Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 33)

Blind Friends By Isra Rao

وہ گھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی۔۔۔۔

کمیل اسے کتنی ہی دیر دیکھتا رہا۔۔۔۔

مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔۔

“انابیہ۔۔۔۔فریش ہوجاؤ۔۔۔اگر گھر جانا ہے تو۔۔میں چھوڑ دیتا ہوں”

وہ اسے دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔

کوئی جواب نہ پاکر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔

پھر چلتا اس کے قریب گیا۔۔۔۔

“اگر نہیں جانا تو مجھے تمہیں یہاں رکھنے میں کوئی پرابلم نہیں۔۔۔۔”

کمیل نے سادگی سے کہا

اس کی بات پر انابیہ نے سر اٹھا کر اسے گھورا ۔۔۔۔

پھر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔

مگر اس سے کوئی بات کیے بنا ہی وہ آگے بڑھنے لگی۔۔۔

“میں تمہارے ساتھ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔محبت کرتا ہوں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ابھی بھی تیار ہوں۔۔۔۔”

کمیل نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔

مگر وہ ان سنی کرتی باتھروم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں جب وہ باہر آئی تو کمیل آئینے کے سامنے ریڈی کھڑا تھا۔۔۔۔

“چلیں۔۔۔۔۔؟” کمیل نے پوچھا۔۔۔

اس نے بنا جواب دیے اپنا پرس اٹھا کر کاندھے پر ڈالا۔۔۔

“مجھ سے شادی کرلو۔۔۔۔تم آرام سے سوچ لینا انابیہ۔۔۔کوئی آپشن نہیں ہے تمہارے پاس۔۔۔۔جب کہو گی میں ڈیڈ کو بھیج دوں گا۔۔۔۔”

کمیل نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔۔۔۔

اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

اس کی جب آنکھ کھلی تو وہ اس کے برابر گہری نیند سورہا تھا۔۔۔۔

وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتی رہی۔۔۔۔

اتنا سب ہونے کے بعد بھی وہ ابراہیم سے چاہ کر بھی نفرت نہیں کر پارہی تھی۔۔۔۔

اسے بے اختیار ہی رات کا منظر یاد آیا۔۔۔۔

وہ مسکرا دی۔۔۔۔

وہ آہستگی سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ ابراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑ اسے کھینچا وہ لڑکھڑا کر اس کے اوپر گری۔۔۔۔

“کہاں جارہی تھی؟”

وہ پوچھنے لگا

“تم سے دور۔۔۔۔۔”

وہ بے رخی طاری کرتی اٹھنے لگی۔۔۔

“خود سے دور میں تمہیں کبھی جانے نہیں دوں گا۔۔۔۔”

ابراہیم نے اس کے رخسار کو چھوتے ہوئے کہا

“ہاں جانتی ہوں۔۔۔۔رات میں وجہ جو مل گئی تمہیں مجھے روکنے کی۔۔۔۔”

وہ طنزیہ کہتی سیدھی ہوئی۔۔۔

“تمہیں لگتا ہے میں اس بچے کی وجہ سے تمہیں روک رہا ہوں۔۔۔۔؟”

وہ الٹ پوچھنے لگا

“شاید۔۔۔۔” وہ کاندھے اچکاتی کہنے لگی۔۔۔

“میں جانتا ہوں یہ خوشی ہمیں مشکل سے ملی ہے۔۔۔۔بہت انتظار کے بعد ملی ہے۔۔۔مگر۔۔۔میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔۔۔اور یہ وجہ کافی تھی میرے لیے۔۔تمہارے ساتھ ساری زندگی رہنے کے لیے۔۔۔۔”

وہ محبت بھرے لہجے میں کہنے لگا

ہاں تبھی تجھے فرق نہیں پڑا تھا ایبو۔۔۔۔میرے جانے سے تو مجھے منانے نہیں آیا تھا۔۔۔۔تو نے مجھے روکا نہیں۔۔۔۔مجھے روتا چھوڑ کر چلا گیا تو۔۔۔۔”

