No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
”یہ اتنا مہنگا لہنگا تمھیں بابا نے لے کر دیا ہے حیا۔۔۔؟؟؟“ وہ مہرون رنگت کا بھاری کامدار دوپٹہ سر پر ٹکائے ہوئے آئینے کے سامنے کھڑی اپنا ِکھلتا روپ دیکھ رہی تھی۔۔۔جب اندر آتی حسنہ اسے دیکھ کرٹھٹھکی۔
پھر بستر پر پھیلا انتہائی نفیس لہنگا کُرتی دیکھ کرسرد انداز میں پوچھا۔
جواباً حیا چونک کر اس کی طرف پلٹی تھی۔پھر مسکراتی ہوئی نفی میں سر ہلاگئی۔
”بابا تو نارمل سا لہنگا لے کر دینا چاہتے تھے مگر۔۔۔تائی جان نے بہت اصرار پر مجھے یہ خوبصورت لہنگا دلوایا ہے۔۔۔اور تم جانتی ہو حسنہ اس کی سب سے خاص بات کیا ہے۔۔۔؟؟؟“ اپنی بہن کے پل پل سپاٹ ہوتے تاثرات پر غور کیے بنا ہی حیا دونوں ہاتھوں میں بھاری دوپٹے کے کنارے تھامے۔۔۔کھکھلا کر بولتی چلی جارہی تھی۔
”کیا۔۔۔؟؟“ حسنہ نے سست روی سے اس کے مقابل آکر رکتے ہوئے سوال کے بدلے سوال داغا۔
”یہ زیدان کی چوائس ہے۔۔۔۔بقول تائی جان کے،وہ مجھے اس روپ میں دیکھنے کے لیے شدتوں سے منتظر ہیں۔۔۔۔“ گھوم کر آئینے میں اپنا دمکتا عکس دیکھتی وہ کچھ شرما کر بولی تو اس کی بات سن کر حسنہ نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لیں۔
نم پڑتی آنکھوں سے حیا کی پشت تکتے ہوئے دل شدتوں سے جلنے لگا تھا۔
اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس سے شادی کا قیمتی جوڑا چھین کر سو ٹکڑوں میں پھاڑ دے۔
”حیا بیٹا۔۔۔۔۔!!!“ معاً ساتھ والے کمرے میں بیٹھے وقاص صاحب کی بلند پکار نے جہاں حیا کو ٹھٹھکایا تھا۔۔وہیں حسنہ بھی چونکتی ہوئی گہرا سانس بھرتی پھیکا سا مسکرائی۔
”بابا بلا رہے ہیں۔۔۔۔تم یہ پکڑو میں بات سن کر آئی۔۔۔“ جلدی سے کامدار دوپٹے کو اتار کر حسنہ کے ہاتھوں میں پکڑاتی حیا۔۔۔اگلے ہی پل اپنے سوٹ کا سادہ دوپٹہ اوڑھتی ہوئی تیزی سے کمرے سے باہر کو لپکی تھی۔
پیچھے حسنہ نے جلتی نگاہیں اس بھاری کامدار دوپٹے پر ڈالیں۔پھر میکانکی انداز میں اسے سر پر اوڑھتے ہوئے آئینے کے قریب آ ٹھہری۔
اپنے تیکھے،دلکش نقوش بغور تکتے ہوئے حسنہ کو اس پل خود کا روپ حیا سے لاکھ درجے بہتر لگا تھا۔
وہ روپ جو حقیقی طور پر زیدان عالم درانی کے شانِ شایان تھا۔۔۔
”جانتی ہو حیا۔۔۔؟؟سگی بہن ہونے کے ناطے میں تمھارے ساتھ کبھی بھی غلط نہیں کرنا چاہتی۔۔۔لیکن ایک انتہا کا بےبس انسان تبھی غلط کرتا ہے جب اسے سب ٹھیک لگ رہا ہو۔۔۔۔“ اس کے ہلکے گلابی لب بےدردی سے پھڑپھڑاتے چلے جارہے تھے۔
”اور میرے نزدیک ٹھیک بات یہی ہے کہ۔۔۔
