرنے لگی

“کام بہت ہیں میرے پاس تیار ہونا ضروری نہیں۔۔۔۔”

وہ مسکراتی سر جھٹک کر باہر نکل گئی۔۔۔

اس کا رخ کچن کی جانب تھا وہاں بھی خوب زور و شور سے تیاری ہورہی تھی۔۔۔۔

ابراہیم کی پسند کے کھانے بن رہے تھے۔۔۔۔

فرقان صاحب اور عمران صاحب ابراہیم کو پک کرنے ایئرپورٹ گئے تھے۔۔۔۔

“میں کچھ ہیلپ کرواؤں؟”

منہا پوچھنے لگی

“ہاں بیٹا اس پر گارنش کردیں۔۔۔اچھے سے کرنا”

عظمی بیگم نے اس کے سامنے میٹھا رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“چچی۔۔۔۔ایبو ہی آرہا ہے۔۔۔اتنی محنت کیوں کر رہی ہیں۔۔۔بنا گارنش کے بھی کھا لے گا”

منہا نے ہنس کر کہا

“لڑکی شوہر آرہے ہیں آپ کے معلوم بھی ہے۔۔۔۔؟”

عظمیٰ بیگم نے اسے گھورا

“تیار بھی نہیں ہوئی ابھی تک امی۔۔۔۔۔میں کب سے کہ رہی ہوں بھابھی کو”

زیمل نے سونیا بیگم کو شکایت کی

“چھوڑیں اسے۔۔۔۔یہ ہم خود کرلیں گے آپ جائیں۔۔۔۔تیار ہوکر آئیں”

سونیا بیگم نے اس کے ہاتھ سے پلیٹ لیتے ہوئے کہا

“مگر امی آپ۔۔۔۔۔”

وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ انہوں نے بات کاٹی

“میں نہیں چاہتی ابراہیم آپ کو اس حال میں دیکھے۔۔۔۔جائیں شاباش اچھی سی تیار ہونا ہے”

وہ بضد تھی

منہا نے گہری سانس خارج کی اور باہر نکل گئی۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“احد ۔۔۔۔۔”وہ بھاگتا ہوا آیا روم میں۔۔۔۔

سامنے ہی ایدہ اسے گود میں لیے بیٹھی تھی۔۔۔۔

اور وہ بری طرح کھانس رہا تھا۔۔۔۔

آرب نے لپک کر اسے گود میں لیا۔۔۔۔

اور خود سے لگایا

“کل تک تو یہ بلکل ٹھیک تھا آج کیا ہوا ہے اسے۔۔۔۔کیا کھلایا ہے تم نے؟”

آرب نے سنجیدگی سے سوال کیا

” صبح آئسکریم کھائی تھی اس نے تب سے طبیعت خراب ہوئی ہے اس کی۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا”

ایدہ نے لاپرواہی سے کہا

“تو تم نے اسے آئسکریم کیوں دی۔۔۔۔۔؟”

وہ پوچھنے لگا

“یہ ضد کر رہا تھا تو میں نے کھلا دی۔۔۔۔”

ایدہ نے کہا

“تمہارا دماغ خراب ہے ایدہ۔۔۔۔دو سال کے بچے کو ضد کرنے کا پتا ہوتا ہے؟”

وہ غرایا تھا

“تم ہر بات کا الزام مجھے کیوں دیتے ہو ہنی۔۔۔۔میں اس کی ماں ہوں۔۔۔۔”

وہ نرمی سے کہنے لگی

“میں اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر جارہا ہوں۔۔۔تم نے چلنا ہے تو چلو”

آرب نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور احد کو لیے باہر نکل گیا

ایدہ پرس اٹھاتی اس کے پیچھے نکلی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کیا بات ہے کہیں جارہے ہو؟”

رتبہ نے نوریض کی جانب دیکھا۔۔۔۔جو جلدی جلدی تیار ہورہا تھا

“ہاں۔۔۔ایبو آرہا ہے نا۔۔۔۔ایئرپورٹ جارہا ہوں”

وہ مصروفیت سے بتانے لگا

“فائنلی تمہارا بیسٹ فرینڈ آرہا ہے۔۔۔۔تبھی اتنے خوش ہو”

