Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 25)

Blind Friends By Isra Rao

“یار کہاں ہو منہا”

ابراہیم نے آواز لگائی

“بس آگئی” منہا سوپ لیے کمرے میں داخل ہوئی

“میرا لیپ ٹاپ دے دو”

ابراہیم نے کہا

“کوئی کام وام نہیں کرنا یہ سوپ پیو”

اس نے سائیڈ پر سوپ رکھا

“کام تو مجھے کرنا ہوگا آج آفس بھی نہیں گیا”

ابراہیم نے فکرمندی سے کہا

“نہیں کام نہیں رکھو اسے”

منہا نے اس کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ لیا ۔۔۔

“ایک شرط پر۔۔۔تمہیں اپنے ہاتھوں سے پلانا ہوگا”

ابراہیم نے پاس بیٹھی منہا کو مسکرا کر دیکھا

“ہاں میں پلا دوں گی۔۔۔”

منہا نے سوپ سائیڈ ٹیبل سے اٹھایا

“اللہ ایسی بیوی سب کو دے”

ابراہیم نے سوپ پیتے ہوئے کہا۔۔۔

“ہاتھ جلا ہوا ہےتیرا۔۔۔اسی لیے پلا رہی ہوں”

منہا نے اس کی خوشی پر پل میں پانی پھیرا ۔۔

“میں نہیں پی رہا”ابراہیم نے منہ بنا کر اسے دیکھا

“اب کیا ہوا تجھے؟”

منہا نے فوراً پوچھا

“پہلے تو تم مجھ سے تمیز سے بات کیا کرو۔۔۔آپ کہا کرو شوہر ہوں”

ابراہیم نے روٹھے انداز میں کہا

“ہیں۔۔۔۔زیادہ پھیل نہیں رہا تو۔۔۔۔؟”

منہا نے اسے دیکھا

“تو۔۔۔ کیا ہوتا ہے۔۔۔آپ کہا کرو”

ابراہیم ہنسی دباتے سنجیدگی سے کہا

“لگتا دو دن سے جو خدمت ہورہی ہے ہضم نہیں کر پارہے آپ”

منہا نے آپ پر زور دیا۔۔۔۔

اور ابراہیم کی کب سے روکی ہنسی مزید روک نہیں پایا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“انابیہ سے کوئی بات ہوئی؟”

ایدہ نے پوچھا۔۔

“نہیں وہ ملک سے باہر گئی ہے۔۔۔۔دو دن بعد آئے گی”

کمیل نے بتایا

“نوریض نے دعوت کا بولا تجھے؟”

“ہاں…کل آیا تھا”

کمیل نے سادگی سے کہا

“میں کہتی تھی نہ کامی ایک دن میں سب ٹھیک کردوں گی ۔۔ہم دوست پھر سے ایک ہوجائیں گے۔۔۔ہم پھر کمینہ گروپ بنائیں گے۔۔۔۔پھر سے بلائنڈ فرینڈز کا بریسلیٹ پہنیں گے”

ایدہ خوش دلی سے کہتی چلی جارہی تھ

“اوہ ہاں۔۔۔۔وہ بریسلیٹ پہن لینا ضرور۔۔۔۔”

ایدہ نے یاد آنے پر کہا

“وہ بریسلیٹ تو گم ہوگیا مجھ سے”

کمیل نے یاد کرتے ہوئے کہا

“گم کیسے ہوگیا؟”

ایدہ نے پوچھا

تبھی احد کے رونے کی آواز ایدہ کے کانوں میں پڑی۔۔۔۔

کامی بعد میں کال کرتی ہوں۔۔۔احد اٹھ گیا”

اس نے کا ڈسکنیکٹ کردی

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

دروازے پر دستک ہوئی اور آرب اور ایدہ اندر داخل ہوئے

“ویلکم ویلکم”

نوریض نے مسکرا کر کہا

“کیسے ہو؟” آرب نے سوال کیا

“ایک دم فٹ۔۔۔۔اندر آؤ”

