Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

”آااہہ۔۔۔“ حیا نے بھاری ہوتے سر کے ساتھ آہستگی سے آنکھیں کھولیں تھیں۔
پھر گھنی پلکیں جھپکا جھپکا کر بھاری آنکھوں کی دھندلاہٹ کم کرتے اپنے حواس بحال کرنے چاہے۔
ہاں۔۔۔ہاں بابو ہوچکا ہے تیرے کہے کے مطابق سارا کام۔۔۔بےفکر رہ ذرا سی بھی خراش نہیں آنے دیں گے ہم اُس جوڑے کو۔۔۔ہاں۔۔ہاں ٹھیک ہے۔۔۔ہوجائے گا یہ کام بھی۔۔۔۔اوکے۔۔۔اوکے۔۔۔۔“ فون پر بات ختم کرتے ساغر کی چمکتی نگاہیں اسی کو ہوش میں آتا دیکھ رہی تھیں۔
سر سیدھا کرتی حیا چاہ کربھی اپنے رسی سے بندھے ہاتھوں کو حرکت نہیں دے پائی تھی۔
معاً سامنے نظریں اٹھنے پر وہ یکدم گھبرائی تھی۔
”رمیض بھائی۔۔۔۔؟؟“ اپنے مقابل بےہوش ہوئے رمیض کو کرسی سے بندھا دیکھ اس کی نگاہیں پھیلتی چلی گئیں۔۔۔
”او سوہنیو۔۔۔۔اگر اپنی نیندیں پوری کر ہی لی ہیں تو ہماری طرف بھی نگاہ ڈال لو۔۔۔۔“ ایک طرف پڑی چارپائی سے اٹھ کر اس کی جانب آتا ہوا ساغر کمینگی سے گویا ہوا تو،،،ٹھٹھک کر اسے لمبی زلفیں سنوارتا دیکھ حیا کا دل شدت سے ڈوبا۔
دماغ پر زور دیتے محض ایک پل لگا تھا اسے یاد آنے میں کہ کیسے وہ رمیض بھائی کے سنگ ان غنڈوں کے ہاتھوں کڈنیپ ہوئی تھی۔
بیچ راہ میں ہی وہ نیچ لوگ زبردستی کلوروفام والا رومال سونگھاتے اسے پلوں میں بےہوش کرچکے تھے۔۔۔اور پھراس کے بعد۔۔۔شاید رمیض کو بھی۔۔۔!!!
”تت۔۔تم پاس مت آؤ میرے۔۔پلیز دور رہو۔۔۔۔“ اس کے گھٹنے بل پاس بیٹھنے پر وہ وحشت زدہ سی غرائی۔
پھر تیزی سے بھیگتی نگاہوں کے سنگ بےہوش پڑے رمیض کی جانب ملتجی ہوکر دیکھا۔۔۔
”کیوں نہ آؤں پاس تیرے۔۔۔؟؟اتنی حسین دلہن ہے تُو۔۔۔بھلا کون کافر تجھے قریب سے محسوس کرنا نہیں چاہے گا۔۔۔۔“ اس کے گھٹنے کو چھوتا ہوا وہ ہنس کربولا،،،تو کراہت سے گھٹنا جھٹکتی ہوئی وہ لفظ”دلہن“ پر یکدم ساکت پڑی۔
بےاختیار زیدان عالم درانی کا مسکراتا ہوا وجیہہ عکس اس کے ذہن کے پردے پر لہراتا ہوا اس کا دماغ پوری طرح سے ہلا گیا تھا۔
”آ۔۔آج تو میری شادی تھی ناں۔۔۔؟؟میری شادی۔۔۔ٹائم۔۔۔ٹائم کیا ہواہے؟؟مجھے وقت سے وہاں پہنچنا ہوگا۔۔سب لوگ میرا انتظار کررہے ہوں گے۔۔۔“ فکر میں پاگل ہوتی وہ روہانسے لہجے میں بولتی چلی جارہی تھی،جب اپنے خفیہ اڈے پر آتا عامر دور سے ہی اس کی بات سنتا بےہنگم قہقہ لگاگیا۔
معاً رمیض کے ماتھے پر چڑھتی،مٹتی تیوریاں اسکے حواسوں میں آنے کا پتا دینے لگی تھی۔
