Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 14)

Blind Friends By Isra Rao

کلین شیو۔۔۔سفید رنگت پر۔۔۔۔

وہ بالوں کو جیل سے سیٹ کیے۔۔۔۔ واقع سیدھا سادھا سا لگا خاور صاحب کو۔۔۔۔

“میری بیٹی ضدی ہے تھوڑی۔۔۔۔تم دوست رہ چکے ہو اس کے جانتے ہوگے”

خاور صاحب نے سامنے بیٹھے آرب کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“جی۔۔۔۔۔” آرب نے مختصر کہا

“تو تم اسے جانتے ہو پھر بھی شادی کر رہے ہو۔۔۔۔تو یاد بھی رکھنا کہ میری بیٹی کامپرومائز کرنے والی لڑکی نہیں۔۔۔۔وہ جیسے بھی ہے۔۔۔تمہیں نبھا کر چلنا ہوگا”

وہ سنجیدہ تھے۔۔۔۔

آرب ان کی بات پر ہلکا سامسکرایا۔۔۔۔

“میں نے تو سنا تھا باپ بیٹیوں کو سسرال بھیجنے سے پہلے کمپرومائز کرنا سکھاتے ہیں۔۔۔یہاں آپ داماد کو سیکھ دے رہے ہیں۔۔۔۔”

آرب نے کاٹ دار لہجے میں کہا

خاور صاحب نے ابرو سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔۔

وہ سنجیدہ تھا

“سوری ٹو سے انکل۔۔۔۔مگر رشتہ دونوں طرف سے نبھایا جاتا ہے۔۔۔۔میں اکیلا کمپرومائز نہیں کروں گا۔۔۔۔اور رہی بات ایدہ کو جاننے کی تو میں واقع اسے اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔ایدہ میری مام کی پسند ہے۔۔۔۔۔”

آرب نے سنجیدگی سے کہا

“تو کیا تم ایدہ سے شادی نہیں کرنا چاہتے؟”

وہ سوال کر اسے بغور دیکھنے لگے

“میں نے ایسا نہیں کہا۔۔۔۔اگر میں نہیں کرنا چاہتا تو ہاں بھی نہیں کہتا۔۔۔۔مگر ایدہ مجھے اچھے سے جانتی ہے۔۔۔ہم دوست ہیں بہت اچھے۔۔۔۔۔بہتر ہوگا آپ ایک بار ایدہ کی رضامندی جان لیں”

آرب کہتے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

خاور صاحب آرب کو دیکھ کر رہ گئے۔۔۔۔

“کیا کر رہی ہو؟”

منہا کی آواز پر سنک کے سامنے کھڑی برتن دھوتی زیمل نے پلٹ کر دیکھا

“آپ کو کچھ چاہیے تھا بھابھی؟”

زیمل نے ہاتھ دھوتے ہوئے پوچھا

“تم مجھے بھابھی کیوں کہتی ہو۔۔۔۔منہا کہا کرو”

منہا نے ٹوکتے ہوئے کہا

“آپ میری بھابھی ہیں تو بھابھی ہی کہوں گی نا”

زیمل مسکرائی

“نہیں تم مجھے منہا کہا کرو۔۔۔مجھے بھابھی لفظ پسند نہیں”

منہا نے دو ٹوک کہا

“مگر میں آپ کا نام نہیں لے سکتی۔۔۔۔امی بابا والے مجھے ڈانٹیں گے”

زیمل نے معصومیت سے کہا

“کیا بات ہورہی ہے دونوں میں”

ابراہیم کچن میں داخل ہوا

“کچھ نہیں۔۔۔۔۔”

منہا منہ بنا کر کہتی باہر نکل گئی

زیمل نے ابراہیم کی جانب دیکھا۔۔۔۔

جو خاموشی سے اسے جاتا دیکھ رہا تھا

“اس کی باتوں کا برا نہیں منانا۔۔۔۔عادت سے مجبور ہے یہ۔۔۔۔”

ابراہیم نے سر جھٹک کر کہا۔۔۔۔

اور اس کے پیچھے باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

زیمل انہیں دیکھ مسکرا دی۔۔۔۔

اور پھر سے مصروف ہوگئی

“میری طرف سے انکار ہے”

خاور صاحب نے کہا

“کیوں ڈیڈ۔۔۔ہوا کیا؟”