وہ پھٹ پڑی تھی۔۔۔۔

گلے شکوے اس کے سامنے رکھ دیے تھے۔۔۔۔

آنکھوں میں پھر سے نمی اتر آئی تھی۔۔۔۔

“معافی نہیں دے گی؟”

ابراہیم نے اس کی بات کاٹتے ہی بیچ میں کہا

وہ بولتی بولتی رکی ۔۔۔۔

اسے لگا وہ بھی شکوے شکایت کرے گا جھگڑا کرے گا۔۔۔۔

مگر اس کے الفاظ سن وہ حیرانی سے دیکھنے لگی۔۔۔۔

“سوری۔۔۔۔” ابراہیم نے اپنے کانوں کو پکڑتے ہوئے کہا

اس نے بنا سوچے سمجھے ایک زوردار تھپڑ ابراہیم کے گال پر جھڑ دیا۔۔۔۔

ابراہیم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔۔

مگر اس سے پہلے وہ کچھ کہتا منہا اس کے گلے لگی۔۔۔۔

اور زوروں سے رونے لگی۔۔۔۔

ابراہیم اس کے عمل پر مسکرا دیا۔۔۔۔

اور اس کے گرد بازوں پھیلادی ۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کامی وہ چلا گیا۔۔۔۔مجھے چھوڑ کر۔۔۔ہمیشہ کے لیے”

وہ رو رہی تھی۔۔۔

“ارے جانے دے یار۔۔۔۔اس بیوفا انسان کا تو کرتی بھی کیا۔۔۔۔؟”

کمیل نے غصے سے کہا

“شٹ اپ۔۔۔۔میں اس کے بنا نہیں رہ سکتی۔۔۔۔میں جو بھی کیا اسی کے لیے کیا تھا۔۔۔۔”

وہ جھنجھلا کر کہنے لگی

“تو پھر روتی رہ۔۔۔۔۔میری بلا سے”

وہ اٹھ کر باہر نکل گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ہاں ناشتہ لگا دو۔۔۔۔” منہا نے ملازمہ کو حکم دیا۔۔۔۔

تبھی سامنے سے آتے آرب پر اس کی نظر پڑی۔۔۔۔

منہا کی ابرو تنی۔۔۔

چہرے پر گھبراہٹ ابھری۔۔۔

“آرب تم یہاں۔۔۔یہاں کیا کر رہے ہو؟ جاؤ یہاں سے۔۔۔”

منہا نے فوراً کہا

“منہا میری بات سنو۔۔۔۔”

وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔۔

مگر منہا کی تو مانو سانس ہی اٹک گئی تھی

“نہیں تم جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ابراہیم نے دیکھ لیا تمہیں یہاں۔۔۔تو وہ پھر سے کچھ کر نہ بیٹھے۔۔۔پلیز تم جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔”

وہ فکرمندی سے کہنے لگی

“ابراہیم کو پتا ہے”

آرب کی بات پر وہ بولتی بولتی رکی۔۔۔۔

“کیا؟” وہ حیران ہوئی

“ہاں مجھے پتا ہے۔۔۔۔میں نے آرب کو یہاں رکنے کے لیے کہا تھا۔۔۔۔۔”

پیچھے سے آتے ابراہیم نے تفصیل دی

“مجھے پتا ہے میں غلط تھا۔۔۔اس کے معاف کردینا یار۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے آرب کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

“ہم فرینڈز نہیں بلائنڈ فرینڈز ہیں۔۔۔۔۔اعتبار نہیں توڑیں گے کبھی ایک دوسرے کا۔۔۔۔اور جس نے توڑا۔۔۔۔میں اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ آیا ہوں۔۔۔۔”

