Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 3)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 3)
Blind Friends By Isra Rao
“آرب کو ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا۔۔۔۔”
رتبہ اپنی چار سالہ بچی کو سلانے میں مصروف تھی۔۔۔۔
افسردہ ہوئی
“میں نے پہلے ہی کہا تھا مگر ایبو کسی کی سنتا کہاں ہے”
وہ بھی افسردہ تھا۔۔۔
اسے دکھ ہوا تھا۔۔۔
“آرب بہت بدل گیا ہے۔۔۔۔آخر کو آپ سب دوست رہے ہیں بہت اچھے۔۔۔۔”
وہ کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“ہاں۔۔۔وہ پہلے ایسا نہیں تھا۔۔۔۔”
اس نے سرد آہ بھری۔۔۔
گزرا وقت پھر سے یاد آنے لگا تھا۔۔۔
(ماضی)
“کرن کیسی ہو؟”
ابراہیم نے سامنے بیٹھی لڑکی کو مخاطب کیا۔۔۔۔
اس نے یک دم نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
وہ حیران ہوئی۔۔۔۔
یہاں وہاں دیکھنے لگی
وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔وہ کنفیوژ ہوئی۔۔۔۔
“میں۔۔۔۔؟” وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔۔۔
” کرن تمہارا ہی نام ہے نا۔۔۔۔تو ظاہر ہے تم سے ہی بات کر رہا ہوں”
وہ کان کھجاتے ہوئے لاپرواہی سے کہنے لگا۔۔۔
“جی۔۔۔” وہ اثبات میں سر ہلاتی کہنے لگی۔۔۔
“وہ میں ایک دو دن سے چھٹی پر تھا۔۔۔تو مجھے اسائمنٹ بنانی تھی۔۔۔۔اور پرسوں سبمٹ بھی تو کروانی ہے”
وہ تفصیل سے بتانے لگا۔۔۔
وہ اسے پی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“کیا تم مجھے اپنی اسائمنٹ دکھا دو گی۔۔۔۔مجھے بس آئیڈیا چاہیے۔۔۔۔”
وہ کلیئر کرنے لگا۔۔
“مگر ابراہیم۔۔۔۔میں تمہیں اپنی دوں گی تو ہماری سیم ہوجائے گی۔۔۔۔”
وہ معصومیت سے کہنے لگی۔۔۔
“نہیں میں کاپی نہیں کروں گا۔۔۔بس یہاں(یہاں تو نہیں بیٹھ سکتا کیا بول رہا ہے)
“۔۔۔وہاں۔۔۔وہاں بیٹھ کر بس ٹاپکس وغیرہ کو ایک بار دیکھ لوں گا۔۔۔۔ابھی پانچ میں واپس کردوں گا۔۔۔آئی سویر۔۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر کہنے لگا۔۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔۔” وہ بھی مسکرائی اور اسائمنٹ اس کی جانب بڑھائی۔۔۔۔
وہ سامنے چیئر پر بیٹھ کر صفحے الٹ پلٹ رہا تھا۔۔۔۔
“یار اتنا سب کچھ کیسے مینج کریں گے؟”
کمیل نے لا چارگی سے کہا۔۔۔
“کچھ تو کر ہی لیں گے۔۔۔۔۔تو موبال سے پک بنا لے۔۔۔۔پھر دیکھتے ہیں۔۔۔۔”
ابراہیم نے اہستگی سے کہا۔۔۔
“مگر وہ یہیں دیکھ رہی ہے۔۔۔۔”
کمیل نے نوٹس کروایا۔۔۔
ابراہیم نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔وہ واقع اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس نے جھٹ اسمائل پھینکی۔۔۔۔
پھر مڑ کر کمیل کو دیکھا۔۔۔
“ایدہ کو بول کچھ کرے۔۔۔۔” اس نے سرگوشی کی۔۔۔
کمیل وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔اور وہ پھر سے دیکھنے میں مصروف ہوگیا۔۔۔
“آبی میں نے ان ٹاپکس کو ہائی لائٹس کیا ہے تم دیکھ لو۔۔۔۔”
منہا نے اس کی جانب بک بڑھائی۔۔۔۔
“منہا میں نے۔۔۔کلاس میں اور اسٹوڈنٹس نے بھی اسی بک سے اسائمنٹ بنائی ہوگی۔۔۔۔مجھے نہیں لگتا۔ ہمیں اس سے اور ہیلپ لینی چاہیے۔۔۔۔اگر ہمیں اس رائیٹر کے پارٹ ٹو کی بک مل جائے تو ہمیں کچھ نئے آئیڈیاز نہیں مل جائیں گے۔۔۔۔؟”