کمیل نے حیرت سے پوچھا

“آج بلایا تھا میں نے آرب کو ملنے۔۔۔۔مجھے اس کا رویہ نہیں اچھا لگا۔۔۔۔وہ اکھڑ مزاج لڑکا ہے۔۔۔۔”

انہوں نے فوراً کہا

“نہیں ڈیڈ وہ ایسا نہیں ہے وہ بہت اچھا ہے”

ایدہ نے فوراً کہا

“مجھے پسند نہیں آیا۔۔۔تم اس کے ساتھ گزارا نہیں کرسکتی۔۔۔بچے۔۔۔وہ الگ طبیعت کا مالک ہے”

انہوں نے پیار سے سمجھایا

“نہیں۔۔۔ڈیڈ۔۔۔وہ ایسا نہیں ہے میں جانتی ہوں۔۔۔بس اپ ہاں کردیں۔۔۔۔”

وہ ضد کرنے لگی

“ایدہ یہ پوری زندگی کا سوال ہے۔۔۔۔شادی ضد نہیں ہوتی۔۔۔”

انہوں نے ٹوکا

“میں جانتی ہوں ڈیڈ۔۔۔ٹرسٹ می آرب بہت اچھا ہے کامی سے پوچھیں۔۔۔اپ ہاں کردیں پلیز ڈیڈ۔۔۔پلیز۔۔۔۔”

وہ بضد تھی۔۔۔۔

“یہ تمہاری اپنی چوائس ہے پھر۔۔۔۔۔”

وہ پھر سے کہنے لگے۔۔۔۔

“ائی پرامس میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔۔۔۔پلیز ڈیڈ پلیز۔۔۔۔”

ایدہ کے ضد کرنے پر خاور صاحب نے گہری سانس خارج کی۔

“منہا ایک بات پوچھوں؟”

ابراہیم جو بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔منہا سے مخاطب ہوا۔۔۔۔

وہ زمین پر اپنے بستر پر کوئی کتاب پڑھنے میں مصروف تھی۔۔۔۔جو اس نے ابراہیم کی سائیڈ ٹیبل سے اٹھائی تھی

“تمہیں بھی تو آگے پڑھنا ہوگا نا۔۔۔۔تمہارے بھی کچھ خواب ہوں گے۔۔۔”

ابراہیم نے سادگی سے پوچھا

“ہاں۔۔۔میرے بہت سے خواب تھے۔۔۔مگر کیا فائدہ اب۔۔۔۔”

وہ بے دلی سے کہنے لگی۔۔۔

“تم کہو گی تو میں بابا سے بات کرلوں گا ہم دونوں باہر چلتے ہیں۔۔۔۔اور”

ابراہیم بات پوری کرتا مگر منہا نے ٹوکا

“نہیں مجھے نہیں جانا۔۔۔۔نا ہی مجھے آگے پڑھنا ہے۔۔۔تم لوگوں کے پہلے ہی بہت احسان ہیں مجھ پر۔۔۔اور مت کرو پلیز۔۔۔۔”

منہا نے اکتا کر کہا

ابراہیم کچھ کہنا چاہتا تھا مگر وہ گہری سانس لیتا خاموش ہوگیا

“میں نے تم سے مام کے کہنے پر شادی تو کرلی۔۔۔۔مگر میں تمہیں دھوکے میں نہیں رکھو گا۔۔۔۔میرے پاس تمہیں دینے کے لیے محبت نہیں ہے۔۔۔۔۔”

وہ سامنے دلہن بنی بیٹھی ایدہ کو دیکھ کہ رہا تھا۔۔۔۔

“آرب میں جانتی ہوں۔۔۔تم کن حالات سے گزرے ہو۔۔۔۔مگر زندگی آگے بڑھنے کا نام ہے۔۔۔۔”

ایدہ نے سنجیدگی سے کہا

“ہاں۔۔۔تم ٹھیک کہ رہی ہو۔۔۔مگر سب کچھ بھلانے میں وقت لگتا ہے ایدہ۔۔۔کچھ بھی بھلانا اتنا آسان نہیں ہوتا”

وہ اسے بغور دیکھ کہنے لگا

“تو میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔۔۔ہماری شادی ابھی ہوئی ہے۔۔۔مگر ہم دوست بہت پہلے سے ہیں۔۔۔۔”

