Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

باہر لاؤنج میں کانچ ٹوٹنے کی صاف آواز پر وہ قدرے ٹھٹھک کر اپنے خیالوں سے باہر نکلی تھی۔۔۔
وقاص صاحب تو کچھ دیر پہلے ہی اُس سے مل کر یہاں سے جاچکے تھے۔۔۔
اور تو اور اُن کے گھر لگی نئی ملازمہ بھی پھرتیوں سے کام سمیٹتی ہوئی آج جلدی گھر چلی گئی تھی۔۔۔
ایسے میں گھر کے سارے دروازے بھی اچھے سے لاک تھے۔
تو پھر یہ باہر کون تھا۔۔۔۔؟؟؟
پریشانی سے شفون کا ہلکا گلابی رنگ دوپٹہ سر پر جماکر بستر سے نیچے اترتی حیا۔۔۔قدرے محتاط ہوکر اپنے کمرے سے باہر کی جانب لپکی۔
شروع کے کئی دن تو اُس نے وقاص صاحب کے اصرار پر انہی کے گھر میں گزار دئیے تھے۔۔۔لیکن باپ بیٹی میں ہوچکی صلح کی وجہ سے وہاں آئی حسنہ کو اُس کی موجودگی ایک آنکھ نہیں بھائی تھی۔۔۔
ویسے بھی اب رمیض اپنے آخری لیول کے فوری بعد پاکستان واپس آنے والا تھا،جبھی وہ وقاص صاحب سے ضد کرکے آج صبح ہی اپنے گھر واپس چلی آئی تھی۔۔۔
حیا وقاص دھک دھک کرتے دل کے ساتھ جہاں بےآواز قدموں سے چلتی ہوئی لاؤنج تک آئی تھی۔۔۔وہیں صوفے پر بڑے استحقاق سے ٹانگ پر ٹانگ جماکر بیٹھا زیدان عالم درانی اُس کا خائف چہرہ دیکھتا ہوا قدرے دلکشی سے مسکرایا۔۔۔
نتیجتاً حیا کی پریشانی میں شدت سے حیرت گھلی تھی۔۔۔
پھر بےاختیار سنساتے ذہن میں جھماکا سا ہوا۔
”ت۔۔تم۔۔؟؟؟تمھاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی۔۔ہاں۔۔۔؟؟؟نکلو۔۔۔فوراً نکلو میرے گھر سے۔۔۔۔آئی سیڈ گیٹ آؤٹ۔۔۔۔!!!“ بےاختیار اُس کے مقابل آکر رکتی وہ مشعتیل ہوتی چلائی تھی۔۔۔
مقابل کے ارادے بالکل بھی بھلے نہیں لگ رہے تھے۔۔۔جبھی تو اپنی نانی اماں کے گھر کی ڈوبلی کیٹ چابیوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے وہ تنہائی میں یہاں تک چلا آیا تھا۔
خود پر خاصا افسوس بھی ہوا تھا۔۔۔
بھلا وہ کیسے ڈبلی کیٹ چابیوں کی حقیقت کو سرے سے ہی بھلا سکتی تھی۔۔۔
مگر اُس کے غصے سے رتی بھر بھی مرعوب ہوئے بنا وہ۔۔۔ بڑی ڈھٹائی سے انگلیوں میں انگلیاں پھنساتا سر کے پیچھے رکھ گیا۔
جانے کیوں مگر آج وہ حد سے ذیادہ پُرسکون دیکھائی دے رہا تھا۔۔۔
”ریلکس حیا ڈارلنگ۔۔۔جسٹ ریلکس۔۔۔۔کیا ہوگیا ہے یار؟؟دیور ہوں میں تمھارا۔۔۔انفیکٹ فرسٹ کزن بھی تو ہوں۔۔۔فرسٹ محبت بھی۔۔۔کم از کم اِس سلوک کا تو روادار نہیں ہوں میں۔۔۔۔“ بڑے اطمینان سے ٹھہرے ہوئے لہجے میں اُس کا اطمینان غارت کرتا وہ دھیرے سے ہنسا تھا۔
ضبط سے نازک مٹھیاں بھینچتی حیا کا دل شدت سے اُس کے لبوں کی مسکراہٹ نوچ لینے کو چاہا۔۔۔۔
”بالکل صحیح کہہ رہے ہو۔۔۔تم اِس سلوک کے نہیں۔۔۔بلکہ اس سے بھی کہیں ذیادہ گھٹیا سلوک کے روادار ہو۔۔اب دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔“ قدرے بدلحاظی سے گویا ہوتی وہ ہاتھ سے اُسے گھر سے باہر نکل جانے کا بول رہی تھی۔۔۔جب بڑھتی تذلیل پر یکدم سے اپنی مسکراہٹ سمیٹتا زیدان صوفے سے اٹھا۔
پھر ماتھے پر تیوری چڑھائے پلوں میں اُس کے قریب ترین آیا تو ڈوبتے دل کے ساتھ حیا بےساختہ پیچھے ہٹی۔
”اور اگر نہ ہوں تو۔۔۔۔؟؟؟؟“ سرعت سے اُس کا بازو دبوچ کر اپنی جانب کھینچتا وہ خائف چہرے پر غرایا تو۔۔۔اُس کی بےباک جرات پر حیا نے تیزی سے نم ہوتی نگاہیں پھیلا کر اُسے دیکھا۔
”د۔۔دور رہ کر بات کرو ورنہ خدا کی قسم تمھارا سر پھاڑ دوں گی میں۔۔۔۔“ شدت سے پھنکارتی ہوئی وہ ناکام مزاحمت میں لرزنے لگی تھی۔۔۔۔
جبکہ بنا کوٹ کے آفس ڈریس میں ملبوس زیدان کو اُس کی یہ خائف سی بغاوت حقیقتاً مزہ دے رہی تھی۔
بھلا وہ پہلے کیسے اُسے فراموش کرگیا تھا۔۔۔؟؟؟کیسے۔۔۔۔؟؟؟؟
گرفت سخت کرتے ہوئے اندر ہی اندر ایک افسوس سا اٹھنے لگا۔
”ارے۔۔۔تم تو مجھ سے ایسے خوفزدہ ہو رہی ہو جیسے ابھی میں تمھاری عزت و آبرو کو اپنے قدموں تلے روندھ ڈالوں گا۔۔۔ہونہہ۔۔آخر تم میری قربت میں اتنا مچلتی کیوں ہو۔۔۔ہوں؟؟؟بتاؤ ناں۔۔۔؟؟؟“ بھابی جیسے رشتے کو شدت سے بھاڑ میں جھونکتا ہوا۔۔ وہ تمسخر اڑاتے انداز میں جھٹکے سے اُس کا سر پر جما ڈوپٹہ کھینچ کر اتار چکا تھا۔
اُس کی بڑھتی شیطانیت پر بمشکل سسکی روکتی حیا کا وحشت تلے تنفس بگڑنے لگا۔
دکھتے بازو پر۔۔۔غلافی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر سرخ گالوں پر پھسلے تھے۔
اگر جو کبھی رمیض عالم درانی اپنے بھائی کی اِن بےباکیوں سے واقف ہوجاتا تو۔۔۔۔؟؟؟
یقیناً اپنے غضب کا گہرا طوفان برپا کر ڈالتا۔۔۔۔!!!
