Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 4)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 4)
Blind Friends By Isra Rao
“یار تو تمہیں بولا کس نے تھا سیکھنے کو۔۔۔۔”
وہ کہتے ہوئے روم سے باہر نکلا۔۔۔۔
صوفے پر بیٹھا ابراہیم سامنے اسکرین سے نظریں گھما کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“نہیں تو میں تمہیں یہ کب کہا؟”
وہ گلاس میں پانی ڈالتے ہوئے کہ رہا تھا۔۔۔
ابراہیم نے ٹیبل پر رکھا ریموٹ اٹھایا۔۔۔۔اور وولیوم بڑھا دیا۔۔۔
اور صوفے سے ٹیک لگا لی۔۔۔۔
“میں نے تمہیں بس اپنی پسند بتائی تھی۔۔۔۔”
وہ تلخ لہجے میں کہتا ٹیبل تک آیا۔۔۔۔
“واٹ؟ یار تم سمجھ نہیں رہی ہو۔۔۔۔حکم۔چلانا الگ بات ہوتی ہے۔۔۔۔”
وہ دیوار پر لگی ایل سی ڈی۔۔۔کی جانب دیکھتے کہنے لگا۔۔۔
“آگے سے ہٹ” ابراہیم نے بے رخی سے کہا۔۔۔
“یار۔۔۔۔تم۔۔۔۔مجھے غصہ دلارہی ہو اب” وہ کہتے ساتھ آگے بڑھا۔۔۔۔اور اسکرین کا بٹن بند کردیا۔۔۔۔
ابراہیم ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“میں نے ایسا بولا ہی نہیں تھا۔۔۔۔” وہ مگن ہو کر بات کر رہا تھا۔۔۔۔
“ابے اوہ کمینے۔۔۔۔” ابراہیم نے اونچی آواز میں کہا۔۔۔
“کیا؟” نوریض نے سوالیا نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
“یہ لے۔۔۔۔۔” ابراہیم نے لعنت دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
اور ریموٹ ٹیبل پر پھینکا۔۔۔
پھر اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
وہ ابھی بھی بحث کرنے میں مصروف تھا
“رات ہوگئی۔۔۔۔میری امی مجھے مار دے گی”
منہا پریشان ہوئی۔۔۔
“امی کے پاس میسج کردو کہ تم ایدہ کے ساتھ ہو۔۔۔۔”
آرب نے حل بتایا۔۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا اور فون نکال کر میسج کرنے لگی۔۔۔
(امی آپ فکر نہیں کرنا میں ایدہ کے گھر پر ہوں اس کے ساتھ اسائمنٹ بنا رہی ہوں۔۔۔۔اگر دیر ہوگئی تو ایدہ مجھے ڈراپ کردے گی خود)
اس نے میسج لکھ کر سینڈ کردیا۔۔۔
اور فون سویچ آف کردیا۔۔۔تاکہ کوئی کال نا آسکے۔۔۔
اس سے اب انہیں غصہ آئے گا مگر فکر نہیں ہوگی اب”
آرب نے تسلی دی۔۔۔
وہ مسکرا دی۔۔۔
“تم مسکراتی ہوئی بہت خوبصورت لگتی ہو پتا ہے؟”
وہ اسے بغور دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔
اچھا پتا نہیں۔۔۔۔”
وہ مسکرا کر یہاں وہاں دیکھنے لگی۔۔۔
ہر طرف اندھیرا تھا۔۔۔۔بس کھڑکی سے ہلکی چاند کی روشنی آرہی تھی۔۔۔
“ہم لائٹ آن کرلیتے ہیں”
وہ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔باہر چوکیدار کو پتا لگ جائے گا۔۔۔۔”
آرب نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔
“آبی مجھے ڈر لگتا ہے اندھیرے سے”
منہا نے معصومیت سے کہتی واپس بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