وہ مسکرائی

“ظاہر ہے۔۔۔۔”

وہ بھی مسکرایا اور چابی اٹھاتا باہر نکل گیا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ہائے بڈی۔۔۔۔۔کیسا ہے؟”

نوریض اس کے گلے لگا

“بلکل فٹ تو بتا بھابھی کیسی اور میری بے بی کیوٹی پائی کیسی ہے؟ لایا نہیں ساتھ؟”

ابراہیم پوچھنے لگا

“نہیں یار موسم چینج ہورہا نا۔۔۔۔بیمار ہوجاتی ہے۔۔۔۔”

نوریض نے سادگی سے بتایا

“تو گھر چل نا رتبہ بھی مل لے گی تجھ سے”

نوریض نے کہا

“نہیں یار ابھی دیر ہورہی ہے۔۔۔بابا ساتھ ہیں۔۔۔۔میں لگاؤں گا نا چکر۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے معذرت کی

تبھی ان کی نظر سامنے سے آتے کمیل پر پڑی۔۔۔۔

جو انہی کی جانب چلتا آرہا تھا۔۔۔

ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔

“ہائے بڈی۔۔۔کیسا ہے؟ وہ ابراہیم کے گلے لگا۔۔۔۔

پھر نوریض سے مسکرا کر ملا۔۔۔۔

“میں یہاں اپنے ایک دوست کو پک کرنے آیا تھا۔۔۔۔تو تم لوگوں پر نظر پڑی۔۔۔”

کمیل خوش دلی سے کہنے لگا۔۔۔

مگر ابراہیم اور نوریض کچھ خاص خوش نہیں ہوئے تھے۔۔۔۔

وہ انہیں دیکھ سمجھ گیا تھا۔۔۔۔

“ایکسکیوز می۔۔۔۔مجھے دیر ہورہی ہے۔۔۔۔بابا ویٹ کر رہے ہیں”

ابراہیم نے کمیل سے معذرت کی

“نہیں نہیں۔۔۔اٹس اوکے میں بھی جارہا ہوں۔۔۔۔”

کمیل شرمندہ ہوتا مڑ گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️.

“یہ اے سی تو بند کرو یار”

آرب نے ریموٹ اٹھا کر اے سی بند کیا

ایدہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔۔

“آبی؟…..ہنی وہ سوگیا ہے” ایدہ نے آرب کو ٹوکا۔۔۔

جو احد کے پاس بیٹھا اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔۔

“ایدہ تم اس کا بلکل خیال نہیں رکھ رہی ہو۔۔۔۔تمہیں پتا ہے کتنی تکلیف میں ہے میرا بیٹا”

آرب نے جھنجھلا کر کہا

“آبی۔۔۔۔ڈارلنگ بچے بیمار ہوجاتے ہیں۔۔۔۔وہ اب ٹھیک ہے”

وہ سمجھانے لگی۔۔۔۔

“مگر یہ ہمیشہ تمہاری لاپرواہی سے ہی بیمار ہوتا ہے۔۔۔۔اب سے اسے کوئی ٹھنڈی چیز نہیں دینی۔۔۔سمجھ آئی ہے”

وہ تلخی سے کہنے لگا

“ہاں ہاں سمجھ گئی۔۔۔۔اب آرام کرلو تم بھی۔۔۔”

ایدہ نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا۔۔۔اور اپنے موبائل میں مصروف ہوگئی

❤️❤️❤️❤️❤️..

منہا بیٹا میٹھا لائیں”

عظمیٰ بیگم نے کہا۔۔۔۔

ابراہیم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔

وہ سرخ رنگ کے سمپل سے شلوار قمیض میں تھی۔۔۔۔

بالوں کو ہمیشہ کی طرح پونی میں قید کیے۔۔۔۔

وہ تین سال بعد بھی ویسی ہی تھی۔۔۔۔بس رہن سہن اور پہناوے میں فرق نظر آرہا تھا۔۔۔۔

“تم تو واقع انسان لگ رہی ہو”

ابراہیم نے اسے دیکھ سرگوشی کی۔۔۔۔

منہا جو اس کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔

پھر باؤل رکھ چلی گئی۔۔۔

وہ کچن میں کام کر رہی تھی۔۔۔۔سب کے ساتھ گھل مل کر ہنس ہنس کر باتیں کر تہی تھی۔۔۔۔