ایدہ نے اسے تسلی دی

“پھر بھی مجھ سے زیادہ امید مت لگانا۔۔۔۔میں کوشش کروں گا کہ تمہیں مجھ سے کوئی پرابلم نہ ہو۔۔۔۔مگر۔۔”

آرب نے سادگی سے کہا

“میں ہر حال میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔ایک بیوی بن کر بھی اور ایک دوست بن کر بھی۔۔۔”

ایدہ مسکرائی۔۔۔۔

“یہ تمہارا گفٹ ۔۔۔۔۔”

آرب نے ڈبی اس کی جانب بڑھائی۔۔۔۔

جسے ایدہ نے خاموشی سے تھام لیا۔۔۔۔وہ اسے پہنانے کی امید نہیں لگا سکتی تھی۔۔۔۔

وہ جانتی تھی آرب اس شادی سے خوش نہیں۔۔۔۔

مگر وہ خوش تھی۔۔۔بہت۔۔۔۔۔اس کی خواہش پوری ہوگئی تھی

“کیا بات ہے آج جلدی اٹھ گئے۔۔۔۔”

وہ اسے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا دیکھ حیران ہوئی۔۔۔

“ہاں۔۔۔کراچی جانا ہے”

وہ کنگھا کرتا کہنے لگا

“کراچی؟”

وہ اسے دیکھنے لگی

“ہاں۔۔۔وہ کچھ ڈاکیومنٹس وغیرہ کا کام ہے مجھے۔۔۔۔”

ابراہیم نے مصروفیت سے جواب دیا۔۔۔

وہ خاموش کسی سوچ میں ڈوب گئی۔۔۔

“تم چلو گی؟”

وہ پلٹ کر پوچھنے لگا۔۔۔۔

وہ جانتا تھا۔۔۔اسے گھر والوں کی یاد آرہی ہے۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔۔” وہ صاف گوئی سے کہتی پلٹ گئی۔۔۔۔

وہ کس منہ سے کہتی کہ اسے گھر جانا ہے۔۔۔جب اس کے گھر والوں نے اتنے ٹائم میں بھی کوئی رابطہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔

“ایدہ۔۔۔۔۔ایدہ۔۔۔” آرب نے بیڈ پر بے سدھ سوئی ایدہ کو پکارا۔۔۔

مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔۔

“ایدہ۔۔۔۔” آرب ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔پھر واپس کھینچ لیا۔۔۔۔

وہ اسی طرح سوئی ہوئی تھی۔۔۔۔

وہ بیڈ سے اٹھا اور باتھروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

تھوڑی دیر میں جب وہ نہا کر نکلا۔۔۔تب بھی وہ اسی طرح سورہی تھی۔۔۔۔

وہ سر کو خم دیتا ڈریسنگ کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

وہ تیار ہوا اور روم سے باہر نکل گیا۔۔۔۔

نیچے کھڑی سارہ بیگم اسے سیڑھیاں اترتا دیکھ مسکرائی۔۔۔۔

“اٹھ گئے۔۔۔۔ایدہ کہاں ہے؟”

وہ خوش دلی سے پوچھنے لگی

“وہ سورہی ہے”

آرب نے مختصر کہا

“سورہی ہے؟ تو تمہیں اسے جگانا چاہیے تھا نا۔۔۔۔ساتھ لاتے اسے”

وہ اسے دیکھ کہنے لگی

“مام وہ بچی نہیں ہے۔۔۔۔اسے خود احساس ہونا چاہیے۔۔۔۔۔”

آرب نے اکتاہٹ سے کہا

“آرب کیسی باتیں کر رہے ہو۔۔۔۔بیوی ہے وہ تمہاری۔۔۔”

سارہ بیگم نے اسے ٹوکا

“اوہ۔۔۔پلیز مام۔۔لیکچر دینے سے اچھا ہے آپ خود اٹھا لیں اسے”

آرب کہتا ڈائننگ ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

اور سارہ بیگم سیڑھیاں چڑھتی اوپر کی جانب۔۔۔۔

سارہ بیگم جب روم میں آئی تو وہ اسی انداز میں سورہی تھی۔۔۔۔

“ایدہ۔۔۔ایدہ بیٹا۔۔۔۔۔”

سارہ بیگم نے اسے ہاتھ لگا کر اٹھانا چاہا۔۔

“ہمممم۔۔۔۔۔۔” وہ نیند میں ڈوبی بس اتنا کہ سکی

“صبح ہوگئی ہے بیٹا اٹھو۔۔۔۔۔”