فقط زیدان کی چوائس ہی تمھارے لیے مختص ہوسکتی ہے حیا وقاص۔۔۔خود زیدان عالم درانی نہیں۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔وہ صرف حسنہ وقاص کی قسمت میں ہے۔۔۔صرف اور صرف میری قسمت میں۔۔۔۔۔۔“ بڑی شدت سے باور کرواتے ہوئے حسنہ کی نم گلابی آنکھوں میں وحشت کے سنگ ایک دیوانگی ہلکورے لے رہی تھی۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ اپنی بےجا محبت کو کسی بھی قیمت پر کسی کے بھی ہاتھوں میں نہیں سونپ سکتی تھی۔۔۔
خود اپنی بہن کے ہاتھوں میں بھی نہیں۔۔۔
حسنہ وقاص کا سلگتا ہوا دل اپنی بےجا منمانیوں پر اترتے ہوئے،سگی بہن کی خوشیوں کو آگ لگانے پر بےساختہ آمادہ ہوا تھا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
باقی ریسٹورنٹس کی نسبت فوڈ لینڈ ریسٹورنٹ میں آتے جاتے لوگوں کا ذیادہ رش اس کی مشہوری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔
”سر آپکو مزید کچھ چاہیے۔۔۔؟؟؟اینی سوفٹ ڈرنک یا لٹل سپائسی ڈش۔۔۔؟؟“ اس نے ایک ادا سے آنکھوں سے سیاہ گلاسز اتارکر ٹیبل پر رکھے تھے جب پاس کھڑی ویٹرس نے مسکرا کر پوچھا۔
”نیڈڈ ناٹ سویٹ گرل۔۔۔جو لاچکی ہو اتنا ہی کافی ہے۔۔۔“ نفی میں سر ہلاکر چاکو فلیور کافی کی طرف اشارہ کرتے زیدان عالم نے اگلے ہی پل عادتاً آنکھ دبائی۔۔۔تو تاشہ نامی ویٹرس دھڑکتے دل کے ساتھ دھیرے سے ہنس دی۔
مقابل بیٹھا وہ شوخ مزاج سا وجیہہ نقوش والاشخص اِس ریسٹورنٹ کے نئے مالک کا چھوٹا بھائی تھا۔۔۔
”زیدان عالم درانی۔۔۔“
”ویسے آپ شادی شدہ ہیں کیا۔۔۔۔؟؟؟“ زیدان کی جانب سے اچانک کیا جانے والا سوال غیرمتوقع تھا۔۔۔
مخصوص یونیفارم میں ملبوس تاشہ جاتی جاتی واپس پلٹی۔۔
دیگر ٹیبلز پر موجود کھانا کھاتے لوگوں میں سے فی الوقت کوئی ایک بھی ان دونوں کی جانب متوجہ نہیں تھا۔
”نہیں۔۔۔اور آپ سر۔۔۔؟؟؟“ وہ بھی اس کی وجاہت کو بےخودی میں تکتی خود کو پوچھنے سے روک نہیں پائی تھی۔۔
زیدان کافی کا مگ اٹھا کر سِپ بھرتا اپنی ذات کے لیے اس کی پسندیدگی کو صاف محسوس کرسکتا تھا۔
اور شاید اسے اپنے لیے لڑکیوں کی ایسی پسندیدگی کسی حد تک پسند بھی تھی۔
”فی الحال تو نہیں۔۔۔مگرکل تک ہو جاؤں گا۔۔۔۔“ اپنی بات کے نتیجے میں تاشہ کے پل میں پھیکے پڑتے نقوش دیکھ کر زیدان کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
”لوَ میرج۔۔۔۔؟؟“ ہاتھوں میں تھامے ہوئے ٹرے پر اپنی پکڑ مزید مضبوط کرتی وہ مزید پوچھ رہی تھی۔۔۔جبکہ اس ویٹرس کے یوں پرسنل ہونے پر زیدان نے بھنویں اچکاتے گہرا سانس بھرا۔
