Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 30)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 30)
Blind Friends By Isra Rao
“مجھے ابھی پتا ابراہیم کے بارے میں تو میں ایک منٹ بھی نہیں رکا۔۔۔۔”
کمیل نے فکر ظاہر کی۔۔۔۔
منہا بغور اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
لیکن تم فکر نہیں کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں منہا”
ایدہ نے محبت بھرے لہجے میں کہا
“اصل میں ڈیڈ کی طبیعت ٹھیک نہیں ورنہ ابھی کے ابھی ایبو باہر ہوتا”
ایدہ نے صفائی دی۔۔۔
منہا نے آبرو اچکائی
“ہاں لیکن پھر بھی میں پوری کوشش کروں گا کہ ایبو کو چھڑوا سکوں”
کمیل نے سنجیدگی سے کہا
“تھینک یو۔۔۔۔”
منہا بس اتنا کہ سکی۔۔۔
“میں نے تو منع کیا تھا ایبو کو اس لڑکی سے دور رہنا۔۔۔۔مگر”
اس نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑی
“وہ صرف ایبو کی کلائنٹ تھی “
منہا نے صفائی دی
“اچھا کلائنٹ سے کیا پرائیویٹ پلیس پر بھی ملا جاتا ہے۔۔۔۔کھانا بھی ہاتھوں سے کھلایا جاتا ہے”
کمیل نے تیکھی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
“ایکسکیوز می؟”
منہا نے کمیل کو آنکھیں سکیڑ کر دیکھا
“میں بس یہ کہ رہا ہوں کہ تمہیں آنکھیں کھلی رکھنی چاہیے اتنا اندھا بھروسہ بھی ٹھیک نہیں”
کمیل کہتے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
پھر موبائل سے ایک پک منہا کے نمبر پر سینڈ کردی۔۔۔۔
منہا کے ہاتھ میں پکڑے موبائل پر بپ ہوئی۔۔۔۔
منہا نے موبائل کی جانب دیکھا ۔۔۔
“دیکھ لینا اور پھر سوچ سمجھ کر بھروسہ کرنا”
وہ کہتے ساتھ باہر نکل گیا۔۔۔۔
منہا نے میسج دیکھا۔۔۔۔۔ابراہیم اور انابیہ کی پک تھی۔۔۔جس میں ابراہیم اس کے سامنے بیٹھا اسے کچھ دے رہا تھا شاید جوس تھا یا کچھ اور منہا غور نہیں کر پائی۔۔۔۔
..
“مجھے لگتا ہے اب منہا سوچے گی ضرور”
ایدہ نے کمیل کی جانب دیکھا
“بلکل۔۔۔میں نے صرف شک کی چنگاری ڈالی آگ خود بڑھک جائے گی”
کمیل نے مسکرا کر کہا
“صحیح کیا ہے اس ایبو کے ساتھ۔۔۔مجھے جیل میں ڈلوایا تھا اس نے۔۔۔اب خود جیل میں سڑ رہا ہے”
آرب نے جلے بھنے انداز میں کہا
“ہاں۔۔۔مگر کامی اگر نوریض نے اسے جیل سے نکلوا لیا تو؟…وہ کوششوں میں گا ہوا ہوگا”
ایدہ نے اندیشہ ظاہر کیا
“اتنی آسانی سے تو میں اسے نکلنے نہیں دوں گا۔۔۔۔اب نوریض آئے میدان میں اکیلا۔۔۔۔پھر پتا لگے گا کون دانش ہے”
کمیل نے وحشیانہ انداز میں صوفے سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں بڑا اچھل رہا تھا ایبو کے کاندھے پر”
آرب نے بے رخی سے کہا
“لیکن اگر اس نے اس ریسٹورنٹ کی ریکارڈنگ نکلوا کر ڈیلیٹ کروا دی تو۔۔۔ظاہر ہے ایبو کا باپ کوئی عام آدمی تو نہیں کامی”
ایدہ نے سوچتے ہوئے کہا
“وہ ریکارڈنگ میں پہلے ہی نکلوا چکا ایدہ۔۔۔۔وہ میرے اس ہے۔۔۔۔۔میں نے سیف میں سنمبھال کر رکھی ہے۔۔۔۔یہ ثبوت ایبو کو جیل کی چکی پسوانے کے لیے کافی ہے”
کامی نے سنجیدگی سے اپنا پلان بتایا
“یہ صحیح کیا تو نے ویسے۔۔۔ورنہ ایبو اپنے خلاف سارے ثبات ڈیلیٹ کروا دیتا”
آرب نے فوراً کہا
“ہاں بلکل وہ بھلے جیل میں ہے مگر دماغ وہاں بھی چل رہا ہوگا”
ایدہ نے آرب کی جانب دیکھا۔۔۔
“فلحال تو وہ اپنی مدد خود بھی نہیں کرسکتا”
کامی مسکرایا
..