“میں ہوں نا تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔”
آرب نے چہرہ قریب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
منہا بھی اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔
“میں اس وقت کو کبھی نہیں بھولوں گا منہا۔۔۔۔آئی لو یو”
آرب نے سرگوشی کی۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
آرب نے اس کے سلکی بالوں کی ہائی پونی پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
جانے کیسا لمحہ تھا جب وہ بہکنے لگا تھا۔۔۔۔
اس کے قربت میں پگھلنے لگا تھا۔۔۔۔
منہا جو اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اس کے حصار میں مچلی اور ہاتھ اس کے سینے پر رکھے اسے نرمی سے پرے دھکیلا
پھر سر کو نفی میں ہلاتی۔۔۔۔اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑ چکے تھے ۔۔۔
وہ تیزی سے کھڑی کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
آرب خاموشی سے اس کی پشت کو گھور رہا تھا۔۔۔
“اماں بی۔۔۔۔میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔”
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔
فون سامنے کیے ہوئے تھا۔۔۔
“مجھے تو کمزور لگ رہے ہو۔۔۔اپنا بلکل خیال نہیں رکھتے۔۔۔۔”
اماں بی نرمی سے کہنے لگی۔۔۔
“آپ فکر کیوں کرتی ہیں۔۔۔آپ کا ابراہیم اب بڑا ہوگیا ہے”
وہ مسکرا کر کہنے لگا۔۔۔
“آپ جتنے بھی بڑے ہوجاؤ۔۔۔ہمارے لیے چھوٹے ہی رہو گے۔۔۔۔”
اس آواز کو وہ پہنچانتا تھا۔۔۔
سب سے خوبصورت آواز۔۔۔۔
“مام۔۔۔۔۔آئی مس یو”
اس نے بے اختیار کہا۔۔۔
“کتنی بار کہا ہے۔۔۔جو اپنائیت امی میں ہے وہ مام میں نہیں۔۔۔۔امی کہا کرو آپ مجھے”
وہ نرمی سے ٹوکنے لگی۔۔۔
بدلے میں ابراہیم کا قہقہہ گونجا۔۔۔
“بڑی امی یہ ایسے نہیں سدھریں گے۔۔۔۔ان کی شادی کروا دو”
فون میں ہلکے سے جھانکتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“یہ چڑیل یہیں بیٹھی ہے۔۔۔۔؟”
وہ ہنس کر پوچھنے لگا۔۔۔
“جی بلکل میں یہیں ہوں۔۔۔۔آپ کا کیا خیال ہے پھر۔۔۔۔؟”
وہ دوبارا سوال دوہرانے لگی۔۔۔
“پہلے بابا اور چاچو تم سے تو جان چھڑوا لیں۔۔۔۔پھر لاؤں گا اپنی دلہن میں۔۔۔۔تاکہ کوئی تنگ کرنے والا نہ ہو”
وہ شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔
اور بدلے میں سامنے کھڑی زیمل کے تیور بدلے۔۔۔۔
اور ٹھک سے وڈیو کال بند ہوگئی۔۔۔۔
ہاتھ میں موبائل پکڑے ابراہیم بے اختیار ہنس دیا۔۔۔
“ایم سوری منہا۔۔۔۔میں۔۔۔۔وہ”
آرب اس کی پشت پر کھڑا تھا۔۔۔
“آبی۔۔۔۔ایبو کو کال کرو۔۔۔وہ ہمیں یہاں سے نکالے گا”
منہا نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔
“منہا یار ایم سوری۔۔۔تم ناراض۔۔۔۔”
“میں ناراض نہیں ہوں۔۔۔۔مجھے بس گھر جانا ہے۔۔۔۔”
منہا کے لہجے میں بے بسی تھی۔۔۔۔
آرب نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔اور موبائل نکال کر کال کرنے لگا۔۔۔۔
