Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 27)

Blind Friends By Isra Rao


“یہ سب اس نوریض نے کیا ہے۔۔۔۔”

کمیل بڑبڑایا

“کامی کچھ کر۔۔۔آرب کو باہر نکال”

ایدہ نے منت کی

“میں نے کہا ہے ڈیڈ کو۔۔۔مگر ڈیڈ کو پہنچنے میں رات ہوجائے گی۔۔۔۔”

کمیل نے تفصیل دی

“ڈیڈ کو بھی ابھی شہر سے باہر جانا تھا”

ایدہ پریشان ہوئی

“تو فکر نہیں کر کچھ سوچتے ہیں”

کمیل نے اسے تسلی دی

“میں چھوڑوں گی نہیں اس نوریض کو”

ایدہ غرائی۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ آرب کو کیسے جیل سے نکالے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“نوریض کو بھجوا دیا کارڈ؟”

منہا نے پوچھا

“ہاں۔۔۔۔میں نے ڈرائیور کو دے دیا تھا”

ابراہیم نے بتایا

“تم خود دے کر آتے نا۔۔۔”

منہا نے پانی کا گلاس ہونٹوں سے لگایا

“کمیل اور ایدہ کو مجھ پر شک نہ ہو تبھی ڈرائیور کے ہاتھ بھجوایا۔۔۔۔اور ویسے بھی آرب جیل میں ہے تو بات گرم ہے ابھی”

ابراہیم نے کہا

“آرب جیل میں ہے؟” وہ چونکی

“ہاں ہوٹل کی کنسٹرکشن میں جو مال استعمال ہورہا تھا وہ سب ملاوٹ والا تھا۔۔۔۔کمپنی نے جب چیک کیا تو آرب ہی قصور وار نکلا۔۔۔۔آج پورے دن سے جیل میں ہی ہے”

ابراہیم ہلکا سا مسکرایا

منہا خاموشی سے کھڑی کسی گہری سوچ میں ڈوبی

“کیوں؟ تمہیں برا لگا؟”

ابراہیم نے اسے دیکھا

“نہیں۔۔۔۔بلکل بھی نہیں۔۔۔”

وہ زبردستی مسکرائی

“یہ کارڈز ۔۔۔دینے ہیں مجھے۔۔۔دیر ہوجائے گی رات تک آؤں گا۔۔”

ابراہیم نے ہاتھ میں لیے کارڈز دکھائےاور باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“شادی میں ضرور آنا ہے۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے اسے کارڈ دیتے ہدایت دی

“ممکن نہیں یار۔۔۔پہلے ہی بہت پریشانی ہے”

کمیل نے پریشانی نہیں چھپائی

“کیا ہوا خیریت؟”

وہ پوچھنے لگا

“آرب کو پولیس نے اریسٹ کرلیا ہے۔۔۔۔۔اس کا باس بھی اس سے خفا ہے۔۔۔۔”

کمیل نے اسے ساری تفصیل دی

“اوہو۔۔۔۔بہت افسوس ہوا”ابراہیم نے افسردگی سے کہا

“یہ سب اس نوریض نے کیا ہے۔۔۔آرب نے بھی دوستی میں نوریض پر اعتبار کر کے دھوکا کھا لیا۔۔۔۔جیسے میں نے کھایا تھا۔۔۔۔اس سب کے پیچھے وہی ہے”

کمیل نے حقارت بھرے لہجے میں کہا

“نوریض کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔۔۔اس نے جو تیرے ساتھ اس پر ہی میں نے اس دن کے بعد سے ملنا چھوڑ دیا جو ایک دوست کو دھوکا دے سکتا ہے وہ مجھے بھی سکتا ہے”

ابراہیم نے سادگی سے کہا

لیکن میں بھی اس نوریض کو چھوڑوں گا نہیں۔۔۔۔اس کی کوئی اوقات نہیں ہے میرے سامنے۔۔۔۔”