اور اِسی تباہی سے تو وہ اندر ہی اندر خوف کھاتی تھی۔۔۔۔
”تم جیسا وحشی انسان اگر بےلگام ہوجائے تو کسی بھی حد تک گِرسکتا ہے۔۔چھوڑوووو مجھے۔۔۔۔۔“ پوری قوت سے اُس کے چوڑے سینے پر نازک مکا مارتی حیا شدتِ بےبسی سے چیخی۔۔۔تو بنا کوئی اثر لیے۔۔زیدان کمینگی سے بھنویں اچکاتا ہوا اپنا نچلا لب کچل گیا۔
”اُففففف۔۔۔یہ بھیگتا ہوا خوف۔۔۔یہ غصیلے انداز۔۔۔۔یہ دلفریب جرات۔۔۔یہ کپکپاتی دھمکیاں۔۔۔سریسلی بڑا مزا دینے لگی ہیں مجھے اِس کھیل میں۔۔۔اور جہاں تک رہی میرے وحشی پن کی بات تو آفکورس اِس حد تک بھی گروں گا میں۔۔اور پورے حق سے گروں گا۔۔۔لیکن۔۔۔۔“ معاً جارحانہ انداز میں دوسرے بازو کو بھی جکڑکر جھٹکا دیتا وہ پل بھر کو رکا۔۔۔۔
تمسخر اڑاتی بےباک نگاہیں اُس کے مدھم وا پنکھڑی لبوں پر تھیں۔
خودکا سانس روکتی حیا کو اُس کی جھلساتی سانسوں سے کراہت ہونے لگی۔۔۔۔
”اس سے پہلے ڈیم شیور میں تمھاری طلاق کرواؤں گا۔۔۔پھر تمھاری بانجھ بہن کی پیشانی پر طلاق کا داغ سجاؤں گا۔۔۔اور عدت کے دن پورے ہوتے ہی ساری زندگی کے لیے تمھیں اپنے نام کرلوں گا۔۔۔کیسا لگا میرا پلین۔۔۔؟؟؟“ بڑی ہی سادگی سے اپنے خطرناک ارادے باورکرواتے ہوئے جہاں زیدان عالم درانی نے گھٹیا پن کی ساری حدوں کو پار کیا تھا۔۔۔وہیں دنگ ہوتی حیا اگلے ہی پل اپنی ساری برداشت کھوتی ہوئی قدرے تندہی سے اُس کے منہ پر تھوک گئی۔
”تھوووو۔۔۔۔۔۔۔“ ناقابلِ برداشت چھینٹے وجیہہ چہرے پر پڑتے ہی وہ قدرے سختی سے لبوں کے سنگ آنکھیں بھی میچ گیا تھا۔۔۔
نتیجتاً اُس کی گرفت ڈھیلی پڑتے ہی حیا نے دکھتے بازوؤں کے ساتھ۔۔۔پوری قوت سے کشادہ سینے پر ہتھڑ مارتے ہوئے اُسے کئی قدم دور دھکیلا۔
پھر بھیگے گال بےدردی سے صاف کرتے ہوئے شہادت کی انگلی اُس کی جانب اٹھائی۔۔جو تن چکی رگوں کے ساتھ بڑے ہی ضبط سے ہاتھ پھیر کر اپنا جلتا چہرہ صاف کرچکا تھا۔
اُفففف۔۔۔۔اِس قدر ذلالت۔۔۔۔۔۔!!!!
”دوبارہ مجھے چھونے کی حماقت مت کرنا تم ذلیل انسان۔۔۔تمھارا یہ بےہودہ کھیل اب میری برداشت سے بالکل ہی باہر ہوچکا ہے۔۔۔۔ایک بار۔۔بس ایک بار رمیض کو میرے پاس آلینے دو۔۔۔پھر دیکھنا کیسے میں تمھارا یہ غلیظ چہرہ اُن کے سامنے لاتی ہوں۔۔۔۔یہ ناحق ذیادتیاں جو تم میرے ساتھ کررہے ہو ناں۔۔۔۔ایک ایک بات بتاؤں گی میں اُنھیں۔۔۔سانسیں چھین لیں گے وہ تمھاری۔۔۔۔۔“ کرلاتے دل کے ساتھ مضبوط ترین لہجے میں دھمکاتی ہوئی وہ اگلے ہی پل خود کو کمرے میں بند کرنے کے لیے وہاں سے پلٹتی بھاگی تھی۔۔۔۔جب اُس کی نیت بھانپ چکا زیدان بھی دوڑ کر اُس کے پیچھے لپکا۔
گلابی رنگ شفون کا دوپٹہ تو کندھوں سے پھسل کر کہیں پیچھے ہی گر چکا تھا۔
”آااا۔۔اا۔۔ہ۔۔۔بابا۔۔۔۔۔!!!“ اس سے پہلے کہ حیا کمرے کی دہلیز پھلانگتی۔۔۔۔معاً بےدردی سے بالوں سے دبوچ کر اپنی جانب گھوماتا ہوا۔۔وہ اگلے ہی پل دانت پیس کر اُسے قریب دیوار کی جانب دھکیل گیا۔
سخت کھینچاؤ کے سبب سر میں اٹھتی ٹیسوں کو برداشت کرتی وہ بمشکل سنبھل کر سیدھی ہوئی تھی۔۔۔جب تندہی سے قریب ترین آتا زیدان اُس کے دائیں بائیں دیوار پرسختی سے ہتھیلیاں جما گیا۔
جواباً حددرجہ سہم کر دیوار میں گھسنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے۔۔۔حیا کا لرزتا دل اُس کے خطرناک تیوروں پر اچھل کر حلق میں آیا۔
طوفانِ بدتمیزی پر مضبوطی سے بندھا جوڑا تقریباً کھل چکا تھا۔
