Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 2)

Blind Friends By Isra Rao

وہ خود کو آئینے میں دیکھتا پرفیوم لگا رہا تھا۔۔۔۔

جب وہ پیچھے آکھڑی ہوئی۔۔۔۔

بے تاثر چہرہ لیے۔۔۔۔

ہاتھ میں اس کے تھری پیس کا کوٹ تھا۔۔۔۔

اس نے ایک نظر آئینے میں اسے دیکھا۔۔۔۔

پھر ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔

وہ اسے دیکھ مسکرا دی۔۔۔۔پھر کوٹ پہنانے لگی۔۔۔

وہ کوٹ پہن کر اسے درست کرتا اس کی جانب گھوما۔۔۔۔

“ویسے ایک بات بتاؤ۔۔۔۔کل تم میرے لیے تیار ہوئی تھی؟”

وہ اسے بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔

وہ اس کی بات سن کر مسکرا دی۔۔۔

“ہمم۔۔۔۔” اس نے سر کو اثبات میں ہلایا۔۔۔۔

اور ٹائی ہولڈر لگانے لگی۔۔۔

“پھر میرے آنے سے پہلے سب اتار بھی دیا۔۔۔یہ تو غلط بات ہے نا”

وہ خفگی سے کہنے لگا۔۔۔۔

“آج پھر ہوجاؤں گی تیار جی بھر کر دیکھ لینا۔۔۔۔”

وہ ہلکا سا مسکرائی

“اوہ۔۔۔۔سچ میں۔۔۔۔۔؟” وہ جیسے حیران ہوا۔۔

“ظاہر ہے۔۔۔ورنہ ہم کامی کی برتھ ڈے پر کیسے جائیں گے؟”

وہ اسے انداز سے کہ رہی تھی۔۔۔

لیکن اس کی بات سنتے ہی ابراہیم کے چہرے کے تاثرات بدلے۔۔۔

“ہم نہیں جارہے وہاں” وہ دو ٹوک کہتا مڑ کر آئینے میں بال درست کرنے لگا۔۔۔

“میری وجہ سے اپنے دوستوں کو اگنور مت کرو۔۔۔اور کامی کا تو کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔۔وہ ہر سال صرف اس آس پر ہمیں انوائٹ کرتا ہے کہ سب ٹھیک ہوجائے گا”

وہ سنجیدگی ڈے سمجھا رہی تھی۔۔۔

“لیکن اب ایسا کچھ بھی ممکن نہیں۔۔۔”

وہ بے رخی سے کہنے لگا۔۔۔

“لیکن کیوں؟ کیا ہم سب بھول نہیں سکتے؟”

وہ پھر سے کہنے لگی۔۔۔۔

“تم جانتی ہو تم کیا کہ رہی ہو۔۔۔۔وہاں سب ہوں گے۔۔۔۔ایدہ اور آرب بھی”

وہ یاد دہانی کروانے لگا۔۔۔دونوں کے ناموں پر زور دیا

وہ چند لمحے خاموش ہوئی۔۔۔

وہ لمحہ بھر اس کے چہرے کے تاثرات دیکھتا رہا پھر واپس مڑ کر اپنی اومیگا کی واچ اٹھا کر پہننے لگا۔۔۔۔

“مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔ہم۔چلیں گے”

اس نے گردن اکڑا کر کہا۔۔۔

“تمہیں یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے منہا۔۔۔۔ہم نہیں جائیں گے۔۔۔۔”

وہ بنا مڑے کہنے لگا۔۔۔

“ہم خوش ہیں اپنی زندگی میں۔۔انہیں دکھانے کے لیے ہی صحیح۔۔۔۔ہم ضرور جائیں گے ایبو۔۔۔۔”

اس کا یہ جذبہ دیکھنے کے لیے ہی ابراہیم نے چار سال انتظار کیا۔۔۔۔

وہ فخریہ مسکرایا۔۔۔۔وہ اسے آج اس اسٹیج پر لے آیا تھا۔۔۔۔

وہ اسے مضبوط دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔

یہی تو وہ چاہتا تھا۔۔۔۔یہی الفاظ سننا چاہتا تھا جو آج منہا کہ رہی تھی۔۔۔۔

گھڑی گیارہ بجا رہی تھی۔۔۔۔اور دھوپ کب کی ہر سمت پھیل چکی تھی۔۔۔۔

“تم آفس نہیں گئے آج؟” وہ جو سوکر اٹھی تھی اسے سامنے صوفے پر بیٹھا دیکھ چونکی۔۔۔۔

ہر روز وہ اس کے اٹھنے سے پہلے ہی آفس چلا جاتا تھا۔۔۔

وہ جانتا تھا ایدہ کبھی بھی جلدی نہیں اٹھے گی۔۔۔۔

شادی کو پانچ سال ہوگئے تھے۔۔۔مگر وہ دونو آج تک ایک دوسرے کی زمہ داری نہیں اٹھا سکے تھے۔۔۔

وہ گیارہ بجے آرام سے اٹھتی اور بریک فاسٹ کیے بنا ہی بوتیک چلی جاتی۔۔۔۔

اس کی گھر آنے جانے کی کوئی ٹائمنگ نہیں تھی۔۔۔

مگر آج جب وہ اٹھی تو اسے سامنے دیکھا احد کو ساتھ بٹھائے وہ اسے شوز پہنا رہا تھا۔۔۔۔