ایدہ نے جھٹ آنکھیں کھولی۔۔۔۔۔

پھر سیدھی ہوکر بیٹھی۔۔۔۔

اس نے یہاں وہاں دیکھا آرب نہیں تھا

“آرب کہاں گیا؟”

وہ پوچھنے لگی۔۔۔۔

“وہ نیچے ہے۔۔۔۔ڈائننگ ٹیبل پر”

سارہ بیگم نے مسکرا کر بتایا

“وہ میرے بنا ہی چلا گیا۔۔۔۔؟”

وہ سوال کرنے لگی

“تم سورہی تھی نا تو وہ تمہاری نیند خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔”

سارہ بیگم نے بہانہ بنایا

“پھر آپ نے کیوں کی؟”

ایدہ نے اکتا کر کہا

سارہ بیگم ہکی بکی اسے دیکھ رہی تھی

“جب ناشتہ ہو ہی گیا میرے بنا تو میری نیند خراب کرنے کا فائدہ۔۔۔؟”

وہ کاندھے اچکا کر پوچھنے لگی

“نہیں بیٹا۔۔۔کسی نے ناشتہ نہیں کیا۔۔۔۔سب ویٹ کر تہے ہیں تمہارا۔۔۔چلو شاباش جلدی فریش ہوکر آجاؤ”

وہ اس کا رویہ اگنور کرتی کہنے لگی۔۔۔۔

ایدہ بنا کچھ کہے اٹھ کر باتھروم کی جانب بڑھ گئی

“ایسے اداس کیوں بیٹھی ہو؟”

منہا نے لان میں اداس بیٹھی زیمل کو دیکھ کہا

“ایسے ہی۔۔۔۔۔” زیمل نے کہا۔۔۔

“نہیں سب لوگ ہی اداس ہیں۔۔۔۔جیسے گھر میں کوئی ہے ہی نہیں۔۔۔۔”

منہا نے کہا

“آپ نہیں اداس؟”

وہ پوچھنے لگی

“نہیں۔۔۔۔”

اس نے فوراً کہا

“کیوں بھائی کل چلے جائیں گے۔۔۔۔آپ کو دکھ نہیں ان کے دور جانے کا”

زیمل نے پوچھا

“نہیں۔۔۔۔مطلب دکھ کی کیا بات۔۔۔۔وہ پڑھنے جارہا ہے۔۔۔اچھی بات ہے”

منہا نے صفائی دی

“ہاں مگر۔۔۔ہم سے دور تو چلے جائیں گے نا”

وہ پھر سے ٹھوڑی پر ہاتھ جمائے اداس ہوئی۔۔۔۔

“آرب ڈیڈ نے تمہیں بھی بلایا ہے”

ایدہ نے سامنے بیٹھے لیب ٹاپ پر کام کرتے آرب کو دیکھا

“تم چلی جاؤ۔۔۔میری طرف سے معذرت کرلینا پلیز”

آرب نے مصروفیت سے کہا

“مگر آرب۔۔۔۔۔”

اس کا موڈ خراب ہوا

“پلیز یار ایدہ۔۔۔۔”

وہ اسی انداز میں کہنے لگا۔۔۔۔

وہ لمحہ بھر اسے دیکھتی رہی پھر پیر پٹختی باہر نکل گئی۔۔۔۔

“کہیں جارہی ہو ایدہ بیٹا”

سارہ بیگم نے اسے باہر کی جانب جاتا دیکھ پوچھا

“جی۔۔۔ڈیڈ کے پاس۔۔۔۔انہوں نے ہم دونوں کو ڈنر پر بلایا تھا۔۔۔مگر آپ کے بیٹے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔بھاڑ میں جائے میری بلا سے”

وہ غصے سے کہتی باہر نکل گئی۔۔۔۔

“توبہ۔۔۔۔کتنی زبان ہے اس لڑکی کی۔۔۔”

سارہ بیگم کہتی کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

“سب تمہارے جانے سے بہت اداس ہیں ایبو”

منہا اسے تیار ہوتا دیکھ کہنے لگی۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔سب کا لاڈلا جو ہوں۔۔۔اور سچ بات تو یہ ہے۔۔۔میں خود اداس ہوں”

ابراہیم نے افسردگی سے کہا

“تمہارے گھر والے کتنی محبت کرتے ہیں نا تم سے”