”تم رکواؤ گی اپنے شوہر کے ہاتھوں میری سانسیں۔۔۔؟؟؟ہہمم۔۔۔۔؟؟؟وہ شوہر جو خود ترکی جاکر بند کمرے میں اپنی سابقہ بیوی کی بانہوں میں سکون تلاش کرتا پِھررہا ہے۔۔جانے کتنی ہی راتیں ڈیمٹ۔۔۔کوکنگ کمپیٹیشن کے بہانے رومینس کی ساری حدیں پار کر رہا ہے۔۔۔۔وہ۔۔۔وہ کمزور النفس انسان غیرت کے نام پر میری سانسیں روکے گا۔۔۔۔؟؟بولووووو۔۔۔۔۔“ اپنی پھولی سانسوں تلے آپے سے باہر ہوتا زیدان اُس کے سرخ چہرے پر قدرے چیخ کر پوچھ رہا تھا۔۔۔۔
جبکہ اِس غیرمتوقع۔۔بدترین انکشاف پر بگڑے تنفس کے ساتھ حیا نے چونک کر اُس کا تنا چہرہ دیکھا۔
بھیگی آنکھوں میں حقارت سمٹ آئی تھی۔
”ی۔۔یہ کیا بکواس کررہے ہو تم۔۔۔۔؟؟؟“ اُس کے سینے پر دباؤ دے کر پیچھے ہٹانے کی کمزور کوشش میں۔۔وہ رتی بھر بھی یقین نہ کرتی ہوئی سسکی۔
اپنے جنون میں وہ شخص پاگل ہی تو ہوچکا تھا۔۔۔۔
”جانتا تھا میں۔۔۔جانتا تھا کہ یہ ناقابلِ قبول حقیقت تمھیں بکواس ہی لگے گی۔۔اسی لیے پکا ثبوت ساتھ لے کر آیا ہوں میں۔۔۔۔جس سے آج یہ صاف صاف ثابت ہوجائے گا کہ رمیض عالم درانی کھوکھلی محبتوں کی آڑ میں تمھیں دھوکہ دے رہا ہے۔۔فریب کررہا ہے۔۔۔فقط ایک میں ہی تمھارے قابل ہوں۔۔۔تھا۔۔۔ اور آخر تک رہوں گا بھی۔۔۔۔۔“ معاً ضبط سے سر ہلا کر پیچھے ہوتا وہ اگلے ہی پل جیب سے اپنا قیمتی موبائل فون باہر نکال گیا۔
نگاہوں کی سرخی گہری ہوئی تھی۔
حیا نے گھٹتے دل کے سنگ۔۔۔بہتے آنسوؤں میں اُسے جلتی اسکرین پر تیزی سے انگوٹھے چلاتے دیکھا۔
معاً مطلوبہ ویڈیو کلپ نکال کر اسٹارٹ کرتے ہوئے زیدان نے موبائل فون زبردستی اُس کے لرزتے ہاتھوں میں تمھایا۔۔۔۔تو حیا نے بےاختیار اپنی بھیگی نگاہیں چمکتی اسکرین پر ٹھہرائیں۔
وہ بمشکل دس سیکنڈ کی ویڈیو کلپ تھی۔۔۔۔جس میں دو نفوس ایک سائیڈ سے سر تا پیر دکھائی پڑتے صاف پہچان میں آرہے تھے۔۔۔
بےیقینی تلے حیا کی سانسیں اٹک سی گئیں۔۔۔۔
رمیض عالم درانی کا کسرتی وجود اُس کی سابقہ بیوی کی کَسی ہوئی نیم عریاں بانہوں میں بالکل ساکت تھا۔۔۔۔
ایسے میں گھٹنوں تک آتے نیم عریاں لباس میں آتشیِ جوالہ بنی وہ عورت بلاشبہ تنہائی میں کسی بھی مرد کا ایمان ڈگمگا سکتی تھی۔۔۔۔
وہ تو پھر بھی رمیض عالم درانی کی پہلی محبت تھی۔۔۔۔۔
اُس کے چہرے کی رنگت زرد پڑتے دیکھ زیدان عالم درانی کے لبوں پر فتح یاب سی مسکراہٹ بکھری۔۔۔
دس منٹ کی ویڈیو میں سے فقط اپنے مطلب کا آدھا ادھورہ حصہ کاٹ کر دکھاتا وہ بڑی ہی سفاکی سے اعتبار کی بنیادیں ہلا چکا تھا۔۔۔۔
اب بس ایک اور گہرا وار کرنا باقی تھا۔۔۔
ایک آخری وار۔۔۔ایک آخری چال۔۔۔۔
جس کے نتیجے میں دونوں کے مابین اعتبار کی عمارت کا ٹوٹ کر بکھرنا تو طے ہی طے تھا۔۔۔۔
اگلے ہی پل روزینہ قدرے بےباکی سے اُس کی بےدم سی مردانہ کلائیاں تھام کر اپنی نازک کمر کے گرد باندھ گئی تھی۔
حیا کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹا تھا۔۔۔
اور بڑی ہی شدت سے ٹوٹا تھا۔۔۔۔
شاید بند ہوتا دل۔۔۔۔۔
معاً روح تک سرشار ہوتا زیدان اُس کی سماعت کے قریب جھکا تھا۔
”تم یہ تو ثابت کرگئی حیا وقاص کہ تمھارا سوکالڈ شوہر قاتل نہیں ہے۔۔۔مگر افسوس۔۔یہ چاہ کر بھی ثابت نہیں کر پاؤ گی کہ وہ ایک باوفا مرد ہے۔۔۔۔۔“ پُریقین لہجے میں سرگوشیانہ کہتا وہ پیچھے ہوا۔۔۔تو ساکت کھڑی حیا کے آنسو ٹوٹ کر رک چکی ویڈیو پر گرے۔
اصل حقیقت سے قدرے لاپتہ۔۔۔نازک وجود ان دیکھی اذیت سے بھرچکا تھا۔
”رمیض عالم درانی۔۔۔۔!!!!!“ اگلے ہی پل چھوٹ کر نیچے گرتے موبائل فون کے سنگ حیا وقاص کے بھیگے لب دھیرے سے سسکے تھے۔۔۔۔۔
سوچا نہ تھا آنسوؤں کی یہ سوغات ہوگی
نئے لوگ ہوں گے نئی بات ہوگی
انگ انگ ہر حال میں مسکائے گا
تمہاری محبت اگر ساتھ ہوگی؛
چراغوں کو نگاہوں میں محفوظ رکھنا
بڑی دور تک رات ہی رات ہوگی
پریشاں ہو تم بھی پریشاں ہوں میں بھی
