Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

”وہ وقاص صاحب کو اپنے ہاتھوں سے چمچ چمچ سوپ پلا کر واپس اپنے کمرے میں چلی آئی تھی۔۔۔اور اب آئینے کے سامنے کھڑی اپنا سرخ و سفید چہرہ بغور دیکھ رہی تھی۔۔
ڈیڑھ ماہ کے گزر چکے اِس عرصے میں جہاں وقاص صاحب بڑی مشکلوں سے زیدان کے سنگ حسنہ کا دل سوز انجام برداشت کر پائے تھے۔۔۔وہیں وہ انتہا کا ڈھیٹ شخص اُسے منانے کی ناکام کوششوں میں ہر روز کی طرح آج بھی دل کے ہاتھوں مجبور یہاں تک چلا آیا تھا۔
اِن گہری ناراضگیوں کے باوجود بھی جہاں وہ جیسے تیسے کرکے اُس کی جھلک دیکھ کر اپنی سیاہ تشنہ نگاہوں کی پیاس بجھا لیا کرتا تھا۔۔۔
وہیں وقاص صاحب کے شدید اصرار پر اُس کے کومل ہاتھوں ملنے والی کبھی تیز نمک گھلی تو کبھی حد سے ذیادہ میٹھی چائے کو مسکراتے ہوئے لطف لے کر بآسانی پی لیتا تھا۔۔۔
حیا نے ضبط کا گہرا سانس لیتے ہوئے اپنے نم بالوں سے عنابی رنگ دوپٹہ ہٹایا۔۔۔۔
”تمھاری طرف سے سونپی گئی بےاعتباری کی سوغات نے مجھے ہر لحاظ سے اندھاکردیا ہے رمیض عالم درانی۔۔اب مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔۔۔نہ تمھاری محبت۔۔۔نہ تمھارا پچھتاوا اور نہ ہی تمھاری بارہا مانگے جانے والی یہ معافیاں۔۔۔۔۔اِن درد دیتی جدائیوں کا انتخاب کرنے والے بھی تمہی ہو سو چلے جاؤ یہاں سے۔۔۔دور ہو جاؤ میری نظروں سے۔۔۔کہ تمھیں دیکھ کر ہر بار دل سلگ اٹھتا ہے۔۔۔۔۔“ معاً اُس کی جانب سے تڑپ کر مانگی گئی کتنی ہی معافیوں پر حیا وقاص کو اپنا بد لحاظ پتھریلہ لہجہ یاد آیا تھا۔۔۔
اور پھر۔۔۔سفاکی کا چلتا ہوا یہ طویل سلسلہ بھی اُس ڈھیٹ شخص کی ہٹ دھرمی کو ریزہ ریزہ نہیں کر سکا۔۔۔
مگر اب۔۔۔۔اب حیا وقاص کا یہ پتھر دل،،،شدتوں سے دھڑکتا ہوا حقیقتاً پگھلنے کو رضا مند ہوا تھا۔۔۔
سفاکیت ٹوٹ کر بکھرنے کے درپے ہوئی تھی۔۔۔۔
اور حتمی وجہ کیا بنی تھی بھلا۔۔۔۔؟؟؟
”میں نے پہلے بھی تمھیں مجبور کیا تھا ناں۔۔۔؟؟تمھارا رونا۔۔۔تمھاری سسکیاں تمھارا درد۔۔۔سب پسِ پشت ڈال کر تمھیں مجبور کیا تھا ناں میرے بڑے بیٹے کا ساتھ نبھانے کے لیے۔۔۔۔؟؟؟لو آج پھر سے میں تمھیں مجبور کرنے آئی ہوں۔۔۔تمھاری ضد توڑنے آئی ہوں۔۔۔۔تمھاری خفگی کو ملیامیٹ کرنے آئی ہوں حیا وقاص۔۔۔۔کبھی اُس کی حالت تو دیکھو غور سے۔۔۔تمھاری مانند اندر ہی اندرتِل تِل مر رہا ہے وہ۔۔۔۔معاف کیوں نہیں کردیتی آخر تم اُسے۔۔۔۔؟؟؟کیوں ختم نہیں کردیتی جدائیوں کے اس طول پکڑتے روگ کو۔۔۔۔؟؟؟“ سماعتوں میں گھلتی حفصہ بیگم کی قطعیت بھری روتی آواز اُسے ہارنے پر ہی تو مجبور کرگئی تھی۔۔۔۔
”مانا کہ اُس نے تمھارا اعتبار نہیں کیا۔۔۔گہری چالوں میں پھنس کر بہت سنگین حماقت ہوگئی اُس سے۔۔۔اُسے کرنا چاہیے تھا اعتبار ہرحال میں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔لیکن کیا صرف ایک وہی غلط ہے۔۔۔؟؟کیا تم نے اپنی بار میں روزینہ کی صورت اُسے بے اعتباری نہیں دکھائی تھی۔۔۔۔؟؟؟“ شدت سے احساس دلانے کی کوشش ہنوز تھی۔۔۔
اپنا من موہنا عکس نم نگاہوں میں رکھتے ہوئے حیا نے آہستگی سے بندھا جوڑا کھولا۔۔۔
کندھوں پر بکھرتے نم بال دل کو لبھانے کی صلاحیت سے پُر تھے۔۔۔۔
”ایک بیٹا تو اُس کے گناہوں کے سبب میں ویسے ہی کھو چکی ہوں۔۔۔۔مگر اب دوسرے بیٹے کو اُس کی کی گئی نادانیوں کے سبب قطعی نہیں کھونا چاہتی۔۔۔یہ بات تم بھی بہت اچھے سے جانتی ہو اور میں بھی۔۔۔رمیض عالم درانی تمھارے بغیر جی کر بھی کبھی جی نہیں پائے گا۔۔۔بس بہت ہوئیں نادانیاں۔۔۔بہت ہوئیں منمانیاں اب چلو میرے ساتھ۔۔۔۔“ اُسے اُسی کی اہمیت سے کھل کر روشناس کرواتیں اب کہ وہ کلائی سے تھام کر اُسے اپنے ساتھ لے جانے کو شدت سے اتاولی ہوئی تھیں اُس سمے۔۔۔۔
مگر جواب میں صاف نفی میں سرہلاتی ہوئی وہ بڑی نرمی سے اپنا آپ اُن سے چھڑوا گئی تھی۔۔۔۔
ایک ایک کرکے اداسی سے بھری دلکش آنکھوں میں سیاہ کاجل کی گہری لکیر کھینچتے ہوئے۔۔بےساختہ حیا وقاص کی یاداشت میں حفصہ بیگم کے کملائے ہوئے حیرت زدہ سے نقوش ابھرے تھے۔۔۔
”نہیں تائی امی۔۔۔۔میں آپ کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔۔۔فقط ایک آخری بار اُنھیں خود یہاں آلینے دیجیے۔۔۔وعدہ کرتی ہوں اِس دفع اُنھیں خالی ہاتھ نہیں پلٹنے دوں گی۔۔۔۔“ بھیگے لہجے میں بڑے اعتماد سے کہتی ہوئی وہ اُنھیں قدرے شفقت سے سر پہ ہاتھ پھیرنے پر ہی تو مجبور کرگئی تھی۔