وہ کمبل پھینک کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔

“کہاں جارہے ہو؟” وہ صوفے پر احد کے برابر آ بیٹھی۔۔۔

“دادو کے پاش۔۔۔جائیں گے”

وہ خوشی سے بتانے لگا۔۔۔۔

ایدہ نے گہرہ سانس خارج کیا۔۔۔

پھر سامنے بیٹھے آرب کو دیکھا۔۔۔

“تم حیدرآباد جارہے ہو؟” وہ پوچھنے لگی۔۔۔

“ہاں۔۔۔مام کی کال آئی تھی۔۔۔شام تک آجاؤں گا”

وہ مصروفیت سے کہنے لگا۔۔۔سائیڈ پر رکھا موبائل اور چابی اٹھائی۔۔۔۔

“احد کو بھی لے کر جارہے ہو؟”

وہ پھر سے پوچھنے لگی۔۔۔

“ظاہر ہے۔۔۔تم تو بوتیک چلی جاؤ گی۔۔۔ملازموں کے سر چھوڑ کر اسے۔۔۔میں اور نقصان افورڈ نہیں کرسکتا”

وہ طنظزیہ نگاہ پر ڈالتا احد کو گود میں اٹھا کر روم سے باہر نکل گیا۔۔۔

وہ لاپرواہی سے شانے اچکاتی واش روم کی جانب بڑھ گئی۔۔

وہ کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔کہ فون چیخنے لگا۔۔۔

اس نے اٹھا کر کان سے لگایا۔۔۔

“سر آپ سے ملنے نوریض سر آئے ہیں”

وہ اسے انداز میں بیٹھا رہا۔۔۔

“اندر بھیجو۔۔۔۔اور دو کافی بھی”

وہ حکم دیتا فون بند کرگیا۔۔۔

کچھ ہی لمحے میں نوریض اندر داخل ہوا۔۔۔

مسکراتا ہوا۔۔۔۔

وہ اٹھ کر اس سے ملا۔۔۔

“بیٹھو۔۔۔کیسے ہے؟۔” وہ شاہانہ انداز میں ویلکم کر رہا تھا۔۔۔

“سب ٹھیک تو بتا؟” وہ بھی فارمل ہوا۔۔۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی اور پئون اندر دو کپ کافی رکھ کر چلا گیا

“اتنی عزت کیوں دے رہا ہے میں کوئی پہلی بار تھوڑی نا آرہا ہوں”

وہ مسکرانے لگا۔۔۔

“کافی دن بعد چکر لگایا۔۔۔کہاں گم تھا؟”

وہ پوچھ ہی بیٹھا۔۔۔

“بس یار مت پوچھ بلکل ٹائم نہیں۔۔۔اب تو میم سلطانہ ایک اور ہوٹل بنوانا چاہ رہی ہیں۔۔۔۔”

وہ مصروفیت بتانے لگا

“کہاں؟”

وہ کافی کا کپ اس کی جب بڑھانے لگا۔۔۔

“وہ سوسائٹی روڈ کے قریب جو تجھے بتایا تھا جگہ خریدی تھی تھی۔۔۔وہاں”

وہ کپ اٹھاتے ہوئے بتانے لگا۔۔۔

“ہاں۔۔۔تو وہ جگہ اچھی ہے۔۔۔۔”

وہ بھی سپ لینے لگا۔۔۔

“فکر نہیں آرڈر تجھے ہی ملے گا”

وہ کپ ہونٹو سے لگاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔

“ہاہاہا۔۔۔۔۔تو احسان جتا رہا ہے کمینے۔۔۔۔؟” وہ ہنستے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔

“احسان کیسا۔۔۔دوست کا احسان نہیں ہوتا۔۔۔۔اور تو اس قابل ہے۔۔۔اگر میں ہیلپ نا بھی کروں تب بھی میم تجھے ہی کنسیڈر کریں گی۔۔۔۔”

وہ کافی کو انجوائے کر رہا تھا۔۔۔۔

“نہیں یار۔۔۔پھر بھی تونے میری بہت مدد کی ہے۔۔۔تو ہر مشکل میں میرے ساتھ کھڑا ہوتا ہے”

وہ محبت سے کہنے لگا۔۔۔

“تو نے بھی تو آج سے چار سال پہلے میری مدد کی تھی۔۔میرے لیے قربانی دی تھی”

وہ اسی محبت سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

وہ لمحہ بھر خاموش رہا جانے کتنی یادیں لہرائی تھی آنکھوں کے سامنے۔۔۔

کمیل آیا تھا” یک دم ہی اس نے بات بدلی۔۔۔

“ہاں میرے پاس بھی ہر سال کی طرح کارڈ دے کر گیا ہے”

وہ بے رخی سے کہنے لگا۔۔۔

“اس سال ہم چلیں گے۔۔۔۔” وہ جیسے اپنا ارادہ بتانے لگا۔۔۔

“کیا؟ تیرا دماغ ٹھیک ہے؟”