نوریض ننے صوفے کی جانب اشارہ کیا

جہاں ابراہیم پہلے سے بیٹھا کشمالہ کے ساتھ

“طبیعت کیسی ہے ابراہیم ؟”

آرب نے سنجیدگی سے سوال کیا

“طبیعت تو میری ٹھیک ہی تھی بس پاؤں میں چوٹ لگی تھی”

ابراہیم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا

تبھی منہا وہاں آئی۔۔۔۔

آرب نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر بیٹھ گیا

“اور ویسے بھی جس کے پاس اتنی خدمت کرنے والی بیوی ہو۔۔۔اس کا پاؤ ہی کیا جسم کا اور روح کا ہر زخم بھر جاتا ہے۔۔۔۔”

ابراہیم نے محبت سے منہا کو دیکھا۔۔۔

“صحیح کہ رہے ہو ایبو محبت کرنے والی بیوی ہونی چاہیے ۔۔۔جیسے آرب کو میں ملی”

ایدہ نے پاس بیٹھے آرب کا ہاتھ تھاما

(بدقسمت بے چارہ)

نوریض نے دل میں کہا

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔

“میں دیکھتا ہوں۔۔۔کانی ہوگا۔۔۔وہ ہے ہی لیٹ لطیف”

نوریض ہنس کر کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

“سوری یار تھوڑا لیٹ ہوگیا”

کمیل نے نوریض سے ملتے ہوئے کہا

نوریض کی نظر اس کے ہاتھوں پر تھی

مگر وہاں کوئی بریسلیٹ نہیں تھا

نوریض نے ابراہیم کی جانب دیکھا

اور نفی میں سر ہلایا

کمیل بھی ان کے ساتھ آ بیٹھا

“تو کبھی ٹائم پر نہیں پہنچتا کامی”

ابراہیم نے کہا

“کالج میں تو تو بھی میرے ساتھ ہی آتا تھا۔۔۔۔”

کمیل نے جیسے یاد دہانی کروائی

“ہاں اور دونوں کا ایک ہی کام ہوتا تھا لڑکیاں سیٹ کرنا”

ایدہ نے ہنس کر کہا

منہا کو جیسے اس کی بات بری لگی۔۔۔

منہا کے فوراً تاثرات چینج ہوئے

آرب اس بات پر مسکرایا۔۔۔۔

“پھر بھی کالج کی سب سے حسین لڑکی کو لے اڑا میں۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے جیسے ان کا پتھر انہی پر مارا

ایدہ کی ہنسی غائب ہوئی

“کتنا اچھا لگ رہا ہے پھر سے ایک ساتھ بیٹھنا۔۔۔۔کتنی یادیں تازہ ہوگئی نا”

کمیل نے کہا

“ہاں۔۔۔۔بلائینڈ فرینڈز کا ٹائٹل ہمارا ہے”

آرب نے کہا

“کامی تیرے ہاتھ میں بریسلیٹ نہیں ہے”

ابراہیم نے سوال کیا

“ہا۔۔۔۔۔ہاں وہ میں بھو۔ ۔۔۔۔” اس سے پہلے کمیل کوئی بہانہ بناتا

ایدہ نے بات کاٹی

“اس کا بریسلیٹ گم ہوگیا۔۔۔اس نے کل ہی مجھے بتایا۔۔۔۔مگر ایک دکھا کر ہم ایسا بنوا سکتے ہیں”

ایدہ نے کہا

“نہیں وہ مل گیا تھا بس میں پہننا بھول گیا”

کمیل نے فوراً کہا

ابراہیم اور منہا ایک دوسرے کو دیکھنے لگے

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“میں نے کہا تھا نا کمیل ہے”

نوریض نے ٹہلتے ہوئے کہا

“یار ہم سچ میں اندھے ہی تھے”

منہا نے کہا

“ان دونوں بہن بھائی نے مل کر ہمیں پھنسایا تھا”