کمیل غرایا

تبھی ملازمہ چائے رکھ کر گئی۔۔۔۔

ابراہیم نے کپ ہاتھ میں اٹھایا۔۔۔۔۔

اس کی نظر کمیل پر ہی تھی اس کی آنکھوں میں نوریض کے لیے غصہ تھا۔۔۔۔

“میں نے تو نوریض سے بات چیت ہی چھوڑ دی۔۔۔۔بندہ اتنا گر کیسے سکتا ہے۔۔۔آخر کو ہم دوست ہیں سب”

ابراہیم نے چائے کی گھونٹ بھرتے منہ بنایا

“تو میرا سچا دوست ہے یار۔۔۔۔”

کمیل نے محبت سے دیکھتے ہوئے کہا

“اب تو کیا کرے گا کامی؟”

ابراہیم نے سنجیدگی سے پوچھا

“میں اس کے سارے بینک اکاؤنٹس سیل کروادوں گا۔۔روپے روپے کے لیے اسے محتاج کردوں گا۔۔۔۔۔وہ ابھی مجھے جانتا ہی نہیں ہے”

کمیل غصہ سے چبا کر کہنے لگا۔۔۔۔

ابراہیم نے ابرو اچکائی۔۔۔۔

“ہاں صحیح کر رہا ہے۔۔۔وہ ہے ہی اسی لائق۔۔۔۔”

ابراہیم نے کہتے ہی آخری گھونٹ بھری۔۔۔مگر وہ پریشان ہوگیا تھا۔۔۔۔

“چل یار مجھے نکلنا بھی ہے گھر کے لیے زیمل کی شادی ہے۔۔۔۔۔بہت کام ہیں گھر میں تجھے آنا ہے لازمی”

وہ کہتے ساتھ ہی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

پھر مسکرا کر ملتا باہر نکل گیا۔۔۔۔

اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی نوریض کو کال ملائی۔۔۔۔

اگلی ہی بیل پر کال رسیو ہوئی۔۔۔۔

“ہیلو نوریض “

ابراہیم نے یک دم کہا

“ہاں کیا ہوا؟”

نوریض نے پوچھا

“تیرے اکاؤنٹ میں کتنا پیسہ ہے؟”

ابراہیم نے جھٹ پوچھا

“تجھے کیوں بتاؤں؟ یہ تو میں نے اپنی بیوی کو نہیں بتایا آج تک”

نوریض نے لاپرواہی سے کہا

“ہاں تو مت بتا۔۔۔کمیل خود ہی پتا لگا لے گا۔۔۔۔جب تیرا اکاؤنٹ وہ سیل کرے گا”

وہ نوریض کی بات پر ٹھیک ٹھاک تپا تھا

“ہیں۔۔۔کیا؟” اسے اگلا سانس نہیں آیا

“پچاس ہزار چھوڑ کر چھوڑ کر سب رقم نکال لے”

ابراہیم نے جلدی سے مشورہ دیا

“تو میں سارے نکالوں گا پچاس کیوں چھوڑوں۔۔۔محنت کی کمائی ہے میری”

نوریض نے گھبرا کر کہا

“کمینے سارے نکالے گا تو اسے شک نہیں ہوگا مجھ پر؟”

ابراہیم نے جیسے اس بے عقل کو عقل دینی چاہی۔۔۔

“مگر میرے پچاس ہزار کون دے گا؟”

وہ الٹا پوچھنے لگا۔۔۔

“تیرا باپ دے گا۔۔۔میں فون کے اندر سے گھس کر تیرا قتل کردوں گا اور لاش کامی کے حوالے کردوں گا۔۔۔۔۔”

ابراہیم کا واقع اسے مارنے کا دل کر رہا تھا۔۔۔۔

مگر وہ دور تھا ورنہ شاید وہ یہ نیک کام کر ہی دیتا۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کیسا لگ رہا ہے؟” منہا نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔۔۔

وہ جو زمین پر بیٹھا تھا۔۔۔اس کی آواز سن اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