وہ اس بات سن حیران ہوا۔۔۔

“ہاں۔۔۔منہا بھی جانا چاہتی ہے۔۔۔مجھے لگتا ہے ہمیں چلنا چاہیے”

وہ پرسکون ہوا۔۔۔

“وہاں آبی اور ایدہ بھی ہوں گے۔۔۔۔” ہر کسی کی سوئی جیسے ن دونوں پر ہی آ کر رکتی تھی۔۔۔

“ہاں جانتا ہوں۔۔۔جب منہا کو کوئی پرابلم نہیں تو مجھے بھی نہیں۔۔۔۔تو بس تیاری پکڑ۔۔۔۔”

وہ شانے اچکا کر کہنے لگا۔۔

“پھر بھی یار۔۔۔تو ایک بار پھر سوچ لے”

وہ نرمی سے سمجھانے لگا۔۔۔

“چار سال سے سوچ رہا ہوں میں۔۔۔اب وقت آگیا ہے میدان میں اترنے کا”

وہ گہری سانس خارج کرتا کہنے لگا۔۔۔

“مگر۔۔۔۔۔” وہ کچھ کہنا چاہتا تھا پر ابراہیم کے چہرے پر آج کچھ الگ تاثرات تھے

“وہ آرب خان اور ایدہ رئیسی۔۔۔۔ہماری۔۔۔۔زندگیوں سے کھیل کر چلے گئے اور ہم ہجڑوں کی طرح ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہیں”

وہ تلخ لہجے میں کہنے لگا

چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔۔۔۔

“مگر ہم ان کا کر ہی کیا سکتے ہیں؟”

وہ جیسے سوچتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔

“یہ تو میں نے بھی نہیں سوچا۔۔۔۔”

وہ کہتے ہی ہنس دیا۔۔۔۔

اس نے واقع نہیں سوچا تھا۔۔۔۔

بدلے میں نوریض اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

وہ ہمیشہ ایسے ہی کرتا تھا ۔۔۔سیریس بات پر بھی کھلکھلا کر ہنسنے والا۔۔۔۔

“ہنی میں نے تمہارا اور احد کا ڈریس ریڈی کروا دیا ہے وہی پہننا۔۔۔اوکے۔۔۔۔ٹیک کیئر ہنی ۔۔۔۔”

وہ کہتی فون بند کر گاڑی بھی روک چکی تھی۔۔۔۔

چند ہی لمحوں میں گیٹ کھلا اور وہ اندر داخل ہوئی۔۔۔۔

ہیل اٹھاتی وہ ٹک ٹک کرتی وہ آگے بڑھی۔۔۔۔

سامنے سے خاور رئیسی صاحب دکھائی دیے۔۔۔۔

وہ اسے دیکھ مسکرائے۔۔۔۔

“ڈیڈ۔۔۔۔۔” وہ پکارتی آگے بڑھی اور ان کے سینے سے لپٹی۔۔۔۔

“تم دو دن سے نہیں آئی میرے پاس”

وہ جیسے شکوہ کرنے لگے۔۔۔

“پاپا آپ کو پتا تو ہے میں بوتیک ہوتی ہوں۔۔۔۔اور پھر کامی کی برتھ ڈے آرہی تھی تیاری تو کرنی تھی نا”

وہ جیسے مصروفیت گنوانے لگی۔۔۔۔

“برتھ پارٹی میری ہے یا تمہاری۔۔؟”

وہ کافی کا کپ پکڑے۔۔۔جنس پر گول گلے کی شرٹ پہنے ہوئے تھا۔۔۔۔

رنگت سانولی۔۔۔۔۔اور لمبے بال ہمیشہ کی طرح پیچھے پونی میں قید تھے۔۔۔۔

وہ سیڑھیاں اترتا اس کے قریب آیا۔۔۔۔

“تمہاری ہے مگر ہر سال کی طرح سب سے اچھی میں ہی لگوں گی۔۔۔۔”

وہ بالوں کو ہلکے سے جوڑے میں قید کیے۔۔۔۔چند آوارہ لٹوں کو انگلی سے لپٹتی اترا کر کہنے لگی۔۔۔۔

“شادی ہوگئی ایک بچے کی ماں بن گئی تم۔۔۔۔لیکن خوش فہمی برقرار ہے”

وہ کافی کا سپ لینے لگا۔۔۔۔

“ڈیڈ۔۔۔۔اماں نہیں کہتی تھی۔۔۔میں گھر میں سب سے الگ ہوں؟”

وہ جیسے یاد دہانی کروا رہی تھی۔۔

خاور صاحب ہنس کر اثبات میں سر ہلانے لگے۔۔۔

“ہاں کیوں کہ تمہیں ہم ایڈاپٹ کیا تھا تو الگ تو ہوگی نا۔۔۔۔”

وہ پھر سے چھیڑتا سامنے صوفے پر جا بیٹھا۔۔۔

“کامی۔۔۔۔آج تیری برتھ ڈے ہر ورنہ۔۔۔۔”

وہ بس انگلی دکھا کر رہ گئی۔۔۔

“ہاں پتا ہے تیرے ہاتھ بہت چلتے ہیں۔۔۔۔”