آرب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“مگر آبی وہ بک ہمیں لائبریری سے لینی ہوگی۔۔۔۔اور ویک کے لاسٹ تھری ڈیز میں بک اشو نہیں ہوتی۔۔۔۔”
منہا نے اسے یاد دہانی کروانی چاہی۔۔۔
“مگر کوشش کر کے دیکھنے میں کیا جاتا ہے۔۔۔”
آرب نے بکس کو سمیٹتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں۔۔۔فلحال تو کلاس میں چلتے ہیں۔۔۔۔”
وہ بھی بیگ اٹھانے لگی۔۔۔
“ان چاروں کمینوں سے تو کوئی آسرا نہیں “
آرب نے بھنتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“اگر ایبو چاہے تو ہم سے بہتر کام کرسکتا ہے۔۔۔مگر اسے اور کامی کو تو لڑکیوں سے فرصت ہی نہیں۔۔۔۔”
منہا آرب سے ساتھ ساتھ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔لیکن اسے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔باپ کا پیسہ بہت ہے سالے کے پاس”
آرب نے ہنس کر کہا۔۔۔۔
وہ کوریڈور میں بیگ کاندھوں پر ڈالے چل رہے تھے۔۔۔
“استغفر اللہ۔۔۔۔لوگوں کو شرم نہیں آتی چغلیاں کرتے ہوئے۔۔۔۔”
پیچھے سے نوریض کی آواز پر دونوں نے مڑ کر دیکھا۔۔۔
جو بیگ کاندھے پر ڈالے جنس کی جیب میں ہاتھ ڈالے مسکراتا ہوا آرہا تھا۔۔۔
“ہم چغلی نہیں کر رہے تھے۔۔۔۔”
منہا نے فوراً سے کہا۔۔۔۔
“وہ ایبو کے سامنے بولنا۔۔۔۔”
وہ شرارت سے مسکرایا۔۔۔
اور تیزی سے کلاس کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
“اوئے کمینوں”
کلاس میں آتے ہی نوریض نے اونچی آواز میں پکارا۔۔۔۔
“ہائے بڈی۔۔۔۔” ابراہیم نے دور سے ہاتھ اٹھایا۔۔۔
وہ نور کے پاس کھڑا تھا۔۔۔
“تھینک یو کرن۔۔۔۔” ابراہیم نے اس کی اسائمنٹ اسے واپس کرتے ہوئے کہا۔۔۔
“نو اٹس اوکے۔۔۔۔”
وہ مسکرائی۔۔۔۔
“کیا تم مجھے اپنا نمبر دو گی۔۔۔۔وہ کیا ہے نا کہ کبھی مجھے تمہاری تمہیں میری ہیلپ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔۔”
ایبو نے بالوں کو درست کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
اور ایک لمحہ کے لیے بھی کوئی لڑکی اسے انکار کا سوچ نہیں سکتی تھی۔۔۔
وہ پرسنیلٹی ہی ایسی رکھتا تھا۔۔۔۔
کرن نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔پھر اسے اپنا نمبر دیا۔۔۔۔
“ابے تونے نمبر لے لیا؟”
کامی نے اس کے قریب آتے ہی آہستگی سے کہا۔۔۔
“ہاں تو۔۔۔۔۔ہیلپ کی ہے اس نے میری۔۔۔۔”
اس نے شانے اچکائے۔۔۔
“اور کیا ہیلپ کی ہے اس نے تیری؟” آرب نے ان دونوں کی باتیں سنتے ہوئے کہا۔۔۔
“تجھے کیوں بتائیں۔۔۔تو ہماری معشوقہ ہے۔۔؟” ابراہیم نے ہنس کر کامی کو دیکھا۔۔۔
اور دونوں کھلکھلا کر ہنس دیے۔۔۔
“سدھر جاؤ دونوں۔۔۔۔کالج تم لڑکیوں سے نمبر لینے تو آتے ہو۔۔۔۔”
آرب نے جل کر کہا۔۔۔۔
“ہاں تجھے چاہیے تو بتا۔۔۔جل کیوں رہا ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
“نو تھینکس۔۔۔۔۔” وہ برابر چیئر پر بیگ رکھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
“اوئے وہ ساری پکس سینڈ کر مجھے۔۔۔۔اور ایز اٹ از مت چھاپ دیو۔۔۔تجھے پتا ہے سر شکور کو ایس جیسی اسائمنٹ سے چڑ ہے۔۔۔۔وہ پھنس جائے گی بیچاری۔۔۔۔”
اس نے چوینگم چباتے ہوئے کہا۔۔۔
