Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 11)

Blind Friends By Isra Rao

ایک بڑی سی گاڑی رکی۔۔۔اور دروازہ کھلتے ہی ان دونوں کو باہر دھکیلا گیا۔۔۔۔پھر اسپیڈ بھرتی گاڑی آگے نکل گئی۔۔۔۔

سامنے سڑک پر ابراہیم کھڑا تھا۔۔۔۔۔اکیلا۔۔۔۔نا ہی آرب ساتھ تھا نا ہی کمیل۔۔۔۔۔

ابراہیم جو فون پر کسی سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔گاڑی کے تیزی سے گزرنے سے چونک کر دیکھا۔۔۔۔

پھر سامنے تھوڑی دور اسے اندھیرے میں دو لوگ کھڑے دکھائی دیے۔۔۔

اندھیرے کے باعث وہ صحیح سے دیکھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔

مگر پھر بھی اس نے فون بند کر جیب میں رکھا۔۔۔

اور تیزی سے بھاگتا وہ فاصلہ عبور کیا۔۔۔

“منہا۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے قریب آتے ہی کہا۔۔۔۔وہ اندھیرے میں بھی اسے پہنچان گیا تھا۔۔۔۔

وہ لپک کر اس کے گلے لگی۔۔۔۔

ابراہیم لمحہ بھر ساکت ہوگیا۔۔۔۔وہ تیز تیز رو رہی تھی۔۔۔اس کی سسکیوں کی آواز اندھیرے میں گونج رہی تھی۔۔۔۔

پاس کھڑے نوریض کے گال پر مسلسل آنسوں ٹپک رہے تھے۔۔۔۔

ابراہیم کو اپنا وجود سن ہوتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔

“آبی۔۔۔۔۔” منہا بھاگتی ہوئی گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔۔۔

پیچھے ابراہیم اور نوریض بھی تھے۔۔۔۔

آرب جو لان میں سجی کرسیوں کے بیچ ایک کرسی پر ٹیک لگائے بیٹھا تھا اس کی آواز سن فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

“آبی۔۔۔۔” وہ اس سے کچھ فاصلے پر رکی۔۔۔۔

آرب نے ایک نظر اس کے حلیے پر ڈالی۔۔۔۔

بلیک ڈریس وہی بلیک ڈریس جو اس نے اپنی پسند سے دلوایا تھا۔۔۔کتنی ہی گرد سے اٹا تھا۔۔۔۔

سلکی لمبے بال بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔

مٹا مٹا سا میک اپ۔۔۔۔سوجی آنکھوں کے گرد پھیلا کاجل۔۔۔۔

آرب یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

بجائے اس کے قریب جانے کے آرب نے ہاتھ میں بندھی گھڑی پر نظر ڈالی جو صبح کے 6 بجا رہی تھی۔۔۔۔

سارہ بیگم اور سعید صاحب بھی وہیں تھے۔۔۔۔

“آبی۔۔۔۔۔۔” وہ چلتی اس کے قریب آئی۔۔۔اس سے پہلے وہ اس سے گلے لگ کر اپنے دکھ بتاتی۔۔۔۔۔آرب نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روکا۔۔۔۔

“تم رات بھر کہاں تھی؟”

آرب نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

منہا اس کی آنکھوں میں بے اعتباری دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

“یہ کیا بتائے گی۔۔۔۔اس کی تو عادت ہے رات باہر گزارنے کی”

سارہ بیگم نے غراتے ہوئے کہا

آرب نے سختی سے آنکھیں بند کی۔۔۔اس کا پورا وجود سن ہوگیا تھا۔۔۔۔۔

“کیا بکواس ہے یہ سب۔۔۔۔”

ابراہیم غصے سے بھڑکا

“تو بیچ میں مت آ ایبو۔۔۔۔۔”

آرب نے سرخ آنکھوں سے کہا۔۔۔۔

“آبی میری بات سن۔۔۔میں بتاتا ہوں”