اپنے خشک پنکھڑی لبوں کو آتشی رنگ میں رنگتے ہوئے معاً حیا نے اپنا دل دھڑکاتا عکس ایک آخری بار شفاف آئینے میں اطمینان سے دیکھا۔۔۔
پھر سر پر دوپٹہ لیتی پلٹی۔۔
اور شور مچاتے دل کے سنگ کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی۔
ایسے میں باہر کا تیور بدلتا موسم بھی خود کو حسین بنانے کی تگ و دو میں۔۔۔ سورج کی مدھم کرنوں کو پوری طرح سے بادلوں میں ڈھک چکا تھا۔۔۔
معاً حیا نے قدرے جھجک کر وقاص صاحب کے کمرے میں جھانک کر دیکھا تھا،،،جہاں اب وہ آنکھیں بند کیے اپنے بستر پر آرام کررہے تھے۔۔۔
جبکہ وہ۔۔۔
وہ تو اب کہیں بھی نہیں تھا۔۔۔۔
اگلے ہی پل وہ بےتابانہ باہر کی جانب بھاگی۔۔۔
ایسے میں عنابی رنگ دوپٹہ پھسل کر کندھوں پر گرا تھا۔
”رکیں۔۔۔۔!!!“ چھوٹے سے لان کو بآسانی پار کرتا ہوا وہ گیٹ کے قریب پہنچا ہی تھا،،،جب حیا پھولی سانسوں کے بیچ شدتوں سے اُسے پکار گئی۔۔۔
دل دھڑکاتی اِس نسوانی آواز پر رمیض عالم درانی کتنے ہی پل وہیں ساکت کھڑا رہ گیا۔۔۔۔
پھر دھڑکتے سینے پر ہاتھ رکھتا پیچھے پلٹا۔۔۔۔
کِھلے کِھلے سے عنابی رنگ سوٹ پر نم بال کھلے چھوڑے وہ اپنے مون موہنے نقوش سمیت اُس کے ہوش ہی تو اڑانے آئی تھی۔۔۔۔
مقابل کی گہری ساکت نگاہوں نے حیا کا تنفس بھی ٹھیک ٹھاک گہرا کیا تھا۔۔۔۔
معاً موسم کی شدت سے سرمئی ہوتی رنگت پر وہ دونوں قدم قدم چلتے ہوئے ایک دوسرے کے مدِ مقابل آکر رکےتھے۔۔۔
بےترتیب بال،،،سرخ آنکھوں میں بھری صدیوں کی سی تھکاوٹ،،،وجیہہ نقوش کی پھیکی پڑی رنگت پر ناچتی ہوئی اداسیاں،،،سگریٹ نوشی کی ذیادتی سے ہونٹوں کا بدلا رنگ اور پہلے کی نسبت کافی حد تک گھنی ہوچکی بئیرڈ۔۔۔۔
گہرے پچھتاؤں میں ڈوبنے کے سبب وہ واقعی میں کافی حد تک بدل چکا تھا۔۔۔بکھر چکا تھا۔۔۔
پلکیں جھپکاتے ہوئے حیا کی آنکھوں کی نمی گہری ہوئی۔۔۔۔
مگر پھر بھی۔۔۔۔پھر بھی وہ
اپنی وجاہت سے۔۔۔
اپنی نزدیکیوں سے۔۔۔
بولتی نگاہوں سے۔۔۔
بھاری لب و لہجے سے۔۔ہنوز اُس کے نازک دل کو بڑی شدتوں سے دھڑکانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔۔
ہاں اب بھی رکھتا تھا۔۔۔۔
”آج میری جھلک دیکھے بنا ہی واپس لوٹ جائیں گے۔۔۔؟؟؟بنا پچھتائے۔۔بنا گڑگڑائے یونہی خاموشی سے چھوڑ جائیں گے۔۔۔۔؟؟؟“ اُس کی بےچینیوں تلے سرخ ہوتی نگاہوں میں براہِ راست جھانکتی ہوئی وہ بڑی نرمی سے شکوہ کررہی تھی۔۔۔۔
جبکہ اُس کے خود سے یوں قریب آنے کے بعد اب لہجے کی نرماہٹ پر وہ سرتا پیر ٹھٹک سا گیا۔
سلگے سینے میں پھڑپھڑاتی دھڑکنیں بڑھنے لگی تھیں۔۔۔۔
”اگر تم یہ سوچ رہی ہو کہ تمھاری چاہتوں کی طلب میں اب میں مایوس ہوچکا ہوں تو ایسا قطعی نہیں ہے بیوی۔۔۔تمھاری جھلک تو میں آتے ساتھ ہی دیکھ کر خود کو پرسکون کر چکا تھا۔۔۔اور رہی بات پچھتانے اور۔۔گڑگڑانے کی تو بےشک میں لبوں سے کچھ بولوں نہ بولوں۔۔۔لیکن میرا یہ بےتاب دل ہر لمحہ چیخ چیخ کر تم سے واپس لوٹ آنے کی گزارشات کرتا رہتا ہے۔۔اور آگے بھی بےدھڑک کرتا رہے گا۔۔۔۔۔“ بھاری مدھم لہجے میں بےچینی سے کہتا ہوا وہ صاف گوئی سے بولا۔۔۔تو ٹوٹ کر گالوں پر لڑھکتے آنسوؤں پر وہ بےساختہ اُس کے دھک دھک کرتے دل پر اپنی لرزتی ہتھیلی ٹکا گئی۔۔۔۔
اس دوران ٹھنڈی ہوائیں کھلے بالوں سے سرعام چھیڑخانیاں کررہی تھیں۔
اُس کی جانیلوا ادا پر نم ہوتی آنکھوں کے سنگ رمیض عالم درانی کے لب حیرت سے وا ہوئے تھے۔۔۔۔
آج وہ حقیقتاً اُس کی جان لینے کے درپے تھی۔۔۔
”کب تک یونہی ناقابلِ برداشت انتظار کی سولی پر لٹکے رہیں گے آپ۔۔۔۔؟؟آخر کب تک میری دھتکار۔۔۔میری بےرخی کو برداشت کرتے رہیں گے۔۔۔؟؟ہاں۔۔۔؟؟“ حیا نے بھیگتی آواز پر بمشکل قابو پاتےہوئے آہستگی سے پوچھا،،،تو وہ بےساختہ اپنے بھاری ہاتھ تلے اُس کا کومل ہاتھ مکمل چھپا گیا۔۔۔۔
”آخری دم تک بھی کرنا پڑا تو کروں گا۔۔۔مگر اپنی اِس ہٹ دھڑمی سے قطعی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔۔۔۔“ مضبوط ترین لہجے میں جتاتے ہوئے رمیض کی آنکھوں کی سرخی مزید بھیگی۔۔۔
تو پل بھر کو نگاہیں جھکاتی حیا نچلے لب کو کچلتی سسکی۔۔۔