“میں اتنا بھی کمینہ نہیں۔۔۔۔جو اس کو پھنساؤں۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔
“اچھا تو دونوں نے اس کی اسائمنٹ چوری کی ہے۔۔۔؟” آرب جو آگے والی چیئر بیٹھا ان کی باتیں سن رہا فوراً گردن موڑے کہنے لگا۔۔۔۔
“چپ ہوجا باپ۔۔۔۔کوئی سن لے گا۔۔۔۔”
کمیل نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھنا۔۔۔۔
“دفع ہوجا کمینے۔۔۔۔یہ تیرا ہی آئیڈیا ہوگا ضرور۔۔۔۔”
آرب نے کمیل گھور کر دیکھا اور اس کا ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“اللہ کی قسم ایبو کا تھا۔۔۔۔”
وہ یک دم صفائی دینے لگا۔۔۔
جبکہ برا ر بیٹھا ابراہیم کرسی سے ٹیک لگائے آرام سے چیونگم چبا رہا تھا۔۔۔۔
“آبی میری بک دینا۔۔۔” آگے بیٹھی منہا نے آرب کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
آرب نے اس کی بک اسے تھمائی۔۔۔
“منہا۔۔۔۔۔” ابراہیم نے دور سے پکارا۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔۔” اس نے مڑ کر دیکھا
“اج تو اچھی لگ رہی ہے۔۔۔۔” اس نے مسکرا کر اس کی سلکی ہائی پونی کو دیکھا۔۔۔۔
“میں اسائمنٹ پھر بھی بنا کر نہیں دوں گی۔۔۔ایبو”
اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
“پھر دفع ہو۔۔۔۔” وہ جل کر بڑبڑایا۔۔۔۔
اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“چلو کینٹین چلتے ہیں۔۔۔۔”
اس نے بیگ کاندھے پر ڈالا۔۔۔
“ایبو یار کیمسٹری کا پیریڈ ہے”
ایدہ جو آرب کے برابر بیٹھی کام کرنے میں مصروف تھی
گردن اٹھا کر کہنے لگی۔۔۔
“یار مجھے کیمسٹری بلکل اچھی نہیں لگتی۔۔۔۔”
اس نے برا سا منہ بنایا۔۔۔
“تو آپ بتائیں گے۔۔۔آپ کو اچھا کون سا سبجیکٹ لگتا ہے۔۔۔۔؟”
آرب نے مسکراہٹ دباتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“مم۔۔۔۔۔کوئی بھی نہیں”
اس نے جیسے سوچ کر کہا۔۔۔
اور خود ہی مسکرا دیا۔۔۔
“تو چل رہا ہے؟”
اس نے کمیل کی جانب دیکھا۔۔۔۔
کمیل نے بیگ کاندھے پر ڈالا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
“یہ ایبو خود تو پڑھتا نہیں کامی کو بھی نہیں پڑھنے دیتا۔۔۔۔”
منہا نے ساتھ چلتی ایدہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“ایبو ان اسٹوڈنٹس میں سے ہے جو سارا سال پڑھتے نہیں پھر بھی ایگزامز میں ٹاپ کرتے ہیں۔۔۔۔کامی خوامخواہ فیل ہوجائے گا”
نوریض نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ان سب کا رخ کینٹین کی جانب تھا۔۔۔
“پہلے بھی دو سپلیاں لگی تھی اس کامی کو۔۔۔پھر بھی نہیں سدھر رہا۔۔۔۔تمہارے ڈیڈ کچھ نہیں کہتے اس کو؟”
اس بار آرب ایدہ سے مخاطب تھا۔۔۔
“اتنا لمبا لیکچر دیتے ہیں۔۔۔۔مگر اس پر اثر نہیں ہوتا۔۔۔۔”
ایدہ نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔
اور آرب اس کی پرسکونی پر شانے اچکا کر رہ گیا۔۔۔
“کیا بات ہے آج تم دونوں اکیلے یہاں۔۔۔۔کیا کمینہ گروپ ٹوٹ گیا؟”
وہ طنزیہ کہنے لگا۔۔۔
“ابے اوہ باسل۔۔۔تیری سوچ ہے بیٹا ہمارا گروپ کبھی ٹوٹ نہیں سکتا”
کمیل نے تلخ لہجے میں سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا۔۔۔۔
جو ان کی ہی کلاس کا تھا۔۔۔
تبھی سامنے سے وہ چاروں آتے دکھائی دیے۔۔۔۔