چلو وفائے عدالت میں اب وہیں بات ہوگی؛
چراغوں کی لو سے ستاروں کی ضو تک
تمہیں میں ملوں گا جہاں بھیگتی رات ہوگی
جہاں وادیوں میں نئے پھول کھل آئیں
صداؤں کو الفاظ ملنے نہ پائیں؛
نہ بادل گھیریں گے نہ برسات ہوگی
کسی موڑ پر جلد ہی روبرو ملاقات ہوگی۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”آااہ۔۔۔ہ۔۔۔۔۔“ ٹھنڈے پانی کی چھینٹے تپے نقوش پر مارتے ہوئے اُس نے گہرا سانس لے کر خود کا شفاف عکس آئینے میں دیکھا تھا۔
یہ وہ شخص تو قطعی نہیں تھا جس نے جانے کتنی ہی بار زلیخا عالم درانی سے محبت کے جھوٹے دعوے کیے تھے۔۔۔
اگلے ہی پل سر جھٹک کر ٹاول پکڑتا ہوا وہ دھڑکتے دل کے سنگ خود پر دھیرے سے ہنسا۔۔۔۔پھرسست روی سے چہرہ صاف کرتے ہوئے واشروم سے باہر نکل آیا۔
ان گزرتے دنوں میں۔۔۔ہارا ہوا دل اُس کے شاطر دماغ پر پوری طرح سے بھاری پڑچکا تھا۔۔۔۔
اور بھاری پڑتا بھی کیوں ناں۔۔۔!!!
آخر کو اپنی ہی بچھائی بساط میں وہ مخلص محبت کے ہاتھوں گہری مات جو کھا بیٹھا تھا۔۔۔۔
معاً جامنی رنگت کے ٹاول کو بیڈ پر بیٹھتے ہوئے فائق درید نے بےاختیار مدھم گیلے بالوں میں ہاتھ چلایا۔۔۔۔
”جانتا ہوں بہت برا ڈیڈا ہوں میں۔۔۔بہت سے بھی ذیادہ برا۔۔۔۔مگر اب میں مزید برا نہیں بننا چاہتا۔۔۔تھک گیا ہوں بہت۔۔۔۔اپنے کیے پر بےحد شرمندہ بھی ہوں۔۔۔تم۔۔۔تم اپنے دل کی تسلی کے لیے چاہے مجھے مارو پیٹو یا پھر سیدھا پانی میں پھینک دو۔۔۔ مگر مجھ پر ایک احسان کرو ناں یار۔۔۔۔مجھے میرا لٹل بیسٹ فرینڈ۔۔۔میرا لٹل چینمپ۔۔۔حمزہ فائق درید واپس لوٹا دو ناں۔۔۔ پلیز لوٹا دو۔۔۔پلیزززز۔۔۔“ اُس کے ننھے ننھے ڈھیلے ہاتھوں کو اپنے تپے رخساروں پر مارنے کی کوشش میں وہ کس قدر افسردہ ہوگیا تھا ناں۔۔۔۔
اِس قدر افسردہ کہ آنکھوں سے ٹوٹ کر گالوں پر لڑھکتے پشیمانی کے آنسو،،،حیرت میں کھڑے حمزہ کو بہت حد تک نرم پڑنے پر مجبور کرگئے تھے۔۔۔۔
یاد کرتے ہوئے فائق کے دل میں ہولے سے ٹھنڈ سی پڑی۔۔۔
”مجھے لگتا تھا جِن صرف رُلانا جانتے ہیں۔۔۔۔مگر ایسا نہیں ہے ڈیڈا۔۔۔۔جِن تو خود سے بھی رونا شروع کردیتے ہیں۔۔جیسے کہ اب آپ۔۔۔۔“ معاً اُس کی نرم گرفت سے اپنے ہاتھ چھڑواکر اُس کے آنسو چُنتا ہوا وہ نرم دل کا بچہ اپنی معصومیت میں بھی کتنا گہرا طنز کرگیا تھا ناں۔۔۔۔
جواباً فائق نے اثبات میں ہلاتے ہوئے سر کو جھکاکر بےاختیار حمزہ کے ہاتھ کی پشت کو چوما۔۔۔۔تو اُس نے بےاختیار سکون سے پلکیں جھپکائیں۔۔۔
”مجھ جیسے برے جِن ہوں تو رونا اُن کے لیے لازم ہوجاتا ہے میرے بچے۔۔۔۔لیکن ان سب کے باوجود بھی۔۔۔کیا تم سب کچھ بھول کر اِس بہت ہی بُرے جن کو معاف کروگے۔۔۔۔؟؟؟“ اُس کے مقابل گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بھیگتی ہوئی التجاء ہنوز تھی۔۔۔۔پُر شدت تھی۔۔۔۔
جواباً کئی لمحے گزرجانے کے بعد بے اختیار حمزہ کا دھیرے سے اثبات میں ہلتا ہوا سر۔۔۔فائق درید کو شدتِ راحت سے اُس بچے کو اپنے کشادہ سینے کے ساتھ لگانے پر مجبور کرچکا تھا۔۔۔
اور شاید یہ فائق درید کی بڑی خوش قسمتی ہی تھی جو حمزہ نے اپنی معصومیت میں اُس کا سیاہ راز ہنوز کسی پر ظاہر نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے جہاں وہ حمزہ سے قدرے نرمی۔۔۔قدرے مخلص محبت سے پیش آنے لگا تھا۔۔۔۔وہیں حسنہ وقاص کو بھی اب تنہائیوں میں ہراساں کرنے سے تقریباً باز آگیا تھا۔
ہاں یہ سب اُس کی انا کے لیے دشوار ضرور تھا لیکن۔۔۔پھربھی وہ اپنے انتقام سے حقیقتاً باز آچکا تھا۔۔۔
سوچوں کی گہرائی میں فائق درید کا دل و دماغ مزید ڈوبتا جارہا تھا۔
