Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 19)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 19)
Blind Friends By Isra Rao
“تو فارغ ہے کیا روز آجاتی ہے”
کمیل نے احد کا ہاتھ پکڑے اندر آتی ایدہ کو دیکھا۔۔۔۔
“تیرے باپ کا گھر ہے کیا جو تو مجھے روکے گا”
ایدہ نے تلخی سے جواب دیا
“ہے تو صحیح” کمیل نے پاس آکر احد کو گود میں اٹھایا
“ہاں تو وہ میرا باپ بھی ہے”
ایدہ مسکرائی
“تم دونوں آپس کی لڑائی میں مجھے بیچ میں کیوں لاتے ہو”
پیچھے سے آتے خاور صاحب نے دونوں کو ٹوکا۔۔۔
اور وہ دونوں ہی ہنس دیے۔۔۔۔۔
“میں کہ رہی ہوں ڈیڈ ابھی اس کی شادی بھی نہیں ہوئی اور یہ اس گھر میں میرا آنا جانا بند کرنا چاہتا ہے”
وہ خاور صاحب کے گلے لگی
“میں تو اپنی بیوی کو سکھاؤں گا اس کے دھکے دے کر نکالے یہاں سے”
کمیل نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
“سن رہے ہیں ڈیڈ۔۔۔” وہ معصومیت سے پوچھنے لگی
“میری بیٹی کو کوئی نہیں نکال سکتا۔۔۔”
وہ ہنس کر کہنے لگے
“بلکے ڈیڈ اس کی شادی کر کے اسے رخصت کردیں گے۔۔۔گھر داماد بن کر رہنا۔۔۔یہ تو ویسے بھی میرے ڈیڈ کا گھر ہے”
وہ منہ چڑاتی کہنے لگی
“میں کیوں جاوں گا”
وہ چڑ کر بولا
“دونوں کا گھر ہے یہ۔۔۔۔”
خاور صاحب نے دونوں کو چپ کروایا
..
“کشمالہ یہاں آؤ بیٹا؟”
منہا نے بازو کے اشارے سے اسے بلایا۔۔۔۔
وہ سامنے بیٹھے ابراہیم کی گود میں بیٹھی تھی۔۔۔۔
بلانے پر مزید ابراہیم سے چپکی
“نوریض کہاں ہے”
ابراہیم نے رتبہ سے پوچھا
“وہ باہر چوک تک گئے تھے سامان لینے”
رتبہ نے بتایا
“میں دیکھ کر آتا ہوں”
وہ کشمالہ کو گود میں لیے باہر نکل گیا۔۔۔۔
کافی”
رتبہ نے منہا کی جانب کپ بڑھایا
جسے منہا نے تھام لیا
“مجھے یاد ہے تم چائے نہیں کافی پیتی ہو”
وہ مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔
“میں اب چائے بھی پی لیتی ہوں۔۔۔میرے سسرال میں زیادہ چائے ہی پی جاتی ہے”
وہ ہنس کر کہنے لگی
“منہا ایک بات کہوں۔۔۔برا تو نہیں مانو گی؟”
وہ تمہید باندھنے لگی
“نہیں۔۔۔پوچھو”
منہا نے مسکرا کر کہا
“تم ابراہیم کے گھر والوں کو اپنا سسرال مانتی ہو۔۔۔مگر ابراہیم کو کیا تم اپنا شوہر مانتی ہو؟”
وہ پوچھنے لگی
“یہ تم سے ابراہیم نے کہا ہے؟”
وہ پوچھنے لگی
“نہیں۔۔۔۔مجھے بس تم دونوں میں کھچاؤ لگا۔۔۔۔اسی لیے کہا”
رتبہ نے نفی میں سر ہلایا