آرب نے تفصیل دی۔۔۔۔۔

وہ لوگ بات کر ہی رہے تھے۔۔۔۔۔جب سامنے گیٹ سے اندر آتی انابیہ پر ان کی نظر پڑی۔۔۔۔

“یہ یہاں کیا کر رہی ہے؟” ابراہیم بڑبڑایا

“ایبو دیکھ کر۔۔۔۔۔” منہا نے فوراً کہا

ابراہیم آگے بڑھا۔۔۔۔

“یہاں کیا کرنے آئی ہیں آپ؟”

ابراہیم نے تلخی سے سوال کیا

“معافی مانگنے”

انابیہ نے سوجی آنکھوں سے کہا

“”مجھے آپ کی معافی نہیں چاہیے۔۔۔پلیز آپ جاسکتی ہیں”

ابراہیم نے کہا

“مجھے میرے گناہوں کی سزا مل چکی ہے۔۔۔۔پلیز ایک بار میری بات سن لو”

اس نے منت کی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“تو نے ہمیشہ میری خوشیاں مجھ سے چھیننی چاہی ہے منہا”

وہ بڑ بڑائی۔۔۔۔

“اس بار بہت ہوا۔۔۔۔میں تجھے کامیاب نہیں ہونے دوں گی”

اس نے الماری سے پستول نکالی۔۔۔۔

“آج میں تجھ سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑوا لوں گی۔۔۔”

اس نے پستول کوٹ کی جیب میں رکھی ۔۔۔

پھر ایک نظر سامنے بیڈ پر سوئے احد کو دیکھا۔۔۔۔

چل کر اس کے قریب گئی

“آپ کی ماما آپ کو پاپا کو ساتھ لے کر ہی آئے گی۔۔میری جان”

اس نے جھک کے اس کا ماتھا چوما ۔۔۔

ڈرار سے چابی نکالی اور باہر نکل گئی ۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“تم نے دھوکہ کیا میرے ساتھ۔۔۔کیا ملا؟ کیا آیا تمہارے ہاتھ؟ یہ رسوائی ۔۔یہ دھوکا”

ابراہیم نے کاٹ دار لہجے میں کہا

“مجھ سے غلطی ہوگئی تھی۔۔۔مجھے معاف کردو۔۔۔۔”

وہ بھیگی آنکھوں سے کہنے لگی

“میں تمہیں معاف نہیں کرسکتا۔۔۔جاسکتی ہو”

ابراہیم نے بے رخی سے کہا۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔کوئی معافی مانگے تو معاف کردینا چاہیے”

منہا نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

“میں آپ کی بھی گناہگار ہوں۔۔۔۔منہا آپ پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔۔”

وہ اس کی منت کرنے لگی

“میں بس اتنا کہوں گی کہ کمیل سے شادی مت کرنا۔۔۔۔اسے اس کے کرموں کی سزا ملنی چاہیے۔۔۔۔تم عام لڑکی نہیں ہو جو خاموش ہوجاؤ گی۔۔۔۔تمہیں اسٹینڈ لینا چاہیے۔”

منہا نے اطمینان سے سمجھایا

“اور رہی بات تمہیں معاف کرنے کی۔۔۔۔مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں۔۔۔۔۔میرا ایبو ہے ہی ایسا۔۔۔ہر کسی کا دل آجاتا ہے اس پر۔۔۔۔۔۔۔”

منہا نے نرم لہجے میں مسکرا کر کہا

ابراہیم خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا

“میں سمجھتی تھی کہ ابراہیم کی بیوی خوش نصیب ہوگی کیونکہ اسے ابراہیم ملا۔۔۔مگر تم سے مل کر آج معلوم ہوا کہ ابراہیم خوش نصیب ہے جو اسے تم ملی۔۔۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔۔۔۔

پھر زخمی مسکراہٹ لیے وہاں سے چلی گئی۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ہمیں خاور انکل سے بات کرنی چاہیے”

