Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 9)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 9)
Blind Friends By Isra Rao
“یہ چیٹنگ تھی”
وہ تن کر بولا
“کون سی چیٹنگ۔۔۔۔میں جیت گیا ہوں”
آرب نے فوراً کہا
“تم دونوں ملے ہوئے تھے”
وہ جل کر کہنے لگا
“تو تمہیں کس نے کہا تھا رکنے کو”
ایدہ جو ہیلمٹ ہاتھ میں کھڑی تھی مسکرا کر پوچھنے لگی
“کیا ہوگیا؟”
کمیل اور نوریض انہیں دیکھ پوچھنے لگے
“تجھے کس نے بولا تھا ہیلمٹ پہن کر آجا”
وہ بدمزہ ہوا تھا
“ہم دونوں نے ریس لگائی تھی کامی۔۔۔۔یہ ہار گیا اب مان نہیں رہا۔۔۔۔۔”
آرب نے پوری بات تفصیل سے بیان کردی
“تجھے کس نے کہا تھا لڑکی دیکھ کر پھسل جا”
نوریض نے ہنستے ہوئے پوچھا
“ہاں ہنس لو تم لوگ۔۔۔۔اور تو۔۔۔تجھے رائڈنگ سکھائی کس نے؟”
ابراہیم پھر سے ایدہ سے مخاطب ہوا
“کامی نے”
ایدہ نے کمیل کی جانب دیکھا۔۔۔جو ہنستا چلا جارہا تھا
“تم سب ملے ہوئے تھے کمینوں؟”
وہ غصے سے کہتا بیگ اٹھا آگے بڑھ گیا
پیچھے وہ سب ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔۔۔
“اج میں نے ہرا ہی دیا اسے…اس کا منہ دیکھنے والا تھا”
وہ ہنس کر پاس بیٹھی سارہ بیگم کو بتا رہا تھا ۔۔۔
“ایدہ نے ہیلپ کی تھی تمہاری”
وہ بھی مسکرا دی
“سچ میں مام میں نے نہیں کہا تھا ایدہ کو۔۔۔۔۔میں نے کوئی چیٹنگ نہیں کی تھی”
وہ ہنس کر صفائی دینے لگا
“پھر بھی ایدہ بہت سویٹ ہے”
وہ خوش دلی سے کہنے لگی۔۔۔۔
“ہاں ہے تو”
وہ مسکرایا۔۔۔۔
“تمہیں منہا کیوں پسند آئی؟ ایدہ کیوں نہیں پسند آئی؟”
وہ پوچھنے لگی
“ایدہ صرف میری دوست ہے۔۔۔۔وہ میرے ٹائپ کی نہیں ہے مام۔۔۔۔”
ارب نے بے دھیانی میں جواب دیا
“اچھا چھوڑیں نے یہ بتائیں آپ نے ڈیڈ سے بات کی۔۔۔آپ لوگ کب جائیں گے منہا کے گھر؟”
آرب بے چینی سے پوچھنے لگا
“دیکھو آرب۔۔۔ہم نہیں جارہے”
وہ سنجیدہ تھی
“مگر کیوں؟”
آرب نے چونک کر سوال کیا
“کیوں کہ وہ ہمارے اسٹیٹس کی نہیں ہے۔۔۔۔وہ ہم لوگوں میں ایڈجسٹ نہیں ہوسکتی آرب۔۔۔۔ہمارا اور ان کا لائف اسٹائل الگ ہے”
وہ سمجھانے لگی۔۔۔
“وہ کرلے گی مام۔۔۔ایک موقع تو دے کر دیکھیں آپ لوگ اسے۔۔۔۔وہ بہت اچھی ہے”
وہ ان کا ہاتھ تھام کہنے لگا
“ایک غلط لڑکی پورا گھر خراب کردے گی آرب”
وہ نرمی سے سمجھا رہی تھی۔۔۔
“وہ بہت اچھی ہے۔۔۔۔میں گارنٹی دے رہا ہوں۔۔۔اس کے ہر عمل کا زمہ دار میں ہوں گا”
وہ محبت بھرے لہجے میں صفائی دینے لگا
“میں منہا سے زیادہ خوبصورت لڑکی لاؤں گی تمہارے لیے۔۔۔۔”