جو انہیں ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
“منہا۔۔۔۔۔”
اس نے پاس سے گزرتی منہا کو بے اختیار پکارا۔۔۔
جو کرسی کھینچ کر بیٹھنے ہی لگی تھی۔۔۔کہ پلٹ کر باسل کو دیکھا۔۔۔
ساتھ میں سلکی لمبے بالوں کی پونی بھی جھولنے لگی۔۔۔
“تمہارے بال بہت خوبصورت ہیں”
باسل نے مسکراہٹ سے اسے جانچتے ہوئے کہا۔۔۔۔
کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھے ایبو کا چیونگم چباتا منہ فوراً رکا۔۔۔۔
“میں نے یہیں سے چپل پھینک کر مارنی ہے۔۔۔۔میرے ساتھ فلرٹ کرنے کی کوشش نہیں کرنا”
منہا نے جل بھن کر دھھمکی دی۔۔۔
“میں تو تمہاری چپل بھی کھا لوں گا”
وہ شرارت سے کہنے لگا۔۔۔
اس سے پہلے کہ منہا کچھ کہتی ساتھ کھڑی آرب کے س شفاف چہرے پر سرخی ابھری۔۔۔۔
اور بے اختیار اس کے ہاتھ باسل کے گریبان تک پہنچے۔۔۔۔
“بکواس بند کر اپنی۔۔۔۔۔”
آرب نے چبا کر کہا۔۔۔
“کیوں بند کروں تیری بہن لگتی؟ بیوی لگتی ہے؟ جو ہر وقت چپکا رہتا ہے اس سے”
وہ بھی ڈھٹائی سے جواب دینے لگا۔۔۔
بدلے میں آرب نے ایک زوردار مکہ اس کی ناک پر رسید کیا۔۔۔
سب اٹھ کھڑے ہوئے تھے ان کی ہاتھا پائی دیکھ کر۔۔۔۔
صرف ایک ابراہیم تھا اسی طرح کرسی سے ٹیک لگائے چیونگم چبا رہا تھا۔۔۔
“آبی۔۔۔۔پاگل ہوگیا ہے۔۔۔۔چھوڑ اسے”
کمیل اور نوریض ان دونوں کو چھڑوانے لگے تھے۔۔۔
کینٹین میں موجود ہر کوئی انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔
منہا کی آنکھوں میں تیزی سے نمی اتری۔۔۔
اس نے اپنا بیگ اور بکس اٹھائی اور پیر پٹختی وہاں سے نکل گئی۔۔۔۔
“منہا۔۔۔منہا”
ایدہ اس کے پیچھے لپکی۔۔۔۔
وہ سب اسے جاتا دیکھنے لگے۔۔۔
“تو چپ کیوں بیٹھا تھا وہ اتنی بکواس کر رہا تھا۔۔۔۔”
آرب نے پاس بیٹھے ایبو کو دیکھا۔۔۔۔
“تو اس کی بکواس پر تونے چپکا تو دیا اسے۔۔۔۔”
ابراہیم نے مسکرا کر اس کے شانے کو تھپکا۔۔۔۔
“تو کیا صرف وہ میری دوست تھی تم سب کی نہیں تھی۔۔۔۔”
آرب نے سنجیدگی سے ان تینوں کو دیکھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔” ابراہیم نے یک دم کہا اور تینوں ہی کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔” وہ خفگی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“ابے اس نک چڑی کو تو ہی رکھ۔۔۔اب دیکھ تو اس کے لیے لڑا اور وہ نخرہ دکھا کر۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔کرتی چلی گئی۔۔۔”
ابراہیم نے اس کی کاپی کرتے ہوئے کہا۔۔۔
اور بدلے میں کمیل اور نوریض کے ساتھ سنجیدہ بیٹھے آرب کی ہنسی نمودار ہوئی تھی۔۔۔
“تجھے کیا ہوگیا یار منہا۔۔۔۔۔تیرے لیے تو وہ لوگ جھگڑا کر رہے تھے۔۔۔”
ایدہ نے جتایا
“تو کیوں کیا جھگڑا۔۔۔۔میں نے کہا تھا۔۔۔الٹا میرا تماشہ بنا دیا سب گھور گھور کر دیکھ رہے تھے۔۔۔”
وہ جھر جھری لیتی کہنے لگی۔۔۔
“پھر بھی یار وہ لوگ کیا سوچ رہے ہوں گے۔۔۔”
ایدہ نے سمجھانا چاہا۔۔۔
سوچنے دے۔۔۔مجھے ابھی ان میں سے کسی سے بات نہیں کرنی۔۔۔موڈ آف ہے میرا”
وہ اٹل کہتی لائبریری کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
“سنا ہے آج آرب کا جھگڑا ہوگیا تھا”
وہ فون کان سے لگائے ٹی میکر سے چائے کپ میں انڈیل رہا تھا۔۔۔
