Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 22)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 22)
Blind Friends By Isra Rao
“تو الٹا تو غصہ کر آیا اس پر”
نوریض نے کہا
“یار یہ لوگ ہماری زندگیوں سے چلے کیوں نہیں جاتے؟”
ابراہیم نے افسردگی سے کہا
“تو غصہ نہیں کر۔۔۔۔منہا کو پیار سے سمجھا۔۔۔۔سب بھول جائے اور لائف میں آگے بڑھے۔۔۔۔”
نوریض نے کہا
“یار مجھ سے اس کا رونا نہیں دیکھا جاتا۔۔۔۔میرا دل کر رہا ہے میں ایدہ کا قتل کردوں”
ابراہیم نے غصے سے کہا
“کس کس کا کرے گا۔۔۔۔؟ ایسے لوگ ملتے رہتے ہیں۔۔۔۔ہمیں سبق دینے کے لیے۔۔۔کہ ہم نے دوستی میں غلط لوگوں کا انتخاب کیا”
نوریض نے سمجھانا چاہا
ابراہیم گہری سوچ میں ڈوبا۔
..
(تم دوست نہیں دشمن ہو۔۔۔۔تم نے میری زندگی خراب کردی ایدہ)
ایدہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی
منہا کی باتیں اس کے کانوں کو چیر رہی تھی
“میں نے غلط کیا ہے۔۔۔۔میں جانتی ہوں”
وہ سوچنے لگی
“میں اور آرب۔۔۔ساتھ کبھی خوش رہ نہیں سکتے۔۔۔کیوں کہ دھوکے پر بنے رشتے سکون نہیں دیتے”
اس کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگا
..
وہ جب گھر آیا تو دیکھا سامنے ٹیبل پر کھانا رکھا تھا۔۔۔
ابراہیم نے آگے بڑھ کر ڈھکن اٹھایا۔۔۔۔
پھر ایک گہرہ سانس خارج کیا۔۔۔۔
وہ سمجھ گیا تھا کہ یہ کھانا منہا نے اس کے لیے رکھا ہے۔۔۔۔
مگر وہ یہ بھی جانتا تھا کہ منہا نے کھانا کھایا نہیں ہوگا۔۔۔۔
وہ کمرے میں گیا تو وہ بیڈ پر آنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔۔۔آنکھوں پر ہاتھ رکھے۔۔۔۔
ابراہیم نے ہاتھ میں پکڑا کوٹ سائیڈ پر رکھا۔۔۔
پھر چلتا بیڈ تک آیا۔۔۔۔
“کھانا کھایا تو نے؟”
ابراہیم نے پوچھا۔۔۔۔
مگر وہ اسی طرح لیٹی تھی۔۔۔۔
ابراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑ آنکھوں سے ہٹایا۔۔۔۔
“مجھے بھوک نہیں ہے” منہا نے کہ کر کروٹ لی۔۔۔۔
ابراہیم لمحہ بھر دیکھتا رہا پھر اپنے جوتے اتارے اور اس کے برابر میں لیٹ کر اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔
وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔۔
ابراہیم نے اس کے کاندھے پر سر رکھا۔۔۔۔
“ایم سوری یار۔۔۔۔۔” ابراہیم نے سرگوشی کی
منہا کی آنکھ سے آنسوں بہ نکلا۔۔۔۔
مگر اس نے آنکھیں موندے رکھی۔۔۔
“کیا میری محبت میں کوئی کمی رہ گئی؟”
ابراہیم نے سوال کیا۔۔۔۔
وہ خاموش تھی
“مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔جب تو روتی ہے۔۔۔۔منہا تو بتا دے۔۔۔میں ویسا ہی بن جاؤں گا یار۔۔۔۔”
ابراہیم نے افسردگی سے کہا۔۔۔۔
منہا نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔
ابراہیم کی آنکھ سے پانی بہ کر منہا کی گردن بھگو گیا تھا۔۔۔۔
“تو جیسا ہے بہت اچھا ہے ایبو۔۔۔۔۔” منہا نے اس کی جانب کروٹ بدلی۔۔۔۔
پھر انگلی کی مدد سے اس کی آنکھ سے نکلا آنسوں صاف کیا۔۔۔۔