سارہ بیگم نے پیار سے کہا
“مجھے نہیں چاہیے۔۔۔۔آپ بس اس کے گھر جائیں رشتہ مانگنے۔۔۔”
وہ بضد تھا۔۔۔
“بات کو سمجھو آرب وہ لڑکی تمہارے لائق نہیں”
سارہ بیگم اسے سمجھانے لگی۔۔۔
“آپ منہا کے گھر جائیں گی رشتہ لے کر؟”
وہ پوچھنے لگا
“نہیں۔۔۔۔مجھے نہیں لگتا وہ ہمارے اسٹیٹس سے میچ ہوگی”
وہ سنجیدہ تھی
“مام۔۔۔۔میں منہا کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گا۔۔۔۔اگر آپ رشتہ نہیں لے کر گئی۔۔۔۔۔تو میں گھر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے چلا جاؤں گا”
وہ اب دھمکی پر اتر آیا تھا
“آرب۔۔۔۔ایک مڈل کلاس لڑکی کے لیے تم مجھے اپنی مام کو چھوڑ دو گے؟”
وہ افسردہ ہوئی
“میں اس کے بنا نہیں رہ سکتا مام۔۔۔۔میں نے اپنی پوری زندگی اس کے ساتھ سوچی ہے۔۔۔میں اسے نہیں چھوڑ سکتا”
وہ لاچارگی سے کہنے لگا۔۔۔۔
“کوئی نہیں کہ رہا تمہیں اسے چھوڑنے کو۔۔۔۔ہم جائیں گے اس کے گھر”
پیچھے سے سعید صاحب کی آواز پر وہ دونوں پلٹ کر دیکھنے لگے۔۔۔
“ڈیڈ۔۔۔۔۔” اس نے زیر لب دہرایا
“تمہاری شادی اسی سے ہوگی۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے تسلی دے رہے تھے
آرب ان کی بات پر مسکرا دیا۔۔۔۔
“تو تو لڑکی دیکھ کر بلکل ہی پھسل گیا کہ ریس بھی یاد نہیں رہی”
نوریض نے پانی گلاس میں ڈالتے ہوئے اسے دیکھ کر کہا۔۔۔
جو صوفے پر لیٹا تھا۔۔۔۔
“ابے اس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔اور ایسے ہاتھ ہلا کر اشارے کر رہی تھی۔۔۔تو ہوتا تو تو بھی رک جاتا”
ابراہیم نے نکل اتارتے ہوئے کہا
“میں نہیں جاتا بیٹا یہ تیرا اور کامی کا کام ہے لڑکیاں دیکھ کر فلیٹ ہوجانا۔۔۔۔”
نوریض نے مزاق اڑاتے ہوئے کہا
“ہاں تجھے کیا ضرورت تیری تو لو میرج ہو رہی ہے”
وہ جل کر کہنے لگا
“تیری بھی ہوجائے گی۔۔۔۔صبر کرے گا تو”
نوریض نے ٹوکنا ضروری سمجھا
“میری لو میرج مر کر بھی نہیں ہوسکتی۔۔۔۔میرا باپ کبھی ایسا نہیں ہونے دے گا”
وہ بدمزہ ہوا
“ارینج تو ہوجائے گی۔۔۔لو بعد میں ہوجائے گا”
وہ ہنس کر کہنے لگا۔۔۔۔اور اس کے برابر بیٹھ ریموٹ سے میچ لگا کر دھیان سے دیکھنے لگا
“منہا ڈیڈ مان گئے ہیں۔۔۔بہت جلد تمہارے گھر آئیں گے رشتے کی بات کرنے”
آرب نے خوش دلی سے بتایا
“اوہ۔۔۔سچ میں؟”
منہا خوشی سے اچھلی۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔اب ہمارے بیچ کوئی نہیں آسکتا”
وہ خوش تھا
“ہمارے بیچ تو پہلے بھی کوئی نہیں تھا”
منہا نے اترا کر کہا