مقابل کی گہری سیاہ نظریں پل میں بھٹک کر اُس کے دلکش آتشی لبوں پر تھمی تھی۔۔۔جب حسرت سے انھیں پوروں تلے چھوکر وہ اگلے ہی پل اپنا لرزتا ہاتھ پیچھے ہٹا گیا۔۔۔
معاً کھلے آسمان پر ہوتی بھاری گرج کے سنگ ٹھنڈی بوندیں کھل کر برسی تھیں۔۔۔۔
”میں نے آپ کو معاف کیا رمیض عالم درانی۔۔۔پورے دل سے معاف کیا۔۔۔۔۔“ پورے اعتماد سے باور کرواتی ہوئی حیا وقاص بھل بھل بہتے آنسوؤں میں دھیرے سے مسکرائی۔۔۔
گہری بدگمانیوں میں ہی سہی۔۔۔مگر بروقت کال کرکے زہر پینے سے بچانے والا بھی تو وہی تھا ناں۔۔۔۔
لوٹتی عزت کے بیچ بروقت رکاوٹ بننے والا بھی تو وہی تھا ناں۔۔۔۔
”ت۔۔تم۔۔۔تم سچ۔۔۔۔؟؟؟“ اُس کے اس قدر مہربان ہونے پر وہ بےیقینی سے اُس کا چہرہ تھامتا ہوا ٹھیک سے بول بھی نہیں پارہا تھا۔۔۔
تو کیا سچ میں یہ شدید اذیت دیتی آزمائش اب تمام ہونے کو تھی۔۔۔؟؟؟
جبکہ اُس کے متوقع تاثرات دلچسپی سے دیکھتے ہوئے۔۔۔سر اثبات میں ہلاتی ہوئی حیا کی مسکراہٹ دلکش ہنسی میں بدلی۔۔۔
”یا رب تیرا شکر ہے۔۔۔تیرا شکر ہے بڑا۔۔۔۔۔“ معاً فرطِ جذبات سے بآوازِ بلند بولتے ہوئے رمیض عالم درانی کی مسکراتی نگاہوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔۔۔
اگلے ہی پل اپنا ضبط کھوتا وہ بڑے استحقاق سے حیا کی بھیگتی پیشانی پر۔۔۔سلگتے لبوں کا شدت بھرا طویل لمس چھوڑ گیا۔۔۔۔
نتیجتاً چوڑے سینے پر ہنوز ہتھیلیاں جمائے ہوئے حیا نے قدرے سکون سے آنکھیں موندی تھیں۔۔۔۔جبکہ وہ ایک عرصے بعد اُس کے کھلے نم بالوں کی دلفریب مہک کو کتنی ہی دیر شدت سے اپنی سانسوں میں کھینچتا ہوا قدرے نرمی سے پیچھے ہٹا۔۔۔
پھر ہولے سے جھک کر اُس کی بھیگتی پلکوں پر باری باری اپنا بھیگا نرم لمس پورے حق سے چھوڑتا چلا گیا۔۔۔
اس دوران بڑھتی بارش اُن دونوں کے سلگتے وجود تواتر سے بھیگاتی چلی جارہی تھی۔۔۔
معاً رمیض نے اپنے دھڑکتے سینے کے ساتھ لگی کومل کلائیوں کو تھامتے ہوئے۔۔۔ حیا کے دونوں ہاتھ اپنی بھیگی گردن پر رکھے۔۔۔تو اُس نے قدرے الجھ کر مقابل کی جلتی نگاہوں میں دیکھا۔۔۔
”میں تمھارا خطاکار ہوں۔۔۔اتنی آسانی سے مت چھوڑو۔۔۔۔چاہو تو میرے ساتھ بھی بالکل ویسا ہی سلوک کرسکتی ہو۔۔۔۔جیسے اُس وحشت بھری رات میں۔۔۔میں تمھارے ساتھ پیش آیا تھا۔۔۔بخدا اُففف تک نہیں کروں گا۔۔۔۔۔“ بےساختہ اُس کے کومل ہاتھوں پر خاصا دباؤ ڈالتے ہوئے اُس کی مدھم سلگتی آواز حد سے ذیادہ بھاری ہوئی تھی۔۔۔
حیا نے بھیگی پلکیں جھپکا جھپکا کر قدرے تاسف سے رمیض کے وجیہہ چہرے پر پھیلتی افسردگی کو دیکھا۔۔۔پھر بےہنگم دھڑکنوں کے سنگ صاف نفی میں سر ہلاتی ہوئی،،، ہاتھ چھڑوا کر اُس کے تپتے رخسار تھام گئی۔۔۔
”ہرگز نہیں۔۔۔ماضی کی سب تلخیاں بھول بھلا کر بس اتنا یاد رکھیے گا کہ۔۔۔۔رمیض عالم درانی کی رواں سانسوں میں حیا وقاص کی جان بستی ہے۔۔۔۔۔۔“ اپنے لہجے کی قابلِ دید مضبوطی سے جہاں وہ رمیض عالم درانی کو پورے قد سے اپنا دیوانہ کرگئی تھیں۔۔۔وہیں کھلے دروازے پر آکر ٹھہرتے وقاص صاحب ایک اطمینان بھری مسکراتی نگاہ اُن دونوں پر ڈال کر۔۔اگلےہی پل سرشار سے دبے قدموں واپس پلٹ گئے۔۔۔
معاً حیا وقاص نے اپنی ایڑھیاں اٹھاتے ہوئے پورے حق سے۔۔ مقابل کی لبوں کے قریب جھکتی پیشانی کو اپنے نرم دل دھڑکاتے لمس سے آشنا کروایا۔۔۔
تو سکون سے آنکھیں موند تے ہوئے۔۔۔رمیض عالم درانی نے بڑی محبت سے اُسکا بھیگا نازک وجود اپنے مضبوط ترین حصار میں سمیٹا۔۔۔
کبھی نہ چھوڑنے کے لیے۔۔۔۔۔
ایسے میں۔۔۔اِس محدود سی حسین ہوتی زندگی میں دل برداشتہ افسردگیوں کے سنگ لامحدود خوشیاں۔۔۔رونقیں۔۔۔محبتیں اور مسکراہٹیں بھی شدت سے اُن کی منتظر ہوئی تھیں۔۔۔۔
” تُو میرا عشق ہے
اورعشق بھی آخری
تُو میری عادت ہے
اور عادت بھی آخری؛
تُو اک سندر احساس ہے
اور احساس بھی آخری
میں تیری قید میں مقید ہوں
اور یہ قید بھی آخری؛
تیری قربتوں میں سلگنا ہے
اور یہ سلگنا بھی آخری
تُو میری رواں سانس ہے
اور یہ سانس بھی آخری؛
مجھ پہ صرف تیرا اختیار ہے
اور یہ اختیار بھی آخری
تیرے ہی ہجر کے سوگ میں
رفتہ رفتہ مروں گا
اور پھر میرا انتقال بھی آخری۔۔۔“
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
گزرتے ہوئے لمحات کی قابلِ دید شدت اس قدر تیز تھی کہ سات برسوں کو وہ بآسانی ماضی کے اوراق میں دھکیل چکے تھے۔۔۔
سات برس۔۔۔!!!