آرب نے کہا

“انہیں سب پتا ہوگا”

ابراہیم نے بے رخی سے کہا

“نہیں انہیں کسی بھی بات کا کوئی علم نہیں ہے۔۔۔۔ایدہ اور کامی انہیں پتا لگنے دیتے ہی نہیں”

آرب نے تفصیل دی۔۔۔۔

“انابیہ اپنے فادر سے بات کر کے اس پر کیس کروا سکتی ہے”

منہا نے کہا

“شاید وہ ابھی گھبرائی ہوئی ہے۔۔۔اسی لیے چپ ہے”

آرب نے کہا

“یہ کامی کتنا گھٹیا انسان نکلا ہے۔۔۔۔میرا بس چلے تو اس کا قتل اپنے ہاتھوں سے کردوں”

ابراہیم نے حقارت سموئے کہا

“ہر برائی کا انجام ہوتا ہے۔۔۔۔ان دونوں بہن بھائیوں کا بھی ہوگا”

آرب نے کہا۔۔۔۔

“میرے تو سر میں درد ہورہا ہے کیسے گھٹیا دوست پالے تھے ہم نے”

ابراہیم نے کہا

“تم کیوں ٹیشن لے رہے ہو۔۔۔۔ٹھنڈے ہوجاؤ میں چائے لاتی ہوں”

منہا نے ابراہیم کو تسلی دی اور کمرے سے نکل کر کچن کی جانب بڑھ گئ۔۔۔۔

“مجھ سے تو کچھ سوچا بھی نہیں جارہا”

ابراہیم نے کہا

“تو ٹینشن نہیں لے کرتے ہیں کچھ۔۔۔۔اچھا چل نیچے ہی چلتے ہیں۔۔۔۔لان میں چائے پیتے ہیں۔۔۔فریش ہوا ہوگی۔۔۔تیرا طبیعت بھی کچھ ٹھیک ہوگی۔۔۔پھر سوچیں گے کیا کرنا ہے”

آرب نے اٹھتے ہوئے کہا

“اٹھ جا چل۔۔۔۔اجا”

وہ اسے زبردستی اٹھانے لگا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“منہا۔۔۔۔۔” کچن میں جاتی منہا ایدہ کی آواز پر چونکی۔۔۔

پھر پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔

وہ سامنے ہی کھڑی تھی۔۔۔۔

“ایدہ۔۔۔۔تم یہاں؟”

منہا حیران ہوئی

“چھین لیا نا تم نے مجھ سے میرے آرب کو؟”

ایدہ نے سوال کیا۔۔۔۔

“تم مجھ سے لڑنے آئی ہو؟” منہا نے سینے پر ہاتھ باندھے سوال کیا

“ہاں۔۔۔کیوں تمہاری وجہ سے مجھے آبی چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔صرف تمہاری وجہ سے”

ایدہ غراتے ہوئے کہا

“نہیں وہ تمہاری وجہ سے تمہیں چھوڑ گیا ہے”

منہا نے اطمینان سے کہا

“تم بدلہ لے رہی ہو نا مجھ سے۔۔۔۔۔ہاں تم جان بوجھ کر رہی ہو سب”

ایدہ نے کرختگی سے کہا

“میں نے کوئی بدلہ نہیں لیا۔۔۔۔تم اپنی دشمن خود ہو ایدہ۔۔۔۔”

منہا نے سمجھانا چاہا ۔۔۔

“سب تمہارا قصور ہے۔۔۔ہر کوئی تمہیں پسند کرتا ہے۔۔۔تم سے محبت کرتا ہے”

ایدہ نے اپنے دل کی بات کی۔۔۔

منہا خاموش ہوئی

“آرب کہتا ہے وہ تم سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔مجھ سے کبھی نہیں کرپایا”

وہ بھری آواز میں کہنے لگی

“کیوں تو مجھ سے ہر بار جیت جاتی ہے؟”