وہ اوندھے منہ تکیہ سر پر رکھے سورہا تھا۔۔۔جب سائیڈ ٹیبل پر رکھا اس کا فون شور مچانے لگا۔۔۔
اس نے تکیہ ہٹایا پھر ہاتھ بڑھا کر موبائل اٹھایا۔۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔” وہ غنودگی میں تھا۔۔۔
“ایبو۔۔۔کیا کر رہا ہے تو؟”
آرب کے سوال پر اس نے آنکھیں کھول کر موبائل کو دیکھا۔۔۔
“یہ کیا بے تکہ سوال ہے آبی۔۔۔۔اس ٹائم چار بج رہے ہیں رات کے۔۔۔۔اور عموماً لوگ سوتے ہیں اس وقت”
وہ بے رخی سے کہنے لگا۔۔۔
“یار پرابلم ہوگئی ایبو۔۔۔۔ہمیں ہیلپ چاہیے تیری۔۔۔۔”
آرب نے صاف گوئی سے پوری ڈیٹیل دی۔۔۔۔
اس کی بات سن وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔۔
“لیکن میں کیا کرسکتا ہوں۔۔۔۔۔؟” وہ بھی پریشان ہوا۔۔۔۔
“دیکھ تو کسی طرح چوکیدار سے چابیاں لے کر اندر آجا۔۔۔اور لائبریری کا دروازہ کھول دے۔۔۔۔۔”
آرب نے منت کی۔۔۔
“تیرا دماغ ٹھیک ہے۔۔۔۔چوکیدار کے پاس کالج کی چابی تو ہوگی۔۔۔۔مگر لائبریری کی چابی لائبریرین کے پاس ہوتی ہے۔۔۔۔”ابراہیم نے سنجیدگی سے بتایا
“اور صبح سات بجے ماسی آتی ہے صفائی کرنے۔۔۔۔چابی صرف اس کے پاس ہوتی ہے دوسری۔۔۔۔اور اگر اس نے تم دونوں کو دیکھ لیا تو پرنسپل کو بتا دے گی۔۔۔۔اور آگے تو جانتا ہے کیا ہوگا”
ابراہیم نے پرسکون لہجے میں اس کے چودہ طبق روشن کیے۔۔۔۔
وہ دونوں پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔
اب کیا کریں ایبو؟”
وہ پریشان ہوا۔۔۔
“اب سات بجے کا ویٹ کرنا ہوگا۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے ہاتھ سے آتی جمائی روکتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“وہ دیکھ لے گی ہمیں۔۔۔۔”
منہا نے فوراً کہا۔۔۔
“نہیں دیکھے گی۔۔۔۔میں پہنچ جاؤ گا۔۔۔ایبو سب ٹھیک کردے گا”
وہ سر کھجاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔
“ایبو یار۔۔۔۔تو پہنچ تو جائے گا نا ٹائم پر؟”
منہا نے برا سا بنایا
“یار ایک تو تم لوگوں نے نیند خراب کردی۔۔۔قسم سے ابھی گھنٹہ پہلے سویا ہوں میں۔۔۔اور آگے سے اعتبار دلوانے میں ایک گھنٹہ اور ضائع کروں۔۔۔۔میں سو رہا ہوں۔۔۔۔بائے”
وہ کہ کر فون بند کر الارم سیٹ کیا سات بجے کا اور پھر سے لیٹ گیا۔۔۔۔
سورج نکل چکا تھا۔۔۔۔ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔۔
وہ سورہا تھا جب الارم پوری قوت سے چیخنے لگا تھا۔۔۔
وہ اٹھا اور الارم بند کیا۔۔۔۔
پھر روم سے باہر نکل کر برابر والے روم کا دروازہ کھٹکھٹایا
“کیا ہوا۔۔۔۔؟” وہ برا سامنہ بنا کر پوچھنے لگا۔۔۔مانو اس کی نیند خراب ہوگئی تھی۔۔۔
“پندرہ منٹ ہے۔۔۔۔کالج کے لیے تیار ہوجا۔۔۔جلدی جانا ہے آج”
وہ کہتے ساتھ مڑ گیا۔۔۔
“مگر کیوں؟ ایبو؟” وہ سوال کرتا مگر وہ ٹھک سے اپنے کمرے کا دروازہ بند کر چکا تھا۔۔۔۔
