No Download Link
Rate this Novel
Episode 20
”صاحب آپ میری یہ بات بڑے اچھے سے اپنے ذہن میں بیٹھالو۔۔۔۔میرا نام کسی بھی قیمت پر بیچ میں نہیں آنا چاہیے۔۔۔۔نوکری تو ہاتھ سے جائے گی ہی۔۔۔ساتھ ہی ساتھ اُس کا اکھڑ دماغ شوہر میرا حشر نشر بھی بگاڑ کر رکھ دے گا۔۔۔۔۔۔“ پل پل بڑھتی گہری سیاہ رات میں،،، چھت کا اَن لاکڈ دروازہ بےآواز کھولتے ہوئے بےاختیار بختو بی بی کی خوف کھاتی آواز اُسکی سماعتوں میں گھلی تھی۔
”بےفکر رہو تم میں پوری گرنٹی دیتا ہوں۔۔۔تمھارا نام بالکل بھی بیچ میں نہیں آئے گا۔۔۔۔اور رہی بات حشر نشر بگاڑنے کی تو وہ میں اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔کہ اِس بار کس کا بگاڑا جائے گا۔۔۔۔“ مضبوط۔۔مکروہ لہجے میں بولتا ہوا وہ اُس گھبرائی عورت کو پل میں مطمئن کر گیا تھا۔۔۔
آخر کو اُسکے اِس گھر میں داخلے کے لیے بڑی چالاکی سےچھت کا دروازہ کھلا رکھ کر جانے والی عورت وہی تو تھی۔۔۔۔
کام والی بائی بختو بی بی۔۔۔۔
جو اپنے بیمار نشئی بیٹے کی خاطر ملنے والے تیس ہزار کے لالچ میں بآسانی آچکی تھی۔
ہاے رے غریبوں کی مجبوریاں کے نام پر کی جانے والی یہ چھوٹی موٹی بےوفائیاں۔۔۔!!
سر جھٹک کر دبے قدموں سیڑھیاں اترتے ہوئے کاشی کے لبوں پر بکھری کمینی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
وہ اچھے سے جانتا تھا کہ حیا کا شوہر کچھ ہی دیر میں گھر واپس آنے کو تھا۔۔۔۔
اور اُس کے آنے سے پہلے ہی اُسے اپنی سوچی سمجھی ہوئی چال چلنا تھی۔۔۔۔
چھت کے دروازے کی کنڈی تو وہ لگا کر ہی آیا تھا۔۔۔۔
خالی لاؤنج میں پہنچ کر اطراف میں قدرے محتاط نگاہ دوڑاتے ہوئے۔۔۔اگلے ہی پل کاشی کو کچن سے آتی صاف کھٹ پٹ کی آواز چونکا گئی۔
معاً چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ سرعت سے آگے بڑھ کر دیوار کے ساتھ جا لگا۔پھر ہمت کرتے ہوئے پلٹ کر اندر جھانکا۔
حیا اُس کی جانب پیٹھ کیے بلاشبہ کچھ بنانے میں مصروف تھی۔۔۔
اُسے شیلف پر پڑی اسٹرابیریز کی باسکٹ صاف دکھائی دی تھی۔
بنا دوپٹے کے ہلکے فیروزی رنگ سوٹ میں اُسکا وجود کتنا دلکش لگتا تھا ناں۔۔۔۔
کمینگی سے اُسے بغور تاڑتے ہوئے کاشی کا بےحس دل مچلا۔
”آہ۔۔۔۔حیا جان آہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب تمھیں میرے سخت شکنجے میں پھنسنے سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا۔۔۔تھپڑ کے جواب میں ملنے والی خود کی بربادی کے لیے اب تیار رہنا تم ڈارلنگ۔۔۔۔۔۔“ سینے پر ہاتھ رکھتا وہ قدرےمعنی خیزی سے بڑبڑایا۔پھر اُس کے علم میں آئے بغیر۔۔بجلی کی سی تیزی سے بےآواز اُس کے بیڈروم کی جانب لپکا۔
حیا نے آج صحیح سے ڈنر نہیں کیا تھا جبھی خود کے لیے بنایا گیا چکن سوپ پیالے میں انڈیلنے کے بعد۔۔۔ٹرے تھامتی بیڈ روم کی طرف لپکی۔۔۔
ارادہ آج اپنے کمرے میں ہی بیٹھ کر کھانے کا تھا۔
عین اُسی وقت رمیض عالم درانی بھی داخلی دروازہ کھولتا ہوا اندر داخل ہوا تھا۔
”اسلام علیکم۔۔۔۔!!!“ سادگی سے بآوازِ بلندسلام لینے پر جہاں حیا نے بےاختیار پلٹ کر رمیض کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔وہیں بنا دوپٹے کے اُسکی کھلی کھلی رنگت دیکھتے ہوئے بڑی آہستگی سے رمیض کے دل کی ایک بیٹ مس ہوئی۔
جب سے وقاص صاحب اُس سے مل کر گئے تھے تبھی سے اُسکی بیوی کی حددرجہ چڑچڑاہٹ،،،اب دھیرے دھیرے نرماہٹ میں بدلتی ہوئی صاف دکھائی پڑ رہی تھی۔۔۔اور بلاشبہ یہ ایک خشگوار تبدیلی تھی،،،لیکن اس کے باوجود بھی حیا وقاص کا اُس کی بےباک نزدیکیوں پر گریز ہنوز تھا۔۔۔
گزشتہ شب اُس کی خوبصورت نگاہوں میں پنپنے والے تاثر سے آشنا ہوتا وہ دو پل کے لیے چونک سا گیا تھا ناں۔۔۔
جیسے وہ کچھ بتانا چاہتی ہو۔۔۔۔۔!!!