ایم سوری۔۔۔۔”ابراہیم نے اس کا ہاتھ تھام ہونٹوں سے لگایا۔۔۔۔
وہ لمحہ بھر اس کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھتی رہی۔۔۔۔
پہلی بار اس نے ابراہیم کو روتے دیکھا تھا۔۔۔۔
پہلی بار اسے احساس ہوا کہ کوئی ہے جو اس کے ساتھ روتا ہے۔۔۔جسے اس کے رونے سے فرق پڑتا ہے۔۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔۔” منہا نے بغور اسے دیکھتے ہوئے کہا
“ہممم۔۔۔۔۔” وہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“تمہاری ناک لال ہوگئی”
منہا نے بھیگی آنکھوں سے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
ابراہیم نے بے اختیار اپنی ناک کو چھوا۔۔۔۔
اور ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔
“میں بچپن میں جب بھی روتا تھا نا میری ناک لال ہوجاتی تھی۔۔۔۔مام بتاتی ہیں۔۔۔۔”
ابراہیم اٹھ بیٹھا۔۔۔۔۔
پھر اسے بھی ہاتھ پکڑ کھڑا کیا
“تم روتے ہوئے بلکل اچھے نہیں لگتے”
منہا نے اس کا بازوں تھام کہا
“تم سے تو پیارا ہی لگتا ہوں۔۔۔۔”
وہ چڑ کر کہنے لگا۔۔۔۔
“بیٹھو۔۔۔۔۔آج میں سرو کروں گا”
اس نے کرسی کھینچ کر اسے بٹھایا۔۔۔۔
پھر پلیٹ میں کھانا ڈالنے لگا۔۔۔۔
منہا اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اسے اپنے ماضی پر پچھتاوا ہورہا تھا۔۔۔کیونکہ اس کا حال بہت خوبصورت تھا۔۔۔۔
..
(یہ شخص میرے دل میں گھر کرتا جارہا ہے۔۔۔۔)
وہ کھڑکی میں کھڑی نکلتے سورج کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
(میں کیوں ہر بار اس کے ساتھ زیادتی کرتی ہوں۔۔۔کیوں اسے خوش نہیں رکھ پاتی )
اس نے پلٹ کر بیڈ پر اوندھے منہ لیٹے ابراہیم کو دیکھا۔۔۔
جو عادتاً تکیہ منہ پر جمائے گہری نیند میں سورہا تھا۔۔۔۔
(اب سے تمہیں منہا بدلی ہوئی ملے گی ایبو۔۔۔۔اب میں روؤں گی نہیں۔۔۔۔خوش رہوں گی۔۔۔تمہارے ساتھ)
وہ مسکرائی
پھر کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔۔
..
“ایدہ ایدہ۔۔۔۔۔”
اس نے خوشی سے پکارا
“جی وہ تو نہیں ہیں۔۔۔۔بوتیک گئی ہیں”
ملازمہ نے بتایا۔۔۔۔
آرب کا منہ اترا۔۔۔۔۔
اس نے جھٹ فون نکال کر سارہ بیگم کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔
دوسری ہی کال پر پک ہوئی
“مام۔۔۔۔۔ایک گڈ نیوز ہے”
آرب نے خوشی سے بتایا
“مجھے کمپنی میں مینجر کی پوسٹ مل گئی ہے۔۔۔۔”
آرب نے بتایا
“ماشاءاللہ میرا بیٹا اللہ بری نظر سے بچائے۔۔۔۔”
وہ خوشی سے دعا دینے لگی
“تھینک یو مام۔۔۔۔”
وہ مسکرایا
“اب احد اور ایدہ کو لے کر باہر سیلیبریٹ کرو”
انہوں نے خوشی سے کہا
“ایدہ کے پاس ٹائم ہو تب نا۔۔۔۔بوتیک سے ابھی تک نہیں آئی”
وہ برا سا منہ بنائے کہنے لگا
“تو کال کرلو بیٹا۔۔۔۔۔اسے تو فکر ہے نہیں میرے بچے کی نہ اپ ے بچے کی۔۔۔۔”
وہ اکتا کر کہنے لگی
“میں کرتا ہوں بات”
آرب نے کہا اور فون بند کرتے ہی ایدہ کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔
مگر کتنی ہی بار ڈائل کرنے پر بھی کال رسیو نہیں ہوئی
..