نوریض نے آگے بڑھ کر صفائی دینی چاہی۔۔۔

مگر آرب نے لمحہ بھی ضائع کیے بنا اس کا گریبان پکڑا۔۔۔۔

“کیا کیا ہے تو نے منہا کے ساتھ۔۔۔۔۔؟”

آرب نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑتے ہوئے پوچھا

“آبی۔۔۔۔۔کیا بکواس کر رہا ہے”

نوریض کو جیسے جھٹکا لگا

“تجھے شرم نہیں آئی اپنے دوست کے ساتھ دھوکہ کرتے”

آرب نے شعلہ برساتی نگاہوں سے کہا۔۔۔اور جھٹکے سے اسے دھکا دیا

وہ گرتے گرتے بچا۔۔۔۔

“یہ کیا کہ رہا ہے تو۔۔۔۔دماغ ٹھیک ہے”

ابراہیم نے نوریض کو تھاما

“ہاں میرا دماغ خراب ہوگیا تھا جو اسے دوست بنایا۔۔۔۔اندھا اعتبار کیا۔۔۔۔اور اس نے کیا کیا میرے ساتھ۔۔۔۔؟”

وہ نم آنکھوں سے چلایا

“ایسا کچھ بھی نہیں ہے آبی۔۔۔۔”

منہا بھیگتے چہرے سے آنسوں صاف کرتی اس کی جانب لپکی۔۔۔

“اگر ایسا نہیں ہے تو تم نوریض کے ساتھ کیوں تھی۔۔۔۔۔رات بھر۔۔۔۔۔؟”

آرب نے غراتے ہوئے سوال داغا۔۔۔

منہا کو لگا جیسے سامنے کھڑا شخص کوئی انجان ہے

جو اسے جانتا ہی نہیں۔۔۔۔

“ہمیں کڈنیپ کیا گیا تھا آبی۔۔۔۔تو ابراہیم سے پوچھ۔۔۔۔ابراہیم بتا”

نوریض نے ابراہیم کو بازوں سے پکڑ گواہی دلوانی چاہی۔۔۔

“تجھے صفائی دینے کی ضرورت نہیں ہے نوریض ۔۔۔۔۔اس گھٹیا آدمی کو اعتبار ہی نہیں ہے”

ابراہیم نے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔

نظریں اس کی آرب پر ہی تھی۔۔۔

“اعتبار کی تو سزا ملی ہے مجھے۔۔۔۔میں نے دوستوں پر اندھا اعتبار کیا۔۔۔۔”

آرب کی آنکھ سے دو آنسوں گرے۔۔۔۔

جسے اس نے مہارت سے اگنور کیا اور اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

“آبی۔۔۔آبی میری بات سنو۔۔۔۔”

منہا اس کے پیچھے بھاگی۔۔۔

“کوئی ضرورت نہیں ہے اندر جانے کی۔۔۔جاؤ یہاں سے اب۔۔۔۔”

سارہ بیگم نے اسے بازو سے پکڑ روکا۔۔۔

“آنٹی میں ایسی نہیں ہوں۔۔۔میرا یقین کریں۔۔۔”

منہا نے روتے ہوئے کہا

“تم پر اعتبار کروں۔۔۔۔تم چھوٹے گھر کی لڑکیوں کا تو کام ہی یہی ہے۔۔۔امیر لڑکوں کے ساتھ رات گزارنا اور انہیں اپنی اداؤں سے پھنسانا”

وہ غراتے ہوئے کہنے لگی

“نہیں ایسا نہیں ہے آنٹی۔۔۔پلیز مجھے آبی سے بات کرنے دیں”

منہا روتی جارہی تھی۔۔۔

مگر سارہ بیگم کے غصے میں کمی نہیں آئی

“میں نے کہا نا جاؤ یہاں سے۔۔۔۔”