منہا نے کہا

“ہاں۔۔۔میں اتنی دور جارہا ہوں اسی لیے سب اداس ہیں ۔۔۔”

وہ کہنے لگا۔۔۔

“اماں بی سے مل لو۔۔۔کب سے مجھ سے پوچھ رہی تھی تمہارا”

منہا نے یاد دہانی کروائی

“ہاں بس جارہی ہوں۔۔۔۔میری واچ اور رنگ دینا وہاں سے”

ابراہیم نے ڈریسنگ کی جانب اشارہ کیا

وہاں وہی رنگ تھی۔۔۔جس میں فیروزہ جڑا تھا۔۔۔۔

منہا نے ہاتھ میں اٹھا کر دیکھی۔۔۔۔

“یہ وہی رنگ ہے نا جو میں نے تمہیں دی تھی؟”

وہ مسکرائی

“ہاں۔۔۔مجھے بہت پسند ہے۔۔۔۔”

وہ سادگی سے کہتا پہننے لگا۔۔۔۔

منہا اسے دیکھنے لگی

“تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو زیمل مام۔۔۔چچی۔۔۔۔کسی سے بھی کہ سکتی ہو۔۔۔سب بہت اچھے یہاں۔۔۔۔”

ابراہیم نے کہا

“ہاں۔۔۔بس تم ہی برے تھے۔۔۔تم سے بھی اب جان چھوٹ جائے گی۔۔۔”

منہا نے اسے چھیڑا

“پلٹ کر دیکھو پیچھے”

ابراہیم نے فوراً کہا

وہ ناسمجھی سے پلٹی۔۔۔۔

پیچھے آئینے میں اسے اپنا عکس نظر آیا۔۔۔۔

پیچھے ابراہیم بھی اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“اب اس گھر میں ایک اور برا انسان بھی ہے۔۔۔۔غور سے دیکھ لو”

وہ کہتے ہی باہر نکل گیا۔۔۔

منہا کتنی ہی دیر یونہی دیکھتی رہی

“ایبو کے بچے۔۔۔۔۔”وہ منہ پھلاتی باہر نکلی۔۔۔۔

“ڈیڈ نے سویزرلینڈ کی ٹکٹس دی ہیں۔۔۔۔۔گفٹ میں ہم دونوں کی”

وہ خوشی سے بتانے لگی۔۔۔

“سویزرلینڈ ؟ “

سارہ بیگم جو ناشتہ کرنے میں مصروف تھی اس کی بات پر رکی

“جی۔۔۔شادی کے بعد ہم کہیں گھومنے نہیں گئے نا”

ایدہ نے مسکرا کر کہا

“مگر تم لوگ مری بھی تو جا سکتے ہو نا۔۔۔۔”

سارہ بیگم نے مشورہ دیا

“کیسی باتیں کر رہی ہیں آنٹی۔۔۔۔کیا مری اور سویزرلینڈ میں کوئی فرق نہیں ہے”

ایدہ سنجیدہ ہوئی

“نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔میں نے تو بس ویسے ہی کہا”

وہ صفائی دینے لگی۔۔۔۔

آرب خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف تھا۔۔۔۔

جیسے وہ یہاں ہو ہی نہ۔۔۔

“میٹھا تو فریج میں رکھ دیا تھا نا؟”

سونیا بیگم نے پاس کھڑی عظمیٰ بیگم کو دیکھ پوچھا

“جی جی۔۔۔بھابھی میں نے رکھ دیا تھا”

وہ کہنے لگی۔۔۔

“میں کچھ ہیلپ کرواؤں؟”

وہ جھجکتے ہوئے پوچھنے لگی

“ارے نہیں بیٹا ہم کرلیں گے”

سونیا بیگم نے محبت سے کہا

منہا مسکرائی

“اس کا دل نہیں لگ رہا ہوگا۔۔۔اس کا شوہر جو چلا گیا”

عظمیٰ بیگم نے ہنس کر کہا

“نہیں ایسی بات نہیں ہے۔۔۔میں بس یونہی”

منہا نے صفائی دی

“آپ کو کھانا بنانا آتا ہے؟”

عظمیٰ بیگم نے پوچھا

“نہیں۔۔۔۔”

منہا نے نفی میں سر ہلایا

“کوئی بات نہیں ابراہیم کے واپس آنے تک ہم سکھا دیں گے آپ کو”

