Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

”تمھاری بیسٹ فرینڈ کا شوہر ہوں میں۔۔۔اگر روزی کو ذرا سی بھی بھنک پڑگئی کہ تم جان بوجھ کر مجھے پھانسنے کی کوششیں کررہی ہو تو وہ تمھیں جان سے مار ڈالے گی۔۔۔“ وہ حاتم شیراز کے لاکڈ آفس روم میں بڑی بےباکی سے اسکی کشادہ گود میں براجمان گردن کو تھامے ہوئے تھی،جب ایما کی گولڈن لٹ کو نرمی سے کان کے پیچھے اڑستا وہ خمارزدہ آواز میں گویا ہوا۔
ڈراتے لہجے میں صاف غیرسنجیدگی گھلی ہوئی تھی۔
بلاشبہ وہ چوبیس سالہ امریکن لڑکی روزینہ سے کم حسین تھی،مگر دو چار ملاقاتوں کے بعد سے،،،ایک عورت ہونے کے ناطے اس جیسے رنگ باز مرد کو بہکانے میں بڑی حد تک کامیاب ٹھہری تھی۔۔۔
یہ اس کی بےباکیوں کا ہی اثر تھا جو وہ اب بھی اس کے لیے اپنی ایک چھوٹی سی میٹنگ کو کینسل کرچکا تھا۔
”مر تو میں پہلے ہی چکی ہوں تم پر ڈارلنگ،،،تمھاری اِس ہاٹ پرسینلٹی پر۔۔۔۔صاف صاف بولو ناں کہ تم اپنی بیوی سے ڈرتے ہو۔۔۔۔“ ایما اسکی ٹائی سے چھیڑچھاڑ کرتی ہوئی آخر میں منہ بسور کر خالصتاً انگریزی میں بولی تو ہیری کی دبی دبی مسکراہٹ پل میں سمٹ گئی۔
”حاتم شیراز (ہیری) نام ہے میرا۔۔۔ڈرانا جانتا ہوں مگر ڈرنا میری فطرت میں شامل نہیں ہے سوئیٹ ہارٹ۔۔۔رمیمبر اٹ۔۔۔“ مضبوط لہجے میں کہتا ہوا وہ اس کی پیلے رنگ کی ٹائٹ شرٹ میں پھنسی نازک کمر پر گرفت سخت کرگیا تو ایما اپنا تیر صحیح نشانے پر لگتا دیکھ کھلکھلا کر ہنس دی۔
تو بالآخر جہاں وہ اپنی بیسٹ فرینڈ کے شوہر کو اپنی دلفریب اداؤں کے جال میں مکمل پھنسا چکی تھی،وہیں اپنی مردانگی پر زعم کرتا ہوا ہیری خود کی بیوی کے ساتھ بےوفائی کرنے میں بلاجھجک رضامند ہوا تھا۔۔۔
گویا قسمت ایک بار پھر سے دغا بازی کے بدترین پنوں کو واپس پلٹنے کے لیے شدتوں سے اتاولی ہوئی تھی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
آج اُنھیں ترکی کے شاندار ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تقریباً تیسرا روز ہونے کو آیا تھا۔۔۔
آئے دن گھومنا پھرنا،شاپنگ،ہوٹلنگ اور محبوب شوہر کے سنگ گزرتے ہوئے حسین ترین رومانوی لمحات حسنہ وقاص کی ذات کو معتبر کرنے کو کافی تھے۔
زیدان ایک بار پہلے بھی ترکی آچکا تھا۔
دھوکے بازی سے ہی سہی،،،مگر زیدان کو اپنا بنانے کا فیصلہ اسے اپنی زندگی کا سب سے باشعور اقدام لگا تھا۔۔۔
اور اس پر وہ شرمندہ تو قطعی نہیں تھی۔
زیدان کے یکدم ہنی مون پر جانے کا سن کر گھر والوں کو وقتی حیرت تو ہوئی ہی تھی۔۔۔بلاشبہ یہ پسند کے برعکس سمجھوتے کی شادی تھی،مگر وہ بڑی ہوشیاری سے سب کو اپنی جانب یہ بتاکر قائل کرچکا تھا،کہ سب تلخیوں کو فراموش کرکے جتنا وقت وہ دونوں میاں بیوی سکون سے ساتھ گزاریں گے،اتنا ہی آئندہ آنے والے وقت میں یہ سب ان کے لیے مفید رہے گا۔