انہوں نے اسے بازو سے پکڑ پرے دھکیلا۔۔۔۔

اس سے پہلے وہ گرتی ابراہیم نے لپک کر اسے سمنبھالا

“کوئی ضرورت نہیں ہے ان کے سامنے گڑگڑانے کی۔۔۔۔یہ لوگ اس لائق ہی نہیں۔۔۔چلو یہاں سے”

ابراہیم نے ایک بری نظر ان پر ڈالی اور منہا اور نوریض کو لیے وہاں سے نکل گیا۔۔۔

“امی۔۔۔۔۔” وہ بھاگ کر سامنے کھڑی ماں کے گلے لگی۔۔۔۔

پیچھے ابراہیم اور نوریض بھی خاموشی سے سر جھکائے کھڑے تھے۔۔۔۔

“میری بچی کہاں تھی۔۔۔ٹھیک ہے تو؟”

وہ منہا کو پیار کرنے لگی۔۔۔۔

منہا بھی ان کے گلے لگ کر روتی چلی جا رہی تھی۔۔۔

تبھی منیب اندر سے آواز سن کر آیا اور آؤ دیکھا نہ تاؤ۔۔۔تھوڑی فاصلے پر کھڑے نوریض کو گریبان سے پکڑ سامنے کیا اور گھوسوں اور لاتوں سے مارنا شروع کردیا۔۔۔۔

“بھائی۔۔۔۔۔بھائی چھوڑ دیں اسے”

منہا چلائی تھی۔۔۔

مگر وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔

تبھی ابراہیم آگے بڑھا اور منیب کا ہاتھ پکڑ اسے روکا۔۔۔۔

“تم پیچھے ہٹ جاؤ ابراہیم۔۔۔۔۔یہ زندہ نہیں بچے گا آج”

وہ غرایا۔۔۔۔

نوریض جو زمین پر گرا تھا بمشکل اٹھا۔۔۔

“میں نے کچھ نہیں کیا منیب بھائی۔۔۔۔”

نوریض نے تکلیف کو اگنور کرتے کہا

“کیا سوچ کر میری بہن کو اغواہ کیا تونے۔۔۔۔”

ابراہیم نے بمشکل اسے روکا ہوا تھا۔۔۔

“بھائی اس نے مجھے اغواہ نہیں کیا تھا۔۔۔۔”

منہا نے کہا

“ہاں جانتا ہوں تو اپنی مرضی سے گئی تھی اس کے ساتھ۔۔۔۔”

منیب نے مڑ کر منہا کو دیکھا

“ہاں۔۔۔۔میں اپنی مرضی سے گئی تھی مگر۔۔۔۔۔”

وہ بات پوری کرتی اس سے پہلے ہی اس کے گال پر زور دار تھپڑ پڑا۔۔۔۔

“اپنی مرضی سے تم کسی کے بھی ساتھ چلی گئی ہمیں بنا بتائے۔۔۔۔”

آصف صاحب نے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔

“ابو۔۔۔۔میری بات سنیں۔۔۔۔میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔”

منہا نے روتے ہوئے کہا

“جو کرنا تھا تم نے کرلیا۔۔۔تم نے ہمیں کہیں منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا۔۔۔۔کیا اس لیے میں نے ازادی دی تھی تمہیں؟”

وہ سوال کرنے لگے

منہا سر جھکائے روتی چلی جارہی تھی

“تم نے آرب کو پسند کیا میں نے انکار نہیں کیا۔۔۔۔کیوں کہ ہر بچے کو حق ہوتا ہے اپنی مرضی بتانے کا۔۔۔۔”

وہ سامنے کھڑی منہا کو دیکھ کہ رہے تھے

“مگر تم نے ایسا سبق دیا ہے مجھے۔۔۔کہ میں اب سب بچوں کے ماں باپ کو مشورہ دوں گا کہ بچوں کو آزادی نہ دیں”