اور چل کر جیل کی سلاخوں کے قریب آیا جس کی دوسری طرف وہ کھڑی تھی۔۔۔۔

“تم تو بہت خوش ہوگی مجھے اس حال میں دیکھ کر؟”

آرب نے کاٹ دار لہجے میں کہا

” تمہیں یہ لگتا ہے؟” منہا نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

وہ خاموش رہا۔۔۔۔

“صحیح لگتا ہے۔۔۔۔مجھے بہت خوشی ہورہی ہے تمہیں اس حال میں دیکھ کر”

منہا نے کاٹ دار لہجے میں کہا

آرب نے اسے گھورا۔۔۔۔

“تمہیں بھی تو پتا لگے۔۔۔جب انسان بے قصور ہوتا ہے اور پھر بھی سزا ملتی ہے۔۔۔۔اس سے صفائی نہیں مانگی جاتی۔۔۔۔تو وہ کتنا بے بس ہوتا ہے۔۔۔کیسا محسوس کرتا ہے”

منہا نے سنجیدگی سے کہا

“میں نے یہ سہا ہے۔۔۔چار سال پہلے میں نے بھی اپنے ناکردہ گناہ کی سزا کاٹی تھی۔۔سب نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔۔میرا کسی نے اعتبار نہیں کیا تھا”

منہا کی آنکھوں میں نمی تیر آئی تھی۔۔۔

آرب خاموشی سے اس کی آنکھوں میں دیکھ رہاتھا ۔۔

آج پہلی بار اسے وہ بے قصور لگی تھی۔۔۔

“مجھے تم پر ترس آتا ہے آرب۔۔۔کہ تم آج بھی دھوکے کی زندگی جی رہے ہو۔۔۔۔میں نے تم سے محبت کی تھی اس پر میں شرمندہ ہوں۔۔۔مگر میں فخر سے کہ رہی ہوں ۔۔۔میں ایبو سے عشق کرتی ہوں۔۔۔۔”

منہا کے لہجے میں ایک غرور تھا ۔۔۔

جو آرب کو اندر تک جھلسا گیا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“منہا یہاں آرب سے ملنے آئی تھی؟”

وہ کھڑی سوچ رہی تھی۔۔۔۔

جہاں سے اس کے سامنے ہی منہا پولیس اسٹیشن سے نکل کر گئی تھی۔۔۔۔

وہ کتنی ہی دیر باہر کھڑی سوچتی رہی ۔۔۔۔

پھر اندر بڑھ گئی۔۔۔۔

“کیسے ہو ہنی؟”

ایدہ نے فکر مندی سے آرب کو دیکھ پوچھا۔۔۔

“احد کہاں ہے؟ تم یہاں کیوں آئی ہو۔۔۔۔؟”

آرب نے بے زاری سے کہا

“مجھے تمہاری فکر ہورہی تھی۔۔۔۔اور احد ٹھیک ہے بلکل۔۔۔وہ گھر ہے”

ایدہ نے فوراً بتایا

“تو تم بھی گھر جاو احد کی فکر کرو میری نہیں۔۔۔۔میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔میرا بیٹا اکیلا ہے گھر جاؤ تم یہاں سے”

آرب نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا

۔۔۔

ایدہ اس کے لہجے ہی بے زاری کو بھانب گئی تھی۔۔۔۔

اسے تکلیف ہورہی تھی۔۔۔۔

“میں نے ڈیڈ سے بات کی ہے کل تک تم باہر ہوگے۔۔۔۔۔”

ایدہ نے پھر سے فکر جتائی

“میں ٹھیک ہوں یار۔۔۔۔”

آرب نے فوراً کہا

“کسی چیز کی ضرورت تو نہیں تمہیں۔۔۔۔آبی۔۔۔۔آئی لو یو۔۔۔۔۔”

ایدہ نے نم آنکھوں سے کہا۔۔۔۔

“نہیں مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔تم احد کے پاس جاؤ۔۔۔۔اس کا خیال رکھو۔۔۔پلیز۔۔۔۔”