“بابا وہ آپ ابراہیم کو غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔۔”
منہا نے فرقان صاحب کے سامنے بیٹھےہوئےکہا
“مجھے کوئی صفائی نہیں سننی”
فرقان صاحب نے بے رخی سے کہا
“
“بابا آپ کی مدد کی ضرورت ہے ہمیں۔۔۔ کیا آپ ہماری مدد کریں گے؟” وہ اٹھ کر فرقان صاحب کی کرسی کے برابر زمین پر بیٹھی التجا کرنے لگی
اس سے پہلے وہ کچھ کہتے۔۔۔سونیا بیگم کمرے میں داخل ہوئی
“ان سے کہاں مدد مانگ رہی ہیں آپ۔۔۔یہ نہیں کریں گے۔۔انہیں اپنی انا زیادہ عزیز ہے”
سونیا بیگم نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔۔۔۔
منہا حیرانی سے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔چار سال سے زیادہ وقت ہوگیا تھا اسے مگر اس نے کبھی نہیں فرقان صاحب کے سامنے بولتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
“کیا کہنا چاہتی ہیں آپ؟”
فرقان صاحب اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔
حیران وہ بھی تھے۔۔۔۔ان کی فرمانبرداری بیوی اس طرح بات کرے گی انہیں یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
“میں پوچھنا چاہتی ہوں۔۔۔۔کہ کیا میرے بیٹے نے کبھی آپ سے اوپر کوئی کام کیا؟ نہیں۔۔۔۔کبھی آپ سے بدتمیزی کی۔۔۔۔؟ نہیں۔۔۔۔پھر کیوں آپ باپ بن کر اسے لاڈ نہیں کرتے۔۔۔کیوں اسے پیار نہیں جتاتے؟”
وہ نم آنکھوں سے سوال کر رہی تھی۔۔۔۔
“ایسا نہیں ہے امی جی” منہا نے کچھ کہنا چاہا۔۔۔
منہا کو لگا میری وجہ سے ان میں جھگڑا نہ ہوجائے۔۔۔۔
“ایسا ہی ہے۔۔۔میرا بیٹا باپ کی شفقت کو لاڈ پیار کو ترستا ہے۔۔۔۔میرا بیٹا آج جیل میں ہے۔۔۔۔کیا ایک ماں سے یہ دکھ برداشت ہوگا؟ یہ چاہیں تو میرے بیٹے کو نکال سکتے ہیں وہاں سے مگر یہ ایسا نہیں کریں گے۔ ۔۔۔”
وہ سرخ آنکھوں کو رگڑ کر آنسوں صاف کر رہی تھی مگر آنسوں بہتے چلے جارہے تھے۔۔۔
منہا کی آنکھیں پانی سے بھرنے لگی۔۔۔۔
..
“سر آپ آئیں نا”
مینیجر فرقان صاحب کو دیکھتے ہی آگے بڑھے۔۔۔۔
“میں کسے کام کا کہا تھا آپ کو فون پر”
فرقان صاحب نے خوش اسلوبی سے سوال کیا
“ارے سر آپ حکم کریں ۔۔۔۔ہوجائے گا”
وہ مسکرا کر بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگا
“ہمیں دس اکتوبر کی رات کی ریکارڈنگ چیک کرنی ہے بس” نوریض نے کہا
“جی جی بلکل چیک کریں۔۔۔۔انہیں لے کر جائیں۔۔۔۔” مینیجر نے پاس کھڑے ملازم سے کہا۔۔۔۔
نوریض اور منہا اس کے پیچھے ہولیے۔۔۔
..