“مجھے پارٹی کے سو کام ہوتے ہیں۔۔۔۔فیکٹری اب تمہیں سنبھالنی چاہیے۔۔۔۔۔”
خاور صاحب نے سامنے بیٹھے کمیل کو حکم دیا
“مگر بابا میرے پاس ٹائم نہیں۔۔۔۔۔”
کمیل نے بہانہ بنایا
“میں کچھ نہیں سن رہا صبح سے تم مجھے فیکٹری میں ملو سمجھے۔۔۔۔۔”
خاور صاحب نے حکم دیا اور اٹھ کر چلے گئے۔۔۔۔
..
وہ آفس سے آیا تو منہا کچن میں کھڑی پیاز کاٹ رہی تھی۔۔۔۔
گال پر مسلسل آنسوں بہ رہے تھے۔۔۔۔
آنکھیں جل رہی تھی ۔۔۔۔
“کیا کر رہی ہو تم”
ابراہیم اس کے قریب گیا
“پیاز کاٹ رہی ہوں اسی لیے آنکھیں جل رہی ہیں”
منہا نے بھیگی آنکھوں کو زور سے میچا۔۔۔۔
“چھوڑ اسے۔۔۔اور منہ دھو کر آ”
اس نے اس کے ہاتھ سے پیاز اور چھری کے کر سائیڈ کی
پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر واش بیسن کے سامنے لا کھڑا کیا۔۔۔۔
منہا نے چہرے پر پانی ڈالا۔۔۔۔
“ایبو میں نے کھانا بنانا تھا”
اس نے سائیڈ پر کھڑی ابراہیم کو دیکھا۔۔۔
“چھوڑ باہر چلتے ہیں کھانا کھانے۔۔۔۔”
ابراہیم نے فوراً کہا
“کہاں؟” وہ مسکرا کر پوچھنے لگی۔۔۔۔
“جہاں تو کہے۔۔۔جو تو فرمائش کرے”
ایبو نے تن کر کہا
“پکی بات؟” وہ پوچھنے لگی
ابراہیم نے اثبات میں سر ہلایا
“بائیک رائیڈ پر چلیں؟”
وہ چہک کر پوچھنے لگی۔۔۔
ابراہیم نے ابرو سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔۔
“چلو۔۔۔۔۔”
وہ اس نے سوچ کر جواب دیا
“میں تیار ہوکر آتی ہوں”
منہا نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
اور روم کی جانب بڑھ گئی۔۔
..
“سوری ہنی۔۔۔۔۔میں اتنی بزی تھی۔۔۔۔تم سے بات نہیں کر پائی”
اس نے آتے ہی پرس رکھتے ہوئے کہا
“تمہارے پاس میرے اور احد کے لیے ٹائم ہوتا ہی کب ہے؟”
وہ بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا
“کول ڈاؤن آبی۔۔۔۔آج نئی کلیکشن کو۔۔۔۔۔”
وہ اپنی بات پوری کرتی مگر آرب نے اسے کی بات کاٹی
“مجھے صفائی نہیں چاہیے۔۔۔۔ٹائم چاہیے جو تم نہیں دے سکتی۔۔۔۔۔”
آرب نے بے رخی سے کہا
“نہیں۔۔۔ہنی۔۔۔میں دے سکتی ہوں۔۔۔بس میری مجبوری کو سمجھو نا۔۔۔۔میں تمہاری طرح چھوٹی سی نائن ٹو فائف جاب نہیں کرتی۔۔۔۔میرا اپنا بزنس ہے۔۔۔ٹائم دینا پڑتا ہے”
ایدہ نے اس۔ کے گال پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔
“تم مجھے ڈی گریڈ کر رہی ہو؟”
اس نے اس کا ہاتھ جھٹکا
“نہیں ہنی میرا وہ مطلب نہیں تھا”
ایدہ نے سمجھانا چاہا۔۔۔۔
تمہارا یہی مطلب تھا۔۔۔۔تم ہر بار یہی کرتی ہو۔۔۔۔مجھے نیچا دکھاتی ہو۔۔۔۔میری جاب کے طعنے دیتی ہو۔۔۔۔۔”
وہ غرایا
“نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہے”
ایدہ نے پھر سے سمجھانا چاہا
“ایسا ہی ہے۔۔۔ارے میں تو اپنی پروموشن ہونے کی خوشی تمہارے ساتھ شیئر کرنا چاہتا تھا مگر تم۔۔۔۔”
وہ غصے سے بات کو ادھوری چھوڑ سائیڈ ٹیبل سے چابی اٹھاتا باہر نکل گیا
..