ابراہیم اسے دیکھ خوش ہوا تھا۔۔۔۔

کیوں کہ اس نے خود کو بدل لیا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“نوریض سے ملے تھے ایبو؟”

وہ لاؤنج میں بیٹھے ٹی وی دیکھتے۔۔۔ ابراہیم کو دیکھ پوچھنے لگی

“ہاں ملا تھا موٹا ہوگیا ہے”

ابراہیم نے ہنس کر بتایا۔۔۔اور ریموٹ سے آواز کم کی۔۔۔۔

وہ بھی مسکرا دی۔۔۔۔

“اس کی بیٹی بھی دوسال کی ہوگئی۔۔۔۔۔میں تو دیکھنے بھی نہیں گئی”

وہ افسردگی سے کہنے لگی

“میرے پاس ہے نا پکس ۔۔۔دکھاؤں تمہیں۔۔۔۔بلکل رتبہ جیسی ہے”

ابراہیم نے ہنستے ہوئے موبائل سے پکس نکالی۔۔۔۔

اور منہا کی جانب بڑھایا

“ہا۔۔۔۔کتنی پیاری ہے؟”

منہا خوش ہوئی۔۔۔۔

“ہاں واقع ماشاءاللہ ۔۔۔۔”

ابراہیم نے کہا

“پتا ہے صبح سے گھر والے تمہارے کاموں میں لگے ہوئے تھے۔۔۔میں تو اتنی تھک گئی ہوں۔۔۔۔”

وہ منہ بناتی کہنے لگی

“شکر ہے تمہیں بھی اسی بہانے کام کرنے کا موقع ملا۔۔۔۔”

وہ ہنسی دبائے کہنے لگا

“انسان بنو۔۔۔۔میں جارہی ہوں سونے۔۔۔تم بھی آرام کرلو میچ صبح دیکھنا”

منہا نے اسے گھورتے ہوئے کہا

ابراہیم صوفے سے ٹیک لگائے سامنے اسکرین دیکھنے میں مصروف ہوگیا۔۔۔۔۔

منہا باہر نکل گئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ دودھ گرم کر گلاس میں ڈال رہی تھی جب سونیا بیگم کچن میں داخل ہوئی

“”آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟”

وہ اسے دیکھ چونکی

“وہ اماں بی کی دوا کا ٹائم ہوگیا نا امی۔۔۔۔تو دودھ گرم کر رہی تھی”

وہ مصروفیت سے بتانے لگی

“یہ سب میں کرلوں گی۔۔۔آپ جائیں۔۔۔صبح سے کام کر رہی ہیں۔۔۔۔”

انہوں بھرا ہوا گلاس اس کے ہاتھ میں تھمایا

“مگر امی۔۔۔۔۔”

منہا انہیں دیکھ کر رہ گئی

“جائیں آپ روم میں۔۔۔۔ آرام کریں۔۔۔۔”

وہ حکم دیتی کہنے لگی۔۔۔

منہا کاندھے اچکاتی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ جب روم میں آئی تو ابراہیم کوئی کتاب ہاتھ میں لیے پڑھ رہا تھا۔۔۔۔

“اوہ۔۔۔۔کیا؟۔۔۔۔؟یہاں کیا کر رہے ہو؟”

وہ اسے بیڈ پر بیٹھا دیکھ حیران ہوئی۔۔۔۔

“کیا مطلب کیا؟ میں اپنے روم میں نہیں آسکتا؟”

وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگا۔۔۔

“جی نہیں۔۔۔پچھلے تین سال سے یہ روم بھی میرا ہے اور یہ بیڈ بھی۔۔۔۔۔اپنا انتظام کہیں اور کرو”

وہ بے رخی سے کہنے لگی۔۔۔۔

“میں کہاں جاؤں گا؟ دماغ ٹھیک ہے۔۔۔۔؟”

وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنا۔۔۔

“آئی ڈونٹ کیئر۔۔۔۔۔” وہ سادگی سے کہتی منہ موڑ گئی۔۔۔۔

وہ بیٹ سے اٹھ کر اس کے قریب آیا۔۔۔۔۔

“منہا۔۔۔۔میں باہر گیا نا۔۔۔۔میرے ساتھ ساتھ تم بھی پھنسو گی بیٹا۔۔۔۔جواب دینا پھر اماں بی اور گھر والوں کو”

اس نے اسے بازو سے پکڑ اس کا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔۔

آنکھوں میں غصہ تھا۔۔۔۔

وہ لمحہ بھر سوچ میں ڈوبی۔۔۔۔وہ صحیح کہ رہا تھا۔۔۔۔

“تو۔۔۔۔تو تم یہاں زمین پر سوجاؤ۔۔۔۔مگر بیڈ تو میرا ہے۔۔۔سیدھی بات ہے”

وہ دو ٹوک کہنے لگی۔۔۔

ابراہیم اس کی ڈھٹائی دیکھ تپ کر رہ گیا۔۔۔۔

“منہا میڈم زیادہ اتراؤ مت۔۔۔۔اس پوری حویلی کا میں اکلوتا وارث ہوں۔۔۔۔اور تم مجھے زمین پر سونے کے لیے کہ رہی ہو۔۔۔۔؟”

ابراہیم نے گردن اکڑا کر روب سے کہا۔۔۔

“ہاں کہ رہی ہوں۔۔۔کیا کرلو گے۔۔۔۔؟”

منہا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“میں کیا کرلوں گا؟ میں چاہوں نا دو تھپڑ لگا کر تمہیں سدھار سکتا ہوں۔۔۔۔مگر میں تماشہ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔۔مرو تم بیڈ پر۔۔۔۔ڈھیٹ عورت۔۔۔۔”

وہ کہتا بیڈ کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔اور تکیہ اٹھانے لگا

“عورت کسے بولا۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔جاہل۔۔۔۔۔”

وہ ناک سے مکھی اڑاتی ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“آرب اٹھ گیا؟”

اس نے بالوں کو فولڈ کرتے ملازمہ سے پوچھا۔۔۔۔

“جی صاحب تو اٹھ گئے باہر لان میں ہیں”

ملازمہ نے بتایا

وہ لان کی جانب بڑھ گئی جہاں آرب احد کو گود میں لیے بیٹھا تھا۔۔۔۔

“گڈ مارننگ ہنی۔۔۔۔”

ایدہ اس کے قریب کرسی کھسکا کر بیٹھی۔۔۔۔

“کیسا ہے میرا بیٹا؟”

وہ احد کو پیار کرنے لگی۔۔۔۔

“نیند ہوگئی پوری تمہاری؟”

وہ کاٹ دار لہجے میں پوچھنے لگا

“سوری ہنی۔۔۔مجھے نیند ہی نہیں آرہی تھی۔۔۔اے سی بند تھا نا۔۔۔اسی لیے میں دوسرے روم میں چلی گئی تھی”

وہ صفائی دینے لگی

“میں نے تو تمہیں کچھ نہیں کہا”

آرب ہلکا سا مسکرایا

“ہنی مجھے بوتیک کے لیے نکلنا ہے۔۔۔۔وہاں رینوویشن کا کام چل رہا ہے۔۔۔۔”

ایدہ نے مسکرا کر کہا

“تم جاسکتی ہو۔۔۔احد کا خیال میں رکھ لوں گا۔۔۔۔میں آج آفس نہیں جارہا”

آرب نے سنجیدگی سے کہا

“تھینک یو ہنی۔۔۔۔۔”

وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی اور احد کو لاڈ کرتی اٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔

آرب سر جھٹک کر رہ گئی۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

اس کی آنکھ کھلی تو گھڑی کی جانب دیکھا جہاں دس بج رہے تھے۔۔۔۔

وہ اٹھ کر دیکھنے لگا وہ روم میں نہیں تھی۔۔۔۔

“کمر میں درد ہوگیا۔۔۔۔جاہل عورت”

ابراہیم بڑبڑاتا بیڈ پر لیٹا۔۔۔

مگر کتنی ہی دیر وہ یہاں وہاں کروٹ بدلتا رہا مگر نیند نہیں آئی۔۔۔۔

ابراہیم اٹھا اور ڈرار سے پین کلر نکالی۔۔۔۔گلاس میں پانی ڈالا اور ہونٹوں سے لگایا

“عجیب مصیبت ہے۔۔۔۔”