“ہمارا نکاح خوشی سے نہیں ہوا رتبہ”
وہ سر جھکائے کہنے لگی
“مگر نکاح تو ہوا ہے”
وہ کاٹ دار لہجے میں کہنے لگی
“وہ صرف میرا دوست ہے۔۔۔”
منہا نے جواب دیا
“شوہر بھی ہے منہا۔۔۔۔کب تک تم اسے شوہر نہیں مانو گی۔۔۔۔کب تک تم ماضی سے لگی بیٹھی رہو گی۔۔۔۔”
رتبہ نے بغور اسے دیکھتے ہوئے کہا
منہا نے اسے دیکھا
“مجھے نہیں پتا تمہارے ماضی میں کیا ہوا۔۔۔یہ مت سمجھنا کہ نوریض یا ابراہیم نے مجھے کچھ بتایا ہے۔۔۔وہ دونوں دوست بہت اچھے ہیں۔۔۔۔۔میں نے بس اندازہ لگایا۔۔۔۔”
رتبہ نے صفائی دی۔۔۔
“ورنہ ابراہیم جیسے لڑکے سے شادی کے بعد بھی کوئی لڑکی خوش نہ ہو۔۔۔یہ ناممکن ہے۔۔۔”
رتبہ نے سادگی سے سمجھایا
“ہممم۔۔۔۔۔” منہا نے سر اثبات میں ہلایا
وہ جانتی تھی وہ صحیح کہ رہی ہے۔۔۔۔
“منہا خوش رہا کرو۔۔۔۔تمہیں پتا ہے تم بہت خوبصورت ہو۔۔۔۔اور ابراہیم کے ساتھ بہت اچھی لگتی ہو۔۔۔۔اپنی جوڑی کو کمپلیٹ کرو۔۔۔دونوں ساتھ مسکراؤ”
رتبہ نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
منہا مسکرا دی
..
توبہ ہے رتبہ تو دماغ ہی کھا گئی میرا”
منہا نے گہرا سانس کیا اور صوفے پر بیٹھی
“کیوں کیا ہوا؟”
ابراہیم نے برابر میں بیٹھتے پوچھا
“تم نے کچھ کہا ہے کیا نوریض سے؟”
منہا نے گردن موڑ اسے دیکھا
“کیا مطلب؟”
وہ پوچھنے لگا
“ہم دونوں کے بیچ جو بھی ہے۔۔۔۔”
منہا نے سادگی سے پوچھا
“کیا یے ہم دونوں کے بیچ؟”
وہ ہنسی دبائے پوچھنے لگا۔۔۔۔
“میرا مطلب ہے ۔۔۔۔کہ “
وہ اٹکتے یوئے کہنے لگی
“کہ۔۔۔۔۔؟” وہ اس کی جانب بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“چھوڑو ۔۔۔۔نوریض گھر کیوں نہیں آیا؟”
وہ پوچھنے لگی
“اسے کچھ کام تھا”
ابراہیم نے صفائی دی۔۔۔اور سیدھا ہوکر بیٹھا
“میں نے نوٹس کیا ہے۔۔۔وہ مجھ سے ملتا نہیں ہے اب۔۔۔۔خیر اس کی مرضی”
وہ شانے اچکاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
“کہاں جارہی ہو؟”
وہ پوچھنے لگا
“فلحال تو روم میں جارہی ہوں ۔۔۔پھر کھانا بناؤں گی”
وہ تفصیل دینے لگی
“پلاؤ بنالو یار ۔۔۔۔میرا دل کر رہا ہے”
ابراہیم نے فرمائش کی۔۔۔۔
“رات میں پلاؤ کھاؤ گے۔۔۔۔۔کل بنادوں گی”
منہا نے ٹوکا
“نہیں آج ہی کھاؤں گا میں۔۔۔۔”
وہ ضد کرنے لگا
“مجھے کیا گلا خراب ہوگیا نا مجھے مت بولنا پھر”
منہا نے کہا اور روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔
ابراہیم مسکرادیا۔۔۔۔۔
..