”ہے تو بظاہر ارینج میرج۔۔۔مگر میرا یہ شریف دل تو صرف لوَ میرج کے لیے رضامند ہے۔۔۔۔“ شوخ لہجے میں اپنے پوشیدہ ارادے دبے لفظوں میں باور کرواتا جہاں وہ اس معمولی سی ویٹرس کے دل میں اپنی دلچسپی بڑھاگیا تھا۔۔۔وہیں اپنے دھیان میں، مین کچن سے باہر نکلتا رمیض عالم اپنے چھوٹے بھائی کو وہاں دیکھتا صاف چونکا۔۔۔
”اوہ۔۔۔تو کیا میں پوچھ سکتی ہوں کہ وہ خوش قسمت لڑکی کون ہے۔۔۔؟؟؟“ کچھ ہمت کرتی وہ آخری حد تک پرسنل ہوئی تو۔۔کپ کو واپس ٹیبل پر رکھتے ہوئے زیدان کی یاداشت میں بےاختیار حسنہ وقاص کا ہنستا مسکراتا سا خوبصورت چہرہ ابھرا۔۔۔
دل کو لبھاتی وہ شوخ سی ادائیں۔۔۔
اففف۔۔۔۔
دل کی بیٹ مس ہونے پر بےساختہ لب مسکرائے تھے اس بات سے قطعی انجان۔۔۔کہ اُس ویٹرس کے آنے پر وہ حسنہ کے لیے ٹائپ کیا جانے والا میسج بے دھیانی میں حیا کو بھیج چکا تھا۔
معاًرمیض عالم دبے قدموں کے ساتھ قریب آکر رکا۔
”زیدان۔۔۔۔؟؟؟“ وہ کچھ حیرت سے بولا تو جہاں اپنی پشت پر سخت گیر ریسٹورنٹ آنر کو کھڑا دیکھ تاشہ چونک کر تیزی سے ایک طرف ہوئی تھی۔۔۔وہیں زیدان بھی اٹھ کر کھڑا ہوا۔
”بھائی۔۔۔۔“ بےاختیار بغل گیر ہوتے وہ خوشدلی سے گویا ہوا تھا۔
”تم کب آئے یہاں۔۔۔؟؟؟مجھے خبر بھی نہیں دی اپنے آنے کی۔۔۔۔“ تاشہ کے جلدی سے وہاں سے کھسکنے پر وہ نارمل انداز میں پوچھ رہا تھا۔
”سرپرائز میرے بھائی سرپرائز۔۔۔بس ابھی کچھ دیر ہوئی ہے۔۔۔سوچا آفس کے کاموں سے فارغ ہوکر سیدھا آپکو مبارکباد دینے یہاں چلاآؤں۔۔۔۔گریجولیشن بھائی۔۔۔۔۔“ واپس بیٹھتے ہوئے زیدان نے وضاحت بتائی۔
آج اس کی مہندی تھی۔۔۔ایسے میں اپنے سب سے قابلِ اعتبار منیجر کو پہلے کی طرح سب کام سونپ کر وہ مطمئن سا یہاں چلا آیا تھا۔
رمیض بھی ہولے سے مسکراتا ہوا اسی کے سامنے والی چئیر پر بیٹھ گیا۔۔
”تھینکس برو۔۔۔تو پھر کیسا لگا یہ ریسٹورنٹ۔۔۔۔۔“ ایک حیا کے سوا تقریباً سبھی اس کے ریسٹورنٹ کو دیکھ کر اسے مبارکباد دے چکے تھے۔
رمیض کے یوں پوچھنے پر بےاختیار زیدان نے ایک شوخ نظر اردگرد دوڑائی تھی۔
”ریسٹورنٹ تو بہت اچھا ہے بھائی۔۔۔۔انفیکٹ یہاں کی سروس بھی بہت فاسٹ اور کمال کی ہے مگر۔۔۔۔“ تاشہ کو ایک طرف بنے بڑے سے کچن میں گھستا دیکھ زیدان بولتا ہوا یکدم چپ ہوا۔
”مگر کیا۔۔۔؟؟؟“ رمیض نے بغور اس کے بدلتے تاثرات نوٹ کیے تھے۔
”مگر میں اب بھی یہی کہوں گا کہ آپ نے اُس لالچی شخص سے یہ ریسٹورنٹ کافی مہنگے داموں میں خرید لیا ہے بھائی۔۔۔۔۔“ اس نے صاف کمی نکالی تھی۔