بوجھل طبعیت کا بہانہ بناکر آج وہ جان بوجھ کر آفس نہیں گیا تھا۔۔۔
اور وجہ تنہائی میں خود کو آنے والے کٹھن حالات کے لیے تیار کرنا تھا۔۔۔
ہر لحاظ سے تیار کرنا تھا تاکہ وہ بذاتِ خود اپنی اصلیت بتاکر زلیخا عالم درانی کو خود کی سچی محبت کا یقین دلاتے ہوئے اعتماد میں لے سکے۔۔۔۔
لیکن۔۔کیا یہ سب اتنا آسان تھا۔۔۔۔؟؟؟
فائق نے غلافی آنکھیں میچ کر کھولتے ہوئے جہاں ضبط کا گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔وہیں مٹھی میں بڑا سا چاقو تھامے وہ دبے قدموں اُس کے کمرے میں داخل ہوئی۔
درانی پیلس میں اِس وقت اُن دونوں کے سوا کوئی بھی تو نہیں تھا۔۔۔۔
معاً اپنی پشت پر آہٹ محسوس کرتا فائق تیوری ڈالے پلٹا ہی تھا،،،جب بپھڑی ہوئی حسنہ نے ہاتھ میں پکڑے چاقو سے اُس کے سینے پر کاری ضرب لگانے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔۔
”وٹ دی ہیل از دِس۔۔۔۔۔؟؟؟یو ڈیمٹ۔۔۔پاگل مت بنو۔۔۔لیو اِاااٹ۔۔۔۔!!!“ اپنا سینہ خون آلود ہونے سے پہلے ہی وہ اُس کی کلائی کو بروقت قابو کرتا ہوا حیرت تلے دہاڑا تھا۔۔۔
مگر وہ بھیگی سرخ آنکھوں کے سنگ شدتوں سے نفی میں سر ہلاتی ہوئی اب بھی بےکار جانیلوا کاوشوں سے باز نہیں آرہی تھی۔
”تمھارے انتقام کا یہ کھیل۔۔۔۔آج میں خود اپنے ہاتھوں سے ختم کروں گی فائق درید۔۔۔۔۔چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔۔چھوڑو۔۔۔بس بہت ہوگیا اب۔۔۔آج۔۔ ابھی۔۔اور اسی وقت۔۔جان سے مار ڈالوں گی میں تمھیں۔۔۔کیونکہ اگر میں نہ مار سکی ناں۔۔تو پھر تم مجھے جیتے جی مار دو گے۔۔۔۔چھوڑووووووو مجھے۔۔۔۔۔“ مقابل کی سخت ترین گرفت سے خود کی کلائیاں چھڑوانے کو مچلتی ہوئی وہ پاگل ہی تو ہوچکی تھی۔۔۔
”او جسٹ شٹ ااااپ یو سائیکو۔۔۔۔۔۔“ جواباً آپے سے باہر ہوتے کیفی نے بےاختیار الٹے ہاتھ کا تھپڑ پوری شدت سے اُس کے چہرے پر دے مارا۔۔۔۔
تڑاااااااخ۔۔۔۔۔۔۔“ نتیجتاً کمرے میں گونجتی بھاری آواز کے سنگ حسنہ توازن نہ سنبھالتی جھٹکے سے نیچے گری تھی۔۔۔۔
فائق نے پلوں میں نیچے گرا تیز دھاڑ چاقو اٹھاکر تندہی سے کھلی کھڑکی کے پار اچھال پھینکا۔۔۔۔تو وہیں بیٹھے۔۔ حسنہ نے سن ہوچکے سرخ گال پر ہاتھ جماتے ہوئے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔
”بالکل ایسا ہی تھپڑ تھا ناں جو اُس دن میں نے تمھیں پوری یونیورسٹی کے سامنے مارا تھا۔۔۔۔؟؟؟کاش اُس وقت تمھاری مردانگی میرے ہاتھوں ہرٹ نہ ہوئی ہوتی کیفی۔۔۔کاش مجھے پتا ہوتا کہ تم جیسے وحشی انسان کا بدلہ آنے والے دنوں میں مجھے کس دوہرے عذاب میں مبتلا کرنے والا ہے۔۔۔خدا قسم میں خود تم سے تین چار تھپڑ چپ چاپ کھا لیتی۔۔۔مگر خودکبھی تم پر ہاتھ اٹھانے کی حماقت نہ کرتی۔۔۔۔“ بھیگی آواز میں ماضی یاد دلاتی جہاں وہ بڑے ملال سے کہہ رہی تھی۔۔۔۔وہیں تندہی سے اپنے کمرے کی جانب آتی زلیخا سنسناتے دماغ میں کئی سوال بھرے۔۔۔بےاختیار ادھ کھلے دروازے کے قریب تھمی۔۔۔۔
معاً غصے تلے گہرے سانس لیتا فائق مٹھیاں بھینچ کر اُس کے مقابل پنجوں کے بل بیٹھا تھا۔
اُن دونوں کی کمرے میں تنہا موجودگی پر زلیخا کا دل بھنویں سکیڑتے ہوئے ڈوب کر ابھرا۔۔۔۔
لیکن پھر اگلے ہی پل سماعتوں سے ٹکراتی صاف بھاری آواز بڑی ہی سفاکی سے سیاہ حقیقتوں سے پردے اٹھاتی چلی گئی۔۔۔
”تم میرے معاملے میں تب بھی غلط تھی حسنہ وقاص تم آج بھی غلط ہو۔۔۔اگر وہ محض ایک تھپڑ ہوتا ناں تو شاید میں ضبط کر بھی جاتا۔۔۔۔مگر تمھاری سفاکی کی حد تو یہ ہے۔۔۔کہ تم نے اُس دل کو ریزہ ریزہ کرکے بکھیرا جس میں فقط تمھاری محبت بسی تھی۔۔۔۔اپنی بےوفائی کی آڑ میں اُس وجود کو توڑا جو صرف اور صرف تمھاری چاہ میں سانس لے رہا تھا۔۔۔اپنی مکاری تلے اُن سچے جذبات کو روندھا جو میں صرف اور صرف تمھارے لیے محسوس کرتا تھا۔۔۔“ حسنہ کا بھیگتا شکست زدہ چہرہ ٹھوڑی سے جکڑ کر۔۔۔سلگتے لہجے میں بولتا ہوا وہ بےآواز کھڑی زلیخا کی دھڑکنیں بےیقینی تلے ساکت ہی تو کرگیا تھا۔۔۔