“ایبو کھانا کھالو “
وہ اسے بلانے آئی۔۔۔۔
وہ لیپ ٹاپ گود میں رکھے کام کر رہا تھا۔۔۔۔
“پلاؤ بن گئی؟”
وہ پوچھنے لگا۔۔۔
“ہاں بن گئی؟” وہ ہنسی
وہ لیپ ٹاپ بند کرتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔
وہ باہر آیا
“جب موسم بدل رہا ہوتا ہے نا چاول رات میں اوائڈ کرنے چاہیے۔۔۔۔۔”
منہا نے کھانا اس کی پلیٹ میں ڈالا۔۔۔۔
“کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔”
وہ بڑبڑاتا کھانے لگا۔۔۔۔
“یار تمہیں کھانا بنانا بھی نہیں آتا تھا۔۔۔۔اور تین سال میں تم اتنی اچھی شیف بن گئی”
اس نے اول سے بھری چمچ منہ میں ڈالتے ہی کہا
“ہاں۔۔۔چچی اور امی نے سکھایا مجھے ۔۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر بتانے لگی
“کل جانا ہے آفس؟”
وہ پوچھنے لگی
“ہاں۔۔۔۔کام بہت ہے۔۔۔آڈر ملا ہوا ہے۔۔۔۔۔ورکرز کام کر رہے ہیں۔۔۔صبح جاؤں گا کنسٹرکشن سائیٹ پر۔۔۔۔۔”
وہ کھاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“کام اسٹارٹ کیا ہے محنت تو کرنی پڑے گی”
وہ سادگی سے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
..
“میرا بیٹا کیسا ہے؟”
وہ احد کو گود میں لیے پوچھنے لگا ۔۔۔
ڈیڈ کے پاس گیا تھا آج میرے ساتھ۔۔۔۔۔”
ایدہ نے مسکرا کر بتایا۔۔۔۔
“اچھا کامی ماموں سے ملے تھے؟”
وہ احد کو پیار کرتا پوچھنے لگا۔۔۔۔
احد نے اثبات میں سر ہلایا
“بیٹا بولو ماموں۔۔۔۔اچھا بولو پاپا”
آرب نے پیار سے کہا۔۔۔۔
احد نے مسکرا دیا۔۔۔۔
“کیوں محنت کر رہے ہو۔۔۔۔یہ نہیں بولے گا”
ایدہ نے ہنس کر ٹوکا۔۔۔۔
“یار ہمیں ڈاکٹر چینج کرنا چاہیے کوئی فرق نہیں ہے۔۔۔۔یہ ابھی تک پاپا بھی نہیں بولتا”
آرب نے اکتا کر کہا
“۔۔۔ہنی۔۔۔۔پریشان کیوں ہورہے ہو۔۔۔۔وہ علاج کر رہا ہے”
ایدہ نے تسلی دی۔۔۔۔
مگر آرب کی پریشانی کم نہیں ہوئی۔۔۔۔
..
آج وہ پورے دن سے بور ہورہی تھی۔۔۔۔
کام بھی کرلیے تھے۔۔۔۔
وہ مووی دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔۔جب دروازہ کھول ابراہیم داخل ہوا۔۔۔۔
“آگئے۔۔۔۔؟ دیر کردی آج؟”
وہ پوچھنے لگی۔۔۔۔
“ہاں یار کام بہت تھا”
وہ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔۔۔۔
اور صوفے سے ٹیک لگائے آنکھیں موندی۔۔۔
“پانی لاؤں؟” وہ پوچھنے لگی
“ہاں گرم دینا۔۔۔گلا درد کر رہا ہے”
وہ کہنے لگا۔۔۔۔
“کیوں ؟” وہ پانی ڈالتی پوچھنے لگی
“دوپہر میں کولڈڈرنک پی تھی تب سے خراش ہورہی ہے۔۔۔۔”
وہ کہنے لگا۔۔۔۔
“ایبو میں کل سے کہ رہی تھی احتیاط کرلو۔۔۔۔۔”
منہا نے پانی دیا۔۔۔۔
“میں روم میں جارہا ہوں۔۔۔۔۔”
وہ پانی کا گلاس رکھتے روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
اس نے ٹائی اتاری۔۔۔۔۔پھر جوتے اتار کر پھینکے۔۔۔۔
سر میں بہت زیادہ درد کا احساس ہورہا تھا۔۔۔۔
وہ فریش ہونے باتھروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
منہا جب کمرے میں آئی تو بیڈ پر کوٹ اور ٹائی پڑی دیکھی۔۔۔زمین پر جوتے پڑے تھے۔۔۔۔
منہا نے سر جھٹکا۔۔۔۔پھر اٹھا کر ان کی جگہ پر رکھا۔۔۔۔
تبھی وہ باتھروم سے باہر نکلا۔۔۔۔۔
“کھانا لگا دوں؟”
وہ پوچھنے لگی۔۔۔۔
“نہیں دل نہیں کر رہا”
ابراہیم نے سائیڈ ٹیبل سے میڈیسن نکال کر منہ میں رکھی۔۔۔۔
اور پانی پی کر گلاس رکھا۔۔۔۔
“کیا ہوا تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں لگ رہی؟”
منہا نے اس حالت کا جائزہ کرتے ہوئے کہا
“میرے سر میں درد ہورہا ہے منہا۔۔۔۔تم دبا دو گی؟”