“شال لے لو ٹھنڈ ہے باہر”
ابراہیم نے اسے دیکھا۔۔۔۔
جو وائٹ سوٹ میں دوپٹہ گلے میں ڈالے کھڑی تھی۔۔۔۔
اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
پھر شال نکالی اور اپنے گرد لپیٹی۔۔۔۔
ابراہیم اسے بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
سادگی میں بھی وہ کتنی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔
“بہت اچھی لگ رہی ہو”
ابراہیم نے آگے بڑھ کر اس کے گال پر محبت کی مہر ثبت کی۔۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔
ابراہیم نے ہاتھ بڑھا کر اس کی ہائی پونی پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
منہا نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔۔
وہ مسکرایا۔۔۔۔۔پھر پونی نکال کر اس کے پر رکھی اور چابی اٹھا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
کھل کر سلکی بال کمر پر بکھر گئے تھے۔۔۔۔
وہ بے اختیار مسکرا دی۔۔۔۔
اور اس کے پیچھے نکلی۔۔۔۔
“آج ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں” منہا نے بائک پر بیٹھے اپنی شال کو درست کرتے کہا
اس کا ایک ہاتھ ابراہیم کے کاندھے پر رکھا تھا۔۔۔
سلکی بالوں کی کچھ آوارہ لٹیں شال سے نکل کر ہوا میں لہرا رہی تھی۔۔۔۔
“تمہاری ہی فرمائش تھی”
وہ بائیک چلاتے ہوئے ہنس کر کہنے لگا۔۔۔۔
“کیوں کہ میں جانتی ہوں میرا ہسبینڈ بہت اچھا رائڈر ہے۔۔۔۔”
منہا نے کہا۔۔۔۔۔
وہ اس کی بات پر کھل کر ہنسا تھا۔۔۔۔۔
مگر منہا کی مسکراہٹ لمحے میں غائب ہوئی تھی۔۔۔۔
جب برابر چلتی کار میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے آرب پر اس کی نظر پڑی۔۔۔۔
جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔نہ آگے جارہا تھا نہ پیچھے۔۔۔۔
آرب کا دل دھڑکنا بند ہوگیا ہو جیسے۔۔۔۔
وہ دل کے ہاتھوں مجبور اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
کتنے وقت بعد اسے دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ نہیں بدلی تھی۔۔۔۔وہ ویسی ہی تھی ہاں بلکل ویسی ہی۔۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔۔۔” منہا نے دونوں ہاتھوں سے ابراہیم کی شرٹ کو زور سے پکڑا۔۔۔۔
“کیا ہوا؟” ابراہیم نے گردن موڑے پوچھا۔۔۔۔
برابر سے کار گزری تو ابراہیم کی بھی نظر پڑی۔۔۔۔
وہ سمجھ گیا تھا۔۔۔۔
“گھر چلو۔۔۔۔۔” منہا نے بھری آواز میں کہا
“مگر منہا ۔۔۔۔۔” ابراہیم کچھ کہنے لگا تھا کہ منہا نے ضد کی
“پلیز گھر چلو۔۔۔۔۔”
اس نے گال پر بہتے آنسوں کو ہاتھ سے صاف کیا
..
(وہ بائیک پر بیٹھی تھی۔۔۔۔بال ہوا میں لہرا رہے تھے۔۔۔
وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔)۔
آرب نے گاڑی سائیڈ پر روکی اور باہر نکلا۔۔۔۔
(اس نے ابراہیم کی شرٹ کو زور سے پکڑا تھا۔۔۔۔)
وہ گاڑی سے ٹیک لگائےکھڑا ہوا۔۔۔۔
وقت واپس پیچھے چلا گیا تھا۔۔۔۔
اس کا کالج میں ساتھ گھومنا پھرنا۔۔۔۔
ہنسنا کھانا پینا۔۔۔۔محبت جتانا۔۔۔۔
وہ سب لمحے فلم کی طرح چلنے لگے۔۔۔
وہ اس کے نصیب میں نہیں تھی۔۔۔۔ہاتھ وہ کسی اور کی ہوگئی تھی۔۔۔۔
اور وہ کوئی اور۔۔۔اور کوئی نہیں۔۔۔اس کا دوست تھا۔۔۔۔
جس نے اس کی محبت سے شادی کرلی تھی۔۔۔۔
..