روم میں آتے ہی اس نے اپنا ڈریس نکالا پھر باتھروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
تھوڑی ہی دیر میں تیار کھڑا آئینے سامنے خود کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
پھر گھڑی کی جانب دیکھا۔۔۔۔
اور بیگ اٹھا کر کاندھے پر ڈالا۔۔۔۔
“جلدی کر۔۔۔۔۔” وہ اب نوریض کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
وہ ایسا ہی تھا ہر کام منٹوں کے حساب سے کرنے والا۔۔۔
چند ہی لمحوں میں وہ دونوں تیار بیگ کاندھوں پر ڈالے کالج پہنچ چکے تھے۔۔۔۔
“آج اتنی جلدی۔۔۔۔”
چوکیدار نے انہیں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“ہاں کام تھا تھوڑا۔۔۔۔کلاس سے پہلے کرنا ہے انکل”
ابراہیم نے بہانا بنایا۔۔۔۔
پھر اندر کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔
ہر طرف خاموشی تھی۔۔۔۔
سویپرز بس صفائی میں لگے ہوئے تھے۔۔۔
وہ دونوں آگے بڑھے۔۔۔۔سامنے کوریڈور میں ماسی جھاڑو لگا رہی تھی۔۔۔۔
وہ دونوں دور کھڑے اسے دیکھنے لگے۔۔۔
“تجھے ماسی پسند آگئی کیا؟”
نوریض نے ناسمجھی سے سوال کیا۔۔۔
“ابے۔۔۔۔۔” ابراہیم نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔۔
“تو تو اتنی صبح ماسی کر تاڑنے کیوں آیا ہے؟”
نوریض ابھی بھی وجہ نہیں سمجھ پایا تھا
“ابے۔۔۔جنگلی۔۔۔۔آبی اور منہا لائبریری میں کل سے بند ہیں۔۔۔۔انہیں نکالنے آیا ہوں۔۔۔تاکہ کوئی دیکھے نا”
ابراہیم نے پوری تفصیل دی۔۔۔
“وہ دونوں اندر رہ کیسے گئے؟”
نوریض نے آہستگی سے پوچھا۔۔۔
“مجھے کیا پتا؟”
وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔
اس کی نظریں ماسی پر ہی تھی۔۔۔
جو اب لائبریری کا لاک کھول رہی تھی۔۔۔۔
“آجا جلدی۔۔۔۔”
ابراہیم تیزی سے بھاگا۔۔۔۔
“مجھے آپ سے بات کرنی تھی “باجی”۔۔۔۔”
ابراہیم نے اس کے قریب آتے ہی کہا۔۔۔
(باجی لفظ پر اسے خود عجیب لگ رہا تھا)
وہ حیرانی سے ان دونوں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
“تھوڑا سائیڈ پر آجائیں نا۔۔۔آج کل دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔۔۔”
ابراہیم نے معصومیت سے کہا۔۔۔
ماسی سائیڈ پر ہوگئی۔۔۔۔
“میرا ایک دوست ہے وہ آپ کو بہت پسند کرتا ہے”
ابراہیم نے گویا سرگوشی کی۔۔۔
نوریض آہستگی سے چلتا لائبریری کے کھلے دروازے تک آیا۔۔۔۔
“آبی جلدی نکل۔۔۔۔۔”
اس نے اندر جاتے ہی کہا۔۔۔
وہ دونوں جو ٹیبل کے نیچے چھپے تھے۔۔۔۔فورا آواز پر باہر نکلے۔۔۔۔
دونوں نے بیگ کاندھے پر ڈالے اور اس کے ساتھ آہستہ قدموں سے باہر نکلے۔۔۔
سامنے ابراہیم ماسی سے کوئی بات کرنے میں مصروف تھا۔۔۔
آرب نے بالوں کو ہاتھوں کی مدد سے سیٹ کیا اور آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
“آپ کسی سے شکایت مت کرنا۔۔۔ورنہ وہ بیچارہ کبھی مجھ پر اعتبار نہیں کرے گا۔۔۔”