آرب نے خاموشی سے منہ پھیرا۔۔۔۔

ایدہ کی آنکھ سے ناچاہتے ہوئے بھی ایک آنسوں گرا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کہاں سے آرہی ہو؟”

ابراہیم کی آواز پر وہ کمرے میں جاتی رکی۔۔۔۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔

پیچھے ابراہیم کھڑا تھا۔۔۔۔

پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ تسلی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔

منہا نے تھوک نگلا۔۔۔۔

چہرے پر خوف تاری ہوا۔۔۔۔

“مم۔۔۔میں۔۔۔وہ۔۔۔۔میں گھر گئی تھی”

منہا نے فوراً کہا

“میں کارڈ دینے گھر گیا تھا۔۔۔۔۔تم نہیں تھی وہاں”

ابراہیم نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔۔۔۔

“مم۔۔۔۔ہاں وہی تو کہنے والی تھی میں کہ گھر جاہی نہیں سکی۔۔۔۔میں بس مال گئی تھی ٹائم نہیں ملا”

منہا نے بہانہ بنایا

“اچھا کیا لائی ہو مال سے؟ دکھ تو کچھ نہیں رہا”

ابراہیم نے تشویش کی

“ہاں۔۔۔وہ “

اس سے پہلے منہا کوئی اور جھوٹ بولتی ابراہیم نے ٹوکا

“تم آرب سے ملنے گئی تھی؟”

ابراہیم نے سوال داغا

وہ لمحہ بھر ساکت ہوگئی۔۔۔۔

“تمہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”

ابراہیم اس کے قریب آیا

“ہاں میں آرب سے ملنے گئی تھی ۔۔تو۔۔۔کیا ہوا؟ اعتبار نہیں ہے مجھ پر؟…۔”

منہا نے تلخی سے کہا

“میں نے ایسا نہیں کہا۔۔۔۔میں نے بس یہ کہا کہ تم سچ بتا سکتی تھی۔۔۔۔مگر بات تو یہ ہے کہ تم مجھے کچھ سمجھتی ہی نہیں ہو۔۔۔۔۔۔”

ابراہیم غصے سے کہتا کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

منہا کو یک دم پچھتاوا ہوا۔۔۔۔وہ سر پکڑتی صوفے پر بیٹھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“پانچ سال ہونے والے ہیں۔۔۔۔مگر میں اس شخص کے دل میں جگہ نہیں بنا پائی”

وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے سوچنے لگی

“منہا میں نے تجھے ہرا دیا تھا۔۔۔۔مگر تو ہار کر بھی جیت گئی۔۔۔۔”

وہ بڑبڑائی

“تم کیسے لوگوں کے دلوں میں گھر کریتی ہو۔۔۔۔مجھے کیوں نہیں آتا یہ ہنر۔۔۔۔۔”

دو آنسوں اس کی آنکھ سے بہ نکلے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

شام میں انہیں نکلنا تھا اسی لیے وہ آج آفس نہیں گیا تھا۔۔۔

اور صبح جلدی اٹھ کر تیاری کرنے لگا۔۔۔۔

منہا کی جب آنکھ کھلی تو وہ ٹی وی دیکھ رہا تھا صوفے پر لیٹا۔۔۔کشن سر کے نیچے دبائے۔۔۔ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔

ابراہیم نے ایک نظر اسے دیکھا ھر دوبارا ٹی وی دیکھنے لگا

منہا خاموشی سے کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

اور ناشتہ بنانے لگی۔۔۔۔

“غلطی بھی خود کی اور نخرے بھی مجھے دکھا رہی ہے”

وہ دل ہی دل میں کہنے لگا۔۔۔۔

پھر ریموٹ سے چینل چینج کیا

اسے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔

اس کا موڈ خراب تھا۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں منہا ناشتے کی ٹرے لاتی دکھائی دی۔۔۔