اس نے گھر میں آتے ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑی پکڑی چابی زمین پر پھینکی۔۔۔۔
اور سیدھا اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کرلیا۔۔۔۔
منہا باہر کھڑی تھی۔۔۔۔
بہتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
آنسوؤں کی رفتار تیز ہوگئی تھی۔۔۔۔وہ صوفے پر بیٹھی بنا آواز رو رہی تھی۔۔۔
(کیوں یہ شخص میرے سامنے آیا)
وہ روتے ہوئے سوچنے لگی
(میں نے ایک بار پھر سے ایبو کو دکھ پہنچایا ہے۔۔۔وہ کتنا خوش تھا)
وہ دل میں کہنے لگی
جانے کتنی ہی دیر وہ روتی رہی یونہی۔۔۔۔۔
جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔۔
.
رات کے تین بج رہے تھے۔۔۔۔رات گہری ہورہی تھی۔۔۔۔
وہ جب کمرے میں آیا تو ایدہ سوچکی تھی۔۔۔
(تم ان بیویوں میں سے نہیں ہو جنہیں شوہر کے باہر ہونے پر فکر ہو۔۔۔۔جو انتظار میں بیٹھی رہیں۔۔۔۔۔)
وہ اسے دیکھ دل ہی دل میں کہنے لگا
“(تم کبھی میری پسند نہیں بن سکتی منہا۔۔۔۔کبھی نہیں)
وہ بڑبڑاتے بالکنی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
ایدہ اسی طرح گہری نیند سورہی تھی۔۔۔۔
ہر چیز سے بے خبر۔۔۔۔بے فکر۔۔۔۔
..
رات گہری ہورہی تھی مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔۔۔۔
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔۔
آج پھر سے منہا نے اسے جتا دیا تھا کہ وہ آرب کو کبھی بھول نہیں سکتی۔۔۔۔
وہ کمبل پھینک اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
پھر دروازہ کھول باہر نکلا۔۔۔۔
سامنے ہی وہ صوفے شال اپنی ارد گرد لپیٹے۔۔۔۔سمٹی ہوئی سورہی تھی ۔۔۔
ابراہیم اسے یک ٹک دیکھنے لگا۔۔۔۔
پھر آگے بڑھ کر آہستگی سے اسے گود میں اٹھایا۔۔۔۔
منہا نے فوراً آنکھیں کھولی۔۔۔۔
ابراہیم نے اسے دیکھنے سے پرہیز کر رہا تھا۔۔۔۔
ابراہیم نے اسے بیڈ پر لٹایا۔۔۔۔پھر کمبل اٹھا کر اس پر ڈالا۔۔۔۔
مگر ایک بار بھی اس کی جانب نہیں دیکھا۔۔۔۔
وہ ناراض تھا۔۔۔۔۔وہ سمجھ گئی تھی۔۔۔۔
“ایبو۔۔۔ایم سوری”
منہا اٹھ بیٹھی ۔۔۔
ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔اور روم سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
..
منہا جب روم میں آئی تو وہ آئینے کے سامنے کھڑا ٹائی پہن رہا تھا۔۔۔۔
“میں پہنا دوں؟” منہا نے پوچھا۔۔۔۔
مگر ابراہیم ایسے کی مصروف رہا جیسے اس نے سنا ہی نہیں۔۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔مجھ سے بات کر نا”
منہا نے اداسی سے کہا
“کیا بات کروں۔۔۔۔یہ پوچھوں کہ میری محبت میں دم نہیں۔۔۔۔یا یہ بتاؤں کہ میں وہ مرد ہی نہیں جس کی محبت میں ایک عورت اپنا ماضی بھلا دے”
ابراہیم نے کاٹ دار لہجے میں کہا۔۔۔۔
“ایسا نہیں ہے ایبو۔۔۔۔۔” وہ پھر سے رونے لگی تھی۔۔۔۔
“تجھے بس یہی آتا ہے۔۔۔۔۔رونا۔۔۔۔کیوں کہ تو اپنے ماضی سے نکلنا نہیں چاہتی۔۔۔۔تو آج بھی اسی سے محبت کرتی ہے منہا۔۔۔مجھ سے نہیں۔۔۔۔میری محبت یک طرفہ ہے۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے سرخ چہرے سے کہا
“نہیں۔۔۔۔” وہ نفی میں سر ہلانے لگی
“تجھے میری محبت کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔میری ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔تو ٹھیک ہے تو رہ اپنے ماضی کی یادوں میں خوش۔۔۔۔۔میں تجھے اب کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔۔جو تیرا دل کرے تو کر۔۔۔”
وہ کوٹ اٹھاتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
سامنے ہی ڈریسنگ پر اس کی اومیگا کی واچ اور وہ انگوٹھی جس میں فیروزہ جڑا تھا۔۔۔۔پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
منہا نے روتے ہوئے انگوٹھی اٹھائی۔۔۔۔
آج پہلی بار وہ اس انگوٹھی کو پہننا بھول گیا تھا۔۔۔۔
..