“جھگڑا تو نہیں کہیں گے اسے۔۔۔صرف ٹریلر تھا۔۔۔۔ورنہ جیسی اس باسل کی حرکتیں ہیں نا دو چار اور لگنے چاہیے تھے۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔
“وہ ہمارے گروپ سے ویسے بھی چڑتا ہے۔۔۔۔”
وہ کپ اٹھائے صوفے پر آ بیٹھا۔۔۔۔
ویسے یہ تم لوگوں کے گروپ کا نام کمینہ گروپ کیوں ہے؟”
وہ پوچھ ہی بیٹھی۔۔۔۔
“تمہیں نہیں پتا؟”
وہ حیران ہوا۔۔۔
کیوں کہ کلاس میں زیادہ تر اسٹوڈنٹس کو یہ بات پتا تھی۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔مجھے نہیں پتا”
کرن نے صاف گوئی سے جواب دیا۔۔۔
“اصل میں ہم چھ دوستوں کے نام کا فرسٹ لیٹر نکال کر کمینہ گروپ بنا ہے۔۔۔۔جیسے K سے کمیل، A سے آرب، M سے منہا، I سے ابراہیم یعنی کہ میں۔۔۔۔، N سے نوریض اور A سے ایدہ….اب سمجھی”
ابراہیم نے تفصیل سے اسے سمجھایا بدلے میں کرن کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔
“منہا نماز پڑھ لی۔۔۔۔۔؟”
کچن سے پروین بیگم کی آواز ابھری۔۔۔۔
“جی امی میں نے پڑھ لی۔۔۔۔۔”
وہ جو نماز پڑھ کر ابھی ابھی لیپ ٹاپ کھولے بیٹھے تھی۔۔۔فورا سے جواب دیا۔۔۔۔
وہ جانتی تھی اس کی امی کتنی سخت ہے۔۔۔۔۔
اگر وہ جواب نا دیتی کچن سے چپل آتی۔۔۔۔
تبھی پاس پڑا اس کا فون بجنے لگا۔۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اٹھایا۔۔۔
آبی کالنگ جگمگا رہا تھا۔۔۔
منہا نے سائیڈ کا بٹن دبا کر فون سائلنٹ کیا اور ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔
وہ سورہا تھا جب الارم نے شور مچایا۔۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر بند کیا
پھر ٹائم دیکھا اور تیزی سے باتھروم کی جانب بڑھا۔۔۔۔
نہا کر نکلتے ہی اس نے روم کا دروازہ کھول کر دیکھا۔۔۔۔
اس کا دروازہ ابھی بھی بند تھا۔۔۔۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ ابراہیم ابھی تک سورہا ہے۔۔۔۔
اس نے ٹاول گلے میں ڈالا اور اس کا دروازہ بجایا۔۔۔۔
پھر لاک گھما کر اندر داخل ہوا۔۔۔۔
سامنے ٹیبل پر لیپ ٹاپ بکس اور اسائمنٹ وغیرہ پڑی تھی
وہ رات بھر اسائمنٹ کمپلیٹ کرنے میں جاگ رہا تھا۔۔۔۔
وہ ہلکے سے مسکرایا۔۔۔۔
پھر بیڈ کی جانب دیکھا
وہ اوندھے منہ پھیل کر سورہا تھا۔۔۔۔
“ابے اوہ الو۔۔۔اٹھ جا ٹائم ہوگیا۔۔۔۔”
اس نے آواز لگائی۔۔۔
“الو کس کو بول رہا ہے۔۔۔۔”
اس نے کروٹ لی۔۔۔۔
“تجھے بول رہا ہوں۔۔۔پوری رات جاگتا رہتا ہے صبح میں سوتا ہے۔۔۔تو الو ہی ہوا۔۔۔”
وہ ہنس کر کہنے لگا۔۔۔
“اور تو جو۔۔۔اپنی منگیتر سے لگا رہتا ہے رات بھر۔۔۔میں نے بولا کبھی کچھ۔۔۔۔”
وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔۔اور ٹائم دیکھنے لگا۔۔۔۔
“رات بھر نہیں کرتا بیٹا بس ایک گھنٹا کرتا ہوں۔۔۔۔”
وہ جیسے صفائی دینے لگا۔۔۔
“ہاں پتا ہے پتا ہے۔۔۔چل دفع ہو۔۔۔۔”
وہ ناگواری سے کہتا واش روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
اور نوریض اپنے کمرے کی جانب۔۔۔۔
“تم میری کال کا جواب کیوں نہیں دے رہی۔۔۔۔”
وہ کلاس میں بیٹھی کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔۔۔
“تم سے بات کر رہا ہوں میں۔۔۔۔”
آرب نے اس کے نوٹ پیڈ پر ہاتھ رکھا۔۔۔
“مجھے نہیں کرنی بات بس۔۔۔۔”