”فکر نہیں کر دولہنیا۔۔۔اب کوئی بھی تیرا انتظار نہیں کررہا۔۔۔اور نہ ہی تجھ سے نکاح کرنے والا بچا ہے کوئی۔۔۔دن پوری طرح سے ڈھل چکا ہے۔۔۔“ کمینگی سے کہتا ہوا وہ ہاتھ میں پکڑی شراب کی بوتل میز پر رکھتا خود بھی وہیں بیٹھ چکا تھا۔
ساغر بھی بالوں کو جھٹکتا ہنسا۔
حیا نے اس بدترین حقیقت پر صدمے سے اسے دیکھا۔
دل کی دھڑکنیں بند ہوتی محسوس ہوئی تھیں۔
”ایسا۔۔۔نہیں ہوسکتا۔۔۔۔“ سسک کر نفی میں سرہلاتے اس کی بھیگی سرخ آنکھوں نے بےساختہ ایک طرف لگی جالی دار کھڑکی کو ٹٹولا تھا۔
اور پھر پھیلتی شام کا منظر اس کے وجود کو گویا بےجان سا کرتا چلا گیا۔
معاً رمیض نے اپنی جلتی آنکھیں کھولتے ہوئے خود کا لڑھکا بھاری سر سیدھا کیا۔
مگر نگاہوں کے سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے بحال ہوتے حواس پل میں جھنجھنا اٹھے تھے۔
”ایسا ہو چکا ہے یا وحشت۔۔۔۔“ بتاتے ہوئے ساغر کا ہاتھ پھر سے بےباکی کے ساتھ حیا کے گھٹنے پر پڑا تھا۔
اُس غنڈے کی جرات پر جہاں ہوش میں آتی حیا سسکی تھی،وہیں رمیض کا خون کھول اٹھا۔
”اپنے غلیظ ہاتھوں کو دور رکھو اسے ورنہ جان لے لوں گا میں تمھاری۔۔۔۔“ غصے سے چیختے ہوئے رمیض نے بےاختیار خود کو چھڑوانا چاہا تھا،مگر افسوس کہ رسیاں مضبوطی سے اس کے ہاتھ پیروں کو جکڑے ہوئے تھیں۔
اس کی بھاری بھڑکتی آواز پر تینوں نے ہی قدرے چونک کر اس کا تنا چہرہ دیکھا تھا۔
”ر۔۔رمیض بھائی۔۔۔۔“ حیا کے سسکتے لب اسے ہوش میں دیکھ کر پل بھر کو مسکرائے تھے،جب ساغر رمیض کی بےبسی دیکھتا ڈھٹائی سے ہنس دیا۔
سنجیدہ ہوچکا عامر بھی شیطانیت سےمسکرایا تھا۔
”ابے دیکھ تو دلہنیا کا مجنوں،،،کیسے ہوش میں آتے ہی واویلا مچانے لگا ہے۔۔۔حالانکہ اصلی کھیل تو ہم نے ابھی شروع بھی نہیں کیا یا وحشت۔۔۔۔“ مونچھیں مسلتا ہوا وہ رمیض کو اپنے لفظوں سے آگ لگانے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔
”میں نہیں جانتا کہ تم لوگ کون ہو اور کس خبیث کے کہنے پر یہ سب کررہے ہو۔۔؟؟؟لیکن اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگر اِس لڑکی کو ذرا سی بھی کوئی نقصان پہنچا تو بخدا آزاد ہوتے ہی میں تم لوگوں پر تمھاری سانسیں حرام کردوں گا۔۔۔گیٹ اٹ۔۔۔“ رسی بندھے پیروں کو شدت سے جھٹکتا وہ سلگتے لہجے میں بولا،تو اس کھلی دھمکی پر ساغر نے ناگواری سے آنکھیں سکیڑیں۔
”دیکھ لیتے ہیں یہ بھی۔۔۔اوے عامر۔۔۔۔!!!آ جا ذرا اپنا باقی کا مال بھی وصول لیں۔۔۔“ چیلنجنگ انداز میں کہہ کر حیا کی طرف پلٹتا وہ رمیض کی جلتی آنکھوں کی سرخی مزید گہری کرگیا تھا۔۔۔جبکہ دونوں کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ نفی میں سر ہلاتے ہوئے حیا کے سانس خشک ہوئے تھے۔