وہ تکیے پر لیٹتتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“ہیںںںں۔۔۔۔۔۔۔۔” وہ چونکی۔۔۔۔
پھر اس کی جانب دیکھا۔۔۔جو آنکھیں موندے لیٹا تھا۔۔۔۔
وہ لمحہ بھر سوچتی رہی پھر اس کے قریب بیٹھی۔۔۔۔
اس نے جیسے ہی ابراہیم کے ماتھے پر ہاتھ رکھا ابراہیم نے انکھیں کھول اسے دیکھا۔۔۔۔
پھر ہلکا سا مسکرایا
اسے امید نہیں تھی کہ وہ مان جائے گی۔۔۔۔
اس نے پھر سے آنکھیں موند لی۔۔۔۔
“ایبو تمہیں بخار ہورہا ہے۔۔۔۔۔” منہا نے گرمائش محسوس کرتے ہوئے کہا
“میں نے میڈیسن لی ہے ابھی”
وہ بند آنکھوں سے کہنے لگا۔۔۔۔
“چائے بنا کر لاؤں؟”
وہ فکرمندی سے کہنے لگی۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔بس تم یہیں رہو۔۔۔۔۔”
ابرہیم نے سر دباتے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔
منہا کو مزید گرمائش کا احساس ہوا۔۔۔
اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالنا چاہا۔۔۔۔
مگر ابراہیم نے اس کی کوشش کو ناکام بنایا۔۔۔۔
پھر سر کے نیچے سے تکیہ نکال کر سائیڈ کیا۔۔۔۔
اور لمحے میں سر اس کی گود میں رکھ لیا۔۔۔۔
منہا کو عجیب لگا۔۔۔۔وہ وہاں سے اٹھنے لگی۔۔۔۔
اس نے ابراہیم کا سر ہٹانا چاہا
“بیٹھو نا یار۔۔۔۔۔” ابراہیم نے اس کے ہاتھوں پر گرفت مضبوط کی۔۔۔۔
منہا نے اس کے ہاتھ کو دیکھا۔۔۔فیروزہ ابھی بھی جھلک رہا تھا۔۔۔۔
وہ انگوٹھی تین سال سے ابرہیم کی انگلی کی زینت بنی تھی۔۔۔۔اسے یاد نہیں تھا کہ اس نے کبھی اسے اتارا ہو۔۔۔۔
منہا یونہی اس کے ہاتھ کو بغور دیکھ رہی۔۔۔۔
صاف شفاف ہاتھ پر نسیں ابھری تھی۔۔۔۔
ابراہیم نے آنکھیں کھول کر اسے دیکھا۔۔۔۔
جو اس کے ہاتھ پر نظریں ٹکائے ہوئے تھی۔۔۔۔
“میں تمہارے لیے جوشاندہ بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔”
وہ ہڑبڑا کر اٹھنے لگی۔۔۔۔
“تمہیں مجھ سے ڈر لگ رہا ہے؟”
ابراہیم نے اس سے سوال کیا۔۔۔۔
منہا نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
“پھر یہیں سوجاؤ” وہ نرمی سے کہنے لگا۔۔۔۔
“میں یہیں ہوں تم سوجاؤ”
منہا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
ابراہیم نے پھر سے آنکھیں موند لی۔۔۔۔
وہ خاموشی سے سر دبانے لگی۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ سوگیا تھا۔۔۔۔
منہا نے آہستگی سے اس کا سر تکیے پر رکھا۔۔۔۔
وہ اٹھنے ہی لگی تھی جب ابراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑ اسے روکا۔۔۔۔
“تم کہیں نہیں جاسکتی۔۔۔۔”
ابراہیم نے اسے جھٹکے سے کھینچا۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر اس پر گری۔۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔کیا کر رہے ہو۔۔۔چھوڑو مجھے”
وہ بوکھلائی۔۔۔۔
اور مزاحمت کرنے لگی
“سنو لڑکی۔۔۔۔بیوی ہو تو بیوی بن کر رہو۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے اس پر گرفت مضبوط کی۔۔۔۔
“ایبو تم ایسا نہیں کرسکتے۔۔۔پلیز۔۔۔۔چھوڑو مجھے روم میں جانا ہے۔۔۔۔۔”
وہ پریشان ہوئی۔۔۔۔انسوں بہنے کو تیار تھے۔۔۔۔
ابراہیم اس کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
خاموشی سے ۔۔۔۔جہاں پانی ابھر آیا تھا۔۔۔۔
مگر وہ پیچھے نہیں ہٹا۔۔۔وہ اس پر جھکتا چلا گیا۔۔۔۔
اس کی تمام تر مزاحمتوں کے باوجود اس نے اپنا حق وصول کیا۔۔۔۔۔
شاید اسے خود بھی احساس نہیں تھا یا شاید وہ احساس کرنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔
..