وہ کرسی سے ٹیک لگائے کہنے لگی۔۔۔
“ابے۔۔۔۔تیری وجہ سے اس نے جھگڑا کیا اور تو اسی کو نخرے دکھا رہی ہے۔۔۔۔حد ہے”
وہ ابھی ابھی آیا تھا انہیں دیکھ کہے بنا نہ رہ سکا۔۔۔
“تو تو کچھ بول ہی مت۔۔۔ایبو۔” وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“میں نے کیا کردیا اب؟”
وہ روہانسی ہوا۔۔۔
“تو کیسا دوست ہے۔۔۔۔وہ بدتمیزی کر رہا تھا میرے ساتھ تم تینوں آرام سے بیٹھے تھے۔۔۔منہ نہیں توڑ سکتے تھے”
وہ غرائی تھی۔۔۔
“ہاں جیسے۔۔۔جس نے توڑا۔۔۔ اسے تونے بڑی عزت دے دی؟”
کمیل کہے بنا نا رہ سکا۔۔۔
“اوہ۔۔۔۔اس سے میں اس لیے ناراض ہوں۔۔۔۔کہ یہ ہی سبق وہ اسے یونیورسٹی کے باہر دیتا۔۔۔۔تماشہ نا بنتا”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔۔۔
“تو سارا دن ہم سے بدتمیزی کرتی ہے ہم کچھ کہتے ہیں۔۔۔۔؟ ” ابراہیم نے تلخی سے کہا۔۔۔
“تو زیادہ بول رہا ہے اب۔۔۔۔”
وہ انگلی دکھا کر کہنے لگی۔۔۔
“ہاں بول رہا ہوں۔۔۔۔کیا کرے گی۔۔۔ہر وقت نخرے دکھاتی ہے”
وہ بھی غرایا۔۔۔۔
“تم لوگ پاگل ہوگئے ہو۔۔۔۔؟”
آرب نے ابراہیم کو ٹوکا۔۔۔۔
“یو نو واٹ آبی۔۔۔تجھے اس کے ہاتھوں ذلیل ہونے کی عادت ہوگی۔۔۔میں نہیں ہوسکتا”
ابراہیم نے غصے سے کہا۔۔۔۔
کلاس میں ہر کوئی انہیں ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کمیل اور نوریض نے ارد گرد دیکھا۔۔۔۔
پھر ابراہیم کو چپ کروایا۔۔۔۔
منہا کی آنکھ سے دو آنسوں گرے۔۔۔۔
جسے مہارت سے اس نے انگلی کی مدد سے تیزی صاف کیے۔۔۔۔
اور بکس اور بیگ اٹھا کر کلاس سے باہر نکل گئی۔۔۔۔
“منہا۔۔۔منہا۔۔۔۔” آرب بھی اس کے پیچھے لپکا۔۔۔۔
ابراہیم تلخ تاثرات کے ساتھ کرسی پر بیٹھا تھا۔۔۔۔
“یار منہا میری بات تو سنو۔۔۔۔۔”
آرب اس کے پیچھے چل رہا تھا۔۔۔
“تم بھی جاؤ۔۔۔۔وہ صحیح کہ رہا ہے۔۔۔۔میں بدتمیز ہوں”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“یار۔۔۔وہ غصے میں کہ گیا۔۔۔اس کا یہ مطلب نہیں تھا”
وہ صفائی دینے لگا۔۔۔
“اس کا جو بھی مطلب تھا میں سمجھ گئی ہوں۔۔۔۔”
وہ بھیگی آنکھوں سے سیڑھیوں پر بیٹھ گئی۔۔۔
آرب بھی اس کے قریب بیٹھا۔۔۔۔
“سوری۔۔۔سب میری وجہ سے ہوا ہے”
وہ شرمندگی سے کہنے لگا۔۔۔
“نہیں تمہاری کوئی غلطی نہیں۔۔۔۔”
وہ رگڑ کر آنسوں صاف کرنے لگی۔۔۔
“,چلو کلاس میں۔۔۔۔”
وہ کہنے لگا۔۔۔
“نہیں میں کینٹین جارہی ہوں۔۔۔آج کوئی کلاس نہیں لوں گی”
وہ بیگ کاندھے پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“ٹھیک ہے لائبریری چلتے ہیں پھر۔۔۔”
وہ بھی اس کے پیچھے بیگ اٹھائے چل دیا۔۔۔
“تجھے ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی یار۔۔۔۔”
نوریض نے سامنے بیٹھے ابراہیم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“اور وہ چاہے کیسے بھی بات کرلے”
ابراہیم نے کڑھتے ہوئے کہا۔۔۔
“ایبو یار تو جانتا تو ہے اسے۔۔۔ وہ ایسی ہی ہے…ابھی دیکھ روتے ہوئے گئی ہے”
ایدہ نے اسے احساس دلانا چاہا۔۔۔
“ہاں تو مجھ پر کیا احسان کردیا رو کر”
ابراہیم نے بے رخی سے کہا۔۔۔
اور ہاتھ میں پکڑی چیونگم کا ریپر کھولنے لگا۔۔۔
“صحیح کہ رہا ہے۔۔۔یہ آرب ہی اٹھائے گا اس کے نخرے”
کمیل نے بھی سرا لگایا۔۔۔