”میرے شوق کے آگے کم ذیادہ قیمتیں کچھ معنی نہیں رکھتیں زیدان۔۔۔اس لیے چلتا چلاتا کاروبار اگر مہنگے داموں بھی اپنے قبضے میں لینا پڑے تو کچھ خسارہ نہیں ہے۔۔۔ہاں البتہ نئے سرے سے سٹارٹ کرنا شاید میرے لیے کافی مشکل ہوتا۔۔۔باقی لین دین کو ایک طرف رکھ کر تمھیں سب پسند آگیا یہی کافی ہے۔۔۔“ قدرے سنجیدگی سے ٹھہرے لہجے میں بولتے ہوئے وہ زیدان کو مسکرا کر سر اثبات میں ہلانے پر مجبور کرچکا تھا۔
معاً رمیض نے گہرا سانس بھرتے ہوئے نگاہیں پھیریں تو زیدان پل بھر کو آنکھیں سکیڑ کر عجیب نظروں سے اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”اوئے عامر۔۔۔۔پوری پوری تیاری پکڑ لے اب۔۔۔۔اس بار کافی دلچسپ اور موٹی آسامی ہاتھ لگی ہے ہمارے یا وحشت۔۔۔۔“ اپنی لمبی لمبی بےترتیب زلفوں میں انگلیوں پھیرتے ہوئے اس نے اپنے ساتھی کو باخبر کیا تھا۔
عامر جو اس وقت خفیہ اڈے پر موجود اپنے چاقو کی دھار تیز کرنے میں غرق تھا،ساغر بھائی کا خوشگوار لہجہ سن کر چونک اٹھا۔
”کس قسم کی تیاری ساغربھائی۔۔۔؟؟کسی رئیس کو اغواء کرکے تاوان طلب کرنا ہے۔۔؟؟یا پھر حویلی کوٹھی جاکر ڈکیتی کا کام سرانجام دینا ہے۔۔۔؟؟؟“ کچھ دنوں سے وہ لوگ بےدھندا ہی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تھے،جبھی عامرسبھی کام چھوڑ چھاڑ کر خود سے اندازے لگاتا ہواساغر بھائی کے پاس آکر پوچھنے لگا۔
وہ جو چارپائی پر نیم دراز تھا۔۔۔عامر کے پاس آکر بیٹھنے پر خود بھی کمینگی سے ہنستا ہوا اٹھ کر بیٹھ گیا۔
”اس بار معاملہ ذرا الٹ ہے یا وحشت۔۔۔مطلوبہ افراد کو مقرہ وقت پر اغواء تو کرنا ہی ہے۔۔۔ مگر دوگنا تاوان ہمیں آج رات کو ہی مل جائےگا۔۔۔۔“ ساغر نے بات کھولی تو اِس طے شدہ پلین پر عامرکو خوشی کے ساتھ ساتھ خاصی حیرت بھی ہوئی۔
”سمجھ گیا باس۔۔۔سب سمجھ گیا۔۔۔۔“ عامر پُرجوش ہوتا ہوا بولا تھا جب ساغر نے اس کے کندھے پر دھپ لگاتے ہوئے نفی میں سر ہلایا۔
”اوئے نہیں اوئے۔۔۔اس معاملے کی اصل دلچسپی تو تُو ابھی تک سمجھا ہی نہیں یا وحشت۔۔۔۔“ رعب سے بولتے ہوئے ساغر نے اپنی گھنی مونچھوں کو تاؤ دیا تھا۔
”اور وہ کیا ہے باس۔۔۔۔؟؟؟“ عامر بڑے تجسس سے پوچھتا ہوا دل و جان سے اس کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔
جواباً آنکھوں میں چمک لیے ساغر کی مسکراہٹ بڑھتی چلی گئی۔
”اس بار ایک حسین دلہن پوری رات کے لیے ہمارے اِس اغواء خانے کی زینت بنے گی یا وحشت۔۔۔۔“ اطراف میں دیکھتا ساغر کمینگی سے چبا چبا کر بولتا ہوا جہاں زور سے ہنس دیا تھا،وہیں عامر کی حیرت بھی اُسی کے سنگ بےباک ہنسی میں ڈھلتی چلی گئی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
پل پل گہری ہوتی سیاہ رات کے برعکس،یہ جگہ رنگ برنگی روشنیوں سے جگ مگ کرتی ہوئی بہت سوں کے دلوں کو بھا رہی تھی۔