وہ افسردگی سے کہنے لگے

“ابو۔۔۔۔نہیں۔۔۔ایسا نہیں کہیں” منہا نے نفی میں سر ہلایا

“انکل۔۔۔۔منہا کا کوئی قصور نہیں۔۔۔۔”

نوریض نے زخمی آواز کے ساتھ کہا۔۔۔۔

“ٹھیک ہے منہا کا کوئی قصور نہیں تمہارا تو ہے۔۔۔۔تم نے اسے بدنام کردیا۔۔۔۔اب اس سے آرب شادی نہیں کرے گا۔۔۔۔کیا تم کرو گے اس سے شادی؟”

آصف صاحب نے کاٹ دار لہجے میں کہا

“یہ آپ کیا کہ رہے ہیں۔۔۔میری شادی ہے اگلے مہینے۔۔۔۔”

نوریض نے ابراہیم کو دیکھا

“تو دفع ہوجاؤ یہاں سے “

منیب پھر سے مارنے کو بے تاب تھا

۔۔۔

“اسے ساتھ لے کر جاؤ۔۔۔۔۔۔” آصف صاحب نے فوراً کہا

“ابو۔۔۔۔” منہا نے اپنے باپ کی جانب دیکھا۔۔۔۔

“پہلے بھی تو لے کر گئے تھے نا۔۔۔۔اب بھی لے جاؤ۔۔۔چاہو تو کسی ٹرین کے سامنے کھڑا کردینا اسے۔۔۔۔اج سے میری صرف ایک ہی اولاد ہے”

وہ غصے میں کہتے اندر کی جانب بڑھ گئے۔۔۔۔

“یہ کیا کہ رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔”

پیچھے فائقہ بیگم جو منہا کو گلے لگائے ہوئے تھے۔۔۔۔بھری آواز میں میں کہنے لگی مگر وہ اندر جاچکے تھے

“میں جھوٹ نہیں کہ رہا یار مجھے کامی کا فون آیا تھا۔۔۔۔اسی نے مجھے کہا تھا کہ منہا کو لے آ۔۔۔۔۔”

نوریض نے اپنی صفائی دی۔۔۔

“تیرا فون دکھا”

ابراہیم نے فوراً کہا

“نہیں ہے میرے پاس۔۔۔ان لوگوں نے ہم دونوں کے فون رکھ لیے تھے۔۔۔۔”

اس نے تفصیل سے بتایا

“وہ لوگ تھے کون۔۔۔۔؟”

ابراہیم نے پوچھا۔۔۔۔

“میں نہیں جانتا یار۔۔۔۔وہ نقاب کر کے آئے تھے سامنے۔۔۔۔۔مگر میں تجھے کچھ بتانا چاہتا ہوں۔۔۔۔”

نوریض نے جھجکتے ہوئے کہا۔۔۔۔

تبھی ایدہ اور کامی دروازہ کھول اندر آئے۔۔۔۔

“نوریض ۔۔۔۔کیا ہے یار”

کمیل نوریض کی جانب بڑھ کر اس سے ملا۔۔۔

“کیوں کیا میرے ساتھ ایسا تم نے نوریض؟”

آرب نے کہتے ساتھ پاس ہی اسٹول پر رکھے واز کو اٹھا کر زمین پر دے مارا۔۔

آواز سن سارہ بیگم بھاگتی ہوئی اس کے کمرے میں آئی۔۔۔۔

وہ انکھوں میں تیش لیے کھڑا تھا۔۔۔۔

“آرب۔۔۔۔میری جان۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو؟”

وہ اس کی جانب لپکی۔۔۔۔

“میں نے اندھا یقین کیا تھا اپنے دوستوں پر مام۔۔۔۔۔۔”

وہ زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔

سارہ بیگم کا دل کٹنے لگا۔۔۔۔

“میرے بچے۔۔۔۔کچھ نہیں ہوا ہے۔۔۔وقت پر سچائی سامنے آگئی ہے۔۔۔۔خود کو سنبھالو۔۔۔۔۔”