وہ لاپرواہی سے بولا تھا۔۔۔

اور پھر سے کافی پینے لگا۔۔۔۔

“آج کیسے کمیل کی برتھ ڈے پر جانے کے لیے راضی ہوگئے آپ؟”

وہ مسکرائی تھی۔۔۔

“بس ایبو نے کہا کب تک یہ ناراضگی رکھیں گے۔۔۔چلتے ہیں۔۔۔۔”

وہ وارڈ روب سے کپڑے نکالنے لگا۔۔۔

“اچھا تو یہ سب ایبو کے کہنے پر کیا جارہا ہے”

وہ مصروفیت سے کہنے لگی۔۔۔

“ہاں اور کیا۔۔۔ورنہ میرا نہیں خیال سب پہلے جیسا ٹھیک ہوسکتا ہے”

وہ لاپرواہی سے کہتا باتھروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

اور وہ بس اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔

وہ بلیک ڈریس پہنے۔۔۔لمبے سلکی بالوں کو کھلا چھوڑے۔۔۔

آئینے کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔

وہ اس کے پیچھے ریڈی بیٹھا اس کے تیار ہونے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔

وہ اسٹول پر بیٹھ کر سینڈل پہننے لگی۔۔۔۔

وہ مسکراتا اسے دیکھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

“میں پہناؤں؟” وہ محبت سے پوچھنے لگا۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔۔۔” وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلا گئی۔۔۔۔

وہ لمحہ بھر اسے دیکھتا رہا۔۔۔پھر زمین پر بیٹھا اور پاس رکھی بلیک سینڈل اٹھائی۔۔۔۔اور اسے پہنانے لگا۔۔۔۔

“میں انہیں اپنی خوشیاں دکھانا چاہتی ہوں”

وہ اس کے جھکے سر کو دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔

اس کی بات سن ابراہیم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں غرور تھا۔۔۔۔محبت تھی۔۔۔۔جانے کیا تھا۔۔۔

“منہا۔۔۔۔میں چاہتا ہوں تم مضبوط بنو۔۔۔۔سب کا سامنا کرو۔۔۔۔نڈر ہوکر۔۔۔بے فکری سے۔۔۔۔تمہارے پیچھے تمہارا ایبو کھڑا ہے نا سب کچھ ہینڈل کرلے گا۔۔۔۔”

وہ اس کا ہاتھ کر محبت سے کہنے لگا۔۔۔۔

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

جانے کتنی دیر۔۔۔۔

نظروں کا تسلسل تب ٹوٹا جب اس کا فون بجا۔۔۔۔

“ہاں بس نکل رہے ہیں۔۔۔۔۔تو ریڈی ہے؟”

وہ کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

اور اپنا کوٹ درست کرنے لگا۔۔۔

وہ بھی اٹھ کر اپنا پرس اٹھانے لگی۔۔۔۔

“چلیں۔۔۔۔” وہ فون بند کرتا اسے دیکھ مسکرایا۔۔۔۔

وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔

وہ رئیسی ہاؤس کے باہر گاڑی روک چکا تھا۔۔۔۔

گیٹ کھلا تھا۔۔۔۔اور باہر تک روشنیاں پھیلی تھی۔۔۔۔

لوگوں کا آنا جانا لگا ہوا تھا۔۔۔۔

“ہم رک کیوں گئے؟” وہ تاثف سے پوچھنے لگی۔۔۔

“نوریض اور رتبہ آرہے ہیں…ساتھ چلیں گے”

وہ بتانے لگا۔۔۔۔

تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔۔۔

فون پر فون کرنے پر زور ہے بس پہنچا ابھی تک نہیں۔۔۔۔”

وہ اکتاہٹ سے کہتا موبائل نکال کر دیکھنے لگا۔۔۔

سامنے ہی مس انابیہ نام جگمگا رہا تھا۔۔۔۔

اس نے سائیڈ کا بٹن دبایا اور فون جیب میں رکھ لیا۔۔۔۔

منہا کی نظریں سامنے تھی وہ اسے نہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔

تبھی نوریض کی گاڑی آرکی۔۔۔۔

وہ دونوں اسے دیکھ باہر نکلے۔۔۔۔

“کب سے ویٹ کر رہا تھا۔۔۔کیا اپنی سسرے کے پاس چلا گیا تھا۔۔۔۔؟”

وہ برے تاثر سے کہنے لگا۔۔۔۔

تبھی پیچھے سے باہر نکلتی رتبہ پر نظر پڑی۔۔۔۔

جو بلو فراک پہنے ہائی پونی میں بال قید کیے۔۔۔اپنی بیٹی کو گاڑی سے باہر نکال رہی تھی۔۔۔۔

“قسم سے میرا دھیان نہیں تھا۔۔۔۔” وہ جیسے زبان دانتوں تلے دبائے کہنے لگا۔۔۔۔

نوریض اس کی بات پر ہنس دیا۔۔۔۔

“ویسے آپس کی بات ہے۔۔۔۔یہ کامی کب بڑا ہوگا۔۔۔۔برتھ ڈے پارٹی۔۔۔۔۔بے بی کو برتھ ڈے پارٹی پسند ہے”

ابراہیم نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔اور دونوں نے بیک وقت تالی ماری۔۔۔۔