مگر پھر یکدم حیا وقاص کے شدت سے بدلتے ہوئے تاثرات رمیض عالم درانی کو سر جھٹکنے پر مجبور ہی تو کر گئے تھے۔۔۔۔
”وعلیکم اسلام۔۔۔۔“ معاً سر ہلاکر جلدی سے سلام کا جواب دیتی ہوئی وہ فوراً پلٹی۔
پھرسر پڑنے والی آفت سے قدرے انجان۔۔۔۔بے ترتیب ہوچکی دھڑکنوں کے ساتھ کمرے میں چلی گئی۔
پیچھے رمیض نے گھنی بھنویں اچکاتے ہوئے کچھ تھکاوٹ سے چہرے پر ہاتھ پھیرا تھا۔۔۔
چکن سوپ کی پھیلی خوشبو ہنوز محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔
سائیڈ ٹیبل پر ٹرے رکھتے ہی حیا نے سرعت سے بیڈ پر پڑا دوپٹہ اوڑھا تھا۔۔۔جب اچانک کلک کر کے کھلتا واشروم کا دروازہ اُسے قدرے ٹھٹھک کر پلٹنے پر مجبور کرگیا۔۔۔
اگلے ہی پل گیلے چہرے کے ساتھ باہر نکلتا کاشی اُسے بےیقینی تلے ساکت کرگیا تھا۔۔۔
”حیا ڈارلنگ،،،باتیں اور رومینس بہت ہوگیا۔۔۔اس سے پہلے کہ اب تمھارا وہ سنکی شوہر گھر چلا آئے جلدی سے مجھے اپنا فیورٹ اسٹرابیری شیک پلا کر فارغ کرو یار۔۔پھر میں جلدی نکلوں یہاں سے۔۔۔۔“ حیا کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نرم۔۔۔عجلت بھرے لہجے میں قریب آکر بولتے ہوئے جہاں اُسکی کمینی اداکاری زوروں پر تھی۔۔۔۔وہیں بھنویں سکیڑ کر کمرے میں آتے رمیض عالم درانی نےسختی سے مٹھیاں بھینچی۔۔۔
”تم۔۔۔۔۔۔؟؟؟ت۔۔۔تم یہاں کک۔۔کیسے آئے۔۔۔۔؟؟؟“ ایک سہمی نگاہ رمیض کے تنے چہرے پر ڈالتی حیا،،،خشک ہوتی سانسوں میں صحیح سے چیخ بھی نہیں پائی تھی۔۔۔۔
پل بھر کو خباتث سے مسکراکر آنکھ مارتا کاشی یک دم سنجیدہ ہوا۔۔۔
”کیا تم جانتی ہو اِسے۔۔۔۔؟؟؟“ معاً ضبط سے قریب آتے رمیض نے،جھٹکے سے حیا کا رخ اپنی جانب موڑتے ہوئے چبا چبا کر پوچھا۔۔۔تو اُسکی تلخی پر ٹھنڈی پڑتی حیا کی آنکھیں تیزی سے بھیگتی چلی گئیں۔۔۔
”وہ صرف مجھے جانتی ہی نہیں بلکہ باقاعدہ میرے ریلیشن شِپ میں بھی ہے۔۔۔انفیکٹ تمھاری بیوی بہت محبت کرتی ہے مجھ سے۔۔۔جبھی تو تمھارے اِس گھر سے دفع ہوجانے کے بعد مجھے اسپیشلی تنہائیوں میں ملنے کا بلاوا بھیجتی ہے یہ۔۔۔۔“ سینے پر بازو لپیٹ کر حددرجہ گھٹیا الفاظ کا چناؤ کرتا کاشی،،،بےھڑک تہمت لگاتا ہوا۔۔۔۔حیا کی روح مزید لرزا گیا تھا۔
اُس کا کھوکھلا اعتماد دیکھنے لائق ہی تو تھا۔۔۔۔
جواباً ضبط کی انتہاؤں کو چھوتے رمیض عالم درانی نے حیا کے بازو پر اپنی گرفت مزید سخت کرتے ہوئے سرخ پڑتی آنکھیں میچ کر کھولیں۔۔۔۔
وہ فقط ایک بار اپنی بیوی کا جواب سننا چاہتا تھا۔۔۔۔
”نن۔۔نہیں۔۔۔نہیں نہیں رمیض۔۔۔۔ بکواس۔۔۔بکواس کررہا ہے یہ بےہودہ انسان۔۔۔ہاں۔۔۔سراسر جھوٹ بول رہا ہے یہ۔۔۔۔خدا کی قسم۔۔۔م۔۔میں نے اِسے یہاں نہیں بلایا۔۔۔نہ اب۔۔نہ پہلے کبھی۔۔۔۔پ۔۔پلیز ایک بار میرا اعتبار کریں آپ۔۔۔پلیززز میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔“ معاً ہوش میں آتی حیا،اُس کے چوڑے سینے پر اپنا کانپتا ہاتھ جما کر شدت سے سسکتی ہوئی،،،رمیض عالم درانی کے جلتے سینے میں ٹھنڈ ڈال گئی تھی۔۔۔۔
اگلے ہی پل اُس نے لب بھینچتے ہوئے حیا کے سرخ بھیگتے گال آہستگی سے رگڑ کر صاف کیے۔۔۔تو جہاں حیا نے حیرت سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔وہیں کاشی بھی خاصا چونکا۔
”ارے حیا ڈارلنگ تم ڈر کیوں رہی ہو؟ سچ بتاؤ ناں اپنے سوکالڈ شوہر کو کہ تم مجھ سے کتنی محبت۔۔۔ت۔۔۔۔“ اپنا پلین الٹا پڑتے دیکھ اب کہ کاشی تلملا کر بول رہا تھا،جب سارا ضبط ٹوٹتے ہی رمیض جھٹکے سے پلٹا۔۔۔۔۔
”او جسٹ شٹ اااااااپ یُو باسٹرڈ۔۔۔۔۔“ شدت سے دھاڑتے ہوئے وہ کاشی کے منہ پر پوری قوت سے مکا مار کر اُسے نیچے گرا چکا تھا۔۔۔
حیا نے بےاختیار دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے اپنی دبی چیخ کا گلا گھونٹا۔
”اُفففف۔۔۔۔!!!!!!“ درد سے تلملا کر ناک پر ہاتھ جماتے ہوئے اُس کے نتھنے سے خون پھوٹ پڑا تھا۔۔۔۔جب رمیض تن چکی رگوں کے ساتھ اُس پر جھکتا گریبان جکڑگیا۔۔۔۔۔
”پہلی بات تو یہ کہ میں۔۔رمیض عالم درانی۔۔۔بذاتِ خود اپنی بیوی کی پارسائی کی گواہی دیتا ہوں۔۔۔وہ صرف میری ہے اسی لیے محبت جیسا حق بھی فقط مجھ تک ہی محدود ہے۔۔۔۔!!!“ ایک ایک لفظ زہر کی مانند کاشی کی سماعتوں میں گھولتا وہ اب کی بار اُس کے لبوں کو نشانہ بناکر زخمی کر چکا تھا۔۔۔۔
”آاااہہہہہ۔۔۔۔۔“ اذیت دیتی گرفت سے نکلنے کی ناکام کوشش میں وہ ہلکان ہوچکا تھا۔۔۔
مگر مقابل نکلنے دیتا تب ناں۔۔۔۔!!!