کتنا کچھ بدل گیا تھا ناں اِس لمبے دورانیے میں۔۔۔۔
جبکہ تیز رفتاری سے رنگ بدلتے اِن وقتی کھیلوں سے قدرے لاپرواہ سی،،، اپنی پھپھو کے گھر آئی وہ ننھی کلی۔۔ بمشکل وسیع مہکتے گارڈن کا ایک حصہ پار کرتی ہوئی اُس تک آئی تھی۔۔۔
جو ٹھنڈی صاف۔۔ کتری ہوئی گھاس پر قدرے سکون سے براجمان،،،اپنے موبائل فون میں ٹیکن سیون (فائٹنگ) گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔۔۔
جبکہ کھیل کے دوران اپنی ہی غلطی سے لگنے والی قابلِ برداشت چوٹ کا دبا دبا سا غصہ مرحہ رمیض درانی کے معصوم من موہنے چہرے پر اِس پل صاف صاف چھلک رہا تھا۔۔۔۔
”اوئے پپی کرو یہاں۔۔۔۔؟؟؟“ وہ اپنے نازک پیر کے درد کرتے سرخ انگوٹھے کی طرف اشارہ کرتی ہوئی ذرا رعب سے بولی،،،تو چودہ سالہ حمزہ نے قدرے حیرت سے چہرہ اٹھا کر اُس کے معصومیت سے لبریز نقوش دیکھے۔۔۔
”کیا کہا۔۔۔؟؟؟“ پوچھتے ہوئے اُسے اِس غیرمتوقع بےباکی پر بےساختہ غصہ آیا تھا۔
”سنائی نہیں دیتا بہرے۔۔۔پپی کہا ہے پپی۔۔۔۔۔چلو کرو ناں اب۔۔۔حیا مما کی طرح نخرے مت دکھاؤ جو بیچارے میرے رمیض ببا کو جھیلنے پڑتے ہیں۔۔۔۔“ بےدھڑک بولتی ہوئی وہ آفت کی پُڑیا اب باقاعدہ اپنے سفید رنگ پیر کو اُس کے گھٹنے پر جما چکی تھی۔۔۔
جواباً حمزہ نے بھی مجبوراً اپنا موبائل فون بند کرکے سائیڈ پر رکھتے ہوئے اِس بدتمیزی پر باقاعدہ دانت پیسے۔
پھر گھور کر اُس کے ننھے پاؤں کی قابلِ دید گرفت ملاحظہ کی۔۔۔
مانا کہ ہر چھوٹی موٹی چوٹ لگنے پر رمیض ماموں اپنی بگڑی ہوئی اِس لاڈلی گڑیا کو محض تسلی دینے کے لیے فیک میجک والی کِس کردیا کرتے تھے۔۔۔جس کےسبب وہ روتی روتی بھی چپ ہوجاتی تھی۔۔۔
لیکن اتنا بُرا وقت تو ہر گز نہیں آیا تھا کہ اُس ننھے پٹاخے کے رعب میں آکر اب وہ بھی ایسا ہی کر ڈالتا۔۔۔
وہ بھی ڈائریکٹ چھوٹے سے پاؤں پر۔۔۔۔اُفففف!!!
”آخرتمھیں ذرا سی بھی شرم کیوں نہیں آتی مرحہ۔۔۔؟؟؟بڑا ہونے کے باوجود بھی ایک تو تم مجھے تمیز سے بھائی کہہ کر نہیں بلاتی۔۔۔۔اور اب اوپر سے بےشرموں کی طرح پپی پپی کی رٹ لگا کر فلرٹ بھی کررہی ہو۔۔۔بتاؤں ماموں رمیض کو۔۔۔؟؟؟پڑواؤں ایک بار پھر سے تمھیں ڈانٹ۔۔ہاں۔۔۔؟؟؟“ معاً نرمی سے اُس کا پیر تھام کر پیچھے جھٹکتے ہوئے جہاں حمزہ نے اُسے صاف صاف دھمکایا تھا،،،،وہیں سرخ انگوٹھے میں اٹھتی مدھم ٹیس پر مرحہ حد سے کچھ ذیادہ ہی کراہ اٹھی۔۔۔
پھر جلدی سے اُسی کے مقابل بیٹھ کر سی سی کرتی ہوئی اپنا انگوٹھا سہلانے لگی،،،تو اُس کے تیور دیکھتا حمزہ نا چاہتے ہوئے بھی چونکا۔۔۔
”تم بھائی نہیں ہو۔۔بلکہ میرے ناپسندیدہ گندے سڑے بینگن ہو جو مجھے رمیض ببا سے ڈانٹ پڑواتے رہتے ہو۔۔۔۔اب میں بھی اپنی زلیخا پھپھو سےتمھاری شکایت لگاؤں گی۔۔۔تمھاری وجہ سے مجھے یہاں اتنی بڑی ی ی پین فیل ہوئی ہے۔۔۔اور تم نے رمیض ببا کی طرح چوٹ پر میجک والی پپی کرکے اُسے ٹھیک بھی نہیں کیا۔۔۔اب دیکھنا حمزہ بچوووو تم تو گئے کام سے۔۔۔۔“ لبوں کو نیچے لٹکا کر روہانسی لہجے میں دھمکاتی مرحہ اب کے سیدھا رونے دھونے پر آئی۔۔۔ تو اُس کی اُوور ڈرامے بازی پر حمزہ پیشانی مسلتا یکدم ہی متفکر ہوا۔۔۔۔
اگر وہ روتی ہوئی اپنی فیورٹ پھپھو پھوپھا کے پاس اُس کی شکایت لے کر چلی جاتی تو یقیناً ڈانٹ اور خفگی اُسی کے حصے میں تو آنی تھی۔۔۔
اوپر سے ستم یہ تھا کہ اُس کے ماں باپ بھی ہمیشہ اِس چھوٹے پٹاخے کی ہی سائیڈ لیا کرتے تھے۔۔۔۔
چھ سالہ مرحہ رمیض درانی اپنی بدمعاشیاں دکھا کر حمزہ فائق کو زچ کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتی تھی۔۔۔
پھر چاہے وہ موقع اُسے اُس کے اپنے باپ کے گھر میں میسر آئے یا پھر اپنی پیاری پھپھو زلیخا عالم درانی کے گھر میں۔۔۔۔
پیچھے ہٹنا تو اُس نے جیسے سیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
اور دوسری طرف اُسی کا جڑوا بھائی ریحاب رمیض درانی۔۔۔!!!
بھلا وہ بھی کہاں کم تھا۔۔
چھوٹا بم۔۔۔۔
جو اپنے سے چند ماہ بڑی،،،اُس کی ننھی معصوم بہن حیات فائق کو ہمیشہ ڈرا دبا کر رکھنے میں اشتیاقاً پیش پیش رہتا تھا۔۔۔۔
لیکن اِس سب کے باوجود بھی حمزہ نے بھی سوچ رکھا تھا۔۔۔
صحیح وقت آنے پر جیسے ہی وہ ایک آفیشیلی پولیس آفیسر بنے گا تو پھر اِن دونوں گھریلو بدمعاشوں کو ایک عدد اچھا سبق تو ضرور سکھائے گا۔۔۔۔
اسپیشلی اِس لاڈلی ننھی پٹاخی کو۔۔۔۔۔!!!