“کشمالہ سوگئی؟”
وہ رات گئے گھر آیا۔۔۔۔
“ہاں سوگئی؟”
رتبہ نے جواب دیا
“آج بہت کام تھا ہوٹل پر ابراہیم کو آرڈر دیا ہے ہوٹل کا”
وہ بتانے لگا۔۔۔۔
“وہ ساتھ تھا تمہارے؟”
وہ پوچھنے لگی
“ہاں۔۔۔۔” اس نے اثبات میں سر ہلایا
“کل منہا پوچھ رہی تھی تمہارا۔۔۔تم ملے نہیں”
رتبہ نے بتایا
“ویسے ہی بس۔۔۔۔تم بتاؤ تم نے اسے سمجھانے کی کوشش کی”
وہ پوچھنے لگا
رتبہ نے اثبات میں سر ہلایا
“چلو۔۔۔۔۔آئی ہوپ وہ سمجھ جائے۔۔۔۔سمجھنے والی ہے نہیں ویسے”
نوریض نے ہنس کر کہا
“وہ کالج میں بھی ایسی ہی تھی؟”
رتبہ دلچسپی سے پوچھنے لگی
“ہاں۔۔۔۔ایبو سے تو اس کی کبھی بنی ہی نہیں۔۔۔۔بہت لڑتے تھے دونوں۔۔۔۔اور آج دیکھو دونوں کو زندگی ساتھ گزارنی پڑ رہی ہے۔۔۔۔۔”
وہ ہنسا تھا
“قسمت کی بات ہے۔۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔۔
..
وہ بنا شرٹ کے اوندھے منہ سر پر تکیہ جمائے سورہا تھا۔۔۔۔
اسے گرمی کا احساس ہوا تو اس کی آنکھ کھلی۔۔۔۔
اس نے چھت کو دیکھا۔۔۔۔
فین بند تھا۔۔۔۔۔اس نے سر جھٹکا
پھر یہاں وہاں دیکھا منہا کہیں نہیں تھی۔۔۔۔
رات کا منظر آنکھوں کے سامنے لہرایا۔۔۔۔
وہ کھل کر مسکرایا۔۔۔۔۔
پھر اٹھ کر روم سے باہر نکلا۔۔۔۔۔وہ سامنے اوپن کچن میں اس کی جانب پشت کیے کسم کرنے میں مصروف تھی۔۔۔۔
“منہا۔۔۔۔۔۔” ابراہیم نے پکارا۔۔۔۔۔
وہ جھٹ سے پلٹی۔۔۔۔
اس کے ہاتھ میں انڈا تھا۔۔۔۔
اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ دور سے انڈا پھینک کر مارا۔۔۔مگر نشانہ پکا نا ہونے کی وجہ سے زمین پر گرتے ہی ٹوٹ گیا۔۔۔۔
“کیا ہوگیا؟” ابراہیم نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔
“ہاں جیسے تمہیں پتا ہی نہیں”
اس نے پاس رکھی چمچ اٹھا کر پھینکی۔۔۔۔
ابراہیم کی بازوں سے ٹکرا کر نیچے گری۔۔۔۔
“کیا دماغ خراب ہوگیا تمہارا”
ابراہیم نے تن کر پوچھا
منہا کے ہاتھ میں اب ٹوکری تھی۔۔۔جسے اس نے پھر دے مارا مگر وہ یک دم پیچھے ہوا۔۔۔۔
“اتنے معصوم بن رہے ہو۔۔۔۔۔۔جاہل انسان۔۔۔۔آج تم زندہ نہیں بچو گے”
اس نے گلاس اٹھایا۔۔۔۔
نہیں۔۔۔منہا وہ لگ جائے گا مجھے”
ابراہیم نے صوفے سے کشن اٹھا کر آگے کیا۔۔۔۔
دور سے آنے والا گلاس کشن سے ٹکرا کر زمین پر گرا اور کانچ پھیل گئی۔۔۔۔