دنگ کھڑی حیا نے آہستگی سے دھڑکتے دل پر ہاتھ جمایا تھا۔۔۔
”اور دوسری بات یہ کہ۔۔۔وہ اسٹرابیریز سےسخت الرجک ہے۔۔۔۔لعنت تیری واہیات سوچ اور کھوکھلی تمہت پر۔۔۔۔۔“ پھنکار کر کہتے ہی وہ گریبان کو چھوڑ کر اب کہ دونوں ہاتھوں سے بےدردی کے ساتھ اُس کا گلا دبوچ چکا تھا۔۔۔۔
”چ۔۔چھوڑ مجھے۔۔۔۔۔“ حلق میں گھٹن پھیلتے ہی کاشی خود کو چھڑانے کی مزاحمت کرتا بمشکل گویا ہوا۔۔۔۔
جانتے بوجھتے یہ کونسی جانلیوا مصیبت گلے لگا بیٹھا تھا وہ۔۔۔۔۔!!!
”ناکام ہی سہی۔۔مگر میری عزت پر براہِ راست نقب لگانے کی کوشش کی ہے تُو نے سالے۔۔۔اتنی بڑی حماقت پر بھلا کیسے زندہ چھوڑ دوں میں تجھے۔۔۔۔؟؟؟ہاں۔۔۔۔؟؟؟“ رمیض نے اُس کے کچھ دیر پہلے کہے گئے واہیات لفظوں کو یاد کرتے ہوئے مشتعیل ہوکر اپنی گرفت مزید سخت کردی۔
جبکہ اُسکے ایسے بےدردعمل پر بےاختیار حیا کو بہتے آنسوؤں میں وحشت سی ہوئی تھی۔۔۔
کیا بےوفائی کے بدلے میں بالکل اِسی طرح سے اُس نے اپنی پہلی بیوی کا قتل کیا تھا۔۔۔؟؟؟
بھگی پلکیں جھپکا جھپکا کرخوف سے بغور تکتے ہوئے حیا کا دل شدتوں سے ڈوبنے لگا۔
”اوئے سنکی انسان۔۔۔۔چھ۔۔چھوڑ دے مجھے۔۔۔م۔۔مر جاؤں گا میں۔۔۔اُففففف۔۔۔چھوڑ۔۔۔۔“ اذیت سے حددرجہ سرخ ہوچکے کاشی کی سانسیں گھٹ رہی تھیں۔۔۔
”رمیض چھوڑ دیں اسے پلیز۔۔۔۔۔۔۔!!!“ تڑپ کر ہاتھوں پیروں سے مسلسل ضربیں لگاتے ہوئے۔۔۔کاشی کی سرخ بھیگی نگاہیں باہر کو ابلنے لگی،،،،جب چونک کر ہوش میں آتی حیا سرعت سے رمیض کی جانب لپکی۔
پھر روکنے کی خاطر۔۔۔بے اختیار اُس کا کسرتی بازو کانپتے ہاتھوں سے تھام گئی۔
لیکن رمیض عالم درانی پر تو اِس پل جیسے خون سا سوار تھا۔۔۔پھر بھلا آپے میں کیسے رہتا۔۔۔؟؟؟؟
”رمیض پلیز چھوڑ دیں اسے۔۔ی۔۔یہ واقعی میں مر جائے گا۔۔۔میں آپ کو ایک بار پھر سے قاتل بنتے ہوئے قطعی نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔پہلے ہی بہت نفرت کرچکی ہوں آپ سے۔۔۔اب مزید نفرت نہیں کرنا چاہتی۔۔۔۔رمیضضض پلیزززز۔۔۔۔۔“ کبھی اُسکا کسرتی بازو تو کبھی مضبوط کندھا جھنجھوڑتے ہوئے۔۔۔رو رو کر دبی آواز میں چیختی حیا وقاص اپنے لرزتے لفظوں سے رمیض عالم درانی کی گرفت شدتوں سے ڈھیلی کرواگئی تھی۔۔۔
گرفت کیا ڈھیلی کرواگئی تھی،،،،طنز کی صورت۔۔۔سفاک حقیقت کا طمانچہ بےدھڑک چہرے پر مارتی اُس کی ذات ہی ہلا گئی تھی۔۔۔۔
گردن آزاد ہوتے ہی زوروں سے کھانستا ہوا کاشی بمشکل اپنی سانسیں بحال کرنے لگا۔
رمیض نے جلتی نگاہیں جھپکاتے ہوئے،،، گہرے گہرے سانس بھرتی حیا کا سرخ چہرہ دیکھا۔۔۔۔
ماضی کی سلگتی لہر پل بھرکے لیے اُسکے رگ و پے میں سرائیت کرتی اُس کا دل ویران کرگئی تھی۔۔۔
جب اُس کی سیاہ آنکھوں کی نم سرخی مزید گہری ہوتے دیکھ،حیا اپنا نچلا لب کچلتی سرعت سے بھیگی نگاہیں چراگئی۔
ساتھ ہی کندھے سے پھسل چکا دوپٹہ بھی درست کیا تھا۔
اگلے ہی پل رمیض نے ضبط سے خود سے خوفزدہ ہوچکے کاشی کو دیکھا۔۔۔پھر اُسے بےدردی کے ساتھ گریبان سے گھسیٹتے ہوئے خود کے ساتھ کھڑا کرتا چلا گیا۔۔
حیا کا سانس پھر سے اٹکا تھا۔۔۔
”اب کی بار تو میں تجھے زندہ چھوڑ رہا ہوں مگر میری ایک بات کان کھول کر سن لے۔۔۔۔گھٹیا چالیں چلنا تو بہت دور کی بات ہے،آئندہ اگر تُو نے میری بیوی کی طرف غلطی سے بھی آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جرات کی تو یاد رکھنا دوٹکے کے کمینے انسان۔۔۔بےدردی سے تیری جان لینے میں ایک سیکنڈ بھی نہیں لگاؤں گا میں۔۔۔اسے میری پہلی وارنگ اور اپنی آخری وصیت سمجھ کر اپنے دماغ میں گھسالینا۔۔۔۔دوبارہ نہیں کہوں گا۔۔۔۔چل نکلللل۔۔۔۔۔۔!!!!“ شہادت کی انگلی اٹھا کر سلگتے لہجے میں دھمکاتا۔۔۔وہ اگلے ہی پل دھاڑ کر کاشی کو گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر لے جا چکا تھا۔۔۔۔