اپنی حقیقی محبت کو ہنوز پسِ پردہ رکھتے ہوئے۔۔۔گویا سمجھداری کے نام پر سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا بڑا ہی اچھا طریقہ نکالا گیا تھا یہ۔۔۔
آتے آتے وہ خاص کر اپنی بڑی بہن کا دل جلانے کی غرض سے اس کے نمبر پر اپنے ہنی مون کو لے کر لمبا چوڑا میسج بھی چھوڑ آئی تھی۔
آج بھی وہ زیدان کے ساتھ سمندر کنارے بنے ہوئے اوپن ریسٹورنٹ میں لنچ کرنے کے بعد اب اشتیاقاً ترکی کی کشادہ سڑکوں شاہراہوں پر گھوم پھر رہی تھی۔
آج کا موسم بھی چلتی ہواؤں کے سنگ ہلکے سرمئی بادلوں کی آمد پر خوشگوار سا تھا۔
رستے میں آتی شاپس اور سٹالز بیچ بیچ میں حسنہ کی توجہ کھینچنے کا سبب بنتے۔
ایسے میں کتنوں کی ہی بھرپور نگاہیں حسنہ وقاص کے دوپٹے سے ندارد۔۔۔سرخ رنگ مغربی طرز کے لباس سے چھلکتے دلکش وجود پر پڑتی تھیں،جس سے ساتھ چلتے زیدان عالم درانی کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑرہا تھا۔
اس کے نزدیک بیرونی ممالک میں ایسے گھومنا پھرنا ایک نہایت معمولی سی بات تھی۔
معاً حسنہ کی نگاہ سامنے ترکش آدمی پر پڑی جو رنگ برنگی بڑی بڑی سی کاٹن کینڈیز لیے کھڑا تھا۔
”ہاا۔۔ہ۔۔۔کاٹن کینڈی۔۔۔پلیز پلیز پلیز زیدان مجھے یہ لے کر دیں ناں۔۔۔۔“ بڑے لاڈ سے کہتی ہوئی وہ زیدان کو کسرتی بازو سے دھکیل کر اس شخص کے پاس لے گئی۔۔۔جوکہ اب اپنے پاس آنے والے نئے گاہکوں کی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔
”ہیپی ناؤ۔۔۔۔۔؟؟؟“ ہلکے گلابی رنگ کی بڑی سی کاٹن کینڈی خرید کر اسے پکڑاتے ہوئے زیدان نے مدھم سا ہنس کر پوچھا تو جلدی سے ریپراتارتی حسنہ سر اثبات میں ہلاتی ہوئی کھلکھلائی۔
بلاشبہ وہ لیراز کی صورت میں کاٹن کینڈی کی قیمت اپنی مرضی سے ذیادہ دے چکا تھا۔
یکلخت زیدان کی جیب میں بجتے ہوئے موبائل فون نے اس کی توجہ کھینچی تو کاٹن کینڈی کی بائٹ لینے کو بےتاب حسنہ بھی چونک سی گئی۔
”ہیلو۔۔۔ہاں فراز بولو۔۔۔۔سب خیریت۔۔۔؟؟“ کال پک کرتے ہی زیدان کچھ قدم چلتا ہوا ایک سائیڈ پر آ رکا تھا،جبکہ اس کے چہرے پر در آنے والی سنجیدگی سے بےخبر حسنہ کاٹن کینڈی کھاتی ہوئی زیدان کی پشت دیکھنے لگی۔
گزرتے پلوں میں جہاں اُس کی بات چیت طول پکڑتی جا رہی تھی۔۔۔وہیں کھڑے کھڑے حسنہ کے دماغ میں تیزی سے شرارت کی چنگاڑیاں بھڑک اٹھیں۔
زیدان کے پاس جانے کی بجائے اگلے ہی پل وہ دبے قدموں بھاگ کر قریبی گلے میں جا گھسی تھی۔۔۔
ارادہ چھپ کر زیدان کو تنگ کرنے کا تھا لیکن جاتے جاتے کاٹن کینڈی والے متوجہ شخص کو سرخ لبوں پر شہادت کی انگلی جما کر چپ رہنے کا اشارہ کرنا بالکل بھی نہیں بھولی تھی۔
اطراف میں بنے چھوٹے بڑے گھر خوبصورت تھے۔