“کیا کہ رہے تھے سر دبا دو۔۔۔تمہیں میں چھوڑوں گی نہیں۔۔۔جنگلی انسان”
اس کا غصے سے چہرہ سرخ ہورہا تھا۔۔۔۔
آنکھیں سوجی ہوئی تھی۔۔۔۔
جیسے بہت روئی ہو۔۔۔۔
“میری بات تو سن لو۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے مسکرا کر کہا
“ایبو تم۔۔۔۔۔۔” اس بار اس کے ہاتھ ابراہیم کو بیلن نظر آیا۔۔۔۔
اس کی آنکھیں پھیل گئی۔۔۔
“منہا قسم سے یہ لگ جائے گا۔۔۔۔۔چوٹ لگے گی مجھے”
وہ ڈرتے ہوئے روم کی جانب بھاگا۔۔۔۔
منہا اس کے پیچھے بھاگنے لگی کہ کانچ کا ٹکڑا اس کے پاؤں میں چبھا۔۔۔۔۔
اس کے منہ سے سسکاری نکلی۔۔۔۔
اس نے بیلن زمین پر پھینکا۔۔۔
اوراپنے پاؤں کودیکھنے لگی۔۔۔۔
خون بن رہاتھا۔۔۔۔
“کیا ہوا؟ لگ گئی نا”
ابراہیم لپک کر اس کے قریب آیا۔۔۔۔ہاتھ میں پکڑا کشن صوفے پر پھینکا
“پیچھے ہٹو” وہ اس کا بڑھتا ہاتھ جھٹک آکر صوفے پر بیٹھی۔۔۔۔اور اپنا پاؤں دیکھنے لگی۔۔۔۔
“مجھے دکھاؤ” ابراہیم نے پاس ٹیبل پر پڑے ٹشو باکس سے کچھ ٹشو نکالے۔۔۔۔اور اس کے پاؤں کے زخم پر رکھے۔۔۔۔
اس نے چھڑوانے کی کوشش کی مگر ابراہیم نے اس کی کوشش ناکام بنائی۔۔۔۔
آنسوں آنکھوں سے ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔۔۔
ابراہیم نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔
جو رونے کا شغل پورا کر رہی تھی۔۔۔۔
“یار رو کیوں رہی ہو۔۔۔۔۔میں دوا لے کر آتا ہوں”
وہ اٹھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
“تمہاری وجہ سے ہوا ہے سب ۔۔۔۔”
منہا نے کہتے ساتھ ہی مزید رونا شروع کیا۔۔۔۔
“میں نے کیا کردیا گلاس تو تم نے توڑا تھا۔۔۔۔۔”
وہ اس کے برابر بیٹھا۔۔۔۔
“ایبو تم نے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔تم نے زبردستی کی میرے ساتھ ۔۔۔میں تمہیں معاف نہیں کروں گی”
وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔
“یار۔۔۔۔سوری۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔”
ابراہیم نے اس کے ہاتھ کو تھاما۔۔۔۔۔
“پیچھے ہٹو۔۔۔۔جاہل انسان۔۔۔۔”
وہ سرخ آنکھوں سے کہنے لگی
“اچھا رونا تو بند کرو۔۔۔۔۔”
وہ اس کے بہتے آنسوؤں کو صاف کرنے لگا۔۔۔۔۔
“دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ جھٹکتی کہنے لگی۔۔۔۔
“اچھا میں دوا لاتا ہوں۔۔۔۔۔” وہ اٹھ کر روم کی جانب بڑھ گیا
..