“کس سے بات کر رہی ہو؟”
پیچھے سے کسی کی آواز پر وہ چونکی۔۔۔۔
اس کی بھابھی کھڑی تھی۔۔۔۔جس کی شادی ابھی کچھ دن پہلے ہی ہوئی تھی۔۔۔
“جی۔۔۔بھابھی۔۔۔کسی سے نہیں۔۔۔دوست تھی میری”
وہ بوکھلائی
کچھ چاہیے تھا آپ کو؟”
منہا نے دوبارا سے پوچھا۔۔۔
“نہیں۔۔۔میں ویسے ہی آگئی تھی۔۔۔لیکن کوئی بات نہیں تم بات کرو اپنی دوست سے”
وہ مسکرا کر کہتی باہر نکل گئی
اور منہا کی جان میں جان ائی
“تیرا پیپر کیسا ہوا؟”
وہ ایگزامز حال سے نکلتے ہی پوچھنے لگا
“وہ لاسٹ والا سوال یاد ہی نہیں تھا۔۔۔۔میں نے یہ اوپر والا کرلیا تھا”
آرب نے اشارے سے بتایا
“میں یہی کیا تھا”
ابراہیم نے فوراً کہا
“یہ پوری رات سے جاگ رہا تھا۔۔۔۔میں تو تین بجے سوگیا تھا”
نوریض نے ابراہیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
“یہ منہا کہاں ہے؟”
ارب نے پوچھا
“کولڈ ڈرنکس لینے گئی ہے۔۔۔۔آج لاسٹ پیپر تھا نا۔۔۔۔”
کمیل جو موبائل میں مصروف تھا فوراً کہا
“ہاں یار جان چھوٹی۔۔۔۔اب بس تم لوگ میری شادی کی تیاری کرو۔۔۔”
نوریض نے خوش دلی سے کہا
“اور میری منگنی کی”
آرب نے فوراً کہا
تبھی ایدہ اور منہا وہاں پہنچی ہاتھ میں کولڈ ڈرنکس لیے۔۔۔۔
“کس کی منگنی ہورہی ہے؟”
ایدہ نے سب کی کولڈ ڈرنکس ٹیبل پر رکھی
“میری اور منہا کی”
آرب نے فوراً بتایا۔۔۔
خوش اس کے چہرے سے ظاہر تھی۔۔۔
“تم دونوں کی۔۔۔؟ تم نے اپنے ڈیڈ سے بھی بات کرلی؟”
ایدہ حیرانی سے آرب سے مخاطب ہوئی
“ہاں۔۔۔۔وہ اس جمعہ کو جائیں گے منہا کے گھر اور مام نے کہا ہے کہ وہ منگنی کی ڈیٹ فکس کر کے ہی آئیں گی”
آرب نے چہک کر بتایا۔۔۔
اور محبت بھری نظروں سے سامنے کھڑی منہا کو دیکھا۔۔۔جو مسکرا رہی تھی
مگر ایدہ مسکرا نہیں سکی تھی۔۔۔
“واؤ مین۔۔۔”
ابراہیم نے آرب کو مبارکباد دی۔۔۔
پھر سب ہی منہا اور آرب کو مبارکباد دینے لگے۔۔۔
“آج کولڈ ڈرنکس کے پیسے یہ بھرے گا”
کمیل نے رب کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور سب نے حامی بھری۔۔۔۔
“چیئرس۔۔۔”
سب نے ساتھ میں کولڈ ڈرنکس ملائی۔۔۔۔
سب کی کلائی پر ایک جیسے بریسلیٹ تھے۔۔۔۔بلائینڈ فرینڈز۔۔۔
ان سب کی دوستی کی نشانی۔۔۔
سب دوستوں کی خوشی میں خوش تھے۔۔۔سوائے ایدہ کے۔۔۔
“نہیں وہ لوگ کیسے کرسکتے ہیں منگنی”
اس نے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارا
پھر گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی۔۔۔
اس کا رخ آرب کے گھر کی جانب تھا۔۔۔۔