نوریض کو غصہ رہا تھا

“ٹھنڈا ہوجا۔۔۔۔ابھی غصے کا وقت نہیں ہے۔۔۔۔”

ابراہیم نے صوفے سے ٹیک لگائے پرسکون لہجے میں کہا

“آرب کا کوئی قصور نہیں تھا اسے بھی دھوکا ہی دیا تھا ان لوگوں نے”

رتبہ نے انہیں دیکھ کہا

“وہ اتنا بے قصور بھی نہیں۔۔۔۔”

منہا نے رتبہ کو دیکھا

“میری بات سن نوریض کنسٹرکشن کے لیے جو گلاس چاہیے۔۔۔۔وہ سب کمیل کی فیکٹری سے بنیں گے”

ابراہیم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

“واٹ۔۔۔۔؟ “

نوریض نے اسے دیکھا

“پوری بات سن لے باپ “

ابراہیم نے اکتا کر کہا

“تم کرنا کیا چاہتے ہو ایبو؟”

منہا پوچھ بیٹھی

“ہوٹل کے ٹوٹل گلاس کا آرڈر کمیل کی فیکٹری کو دے دے ۔۔۔مگر جب مال تیار ہوگا ہم انکار کردیں گے۔۔۔۔یہ ایک بہت بڑا نقصان ہوگا کمیل کو۔۔۔۔۔وہ ٹھیک ٹھاک پیسہ لگائے گا اس آرڈر پر۔۔۔۔سمجھ”

ابراہیم نے نوریض کو سمجھاتے ہوئے کہا

نوریض نے سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“میم آپ ہی ہمارا ساتھ دے سکتی ہیں۔۔۔۔”

ابراہیم نے سامنے بیٹھی خاتون کو دیکھا

“پتا ہے مسٹر ابراہیم۔۔۔۔نوریض کو میں نے کبھی اپنا امپلائے نہیں سمجھا۔۔۔۔اسے میں نے ہمیشہ اپنا چھوٹا بھائی سمجھا ہے۔۔۔۔ایک دوست سمجھا۔۔۔۔کیونکہ یہ میرے ساتھ مخلص ہے”

وہ پر اعتمادی سے کہنے لگی

“اس نے ایک بار چار سالہ بیٹے کی جان بچائی تھی۔۔۔۔اگر یہ نہ بچاتا اسے تو شاید آج میں بے اولاد ہوتی۔۔۔میرا ایک ہی بیٹا ہے۔۔۔۔”

وہ پرانا وقت یاد کرتی کہ رہی تھی ۔۔۔

“مگر نوریض نے مجھے کبھی نہیں بتایا یہ”

ابراہیم نے یاد کرتے ہوئے کہا

“ہاں۔۔۔یہی تو اس کی خاص بات ہے۔۔۔کہ اس نے میرے زخمی بیٹے کو ہسپتال پہنچایا اور خون بھی دیا۔۔۔۔اور اسے یاد بھی نہیں”

وہ سنجیدہ تھی

ابراہیم حیرانی سے سن رہا تھا

“ہاں مگر جب وہ انٹرویو کے لیے آیا تو میں میں نے اسے پہنچان لیا تھا۔۔۔۔اس کے بعد وہ میرے پاس جاب کرنے لگا۔۔۔۔مگر وہ واقع ایک بہترین شخص ہے”

وہ دل سے تعریف کر رہی تھی

“میں جانتا ہوں۔۔۔۔اسی لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں… نوریض اور منہا کے ساتھ جو بھی ہوا میں نے آپ کو بتا دیا۔۔۔۔ہمیں آپ کی ہیلپ کی ضرورت ہے”

ابراہیم نے امید بھری نظروں سے انہیں دیکھا۔۔۔۔

“اگر نوریض کو میری ہیلپ کی ضرورت ہے تو میں ضرور کروں گی”

وہ مسکرائی

❤️❤️❤️❤️❤️..