آدھا گلا پار کر چکی حسنہ نےپھولی سانسوں میں پلٹ کر دیکھا،مگر زیدان کا ہنوز کچھ اتا پتا نہیں تھا۔
اس کشادہ ویران گلے کے آخری سرے سے دوسرے گلے کا رستہ اٹیچ تھا۔
”اففف زیدان۔۔۔کہاں رہ گئے ہیں آپ۔۔۔؟؟اب آ بھی جائیے ناں مجھے ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں تک۔۔۔“ کینڈی کا سواد باقاعدگی سے چکھتی وہ بےتابی سے بڑبڑائی تھی جب یکدم ہی ایک ڈرا سہما بچہ دوسرے گلے سے نکل کر اس کے عین سامنے آیا۔
“Yardım et leydime yardım et beni bu köpekten kurtar”
”مدد کرو۔۔۔مدد کرو میری محترمہ۔۔بچاؤ مجھے اس کتے سے۔۔۔“ وہ کوئی سات سالہ چھوٹا سا بچہ تھا جو پوری قوت سے اپنی ترکی زبان میں چیختا ہوا بھاگ کر اسی کی جانب آرہا تھا۔
”بھبھ۔۔۔بھاؤ۔۔بھاؤ۔۔۔۔“ معاً سفید رنگت کا ہٹاکٹا۔۔پبھرا ہوا کتا بھی بھونکتا ہوا گلے سے باہر نکلا۔
”ہااا۔۔۔ہ۔۔۔۔کتا۔۔۔۔۔“ بچے کو حیرت سے تکتے ہوئے معاً حسنہ کی الجھی نگاہیں پیچھے پڑے کتے پر پڑیں تو بےاختیار سہمتی ہوئی وہ جلدی سے پاس ہی گھر کی دہلیز تک لپکی۔
یہ یقیناً اس کی خوش قسمتی ہی تھی جو پہلے سے ہی ان لاک گیٹ کے سبب،،،کاٹن کینڈی وہیں گراتی وہ آناً فاناً اندر گھسی تھی۔
قریب پہنچ چکے اُس شرابور بچے کا رنگ گیٹ کا دروازہ واپس بند ہوتے دیکھ شدت سے فق ہوا تھا۔
“Lütfen beni bu köpekten kurtarın yoksa ısırır lütfen kapıyı açın içeri gireyim.”
”پلیز مجھے اُس کتے سے بچالو۔۔۔ورنہ یہ مجھے کاٹ کھائے گا۔۔۔۔پلیز دروازہ کھولو میرے لیے۔۔۔مجھے اندر آنے دو۔۔۔۔“ رک کر گیٹ کا چھوٹا دروازہ پیٹتا ہوا وہ خوف سے روتا ہوا چیخ رہا تھا کہ شاید وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں لاک کھول کر اسے بھی پُھرتی سے اندر کھینچ لے گی،،،
مگر چھلانگ لگا کر اس پر جھپٹتے کتے نے گویا اس کی ساری امیدوں کے دم توڑے تھے۔
”آااااہہ۔۔۔ہہہہہہ۔۔۔۔ہہہ آنےےےے(امی)۔۔۔۔“ تکلیف کے مارے حلق سے نکلتی اُس بچے کی تندچیخیں جہاں دروازے کے ساتھ لگ کر سانس بحال کرتی حسنہ کو مزید بزدل بناگئی تھیں۔۔۔وہیں شازو نامی پریشان حال عورت،ہاتھ میں موٹا ڈنڈالیے پُھرتی سے اِس گلے میں داخل ہوئی۔
پھر زمین پر گرے خود کے بچے کو شدت سے زخمی ہوتا دیکھ،اکھڑتی سانسوں کے ساتھ سینے پر ہاتھ جماتی ان کی جانب بھاگی۔
ہتھے سے اکھڑ چکا وہ ظالم کتا اسکے روتے چیختے بچے کی ٹانگوں کو ہنوز بےدردی سےبھنبھوڑ رہا تھا۔
”دیکھو میں یہ دروازہ نہیں کھول سکتی مجھے کتوں سے بہت ڈر لگتا ہے۔۔۔تم یہاں رکنے کی غلطی مت کرو بلکہ آگے کو بھاگ جاؤ۔۔۔۔۔“ چیخ و بکا سن کر بھی لرزتی ہوئی تیز آواز میں تنبیہی کرتی حسنہ کا ضمیر خودغرضی تلے دب کر مکمل مرچکا تھا۔
“Sus. Sus. Yaaah. Sus. Çocuğumu bırak. Zavallıyı bırak. Yoksa seni öldürürüm. Git buradan. Git buradan.”