جانے دل و دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔۔
مگر وہ بے چین تھی۔۔۔۔
بے سکون۔۔۔
وہ اندر داخل ہوئی تو سامنے ہی سارہ بیگم کسی ملازمہ کو کچھ سمجھا رہی تھی۔۔۔۔
“اسلام وعلیکم آنٹی”
ایدہ نے ادب سے سلام کیا
“ایدہ۔۔۔وعلیکم السلام۔۔۔۔آؤ نا”
وہ خوش دلی سے کہنے لگی۔۔۔
“کیسی ہیں آپ؟”
ایدہ نے مسکرا کر پوچھا
“ایم گڈ۔۔۔۔بیٹھو”
وہ اشارہ کرنے لگی
ایدہ خاموشی سے بیٹھ گئی
وہ جانتی تھی آرب گھر پر نہیں ہے
“آرب تو گھر پر نہیں ہے۔۔۔۔تم فون کر کے نہیں آئی”
وہ مسکرا کر پوچھنے لگی
“نہیں۔۔۔۔مجھے لگا گھر ہی ہوگا۔۔۔۔”
وہ بھی مسکرائی
“اج لاسٹ پیپر تھا نا تم لوگوں کا؟ تو اس نے بتایا تھا دیر سے آئے گا”
وہ بتانے لگی
“جی۔۔۔مجھے نہیں پتا تھا اس کا منہا کے ساتھ کوئی پلان ہوگا شاید”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔۔۔
“اچھا۔۔۔۔”
سارہ بیگم نے مختصر کہا
“منہا تو ویسے بہت لکی ہے۔۔۔اسے آرب جیسا لڑکا اور آپ جیسی ساس ملے گی۔۔۔۔”
ایدہ نے جان بوجھ کر چوٹ کی
“ہاں بس آرب کو منہا پسند تھی تو۔۔۔۔اچھی ہے منہا بھی”
وہ بے دلی سے کہنے لگی۔۔۔۔لبوں پر مسکراہٹ سجائے
“ہاں۔۔۔۔مگر پھر بھی منہا کہاں اور آرب کہاں۔۔۔۔اگر آرب اور منہا اس دن لائبریری میں برات بھر بند نہیں ہوتے تو۔۔۔”
ایدہ کہتی کہتی رکی۔۔۔
“لائبریری میں۔۔۔۔۔؟”سارہ بیگم کا ماتھا ٹھنکا
“آپ کو نہیں پتا؟۔۔۔مجھے لگا آپ کو پتا ہوگا۔۔۔۔سوری سوری”
وہ معذرت کرتی اٹھ کھڑی ہوئی
“کیا پتا ہوگا۔۔۔۔بتاؤ مجھے”
وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی
“اس دن آرب اور منہا نے لائبریری میں رات گزاری تھی۔۔۔تو شاید آرب کے دل میں گلٹ ہے اسی لیے وہ منہا سے شادی۔۔۔۔ورنہ آنٹی آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی۔۔۔کہ منہا آرب کے لائق نہیں”
وہ سنجیدگی سے کہتی جارہی تھی۔۔۔۔
اور سارہ بیگم کے خاموشی سے سن رہی تھی
“میں یہ نہیں کہ رہی کہ منہا اچھی نہیں ہے۔۔۔ہماری دوست ہے۔۔۔۔ آنٹی دوستی اسٹیٹس نہیں دیکھتی۔۔۔مگر شادی۔۔۔۔خیر آپ پلیز آرب سے ذکر مت کریے گا۔۔۔مجھے معلوم ہوتا کہ کہ آپ کو نہیں پتا تو میں کبھی نہیں بتاتی”
ایدہ نے سنجیدگی سے کہا اور اپنا پرس اٹھا کر کاندھے پر لٹکایا
سارہ بیگم خاموش تھی۔۔۔ان کے تیور بتا رہے تھے۔۔۔کہ انہیں یہ بات ناگوار گزری ہے۔
ایدہ باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
“ہمیں آپ کی بیٹی بہت پسند ہے۔۔۔۔”
سارہ بیگم نے خوش دلی سے کہا
منہا اور اس کے گھر والے خاموشی سے بیٹھے تھے۔۔۔