“تھینک یو بابا”
منہا نے محبت بھری نظروں سے انہیں دیکھتے ہوئے سر جھکایا
“خوش رہو۔۔۔۔کسی بھی مدد کی ضرورت ہو تو بتا دینا۔۔۔” مسکرا کر شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر دھرا۔۔۔
بابا آپ یہ والا روپ سب کو کیوں نہیں دکھاتے۔۔۔۔؟”
منہا نے سوال کیا
“مجھے بھی فکر ہوتی ہے ابراہیم کی۔۔۔محبت ہو مجھے بھی۔۔۔میں جب دوسروں کے بچوں کو غلط کام کرتے دیکھتا تو ڈر جاتا تھا کہیں میرا اکلوتا بیٹا بگڑ گیا تو۔۔۔۔؟ میں اس پر دھیان دیا۔۔۔محبت نہیں جتائی۔۔۔۔سخت بنا رہا کہ وہ کچھ بن جائے۔۔۔چاہے میرے ڈر سے ہی صحیح۔۔۔۔۔”
فرقان صاحب بولتے چلے جارہے تھے۔۔۔۔
منہا خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔۔
“اور دیکھو۔۔۔میں نے اسے بگڑنے نہیں دیا۔۔۔۔اس کی پرورش اچھی کی۔۔۔ایسا نہیں ہے کہ مجھے اس پر بھروسہ نہیں۔۔۔۔میں بس چاہتا ہوں کہ وہ اپنی غلطی کو سدھارے۔۔۔۔دنیا کا لڑ کر سامنا کرے۔۔۔۔میں ہمیشہ اس کے ساتھ ہوں۔۔۔۔اور رہوں گا”
فرقان صاحب نے نم آنکھوں سے کہا
“میں بات کروں امی جی سے اور ابراہیم سے؟”
منہا نے فوراً کہا
“نہیں انہیں سمجھنے دو جو سمجھنا ہے۔۔۔میں موم نہیں بن سکتا ان کے سامنے”
وہ اسی اکھڑ مزاجی سے کہنے لگے۔۔۔۔۔
منہا بس انہیں دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
..
“وہاں تیری اور انابیہ کی کوئی ریکارڈنگ نہیں ہے”
نوریض نے سامنے بیٹھے ابراہیم کو دیکھتے ہوئے کہا
“ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔؟” ابراہیم الجھا۔۔۔
“ہاں میں نے بھی کہا کہ دس اکتوبر کی رات 9 سے 12 کی ریکارڈنگ غائب ہے۔۔۔۔ تو مینیجر نے کہا کہ اس دن سسٹم میں کوئی پرابلم ہوگئی تھی۔۔۔کوئی بھی کیمرہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔۔۔”
نوریض نے تفصیل دی
“کیا؟ یار کسی نے ڈیلیٹ کی ہے ریکارڈنگ۔۔۔۔جانے انابیہ کہاں ہے۔۔۔مجھے فکر ہورہی ہے نوریض۔۔۔۔وہ مصیبت میں نہ ہو”
ابراہیم پریشان ہوا۔۔۔۔
“کسی نے نہیں کامی نے”
نوریض نے تصحیح کی
“کامی نے۔۔۔ہاں یقیناً انابیہ اسی کے پاس ہے” ابراہیم نے کرسی سے ٹیک لگائی
“وہ اتنا گر سکتا ہے میں نے سوچا بھی نہیں تھا”
نوریض نے حقارت بھرے لہجے میں کہا
“تونے اسے میرے پاس بھیجا ہی کیوں؟”
ابراہیم نے الٹ نوریض کو ٹوکا
“میں نے نہیں بھیجا میں نے منع کردیا تھا۔۔۔۔میں نے تیرا ایڈریس دیا ہی نہیں اسے”
نوریض نے فوراً صفائی دی
“ایک منٹ؟ جب تو نے نہیں دیا ایڈریس تو وہ پہنچی کیسے؟”
ابراہیم نے گہری سانس خارج کی۔۔۔۔
نوریض سوچ میں ڈوبا۔۔۔۔۔
“کیا تو بھی وہی سوچ رہا ہے جو میں سوچ رہا ہوں؟”