”شدیدمحبت ہوچکی ہے مجھے آپ سے زلیخا عالم درانی۔۔۔آپ کے بنا زندگی جینے کا تصور اب میری سانسوں کے لیے جانلیوا بنتا جارہا ہے۔۔۔اس لیے۔۔اسی لیے جلد از جلد آپکو اپنی زندگی میں شامل کرکے خود کی ادھوری ذات مکمل کرنا چاہتا ہوں میں۔۔۔یہی۔۔۔یہی تو ہے میری حقیقت۔۔۔“ تیزی سے بھیگتی آنکھوں کے سنگ بمشکل دیوار کا سہارا لیتی وہ جیسے بےدم سی ہوئی۔
اتنا بڑا جھوٹ۔۔۔
اتنا صاف۔۔۔سفاک جھوٹ۔۔۔
بےدھڑک بولتے ہوئے وہ کانپ کیوں نہیں گیا تھا۔۔۔۔؟؟؟
”جب تم نے مجھے ویران کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی تھی تو پھر میں ایک وحشی انسان ہوکر بھی۔۔ایک گینگسٹرکا بیٹا ہوکر بھی۔۔۔بھلا کیسے تمھیں تمھارے شوہر کے ساتھ خوشحال چھوڑ دیتا ہاں۔۔؟؟؟ہر وقت تمھاری سانسیں خشک کیے رکھنے کا ایک یہی بہترین طریقہ تھا میرے پاس۔۔۔۔سو جو میرے دل میں آیا میں نے وہ کیا۔۔۔۔۔“ اپنی بیوی کی موجودگی سے ہنوز انجان۔۔۔وہ آج آخری بار۔۔۔اپنے اندر دبی ساری بھڑاس نکال دینے کے درپے تھا۔۔۔
جواباً نفی میں سر ہلا کر اپنی ٹھوڑی چھڑواتی حسنہ سسکی۔۔۔تو زلیخا سرخ گالوں پر پھسلتے آنسوؤں پر اپنی درد کرتی دھڑکنیں تھام گئی۔
دل پورے شور سے ٹوٹ کر بکھرا تھا۔
”غلط کررہے ہو بہت۔۔۔۔پہلے مجھے دیکھو پھر اپنے آپ کو۔۔۔اور بتاؤ۔۔۔؟؟؟کیا تم جیسا ینگ۔۔۔ہینڈسم۔۔۔اورکنوارا لڑکا اپنی لائف میں مجھ جیسی پکی عمر کی عورت کو ڈیزروَ کرتا ہے جو چار سال پہلے ہی بیوہ ہوچکی ہے۔۔۔؟؟؟“ اُسے اپنی ذات کے بارے میں تلخ حقیقت بتانے سے تو وہ بالکل بھی نہیں ہچکچائی تھی۔۔۔۔
مگر۔۔۔۔
”ہاں کرتا ہوں میں آپکو ڈیزروَ۔۔۔ہر لحاظ سے کرتا ہوں کیونکہ حقیقی محبتوں میں کوئی اونچ نیچ نہیں دیکھی جاتی زلیخا بی بی۔۔۔آپ میری یہ بات اچھے سے ذہن نشین کرلیں کہ کم یا ذیادہ عمروں کا فرق میری محبت کو رتی برابر بھی متاثر نہیں کرسکتا۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔“ اپنے انتقام کے لیے وہ اِس حد تک گِر گیا تھا۔۔۔
اِس حد تک۔۔۔۔!!!
اُفففففف۔۔۔۔افففففف۔۔۔۔اُفففففف۔۔۔۔
”مومی۔۔۔آئی ڈونٹ لائیک ڈیڈا بی کاز وہ بالکل بھی اچھے انسان نہیں ہیں۔۔۔اور نہ ہی میرے بیسٹ فرینڈ۔۔۔آپ خود بھی اُن سے ایوائڈ کیا کریں ناں۔۔۔میری بجائے آپ ہر وقت صرف انہی کے ساتھ چپکی رہتی ہیں۔۔۔۔“ اُس کی بدترین اصلیت سے تو حمزہ جیسا معصوم بچہ بھی واقف ہوچکا تھا پھر وہ کیوں نہ ہو پائی۔۔۔؟؟؟
کیوںںںںں۔۔۔۔؟؟؟؟
غلافی آنکھیں میچ کر کھولتے ہوئے۔۔۔پل پل ضبط کھوتی زلیخا کی دماغ کی رگیں پھٹنےلگیں۔
”خوشحال زندگی۔۔۔؟؟؟ہونہہ۔۔۔۔بھلا ایک بانجھ عورت کیا ہی اپنے شوہر کے سنگ خوشحال زندگی گزارے گی کیفی۔۔؟؟؟ہوں۔۔؟؟؟میں آدھی ادھوری عورت تو پہلے ہی برباد ہوں۔۔۔ماضی کا زہر اگل کر مزید برباد مت کرو مجھے۔۔۔میرے اِن جڑے ہاتھوں کو دیکھو۔۔۔بھیک مانگتی ہوں میں تم سے فائق درید۔۔۔چلے جاؤ میری زندگی سے،،،میرے گھر سے،،،میری نظروں سے دور۔۔۔اور پھر کبھی لوٹ کر واپس نہ آنا۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔“ لرزتے ہاتھ جوڑ کر شدتوں سے ملتجی ہوتی حسنہ وقاص۔۔۔اِس بار زلیخا کے ساتھ ساتھ مقابل کو بھی اِس نئے انکشاف سے چونک کر حیران ہونے پر مجبور کرگئی تھی۔۔۔۔۔
وہ بانجھ تھی۔۔۔؟؟؟
آدھی ادھوری عورت۔۔۔۔!!!!