حیا بھی متفکر سی کمرے کی دہلیز تک آئی تھی۔۔۔۔جب وہ دونوں تیزی سے لاؤنج پار کرتے ہوئے پلوں میں بھیگی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔
کاشی کو سفاکی سے گھر کے باہر دھکا دے کر رمیض نے اشتعال سے دروازہ بند کیا۔۔۔
پھر گہرا طویل سانس لے کر سرخ چہرے پر ہاتھ پھیرتا ہوا واپس آیا۔
وہ سہمی سی انگلیاں چٹخاتی کمرے میں ہی موجود تھی۔۔۔۔۔
”رمیض م۔۔میرا یقین کریں مجھے۔۔۔مجھے نہیں پتا وہ کب کیسے کہاں سے اندر کمرے تک چلا آیا۔۔۔؟؟ا۔۔ایک بار پہلے اُس گھٹیا شخص نے چھت پر کود کر مجھ سے ہلکی پھلکی بدتمیزی کرنے کی کوشش کی تھی۔۔او۔۔اور میں وہیں اُسے تھپڑ مار کر نیچے بھاگ آئی تھی۔۔۔مگر بیلیو می میرا اُس سے کوئی ت۔۔تعلق۔۔نہیں۔۔۔۔“ رمیض پشت پر ہاتھ باندھے،قدم قدم اُس کے قریب آرہا تھا،،،جب اُس کے سپاٹ نقوش دیکھتی حیا بھرائی آواز میں اپنی صفائی دیتی چلی جا رہی تھی۔۔۔
مگر پھسلتے الفاظ تو تب جاکر ساکت ہوئے تھے جب اُس نے ایکدم سے قریب ترین آکر اُس کے پنکھری لرزتے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی جمائی تھی۔
”ششششش۔۔۔۔۔۔!!!!!“ لمس کے سنگ استحقاق بھری سرگوشی حقیقتاً بڑی بھاری تھی۔۔۔
حیا نے پھر سے نم پڑتی آنکھیں پھیلا کر رمیض کی سرخ۔۔۔سنجیدہ نگاہوں میں دیکھا۔۔۔
دھڑکنوں میں مچی کھلبلی پر اب کہ دل بند ہونے کو تھا۔۔۔
”مجھے ان صفائیوں کی طلب نہیں ہے۔۔۔۔تم نے کہا تھا میرا اعتبار کریں۔۔۔سو میں نے کیا۔۔۔اب وہ خبیث تمھیں کبھی تنگ نہیں کرے گا۔۔۔آفکورس میں اُسے یہ کرنے ہی نہیں دوں گا۔۔۔۔۔“ مضبوط ترین لہجے میں باور کرواتا وہ ناچاہتے ہوئے بھی آہستگی سے اپنی انگلی ہٹاگیا تھا۔۔۔۔
ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ نازک لڑکی اُس کی کمزوری ہی تو بنتی جارہی تھی۔۔۔۔۔
بمشکل لمبا سانس کھینچتے ہوئے حیا نے دھیرے سے سر ہلایا۔۔۔
مقابل کے یقین کرتے اس انداز پر پورے وجود میں ایک اطمینان سا پھیلا تھا۔
”اپنی طبیعت کے خلاف جاکر آپ کبھی بھی مجھ پر اتنے مہربان نہیں رہے رمیض عالم درانی۔۔۔۔!!!ان ناقابلِ اعتبار حالات میں آپ کی اِس نرمی۔۔۔اِس پرواہ۔۔۔اور اِس قدر مہربانی کی وجہ جان سکتی ہوں میں۔۔۔۔؟؟؟“ اُس کی سلگتی سانسوں کی جانلیوا تپش کو بمشکل سہتی حیا۔۔۔اس بار اپنا لہجہ مضبوط بناکر پوچھ رہی تھی۔
اُس کے روئے روئے سے خوبصورت نقوش بغور تکتے ہوئے رمیض کے لبوں پر مدھم دلکش مسکراہٹ ابھری۔
”سیدھی سادھی محبت کے بڑے گہرے نتائج ہیں یہ جانم۔۔۔۔۔“ گہرے لہجے میں کہتے ہوئے۔۔۔وہ بے ساختہ اُسکے ڈھیلے ڈھالے جوڑے کو کیچر سے آزاد کرتا اُسے شدت سے چونکا گیا تھا۔
”جب میری محبت کے تقاضوں پر پورا اترو گی تو سمجھ جاؤ گی۔۔۔۔۔“ لمبے بالوں کو قدرے نرمی سے بکھیر کر آگے لاتا وہ بس یہی تک نہیں رہا تھا،،،،
بلکہ بےباکی سے بالوں کی خوشبو سونگھ کرحیا کا ٹھیک ٹھاک تنفس بگاڑتا۔۔۔۔اگلے ہی لمحے سکون سے واشروم کی جانب بڑھ گیا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر وہ مچلتی دھڑکنوں کے سنگ اپنے بالوں کو چھو کر رہ گئی تھی۔
”بےشک میرا طریقہ کار غلط تھا۔۔۔۔بلکہ غلط ترین تھا میں یہ مانتا ہوں۔۔۔مگر بیٹا یاد رکھنا۔۔۔رمیض کی صورت تمھارے لیے کیا جانے والا میرا انتخاب قطعی غلط نہیں تھا۔۔۔۔وہ ساری زندگی تمھیں بہت خوش رکھے گا بشرطیکہ تم اُسے پورے دل سے اپناؤ۔۔۔پور پور اپنی وفا نبھاؤ تو۔۔۔۔۔“ معاً وقاص صاحب کی پُراعتماد آواز اُس کے آس پاس بکھری۔۔۔
آخر میں کتنا ملتجیانہ انداز ہوا تھا ناں اُن کا۔۔۔۔۔!!!