منہا کپ میں چائے ڈالنے لگی
“ہم چاہتے ہیں کل آپ لوگ ڈنر ہماری طرف کریں۔۔۔۔تو ڈیٹ بھی فکس ہوجائے گی۔۔۔۔منگنی کی”
سعید صاحب نے سامنے بیٹھے منیب اور آصف صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا
“جی جی ضرور۔۔۔۔ انشاء اللہ”
آصف صاحب نے اخلاقاً کہا۔۔۔۔
“چائیں لیں نا آپ۔۔۔۔۔”
منیب نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
“انہیں تو کوئی اعتراض نہیں جلدی منگنی پر”
سعید صاحب نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔
“انہیں کیوں ہوگا۔۔۔گھر بیٹھے اتنا اچھا رشتہ آگیا۔۔۔۔”
سارہ بیگم نے بے رخی سے کہا
“لوگ تو ٹھیک ہی لگ رہے تھے۔۔۔۔اب تمہارے بیٹے کی ضد ہے تو کیا کہ سکتے ہیں”
سعید صاحب نے سگریٹ جلاتے ہوئے کہا
“آپ ہی نے ہاں کی تھی”
وہ جل کر کہ بیٹھی
“اگر ہاں نا کہتا تو بیٹھا ہاتھ سے نکل جاتا۔۔۔وہ ماننے والا نہیں تھا۔۔۔۔”
انہوں نے سنجیدگی سے بتایا
“پتا نہیں کیا نظر آگیا۔۔۔۔مجھ سے تو ان کے گھر پر بیٹھا بھی نہیں جارہا تھا۔۔۔۔”
وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔
اور سعید صاحب ان کی بات پر ہنس دیے۔۔۔
“تو گھر نہیں جارہا؟”
کمیل نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے پوچھا
“جاؤں گا یار بابا کی کال بھی آئی تھی۔۔۔پھر آرب نے فورس کیا کہ اس کی اور منہا کی انگیجمنٹ ہے۔۔۔”
ابراہیم نے کپ ہونٹوں سے لگایا
“کب ہے؟ فکس ہوگئی؟”
نوریض جو صوفے سے ٹیک لگائے موبائل پر میسج ٹائپ کر رہا تھا۔۔۔۔چونک کر پوچھنے لگا
“تو رتبہ بھابھی کے خیالوں سے نکلے تو تجھے کچھ نظر آئے”
کمیل نے اس کے موبائل کی جانب دیکھتے ہوئے اشارہ کیا
“تم سب جلتے رہو۔۔۔ہماری محبت سے”
نوریض نے چڑ کر کہا اور اٹھ کر روم کی جانب بڑھ گیا
اور کمیل اور ابراہیم تالی مارتے قہقہہ لگا کر ہنس دیے
“کیا کر رہی تھی۔۔۔۔مائے بیوٹیفل وائف”
آرب نے فون کان سے لگائے مسکرا کر پوچھا
“وائف بنی نہیں ہوں ابھی مسٹر”
وہ شرارت بھرے لہجے میں جتانے لگی
“دو دن بعد بن جاؤ گی۔۔۔۔”
آرب نے ہنس کر یاد دہانی کروائی
“وائف نہیں منگیتر”
وہ بھی یاداشت برابر کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔
“ایک ہی بات ہے….آفیشلی تو میری ہی ہوجاؤ گی نا۔۔۔۔۔”
آرب نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
“منہا تو صرف تمہاری ہی ہے۔۔۔ہمیشہ سے۔۔۔اور ہمیشہ ہی رہے گی۔۔۔۔”
منہا بھی مسکرا دی
“اتنی محبت کرنے لگی ہو مجھ سے؟”