“آرب اس کا خیال رکھتا ہے۔۔۔۔”
نوریض نے تصحیح کی۔۔۔
“محبت کرتا ہے اس سے”
ابراہیم نے چیونگم کو منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
اس کی بات پر تینوں نے حیران ہوکر اسے دیکھا۔۔۔۔
وہ اسی طرح پرسکون بیٹھا تھا۔۔۔
“کیا بات کر رہا ہے یار۔۔۔؟”
نوریض نے حیرانگی سے پوچھا۔۔۔
“میری ابزرویشن غلط نہیں ہوتی۔۔۔”
وہ اکڑ کر کہنے لگا۔۔۔۔
مگر ان تینوں کو اب بھی یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔
“اس لائن کو انڈرلائن کرو۔۔۔”
وہ کہنے لگا۔۔۔۔
منہا ہاتھ میں پکڑے پین سے نوٹ پیڈ پر کچھ لکھ رہی تھی۔۔۔
تبھی بیل کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔
پھر بک ریک میں رکھے باہر نکل گئے۔۔۔
“اب کیا کریں۔۔۔۔؟”
منہا نے سوال کیا۔۔۔
“رکو۔۔۔کچھ سوچتے ہیں۔۔۔”
وہ سوچتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں ٹیچر نکل کر چلا گیا۔۔۔۔
اور وہ دونوں تیزی سے اندر کی جانب بڑھے۔۔۔
ریک سے بک اٹھائی ہی تھی کہ کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔۔۔۔۔
وہ دونوں دوسری سائیڈ رکھے ٹیبل کے نیچے چھپ گئے۔۔۔
لائبریرین لائبریری میں داخل ہوا۔۔۔۔چند منٹ کوئی بکس وغیرہ سمیٹی اور لائٹ آف کر باہر نکل گیا۔۔۔۔
ان دونوں کی جان میں جان آئی ہی تھی کہ کسی نے لائبریری کا باہر سے دروازہ بند کردیا۔۔۔۔
ان دونوں نے یک دم ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔
اور نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
منہا اٹھ کر تیزی سے دروازے کی جانب گئی۔۔۔کھولنے کی کوشش کی مگر شاید باہر سے لاک لگایا گیا تھا۔۔۔۔
وہ بجا نہیں سکتی تھی۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر لا چارگی سے آرب کو دیکھا
۔۔۔
“اس نے شانے اچکائے۔۔۔البتہ وہ مسکرا رہا تھا۔۔۔
“وہ دونوں پورے دن نہیں دکھے۔۔۔”
نوریض نے بیگ صوفے پر پھینکتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ بھی صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔۔۔
“منہا کو زیادہ ہی برا لگ گیا۔۔۔”
نوریض نے پھر سے کہا۔۔۔
“سو۔۔۔واٹ؟” اس بار اس نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
“میں بس ویسے ہی کہ رہا ہوں”
نوریض نے فوراً صفائی دی۔۔۔
“تو کھانا لگا۔۔۔میں فریش ہوکر آتا ہوں”
وہ کہتے ہی اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
“تجھے کیا لگتا ہے ایبو جو کہ رہا تھا سچ تھا؟”
وہ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے بیٹھی پوچھنے لگی۔۔۔
“ہوسکتا ہے۔۔۔۔پیچھے تو آبی اس کے ایسے ہی پڑا رہتا ہے”
کمیل کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔
“مجھے ایسا نہیں لگتا۔۔۔۔وہ صرف اچھے دوست ہیں۔۔۔۔ہاں ان دونوں میں زیادہ بنتی ہے۔۔۔مگر محبت امپاسبل۔۔۔”
وہ شانے اچکا کر کہنے لگی۔۔۔
“یہ بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔”
وہ بھی ٹیبل سے اپنا کپ اٹھا ہونٹوں سے لگانے لگا۔۔۔
مگر ایدہ دماغ ابھی تک اسی سوال پر اٹکا تھا۔۔۔
“ہوگیا؟” آرب نے اسے دیکھ پوچھا۔۔۔
وہ جو سامنے بک کھولے کچھ لکھنے میں مصروف تھی اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