پھر خوب ہنسے۔۔۔کھلکھلا کر۔۔۔گردن پیچھے پھینک کر۔۔۔۔۔

وہ جنس پر وائٹ شرٹ اور سکائی بلو کوٹ پہنے۔۔۔

وائٹ جوگرز کے ساتھ ۔۔۔بالوں کو ہمیشہ کی طرح پیچھے پونی میں قید کیے ہوئے۔۔۔۔وہ واقع پر کشش لگ رہا تھا۔

“کامی۔۔۔۔۔” وہ کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا جب وہ آتی دکھائی دی۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔۔۔” وہ چلتا اس کے قریب گیا۔۔۔

“تم نے انوائٹ کیا تھا انہیں؟” وہ پوچھنے لگی۔۔۔

“ہاں ہر سال کی طرح۔۔۔۔مگر مجھے نہیں لگتا وہ لوگ آئیں گے”

کامی نے شانے اچکائے۔۔۔

“ہاں مجھے بھی نہیں لگتا۔۔۔۔”

وہ افسردگی سے کہنے لگی۔۔۔۔

تبھی سامنے سے آتے آرب پر نظر پڑی۔۔۔

جو نیوی بلو کلر کے تھری پیس میں اپنے بیٹے احد کا ہاتھ پکڑے آرہا تھا۔۔۔۔

اس کے ڈریس کا کلر ہی ایدہ کا خون جلانے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔

آرب نے سامنے ان دونوں کو کھڑا دیکھا۔۔۔۔

پھر ان کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔

سامنے سے وہ ریڈ ساڑھی میں ملبوس دکھائی دی۔۔۔۔بالوں کو میسی بن میں قید کیے۔۔۔۔سلیولیس بلاؤز سے دو دھیاں بازوں چمک رہی تھی۔۔۔۔

آرب نے سرسری نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔۔

پھر کمیل کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

“ہیپی برتھ ڈے بڈی۔۔۔۔۔”

وہ اس کے گلے ملا۔۔۔۔

“کہاں رہ گیا تھا یار۔۔۔صبح سے تجھے ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔۔”

وہ شکایت کرنے لگا

“میں یار حیدرآباد چلا گیا تھا۔۔۔۔”

وہ خوش اسلوبی سے جواب دینے لگا۔۔۔۔

پھر دونوں ہنس ہنس کر باتیں کرنے لگے۔۔۔۔

مگر ایدہ خیال اس ڈریس پر اٹکا تھا۔۔۔جسے وہ اپنی پسند سے لائی تھی۔۔۔۔مگر اس نے پہنا ہی نہیں۔۔۔۔

وہ مڑ کر جانے ہی لگی تھی کہ سامنے سے آتے ان تینوں پر اس کی نظریں ٹھہر گئی۔۔۔۔

مانوں اس کی نظروں نے آج سب سے خوبصورت چیز دیکھ لی ہو۔۔۔۔

لبوں پر بے اختیار مسکراہٹ چھا گئی۔۔۔۔

“کامی۔۔۔۔۔ایبو۔۔۔۔۔” وہ کمیل کی جانب گھومی پھر اشارہ کیا۔۔۔۔

وہ حیران ہوا۔۔۔۔اسے جیسے اپنی آنکھوں پر یقین نا آیا ہو۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔۔۔” دل نے مڑنے کو ضد کی۔۔۔۔

وہ بھی مسکراہٹ لیے پلٹا تھا۔۔۔۔۔

مگر اگلے ہی پل اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔۔

وہ بلیک ڈریس میں اس کا ہاتھ تھامے۔۔۔کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔

ساتھ میں گرے ڈریس پہنے۔۔۔ہمیشہ کی طرح چھوٹے کٹے بال۔۔۔۔ہاتھ البتہ اب ڈارھی تھوڑی زیادہ بڑھی ہوئی تھی۔۔۔۔

وہ ہمیشہ سے سمپل ہی رہا تھا۔۔۔۔

مگر آرب کی نظریں اب کسی اور دیکھ نہیں پارہی تھی۔۔۔۔۔

وہ بلیک ڈریس میں ہمشہ سے اسے اچھی لگتی تھی۔۔۔۔

کمیل اور ایدہ بھی خوشی سے انہیں دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

پھر دونوں ہی ان کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔

مگر آرب وہاں سے ہل نہیں سکا۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔۔۔ہائے بڈی۔۔۔۔۔”

کمیل نے خوش دلی سے گلے ملا۔۔۔۔

“کیسا ہے؟” پھر نوریض سے ملتے پوچھنے لگا۔۔۔۔

وہ دونوں مسکرا کر سر کو خم دینے لگے۔۔۔

“کیسے ہو ایبو۔۔۔۔۔نوریض۔۔۔۔۔اور منہا تم کیسی ہو….؟”

وہ قریب اتے ہی پوچھنے لگی۔۔۔

“تمہارے خیال میں کیسا ہونا چاہیے تھا ہمیں ایدہ؟”

ابراہیم نے مصنوئی مسکراہٹ سجائے پوچھا۔۔۔۔

وہ لمحہ بھر اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔

“اوہ گاڈ۔۔۔ہم کتنے دنوں بعد مل رہے ہیں۔۔۔۔وہ کالج کی یادیں۔۔۔۔وہ کمینہ گروپ۔۔۔وہ مستیاں۔۔۔۔میں بہت مس کرتی ہوں”