“سر آپ سے مس انابیہ ملنے آئی ہیں”

ابراہیم آفس میں کام کرنے میں مصروف تھا جب سیکرٹری نے بتایا

“مس انابیہ ۔۔۔؟” اس کے چہرے پر اکتاہٹ ابھری

“ٹھیک ہے آپ انہیں اندر بھیج دیں”

ابراہیم نے کہا۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں انابیہ اندر داخل ہوئی

ابراہیم اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

“ہیلو۔۔۔کیا میں بیٹھ جاؤں؟”

انابیہ نے پوچھا

بیٹھیں۔۔۔۔”

ابراہیم نے بنا کسی تاثر کے کہا

“مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔۔۔آپ میرے میسجز کا کالز کا جواب ہی نہیں دے رہے”

انابیہ نے شکوہ کیا

“دیکھیں مس انابیہ۔۔۔میں ایک شادی شدہ آدمی ہوں۔۔۔۔آپ مجھ سے کیا چاہتی ہیں؟”

ابراہیم نے سنجیدگی سے پوچھا

“میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔پسند کرتی ہوں میں آپ کو”

انابیہ نے بنا جھجکے کہا

ابراہیم نے ابرو سکیڑی۔۔۔۔

لمحہ بھر وہ خاموش رہا۔۔۔

“آپ کا دماغ ٹھیک ہے۔۔۔۔میں۔۔میں شادی شدہ ہوں”

ابراہیم کو اس لڑکی کی بے وقوفی پر سر پیٹنے کا دل چاہ رہا تھا

“مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔میں دوسری بیوی بھی بننے کے لیے تیار ہوں”

وہ جذباتی ہوئی

“ایسا بھی کیا دیکھ لیا مجھ میں۔۔۔۔”

وہ کرسی سے کھڑا ہوا

“ابراہیم میں نے جب سے آپ دیکھا۔۔۔۔پسند کرنے لگی۔۔۔۔مگر جب سے آپ نے مجھے ریجیکٹ کیا۔۔۔مجھ میں آپ کو پانے خواہش بڑھتی چلی گئی۔۔۔۔”

وہ بھی کھڑی ہوئی

“آپ پاگل ہوگئی ہیں۔۔۔۔سچ میں ۔۔۔دیکھیں آپ بہت اچھی لڑکی ہیں ۔۔آپ کو کوئی بھی مل جائے گا۔۔۔۔مگر میں نہیں۔۔۔۔میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں”

ابراہیم نے صاف گوئی سے کام لیا

“مگر مجھے کوئی بھی نہیں چاہیے۔۔۔صرف آپ چاہیے ہو ابراہیم “

وہ اس کی جانب دیکھ کہنے لگی

“کیا عجیب ضد لگائی ہوئی ہے۔۔۔۔جائیں یہاں سے آپ۔۔۔۔اور دوبارا مجھے کال مت کیجیے گا پلیز”

وہ تلخی سے کہنے لگا۔۔۔۔

انابیہ کی آنکھوں میں آنسوں تیر آئے۔۔۔۔

وہ بنا کچھ کہے تیزی سے باہر نکل گئی

❤️❤️❤️❤️❤️..

“میں ایڈوانس بھیج دوں گی۔۔۔۔باقی کا اماؤنٹ آپ کا آرڈ پورا کرنے پر مل جائے گا”

سلطانہ میم نے کہا۔۔۔

“جی جی فکر ہی مت کریں۔۔۔۔آپ کا آرڈر وقت پر پورا ہوگا”

کمیل نے مسکرا کر کہا

سلطانہ میم کے جاتے ہی کمیل نے مینیجر کو کال کی۔۔۔۔اور میٹنگ ارینج کرنے کو کہا ۔۔۔۔

یہ بہت آرڈر تھا۔۔۔اسے یہ آرڈر ٹائم سے پہلے کمپلیٹ کرنا تھا۔۔۔۔

اس نے خاور صاحب کو کال کی۔۔۔۔اور ایک رقم کی مانگ کی۔۔۔۔وہ جانتا تھا اس آرڈر سے انہیں بہت فائدہ ہوگا۔۔۔۔