”ہشش۔۔۔ہشش یااااہ ہششش۔۔۔۔چھوڑ میرے بچے کو۔۔۔چھوڑ دے بدبخت ورنہ جان سے مار ڈالوں گی میں تجھے۔۔۔دفع ہوجا یہاں سے۔۔۔مردفع ہوووو۔۔۔“ شازو بھیگی آنکھوں کے ساتھ لاٹھیوں سے اس پاگل کتے پر ضرب در ضرب لگاتے ہوئے ترکی زبان میں چلا رہی تھی۔
اس دوران درد سے بلبلاتا وہ بچہ ہنوز ہوش میں تھا۔
”بھ۔۔بھاؤ۔۔۔بھبھ۔۔۔بھاؤ۔۔۔۔“ خود پر بھاری پڑتی لاٹھیوں کے سبب اذیت سے بھونکتا ہوا وہ کتا بالآخر وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا تھا۔
“Ah çocuğum Ay oğlum.”
”آااہہ میرا بچہ۔۔میرا چاند بیٹا۔۔۔۔“ موٹا ڈنڈا پرے پھینکتی شازو جہاں اپنے بری حالت میں زخمی پڑے بیٹے کے پاس آتی سسکی تھی،،،وہیں کتے کی غیر موجودگی کا احساس کرتی حسنہ بھی بڑی ہمت سے دروازہ کھولتی باہر نکل آئی۔
معاً اپنی ماں کی کشادہ گود میں سمٹے بچے کی اذیت سے روتی ہوئی خوفزدہ نگاہیں۔۔اُس اجنبی عورت کے سنجیدہ چہرے سے ٹکرائیں۔
“A..Anne… Annem çok acı çekiyor, kapıyı açmasını söyledim ama bana yardım etmedi ve beni vahşice bu köpeğe teslim etti.”
”ا۔۔امی۔۔۔امی بب۔۔بہت درد ہو رہا ہے۔۔۔میں نے اس کو بولا تھا۔۔د۔۔دروازہ کھول دو مگر اس نے میری م۔۔مدد نہیں کی اور مم۔۔مجھے بےرحمی سے اس کتے کے حوالے کردیا۔۔۔۔“ اپنی زبان میں بمشکل شکایت لگاتا وہ بچہ شہادت کی کانپتی انگلی حسنہ کی جانب کرگیا تو اپنے بچے کی تپی پیشانی چومتی شازو نے سرخ آنکھوں میں غضب لیے سے اس کی طرف دیکھا۔
تو گویا وہ بھی اُس خونخوار جانور کی مانند برابر کی قصوار تھی۔۔۔!!!
ان کی زبان سے لاعلم حسنہ جہاں اس کے زہریلے انداز پر بھر کو سٹپٹانے پر مجبور ہوئی تھی،وہیں اپنی محبوب بیوی کی تلاش میں اس وسیع گلے میں قدم رکھتا زیدان سامنے کا منظر دیکھتا چونکا۔
تیز ہواؤں کے سنگ چھائے سرمئی رنگ بادل پل پل گہرے ہوتے چلے جا رہے تھے۔
“Cadı. Hayatını kurtarmak için masum çocuğumu ölüme ittin. Sen nasıl bir kadınsın?
Sende biraz insanlık yok mu?”