“رات بھر کہاں تھے؟”
ایدہ نے پوچھا۔۔۔۔
“تمہیں کیا فکر۔۔۔تم نے کون سا انتظار کیا تھا”
وہ جوتے پہنتے ہوئے کہنے لگا
“میں نے کیا تھا مگر۔۔۔پتا نہیں چلا کب آنکھ لگ گئی۔۔۔۔”
ایدہ نے صفائی دی۔۔۔
تبھی احد کی رونے کی آواز آئی۔۔۔۔
دونوں نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔
“میرا بیٹا۔۔۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔مما کے پاس آو گے”
ایدہ نے ہاتھ بڑھا کر اسے اٹھایا۔۔۔مگر وہ مسلسل رو رہا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا میرے بے بی کو۔۔۔۔۔”
وہ پیار کرنے لگی۔۔۔۔
“پا۔۔۔پا۔۔۔۔۔” وہ روتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
آرب جو خود پر پرفیوم چھڑک رہا تھا فوراً رکا۔۔۔۔
آرب اور ایدہ نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔
“ایدہ اس نے ابھی مجھے پکارا۔۔۔۔۔”
وہ خوش ہوا۔۔۔۔
“بیٹا بولو پاپا۔۔۔۔۔” آرب اس کے قریب لپکا
“پاپا…..” وہ ہاتھ بڑھا کر رونے لگا۔۔۔۔
آرب نے اسے گود میں لیا اور پیار کرنے لگا۔۔۔۔
“دیکھا میں کہتی تھی نا۔۔۔۔ہمارا بیٹا بولنے لگے گا ایک دن۔۔۔۔۔”
ایدہ نے خوشی سے کہا۔۔۔۔
آرب اسے پیار کرنے لگا۔۔۔۔
وہ آج بہت خوش تھا۔۔۔۔
..
اس نے پورے دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔۔۔۔
ابراہیم بھی بنا ناشتے کے چلا گیا تھا۔۔۔۔
اور اب شام ہوگئی تھی۔۔۔۔مگر ابراہیم گھر نہیں آیا تھا۔۔۔
منہا نے اس کی پسند کا کھانا بنایا تھا۔۔۔۔
وہ صوفے پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی تھی جب وہ گھر آیا۔۔۔۔
ایک نظر اس پر ڈالی پھر بنا کچھ کہے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
منہا اٹھ کر اس کے پیچھے گئی۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔۔” وہ کمرے میں آئی۔۔۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھا اپنے جوتے اتار رہا تھا۔۔۔۔
“ایبو ایم سوری۔۔۔۔۔”.منہا نے کہا
مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا
وہ اٹھ کر اپنی ٹائی اتارنے لگا۔۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔۔میں آئیندہ ایسا نہیں کروں گی۔۔۔میں وعدہ کرتی ہوں”
منہا نے پیچھے سے اس کے گرد بازو حمائل کیے اور اس کی پشت پر سر ٹکایا
وہ ساکت ہوا۔۔۔۔ضبط سے آنکھیں بند کی
“ایبو۔۔۔۔میرا تیرا سوا کوئی نہیں ہے۔۔۔۔تو میرا سب کچھ ہے۔۔۔۔میں دوبارا نہیں روؤں گی۔۔۔۔میں تجھے ایک مضبوط منہا بن کر دکھاؤں گی۔۔۔جسے کسی بات سے فرق نہیں پڑے گا”
وہ نم آنکھوں سے کہنے لگی
“وعدہ۔۔۔۔” وہ آہستگی سے پلٹا۔۔۔۔
“وعدہ۔۔۔۔۔” وہ مسکرائی اور اس کے سینے سے لگی
“آئی لو یو منہا۔۔۔۔میں تجھے مضبوط دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔۔بات بات پر روتے ہوئے نہیں”
وہ کہنے لگا۔۔۔۔