وہ اسے خود سے لگائے کہنے لگی۔۔۔

“میرے ساتھ ہی کیوں کیا نوریض نے ایسا۔۔۔میں نے بھائی سمجھا تھا اسے”

وہ بھیگی آواز میں کہ رہا تھا۔۔۔۔

“یار مجھے کامی کی کال آئی تھی۔۔۔۔میں نے اسی لیے منہا کو پک کیا۔۔۔۔۔”

نوریض نے کہا

“مگر میں نے تجھے کوئی کال ہی نہیں کی۔۔۔۔۔یہ دیکھ میرا فون ۔۔۔۔چاہے تو میں ہسٹری نکلوا کر دے سکتا ہوں۔۔۔میں نے نہیں کی کوئی کال۔۔۔”

کمیل روہانسی ہوا

“تو نے کی تھی کامی۔۔۔۔اور یہ بھی کہا تھا کہ منہا کو لے اس جگہ پر آجا۔۔۔میں ایدہ اور آرب تینوں آرہے ہیں۔۔۔۔”

نوریض نے پوری بات بتائی

“میں کیوں تجھے اس سنسان جگہ پر بلاؤں گا؟”

کمیل نے فوراً کہا

“کیوں کہ تونے کہا تھا کہ تونے آرب اور منہا کی منگنی گفٹ میں ایک کار لی ہے۔۔۔۔اور وہ سرپرائز تجھے دینا تھا”

نوریض نے جھٹ کہا

“میں نے تو کوئی کار لی ہی نہیں”

وہ صفائی دینے لگا

“ہوسکتا ہے تجھے کسی نے ٹریپ کیا ہو”

ایدہ نے فوراً کہا

“ایک منٹ کال تجھے کامی کے نمبر سے آئی تھی؟”

ابراہیم نے پوچھا

“نہیں۔۔۔ان نان نمبر تھا۔۔۔۔۔مگر میں آواز تو پہچانتا ہوں نا یار۔۔۔کامی ہی تھا”

نوریض پر اعتماد تھا

یار میرے پاس تو دو ہی نمبر ہیں دونوں تم لوگوں کے پاس ہیں۔۔۔۔میں کیسے کرسکتا ہوں۔۔۔۔”

کمیل نے پھر سے صفائی دینی چاہی

“جو بھی ہے یار ہمیں پتا لگانا ہوگا۔۔۔۔لیکن اس سے بھی ضروری ہے کہ ہم آرب کو منہا کی طرف سے راضی کریں۔۔۔۔

منہا کا باپ اسے گھر میں رکھنے کو راضی نہیں ہے۔۔۔۔”

ابراہیم نے سنجیدگی سے مسئلہ بتایا

“میں نے بات کی تھی آبی سے وہ سننے کو تیار ہی نہیں ہے”

ایدہ نے فوراً بتایا

“دماغ خراب ہوگیا ہے اس کا۔۔۔دوستوں پر یقین نہیں”

ابراہیم نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا

“دماغ تو منہا کے باپ اور بھائی کا خراب ہے۔۔۔وہ منیب مجھے کہ رہا ہے کہ پولیس کو بھیجے گا۔۔۔میری شادی قریب ہے یار۔۔۔۔”

نوریض نے فوراً کہا

وہ پریشان تھا

“دو دن ہوگئے آرب کسی سے ملنا ہی نہیں چاہتا”

نوریض نے کہا

“یار مجھے آرب سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔۔”

ابراہیم نے افسردگی سے کہا

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔

نوریض نے جاکر دروازہ کھولا۔۔۔۔

سامنے ہی فرقان صاحب کھڑے تھے۔۔۔۔

“انکل۔۔۔آپ۔۔۔۔۔”