“ایدہ کہاں ہے؟”
اس نے پانی پیتے ملازمہ سے پوچھا۔۔۔
“وہ تو جی صبح ہی بوتیک چلی گئی تھی”
ملازمہ نے بتایا
“احد کہا ہے؟” وہ پھر سے پوچھنے لگا۔۔۔
“وہ تو جی اوپر ہے میں کھانا کھلا کر سلا دیا تھا”
ملازمہ نے کہا
“ٹھیک ہے میں دیکھتا ہوں”
وہ اٹھ کر روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
تبھی اس کا فون بجا۔۔ اس نے کال رسیو کی۔۔۔
سارہ بیگم کی کال تھی۔۔۔۔
“احد کی طبیعت کیسی ہے اب؟”
وہ پوچھنے لگی ۔۔۔
“اس عورت سے میرا ایک بیٹا رکھا نہیں جاتا”
وہ بڑبڑاتا کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔۔
“کیوں کیا ہے؟”
وہ فکرمندی سے پوچھنے لگی
“بوتیک گئی ہے میڈم صبح سے۔۔۔بیٹے کی کوئی فکر ہی نہیں۔۔۔ابھی ٹھیک ہے تھوڑا۔۔۔۔۔”
وہ فکرمندی سے کہنے لگا ۔۔احد سامنے بیڈ پر سویا ہوا تھا
“ایدہ سے نہیں رکھا جاتا تو میرے پاس بھیج دو احد کو ۔۔۔”
وہ کڑھتے ہوئے بولی
“یہ حل تو نہیں ہوا ۔۔۔احد کی ماں ہے وہ اس سے اپنا بیٹا سمنبھالا نہیں جارہا ۔۔۔میں آفس دیکھوں یا گھر؟”
وہ تلخی سے کہنے لگا
“ایدہ کو زمہ داری کو سمجھنا چاہیے۔۔۔۔”
سارہ بیگم نے کہا
“وہ کبھی بھی ایسی نہیں تھی میں نے آپ کو کہا تھا پہلے بھی۔۔۔۔مگر آپ کی تو ضد تھی”
آرب نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
“مجھے کیا پتا تھا۔۔مجھے تو اچھی ہی لگی تھی۔۔۔۔”
سارہ بیگم اب پچھتا رہی تھی
اور ان سے بھی زیادہ آرب۔۔۔۔
..
“یہ لو کھانا کھاؤ”
ابراہیم نے ٹرے اس کے سامنے رکھی۔۔۔۔
وہ جو پاؤں میں پٹی باندھے بیڈ پر بیٹھی تھی اسے دیکھ منہ پھیرا
“یار بس کردو اب۔۔۔ہوگئی غلطی۔۔۔۔”
ابراہیم نے شرمندہ ہوتے کہا
“مجھے گھر چھوڑ کر آؤ۔۔۔مجھے گھر جانا ہے”
منہا نے منہ بنا کر کہا
“یار۔۔۔۔اچھا لے جاؤں گا کھانا تو کھا لو”
اس نے نوالہ اسکے منہ تک کیا
“میرے پاؤں میں چوٹ لگی ہے ہاتھ میں نہیں”
منہا نے کہا
“اچھا تو خود ہی کھالو بس۔۔۔۔”
ابراہیم نے نوالہ واپس پلیٹ میں رکھا۔۔۔۔
..
“کیسے چوٹ لگ گئی اسے؟”
سونیا بیگم نے فکر مندی سے پوچھا
“گلاس ٹوٹ گیا تھا مجھ سے”
ابراہیم نے بہانہ بنایا
“تو صفائی تو ٹھیک سے کرتے۔۔۔۔۔ڈاکٹر کے پاس گئے تھے”انہوں نے اسے دیکھ پوچھا
“یار مام کیا ہوگیا اتنی بڑی تو چوٹ بھی نہیں ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے اکتا کر کہا
“دیکھ رہی ہیں آپ امی ۔۔۔”
وہ سونیا بیگم کے گلے لگ کر روتے ہوئے کہنے لگی
“ابراہیم بری بات ہے”
انہوں نے ٹوکا
“چلو جی۔۔۔۔پھر شروع ہوگئی۔۔۔۔”
وہ کہتے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔اور اماں بی کے روم کی جانب بڑھ گیا
..