وہ بڑبڑاتا باتھروم کی جانب بڑھ گیا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“بابا میں کراچی میں برانچ کھولنا چاہتا ہوں۔۔۔۔”

ابراہیم نے سامنے بیٹھے فرقان صاحب کو کہا

“مگر آپ کو ضرورت نہیں ہے ہماری کمپنی اچھی چل رہی ہے۔۔۔۔عمران کے اور میرے ساتھ آپ بھی اسی پر کام کریں”

فرقان صاحب نے مشورہ دیا

“بابا ہمیں اپنے کام کو آگے بڑھانا چاہیے نا”

ابراہیم نے آہستگی سے کہا۔۔۔

“ویسے بابا ابراہیم ٹھیک کہ رہے ہیں”

منہا جو چائے کی ٹرے ہاتھ میں لیے وہاں آئی تھی بات کو لقمہ لگایا

ابراہیم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔

منہا نے اسمائل پھینکی۔۔۔۔

“مگر بیٹا کراچی میں برانچ کھولنے سے کام بڑھ جائے گا۔۔۔۔اور پھر وہاں بھی ٹائم دینا ہوگا”

عمران صاحب نے منہا کی جانب دیکھ کہا

“کام تو بڑھے گا مگر انکم بھی تو بڑھے گی۔۔۔۔اور پیسہ کسے نہیں چاہیے ہوتا۔۔۔۔”

ابراہیم نے فوراً کہا

“ہمیں نہیں چاہیے سکون بڑی چیز ہے۔۔۔۔”

فرقان صاحب نے فوراً ٹوکا۔۔۔ابراہیم نظر جھکا گیا

“بابا صرف پیسے کی بات تو نہیں ہے۔۔۔ابراہیم نے پڑھائی کی ہے۔۔۔ظاہر ہے وہ اپنی پہنچان بنانا چاہیں گے۔۔۔۔آپ کی چائے”

منہا نے ادب سے ابراہیم کی جانب کپ بڑھایا۔۔۔

ابراہیم کو تو مانوں اٹیک آنے کو ہوگیا۔۔۔

اتنی عزت کی توقع تو نہیں تھی اس سے

“بابا کراچی ویسے بھی اتنا بڑا شہر ہے۔۔۔وہاں بھی تو ہاشمی کنسٹرکشن کا نام ہونا چاہیے۔۔۔”

منہا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

فرقان صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

ابراہیم تو منہا کو دیکھ کر ہی رہ گیا آج تک اسطرح بیٹھ کر تو ابراہیم نے بھی کبھی فرقان صاحب سے بات نہیں کی تھی جیسے وہ کر رہی تھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“اماں بی میں کراچی جاؤں گا تو خوب سارا پیسہ کماؤں گا نا”

ابراہیم نے ان کے شانوں پر بازوں پھیلاتے ہوئے کہا

“کیا ضرورت ہے۔۔۔۔۔بس اب گھر پر رہو۔۔۔۔اپنی گھرستی چلاؤ”

انہوں نے اطمینان سے کہا

“اماں یہ بات اسے سمجھ نہیں آئے گی۔۔۔اسے ہم سے دور رہنے کی عادت ہوگئی ہے”

سونیا بیگم نے کہا۔۔۔۔

“ارے میری پیاری مام۔۔۔آپ ایسا کیوں سوچتی ہیں ۔۔۔۔۔”

وہ جلدی سے اٹھ کر سونیاں بیگم کے پاس گیا اور انہیں خود سے لگایا

“دیکھنا کراچی میں کتنا نام ہوگا ہماری کمپنی کا۔۔۔پھر میں اماں بی کو آپ کو اپنے ساتھ ہی لے جاؤں گا”

وہ ان کے ماتھے پر پیار کرتا کہنے لگا

“اپنی بیوی کو لے جاؤ آپ ہماری تو خیر ہے”

اماں بی نے منہ بنا کر کہا

“کیا اماں بی بد مزہ کردیتی ہیں آپ اس کا نام۔۔۔۔۔۔”