ابراہیم زبردستی ٹی وی دیکھنے لگا۔۔۔۔

منہا نے لمحہ بھر اسکرین کو دیکھا جہاں انڈین ڈرامہ چل رہا تھا۔۔۔۔

وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔

“ناشتہ کرلو۔۔۔۔۔”

منہا نے کہا

“میں ٹی وی دیکھ رہا ہوں مجھے تنگ مت کرو”

ابراہیم نے بے رخی سے کہا

“ٹی وی۔۔۔۔یہ ایڈین سیریل؟ تو یہ نہیں دیکھتا ایبو۔۔۔”

وہ مسکرائی

ابراہیم نے اسکرین پر دھیان دیا وہ واقع کبھی نہیں دیکھتا تھا ڈرامہ وغیرہ۔۔۔۔

“اٹھ جاؤ۔۔۔۔”

منہا نے ہاتھ کھینچ کر اسے بٹھایا۔۔۔۔

“مجھے بھوک نہیں ہے”

وہ بے دلی ظاہر کرنے لگا

منہا نے اسے دیکھا

“اچھا ناراضگی مجھ سے ہے ناشتے سے تو نہیں۔۔۔۔ناشتہ کرلے”

اس نے اس کے سامنے چائے رکھی۔۔۔۔

منہا نے چائے میں چینی ڈالی اور ملانے لگی۔۔۔۔

وہ ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھتا پھر منہ بناتا یہاں وہاں دیکھتا۔۔۔۔

“پی لو۔۔۔۔”

منہا نے کپ اٹھا کر اسے دیا۔۔۔

“رکھ دو۔۔۔۔۔”

اس نے بے رکھی سے کہا

منہا نے کپ رکھ دیا پھر دوسرا کپ اٹھا کر ہونٹوں سے لگایا۔۔۔

پھر ایک نظر اسے دیکھا جو اسی طرح منہ پھلائے بیٹھا تھا۔۔۔چائے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔۔۔۔

منہا کا منہ اترا۔۔۔۔۔وہ اسے دیکھنے لگی۔۔۔

ابراہیم نے نظر گھما کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔

“سوری۔۔۔۔۔” منہا نے کان پکڑ کر کہا۔۔۔

ابراہیم نے پھر سے منہ پھیر لیا۔۔۔۔

منہا اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔

ابراہیم نے ہاتھ بڑھا کر اس کی جانب سے کپ اٹھایا اور ہونٹوں سے لگایا۔۔۔۔

منہا اسے اپنے کپ کی چائے پیتا دیکھ مسکرائی۔۔۔۔

پھر اس کا بازوں تھام کر اس کے کاندھے پر سر رکھا۔۔۔۔

یہی تو وہ شخص تھا جو اس سے ناراض ہوکر بھی ناراض نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“آرب۔۔۔۔۔” وہ اسے آتا دیکھ خوش ہوئی تھی۔۔۔

احد بھی بھاگتا ہوا آیا تھا۔۔۔۔

آرب نے اسے گود میں اٹھایا اور پیار کرنے لگا۔۔۔

“ڈیڈ آئیں نا۔۔۔۔۔”

ایدہ نے خاور صاحب کو دیکھ کہا۔۔۔

جو ابھی ابھی اس کی بیل کروا کر اسے ساتھ گھر لائے تھے۔۔۔

“سب ٹھیک ہوجائے گا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے تمہارا ڈیڈ ابھی زندہ ہے”

وہ ایدہ کو خود سے لگائے کہنے لگے ۔۔۔

تبھی سامنے سے آتی سارہ بیگم دکھائی دی۔۔۔

ایدہ کا انہیں دیکھ منہ بنا۔۔۔۔

“آرب میرا بیٹا”

سارہ بیگم نے لپک کر آرب کو گلے سے لگایا

“کیسے ہو۔۔۔تم ٹھیک ہو نا؟”

وہ فکرمندی سے سوال کر رہی تھی۔۔۔

“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔” آرب مسکرایا۔۔۔

اور انہیں پیار کرنے لگا

آرب ان سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

وہ ماں سے مل کر بہت خوش ہوا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ڈیڈ۔۔۔۔۔مجھے آپ سے کچھ کہنا تھا”