”دور رہو اس سے۔۔۔میں کہتا ہوں وہیں رک جاؤ (گالیاں)##۔۔آاا سٹاپ۔۔۔“ آپے سے باہر ہوتا وہ چیخ اٹھا تھا۔اپنا آپ چھڑوانے کی مسلسل کوشش میں جلد سرخ ہوتے اس کی رگیں پھول چکی تھیں۔
مگر وہ بےبہرہ ہوتے حیا کا پنوں سے سیٹ ہوا بھاری دوپٹہ بےدردی سے الگ کرتے ہوئے ایک طرف پھینک چکے تھے۔
”نن۔۔نہیں۔۔۔چھوؤ مت مجھے۔۔۔پلیز دور ہٹو مجھ سے۔۔۔۔رمیض بھائی۔۔۔۔بچائیں مجھے۔۔۔رمیضضضضض۔۔۔۔۔۔“ گلے میں پڑا گولڈ کا نیکلس بُندے،بندیا اتارنے کی کوشش میں ان کا غلیظ لمس خود پر محسوس کرتے جہاں حیا کے حلق سے بےبس آہیں،،،چیخیں نکلی تھیں۔۔۔وہیں غصے کی ذیادتی سے پاگل ہوتے ہوئے، پوری شدت لگا کر اٹھتا رمیض اگلےہی پل بھاری چئیر سمیت منہ کے بل زمین پر گرا تھا۔۔۔
نتیجتاً لطف لیتے بےہنگم قہقوں کی گونج بے ساختہ تھی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ اس وقت اپنے بڑے سے گھر کی فرنٹ سائیڈ پر بنے سوئمنگ پول میں بڑی مہارت سے شرٹ لیس تیراکی کررہا تھا۔دسواں راؤنڈ لگاتے ہی وہ سوئمنگ پول کی گہرائی تک گیا تھا۔پھر پندرہ سے بیس سکینڈز تک پانی کی گہرائی میں رہتے ہوئے جھٹکے سے پانی سے باہر نکل آیا۔بھیگے چہرے سمیت بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کیفی کی سرخ ہورہی نگاہیں اپنی طرف آتے شیبی پر پڑیں تھیں۔اگلے ہی پل وہ گہرے سانسوں کے بیچ پھرتی سے تیرتا ہوا پول کے کنارے پر آیا۔
”ہائے برو۔۔۔نائٹ سموکنگ کے ٹائم سوئمنگ کی کوئی خاص وجہ۔۔۔؟؟“ اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھتا وہ کچھ حیرت سےمسکرا کر پوچھ رہا تھا۔
”کیفی کا موڈ بدلنے کے لیے کسی خاص وجہ کا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔۔۔اینی وےتُو بتا اچانک یہاں کیسے آنا ہوا۔۔۔؟؟“ کنارے پر پڑے وائن کے گلاس پر سے نگاہیں ہٹاتا وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔
جواباً شیبی کی مسکراہٹ بھی سمٹی تھی۔
”کچھ بتانے آیا تھا تجھے۔۔۔۔؟؟“ کہتے ہوئے جانے کیوں اس نے پل بھر کو نظریں چرائی تھیں۔
”بتا ناں۔۔سن رہا ہوں۔۔۔“ کنارے پر بازو رکھے،کیفی کا کسرتی وجود ہنوز پانی میں ٹھہرا ہوا تھا۔