حیا کے ساکت وجود میں بےچینیاں پھیلنے لگیں۔
ہاں۔۔۔ہاں یہ سچ تھا کہ آج اُس شخص نے محبت کو محض لفظوں سے ہی واضح نہیں کیا تھا۔۔۔۔بلکہ اُس کے حق میں باکرداری کی گواہی دے کر صاف صاف احساس بھی دلایا تھا۔۔۔
مگر ایک بڑی خلش تو ہنوز باقی تھی۔۔۔۔
یکدم حیا کے شدتوں سے دھڑکتے دل نے حسرت زدہ ہوکرکروٹ بدلی تھی۔
”اے کاش کہ آپ کی پیشانی قتل جیسے سنگین جرم سے داغدار نہ ہوتی۔۔تو یقیناً اب تک حیا وقاص کا دل آپ کی محبتوں کا اسیر ہوچکا تھا رمیض عالم درانی۔۔۔۔“ مدھم ترین لہجے میں بولتی حیا نے ڈوبتے دل پرسختی سے ہتھیلی مسلتے ہوئے بےبسی سے آنکھیں بند کیں۔۔۔تو بےساختہ دو آنسو ٹوٹ کر اُس کے سرخ گالوں پر لڑھکتے چلے گئے۔۔۔۔
اے کاش۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ اِس پل اپنے مقابل بیٹھائی گئی اُس عورت کے۔۔جالی دار،سرخ گھونگھٹ میں پوشیدہ دلکش نقوش بےتاثر نگاہوں سے بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔جب مولوی صاحب کی مضبوط آواز نے اُس چونکایا۔
”زلیخا عالم درانی ولد عالم مہتاب درانی۔۔۔آپ کا نکاح فائق درید ولد درید تابش کے ساتھ بعوض دو لاکھ روپے سکہ رائج الوقت طے کیا جاتا ہے۔۔۔۔کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟؟“ گھرآئے گنے چنے مہمانوں کی موجودگی میں۔۔۔اب کی بار براہِ راست دلہن سے پوچھے جانے والے سوال پر جہاں زلیخا نے بےاختیار ضبط سے گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔وہیں گزرے لمحات،،،یاداشت میں تازہ ہوتے ہی فائق کے لبوں پر مدھم۔۔ استہزائیہ مسکراہٹ بکھیر گئے۔۔۔
”میں تمھارے نکاح میں آنے کے لیے تیار ہوں فائق درید۔۔۔لیکن اپنے بیٹے کے ہمراہ تمھارے اِس کرائے کے چھوٹے سے مکان میں رہنے کے لیے قطعی رضامند نہیں ہوں۔۔۔اسی لیے میری پہلی شرط یہ ہے کہ،ہماری شادی کے بعد تمھیں میرے ہی گھر میں ایک بہترین گھرداماد بن کر رہنا پڑےگا۔۔۔بولو۔۔۔منظور ہے۔۔۔؟؟؟“ سینے پر بازو باندھتی وہ اُس پل اپنی طرف سے کتنی کڑی شرط بتا رہی تھی ناں اُسے۔۔۔۔
ہونہہ۔۔۔!!!