”پاگل کِس کرنے سے چوٹ ٹھیک نہیں ہوتی۔۔۔ماموں جان کے حد سے ذیادہ لاڈ پیار نے بس تمھیں بڑی بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے۔۔۔۔“ معاً مرحہ کے نازک سی کمر تھام کر بمشکل اٹھنے پر حمزہ نے سمجھانے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔۔
لیکن وہ بضد لڑکی نفی میں سرہلاتی ہوئی۔۔۔سو سو کرتی وہاں سے جانے کو پلٹی۔۔۔۔
تو قدرے بےبس ہوچکے حمزہ نے فوری مرحہ کی ننھی کلائی پکڑ کر اُسے اپنی جانب گھومایا۔۔۔۔
”اچھا۔۔اچھا۔۔۔رکو۔۔کہیں نہیں جاؤ ۔۔کرتا ہوں تمھیں پپیییییی۔۔۔۔!!!“ دبے دبے غصے میں دانت پیس کر غراتا وہ اُس چھوٹے پٹاخے کو آنسو رگڑ کر مسکرانے پر ہی تو مجبور کرگیا تھا۔۔۔۔
”تو پھر کرو ناں پپی سڑو کہیں کے دیکھ کیا رہے ہو۔۔۔؟؟جلدی سے کرو تاکہ میری پین والی چوٹ بھی جلدی جلدی ٹھیک ہوجائے گی۔۔۔بس تم یاد سے رمیض ببا والی ہی میجک پپی کرنا۔۔۔اوکے۔۔۔۔“ اپنی نادانیوں میں فرفر بےوقوفانہ نصیحتیں کرتی ہوئی مرحہ رمیض درانی ایک بار پھر اُس کے گھٹنے پر اپنا ننھا پاؤں پوری شان سے جما چکی تھی۔۔۔
”بےوقوف۔۔ضدی۔۔۔پاگل لڑکی۔۔۔۔!!!“ تندہی سے جھک کر پل میں اُس کے ننھے سرخ انگوٹھے پر اپنا نرم لمس چھوڑتا ہوا حمزہ فائق فوری پیچھے ہوا۔۔۔۔
سڑا انداز قدرے جان چھڑواتا ہوا تھا۔۔۔
تو جہاں مرحہ اپنی میجک پپی والی نادان ضد پوری ہونے پر کھلکھلا کر اشتیاقاً تالیاں بجانے لگی تھی۔۔۔۔وہیں قدآور کھڑکی سے پردے ہٹا کر باغیچے کا سارا دل لبھاتا بچگانہ منظر بآسانی دیکھتے ہوئے۔۔۔اُن دونوں میاں بیوی کی مسکراہٹ مزید گہری ہوتی چلی گئی۔۔۔
”ہماری ہونے والی بہو۔۔۔تو بالکل آپ پر گئی ہے جانِ تمناء۔۔۔رعب جمانے والی۔۔۔نڈر اور بےحد ضدی۔۔۔جبکہ بیچارہ میرا معصوم سا بچہ حمزہ۔۔ہرلحاظ سے مجھ پر گیا ہے۔۔۔چپ چاپ ہر بات مان جانے والا۔۔۔انتہائی شریف النفس انسان۔۔۔!!!“ پشت پر کھڑے فائق درید نے آہستگی سے زلیخا کے گرد نرم حصار باندھتے ہوئے مسکرا کر چھیڑا۔۔۔تو اپنے کندھے پر اُس کی ٹھوڑی صاف محسوس کرتی زلیخا کا دل یکبارگی دھڑک اٹھا۔۔۔
بلاشبہ وہ دونوں میاں بیوی اپنے فرمانبردار بیٹے کے لیے نہ صرف ابھی سے مرحہ کو بطورِ لاڈلی بہو قبول کرچکے تھے۔۔۔بلکہ باتوں ہی باتوں میں اپنی اِس دلی خواہش کا اظہار حیا اور رمیض کے سامنے بھی کر گئے تھے۔۔۔۔
لیکن یہ بات فی الوقت دبی دبی ہی تھی۔۔۔جو آنے والے سالوں میں یقیناً پوری طرح سے کھل کر سامنے آنے تھی۔۔۔۔
”فائق درید اور شریف۔۔۔؟؟؟ہو ہی نہ جانا کہیں تم اااانتہائی شریف النفس انسان۔۔۔۔!!!“ جواباً اُس کی مضبوط گرفت کو محبت سے تھامتی ہوئی وہ۔۔۔دلکشی سے ہنس کر گہرا طنز کرتی اپنے سنگ اُسے بھی ہنسا گئی تھی۔۔۔۔
ورنہ تو وہ شخص اپنی مخلص محبتیں نبھانے میں۔۔اُسے بھی پیچھے چھوڑ جاتا تھا۔۔۔۔
اِس دوران اُن کی مطمئن۔۔۔چمکتی نگاہیں ہنوز بچوں پر تھیں۔۔۔۔جب دو چوٹیاں بنا کر باہر گئی حیات بھی اپنے دادا (درید صاحب) کے ہمراہ چہکتی ہوئی گھر واپس لوٹ آئی تھی۔۔۔۔
پھر منہ بسورے ہوئے حمزہ کے سنگ فقط اپنی دل عزیز کزن مرحہ کو باغیچے میں دیکھ خوشی سے مزید کھلکھلا اُٹھی۔۔۔
”خیر آپ مانیں نہ مانیں۔۔۔مگر یہ بات تو طے ہے۔۔۔ہم پر جانے والے ہمارے اِن بچوں میں بھی ہماری ہی مانند بےتحاشہ محبت ہوگی۔۔۔ہرغرض سے پاک مخلص محبتیں۔۔۔۔۔“ آنے والے حالاتوں کی بابت شدت سے پُرامید ہوتے ہوئے فائق درید نے بےاختیار زلیخا عالم درانی کے تپے گال سے اپنا چبھتا گال ٹکایا تو بےاختیار وہ اپنا سر خوشدلی سے اثبات میں ہلاگئی۔۔۔۔
”خدا کرے ایسا ہی ہو۔۔۔۔۔۔!!!“ مسکراتے پنکھڑی لبوں کے پھڑپھڑانے پر فائق درید نے بے اختیار ”آمین“ کہا تھا۔۔۔۔
بلاشبہ بچوں کے سنگ ۔۔۔ دل بھاتی ان گنت خوشیوں اور روشن مستقبل کی توقعات ہنوز تھیں۔۔۔۔اور بڑی شدت سے تھیں۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”سب کی مرضی کے خلاف جاکر۔۔ میں تمھیں محض اپنے کمزور دل بھائی کی خاطرمعاف کرنے کے لیے رضا مند ہوا ہوں لڑکی۔۔۔تمھارے گناہوں کا بوجھ ہی اس قدر ہے کہ بظاہر تو وہ منہ سے کچھ کہہ نہیں پاتا۔۔۔اور شاید آگےکبھی کہہ بھی نہ سکے مگر۔۔۔باپ ہونے کے ناطے جوان مجرم بیٹی کا غم اُسے اندر ہی اندر مارے دے رہا ہے۔۔۔۔“ برہم آواز میں صاف صاف حقارت تھی۔۔۔۔
بیگانگی تھی۔۔۔
اور شاید۔۔۔شاید نفرت بھی۔۔۔۔!!