اس دوران بآواز بلند چلتا ہوا شوخ میوزک ماحول کو قدرے خوشگوار بنائے ہوئے تھا۔
مہندی کی اس رات کو سب تیاریاں بڑے ہی شاندار طریقے سے کی گئی تھیں۔
رنگیلے بھڑکیلے کپڑوں میں آئے ہوئے مہمانوں نے لوازمات سے لے کر رسومات تک بھرپور طریقے سے انجوائے کیا تھا۔
سبز اور پیلے امتزاج کے جوڑے میں سج سنور کر اسٹیج پر بیٹھی حیا کا دل جہاں اپنے پہلو میں براجمان زیدان عالم درانی کے سبب شدتوں سے دھڑکتا ہوا،اسے بار بار شرمانے پر مجبور کررہا تھا۔۔۔وہیں اپنی جانب آتی حسنہ کو دیکھ کر زیدان کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔
سیاہ رنگت کی پیروں تک آتی کامدار فراک پر کھلے بال چھوڑے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔
کم از کم قریب بیٹھی حیا سے تو ہزار گناہ دلکش لگی تھی وہ زیدان کو۔۔۔
”بہت مشکل مرحلہ ہوتا ہے کسی اپنے کو دوسرے کے ہاتھوں سونپ دینا۔۔۔اور اس پر ستم چپ چاپ تماشہ بھی دیکھنا۔۔۔۔۔“ ان دونوں کے مقابل آکر رکتی وہ نرم لہجے میں بڑا گہرا طنز کر گئی تھی۔
حسنہ کی سرخ،نم آنکھوں میں غور سے دیکھتے ہوئے زیدان کا دل شدتوں سے مچلا تو حیا اس کی بات کو اپنے رنگ میں لیتی نرمی سے مسکرائی۔
”حسنہ۔۔۔؟؟؟تم اتنا پریشان کیوں ہورہی ہو چندا۔۔۔؟؟میں رخصت ہوکر بالکل ساتھ والے گھر ہی تو جارہی ہوں۔۔۔تمھارا جب دل چاہا مجھ سے بلاجھجک ملنے آجایا کرنا ناں۔۔۔میں تم سے دور نہیں ہوں بالکل بھی۔۔۔“ بڑی محبت سے حسنہ کا ہاتھ تھام کر کہتی ہوئی حیا کو اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔
اس کی چھوٹی بہن سے اس کی جدائی برداشت کرنا کتنا مشکل ہورہا تھا ناں۔۔۔
اس کی بات سن کر جہاں حسنہ کی جلتی آنکھوں میں اس کے لیے تمسخر سا ابھرا تھا۔۔۔وہیں ساتھ بیٹھے زیدان نے حیا کی اتنی بڑی غلط فہمی پر بے اختیار گلا کھنکھارا۔
”یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کون کس سے دور ہوتا ہے۔۔۔۔“ بڑے ضبط سے مسکرا کر کہتی وہ ایک آخری برہم سی نگاہ زیدان پر ڈال کر مزید وہاں رکی نہیں تھی۔۔۔بلکہ جھٹکے سے حیا سے اپنا ہاتھ چھڑواتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
بےاختیار زیدان کا بےچین دل اس کے پیچھے جاکر اسے منالینے کو کیا تھا مگر فی الوقت وہ بےبس تھا،سو لب بھینچے اُدھر ہی جما رہا۔۔۔
”حسنہ رکو تو۔۔۔۔۔۔“ پیچھے حیا نے متفکر ہوتے اسے روکنا چاہا تھا مگر عین موقع پر ہنس کر وہاں آتی حفصہ بیگم نے دونوں دلہا دلہن کی توجہ شدت سے اپنی جانب کھینچ لی تھی۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