”منظور ہے۔۔۔۔“ کئی لمحوں کے توقف کے بعد اُس کی نگاہوں میں بےتابانہ جھانکتا ہوا وہ آہستگی سے بھاری لہجے میں گویا ہوا تھا۔
”ق۔۔قبول ہے۔۔۔۔“ معاً آتشی لبوں سے پھسلتی ہوئی جھجکتی لرزتی آواز نے مولوی صاحب سمیت وہاں موجودسبھی کو اطمینان دلایا تھا۔۔۔۔
”میری دوسری شرط۔۔۔میری ساری جائیداد کی حقیقی وارث صرف اور صرف میری اپنی اولاد ہوگی۔۔۔۔یعنی کہ تم بیچ میں سے ایک بھی ٹکے کے روادار نہیں ہو گے۔۔۔۔نہ اب۔۔۔نہ ہی بعد میں کبھی۔۔۔۔بتاؤ۔۔۔منظور ہے۔۔۔؟؟؟“ معاً بے لچک جتاتی ہوئی آواز ایک بار پھر سے فائق کے آس پاس بکھری تھی۔
”کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے۔۔۔؟؟؟“ نرمی سے پوچھتے ہوئے دلہن سے رضامندی ہنوز درکار تھی۔
”اگر لالچی پن میری سرشت میں شامل ہوتا تو ضرور اعتراض پر اتر آتا۔۔۔۔مگر میں ایسا انسان قطعی نہیں ہوں۔۔۔سو آپکی محبت میں مجھے یہ بھی منظور ہے۔۔۔۔“ قریب ترین آکر جتاتا کیسے وہ زلیخا عالم درانی کے بظاہر سپاٹ چہرے کی رنگت متغیر کرگیا تھا ناں۔۔۔
فائق درید کی پُرسوچ نگاہیں ہنوز اُسی کے ڈھکے چھپے۔۔۔سجے نقوش پر جمی تھیں۔۔۔
”قبول ہے۔۔۔۔“ مزید گہری ہوتی سانسوں میں زلیخا کے لب بے دھڑک پھڑپھڑائے تھے۔
اِس دوران بوجھل دل و دماغ میں آتے اپنے سابقہ محروم شوہر۔۔شاہ زین کے خیال و عکس وہ آنے والے اپنے بہترین مستقبل کی خاطر سرعت سے دباگئی تھی۔
جبھی پاس کھڑی حفصہ بیگم نے نرمی سے اُس کے کندھے کو ہلکا سا دبا کر چھوڑا۔
”میری تیسری اور آخری شرط یہ ہے کہ شادی کے بعد ہم ماں بیٹے کا سارا بوجھ تمھارے کندھوں پر ہو گا۔۔۔ہمارے اخراجات خرچے سب فقط تمہی اٹھاؤ گے۔۔۔منظور۔۔۔؟؟؟“ چہرے پر ضبط سے ہاتھ پھیرتے فائق کو اب کی بار استحقاق بھرا انداز یاد آیا تھا۔۔۔۔
”قبول ہے بیٹی۔۔۔۔؟؟؟؟“ مولوی صاحب نے آخری بار تائید چاہی تھی۔۔۔
اس دوران حمزہ اپنی ماں کے ساتھ لگ کر بیٹھا سرخ جالی دار آنچل سے اشتیاقاً چھیڑچھاڑ میں مشغول تھا۔
”سب منظور ہے۔۔۔آپکے لیے سب کچھ منظور ہے مجھے جانِ تمنا۔۔۔۔۔“ بےاختیار لبوں پر دلکش مسکراہٹ بکھیرکر بھاری آواز میں بولتا ہوا۔۔۔وہ اُس کے چہرے پر جھولتی لٹ کو بہت آہستگی سے کان کے پیچھے اڑسنے کی ہمت کر گیا تھا۔۔۔۔
ارے ہمت کیا کرگیا تھا۔۔۔سیدھا اُس کی دھڑکنوں کا شور ہی بڑھاگیا تھا۔
”جی۔۔قبول ہے۔۔۔۔۔“ شدتوں سے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنا آپ مقابل بیٹھے شخص کو سونپتی زلیخا نے۔۔۔۔اگلے ہی پل نم آنکھوں کو جھپکاتے ہوئے گھنی پلکوں کی جھالر اٹھائی۔۔۔۔تو نگاہیں ملنے پر وہ بڑی مشکلوں سے مسکرایا۔۔۔
”سب سے اہم ترین بات۔۔۔۔مجھ سے ہمیشہ وفادار رہنا۔۔۔بدلے میں،میں خود بھی رہوں گی۔۔۔۔لیکن اگر جو کبھی زندگی میں تم نے مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کی۔۔۔یا پھر اپنی جتائی محبتوں سے پیٹ پھیر کر بھاگے۔۔۔تو یاد رکھنا فائق درید۔۔۔میں تمھیں وہاں ماروں گی جہاں ایک بوند پانی بھی نصیب نہیں ہوگا۔۔۔۔“ سیاہ گریبان کو نرمی سے مٹھیوں میں دبوچ کر براہِ راست اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی۔۔۔وہ کیسے پھنکارتھی ناں اُس پل۔۔۔۔
مٹھیاں بھینچ کر کھولتے ہوئے فائق کی آنکھوں میں سرخی سی پھیلنے لگی۔
ہاں۔۔۔۔ہاں وہ زلیخا عالم درانی کی زندگی میں پورے استحقاق سے آنے کی خاطر۔۔۔بڑے ضبط سے تلخیوں کے گھونٹ پیتا ہوا اُس کی ساری شرائط بآسانی مان گیا تھا۔۔۔
انفیکٹ اُس سمیت تقریباً سبھی کو ہر طرح سے ہر لحاظ سے مطمئن کرنے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔۔۔۔
”نکاح مبارک ہو۔۔۔۔۔بہت بہت مبارک ہو۔۔۔رب دونوں کی جوڑی صدا سلامت رکھے۔۔۔۔خوش باش رکھے۔۔۔آمین۔۔۔۔۔“ باقی کے بھی مراحل مکمل ہوتے ہی اطراف میں مبارکباد اور نیک دعاؤں کا گہرا شور اٹھا تھا۔۔۔۔
معاً اپنی دلہن بنی بیٹی کو احتیاط سے کھڑا کرتے ہوئے حفصہ بیگم نے نم آنکھوں سے سر اثبات میں ہلایا تو اُن کا اشارہ سمجھتے ہوئے اگلے ہی پل فائق اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔پھر زلیخا کے قریب آکر رکتے ہوئے اُس کا جالی دار سرخ گھونگھٹ پیچھے کو الٹا دیا۔
زلیخا نے چمکتی آنکھوں میں جھجک کی ہلکی سی رمق لیے اپنےنئے نویلے۔۔کم عمر شوہر کا ایک ایک نقوش بغور دیکھا تھا۔۔۔
اب وہ محرم تھا اُس کا۔۔۔۔
اُس کا دیوانہ۔۔۔
اُس کی چاہتوں کا دعویدار۔۔۔۔
تو پھر بھلا کیسے نہ وہ بھی اُس کے حق میں پہلے سے ہی باغی ہوچکا اپنا دل اُس کو سونپتی۔۔۔؟؟؟
ہاں یہ الگ بات تھی کہ وہ اپنی چاہتوں کا کھل کر اظہار کرنے سے کتراتی تھی۔۔۔۔
یہ سختیاں۔۔۔یہ شرائط کا کھیل تو محض مقابل کو آخری حد تک پرکھنے۔۔۔اور بار بار پرکھنے کےلیے ہی مقصود تھا۔۔۔