“کام کیسا چل رہا ہے۔۔۔۔؟” فرقان صاحب نے پوچھا۔۔۔۔
“بہت اچھا چل رہا ہے بابا۔۔۔۔یہ دوسرا آرڈر ملا ہے۔۔۔۔اور آل موسٹ کمپلیٹ ہونے والا ہے”
ابراہیم نے سر جھکائے تفصیل دی
“بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔خوش رہیں”
انہوں نے کہا
“ابراہیم بھائی۔۔۔امی بلارہی ہیں آپ کو”
زیمل نے کہا
ابراہیم ان کے پاس،گیا۔۔۔۔۔
“یہ لو ہلدی تیل گرم کیا ہے میں نے یہ منہا کے پاؤ پر لگا دینا”
انہوں نے اسے پلیٹ تھمائی۔۔۔۔
“ابراہیم وہ رو رہی تھی۔۔۔اسے تنگ نہیں کیا کریں۔۔۔۔”
سونیا بیگم نے سمجھایا
“مام میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔۔عادت ہے اس کو رونے کی۔۔۔۔”
وہ فوراً کہنے لگا
“اچھا جاؤ۔۔۔اور مناؤ اسے۔۔۔۔۔”
انہوں نے اس کا گال تھپتھپا کر کہا
..
وہ بیڈ پر ٹانگیں پھیلائے بیٹھی تھی۔۔۔۔جب وہ روم میں آیا۔۔۔۔
“پاؤ کا درد کیسا ہے؟”
وہ پوچھنے لگا۔۔۔۔
منہا نے اسے دیکھا۔۔۔۔
“یہ مام نے دیا ہے پاؤں پر لگانے کے لیے۔۔۔۔”
ابراہیم نے بیڈ پر بیٹھ کر اس کا پاؤں اپنی گود میں رکھا۔۔۔۔
“کیا کر رہے ہو؟ میں لگا لوں گی”
منہا نے فوراً کہا
“میری وجہ سے چوٹ لگی ہے تو میں ہی لگاؤں گا نا”
وہ مسکرا کر کہنے لگا۔۔۔۔
وہ اس کے پاؤں پر تیل لگا کر پٹی باندھنے لگا۔۔۔۔
منہا اسے خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“سوجاؤ۔۔۔۔۔” ابراہیم نے نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔۔اور اس پر کمبل درست کیا۔۔۔۔
پھر دوسری سائیڈ آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
منہا نے اسے دیکھا ۔۔۔۔
“تم یہاں نہیں سو سکتے”
وہ ٹوکنے لگی
“کچھ نہیں کر رہا میں ڈر کیوں رہی ہو؟”
وہ شرارت چھپائے کہنے لگا۔۔۔۔
“مجھے نہیں پتا اٹھو یہاں سے”
وہ غصے سے کہنے لگی۔۔۔۔
“اچھا آج سونے دو۔۔۔میں کل ویسے بھی کراچی چلا جاؤں گا”
ابراہیم نے نرمی سے کہا۔۔۔۔
“نہیں اٹھو۔۔۔۔۔”
منہا بضد تھی۔۔۔۔
“چڑیل ہو تم قسم سے”
ابراہیم نے تکیہ اٹھایا اور سامنے صوفے پر رکھ لیٹ گیا ۔۔۔
منہا نے ناک سے مکھی اڑائی اور لیٹ گئی۔۔۔۔
ابراہیم اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔وہ آنکھیں موندے لیٹی تھی۔۔۔۔
ابراہیم نے کروٹ لی مگر اسے کتنی ہی دیر نیند نہیں آئی۔۔۔۔
رات گہری ہورہی تھی مگر نیند کوسوں دور تھی۔۔۔۔
وہ اٹھا اور آکر بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔۔۔
خاموشی سے۔۔۔۔
منہا سو چکی تھی۔۔۔۔۔