ابراہیم نے اسے خاموش دیکھ پوچھا۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔مجھے لگتا ہے اس نے تیرے آفس سے ایڈریس نکلوا لیا۔۔۔”
نوریض نے سوچتے ہوئے کہا
“ابے آفس والے کیوں دیں گے بنا پرمیشن”
ابراہیم نے بے اختیار ہی اس کی سوچ کو سلام کیا
“میرا بھی تو ایڈریس انہوں نے ہی دیا تھا”
نوریض نے کہا
“تیرا اور میرا ایڈریس آفس سے نہیں لیا اس نے۔۔۔عقل استعمال کر لے۔۔۔۔تبھی تو کامی کو مجھ پر شک ہوگیا۔۔۔اور میں یہاں بیٹھا ہوں۔۔۔۔”
ابراہیم نے سمجھاتے ہوئے کہا
“ابراہیم تو میرا لاکھ دوست صحیح مگر اس بے عزتی پر تجھے ایک جھاپڑ ضرور لگاتا۔۔۔۔۔مگر ابھی میں سوچ رہا ہوں کہ اسے کس نے ایڈریس دیا ہوگا؟”
نوریض پھر سے الجھا۔۔۔۔
“جھاپڑ تو میرا مارنے کا دل کر رہا ہے۔۔۔۔تو یہ بتا اس عقل کو سٹور کر کے تو نے کون سے برے وقت کے لیے سمنبھالا ہوا ہے؟”
ابراہیم نے طنزیہ کہا۔۔۔۔
“اس سے برا وقت کیا ہوگا۔۔۔تیرے جیسے دوست کے لیے خوار ہو رہا ہوں”
نوریض نے جل کر کہا۔۔۔
“تو عقل کا استعمال کر نا۔۔۔۔اسے ایڈریس کامی نے دیا ۔۔۔تاکہ وہ تجھ سے میرا ایڈریس لے سکے۔۔۔اور تجھے جتا سکے۔۔۔۔کہ کڈنیپ میں نے کیا ہے۔۔۔وہ سارا الزام مجھ پر ڈالنا چاہتا ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے تفصیل دی
اور نوریض کا اس بار واقع خود پر لانت بھیجنے کا دل کیا کہ کامی کا خیال اسے کیوں نہیں آیا؟
..
“ریکارڈنگ کامی کے پاس ہے وہ کورٹ میں پیش کرسکتا ہے”
آرب نے میسیج ٹائپ کیا اور منہا کے نمبر پر سینڈ کیا۔۔۔۔
“کسی بھی طرح وہ ریکارڈنگ ڈیلیٹ کردو۔۔۔۔پلیز”
منہا کا فوراً ریپلائے آیا۔۔۔۔
“کوشش کرتا ہوں”
ارب نے ریپلائے کیا
“نہیں۔۔کوشش نہیں۔۔۔آرب تمہیں یہ لازمی کرنا ہے۔۔۔میرے لیے تم یہ کرو گے”
منہا نے میسج پڑھ آرب نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔۔۔
اس نے موبائل بند کر ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔۔
تبھی وہاں ایدہ آئی اور چیئر کھینچ کر بیٹھی۔۔۔
“احد سوگیا؟”
آرب نے پوچھا۔۔۔۔
“ہاں سوگیا۔۔۔۔۔تھوڑی دیر میں گھر جائیں گے تو اٹھا دوں گی”
اس نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
ڈیڈ کی طبیعت کیسی ہے اب؟”
آرب نے سوال کیا۔۔۔۔
“آبی ڈیڈ کی طبیعت ٹھیک نہیں۔۔میں یہیں رکوں گی۔۔۔”
ایدہ نے آرب کے ہاتھ پر نرمی سے ہاتھ رکھا
“تو کوئی بات نہیں میں بھی رک جاؤں گا”
آرب نے مسکرا کر دوسرا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا ۔۔
“اوہ تھینک یو ہنی۔۔۔۔”
وہ اس کے گلے لگی۔۔۔۔وہ خوش تھی آرب میں بدلاؤ دیکھ کر۔۔۔۔
..