“پہلے ان کی ایڈوانس کی رقم آنے دو ۔۔۔پھر کام شروع کرنا۔۔۔۔”

خاور صاحب نے کہا

“ارے نہیں بابا وہ اعتبار والی خاتون ہے۔۔۔میرا دوست نوریض ہے نا۔۔۔وہ ہی سنبھالتا ہے سارا کام ان کا۔۔۔۔”

کمیل نے کہا

“پھر بھی تم ایک بار نوریض سے بات کرلو۔۔۔۔پھر اکاؤنٹ سے نکال لینا رقم۔۔۔۔”

خاور صاحب نے کہا

ان کے فون بند کرتے ہی کمیل نے نوریض کو کال ملائی

“تیری میم آئی تھی یار آج۔۔۔میم سلطانہ۔۔۔۔آرڈر دے کر گئی ہیں۔۔۔مگر چیک نہیں دیا انہوں نے”

کمیل نے کہا

“فکر ہی مت۔۔۔جتنا اعتبار تو مجھ پر کرسکتا ہے نا اتنا ہی ان پر کرسکتا ہے۔۔۔۔وہ دھوکا دینے والی خاتون نہیں ہے تجھے پتا ہے ۔۔۔تو کام شروع کر۔۔۔۔پیسے دلوانا میرا کام ہے یار”

نوریض نے تسلی دی

“تجھ پر تو پورا بھروسہ ہے یار۔۔۔۔چل میں کام شروع کرواتا ہوں۔۔۔تو لگانا چکر میرے پاس۔۔۔۔”

کمیل نے انوائیٹ کیا

“ضرور۔۔۔ہم تو تیری بادشاہی میں ہیں یار۔۔۔۔”

نوریض نے خوش دلی سے کہا۔۔۔۔

اور یہاں وہاں کی بات کر فون بند کردیا

❤️❤️❤️❤️❤️..

(میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔۔۔۔پسند کرتی ہوں میں آپ کو)

وہ کاؤچ پر ٹانگیں پھیلائے بیٹھا تھا۔۔۔۔

(مگر مجھے کوئی بھی نہیں چاہیے۔۔۔صرف آپ چاہیے ہو ابراہیم)

وہ گہری سوچ میں تھا۔۔۔۔

جب منہا وہاں آئی۔۔۔۔مگر وہ بے خبر سوچوں میں گم تھا

منہا نے ہاتھ بڑھا کر اس کے بال بکھیرے۔۔۔

ابراہیم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔

مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ۔۔۔۔

“کیا بات ہے پریشان ہے کسی بات سے؟”

منہا اس کی گود میں بیٹھی۔۔۔۔

“نہیں تو۔۔۔۔۔پریشانی ہوئی بھی تو تمہارے قریب آنے سے ہی غائب ہوگئی سمجھو۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے اس کے گرد حصار مضبوط کیا۔۔۔۔

منہا اس کی بات پر مسکرائی ۔۔۔۔اور اس کے گال پر محبت سے مہر ثبت کی۔۔۔۔

“میں تمہارے علاوہ اپنی زندگی میں کسی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔۔۔۔میں تمہیں کبھی کھونا نہیں چاہتا منہا”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کہنے لگا۔۔۔۔

“بے فکر رہو۔۔۔۔میں کسی کا تصور بھی نہیں آنے دوں گی۔۔۔۔تم صرف میرے رہو گے۔۔۔ہمیشہ اور میں صرف تمہاری”

وہ اس کے گال پر ہاتھ رکھے حق سے کہنے لگی۔۔۔۔

ابراہیم کے ہونٹوں پر بے اختیار ہی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔۔

اس نے جھٹکے سے اسے قریب کیا اور اس کے ہونٹوں پر وہی عمل دہرایا جو تھوڑی دیر پہلے اس نے کیا تھا۔۔۔۔

“ابھی نہیں۔۔۔۔۔۔”۔منہا نے اسے پیچھے دھکا دیا۔۔۔۔اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔

“اچھا ادھر آؤ۔۔۔میری بات تو سنو۔۔۔۔” وہ ہنستا سیدھا ہوا

“نو۔۔۔۔” وہ مسکراتی نفی میں سر ہلاتی پیچھے ہوئی۔۔۔

“یار منہا۔۔۔۔۔” اس نے منہ بنایا

“کہتے ہیں جب شوہر پیار سے بلائے تو جانا نہیں چاہیے”

منہا نے ہنسی دباتے شرارت سے کہا

“میں جیسے اٹھ نہیں سکتا؟” وہ قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔۔۔اور اٹھ کھڑا ہوا

“تمہارے پاؤں میں درد ہے ابھی”وہ کہتی مسکراتی اندر کی جانب بھاگی۔۔۔

ابراہیم بنا وقت ضائع کیے اس کے پیچھے لپکا۔۔۔۔

اس کے پاؤں میں واقع درد تھا تھوڑا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“سر آرڈر کمپلیٹ ہوگیا ہے۔۔۔۔مگر ان کی کال نہیں آئی۔۔۔۔”

مینیجر نے کمیل کو کہا

“تو تم کرتے کال۔۔۔۔”

کمیل نے کہا

“سر میں تین دن سے کال کر رہا ہوں مگر کوئی جواب نہیں۔۔۔آج میں نے فضل کو بھی ان کے آفس بھیجا تھا مگر انہوں نے ملنے سے انکار کردیا۔۔۔۔”

اس نے پوری تفصیل دی

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔۔آپ خود جائیں ان کے آفس۔۔۔۔میں بھی بات کرتا ہوں”

کمیل نے تسلی دی

“جی سر”

وہ کہتا باہر نکل گیا۔۔۔۔

اور کمیل نے سلطانہ میم کا نمبر ڈائل کیا مگر نمبر مسلسل بند جارہا تھا۔۔۔۔

اس نے نوریض کو کال ملائی۔۔۔۔۔

مگر کتنی ہی کال جانے پر کال رسیو نہیں ہوئی۔۔۔۔

ایک خوف کی لہر اس میں سرائیت کرگئی تھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کیوں وہ مجھے پسند نہیں کرتا؟”

وہ ڈرائیو کر رہی تھی۔۔۔۔

(دیکھیں آپ بہت اچھی لڑکی ہیں ۔۔آپ کو کوئی بھی مل جائے گا۔۔۔۔مگر میں نہیں۔۔۔۔میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں)

اس کی سماعت سے جملہ ٹکرایا۔۔۔۔۔

دو آنسوں اس کے گال پر پھسلے۔۔۔۔

اس نے گاڑی کی سپیڈ بڑھائی۔۔۔۔

دل پھٹنے کو تیار تھا۔۔۔۔

ٹکرائے جانے کا احساس اسے کھائے جارہا تھا۔۔۔۔

مگر فل ابھی ضد پر تھا وہ شخص چاہیے بس وہی۔۔۔۔۔

اس کی آنکھوں کے سامنے یک دم اندھیرا چھایا۔۔۔۔اور اب گاڑی کو وہ سنبھالنے پر بھی سنبھال نہ سکی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

اس نے مزید دو دن انتظار کیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔۔۔۔

میم سلطانہ کا نمبر مسلسل بند جارہا تھا۔۔۔

اور نوریض کال اٹھا نہیں رہا تھا۔۔۔۔

مینیجر بھی گیا مگر نہ ہی میم سلطانہ ملی اور نہ ہی نوریض۔۔۔انہیں انکار کر کے واپس بھیج دیا گیا۔۔۔۔

“میم سلطانہ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتی۔۔۔۔”

وہ پریشانی سے ڈرائیو کر رہا تھا۔۔۔۔

اس کا رخ نوریض کے آفس کی جانب تھا۔۔۔۔

“مجھے میم سلطانہ سے ملنا ہے”

کمیل نے ریسیپشن پر بیٹھی خاتون کو کہا

“سوری سر وہ یہاں نہیں ہیں۔۔۔۔”