وہ نم آنکھوں سے کہنے لگی

وہ سامنے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی

خاموشی سے

“کیا میں خوبصورت نہیں ہوں؟ مجھ میں کوئی کمی ہے۔۔۔پھر کیوں وہ مجھ سے محبت نہیں کرتا۔۔۔کیوں اس کے دل میں ہمیشہ تو رہتی ہے؟”

آنسوں اب آنکھوں سے گرنے لگے تھے۔۔۔۔

“میں نے جو بھی تیرے اور نوریض کے ساتھ کیا مانتی ہوں غلط تھا۔۔۔مگر میں نے صرف اسے پانے کے لیے کیا۔۔۔۔۔”

وہ بولتی جارہی تھی

اور منہا سنتی جارہی تھی۔۔۔۔

“اور اسے میں خود سے کبھی دور جانے نہیں دوں گی۔۔۔۔اس کے لیے میں مر بھی سکتی ہوں۔۔۔اور تجھے مار بھی سکتی ہوں”

ایدہ حقارت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔

پھر کوٹ میں ہاتھ ڈال کر چھپی ہوئی پستول نکال کر رخ اس کی جانب کیا۔۔۔۔

“آرب صرف میرا ہے منہا میں تجھے اسے مجھ سے چھیننے نہیں دوں گی۔۔۔۔۔”

ایدہ نے تلخی سے کہا

منہا پستول دیکھ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔

“تو مجھے نہیں مار سکتی ایدہ۔۔۔میں تیری دوست ہوں۔۔۔۔”

منہا نے ٹھنڈے لہجے میں کہا

“میں ماروں گی۔۔۔تو مر جائے گی نہ تو آرب کو مجھ سے کوئی نہیں چھین سکتا”

ایدہ نے فوراً کہا

“تو مجھ سے محبت کرتی ہے ایدہ۔۔۔تو مجھ پر گولی نہیں چلاسکتی۔۔۔۔”

منہا نے مسکرا کر کہا

“بند کر اپنی بکواس۔۔۔۔”

ایدہ نے کہتے ساتھ ہی آنکھیں بند کی۔۔۔۔اس کے کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔

مگر ہمت کر کے اس نے گولی چلا ہی دی۔۔۔۔۔

گولی کی آواز اس کے کانوں کو چیرتی ہوئی گئی تھی۔۔۔۔

اس میں ہمت نہیں تھی آنکھیں کھولنے کی۔۔۔۔

وہ منہا سے واقع محبت کرتی تھی۔۔۔۔

“آرب۔۔۔۔۔”منہا کے چلانے کی آواز پر اس نے جھٹ آنکھیں کھولی۔۔۔۔

سامنے کا منظر دیکھ اس کے ہاتھ سے پستول زمین پر جا گری تھی۔۔۔۔

سامنے ہی آرب خون میں لت پت پڑا تھا منہا اور ابراہیم اس کے پاس زمین پر بیٹھے تھے۔۔۔۔۔

مگر اسے کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔

اس کا جسم سن ہوچکا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

ہسپتال کی کوریڈور میں سب موجود تھے۔۔۔۔

منہا اور ابراہیم سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔

ساتھ ہی نوریض اور سارہ بیگم بینچ پر پریشان بیٹھے تھے۔۔۔۔

“ایم سوری۔۔۔۔” ڈاکٹر نے باہر آتے ہی کہا۔۔۔۔

منہا نے ابراہیم کی جانب دیکھ نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔

“آرب میرا بیٹا۔۔۔۔” سارہ بیگم چلاتی اندر بھاگی۔۔۔۔

نوریض کو ایسا لگا جیسے وہ ہل نہیں پائے گا۔۔۔۔۔

انہیں اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

منہا کی آنکھوں سے متواتر آنسوں بہ رہے تھے۔۔۔۔

جسے روکنے اس کے بس میں نہیں تھا۔۔۔۔۔