وہ پر جوش لہجے میں بولتی جارہی تھی۔۔۔

“ہاں۔۔۔ہم بھی کبھی نہیں بھولتے” (تمہاری مکاریاں…)

نوریض دل ہی دل میں کراہ کر رہ گیا۔۔۔۔

“تجھے کیا لگتا ہے وہ آئے گا؟”

ابراہیم بڑبڑایا۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔مجھے نہیں لگتا۔۔۔۔اس میں اتنی ہمت ہی نہیں ہوگی کہ ہمارا سامنا کرے۔۔۔۔”

نوریض نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“میری نظروں سے تو ہمیشہ کے لیے گر گیا وہ”

اس نے ایک آہ بھرہ

“وہ اپنی نظروں سے ہی گر گیا ہوگا۔۔۔جس دن اس نے ایدہ سے شادی کی ہوگی۔۔۔ بیچارہ۔۔۔”

نوریض نے افسردگی سے کہا۔۔۔۔

اور اس کی بات پر ابراہیم نا چاہتے ہوئے بھی ہنس دیا۔۔۔۔

“آبی۔۔۔مجھے وہ پیچ والا زیادہ پسند تھا۔۔۔۔”

وہ معصومیت سے کہنے لگی۔۔۔

“نہیں تم یہ بلیک پہنو گی۔۔۔۔بلیک تم پر زیادہ اچھا لگتا ہے”

وہ اس کی ناک ہلکی سی دباتا کہنے لگا۔۔۔

“مگر آبی میں بلیک بہت پہن چکی۔۔۔۔مجھے لگتا ہے سب مجھے ایک ہی کلر میں بار بار دیکھ کر بور ہوجائیں گے”

وہ کچھ سوچ کر کہنے لگی۔۔۔

“اوروں کا نہیں پتا۔۔۔۔مگر۔۔۔میں تم سے کبھی بور نہیں ہوسکتا منہا۔۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔”

وہ اسے یک ٹک دیکھتا کہنے لگا۔۔۔۔

اور آج بھی کئی سال بعد وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔دور سے ہی صحیح۔۔۔۔۔

ماضی کی کئی یادیں اس کے سامنے لہرائی۔۔۔۔

اس نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔۔۔

“آبی۔۔۔۔تم نہیں ملو گے؟” ایدہ اس کے قریب آئی۔۔۔

“نہیں۔۔۔۔۔تم لوگوں نے بلایا ہے انہیں میں نے نہیں۔۔۔۔”

وہ بے رخی سے کہنے لگا۔۔۔۔

“آبی ہم پھر سے سب ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔تم جانتے ہو۔۔۔۔اور جو ہوا اسے ہم بدل نہیں سکتے۔۔۔۔پلیز سب بھول جاؤ۔۔۔۔آؤ ملتے ہیں۔۔۔۔”

وہ اس کا ہاتھ تھامے اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے لگی۔۔۔۔

وہ چپ چاپ ساتھ ہولیا۔۔۔۔

سامنے صوفے پر ابراہیم اور نوریض بیٹھے گپے لگا رہے تھے۔۔۔۔

وہ ان کے پاس آیا۔۔۔۔۔

“ابراہیم ہاشمی۔۔۔۔ہاشمی کنسٹرکشن این رینوویشن سروسز۔۔۔۔۔کے مالک۔۔۔۔۔”

وہ اس کے قریب آکر طنزیہ کہنے لگا۔۔۔۔

وہ اسے دیکھ دل سے مسکرایا۔۔۔۔

پھر سر کو خم دیتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

نوریض بھی کھڑا ہوا۔۔۔۔

“ایبو اور نوریض کب سے پوچھ رہے تھے تمہارا۔۔۔۔۔” ایدہ خود ہی خود ہی بات بدلنی چاہی۔۔۔۔

(ہم نے کب پوچھا جھوٹی) نوریض بے اختیار اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔

“تم آج بھی ویسے ہی ہو نوریض”

وہ اب نوریض سے مخاطب تھا۔۔۔۔

“تمہارے خیال سے مجھے بدلنا چاہیے تھا؟”

وہ الٹ پوچھنے لگا۔۔۔

“ہاں بلکل۔۔۔انسان میں وقت کے ساتھ بدلاؤ آتا ہے۔۔۔۔کیوں ایبو؟”

وہ اب ابراہیم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ابراہیم نے شانے اچکائے۔۔۔۔

(ہاں جیسے تم بدل گئے۔۔۔۔) نوریض نے اسے غور سے دیکھا وہ واقع بدل گیا تھا۔۔۔۔

“منہا اور رتبہ کہاں ہیں؟”

ایدہ نے پوچھا۔۔۔

“پتا نہیں۔۔۔۔یہیں ہوں گی۔۔۔۔”

ابراہیم نے لاپرواہی سے جواب دیا۔۔۔۔

“تمہاری بیوی تمہیں بتا کر نہیں جاتی؟”

وہ طنزیہ کہنے لگا۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔۔۔” پیچھے سے آتی آواز پر آرب نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔

منہا سلکی کھلے بالوں کو ایک کاندھے پر ڈالے۔۔۔پینسل ہیل اٹھاتی اس تک آئی۔۔۔۔

پھر اسے دیکھ مسکرائی۔۔۔۔

اور سائیڈ سے نکل کر سامنے کھڑے ابراہیم کے برابر آکھڑی ہوئی۔۔۔۔

“میں ایبو کو بتا کر نہیں جاتی۔۔۔۔کیوں کہ یہ میرا شوہر بھی ہے اور دوست بھی۔۔۔۔میں جانتی ہوں یہ مجھ سے نہیں پوچھے گا میں کہاں تھی۔۔۔؟ کیوں کہ یہ مجھ پر اعتبار کرتا ہے”

وہ گردن اکڑا کر کہنے لگی۔۔۔۔

ہاتھ ابراہیم کے بازو کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔۔۔۔

“اور جہاں اعتبار ہوتا ہے وہاں سوال جواب نہیں ہوتے”

وہ مسکرا کر برابر کھڑی منہا کو دیکھنے لگا۔۔۔۔

جو اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

ایدہ نے آرب کی جانب دیکھا۔۔۔۔جس کے چہرے سے عیاں تھا کہ اندر سے کتنا جل رہا تھا۔۔۔۔

ضبط کیا غصہ باہر آنے کو بے تاب تھا۔۔۔۔

کیا باتیں ہورہی ہیں؟” تبھی کمیل وہاں آیا۔۔۔گود میں احد کو اٹھایا ہوا تھا۔۔۔۔

ایدہ نے مڑ کر کمیل کو دیکھا۔۔۔۔

“منہا تم نے میرا بیٹا دیکھا۔۔۔۔۔ہائے بولو آنٹی کو۔۔۔۔”

وہ احد کو اب کمیل کی گود سے لے چکی تھی۔۔۔

“بہت پیارا ہے ہے ماشاءاللہ ۔۔۔۔کیا نام ہے؟”

منہا احد کا ہاتھ نرمی سے پکڑے پوچھ رہی تھی۔۔۔۔

“احد۔۔۔۔۔” ایدہ نے مسکرا کر بتایا۔۔۔۔

“کتنے سال کا ہے؟” اب منہا بچے کی جانب مبذول ہوگئی تھی۔۔۔۔

“تین سال کا۔۔۔۔مگر بہت شرارتی ہے۔۔۔۔”

ایدہ مسکرائی تھی

“کتنا مشکل ہوتا ہوگا نا سمبھالنا۔۔۔بچے رکھنا اور ساتھ بزنس بھی۔۔۔۔”

اب کی بار رتبہ نے سوال کیا۔۔۔۔

“یہ رکھتی ہوگی تب نا”

کمیل ہلکے سے بڑبڑایا۔۔۔۔

“بائے دی وے۔۔۔۔۔تمہارے کتنے بچے ہیں ایبو۔۔۔۔۔”

آرب نے اب کی بار چوٹ کی۔۔۔۔۔

سب کے تاثرات بدلے تھے۔۔۔۔جہاں سب ہنس کر باتیں کر رہے تھے یک دم سنجیدہ ہوئے۔۔۔۔

“تم لوگوں کی شادی بھی آئی تھنک ہمارے ساتھ ہی ہوئی تھی۔۔۔۔زیادہ گیپ نہیں تھا”

وہ انجان بننے کا ڈرامہ بہترین انداز میں کر رہا تھا۔۔۔

“چھوڑو نا تم لوگ کیا باتیں لے کر بیٹھ گئے۔۔۔۔چلو کیک کاٹتے ہیں۔۔۔۔”

ایدہ نے کمیل کو اشارہ کیا۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔چلیں آبی؟”

وہ ایک نظر دونوں کے زرد چہرے پر ڈالتا فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔

منہا ساکت کھڑی تھی۔۔۔آنکھوں میں آئی نمی کو اس نے پرے دھکیلنے کی بہت کوشش کی۔۔۔۔مگر ایک آنسوں ٹوٹ کر گال بھگو گیا۔۔۔

“ایبو گھر چلو۔۔۔۔”

وہ ابراہیم کی جانب دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔

“مگر منہا ابھی تو۔۔۔۔”

وہ کچھ کہنا چاہتا تھا۔۔۔۔

مگر نوریض نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔

“وہ لوگ پارٹی چھوڑ کر چلے گئے اوہ گاڈ۔۔۔۔تمہیں ضرورت کیا تھی آبی۔۔۔۔وہ بات کرنے کی۔۔۔۔”

وہ دکھ بھری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

“میں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا۔۔۔میں نے بس پوچھا تھا”

وہ صوفے پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔

“اسے پوچھنا نہیں کہتے۔۔۔اسے پرسنل اٹیک کہتے ہیں۔۔۔۔”

اسے رہ رہ کر غصہ آرہا تھا۔۔۔۔

“تم لوگوں نے انہیں بلایا ہی کیوں تھا۔۔۔۔تم۔لوگوں نے ایک بار بھی سوچا مجھے برا لگ سکتا ہے”