وہ شرارت بھرے لہجے میں پوچھنے لگا
“اس سے بھی زیادہ۔۔۔۔کہ اب تمہارے سوا کوئی اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔”
منہا کا جملا اس کے کانوں میں رس گھول گیا
“منہا اور آرب ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں”
آرب بے حد خوش تھا۔۔۔۔
“ہاں نا پرسوں کی فکس ہوئی ہے”
منہا نے بتایا
“پرسوں کی؟”
ایدہ کو جیسے جھٹکا لگا
“تو تیاری کر اب۔۔۔تیرے دوستوں کی منگنی ہے۔۔۔۔میں نے تو نوریض، کامی اور ایبو کو بھی بول دیا ہے۔۔۔۔خوب انجوائے کرنا ہے”
منہا خوش دلی سے بتا رہی تھی۔۔۔۔
مگر ایدہ جو لان میں میں بیٹھی تھی بس خاموشی سے فون کان سے لگائے نیچے گھاس کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“چل میں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔آبی لینے آرہا ہے مجھے”
منہا نے مصروفیت سے بتایا
“کہاں جارہے ہو؟”ایدہ نے پوچھا
“شاپنگ کرنے۔۔۔۔فنکشن کا ڈریس بھی تو لینا ہے۔۔۔۔دونوں ہم میٹچنگ کریں گے۔۔۔۔پتا چلنا چاہیے نا دو دوستوں کی منگنی ہے”
وہ کہ کر خود ہی ہنس دی۔۔۔۔
ایدہ نے فون کان سے ہٹا کر کال کاٹی۔۔۔۔
“تو ایدہ سے بھی پوچھ تیاری ہوگئی۔۔۔ورنہ ساتھ چلتے ہیں شاپنگ پر”
ابراہیم نے کمیل کو کہا۔۔۔
“چل میں گھر ہی جارہا ہوں۔۔۔۔اس سے پوچھ کر میسج کرتا ہوں۔۔۔۔”
کمیل اٹھ کھڑا ہوا
“دونوں دوست ہیں ہمارے یار۔۔۔۔کچھ سرپرائز پلین کرتے ہیں “
نوریض نے فوراً کہا
“ہاں یار۔۔۔تھوڑی شرارت کرتے ہیں۔۔۔۔کیا کہتا ہے؟”
ابراہیم نے شرارت بھرے لہجے میں پوچھا
“ہاں۔۔۔۔کچھ سوچنا پڑے گا۔۔۔۔ایڈوینچر ہوجائے گا”
کمیل کہ کر کھلکھلا کر ہنسا۔۔۔۔
وہ دونوں بھی سوچتے ہی ہنس دیے۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔وہ صرف میرا ہے”
ایدہ کی آنکھوں میں نمی اتری۔۔۔۔۔
“دوست تو میں بھی تھی نا۔۔۔۔۔۔میں کیوں نہیں دکھی اسے؟”
وہ خود سے سوال کرنے لگی۔۔۔۔۔وہ ہاتھ میں بندھا بریسلیٹ دیکھ رہی تھی
آنسوں جانے کیوں بہ رہے تھے۔۔۔۔
ان کی منگنی کی خبر نے ایدہ کو جیسے پاگل کردیا تھا۔۔۔۔
اب تک اپنی چھپی محبت سے بھاگتی ایدہ اب جذبات کھو رہی تھی۔۔۔۔
اس کا دل جل رہا تھا۔۔۔۔محبت کو کھونے کا خوف اسے ورغلا رہا تھا۔۔۔۔
اس نے ہاتھ سے بریسلیٹ نکال کر آنکھوں کے سامنے کیا۔۔۔۔
آنسوں مسلسل بہ کر گالوں پر گر رہے تھے۔۔۔۔
“منہا کاش تم میری دوست نا ہوتی۔۔۔۔۔میں اپنے ہاتھوں سے تمہیں مار دیتی۔۔۔۔۔”
وہ بڑبڑاتی زمین پر بیٹھی۔۔۔۔
“ایدہ۔۔۔۔۔”