ہاں۔۔۔ہاں اتنے سالوں بعد روبرو آنے کے باوجود بھی نفرت ہنوز تھی۔۔۔۔
وہ نفرت جس کی وہ حقیقی معنوں میں حقدار تھی۔۔۔
دال چاول کے ننھے ننھے نوالے اپنے ہاتھوں سے بنا بنا کر مقابل بیٹھے بچے کو کھلاتے ہوئے اُس کی اندر کو دھنسی نگاہیں اب کہ دھندلانے سی لگی تھیں۔۔۔۔
”تمھیں اِس بامشقت قید سے ابدی آزادی تو مل جائے گی مگر۔۔۔صرف اِس شرط پر کہ۔۔رہا ہونے کے بعد تم۔۔۔یہاں سے دور۔۔۔بہت دور چلی جاؤ گی۔۔۔۔اور کبھی غلطی سے بھی اپنوں میں واپس لوٹ آنے کی سنگین حماقت نہیں کرو گی۔۔۔۔سب تمھاری غیر موجودگی میں سکون سے جی رہے ہیں اور میں قطعی نہیں چاہوں گا کہ تمھارا پلٹ آنا ایک بار پھر سے میرے خاندان والوں کا سکون برباد کردے۔۔۔پیسہ اتنا دوں گا کہ تمھارا انتظام بآسانی طے پا جائے گا سو اِس طرف سے تو بےفکر ہوجاؤ۔۔۔منظور ہوا تو صاف صاف بتادینا۔۔۔۔؟؟؟ورنہ تو میرے جوان بیٹے کی موت کا کفارہ اِن بند سلاخوں کے سوا کوئی بھی بہتر طریقے سے ادا نہیں کرسکتا۔۔۔۔“ ہاتھ پشت پر باندھ کر اُن کے وارن کرتے سخت لہجے میں کسی بھی قسم کی رعایت نہیں تھی۔۔۔۔
جبکہ اِس بھاری ترین شرط پر وہ سلاخوں کے پار اُن کا بےتاثر چہرہ دیکھتی تڑپ ہی تو اُٹھی تھی۔۔۔۔
”ایک بار تو مل لینے دیں تایا ابو۔۔۔صرف ایک بار۔۔۔۔پھر میں نہیں پلٹوں گی۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔“ معاً ہچکی لگنے پر فوری سادے پانی کا گلاس بچے کے پھڑپھڑاتے لبوں سے لگاتی حسنہ کو بہتے آنسوؤں میں بےاختیار اپنی سسکتی ہوئی پست منتیں یاد آئی تھیں۔۔۔
بلاشبہ وہ جانتی تھی کہ اِن گزر چکے سات سالوں میں اُس کا بےبس باپ کئی بار۔۔۔قدرے دور سے ہی اُس کی محض ایک جھلک دیکھ کر وہیں سے پلٹ جایا کرتا تھا۔۔۔۔
نہ ہی کوئی ملاقات۔۔۔
نہ ہی کوئی گفتگو۔۔۔۔۔
نہ ہی کوئی شناسائی۔۔۔
نہ ہی کوئی سکون۔۔۔
تھے تو بس پچھتاوئے۔۔۔
آنسو۔۔۔۔
سسکتی یادیں۔۔۔
یا پھر بار بار کُریدجانے والے ناسور زخم۔۔۔۔جو حسنہ وقاص کے حسن سمیت غرور کو بڑی حد تک چھین چکے تھے۔۔۔
”ہرگز نہیں۔۔۔۔۔!!!“ عالم صاحب کا فیصلہ اٹل تھا۔۔۔۔شاید کبھی نہ بدلنے کو تیار۔۔۔۔
”ماما۔۔۔۔!!!!“ معاً بھیگے لبوں کو لاپرواہی سے رگڑ کر صاف کرتے ہوئے اُس پانچ سالہ بچے نے بڑے استحقاق سے اُسے پکارا تھا۔۔۔۔
اِس قدر استحقاق سے کہ دھڑکتے دل کے سنگ کے کمزور وجود میں خالص ممتاء کی سرشاری پھیلتی چلی گئی۔۔۔۔
مقابل بیٹھی اُس معصوم جان کے سنگ اُس کا نام بھی حسنہ وقاص کو بےحد عزیز تھا۔۔۔۔دل کے حددرجہ قریب ترین۔۔۔۔
”جی ماما کی جان۔۔۔۔!!!“ بےاختیار اپنے آنسو پونچھتی وہ بڑی محبت سے مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
کھانے سے اب اُس کے بچے کا پیٹ تقریباً بھرچکا تھا۔۔۔۔
”ہم اپنے نئے گھر کب واپس جائیں گے ماما۔۔۔۔؟؟؟آپ نے وعدہ کیا تھا مجھ سے۔۔۔وعدہ کیا تھا کہ آپ مجھے بڑے سے پارک میں جھولے دلوانے کے لیے لے کر جائیں گی۔۔اور۔۔اور سکول لے جانے کا بھی تو وعدہ کیا تھا ناں آپ نے۔۔۔۔!!!کب پورا ہوگا یہ وعدہ۔۔۔۔؟؟؟آخر کب۔۔۔؟؟؟“ اپنے دلی شوق ایک بار پھر سے اُس کے آگے رکھتا وہ معصوم بڑی ہی بےتابی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
ننھا دھڑکتا دل ملنے والے اِس الگ تھلگ بند قید خانے سے اب حددرجہ اُکتا ہی تو گیا تھا۔۔۔۔
جواباً تیزی سے نم ہوتی غلافی آنکھوں کو جھپکا جھپکا کر حسنہ بڑی شدت سے اُسے اپنے سینے سے لگاگئی تھی۔۔۔۔
”بہت جلد۔۔۔۔بہت جلد زیدان۔۔۔۔بہت جلد تم سے کیا یہ وعدہ اب پورا ہونے والا ہے۔۔۔ہاں بہت جلد۔۔۔۔۔“ سر چوم کر قطیعت بھرے لہجے میں بولتے ہوئے جہاں حسنہ وقاص کو بےساختہ،،،تھک ہار کر عالم صاحب کی شرط کا قبول کرنا شدت سے یاد آیا تھا۔۔۔وہیں ننھے زیدان کے لب اپنی ماں کی آغوش میں سکون سمیٹتے ہوئے خوشدلی سے مسکرا اُٹھے۔۔۔۔
اِس تلخ حقیقت سے قدرے انجان کہ،،،،وہ عورت جو ہمہ وقت اُس پر اپنی جان تک قربان کردینے کو تیار تھی۔۔۔حقیقتاً اُس کی ماں تھی ہی نہیں۔۔۔۔
بلکہ وہ تو اُس پست کردار۔۔قاتلہ عورت کا بیٹا تھا۔۔۔جس کا تعلق براہِ راست کوٹھے سے رہ چکا تھا۔۔۔
وہ عورت جو اپنے رئیس مجرم کو قتل کرکے یہاں تک پہنچی تھی۔۔۔۔
وہ بد نصیب عورت جو اُسے جیل میں جنم دیتے ہی مر چکی تھی۔۔۔۔ہاں البتہ سانسیں تھمنے سے پہلے حسنہ وقاص سے وعدہ لینا قطعی نہیں بھولی تھی۔۔۔۔
اِس بےقصور بچے کی خاطر تا ابد خالص ممتاء نبھانے کا وعدہ۔۔۔۔۔!!!!
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”سنو بیوی! مجھے تین عدد آلو کے پراٹھے مزید کھانے ہیں۔۔۔“ وہ اُس کی ضد پر کچن میں کھڑی منہ بسور کر آلو کا تیسرا آخری پراٹھا بیل رہی تھی،جب یکدم وہ کچن میں آتا ہوا قدرے سنجیدگی سے مزید کی فرمائش کرگیا۔۔۔
جواباً حیرت ملا غصہ دباتے ہوئے حیا وقاص نے ضبط سے گہرا سانس بھرا۔۔۔
تیزی سے گزرتے ہوئے اِن سالوں میں اُس بندے کی دیوانگی۔۔۔چاہتوں۔۔۔اعتبار۔۔۔نرمی۔۔۔اور شدتوں کے ساتھ ساتھ بےجا منمانیوں میں بھی قدرے اضافہ ہوا تھا،،،جو اکثر و بیشتر حیا وقاص کی ذات کو ہلکان کیے رکھتا تھا۔۔۔۔
کبھی کبھار تو وہ رمیض عالم درانی کی مدھم بےباکیوں اور ذو معنی باتوں کے سبب دونوں بچوں کے آگے سرخ انگارہ بھی ہوجایا کرتی تھی۔۔۔
مگر ہاےےے رہے اُس شخص کی دل دھڑکاتی جراتیں۔۔۔۔!!!!