“ہم یہاں سے نکلیں گے کیسے؟”
منہا نے آخر کو پوچھا۔۔۔
“اب تو ہم صبح ہی نکل سکتے ہیں۔۔۔۔”
آرب نے ہاتھ جھاڑے۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔میرے امی بابا پریشان ہورہے ہوں گے۔۔۔۔مجھے گھر جانا ہے۔۔۔”
منہا نے فکرمندی سے کہا۔۔۔
“ایسا کرتے ہیں ایبو کو کہتے ہیں کچھ کر کے ہمیں نکالے یہاں سے”
آرب نے سیل فون نکالا۔۔۔
“نہیں۔۔۔ایبو کی کوئی ہیلپ نہیں چاہیے مجھے۔۔۔۔”
اس نے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔
وہ لمحہ بھر رکا۔۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔پھر ایدہ کو کہتا ہوں۔۔۔وہ تمہارے گھر فون کر کے بول دے گی کہ تم اس کے ساتھ ہو۔۔۔۔”
آرب نے دوسرا حل بتایا۔۔۔۔
“ہاں مگر۔۔۔ایدہ کیا سوچے گی کہ میں کہاں ہوں۔۔۔۔”
منہا کو پریشانی ہوئی۔۔۔۔
“کہاں کیا میرے ساتھ ہو بتا دیں گے”
آرب نے لاپرواہی سے کہا
“میں نہیں چاہتی وہ غلط سمجھیں کچھ۔۔۔”
منہا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
“اس میں غلط کیا ہے منہا۔۔۔۔ہم دوست ہیں۔۔۔۔اور کیا دو دوستوں میں محبت نہیں ہوسکتی؟”
وہ روانی سے کہ گیا۔۔۔
منہا نے یک دم نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔۔۔
وہ یک دم شرمندہ ہوا۔۔۔۔
“آبی۔۔۔۔” وہ زیر لب بڑبڑائی۔۔۔
“منہا میں۔۔۔۔مم۔۔۔۔میں۔۔۔پسند کرتا ہوں تمہیں۔۔۔۔”
وہ اٹکتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
“بلکہ۔۔۔۔میں۔۔۔۔محبت کرتا ہوں یار۔۔۔۔”
آرب نے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
وہ بنا تاثر چہرہ لیے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تم فکر نہیں کرو۔۔۔انکار بھی کرو گی تو ہم ایسے ہی اچھے دوست رہیں گے۔۔آئی سویر میں ذکر بھی نہیں کرو گا دوبارا ۔۔۔۔منہا۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“اتنا ڈر کیوں رہے ہو۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے پوچھنے لگی۔۔۔۔
اور آرب نے بے یقینی سے اسے دیکھا پھر یک دم مسکرا دیا۔۔۔۔
“اوف۔۔۔۔شکر تمہیں غصہ نہیں آیا”
اس نے گہرہ سانس خارج کیا۔۔۔۔
اور پیچھے کرسی سے ٹیک لگائی۔۔۔
“غصہ کیوں آئے گا۔۔۔۔میں جانتی تھی تم مجھے پسند کرتے ہو۔۔۔۔۔”
منہا پرسکون ہوئی۔۔۔
“ہاں۔۔۔؟ جانتی تھی؟”
وہ حیران ہوا۔۔۔
“اچھا یہ بتاؤ۔۔۔تم نے باسل کو کیوں مارا؟”
وہ اسے دیکھ سوال کرنے لگی۔۔۔
چہرہ ہتھیلی پر ٹکائے۔۔۔۔
“کیوں کہ اسے حق نہیں تمہیں کومپلمنٹ دے”
اس نے برا سا منہ بنایا
“مگر تھوڑی دیر پہلے اس سے۔۔۔ایبو نے بھی میری تعریف کی تھی۔۔۔تب برا کیوں نہیں لگا؟”
وہ پھر سے مسکرا کر پوچھنے لگی۔۔۔
“کیوں کہ میں جانتا ہوں۔۔۔ایبو کی نیت تم پر خراب نہیں ہے۔۔۔وہ غلط نظر رکھنے والوں میں سے نہیں ہے منہا۔۔۔۔”
وہ بہت سوچ کر جواب دے رہا تھا۔۔۔
“مگر اس نے مجھ سے جب جھگڑا کیا تب تم نے کیوں نہیں کچھ کہا”
وہ خفگی سے پوچھنے لگی۔۔۔
“دیکھو منہا۔۔۔۔وہ ہمارا دوست ہے۔۔۔۔۔ وہ کومپلمنٹ دے یا تم سے جھگڑا کرے۔۔۔میں کچھ نہیں کہ سکتا۔۔۔۔اور دوستوں میں جھگڑے ہوجاتے ہیں۔۔۔۔ناٹ اے بگ ڈیل۔۔۔۔”
وہ شانے اچکا کر کہنے لگا۔۔۔۔
اور منہا ہلکا سا مسکرا دی۔۔۔