وہ غصے سے کہنے لگا۔۔۔

“اوہ۔۔۔واؤ مسٹر آرب۔۔۔۔تمہیں برا نا لگے۔۔۔ ہمیں خیال کرنا چاہیے۔۔۔۔اور تم کچھ مت کرنا۔۔۔۔چاہے کسی کو بھی کچھ بھی برا لگ جائے۔۔۔۔”

وہ ماتھے پر آئی لٹوں کو ہاتھ پیچھے کرتی کہنے لگی۔۔۔

“میں نےایسا کچھ نہیں کیا”

وہ تلخ لہجے میں کہنے لگا۔۔۔

“ہاں۔۔۔تمہارا ڈریس جو میں لائی تھی۔۔۔وہ پہننے کے بجائے تم نے یہ بلو ڈریس پہنا۔۔۔۔تم نے ایک بار بھی سوچا کہ مجھے برا لگے گا۔۔۔۔تم بنا بتائے میرے بیٹے کو حیدرآباد ساتھ لے جاتے ہو۔۔۔یہ سوچے بنا کہ مجھے برا لگ سکتا ہے۔۔۔۔الٹا تم مجھے کہ رہے ہو۔۔۔۔؟”

وہ اب چلا رہی تھی۔۔۔۔

“تو کیا غلط کیا۔۔۔۔تمہارے پاس ٹائم ہے ہمارے لیے۔۔۔۔میں آفس ناشتہ کر کے جاتا ہوں یا بنا ناشتے کے تمہیں نیند پیاری ہے۔۔۔۔بچہ میرا گر جاتا ہے بیمار ہوجاتا ہے۔۔۔مگر تمہیں تو پارلر کی پڑی رہتی ہے۔۔۔۔لیٹ نائٹ تم گھر آتی ہو۔۔۔۔اب بھی میرا قصور ہے؟”

وہ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

“میں بھی ماں ہوں اس کی آبی۔۔۔میں کوئی نہیں ہوں۔۔۔جو جان بوجھ کر اسے بیمار کرتی ہوں۔۔۔۔بچے ایسے ہی پلتے ہیں۔۔۔۔اب ہر وقت اس کے گھٹنے سے لگی تو گھر پر نہیں بیٹھ سکتی۔۔۔۔مجھے سو کام ہوتے ہیں”

وہ بھی سرخ چہرے سے خود ہو جسٹی فائی کر رہی تھی۔۔۔

“جب تمہارے پاس ٹائم نہیں تو شکایت بھی مت کیا کرو۔۔۔۔خدا کے لیے ہم دونوں کو ہمارے حال پر چھوڑ دو۔۔۔میں اپنے بیٹے کا خیال رکھ سکتا ہوں۔۔۔۔اوکے”

وہ کہتا سائیڈ سے اپنا کوٹ اٹھاتا سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

اور وہ غصے سے اسے جاتا دیکھنے لگی۔۔۔

اس نے کمرے میں آتے ہی پرس بیڈ پر پھینکا اور خود بالکنی میں آگئی۔۔۔۔

(تمہارے کتنے بچے ہیں ایبو)

اس کے کانوں سے جملا ٹکرایا۔۔۔۔

آنسوں ٹک ٹک گر رہے تھے۔۔۔۔آنکھیں بھیگ چکی تھی۔۔۔۔

وہ اس کے پیچھے کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

کتنی ہی دیر دونوں خاموش کھڑے رہے۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔”

وہ جانتی تھی وہ پیچھے کھڑا ہے۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔۔۔” وہ اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

پھر چل کر اس کے قریب آیا۔۔۔۔

وہ ریلنگ پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔۔۔نگاہیں نیچے تھی۔۔۔

“تمہیں اس کے سوال سے تکلیف نہیں ہوئی؟”

وہ پوچھنے لگی۔۔۔

“ہوئی ہے۔۔۔بہت۔۔۔۔اتنی کہ میرا دل کر رہا تھا میں اس کا منہ توڑ دوں۔۔۔۔مگر میں ایسا نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔”

وہ اسکے ریلنگ پر جمے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

“تو توڑ دیتے اس کا منہ۔۔۔۔کیوں نہیں کیا ایسا۔۔۔۔”

وہ اس ے دیکھ کہنے لگی۔۔۔

“میں وہاں ہنگامہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔میں بدلہ لوں گا ہر تکلیف کا ہر دکھ کا جو انہوں نے تمہیں دیا۔۔۔جو انہوں نے ہمیں دیا۔۔۔۔مگر ایسے نہیں”

وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو ریلنگ سے ہٹائے اپنے ہاتھوں میں سمو چکا تھا۔۔۔۔

اس کے ہاتھ ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔۔۔۔

“تمہیں میرا ساتھ دینا ہے منہا۔۔۔۔رونا نہیں ہے مضبوط بننا ہے۔۔۔۔تبھی ہم لڑ سکیں گے۔۔۔دو گی نا میرا ساتھ”

وہ نرمی سے پوچھنے لگا۔۔۔۔

ہممم۔۔۔۔”وہ اثبات میں سر ہلاتی اسکے سینے سے لگی۔۔۔۔

وہ تکلیف میں تھی۔۔۔

وہ جانتا تھا۔۔۔۔

اور دینے والا اس کا سب سے بڑا دشمن۔۔۔۔