جواباً پورے حق سے اس کے مہندی لگے نرم ہاتھ تھامتے ہوئے فائق کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔۔۔۔
”مومی۔۔۔!!!فائنلی میری لائف میں اب میرے ڈیڈا بھی آگئے۔۔۔یااااہووووووو۔۔۔۔۔“ تبھی قدرے چہک کر بولتا حمزہ،،،اگلے ہی پل اُچھل کر باہیں پھیلاتا ہوا بےاختیار دونوں سے لپٹ گیا تو۔۔۔۔
فائق اور زلیخا کے چہروں پر مچلتی مسکراہٹیں بغور دیکھتے ہوئے جہاں عالم صاحب،،،حفصہ بیگم کے ہمراہ سر شار سے ہوئے تھے۔۔۔
وہیں مطمئن کھڑے رمیض کے سنگ حیا کی مسکراہٹ بھی گہری ہوئی۔
کھلے بالوں کے سنگ گہری سبز رنگت کا کامدار۔۔پیروں کو چھوتا فراک اِس پل حیا کی سفید رنگت پر بےحد جچ رہا تھا،،،
جس کو سراہنے کے چکروں میں رمیض عالم درانی گھر سے نکلتے سمے اُس کا نازک سا دل لرزانا قطعی نہیں بھولا تھا۔۔۔۔
یہ تو صدشکرتھا کہ نکاح شروع ہونے سے پہلے ہی زیدان عالم درانی کوئی ضروری کال اٹینڈ کرنے کی خاطر وہاں سے جاچکا تھا۔۔۔۔ورنہ تو اُس کی عجیب نگاہیں خود پر محسوس کرتے ہوئے حیا کا جی برا سا ہونے لگا تھا۔
اُس نے بھول کر بھی اُس سے سلام دعا نہیں لی تھی۔۔۔مگر اُن دونوں بھائیوں کے بیچ ملتے سمے ہونے والی سرسری سی سلام دعا میں سردمہری صاف دکھائی دے رہی تھی۔
وہ جب سے درانی پیلس آئی تھی حسنہ سے اُس کا ایک بار بھی سامنا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔جبکہ حفصہ بیگم اپنے بڑے بیٹے اور بہو کے آنے پر ہر لحاظ سے سرشار ہوچکی تھیں۔۔۔۔
ہنوز ہاتھ تھام کر ایک ساتھ کھڑے زلیخا اور فائق کو تجسس سے تکتے ہوئے مہمانوں میں دبی دبی سی سرگوشیاں اب بڑھتی چلی جا رہی تھیں۔۔۔۔
جب اچانک حسنہ وقاص خود کی سیاہ رنگ ساری سے الجھتی ہوئی وہاں آئی تھی۔۔۔۔
اِس اچانک کے منعقد ہوئے آناً فاناً کے نکاح کی خاطر۔۔۔ابھی ایک گھنٹہ پہلے ہی زیدان اُسے یونی فرینڈز کے ساتھ سوات گئی یونی ٹرپ سے ایمرجنسی واپس لے کر آیا تھا۔۔۔۔ورنہ تو اِن بے رنگ ہوچکے حالات میں پورے پانچ دن کی ٹرپ طےشدہ تھی۔۔۔
مگر جس بات نے اُسے سب سے ذیادہ چونکایا تھا وہ اِس غیر متوقع نکاح سے کہیں ذیادہ زلیخا کی چوائس تھی۔۔۔۔
بھلا کھاتے پیتے گھرانے کی بزنس مین عورت اپنے ہی آفس میں کام کرنے والے دوٹکے کے ورکر سے کیونکر شادی کرسکتی تھی۔۔۔؟؟؟کیونکر۔۔۔۔!!!
سلک کے چمکدار سیاہ آنچل کو اچھے سے تھامتے ہی حسنہ نے سر جھٹک کر مسکراتی نگاہیں اوپر اٹھائی تھیں۔۔۔
مگر پھر سامنے کا منظردیکھتی قدرے ٹھٹھک کر رکی۔۔۔
عین اُسی وقت زلیخا کی پیشانی پر پورے حق سے مدھم لمس چھوڑتے ہوئے فائق درید کی بھٹکتی نگاہوں کا زاویہ بھی اُس پر جاکر تھما تھا۔
فق ہوتے رنگ کے ساتھ حسنہ کا دل شدتوں سے ڈوبا۔۔۔۔
”ک۔۔کیفی۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟“ لپسٹک تلے گہرے بھورے لب بےیقینی سے پھڑپھڑائے تھے۔
شناسائی جانلیوا ہی تو تھی۔۔۔
معاً زلیخا اپنی شرم و جھجک پر بمشکل قابو پاتی ہوئی۔۔۔۔حمزہ کو ساتھ لگائے کچھ سرشار سی سبھی مہمانوں کی جانب پلٹی۔
فوٹو گرافر سمیت آئے مہمان اب دھرا دھر ویڈیوز تصاویر بناتے چلے جا رہے تھے۔۔۔جب ایک طرف کھڑے وقاص صاحب کی نظریں دنگ کھڑی حسنہ پر پڑتے ہی برہم ہوئی تھیں۔
”نا ممکن۔۔۔۔ا۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔“ پھیلی نم نگاہیں دو سے تین بار زور زور سے جھپکانے پر بھی سامنے کا دل دہلاتا منظر نہیں بدلا تھا۔۔۔۔معاً حسنہ کے دل کو کچھ ہونے لگا۔
”نام کیا ہے اُس معمولی سے ورکر کا۔۔۔؟؟؟“ سنساتے دماغ پر شدتوں سے زور ڈالا گیا تھا۔۔۔۔
”فائق نام ہے اُسکا۔۔۔۔کافی اچھا، سلجھا ہوا لڑکا ہے۔۔۔۔غریب ہی سہی مگر زلیخا آپا سے بےتحاشہ محبت کرتا ہے وہ۔۔۔بہت خوش رکھے گا اُنھیں۔۔۔“ ڈرائیونگ کے دوران نپے تلے انداز میں بتاتا ہوا زیدان لفظ ”غریب“ پر کیسے اُسے تمسخر سے مسکرانے پر مجبور کرگیا تھا ناں۔۔۔۔
لیکن فائق نامی وہ غریب سلجھا لڑکا۔۔۔ایگزیٹ وہی کیفی نکلے گا جو ماضی میں اُس کے لیے دیوانہ رہ چکا تھا۔۔۔یہ تو وہ مرکر بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔۔۔۔
پتھر بن چکی حسنہ کو سرخ پڑتی نگاہوں سے تکتے ہوئے اگلے ہی پل فائق درید نے آہستگی سے سر جھکایا۔۔۔
اس دوران ایک کمینی ترین مسکراہٹ نے شدتوں سے اس کے لبوں کا احاطہ کیا تھا۔
کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا اُسے۔۔۔۔
شاپنگ مال میں زلیخا کے پیچھے آوارہ لڑکے لگوانا۔۔۔۔
امیر ترین ہوکر بھی ایک معمولی سا ورکر بنتے ہوئے انہی کی کمپنی میں دو ٹکے کی جاب کرنا۔۔۔۔۔
اپنے جگری یار شہاب عرف شیبی کے ہاتھوں حمزہ کی کڈنیپنگ۔۔۔
اور پھر ایک ہیرو کی مانند بچاؤ کی اداکاری کرتے ہوئے۔۔۔ ناچاہتے ہوئے بھی کندھے پر گولی کھالینا۔۔۔۔
وہ جھوٹی غربت۔۔۔
وہ نام نہاد عاشقی۔۔۔
اور بناوٹی شرافت کا وہ بہترین دکھاوا۔۔۔
افففف۔۔۔۔۔!!!!