”ڈائن۔۔۔تو نے اپنی جان بچانے کے لیے میرے معصوم بچے کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔۔۔کیسی عورت ہو تم۔۔۔؟؟کیا انسانیت نام کی چیز نہیں ہے تم میں زرا سی بھی۔۔۔؟؟“ ترکی زبان میں دھاڑتی ہوئی وہ کھولتے خون کے ساتھ اپنے نڈھال بچے کو وہیں چھوڑتی اٹھی،پھر قریب ترین آتی بےاختیار حسنہ پر جھپٹ پڑی۔
جواباً زیدان حیران ہوتا جلدی سے ان کی جانب بھاگا تھا۔
”آااہہہ۔۔۔پاگل ہوگئی ہو کیا تم جاہل عورت۔۔۔؟؟چھوڑو مجھے۔۔۔یُو بچ۔۔۔۔“ اپنے کھلے بال اسکی سخت مٹھیوں میں جکڑے دیکھ حسنہ بوکھلاتی ہوئی درد سے چلائی۔
مگر شازو نم سرخ آنکھوں کے سنگ ترکی زبان میں مزید اسے برا بھلا کہتی ہوئی بال ہی جڑ سے اکھاڑدینے کو تھی۔
ہنوز شفاف سرمئی زمین پر نیم دراز وہ بچہ درد سے سسکتا ہوا سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
”کیا ہورہا ہے یہ۔۔۔؟؟لیو مائے وائف۔۔۔۔“ زیدان نے قریب آتے ہی حسنہ کے سلکی بال شازو کی گرفت سے بمشکل چھڑواتے ہوئے،پوری قوت سے اسے پرے دھکیلا۔
نتیجتاً حسنہ خائف سی سسکتی ہوئی زیدان کے سینے سے جالگی تو شازو نے بڑے ضبط سے اس کے شوہر کو دیکھا۔۔۔
”ز۔۔زیدان۔۔۔۔یہ پاگل عورت جانے کیا اول فول بکے جارہی ہے تب سے۔۔۔؟اس کے بچے کو ایک پاگل کتا کاٹ کےبھاگا ہے اور اب یہ سرپھری اس کا غصہ بلاوجہ ہی مجھ پر نکال رہی ہے۔۔۔پلیز چلو یہاں سے۔۔۔“ خود کی غلطی چھپانے کو آدھی ادھوری بات بتاتی وہ بڑے خوف سے شازو کو دیکھ رہی تھی۔
اس کی بات پر ہوا میں اڑتے بالوں کو نرمی سے سہلاتے زیدان نے بڑے تحمل سے اثبات میں سر ہلایا۔
”چلو چلیں۔۔۔“ ایک بھرپورتاسف بھری نگاہ اپنی جانب تکتے نڈھال۔۔سسکتے ہوئے بچے پر ڈال کر آہستگی سے کہتا وہ حسنہ کے ہمراہ آگے بڑھا تھا۔
جبکہ اُنھیں وہاں سے جاتا دیکھ شازو تڑپ ہی تو اٹھی تھی۔
“Nereye götürüyorsunuz onu?masum biricik oğlum bu cadının vurdumduymazlığının kurbanı oldu, yüzünü kaşıyacağım.”
”کہاں لے جارہے ہو اس کو بھگا کر؟میرا معصوم اکلوتا بیٹا اس ڈائن کی سنگدلی کا شکار ہوچکا ہے میں اس کا منہ نوچ لوں گی۔۔۔“ غصےسے آگ بگولہ ہوتی شازو نے ایک بار پھر سے حسنہ کو اپنی وحشتوں کا نشانہ بنانا چاہا،مگر بروقت پلٹ کر شدت سے دھکا دیتے ہوئے زیدان نے اسے لڑکھڑا کر نیچے گرنے پر مجبور کردیا تھا۔
”جسٹ شٹ اپ یُو میڈ بلڈی وُومن۔۔۔اب اگر میری بیوی کو دوبارہ سے چھوا تو تمھارے دونوں ہاتھ توڑ کے رکھ دوں گا۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھاکر وارن کرتا وہ دہاڑا تھا جبکہ شازو اس کی سمجھ نہ آنے والی زبان پر اسے غصے سے گھور کر رہ گئی۔
شدتِ بےبسی سے آنسو ٹپ ٹپ گال بھگونے لگے تھے۔
حسنہ کے لب مسکرائے۔۔۔
“Anne….”