کمیل دروازہ کھول اس کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔
سامنے ہی وہ بکھرے حلیے میں زمین پر بیٹھی تھی ہاتھ میں بریسلیٹ پکڑا تھا۔۔۔۔
“ایدہ۔۔۔۔۔تو ٹھیک ہے۔۔۔۔کیا ہوا؟”
وہ لپک کر اس کے قریب بیٹھا۔۔۔۔
بھیگے گالوں کو دیکھ کمیل کا دل کٹ کر رہ گیا۔۔۔
اس نے ایدہ کو کبھی ایسے روتے نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ لاڈلی تھی۔۔۔ہمیشہ سے بس حکم کرتی اور ہر چیز اس کے قدموں میں ہوتی تھی۔۔۔۔
اسے کبھی رو کر مانگنا ہی نہیں پڑا تھا۔۔۔
“ایدہ۔۔۔۔کیا ہوا ہے۔۔۔۔کسی نے کچھ کہا ہے۔۔۔؟”
وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں سموئے پوچھنے لگا۔۔۔۔
“تو میرا بھائی ہے نا۔۔۔۔۔کامی۔۔۔میرے آنسوں دیکھ تجھے تکلیف ہوتی ہے؟”
ایدہ نے اسے ے بغور دیکھتے ہوئے پوچھا
“کیوں نہیں ہوگی۔۔۔کس نے تجھے رلایا ہے۔۔۔نا بتا جان سے مار دوں گا”
کمیل نے سر آنکھوں سے کہا۔۔۔۔
“تو سچ کہ رہا ہے نا۔۔۔۔تو میرا ساتھ دے گا۔۔۔۔مجھے وہ چاہیے کامی”
ایدہ نے منت کی۔۔۔۔
“کون۔۔۔۔؟ تو نام بتا؟ شام سے پہلے وہ تیرے قدموں میں ہوگا”
کمیل نے اسے تسلی دی
اور اس کے آنسوں صاف کیے۔۔۔۔
“مجھے پتا تھا میرا بھائی میرا ساتھ ضرور دے گا”
وہ مسکراتی چہرہ صاف کرنے لگی۔۔۔۔اور اٹھ کھڑی ہوئی
“ہاں۔۔۔تجھے کوئی پسند ہے تو بتا نا۔۔۔رونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔میں تیرا بھائی نہیں دوست بھی ہوں۔۔۔”
کمیل نے اسے خود سے لگایا
“آئی لو یو یار۔۔۔۔۔”
ایدہ مسکرا دی۔۔۔۔
“ویسے کون ہے؟ نام بتائے گی؟”
کمیل نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا
“آرب۔۔۔۔۔”
ایدہ نے سرخ انکھوں سے کہا
“آبی۔۔۔۔۔۔؟”
وہ چونکا۔۔۔۔
اس کے پاؤں تلے جیسے زمین نکل گئی ہو۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔میں آبی سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔مگر وہ کسی اور سے منگنی کر رہا ہے”
وہ چہرہ موڑے کہنے لگی۔۔۔
کمیل پیچھے ساکت کھڑا تھا۔۔۔
“وہ کسی سے نہیں منہا سے منگنی کر رہا ہے۔۔۔۔ہم سب دوست فنکشن کی تیاری کر رہے ہیں۔۔۔۔سرپرائز پلان کر رہے ہیں۔۔۔۔شرارت کرنے کا سوچ رہے ہیں ایدہ۔۔۔۔۔”
وہ ابھی بھی ساکت تھا۔۔۔۔۔
“میں کچھ نہیں جانتی کامی۔۔۔۔یہ منگنی رکوا دے۔۔۔۔”
ایدہ نے چہرے پر دونوں ہاتھ پھیرے
“ایسا نہیں کبھی نہیں ہوسکتا”
کمیل نے فوراً کہا
“کوئی تو طریقہ ہوگا۔۔۔۔”
وہ سوچنے لگی۔۔۔۔
“ایدہ پاگل مت بن۔۔۔۔وہ دونوں ہمارے دوست ہیں۔۔۔ہم ان کے ساتھ غلط نہیں کرسکتے۔۔۔”