”نہیں ملیں گے مزید کوئی پراٹھے۔۔۔آخری پراٹھا بن رہا ہے۔۔۔۔مہربانی کرکے اب اُسی پر گزارا کیجیے آپ۔۔۔۔۔“ سردمہری سے کہتی ہوئی وہ بنا اُس کی جانب پلٹے صاف صاف انکارکر گئی تھی۔۔۔
محنت سے بنایا ہوا سارا ناشتہ ایک طرف کرکے اب وہ اُس سے الگ تھلگ آلو کے پراٹھے بنوا رہا تھا سو دبا دبا سا غصہ ہنوز تھا۔۔۔۔
جبکہ توقع کے عین مطابق جواب ملنے پر رمیض گھنی بھنویں اچکاکر اپنی مسکراہٹ دبائے،،،قدم قدم چلتا ہوا اُس کی پشت پر آرکا۔۔۔تو کام سے ہاتھ روکتے ہوئے،،،حیا بیلنے پر اپنی گرفت مضبوط کرتی بےاختیار محتاط سی ہوئی۔۔۔
درانی پیلس میں واپس رہائش اختیار کرنے کے باوجود بھی وہ شخص موقع ملتے ہی کہیں پر بھی شروع ہونے سے بالکل بھی نہیں ہچکچاتا تھا۔۔۔۔
”تم آلو کے پراٹھوں سے نہیں۔۔۔بلکہ براہ راست اپنے معصوم شوہر کی خدمت سے انکار کررہی ہو جاناں۔۔۔۔؟؟؟اٹس مینز کہ خاندان بھر میں تمھیں یونہی سگھر۔۔تابع دار لڑکی مشہور کیا گیا ہے جبکہ اصل میں تم پوری کی پوری کام چور ہو۔۔۔چچ چچ چچ افسوس۔۔۔۔لیکن خیر۔۔۔میں ہوں ناں۔۔۔تمھارا ماسٹر شیف۔۔۔چلو ابھی تمھارے ساتھ مل کر یہ آخری پراٹھا بنوا دیتا ہوں۔۔۔۔ اسی بہانے تمھاری تھکاوٹ بھی دور ہو جائے گی بیوی۔۔۔کم آن۔۔۔۔“ چھیڑنے کو خاصا طنز کرتا ہوا رمیض جھٹکے سے حیا کو اپنی جانب پلٹا گیا۔۔۔
نتیجتاً جہاں وہ اُس کے کسرتی وجود پر شرٹ کی بجائے محض سیاہ رنگت کی لوز بنیان دیکھ کر۔۔۔دھڑکتے دل کے سنگ چونک سی گئی تھی۔۔۔۔وہیں اپنی بیوی کی پیشانی پر لگا خشک آٹا قریب سے دیکھ کر رمیض عالم درانی کے لبوں پر دھیرے سے دلکش مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی۔۔۔
”نن۔۔نہیں۔۔۔۔اگر آپ پاس رہیں گے تو میرے ٹھیک ٹھاک کام بھی بگڑ جائیں گے۔۔۔۔۔“ نگاہیں چرا کر اُس کی مضبوط گرفت سے اپنا بازو چھڑوانے کی ناکام کوشش میں حیا تیوریاں چڑھائے صاف گوئی سے بولی۔۔۔
مقابل کا جانتے بوجھتے تنگ کرنے کا ارادہ صاف صاف ہی تو ظاہر ہورہا تھا۔۔۔۔
”جہاں سے بگڑیں گے وہاں سے میں سنبھال لوں گا ناں بیوی۔۔۔۔“ نرم پوروں تلے استحقاق سے اُس کی پیشانی صاف کرتے ہوئے دوبدو جواب حاضر تھا۔۔۔۔
حیا وقاص کے کومل رخسار گلاب کرنے میں اُسے لطف ہی تو آتا تھا۔۔۔
”کک۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی۔۔۔۔میں خود سے سب کرلوں گی۔۔۔اور اگر آپ کو واقعی میں میری تھکاوٹ دور کرنی ہے تو جاکر۔۔ریحاب کو شاور دلوا کر ڈریس اپ کردیں ناں۔۔۔اب تک تو شاید وہ گہری نیند سے بھی جاگ چکا ہوگا۔۔۔۔۔“ دبے دبے غصے میں غراتے ہوئے ہلکان ہوتی حیا کی سانسیں بھاری سی ہونے لگی تھیں۔۔۔
ایسے میں مردانہ کلون کی دلفریب مہک کے سنگ رمیض کے لمس کے سبب دل کی دھڑکنے شدتوں سے معمول سے ہٹتی ہی تو جارہی تھیں۔۔۔
مگر مقابل کی ہٹ دھڑمی۔۔۔۔اُففففف۔۔۔۔!!!!
”اگر نہ جاؤں تو کیا کرلوگی۔۔۔۔؟؟؟؟“ صاف رخسار کے بعد اب کہ پنکھڑی لبوں کے اطراف سے بھی خشک آٹا نرمی سے جھاڑنے کی اداکاری کرتا ہوا وہ بھلا باز آنے کو تیار ہی کہاں تھا۔۔۔!!!