سب کچھ پری پلین ہی تو تھا۔
ہاں ۔۔۔ہاں یہی تو تھی فائق درید عرف کیفی کے خرافاتی دماغ کی خطرناک حد تک پلینگ۔۔۔۔
جس میں اب تک وہ پوری طرح سے کامیاب بھی ٹھہرا تھا۔۔۔
اور ان سب کی وجہ کیا تھی بھلا۔۔۔۔؟؟؟
بےاختیار اُس نے سرد نگاہیں اٹھائی تھیں۔۔۔۔
فقط حسنہ زیدان عالم درانی کی بربادی۔۔۔۔۔!!!
جس کا وہ اب تک،بدلے کی آگ میں جھلستا ہوا شدتوں سے خواہاں تھا۔۔۔۔
یکلخت زلیخا کےمسکراتے اشارے پر جہاں حفصہ بیگم پلٹ کر۔۔۔ہنوز ساکت کھڑی حسنہ کی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔۔۔وہیں اپنا سارا ضبط کھوتی ہوئی وہ تپے چہرے کے ساتھ الٹے قدموں وہاں سے بھاگی۔۔۔
نگاہوں میں پھنسے آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے تھے۔۔۔
جبکہ حسنہ کی یہ غیر متوقع حرکت کتنوں کو ہی چونکانے کا سبب بنی تھی۔۔۔
ماسوائے کیفی کے جو ایک ایک بات سے لطف لیتا ہوا اب کہ اپنی طرف آتے عالم صاحب کو دیکھ کر قدرے محتاط ہوچکا تھا۔
ایسے می حفصہ بیگم بھی سرجھٹکتی ہوئیں اُن کی جانب متوجہ ہوئی تھیں۔
”فائق بیٹا۔۔۔۔میری بیٹی مجھے بڑی لاڈلی ہے جبھی میں اُس کے اچانک سے تمھاری صورت میں کیے جانے والے پختہ فیصلے پر بضد نہیں ہوسکا۔۔۔۔ہر قسم کی آسائش ہونے کے باوجود بھی زلیخا نے اپنی زندگی میں بڑے بڑے دکھ جھیلے ہیں۔۔۔۔بظاہر تو میری بچی بہت مضبوط نظر آتی ہے مگر اندر سے کانچ کی مانند بالکل نازک ہے وہ۔۔۔۔جیسا کہ ایک صنفِ نازک عموماً ہوتی ہے۔۔۔اس لیے میں یہی چاہتا ہوں کہ تم اُسے کبھی بھی توڑ کر بکھیرنے کی حماقت مت کرنا۔۔۔۔بلکہ ایک اچھا ہمسفر۔۔اور ایک بہتر باپ بن کر ہمیشہ ساتھ نبھانا۔۔۔۔اسے میرا حکم سمجھو یا پھر ایک بےبس باپ کی التجا۔۔۔پورا کرنا اب تم پر منحصر ہے۔۔۔۔“ زلیخا کے سر پر ہاتھ پھیر کر اُسکی نم آنکھوں میں دیکھتے ہوئے وہ قدرے ٹھہر ٹھہر کر بتارہے تھے۔۔۔۔جب زیدان ہولے سے سر اثبات میں ہلاکر مسکراتا ہوا بے اختیار زلیخا کا ہاتھ مضبوطی سے تھام گیا۔
”میں سمجھ سکتا ہوں سر آپ بالکل بےفکر ہوجائیں۔۔۔۔محبت کی ہے میں نے سو نبھاؤں گا بھی۔۔۔
اپنی بیوی اور بیٹے کا خود سے بھی ذیادہ خیال رکھوں گا یہ وعدہ رہا۔۔۔۔۔۔“ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نام نہاد تسلی دیتا ہوا وہ کتنوں کو ہی خود سے مطمئن کرگیا تھا ناں۔
زلیخا کا دل دھڑکا۔۔۔۔
”خوش رہو۔۔۔۔۔۔۔“ معاً حفصہ بیگم کے دل سے دعا نکلی۔۔۔تو جہاں کتنے ہی مہمانوں کی ٹٹولتی نظریں اُنہی لوگوں پر جمی تھیں۔۔۔وہیں حمزہ بھی اچانک سے کچھ بہت خاص یاد آنے پر بھاگ کر حیا کی جانب لپکا۔۔۔۔