”امی۔۔۔۔“ اس دوران بچہ اپنی ماں کی حالت پر اٹھنے کی کوشش میں بری طرح سسکا۔۔۔
معاً ان دونوں کو سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پلٹ کر وہاں سے جاتا دیکھ شازو کے لب حرکت میں آئے تھے۔
“Benim. Hasret çeken bir annenin laneti üzerinize olsun. Senin gibi bir cadı asla anne olma şansına sahip olamaz. ”
”یہ میری۔۔۔ایک تڑپتی ہوئی ماں کی بددعا ہےتمھیں۔۔۔تم جیسی ڈائن کوکبھی بھی ایک ماں ہونے کا سکھ نصیب نہ ہو۔۔۔۔“ ہاتھ اٹھا کر شدت سے بد دعا دیتی ہوئی اُس عورت کی سلگتی زبان پر جہاں بروقت کرکتی ہوئی بجلی نے لبیک کہا تھا۔۔۔۔وہیں سر پڑتے اس بڑے خسارے سے قدرے انجان وہ اس سنسان گلے سے نکلتے چلے گئے۔۔۔
پیچھے شازو تڑپ کر اپنے اٹھ کر بیٹھ چکے بیٹے کی طرف لپکی تھی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”میری بیٹی سے خفا مت ہوں وقاص صاحب۔۔۔میری حیا بےقصور ہے۔۔۔بےقصور ہے وہ۔۔۔“ شفاف سفید رنگ کپڑوں میں ملبوس وہ دلبرداشتہ ہوکر کہہ رہی تھیں۔
نیلی روشنی میں چمکتا ہوا کلثوم بیگم کا سفید ہالے میں لپٹا بےداغ چہرہ اس پل ضبط سے سرخ ہورہا تھا۔
”بےقصور نہیں ہے وہ۔۔۔میرا مان توڑا ہے اُس نے۔۔۔اس کی خودسری نے کہیں پر بھی مجھےسر اٹھانے لائق نہیں چھوڑا۔۔۔“ جواباً ان کے مقابل سینہ تان کر کھڑے وقاص صاحب برہمی سے گویا ہوئے۔
لہجے میں غصے کی تپش واضح تھی۔
”وہ سچ بتا چکی ہے۔۔۔پھر بھی آپ سب اس کے ساتھ ذیادتی کررہے ہیں۔۔۔؟مت کریں ایسا بڑی اذیت میں ہے وہ۔۔۔۔“ شدت سےملتجی ہونے کے سبب آنسو ٹوٹ کر کلثوم بیگم کے گالوں پر پھسلے تھے۔
وقاص صاحب نے بےبہرہ ہوتے ہوئے ان کی طرف سے رخ پھیرلیا۔
”سچ۔۔۔؟؟؟بیگم وہ سچ نہیں بلکہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے محض حیلے بہانے تھے تمھاری بیٹی کے۔۔۔حقیقی قربانی تو میری چھوٹی بیٹی نے دی ہے سمجھوتے کی شادی کرکے۔۔اس ناقابلِ قبول رشتے کو نبھا کے۔۔۔جوکہ حیا کو نبھانے چاہیے تھے۔۔۔۔“ تندہی سےبولتے ہوئے وہ کلثوم بیگم کو شدتِ بےبسی سےسسکنے پر مجبور کرچکے تھے۔
”ابھی آپ محض وہی کچھ دیکھ رہے ہیں جو آپ کو ظاہری طور پر دکھایا جارہا ہے وقاص صاحب۔۔۔مگر یاد رکھیے گا۔۔۔ذیادتی کرنے والا ذیادتی بھگتنے کا بھی حقدار ہوتا ہے۔۔۔“ دکھ سے کہتی وہ ایک دم ہی چپ ہوئی تھیں۔
اور پھر ناختم ہونے والی طویل خاموشی نے وقاص صاحب کو بےچینی سے پلٹنے پر مجبور کردیا تھا۔
مگر صدافسوس کہ اب ان کی محبوب بیوی وہاں کہیں بھی نہیں تھیں۔۔۔
پھیلتے دھوئیں میں نیلی روشنی بھی تیزی سے مدھم پڑتی یخ اندھیرے میں بدلی تھی،جب وہ بگڑتے تنفس کے سنگ بند آنکھیں جھٹکے سے کھول گئے۔
”کلثوم۔۔۔۔۔۔!!!“ ڈوبتے دل کے ساتھ وقاص کے لب شدت سے پھڑپھڑائے تھے۔
اس دوران نیند کے سبب متلاشی زدہ سرخ آنکھیں پورے کمرے میں گھوم کر ناکام سی واپس لوٹ آئی تھیں۔
وہ اب واقعی میں کہیں بھی نہیں تھیں۔۔۔
نہ خواب میں نہ ہی حقیقت میں۔۔۔
لیکن جاتے جاتے ان کا حیا کی طرف سے سخت ہوچکا دل ضرور بےچین کرگئیں تھیں۔۔۔۔