ابراہیم اسی معصومیت سے سرگوشی کر رہا تھا۔۔۔
“لیکن تم کبھی مجھے ملواؤ تو صحیح اس سے”
وہ بھی خوش دلی سے کہنے لگی۔۔۔
گویا ماسی بھی کوئی زیادہ عمر کی تو تھی نہیں اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔۔۔
پیچھے سے آتے ان تینوں پر ابراہیم کی نظر پڑی۔۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔
“وہ آگیا مگر آپ ظاہر مت کرنا کہ میں نے آپ کو بتا دیا۔۔۔اعتبار جاتا ہے نا دوستوں میں پھر۔۔۔۔وہ اتنی صبح بھی بس آپ کو دیکھنے آیا ہے۔۔۔۔”
وہ جھوٹ کے سارے ریکارڈ توڑنے والا تھا آج۔۔۔
ماسی نے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔۔۔
سامنے ہی وہ فریش تو نہیں تھا۔۔۔مگر کل سے اسے یونیفارم میں تھا۔۔۔۔بیگ کاندھے پر ڈالے۔۔۔۔
وہ رنگت کا صاف تھا۔۔۔۔پر چہرہ کل سے دھلا ہوا نہیں تھا۔۔۔۔
وہ تینوں ماسی کو دیکھ مسکرائے۔۔۔۔
“یہ تو ہمیں آپ کو ماسی کہنے بھی نہیں دیتا۔۔۔۔تبھی تو باجی کہا میں نے آپ کو”
وہ پیچھے سے ہلکی آواز میں کہنے لگا۔۔۔
وہ تینوں سمجھ نہیں پائے وہ کہ کیا رہا ہے۔۔۔
مگر یہ پتا تھا کہ ان کے نکلنے تک اسے ماسی کو باتوں میں لگانا تھا۔۔۔
ماسی آرب کو دیکھ مسکرائی۔۔۔۔پھر لائبریری کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
وہ تینوں شانے اچکا کر رہ گئے۔۔۔۔
اور ابراہیم کو اب خود ہی اپنے بہانے پر ہنسی روکنا محال لگ رہا تھا۔۔۔
“تھینک یو ایبو”
منہا نے ابراہیم کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں یار تونے ہماری بہت مدد کی۔۔۔۔اگر پرنسپل دیکھ لیتے تو پرابلم ہوجاتی”
آرب نے ابراہیم کے شانے کو دھپکتے ہوئے کہا۔۔۔
“ویسے تم دونوں کر کیا رہے تھے۔۔۔۔رومینس کرنے کے لیے اور بہت سی جگہیں ہیں۔۔۔تم دونوں کو یہی ملی تھی؟”
ابراہیم لاپرواہی سے کہنے لگا۔۔۔
منہا نے منہ بنا کر آرب کو دیکھا۔۔۔
“اوئے کیا بولے جارہا ہے؟”
منہا فل تپی تھی۔۔۔
“ہاں بن تو ایسے رہے ہو دونوں جیسے ہمیں پتا ہی نہیں۔۔۔۔”
ابراہیم نے دونوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
منہا نے پاس کھڑے آرب کو گھوری سے نوازہ اور بیگ اٹھا کر پیر پٹختی کلاس سے نکل گئی۔۔۔
“منہا یار۔۔۔۔” وہ بھی اس کے پیچھے بھاگا۔۔۔
“تو کیا بات کر رہا تھا ماسی سے ویسے؟”
ان کے جاتے ہی نوریض اس کے برابر چیئر پر بیٹھ کر پوچھنے لگا۔۔۔
“میں نے بس اتنا کہا کہ آبی اس کو پسند کرتا ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے کان کھجاتے ہوئے کہا۔۔۔
“نہ کر۔۔۔۔۔۔”نوریض کو لمحہ بھر اچھو لگی۔۔۔۔
پھر بنا رکے۔۔۔۔دونوں ہی قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے۔۔۔۔۔
“تم نے ایبو کو بھی بتایا ہوا تھا؟”
وہ غراتے ہوئے پوچھنے لگی۔۔
“قسم سے میں نے کچھ نہیں کہا”
وہ معصومیت سے صفائی دے رہا تھا۔۔۔
“پھر انہیں کیسے پتا لگ گیا۔۔۔۔؟”