فائق کی آنکھوں کی سرخی گہری ہوئی۔۔۔تو وہ ضبط سے سر جھکا گیا۔۔۔پھر آہستگی سے اُس کے پاس سے اٹھ کھڑا ہوا۔
”ٹھیک ہے۔۔۔میں اپنے انتقام کی ساری راہیں یہی پر ملیا میٹ کرتا ہوں حسنہ وقاص۔۔۔۔ساری رنجشیں۔۔سارے بدلے یہی معاف کرتا ہوں۔۔۔اس لیے نہیں کہ تمھاری محرومی جان کر مجھے تم سے ہمدردی ہوگئی ہے۔۔۔۔بلکہ اس لیے کہ مجھے حقیقتاً دل سے چاہنے والا ہمسفر مل چکا ہے۔۔۔اس لیے کہ مجھے زلیخا عالم درانی سے حقیقتاً محب۔۔۔۔۔!!!“ قطعیت بھرے نرم لہجے میں بولتے ہوئے جہاں اُس کی اٹھتی نگاہیں یکدم بھٹک کر اپنی جانب حقارت سے تکتی زلیخا پر پڑی تھیں۔۔۔۔وہیں لبوں سے پھسلتے الفاظ اپنے آپ ہی تھمتے چلے گئے۔۔۔
جبکہ اُس کی بات پر بمشکل یقین کرتی حسنہ۔۔۔اب خود بھی کھڑی ہوتی ہوئی خوشدلی سے مسکرائی۔
مقابل کا مضبوط لب و لہجہ صاف بتا رہا تھا کہ وہ کہیں سے بھی جھوٹ نہیں بول رہا تھا۔۔۔۔۔
”ز۔۔زلیخا۔۔۔۔۔۔۔!!!!“ ڈوبتے دل کے ساتھ فائق کے لب پھڑپھڑائے۔
اگلے ہی پل وہ قدرے بےتابی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اُس کی جانب لپکا تو ٹھنڈی پڑتی حسنہ نے بھی پلٹ کر زلیخا کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ بھلا کب آفس سے گھر چلی آئی تھی۔۔۔۔۔؟؟؟
”زلیخا۔۔۔؟؟؟زلیخا پلیز ایک بار ٹھنڈے دماغ سے میری بات۔۔۔۔۔۔!!!!! قریب ترین آکر رکتا وہ اپنی صفائی میں شدت سے بولنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔جب بےاختیار زلیخا کا ہاتھ اٹھا اور پوری شدت سے رخسار پر چھاپ چھوڑتا اُس کی بولتی بند کرگیا۔۔۔
”چٹااااااااخ۔۔۔۔۔۔۔“ تھپڑ کی گہری گونج نے جہاں فائق درید کو ضبط سے لب بھینچنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔وہیں حسنہ بےیقینی سے وا ہوتے لبوں پر ہاتھ جماگئی۔
معاملہ ایک دم ہی سنگین سے سنگین ترین ہوا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل وہ بہتی آنکھوں کے ساتھ بےتابانہ اُس کا گریبان اپنی مٹھیوں میں دبوچ گئی۔۔۔۔تو کیفی نے جلتی گال سے لاپرواہ ہوتے ہوئے اُس کا سرخ بھیگا چہرہ دیکھا۔
میرے لیے تمھاری وہ محبتیں۔۔۔وہ عاشقی۔۔۔وہ وعدے وہ دعوے سب۔۔۔ سب جھوٹ تھا۔۔۔؟؟فریب تھا۔۔۔؟؟ ڈرامہ تھا۔۔۔۔۔؟؟؟“ اُسے جھنجھوڑنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی زلیخا قدرے اذیت سے چیخ کر پوچھ رہی تھی۔
جواباًکیفی نے اُس کی گداز کمر پر اپنے بازوؤں کا سخت گھیرا باندھتے ہوئے اُسے سنبھالنا چاہا۔۔۔۔
”سنو۔۔۔سنو۔۔۔۔پہلے بے شک یہ سب میرا پری پلین ڈرامہ تھا مگر اب ایسا نہیں ہے۔۔۔میرا یقین کرو دلِ جاناں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔کیونکہ اب میں حقیقی معنوں میں تمھاری محبتوں کا۔۔تمھاری چاہتوں کا اسیر ہوچکا ہوں۔۔۔جانے انجانے میں گھاٹا تمھارا کرنے چلا تھا مگر حقیقی گھاٹے کا اہل تو میری خود کی ذات بن چکی ہے۔۔۔۔“ وہ گہر سانسوں میں بڑے ضبط سے ٹھہر ٹھہر کر اپنے شکستہ دل کی حالت بیاں کررہا تھا۔۔۔۔
نم ہوتی آنکھوں کے سنگ اُسے مسلسل اپنے یقین میں لینے کی کوششیں کررہا تھا۔۔۔
مگر زلیخا نفرت سے اُس کی جانب دیکھتی ہوئی صاف نفی میں سر ہلاگئی۔۔۔
یقین کی عمارت ٹوٹ کر بکھرچکی تھی۔۔۔۔بھلا کہاں بھروسہ کرتی۔۔۔۔!!!