“اس نے تو مجھے بھی نہیں بتایا تھا منہا مگر مجھے اپنے دوست پر بھروسہ ہے۔۔۔۔”
نوریض نے سامنے بیٹھی منہا کو دیکھتے ہوئے کہا
وہ خاموش تھی۔۔۔
“تو بیوی ہوکر شک کر سکتی ہے۔۔۔۔مھر تو ایبو کی دوست بھی رہی ہے۔۔کیا تجھے لگتا ہے ایبو ایسا ہے؟”
نوریض نے دو ٹوک پوچھا
“میں نے ایسا نہیں کہا نوریض مجھے یقین ہے اس پر۔۔۔مجھے بس برا لگا جب کامی نے مجھے تصویر دکھا کر بتایا کہ وہ اس سے ہاسپیٹل ملنے گیا تھا۔۔۔مجھے تکلیف ہوئی جب بابا کے سامنے ایبو نے اعتراف کیا کہ وہ اس سے ریسٹورنٹ میں چھپ کر ملنے گیا تھا۔۔۔۔”
وہ دکھ بھرے لہجے میں بولتی جا رہی تھی۔۔۔۔
پھر بھی میں پیچھے نہیں ہٹی میں اپنے ایبو کے ساتھ ہوں۔۔۔۔لیکن میں بھی انسان ہوں نوریض مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔۔جب میرے شوہر کی وہ باتیں دوسرے بتا کر جائیں جو اس نے خود مجھ سے چھپائی۔۔۔۔۔تم بتاؤ کیا مجھے ناراض ہونے کا حق بھی نہیں۔۔۔۔”
منہا نے نم آنکھوں سے کہا۔۔۔۔
نوریض کو لمحہ بھر کے لیے بھی وہ غلط نہیں لگی تھی۔۔۔
..
“تم گئی نہیں گھر؟” خاور صاحب نے پوچھا
“آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی کیسے جاتی میں؟”
ایدہ نے ان کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں میرا بچہ۔۔۔۔”
انہوں نے ایدہ کو پیار کرتے ہوئے تسلی دی
“کامی کہاں ہے؟” آرب نے سوال کیا
“وہ اپنے روم میں ہے۔۔۔۔آج صبح سے کورٹ کے چکروں میں بزی رہا تھا۔۔۔۔تھک گیا تو میں نے کہ دیا میں ڈیڈ کے پاس ہوں”
ایدہ نے تفصیل سے بتایا
“انابیہ کا کچھ پتا چلا؟”
خاور صاحب نے سوال کیا
“نہیں ڈیڈ۔۔۔۔”ایدہ نے فوراً جواب دیا
“وہ بچی بہت اچھی ہے۔۔۔۔پتا نہیں کہاں ہوگی۔۔۔مجھے فکر ہورہی ہے۔۔۔میری طبیعت ٹھیک ہوجائے پھر میں خود کوشش کروں گا”
خاور صاحب نے فکر مندی سے کہا۔۔۔۔
“آپ فکر نہیں کریں ڈیڈ۔۔۔اپنا خیال رکھیں۔۔۔۔”
ایدہ نے کہا۔۔۔۔