وہ مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔

منہا بد مزہ ہوئی۔۔۔۔

وہ سوس نیشنل میوزیم کے دورے سے ابھی ابھی ہوٹل آئے تھے۔۔۔۔

یہاں ٹھنڈ بہت تھی۔۔۔۔۔مگر ہر طرف خوبصورتی تھی

آرب نے زیادہ کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔۔۔

وہ بس روم آکر آرام کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔

“کھانا کھا لو آبی”

ایدہ نے اس کے سامنے کھانا رکھا۔۔۔۔

“میرا دل نہیں کررہا۔۔۔تم کھاؤ”

وہ اکتا کر کہنے لگا

“پلیز تھوڑا سا”

ایدہ نے نوالہ اس کی جانب بڑھایا۔۔۔آرب نے اس کے ہاتھ کی جانب دیکھا۔۔۔۔

پھر خاموشی سے کھالیا۔۔۔۔

ایدہ مسکرائی۔۔۔۔

آرب نے پھر تھوڑا سا سوپ پیا اور بیڈ کی جانب بڑھ گیا

“یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے نا؟”

ایدہ اس کے قریب بیٹھی۔۔۔

“ہاں۔۔۔۔مجھ سے بلکل بھی ٹھنڈ برداشت نہیں۔۔۔۔مام نے اسی لیے کہا تھا۔۔۔۔مگر تمہیں برا نہ لگے۔۔۔اسی لیے میں ساتھ آگیا”

وہ مسکرایا

“تھینک یو آبی۔۔۔۔میری خوشی کا خیال کرنے لیے”

ایدہ نے اس کے کاندھے پر سر رکھا۔۔۔۔

اس نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔۔

“آئی لو یو آبی۔۔۔۔مجھے پتا ہے تمہیں مجھ سے محبت نہیں۔۔۔۔مگر مجھے ہے۔۔۔۔۔اور یہ کافی ہے میرے لیے”

ایدہ نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہا

وہ خاموش تھا۔۔۔۔

“تم مجھے ہمیشہ خود کے ساتھ پاؤ گے۔۔۔وفادار پاؤ گے۔۔۔۔ہمیشہ خود کے قریب پاؤ گے”

ایدہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔

ایدہ نے دونوں ہاتھوں سے اس کے چہرے کو سمویا اور اس کے گال پر لب رکھ رکھ دیے۔۔۔۔۔

اس نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔۔۔

مگر وہ ضبط کر نہ سکا۔۔۔۔۔

ہاں وہ اس کی محبت نہیں تھی۔۔۔۔وہ کبھی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔۔

مگر وہ اس کی بیوی تھی۔۔۔۔شاید یہی رشتہ کافی تھا۔۔۔۔

منہا کو کچھ وقت کے لیے بھلانے کے لیے۔۔۔۔

وہ بیڈ کراؤن ڈے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔۔

رات گہری ہورہی تھی۔۔۔۔

روم میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔۔۔۔

بس وہ تنہا۔۔۔۔۔ایبو جا چکا تھا۔۔۔۔

اسے نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔سوچیں دماغ میں گردش کر رہی تھی۔۔۔۔

(اوروں کا نہیں پتا منہا۔۔۔مگر میں تم سے کبھی بور نہیں ہوسکتا)

منہا کی آنکھ سے دو آنسوں گرے۔۔۔۔

وہ مزید ضبط نہ کرسکی۔۔۔۔

ادھورے رشتے کتنی ععزیت دیتے ہیں۔۔۔۔

ادھوری محبت کتنا دکھ دیتی ہے۔۔۔۔

(میں نے چھوڑ دیا ہے اسے۔۔۔میرا اس سے اب کوئی تعلق نہیں۔۔)

منہا کے کانوں میں مانوں لاوا انڈیل دیا ہو۔۔۔۔

وہ سسکیوں کے ساتھ رونے لگی۔۔۔۔

آرب نے اسے کہاں لاکر چھوڑا تھا۔۔۔۔جس وقت میں اسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔۔۔۔

ہاں محبت کا دکھ ب سے بڑا ہوتا ہے۔۔۔۔

اس کے گلے میں آنسوں کا گولا پھنسا تھا۔۔۔اور آنکھوں میں سیلاب امڑ آنے کو بیتاب تھا۔۔۔۔