کمیل نے کہا

“کیا ہوا خیریت؟”

خاور صاحب نے پوچھا۔۔۔

“ڈیڈ مجھے انابیہ پسند ہے۔۔۔۔۔کیا آپ اس کے ڈیڈ سے بات کریں گے؟”

کمیل نے بنا تمہید باندھے پوچھا۔۔۔

وہ مسکرائے۔۔۔۔

“یہ تو اچھی بات ہے۔۔۔تم نے غلط لڑکی کا انتخاب نہیں کیا۔۔۔۔میں خوش ہوں تمہارے فیصلے سے”

خاور صاحب نے اس کی پسند کی داد دی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کیسی ہیں آپ اماں بی۔۔۔۔؟”

منہا نے پوچھا۔۔۔۔

“مجھے کیا ہونا۔۔۔۔زیمل سے پوچھو۔۔۔اسی کا منہ بنا ہوا ہے۔۔۔۔”

اماں بی نے کہا

“کیوں؟” وہ دونوں حیران ہوئے

“کیوں کیا؟ شادی میں اتنے کم دن رہ گئے اور آپ دونوں اب آرہے ہیں۔۔۔۔”

سونیا بیگم نے ڈپٹا

“میرا قصور نہیں ہے امی جی۔۔۔۔۔میں روز بولتی تھی۔۔۔۔یہ لے کر نہیں آئے مجھے”

منہا نے فوراً کہا۔۔۔

ابراہیم نے اسے گھورا ۔۔۔

“مام۔۔۔۔آفس میں اتنا کام ہوتا ہے آپ کو پتا تو ہے۔۔۔۔”

ابراہیم نے صفائی دی۔۔۔

“وہ دوسرے کمرے میں ہے۔۔۔۔دوستیں بیٹھی ہیں ان کی ۔۔۔۔”

سونیا بیگم نے کہا۔۔۔۔

“اچھا۔۔۔میں مل کر آتی ہوں”

منہا اٹھ کر دوسرے کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

وہاں کچھ لڑکیاں بیٹھی تھی۔۔۔۔

منہا خوش دلی سے ملی۔۔۔۔

“یہ میری بھابھی ہیں۔۔۔ابراہیم بھائی کی وائف”

اس نے تعارف کروایا۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں منہا ان کے ساتھ گھل مل کر باتیں کرنے لگی۔۔۔۔

ان میں سے ایک لڑکی تھوڑی چپ چپ تھی۔۔۔۔

“بھابھی وہ جو لڑکی تھی نا۔۔۔۔صدف۔۔۔۔” زیمل نے کہا

“ہاں۔۔۔۔” منہا نے سموسہ توڑ کر منہ میں رکھتے ہوئے کہا

“ہ رفیق انکل کی بیٹی ہیں۔۔۔۔انہوں نے بھائی کے لیے رشتہ بھیجا تھا صدف کا۔۔۔۔”

زیمل نے پاس بیٹھتے ہوئے بتایا

منہا نے زیمل کو سر اٹھا کر دیکھا

“مگر بھائی نے انکار کردیا تھا۔۔۔۔اسی لیے تو وہ زیادہ بات نہیں کر رہی تھی آپ سے۔۔۔۔”

زیمل نے کہا

“اچھا۔۔۔۔مجھے تو نہیں بتایا ایبو نے “

منہا نے آخری ٹکرا بھی سموسے کا منہ میں ڈالا

“آپ بھائی سے ذکر نہیں کرنا۔۔۔۔میں نے بھی ایسے ہی بتا دی۔۔۔مجھے کیا پتا تھا آپ کو برا لگے گا۔”

وہ معصومیت سے کہنے لگی

“برا کیوں لگے گا؟ میں تو ایبو کی ساری گرل فرینڈز کے نام جانتی تھی شادی سے پہلے ہی”