“ہاں مگر وہ بچی۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ اپنا جملہ پورا کرتے وہ کھانسنے لگے۔۔۔ان کا سانس پھولنے لگا۔۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔۔ڈیڈ” ایدہ پریشان ہوئی۔۔۔
آرب نے پاس رکھے جگ سے پانی انڈیلا اور گلاس ایدہ کی جانب بڑھایا۔۔۔۔
ایدہ انہیں پانی پلانے لگی۔۔۔
“میں کامی کو بلاتا ہوں۔۔۔۔ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں”
ان کی حالت تھوڑی بہتر ہوتے دیکھ آرب نے کہا۔۔۔۔
“نہیں نہیں اب ٹھیک ہوں”
خاور صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے آرب کو ٹوکا
“ایسے کیسے؟ ایدہ تم کچھ کہ کیوں نہیں رہی؟”
ارب نے ایدہ کو مخاطب کیا
“ہاں ڈیڈ آبی صحیح کہ رہا ہے ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔۔زیادہ طبیعت خراب ہوگئی تو۔۔۔۔جاؤ تم کامی کو باؤ”
ایدہ نے کہا
ارب کمیل کے کمرے کی جانب بڑھا۔۔۔۔
دروازے پر دستک دی۔۔۔۔
کمیل نے دروازہ کھولا۔۔۔۔
“کامی ڈیڈ کی طبیعت خراب ہورہی ہے۔۔۔۔ہمیں ہاسپیٹل جانا ہوگا۔۔۔جلدی چلو”
آرب نے گھبراہٹ چہرے پر طاری کی
“کیا؟ کیا ہوا ڈیڈ ٹھیک ہے۔۔۔” وہ فوراً باہر نکلنے لگا۔۔۔۔
کہ ارب نے روکا
“ایک منٹ۔۔۔وہ ایدہ نے کہا ہے کامی سے کہوں کہ سیف سے کیش نکال لے۔۔۔۔اصل میں ہم لائے نہیں ساتھ زیادہ۔۔۔۔تو تم نکال لو”
آرب نے فوراً سنجیدگی سے مشورہ دیا
کمیل سنتے ہی سیف کی جانب بھاگا۔۔۔۔کوڈ ڈائل کیا۔۔۔۔اور جلدی سے کچھ رقم نکالی۔۔۔ چابی گھمائی اور چابی کو ڈریسنگ کے ڈرار میں ڈالتے ہوئے اس کے ساتھ ہولیا۔۔۔۔
“کیا ہوا ڈیڈ کو؟” کمیل نے آتے ہی فکر مندی سے پوچھا۔۔۔۔
“ٹھیک ہوں میں بیٹا اب ٹھیک ہوں”
خاور صاحب نے اسے تسلی دی
“ابھی اتنی زیادہ طبیعت خراب ہوگئی تھی۔۔۔میں تو کہتا ہوں دیر نہیں کرو۔۔۔۔ہمیں ہاسپیٹل چلنا چاہیے”
آرب نے بات کو لپیٹا۔۔۔
“ہاں۔۔۔ڈیڈ اٹھیں ہم ابھی چلیں گے۔۔۔”
کمیل نے انہیں اٹھاتے ہوئے ضد کی۔۔۔۔
ارب دل ہی دل میں خوش ہوا۔۔۔۔
..