وہ حیران ہوا۔۔۔

“بابا۔۔۔۔”

ابراہیم جو صوفے پر بیٹھا تھا انہیں دیکھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

“تم تو کل آنے والے تھے؟”

وہ آکر صوفے پر بیٹھے۔۔۔۔

نوریض کچن کی جانب بڑھ گیا

“جی بابا۔۔۔۔وہ۔۔۔”

ابراہیم جھجکا

“انکل یہ میری وجہ سے نہیں آ پایا۔۔۔۔۔”

نوریض کولڈ ڈرنک ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہنے لگا

نوریض نے انہیں پوری تفصیل دی۔۔۔۔

وہ جانتا تھا۔۔۔۔کہ ابراہیم کے والد بہت پہنچ والے ہیں۔۔۔ایک وہی اسے منہا کی فیملی سے بچا سکتے ہیں۔۔۔۔

وہ مسلسل آرب کا نمبر ڈائل کر رہی تھی۔۔۔مگر بند جارہا تھا۔۔۔۔

گھر میں کوئی اس سے بات نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔

منہا رو رو کر تھک گئی تھی۔۔۔مگر اسے سمجھنے والا کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔

تبھی اسے باہر ابراہیم اور نوریض کی آواز سنائی دی۔۔۔۔

مگر وہ باہر نہیں گئی۔۔۔

اس وقت اسے بس ایک ہی دھن سوار تھی آرب کو منانا۔۔۔۔

اس سے بات کرنا۔۔۔۔

“دیکھیں اس بچے کی اگلے مہینے شادی ہے۔۔۔۔آپ اسے جیل تو کروا دیں گے۔۔۔۔مگر اس کی زندگی برباد ہوجائے گی”

فرقان صاحب نے سامنے بیٹھے آصف صاحب اور منیب کو دیکھا

اور ہماری بچی کی جو زندگی خراب ہوگئی۔۔۔۔اس کی منگنی ٹوٹ گئی ہے وہ بدنام ہوگئی صرف اس لڑکے کی وجہ سے”

انہوں نے فوراً کہا

“میں سمجھ سکتا ہوں۔۔۔۔مگر “

وہ کچھ کہتے اس سے پہلے ہی آصف صاحب بولے

“آپ نہیں سمجھ سکتے۔۔۔۔آپ تب سمجھتے جب آپ کی بھی کوئی بیٹی ہوتی۔۔۔اور وہ منہا کی جگہ ہوتی۔۔۔۔تب میں آپ سے پوچھتا۔۔۔۔کہ بدنام بیٹی کا بوجھ کتنا بڑا ہوتا ہے”

آصف صاحب نے سنجیدگی سے چوٹ کی

“بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی آصف صاحب۔۔۔۔وہ تو گھر کی رونق ہوتی ہیں۔۔۔وہ عزت ہوتی ہیں۔۔۔۔جو کسی کے بھی حوالے نہیں کی جاتی”

فرقان صاحب نے کہا

“ٹھیک ہے پھر آپ اپنے بیٹے سے شادی کروادیں میری بیٹی کی۔۔۔۔میری عزت کو اپنی عزت بنا لیں۔۔۔۔۔”

انہوں نے کاٹ دار لہجے میں کہا

فرقان صاحب لمحہ بھر خاموش ہوئے

نوریض اور ابراہیم نے ایک دوسرے کو دیکھا

“ٹھیک ہے۔۔۔۔آپ نوریض کو کچھ نہیں کہیں گے۔۔۔۔آپ کی بیٹی سے شادی ابراہیم کرے گا”

انہوں نے سوچ سمجھ کر جواب دیا۔۔۔

مگر ایک بار بھی پیچھے کھڑے ابراہیم کو نہیں دیکھا۔۔۔

ابراہیم نے ناسمجھی سے نوریض کو دیکھا۔۔۔۔

وہ بھی ساکت تھا۔۔۔۔