وہ اب غصہ سے پوچھنے لگی۔۔۔
“مجھے نہیں پتا انہیں کیسے پتا لگ گیا۔۔۔۔”
اسے واقع سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایبو کو کیسے پتا لگا۔۔۔
“کیا ہوا تم دونوں لڑ کیوں رہے ہو؟”
پیچھے سے آتے ایدہ اور کمیل کو دیکھ دونوں چپ ہوئے۔۔۔
“نہیں۔۔۔لڑ نہیں رہے۔۔۔۔تو بتا اسائمنٹ ہوگئی کمپلیٹ ؟”
منہا یک دم بات بدلتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
“ہاں میری تو کل ہی ہوگئی تھی۔۔۔۔”
ایدہ نے مسکرا کہا۔۔۔۔
“تم دونوں کی ہوگئی؟”
کمیل نے فوراً پوچھا
“ہاں۔۔۔۔”
آرب نے تھکے ہوئے انداز میں کہا۔۔۔
“میں نے کل ہی کمپلیٹ کی۔۔۔۔چلو جمع کروا دیں گے آج”
وہ مصروف سے لہجے میں کہتا کلاس کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
“اوہ۔۔۔۔مام آپ کو پتا ہے میں نے آپ کو کتنا مس کیا؟”
وہ گھر آتے ہی ان کے گلے لگا۔۔۔
“بیٹا ردا واپس آنے نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔”
وہ محبت سے اسے پیار کرنے لگی ۔۔
“بابا چلے گئے حیدرآباد ؟”
وہ معصومیت سے پوچھنے لگے۔۔۔
“ہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے۔۔۔۔”
انہوں نے بتایا۔۔۔
آرب ان کی گود میں سر رکھ لیٹ گیا۔۔۔۔
“آپ میری وجہ سے کراچی رہتی ہیں۔۔۔۔وہ حیدرآباد۔۔۔۔آپ چلی جائیں میں مینج کرلوں گا”
وہ پیار سے کہنے لگا۔۔۔
کوئی بات نہیں۔۔۔۔میرے دو ہی تو بچے ہیں۔۔۔۔ردا ملک سے باہر چلی گئی۔۔۔۔اور تم یہاں آگئے۔۔میرا دل نہیں لگتا حیدرآباد۔۔”
وہ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتی کہ رہی تھی۔۔۔۔
“مگر بابا کا بزنس تو وہیں ہے۔۔۔۔وہ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہیں۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگا۔۔۔
“تو جب تم پڑھ لو گے تو ہم واپس چلیں گے۔۔۔تمہاری شادی کردوں گی۔۔۔۔تمہارے بیوی بچے ہوں گے وہاں۔۔۔پھر میرا دل لگ جائے گا۔۔۔پھر تم بھلے کراچی آجانا واپس”
وہ ہنس کر پلان بتانے لگی۔۔۔
“مام۔۔۔۔میں ہمیشہ آپ کے پاس ہی رہوں گا”
وہ محبت سے کہتا ان کے ہاتھ چومنے لگا۔۔۔۔
وہ بھی اسے دیکھ مسکرا دی۔۔۔
“امی میں ایدہ کے ساتھ تھی۔۔۔۔پوچھ لیں اس سے ہی۔۔۔ایدہ”
اس نے برابر کھڑی ایدہ کو کہنی ماری۔۔۔
“ہا۔۔ہاں آنٹی یہ میرے ساتھ ہی تھی۔۔۔میرے گھر پر۔۔۔آج اسائمنٹ جمع کروانی تھی نا۔۔۔۔”
ایدہ نے اس کا ساتھ دیا۔۔۔
“میری کہاں کوئی سنتا ہے۔۔۔۔تمہارے ابو کو پتا لگ گیا نا۔۔۔۔جان سے مار دیں گے۔۔۔تجھے بھی اور مجھے بھی۔۔۔۔”
وہ پریشانی سے کہتی اس کا صوفے پر رکھا بیگ اٹھا کر کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
“ایم سوری امی۔۔۔۔آئندہ کبھی ایسا نہیں ہوگا”
منہا بھی ان کے پیچھے گئی۔۔۔
“منیب بھی پوچھ رہا تھا منہا کہاں ہے۔۔۔میں نے بہانا بنایا۔۔۔۔ماں ہوں نا۔۔۔۔باپ بھائی سے بچاؤں گی۔۔۔”