وہ کہتے کہتے رکا کیوں کہ وہ دروازے پر سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

“دیکھا آپ نے اماں بی یہ ایسے کرتے ہیں ۔۔۔اور بابا کو میں نے منایا ہے یہ یاد نہیں انہیں۔۔۔۔۔بھلائی کا زمانہ ہی نہیں”

وہ منہ بناتی ایکٹنگ کرنے لگی

“ابراہیم تمیز سے بات کیا کرو۔۔۔بری بات ہے”

اماں بی نے ٹوکا

“اماں بی یہ کون سی میری عزت کرتی ہے۔۔۔۔۔ایکٹنگ کر رہی ہے بس”

وہ تلملایا

“بس۔۔۔چپ کریں آپ۔۔۔۔”

سونیا بیگم نے اسے ٹوکا۔۔۔

منہا افسردگی کا لبادہ اوڑھے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

“دیکھا وہ ناراض ہوگئی۔۔۔منا کر آئیں اسے”

اماں بی نے اسے ٹوکا۔۔۔

وہ گہرا سانس خارج کر کے رہ گیا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“یہ کیا ڈرامہ تھا؟”

وہ کمرے میں آتے ہی کہنے لگا۔۔۔۔

“کیوں بدتمیزی کی میرے ساتھ “

وہ لاپرواہی سے کہنے لگی

“منہا انسان بنو۔۔۔۔ بیوی کی طرح نخرے دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”

وہ وارن کرنے لگا

“مجھے کوئی شوق نہیں تمہاری بیوی بننے کا۔۔۔سمجھ آئی۔۔۔۔”

منہا نے سنجیدگی سے کہا

“ہاں تو اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔۔”

وہ کہتا وارڈ روب کی جانب بڑھ گیا

اور منہا اسے دیکھ کر رہ گیا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کام کیسا چل رہا ہے؟”

فرقان صاحب نے پوچھا۔۔۔۔

“بس چل رہا ہے بابا….کافی حد تک تو ہوگیا۔۔۔۔پرسوں جاؤں گا کراچی”

ابراہیم نے جواب دیا

“منہا کو ساتھ لے جانا۔۔۔۔”

فرقان صاحب نے حکم دیا

“وہ جاکر کیا کرے گی بابا۔۔۔۔میں ویسے بھی کام میں مصروف ہوجاؤں گا”

ابراہیم نے جھینپ کر کہا

“مصروفیت جتنی بھی ہو بیوی بچوں کے لیے ٹائم نکالنا زمہ داری ہوتی ہے۔۔۔میں بھی تو نکالتا ہوں۔۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگے۔۔۔

اور ابراہیم انہیں دیکھ کر رہ گیا

“چاچو۔۔۔۔یہ جاکر کیا کرے گی وہاں؟”

ابراہیم نے کہا

“اوہ۔۔۔تمہارے ساتھ جانا کون چاہتا ہے؟”

منہا جو خاموش بیٹھی تھی بھڑک اٹھی

“تم دونوں اتنا لڑتے کیوں ہو؟”

عمران صاحب نے جھنجھلا کر کہا

“چاچو یہ ہر روز بدتمیزی کرتا ہے۔۔۔اس سے تو اچھا یہ باہر ہی رہتا پاکستان آیا ہی کیوں؟”

وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہنے لگی

“میں کرتا ہوں بدتمیزی۔۔۔چاچو کل اس نے جھٹے ڈرامے کر کے اماں بی کو شکایت لگائی میری”

وہ بھی شکایت لگانے لگا

“چاچو یہ میری چغلی کر رہا تھا میں نے کچھ کہا بھی نہیں تھا”

وہ صفائی دینے لگے

“چپ کرو تم دونوں۔۔۔بھائی بیٹھے ہیں باہر۔۔۔۔”

عظمیٰ بیگم کمرے میں آئی

“میں نہیں جارہی اس کے ساتھ مجھے یہیں رہنا ہے”

وہ اٹل تھی

“اگر یہی بات ہے نا تو اب تم تیاری کرو۔۔۔۔تم میرے ساتھ ہی جاؤ گی۔۔۔۔”

ابراہیم نے اسے تپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی

اور کہ کر باہر نکل گیا