”اِن چھیڑخانیوں کے نام پر اب آپ میرے ساتھ ٹھیک ٹھاک ذیادتی کررہے ہیں مسٹر رمیض عالم درانی۔۔۔۔!!!“ دانت پیس کر جتاتے ہوئے۔۔۔حیا کا لہجہ ناچاہتے ہوئے شرماہٹ سے لرزنے سا لگا تھا۔۔۔
اس دوران شرارت پر آمادہ گہری سیاہ آنکھوں میں نم غلافی آنکھیں ڈال کر رہائی کی کوششیں ہنوز جارہی تھیں۔۔۔۔
جبکہ جھجکتے تیوروں کے سنگ اُس کی ہوشیاری پر رمیض کو اندر ہی اندر ہنسی آئی تھی۔۔۔۔
”آہاں۔۔۔مجھے لگا تم کہو گی کہ ٹھیک ٹھاک رومینس کررہے ہیں۔۔۔۔ویسے سنا ہے جن بیویوں کو اپنے شوہر کی ایسی چھیڑخانیوں کا بڑا اشتیاق ہوتا ہے عمل کرنے پر اُن کی دھڑکنیں تیز رفتاری سے دھک دھک کا شور مچانے لگتی ہیں۔۔۔چہرہ بھی بڑی جلدی سرخ پڑ جاتا ہے۔۔۔تمھاری حالت بھی اس سے کافی ملتی جلتی ہے۔۔۔اٹس مینز کہ تمھیں بھی اپنے شوہر کی چھیڑخانیاں پسند ہیں۔۔۔صحیح کہہ رہا ہوں ناں۔۔۔۔۔؟؟؟“ پوروں تلے پورے حق سے پنکھڑی لبوں کو سہلا کر پوچھتے ہوئے اُس کے چھیڑنے کی حد ہی تو ہوئی تھی۔۔۔۔جب شدتوں سے مچلتی دھڑکنوں کے سنگ حیا بےاختیار اُس کے حرکت کرتے انگوٹھے کو تیز دانتوں کا نشانہ بناتی ہوئی فوری کئی قدم پیچھے ہٹنے میں کامیاب ٹھہری تھی۔۔۔۔
”ببااااا۔۔۔؟؟؟“ اِس سے پہلے کہ درد کرتا انگوٹھا جھٹکتے ہوئے۔۔۔رمیض عالم درانی پھر سے قریب آکر ٹھیک ٹھاک بےباکی پر اترتا۔۔۔۔معاً کچن میں دوڑ کر آتے چھ سالہ ریحاب نے حیا کی بکھر چکی سانسوں میں سکون بھرا تھا۔۔۔۔۔
جی ببا کے سردرد۔۔۔؟؟؟کبھی تو اپنی ماں کے ساتھ سکون کے دو چار لمحے کھل کر گزار لینے دیا کرو مجھ معصوم کو۔۔۔۔“ بےبسی سے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے رمیض کا متاسف لہجہ حیا کی لطف لیتی ہنسی کا سبب بنا تھا۔۔۔
”ذیادہ سکون نہ لیا کریں ناں آپ کیونکہ ذیادہ سکون لینے سے ببا لوگ سست ہوجاتے ہیں۔۔۔ایسا مما کہتی ہیں۔۔۔۔“ رف حلیے میں ملبوس بیٹے کی طرف سے دوبدو جواب حاضر تھا۔۔۔۔
”کیا یونیک لوجک پیش کی ہے مما کے پتر نے۔۔۔کہو کیا بات ہے۔۔۔؟؟؟“ نتیجتاً رمیض نے حیا کے مزے سے کندھوں سمیت بھنویں اچکانے پر اُسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔
جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ ”آپ ہی کا بیٹا ہے اب سنبھالیں۔۔۔!!!“
پھر اجڑے بالوں میں انگلیاں چلاتے ریحاب کی جانب متوجہ ہوا۔۔۔جو کچھ ہی دیر میں ریڈی ہوکر اُس کے ہمراہ زلیخا کی طرف جانے والا تھا۔۔۔۔مرحہ تو پہلے سے ہی وہاں موجود تھی۔۔۔۔
”ببا مجھے ہائی ٹیل بنا دیں۔۔۔جیسے آپ اکثر مما کی بناتے ہیں۔۔۔“ پیچھے سے بالوں کو بمشکل ننھی مٹھی میں دبوچنے کی کوشش میں وہ بنا جھجھکے بولا۔۔۔تو دونوں نے کچھ حیرت سے اُس کے دلکش نقوش پر پھیلا اطمینان دیکھا۔۔۔
”وااااٹ۔۔۔اچھے خاصے لڑکے ہوکر اب ہائی ٹیل بنواؤ گے تم۔۔۔؟؟“ کسرتی سینے پر بازو باندھتے ہوئے رمیض نے تیوری چڑھا کر پوچھا۔۔۔تو سیاہ بنیان سے چھلکتے کسرتی مسلز مزید نمایاں ہوئے۔۔۔
”یس۔۔۔۔“ چمکتی سیاہ آنکھوں کے سنگ پاس آتا ہوا ریحاب زور و شور اثبات میں سر ہلا گیا تھا۔۔۔
”یس کے بچے۔۔۔لڑکی نہیں ہو تم۔۔۔جیسے تمھارے بال ہیں بس ویسے ہی رکھو۔۔۔ذیادہ اسٹائلز بگاڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے سمجھے۔۔۔!!!“ رمیض نے اُسے نرمی سے ڈپٹا تو حمایت بٹورنے کی خاطر وہ پل بھر کو حیا کی جانب دیکھتا ہوا اچھا خاصا منہ بسور گیا۔۔۔
”آپ بھی تو بڑے بڑے مسلز والے بئیرڈ پروف لڑکے ہیں ناں ببا۔۔۔پھر لڑکیوں کی طرح ہر وقت کوکنگ کیوں کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟بنا دیں ناں ہائی ٹیل پلیز۔۔۔۔۔“ اُفففف۔۔۔مما کا وہ لاڈلہ ہنوزبضد تھا۔۔۔۔۔
”یاااا رب۔۔۔۔حوصلہ دے مجھے۔۔۔۔“ جواباً رمیض ضبط کا گہرا سانس بھرتے ہوئے بڑبڑایا۔۔۔ تو کھل کر مسکراتی ہوئی حیا۔۔۔ہولے سے سر جھٹک کر واپس ادھورے پراٹھے کی جانب لپکی۔۔۔
”آپ ہی کا بیٹا ہے۔۔۔حاضر جوابی میں ماہر تو ہو گا ہی۔۔اب دیجیے ٹکر کا جواب ۔۔۔۔۔“ چھیڑخانیوں کا بدلہ لینے کا اچھا طریقہ ہی تو تھا یہ۔۔۔
اور ویسے بھی اُن دونوں باپ بیٹے کی میٹھی نوک جھوک کافی دلچسپ ہوا کرتی تھی جس سے سبھی گھر والے وقتاً فوقتاً لطف اندوز ہوتے رہتے تھے۔۔۔۔
جواباً رمیض نے سنجیدگی سے سر کو جنبش دی۔۔۔پھر مسکرا کر اُس کے مقابل گھٹنوں کے بل بیٹھا۔۔۔
”ریحاب بیٹا۔۔۔ببا کی جان۔۔۔آئی ایم آ میل شیف۔۔اسی لیے کوکنگ کرنا صرف لڑکیوں کا ہی کام نہیں ہوتا۔۔۔میل شیف بھی پروفیشنل کوکنگ کرتے ہیں۔۔۔ہہمم۔۔۔۔سمجھ گئے ناں۔۔۔!!!“ قدرے نرمی سے کندھوں سے تھام کر وہ اپنی بات بآسانی ریحاب کے دماغ میں بٹھا گیا تھا۔۔۔
جواباً معصومیت سے پلکیں جھپکاتا ہوا وہ سر اثبات میں ہلاگیا۔۔۔۔
”اوہ سمجھ گیا ببا۔۔۔اب میں بھی بڑا ہوکر آپ ہی کی طرح میل شیف بنوں گا اور اپنی بیوی کی ہیلپ بھی کروں گا۔۔جیسے کچن میں آکر آپ مما کی ہیلپ کرتے ہیں۔۔۔۔“ معصومیت میں مسکرا کر کہتا ریحاب جہاں اپنی طرف سے بڑی ہی کوئی سادی بات کرگیا تھا۔۔۔وہیں لب بھینچتے ہوئے رمیض عالم درانی نے بےاختیار پلٹ کر اپنی ہی جانب متوجہ حیا کا گلاب چہرہ دیکھا۔۔۔۔
اگلے ہی پل دونوں کی بیک وقت چھوٹتی ہنسی دیکھ۔۔ریحاب بھی بات کی گہرائی سمجھے بنا ہی۔۔۔برابر کا کھلکھلا کر ہنس دیا تھا۔۔۔۔
اِن پُرسکون مسکراہٹوں کے سائے تلے اپنوں کے سنگ زندگی حقیقتاً خوبصورت تھی۔۔۔
بےحد خوبصورت۔۔۔۔۔