”جھوٹ۔۔!!!ایک بار پھر جھوٹ۔۔۔سراسر جھوٹ ہے یہ کیونکہ تمھارا غلیظ سچ تو میں تمھارے منہ سے پہلےہی سن چکی ہوں۔۔۔اپنے بدلے کی آڑ میں توڑنا چاہتے تھے ناں تم مجھے فائق درید۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟؟لو دیکھو میری طرف۔۔۔ ٹوٹ گئی میں۔۔۔۔بکھر کر ریزہ ریزہ ہو گئی۔۔۔۔بلکہ اندر ہی اندر مر چکی ہوں میں۔۔۔۔اب تو تم خوش ہو ناں پوری طرح سے مجھے برباد کرکے۔۔۔؟؟؟مقصد پورا ہوچکا ناں اب تمھارا۔۔۔یہ۔۔یہ جلتا سینہ اب ٹھنڈا پڑچکا ناں تمھاراااا۔۔۔۔؟؟؟“ رو رو کر اُس کے سینے پر ضربیں مارتی ہوئی وہ اگلے ہی پل پوری قوت لگاکر اُسے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ٹھہر چکی تھی۔
اُن دونوں کو بھیگے خوف سے تکتی ہوئی حسنہ کو اب اپنا گھر صاف برباد ہوتا نظر آنے لگا۔۔۔
”آدھے ادھورے سچ پر یقین کرکے تم مجھے پورا فنا کرنے کی حماقت نہیں کرسکتی زلیخا۔۔۔۔فقط ایک بار مجھ پر بھروسہ کرکے دیکھو۔۔۔خدا کی قسم بڑی سچی محبت کرتا ہوں میں تم سے۔۔۔اور فقط تمہی سے کرتا ہوں۔۔۔۔۔“ معاً قریب ترین ہوکر اُس کا بھیگا چہرہ زبردستی تھامتا فائق ملتجیانہ غرایا تھا۔۔۔جب کچھ بھی نہ سمجھنے کو تیار زلیخا درشتگی سے اُس کے ہاتھ پرے جھٹک گئی۔
”چٹااااااخ۔۔۔۔۔۔“ بہتے آنسوؤں میں بےحسی کو پہنچتی ہوئی جہاں وہ ایک بار پھر سے مقابل کا گال تپانے کی جرات کرگئی تھی۔۔۔۔وہیں وہ شدتِ بےبسی سے انگارہ آنکھیں میچ کر کھولتا سختی سے مٹھیاں بھینچ گیا۔۔۔
”محبت محبت محبت۔۔۔۔دوبارہ نام مت لینا اِس محبت کا اور نہ ہی اب چھونا۔۔۔نفرت ہوگئی ہے مجھے تم سے۔۔۔تمھاری فریبی قربت سے۔۔۔تمھارے ایک ایک لفظ سے۔۔۔نکلو۔۔۔نکل جاؤ میری زندگی سے دفع ہو جااااااؤؤؤ۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھائے کلس کر کہتی ہوئی وہ۔۔۔اگلے ہی پل اُس کا گریبان دبوچتی قدرے تندہی سے باہر لاؤنج کی جانب لپکی۔
”یہ مت کرو زلیخا۔۔۔۔تم جو بھی سزا دو گی بڑی سے بڑی سزا۔۔۔۔مجھے تہے دل سے قبول ہوگی مگر جدائی کے نام پر یہ موت مت دو۔۔۔تم جانتی ہو میں اِس طرح جی نہیں پاؤں گا یار۔۔۔۔تمھاری نفرت کے بوجھ تلے جیتے جی مر جاؤں گا میں۔۔۔۔۔“ اپنا آپ بذاتِ خود اُس کے ساتھ گھسیٹ کر لے جاتا ہوا وہ بےچینی سے بولتا چلا جارہا تھا۔۔۔جب زلیخا نے لاؤنج پار کرتے ہوئے پوری قوت سے اُسے داخلی دروازے کی جانب دھکیلا۔
ایسے میں خشک سانسوں کے سنگ دل پر ہاتھ جماتی حسنہ بھی بےجان قدموں سے اُن کے پیچھے آئی تھی۔
”تو مرجاؤ فائق درید۔۔۔۔مر جاؤ ناں تم۔۔۔۔میں بددعائیں دوں گی تمھیں۔۔۔ساتھ ہی تمھاری پرانی معشوقہ کو بھی۔۔ مگر اپنی محبت قطعی نہیں دوں گی اب تمھیں یاد رکھنا میری یہ بات۔۔۔۔“ بھیگے گال رگڑ کر صاف کرتی زلیخا جہاں اُس کا سرخ چہرہ دیکھتی ہوئی قدرے بےدردی سے چلائی تھی۔۔۔وہیں دروازہ کھول کر حیرت سے اندر داخل ہوتا زیدان عالم درانی اپنی بہن کی چیختی بھڑاس کو بآسانی سن چکا تھا۔۔۔
صوفے کے قریب بمشکل کھڑی حسنہ کو اپنا پھڑپھڑاتا ہوا دل بےاختیار بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔
”ی۔۔یہ آپ اپنے شوہر کے ساتھ کیسا سلوک کررہی ہیں زلیخا آپاں۔۔۔؟؟سب۔۔سب خیریت ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟“ ماتھے پر بل ڈال کر پوچھتا ہوا وہ شدت سے معاملے کی سنگینی کو جاننا چاہ رہا تھا۔
فائق نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی۔۔۔۔
دل کے ساتھ ساتھ سینہ بھی جل رہا تھا۔۔۔
”کچھ خیریت نہیں ہے زیدان۔۔۔کچھ بھی خیریت نہیں ہے۔۔۔۔میرے سفاک شوہر نے تمھاری بانجھ بیوی کے ساتھ مل کر چیٹ کیا ہے مجھے۔۔۔میری۔۔میری زندگی برباد کر ڈالی ہے اِنھوں نے۔۔اِس سے بڑھ کر اور کیا برا ہوسکتا ہے بھلا۔۔۔۔۔۔۔“ سسک کرکہتی ہوئی زلیخا نے بےساختہ اپنی دکھتی کنپٹیاں جکڑی تھیں۔۔۔
زیدان کا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔۔
معاً قہر کی ایک بھرپور نگاہ سامنے کھڑی حسنہ کے فق چہرے پر ڈالتا اگلے ہی پل وہ غصے سے مٹھیاں بھینچتا ہوا فائق کی جانب پلٹا۔۔۔۔۔تو اُس کے قریب آکر رکنے کے باوجود بھی وہ ہنوز بےخوفی سے سینہ تانے کھڑا تھا۔
”سالے دھوکے باز انسان۔۔۔۔آج میں تجھے زندہ نہیں چھوڑوں گا کمینے۔۔۔۔“ درشتگی سے گریبان دبوچتے ہوئے زیدان نے پوری شدت سے مقابل کے جبڑے پر مکا دے مارا۔
اور پھر بنا رکے مغلظات بکتا ہوا مارتا ہی چلا گیا۔۔۔۔
اِس ہنگامی صورتحال پر صوفے کا سہارا لیتی حسنہ کے دل کو کچھ ہونے لگا۔
سب کچھ ہی تو فنا ہوگیا تھا۔۔۔۔سب کچھ۔۔۔۔
بنا ہاتھ اُٹھائے ضد سے زد و کوب ہوتا فائق۔۔۔مسلسل چیلنج کرتی بھیگی انگارہ نگاہوں سے زلیخا کے متغیر ہوتے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
اُس کی اِس قدر ڈھٹائی پر وہ۔۔۔جلتے دل پر ضبط کرتی ہوئی بےاختیار اپنا رخ پھیر گئی۔
پھر قدرے تاسف سے اپنی کوکھ پر ہاتھ جماتی ہوئی سسکی۔۔۔۔جہاں فائق درید کی اولاد پورے حق سانس لے رہی تھی۔۔۔۔۔