وہ گلے شکوے کرنے لگی۔۔۔
“میری پیاری امی۔۔۔۔میں ایسا کبھی کچھ نہیں کروں گی۔۔۔جس سے آپ کو شرمندگی ہو۔۔۔۔پرامس۔۔۔”
وہ پیچھے سے گلے لگتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔
ایدہ دور کھڑی انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔
دل میں ایک کسک سی اٹھی۔۔۔۔
وہ سر جھٹک کر باہر نکل گئی۔۔۔۔
“اچھا اچھا۔۔۔میں کھانا لگاتی ہوں۔۔۔تم ایدہ کو۔۔۔۔”
وہ پلٹ کر کہتے کہتے رکی۔۔۔
“ایدہ کہاں گئی؟”
وہ حیرانی سے پوچھنے لگی۔۔۔۔۔۔
“چلی گئی ہوگی۔۔۔آپ بھی تو سب کے سامنے شروع ہوجاتی ہیں۔۔۔۔”
منہا نے شانے اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔
“ہاں سب میری غلطی ہے۔۔۔۔بھائی کی شادی سر پر ہے۔۔۔اور میڈم کو پڑھائی سے فرصت نہیں۔۔۔۔۔”
ان کا گلے شکوو کا پٹارہ پھر سے کھل چکا تھا۔۔۔
“آبی بیٹا کہیں رک جاتے ہو تو بتا دیا کرو مجھے۔۔۔۔”
وہ فکر مندی سے کہنے لگے۔۔۔
“اعظم کاکا۔۔۔۔کل مجھے کام تھا نا۔۔۔بھول گیا بتانا۔۔۔۔”
وہ معذرت کرنے لگا۔۔۔
“آپ مام کو مت بتائیے گا۔۔۔وہ خوامخواہ ڈانٹیں گی مجھے۔۔۔۔”
آرب نے آہستگی سے کہا اور وہ اس کی بات پر ہنس دیے۔۔۔
“مام سے کچھ نہیں چھپا سکتے تم۔۔۔۔”
وہ پیچھے کھڑی تھی۔۔۔۔
وہ بوکھلا کر پلٹا۔۔۔۔
“مام میں بس۔۔۔۔”
وہ انہیں دیکھ گھبرایا
“کل تھے کہاں اور کس کے ساتھ تھے۔۔۔پوری ڈیٹیل لے کر پانچ منٹ میں لاؤنج میں ملو مجھے”
وہ حکم صادر کرتی اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
اور وہ پودوں کو پانی دیتے اعظم کاکا کو دیکھنے لگا۔۔۔
ایدہ بیڈ کراؤن ڈے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
آنکھوں کے سامنے بس وہی منظر لہرا رہا تھا۔۔۔۔
جب منہا اپنی ماں سے گلے لگ کر لاڈ کر رہی تھی۔۔۔۔
ماں کی محبت کو آج ایدہ بہت مس کر رہی تھی۔۔۔۔
تبھی اس کا فون شور مچانے لگا
منہا کی کال تھی۔۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔”
ایدہ نے کان سے لگاتے ہی کہا
“تھینک یو یار ایدہ تو نے امی کے سامنے ہاں کی۔۔۔۔”
وہ شکریہ ادا کرنے لگی۔۔۔
“کوئی بات نہیں۔۔۔بٹ تو تھی کہاں۔۔۔پوری رات؟”
وہ آخر کو پوچھ بیٹھی۔۔۔
“ایبو نے نہیں بتایا؟” وہ حیران ہوئی۔۔۔
“نہیں۔۔۔کیا نہیں بتایا۔۔۔۔؟”
وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگی۔۔۔
“میں اور آبی لائبریری میں بند ہوگئے تھے۔۔۔۔”
وہ پوری بات تفصیل سے بیان کرنے لگی۔۔۔
ایدہ خاموشی سے سننے لگی۔۔۔۔
“سب سے اچھی اسائمنٹ سر کو منہا کی لگی۔۔۔۔تونے ایسا کیا لکھا تھا؟”
ایدہ پوچھنے لگی۔۔۔
“بس نا پوچھ بڑی خواری کے بعد بنی تھی۔۔۔۔”
منہا نے اکتا کر کہا۔۔۔
“یہ ایبو اور کامی کہاں ہیں۔۔۔۔۔؟”
منہا پوچھنے لگی۔۔۔
“پرنسپل کے آفس میں۔۔۔۔”
نوریض نے انہیں بتایا۔۔۔
اور دونوں نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