انکار سنتے ہی اس کا غصہ ابھرنے لگا

“نوریض تو ہوگا۔۔۔انہیں کہیں کمیل رئیسی آیا ہے”

کمیل نے ضبط سے پوچھا

“ایک منٹ سر”

اس نے فون اٹھایا اور نوریض کو کمیل کا بتایا۔۔۔۔

اجازت ملنے پر کمیل کو اندر بھیج دیا گیا

“نوریض۔۔۔۔۔” وہ اندر داخل ہوا۔۔۔۔

نوریض سامنے ہی کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔

اسے دیکھ مسکرایا۔۔۔۔

“یار نوریض یہ سب کیا ہے۔۔۔۔سلطانہ میم کوئی رابطہ نہیں کر رہی۔۔۔نہ تو کوئی جواب دے رہا ہے۔۔۔وہاں مال تیار ہے۔۔۔۔”

کمیل نے سنجیدگی سے تفصیل دی

“لیکن اب ہمیں مال نہیں چاہیے”

نوریض نے ٹھنڈے لہجے میں کہا

“واٹ؟” کمیل کو جھٹکا لگا

“تو بیٹھ میں بتاتا ہوں۔۔۔بیٹھ نا”

نوریض نے بیٹھنے پر زور دیا

“میں باسل سے ملا تھا ۔۔۔اس نے بتایا۔۔۔۔بلکہ اس نے مجھے سمجھایا۔۔۔کہ دوستی پر اندھا یقین نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔مگر یہ دیکھ۔۔۔۔”

نوریض نے کوٹ کی بازوں کو اوپر کر کلائی پر بندھا بریسلیٹ دکھایا

کمیل کا حلق خشک ہوا باسل کا نام سن

“ہم تو بلائنڈ فرینڈز تھے۔۔۔۔میں نے تجھ پر اندھا بھروسہ کیا تھا ایک بار۔۔۔یاد ہے ۔۔۔جبکہ مجھے کرنا نہیں چاہیے تھا”

نوریض نے کاٹ دار لہجے میں کہا

“نوریض۔۔۔۔تو۔۔۔” کمیل نے کچھ کہنا چاہا مگر نوریض نے چپ کروایا

“نہ نہ۔۔۔میری بات سن۔۔۔کہتے ہیں دوستی دنیا کا سب سے خوبصورت رشتہ ہوتا ہے۔۔۔۔یہ ہر رشتے سے بڑھ کر ہوتا ہے۔۔۔۔پھر تو نے کیسے خون کے رشتے کی مفاد کی خاطر۔۔دوستی جیسے عظیم رشتے کا خون کردیا کامی۔۔۔۔”

نوریض نے سرخ آنکھوں سے سوال کیا۔۔۔

“تو کیا کہ رہا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا”

کمیل نے کہا۔۔۔۔

“اب سمجھا۔۔۔۔” نوریض نے کوٹ کی جیب سے دوسرا بریسلیٹ نکال کر اس کے سامنے ٹیبل پر رکھا۔۔۔۔

ابراہیم اسے دیکھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

پھر ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھایا۔۔۔۔

وہ اسی کا تھا۔۔۔۔

“یہ تیرا ہے جو چار سال پہلے تو اس رات گم کرچکا تھا”

نوریض نے یاد دہانی کروائی۔۔۔

وہ سر جھکا گیا۔۔۔۔

“ارے میرا چھوڑ۔۔۔۔منہا کا سوچتا۔۔۔وہ کتنی ععزیت سے گزری تھی۔۔۔۔اس دن اگر تو ٹائم پر نہیں پہنچتا تو اس معصوم کی زندگی برباد ہوجاتی۔۔۔۔۔”

نوریض چل کر اس کے قریب آیا۔۔۔۔

“نوریض میں مانتا ہوں ہم سے غلطی ہوئی۔۔۔۔مگر دیکھ میں معافی مانگ رہا ہوں۔۔۔۔میں چار سال سے ہر دن پچھتایا ہوں۔۔۔۔یقین جان”