“کیسے نکالی؟” منہا نے ہنس کر پوچھا
“میں نے کوڈ یاد کرلیا تھا۔۔۔۔جب کمیل کمرے میں نہیں تھا میں اس کے سیف سے نکال لی۔۔۔۔”
آرب نے تفصیل سے بتایا
“تھینک یو آرب۔۔۔۔۔تم نے میرا کام کردیا”
منہا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
“کیسے نہ کرتا۔۔۔؟ تمہارے لیے میں کچھ بھی کرسکتا ہوں منہا۔۔۔۔میں سچ کہ رہا ہوں۔۔۔۔میں نے ایدہ کو کبھی وہ مقام دیا ہی نہیں جو تمہارا تھا”
آرب نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
وہ جو چائے کا کپ ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی۔۔۔۔یک دم ساکت ہوئی۔۔۔۔
کپ میز پر رکھا۔۔۔۔
“اب ان باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ہے آرب”
منہا نے سنجیدگی سے کہا
“تم ایک بار کہو تو میں نقصان کو فائدے میں بدل دوں گا۔۔۔۔اگر تم ایبو کے ساتھ خوش نہیں ہو تو بتاؤ۔۔۔میں ساری دنیا کو چھوڑ دوں گا تمہارے لیے۔۔۔۔۔میں تم سے آج بھی اتنی ہی محبت کرتا ہوں منہا۔۔۔۔”
آرب کے لہجے سے اسے کوفت ہونے لگی
“آرب۔۔۔میں شادی شدہ ہوں اب۔۔۔اور میں اپنے شوہر کے ساتھ بہت خوش ہوں۔۔۔۔پلیز دوبارا یہ بات مت کرنا۔۔۔بھول جاؤ محبت کو۔۔۔ہم صرف دوست ہیں اب”
منہا نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
“اگر تم خوش ہو تو میں بھی خوش ہوں۔۔۔مگر یاد رکھنا زندگی میں کبھی بھی تمہیں میری ضرورت پڑے۔۔۔میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ایک دوست بن کر ہی صحیح “
آرب نے ہاتھ میں پکڑا کپ میز پر رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔
“تھینک یو”
منہا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
بدلے میں وہ ہلکا سا مسکرایا اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
..
“میں کورٹ جارہا ہوں۔۔۔۔۔” نوریض نے رتبہ اور منہا کو دیکھتے ہوئے کہا
“نوریض” منہا نے پکارا
“ہاں۔۔۔۔” وہ مڑ کر پوچھنے لگا
“میرے ایبو کو ساتھ لانا”
منہا نے پر امید لہجے میں کہا۔۔۔۔
“تم دعا کرنا۔۔۔۔انشأاللّہ میں اسے لے کر ہی آؤں گا۔۔۔۔میری فرقان انکل سے بھی بات ہوئی ہے۔۔۔۔انہوں نے وکیل سے بات کرلی۔۔۔”
نوریض نے اسے تسلی دی۔۔۔۔
“اب تو خوش ہوجاؤ”
رتبہ نے منہا کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
منہا نم آنکھوں سے مسکرا دی۔۔۔۔
..
“کیا ہوا پریشان لگ رہے ہو یار؟”
ایدہ نے سوال کیا
“میں نے ریکارڈنگ یہیں رکھی تھی۔۔۔۔اب نہیں مل رہی “
کمیل سیف سے ریکارڈنگ تلاش کر کر کے تھک چکا تھا
“یہاں سے کہاں جاسکتی ہے۔۔۔۔؟ تمہارے سیف کا کوڈ تمہارے علاوہ کسی کو نہیں پتا”
ایدہ نے فوراً یاد دہانی کروائی
“ہاں۔۔۔۔میں کبھی لاک کرنا بھولتا بھی نہیں “
کمیل نے پریشانی سے کہا
“تم نے کہیں اور رکھی ہوگی یاد کرو”
ایدہ نے اسے ٹوکا
“نہیں میں نے یہیں رکھی تھی ایدہ۔۔۔مگر اب نہیں ہے۔۔۔مجھے آج کورٹ میں دکھانی تھی وہ۔۔۔۔”
کمیل نے تفصیل دی
“اب کیا ہوگا کامی؟”
ایدہ بھی پریشان ہوئی
“اگر وہ ویڈیو نہیں دکھائی تو ان کا وکیل یہ ثابت کردے گا کہ کڈنیپنگ میں اس کا ہاتھ نہیں ہے۔۔۔ہمارے پاس کوئی اور ثبوت بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔”
کمیل نے سر کو دونوں ہاتھوں میں پکڑا
“وہ تصویر بھی تو ہے کامی۔۔۔”
ایدہ نے فوراً کہا
“اس سے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔ہاسپیٹل پتا نہیں کتنے بندے طبیعت پوچھنے جاتے ہیں۔۔۔۔اس سے وہ کڈنیپر نہیں بنے گا”
وہ روہانسی ہوا۔۔۔۔
“مگر وہ یہاں سے گئی کہاں۔۔۔۔؟”
کمیل پھر سے اٹھ کھڑا ہوا اور تلاشنے لگا۔۔۔۔