”وہ۔۔۔کیفی۔۔۔جس چیز کا ڈر تھا وہی ہوا یار۔۔۔۔آج زیدان عالم درانی نے اپنی منگ کی بجائے حسنہ وقاص سے نکاح کیا ہے۔۔۔رخصتی بھی ساتھ ہی ہوچکی ہے۔۔۔سننے میں آیا ہے کہ اس کی منگ اپنے جیٹھ کے ساتھ بھاگ۔۔۔!!!!“ وہ تاسف زدہ سا اس کی بدلتی رنگت دیکھتا بتا رہا تھا،جب اپنا ضبط کھونے پر کیفی نے غصے سے چلاتے ہوئے وائن کا گلاس پکڑ کر زور سے دور پھینکا۔
”جسٹ شٹ اااپ۔۔۔۔شٹ دِس نانسینس۔۔۔چھوڑوں گا نہیں میں اس دھوکےباز عورت کو۔۔۔کیا سوچتی ہے وہ؟؟میری ذات،میری محبت کو دھتکار کر خود آباد رہ لے گی۔۔۔؟؟نہیں نہیں نہیں۔۔۔برباد کردوں گامیں اسے۔۔۔سب فنا کرکے رکھ دوں گا اس کی خوشیاں،،،مسکراہٹیں،،، سکون۔۔۔عزت۔۔سب کچھ۔۔۔دیٹ ڈز اٹ۔۔۔۔“ درشتگی سے دھاڑتا ہوا وہ اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ چکا تھا۔
شیبی اپنے جگڑی یار کی بگڑی حالت دیکھ کر لب بھینچ گیا۔
یہ خبر واقعی اس کے دل پر چھڑیاں چلا گئی تھی۔
”شیبی۔۔۔!!!جو کام میں نے تم سے بولا تھا،وہ اب جلد از جلد ہوجانا چاہیے۔۔۔“ گہرے سانسوں میں پھنکار کر بولتا وہ چکنا چور ہوچکے شیشے پر انگارہ نگاہیں جمائے ہوئے تھا۔
اس بکھرے کانچ کی طرح بہت جلد ہی وہ کسی کی ذات بھی بالکل اسی طرح بکھیرنے والا تھا۔۔۔
جواباً اس کے بازو پر تسلی دیتے انداز میں ہاتھ رکھتے ہوئے شیبی نے سر اثبات میں ہلادیا۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”ویڈنگ نائٹ کی یہ سجاوٹ تو بہت دل سے کی گئی ہے مسٹر زیدان عالم درانی۔۔۔مگر جس کے لیے کی گئی تھی افسوس وہ تو یہاں ہے ہی نہیں۔۔۔!!!“ خوشبوار گلاب کی پتیوں کے سنگ جلتی ہوئی موم بتیوں کی سجاوٹ پرنظر ڈالتی وہ بےاختیار حیا کی ذات پر چوٹ کرگئی،،،تو زیدان نے اس گہرے طنز پر حسنہ کو بغور دیکھا۔۔۔جو اس پل اس کی سیج سجائے،اسکے مقابل بیٹھی تھی۔
”تمھیں کس نے کہا کہ یہاں نہیں ہے۔۔۔۔تم ہو تو سہی میری نظروں کے سامنے۔۔۔میرے قریب۔۔۔فقط تمھیں تصور میں رکھ کر میں نے اپنی موجودگی میں یہ ساری سجاوٹ کروائی تھی جانم۔۔۔بیلیومی۔۔۔“ چوڑیوں والی کلائی تھام کر نرمی سے پشت پر سلگتے لبوں کی چھاپ چھوڑتا ہوا،وہ اپنی پہلی بےباکی سے حسنہ وقاص کا دل شدتوں سے دھڑکا چکا تھا۔
”اتنی محبت کرتے ہیں مجھ سے۔۔۔؟؟“ وہ اس کے سحر میں جکڑی تھی۔
”تمھیں کھو دینے کے ڈر نے مجھے محبت سے عشق کے درجے پر پہنچادیا ہے حسنہ زیدان عالم درانی۔۔۔حد سے ذیادہ چاہنے لگا ہوں میں تمھیں۔۔۔۔۔“ زیدان اس کے من بھاتے نقوش کو گہری نگاہوں سے تکتا ہوا گھمبیر لہجے میں بولا۔
پھر چمکتی پیشانی پر ٹکی بندیا کو نرمی سے اتارتا حسنہ کے دل کی دھڑکنیں مزید بڑھا گیا۔