کمیل نے سمجھاتے ہوئے کہا
“میں یہ سب نہیں جانتی مجھے بس وہ چاہیے۔۔۔۔میں منہا سے چھین لوں گی اسے”
وہ غرائی تھی۔۔۔۔
“وہ منہا سے محبت کرتا ہے”
وہ یاد دہانی کروانے لگا۔۔۔۔
اور ایدہ پر سیدھا یہ بات وار کر گئی
“وہ صرف میرا ہے کامی۔۔۔۔۔وہ صرف میرا ہے”
ایدہ بوکھلائی ہوئی یہاں وہاں ٹہل رہی تھی۔۔۔۔
“وہ صرف ہمارا دوست ہے۔۔۔۔اسے بھول جا”
وہ دو ٹوک کہتا مڑ کر جانے لگا۔۔۔۔
“نو۔۔۔۔” وہ پوری قوت سے چلائی۔۔۔۔
ساتھ ہی ہاتھ میں پکڑا بریسلیٹ زمین پر دے مارا۔۔۔۔
جو ڈوریوں سے بنا تھا۔۔۔اور سینٹر میں گھڑی کی طرح گولائی میں کانچ کے اندر بلائنڈ فرینڈز لکھا تھا۔۔۔۔
کمیل کے قدم ساکت ہوئے۔۔۔۔وہ بنا دیکھے بھی جان گیا تھا اس نے کیا پھینکا ہے۔۔۔۔
وہ آہستگی سے پلٹا۔۔۔۔مگر نظریں سامنے کھڑی ایدہ پر نہیں تھی۔۔۔بلکہ زمین پر پڑے بریسلیٹ پر تھی۔۔۔
اس نے جھک کر اسے اٹھایا۔۔۔اس کا کانچ ٹوٹ چکا تھا۔۔۔
ایک ایسا ہی بلکل ایسا ہی۔۔۔اس کے اپنے ہاتھ میں بھی بندھا تھا۔۔۔
اس کی آنکھوں میں دکھ تھا کرب تھا۔۔۔جانے کیا تھا۔۔۔۔
ضبط سے اس نے آنکھیں بند کیں۔۔۔
“کامی۔۔۔تو میرا بھائی ہے نا۔۔۔تو۔۔۔تو دے گا میرا ساتھ۔۔۔۔مجھے ہر قیمت پر وہ چاہیے۔۔۔۔”
وہ روہانسی ہوئی۔۔۔چہرہ غصے اور بے بسی سے سرخ پڑ چکا تھا۔۔۔
“ہماری دوستی ٹوٹ جائے گی ایدہ….اور میں ایسا نہیں چاہتا”
وہ اب انگلی دکھا کر اسے وارننگ دے رہا تھا۔۔۔۔
“کامی۔۔۔۔تو میرا دوست بھی ہے۔۔۔ بھائی بھی ہے۔۔۔۔میری بات کو سمجھ میں مرجاؤں گی۔۔۔۔میں اس کو کسی اور کا ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔۔۔۔”
وہ اب تیزی سے اس کے پاس آئی تھی۔۔
لہجے میں کتنی ہی بے بسی تھی۔۔۔۔
“تو مت دیکھ یار۔۔۔۔گھر پر بیٹھ۔۔۔۔میں کچھ نہیں کرسکتا سمجھی۔۔۔۔اور میں کبھی نہیں چاہوں گا تو بھی کچھ ایسا کرے جس سے ہماری دوستی خطرے میں پڑے۔۔۔۔”
وہ غصے سے کہتا باہر قدم بڑھا گیا۔۔۔۔
وہ رکا نہیں۔۔۔۔اب اسے رکنا ہی نہیں تھا۔۔۔وہ جانتا تھا وہ رکا تو بہن کی محبت دوستی کے آڑے آجائے گی۔۔۔۔
اس نے کار میں چابی پھنسائی۔۔۔اور تیزی سے گیٹ کے باہر نکل گیا۔۔۔۔
وہ گاڑی سڑک پر دوڑا رہا تھا۔۔۔۔وہ ایدہ سے دور جانا چاہتا تھا۔۔۔بہت دور۔۔۔صرف کچھ وقت کے لیے۔۔۔۔
اور شاید وہ ایسا ہی کرتا۔۔۔مگر اس سے پہلے ہی ایدہ کی خود کشی کی خبر نے اسے واپس مڑنے پر مجبور کردیا۔۔۔۔
اور اس نے دوستی کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