کمیل نے اسے دیکھ کہا

“پچھتاوے سے چار سال واپس نہیں آجائیں گے۔۔۔۔ہمارا اندھا اعتبار واپس نہیں آجائے گا “

نوریض نے تلخی سے کہا

“دیکھ نوریض۔۔۔میرے بھائی۔۔۔بھول جا سب۔۔۔۔ہم پھر سے دوست بن کر رہیں گے۔۔۔۔میں منہا سے بھی معافی مانگ لوں گا۔۔۔۔۔”

کمیل نے منت کی

“نہیں کمیل رئیسی۔۔۔۔اب معافی کا وقت نکل چکا۔۔۔۔اب بدلہ ہوگا۔۔۔۔۔صرف بدلہ”

نوریض نے چبا کر کہا۔۔۔۔

وہ ساکت کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

اس کے راز آج کھل چکے تھے۔۔۔۔

“جا نہیں اٹھا رہے مال۔۔۔۔جو کرنا ہے کرلے”

نوریض نے کمیل کو گھورتے ہوئے کہا

“نوریض تو میرا دوست ہے تو ایسانہیں کرسکتا۔۔۔میری فیکٹری کو بہت بڑا نقصان ہوگا۔۔۔”

کمیل نرمی سے سمجھانے لگا

“آہاں۔۔۔کریکشن کر۔۔۔دوست ہوں نہیں دوست تھا۔۔۔تجھے بھی تو پتا لگے کہ دوست جب دشمن بنتا ہے تو دشمنوں سے بھی زیادہ بے رحم نکلتا ہے”

نوریض نے حقارت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔

“تو۔۔۔تو بس میم سلطانہ سے ملوا مجھے”

کمیل نے غصے کو پرے دھکیلا

“سوری۔۔۔۔” نوریض نے منہ پھیرا۔۔۔۔

“تمہاری میم نے آرڈر دیا تھا نوریض۔۔۔۔ہم اتنا مال لے کر کہاں جائیں گے؟”

کمیل نے لاچارگی سے کہا

“دیکھو ہمارا سر درد نہیں ہے۔۔۔۔۔اتنی بڑی فیکٹری ہے بیچ دینا کسی کو”

نوریض نے لاپرواہی سے کہا

“اپنی میم سے بات کروا میری”

کمیل نے ضبط کرتے ہوئے حکم صادر کیا

“کامی۔۔۔اوہ سوری مسٹر کمیل رئیسی۔۔۔۔میم سلطانہ ملک سے باہر گئی ہیں۔۔۔۔میں آپ کی بات نہیں کروا سکتا”

نوریض نے مسکرا کر کہا

“مال تو تجھے اٹھانا پڑے گا۔۔۔ورنہ میں جان سے مار دوں گا تجھے” کمیل نے اسے جھٹ گریبان سے پکڑا۔۔۔۔

“اوہ سوری سوری ۔۔۔میں تو ڈر گیا”

نوریض نے گھبراہٹ کا لبادہ اوڑھا

“وہ دیکھ اوپر کیمرہ ہے۔۔۔۔۔تو مجھے ہاتھ بھی لگائے گا تو سب ریکارڈ ہوگا۔۔۔۔۔سمجھا”

نوریض نے فاتحانہ انداز میں وارن کیا

کمیل نے ایک نظر کیمرے کو دیکھا پھر جھٹکے سے گریبان چھوڑ ا

“دیکھ لوں گا تجھے میں “

کمیل نے انگلی دکھا کر کہا۔۔۔۔

نوریض نے لاپرواہی سے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔

وہ اسے گھورتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔

“ابھی تو بدلہ شروع ہوا ہے کمیل رئیسی۔۔۔۔۔۔تجھے اور تیری بہن کو رونے پر مجبور نہ کردیا تو کہنا”

نوریض نے اپنا کوٹ جھاڑتے ہوئے کہا۔۔۔۔