”میں بھی آپ سے بہت محبت کرتی ہوں زیدان۔۔۔پلیززندگی میں کبھی بھی مجھ سے بدگمان ہونے کی غلطی مت کیجیے گا۔۔ورنہ میں جیتے جی مرجاؤں گی۔۔۔۔“ جواباً حسنہ نے بھی قدرے مضبوط لہجے میں اپنی بھی چاہت کا یقین دلانا چاہا۔۔۔تو زیدان نے بھنویں سکیڑتے ہوئے اس کے سرخ لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی ٹکائی۔
”ششش۔۔۔تم سے بدگمان ہونے کے لیے شادی نہیں کی میں نے۔۔۔بےفکر رہو تم۔۔۔۔“ اپنا چہرہ حسنہ کے بےحد نزدیک کرتا وہ اس کے نقوش سرخ کرگیا تھا۔
”آپ کو اپنا بنانے کی خواہش تو پوری ہوگئی میری۔۔۔مگر دلہن بننے کا خواب تو خواب ہی بن کر رہ گیا ناں۔۔۔“ زیدان بڑی آہستگی سے اس کے مسکراتے لبوں سے انگلی سرکاتا ہوا ٹھوڑی تک لایا تھا،جب وہ اپنے دل میں پنپتی حسرت فوراً سے لبوں پر لائی۔
اس کی بات سنتا وہ دھیرے سے ہنس دیا۔
حسنہ وقاص کی مدھم روٹھی ہوئی ادا اس کے دل پر گہرا وار ہی تو کرگئی تھی۔
”دلہن نہ بن کر تم مجھ معصوم پر بجلیاں گرا رہی ہو۔۔۔سوچو اگر دلہن بن کر میرے سامنے آجاتیں تو مزیدکیا کیا غضب ڈھاتی۔۔۔؟؟“ ٹھوڑی پر نرمی سے انگوٹھا مسلتا ہوا وہ خمارزدہ لہجے میں اس سے پوچھ رہا تھا۔
”ہہمم۔۔خوبصورت تو میں ہوں۔۔۔۔“ اس کی بات پرکھکھلا کر ہنستی وہ اترائی تھی۔
”اور زیدان عالم درانی تمھاری اسی خوبصورتی کا دیوانہ ہے۔۔۔بہت حسین ہو تم جاناں۔۔۔تمھاری یہ مسکراہٹیں،یہ بےباک نگاہیں اور سب سے بڑھ کر قاتلانہ ادائیں۔۔۔اتنی دلفریب ہیں کہ،،،اب یہ بےمعنی فاصلے پل میں مٹادینے کو جی چاہتا ہے۔۔۔“ بھاری لہجے میں باور کرواتا ہوا وہ اس کے سر پر ٹکا سرخ رنگ دوپٹہ اتار کر الگ کر چکا تھا۔
حسنہ بنا پلکیں جھپکائے،بےتابانہ اس کے نقوش تک رہی تھی۔
”بےمعنی فاصلے رشتوں کو کھوکھلا کردیتے ہیں زیدان۔۔۔اور یہ ستم میرے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔۔۔۔“ اس کے پشت پر کھلے بالوں کو آگے کرتے ہوئے زیدان نے بڑے استحقاق سے خوشبو سونگھی تھی،جب وہ گہرے ہوچکے تنفس کے ساتھ اپنی رضامندی اس کے حق میں ظاہر کرگئی۔
وہ سرشار سا اس کی چمکتی پیشانی پر سلگتا لمس چھوڑتا ہوا حسنہ کو سکون سے آنکھیں موندنے پر مجبور کرگیا۔
”ہنی مون پر ہم ترکی جائیں گے۔۔۔۔“ روم کی بجھتی روشنیوں پر جہاں حسنہ وقاص کی دلی خواہش۔۔۔مدھم بےباک آواز کی صورت زیدان کی سماعتوں میں گھلی تھی،وہیں پل پل سرکتی ہوئی اس سیاہ رات میں دو دھڑکتے دل کسی معصوم کی سسکیوں،آہوں سے قدرے لاپرواہ۔۔۔ایک دوسرے میں مکمل گم ہوتے چلے گئے۔