وہ سادگی سے بتانے لگی

“گرل فرینڈز؟ بھائی کی گرل فرینڈ بھی تھی؟”

زیمل حیران ہوئی

“ایک ہو تو بتاؤں۔۔۔پلے بوائے تھا تمہارا بھائی”

منہا نے لاپرواہی سے کہا

“کیا؟”

زیل اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔

تبھی ابراہیم کمرے میں آیا۔۔۔۔

“بھائی” زیمل اٹھ کر ابراہیم سے ملی۔۔۔۔

منہا ٹرے اٹھاتی باہر نکل گئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“آج کھانا بہت مزے کا تھا۔۔۔کتنے دنوں بعد کھایا امی کے ہاتھ کا”

وہ خوش دلی سے کہنے لگی۔۔۔

اور آئینے کے سامنے کھڑی ایئر رنگز اتارنے لگی۔۔۔

ابراہیم پیچھے ہی کھڑا تھا

“کیا کہ رہی تھی تم زیمل سے۔۔۔میں پلے بوائے تھا؟”

ابراہیم نے سینے پر ہاتھ باندھے سوال کیا

“ہاں تو کیا نہیں تھے؟”

منہا نے مڑ کر اسے دیکھا

“جی نہیں بلکل بھی نہیں۔۔۔”

ابراہیم نے فوراً جواب دیا

“تو کرن کون تھی جس کی اسائمنٹ تم چوری کیا کرتے تھے۔۔۔۔”

منہا نے کاٹ دار لہجے میں سوال کیا

“وہ گرل فرینڈ نہیں تھی دوست تھی بس”

وہ روہانسی ہوا

“دوست تو میں تھی۔۔۔وہ تو گرل فرینڈ ہی تھی۔۔۔جسے چھوڑ کر تم نے مجھ سے شادی کرلی۔۔۔۔”

منہا نے سادگی کے سارے ریکارڈ توڑے

“بس یہی گناہ ہوگیا مجھ سے”

ابراہیم نے منہ بنا کر کہا

“اب گناہ ہو ہی گیا تو تھوڑا ثواب کما لو بیوی کی عزت کر کے”

منہا نے ہنسی دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“ہاں تم تو جیسے شوہر پر پھول برسا رہی ہو ماضی کے طعنے دے دے کر”

وہ چڑتے ہوئے کہنے لگا

“میں نے بس سچ بولا تمہیں برا لگ گیا۔۔۔۔”

منہا نے لاپرواہی سے کہا

“صحیح کہتے ہیں لوگ دوست سے کبھی شادی نہیں کرنی چاہیے ماضی میں بھی بے عزتی۔۔۔حال اور مستقبل بھی تباہ۔۔۔۔”

وہ غصے سے کہتا باتھروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

اور منہا کھلکھلا کر ہنس دی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“تم سمجھتے کیا ہو خود کو۔۔۔۔کس سے پوچھ کر تم نے رشتہ بھیجا”

انابیہ غرائی

“میں نے تمہیں بتایا تھا”

کمیل ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا

“میں نے تمہیں انکار کردیا تھا۔۔۔۔”

انابیہ نے کہا

“میں نے بھی تمہیں اپنا جواب دیا تھا”

وہ بے پرواہ تھا

“تمہیں کیا لگتا ہے ایسے میں تم سے شادی کرلوں گی؟”

وہ غصے ڈے کہنے لگی

“شافی تو تمہیں کرنی پڑے گی۔۔۔۔چاہے ہنس کر کرو یا رو کر۔۔۔۔سمجھی”

کمیل نے مسکرا کر کہا

“میں نہیں کروں گی۔۔۔۔سمجھے تم؟”

وہ اسے انگلی دکھاتی کہنے لگی

“تمہیں راتوں رات غائب کرنے کا ہنر تکھتا ہوں میں “

وہ صوفے سے اٹھ کھڑا ہوا

انابیہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔۔

اسے پہلی بار کمیل سے خوف آیا آرہا تھا۔۔۔۔