No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
وہ سب اِس وقت بڑے سے لاؤنج میں گہری عدالت بنائے صدمے تلے خاموش کھڑ ے تھے۔۔۔۔
جبکہ وہ ماربل کے شفاف فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر سسکتی ہوئی کڑے کٹہرے میں موجود تھی۔
جہاں اُس کی بابت ایک ایک بات کھل کر سبھی گھر والوں کے سامنے آچکی تھی۔۔۔وہیں زلیخا،حمزہ کو ساتھ لے کر کب کی اپنے کمرے میں بند ہوگئی تھی۔۔۔۔
سب کی ضبط سے گھورتی ہوئی سخت۔۔تاسف زدہ نگاہیں اِس پل اُسے مارنے کی درپے تھیں۔۔۔جب اچانک وہ قدم قدم چلتا ہوا اُس کے سر پر آکھڑاہوا۔
حسنہ نے بھیگا چہرہ اٹھاتے ہوئے مقابل شخص کے سپاٹ وجیہہ نقوش دیکھے۔۔۔
وحشت تلے دل بند ہوکر پھر سے دھڑک اٹھا تھا۔
”م۔۔میں جانتی ہوں کہ مجھے سے بہت۔۔بہت بڑی خطا ہوگئی ہے۔۔۔پلیز مجھے معاف کردو۔۔۔۔۔“ اپنی ہچکیوں پر بمشکل قابو پاتی وہ ہاتھ جوڑ کر بڑے مان سے بول رہی تھی۔۔۔
معاًسمجھنے والے انداز میں سر ہلاتا وہ بےاختیار اُس کی جانب جھکا۔۔۔
”چٹااااااخ۔۔۔۔۔!!!“ معاً زیدان عالم درانی کا بھاری ہاتھ اٹھا۔۔اور پوری شدت سے پڑتا ہوا سب کی نگاہوں کے سامنے اُس کا بھیگا گال جلا کر رکھ گیا۔۔۔
نتیجتاً سسک کر اپنے سرخ رخسار کو انگلیوں سے چھوتی ہوئی حسنہ۔۔ شرمندگی سے سر جھکائے وقاص کے سینے میں درد بکھیر چکی تھی۔۔۔
”ہونہہ۔۔۔معاف کردو۔۔۔۔!!!تم ہم سب کی پیٹھ پیچھے اپنے پرانے عاشق کے ساتھ بدکرداریاں کرتی رہی۔۔۔ہماری آنکھوں میں بھر بھر کے دھول جھونکتی رہی۔۔۔۔یہاں تک کہ میری بڑی بہن کی ہنستی بستی زندگی تک اجاڑ کر رکھ دی تمھاری خاموشی نے۔۔۔۔اور تم کہہ رہی ہو کہ معاف کردوں میں تمھیں۔۔؟؟؟؟اتنا بےغیرت۔۔۔اتنا بےوقوف۔۔الو کا پٹھا لگتا ہوں میں تمھیں۔۔۔؟؟؟ہاااااں۔۔۔۔؟؟؟؟“ وہ قدرے حقارت سے اُس کے چہرے پر چیختا ہوا اگلے ہی پل سیدھا ہوا۔۔۔تو حسنہ کا وجود لرزنے سا لگا۔
”تمھیں تو اب صرف سزا سنائی جائے گی حسنہ وقاص۔۔۔۔مستقل آزادی کی سنگین ترین سزا۔۔۔۔۔“ سرخ چہرے پر ضبط سے ہاتھ پھیر کر وہ قطعیت بھرے لہجے بولا تو حسنہ نے قدرے بےیقینی سے اُس کی انگارہ آنکھوں میں ابھرتی چمک کو دیکھا۔۔۔
اس دوران حفصہ بیگم سمیت عالم صاحب بھی شدتِ بےبسی تلے ہنوز خاموش تھے۔
اور خاموش ہوتے بھی کیوں ناں۔۔۔؟؟
آخر کو حالات ہی اِس قدر بگڑ گئے تھے کہ سنبھالنا اب اُن کے بس سے تقریباً باہر ہوچکا تھا۔۔۔
باہر ہوچکا تھا کیونکہ زیدان بذاتِ خود اپنے اِس سنگین فیصلے پر بضد ہوچکا تھا۔
”نن۔۔نہیں نہیں نہیں۔۔۔تم ایسا کوئی جذباتی قدم نہیں اٹھاؤ گے۔۔۔م۔۔میں تمھیں دیوانگی کی حد تک چاہتی ہوں۔۔۔خدا کے لیے ایسی سزا مت دو مجھے۔۔۔م۔۔میں مرجاؤں گی۔۔۔میں مرجاؤووووں گی زیدان۔۔۔۔“ بےتابانہ اُس کی جانب کھسک کر بائیں ٹانگ کو جکڑتی ہوئی وہ صاف صاف ترلے منتوں پر اتر آئی تھی۔
اپنی بدبخت بیٹی کے سیاہ بختوں کو ملاحظہ کرتے ہوئے وقاص صاحب کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر آہستگی سے رخساروں پر لڑھکے۔
”تو مر جاؤ۔۔۔۔۔مر جاؤ میری بلا سے حسنہ وقاص۔۔۔۔۔آئی رئیلی ڈیم کئیر۔۔۔۔۔“ جواباً سرد ترین لہجے میں پھنکارتا ہوا وہ قدرے بدلحاظی سے حسنہ کو اُسی ٹانگ سے پرے جھٹک چکا تھا۔
حسنہ نے جھنجھناتے ہوئے دماغ کے ساتھ اُس کی جانب دیکھتے ہوئے بھیگی پلکیں جھپکائیں۔
”میں زیدان عالم درانی۔۔۔اپنے پورے ہوش وحواس میں۔۔۔ آہستگی سے جیبوں میں ہاتھ پھنساتا وہ بڑے مضبوط لہجے میں بول رہا تھا،،،جب وہ نفی میں سر ہلاتی جھٹکے سے اُس کے مقابل اٹھ کھڑی ہوئی۔
”تم جیسی بانجھ۔۔۔انتہائی بدکردار عورت کو طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔“ زیدان نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بے دھڑک جملہ پورا کیا۔
”زیدان اسٹااااااپ۔۔۔۔“ کالر پکڑتی وہ صدمے سے چلائی تھی۔
”طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔“ بنا اپنا آپ چھڑوائے اُس کی سفاکی عروج پر تھی۔۔۔۔
”باباااااا۔۔۔۔؟؟تایا ابو۔۔۔؟؟تائی امی۔۔۔؟؟پلیز پلیز روکیں ناں اِسے۔۔۔۔؟؟؟کوئی تو روکو۔۔۔۔۔“ چہرہ پھیر کر سب کی جانب دیکھتی ہوئی وہ شدتوں سے تڑپ اٹھی۔
مگر اُس کے حق میں بولنے کی بجائے الٹا وہ لوگ اُس سے نظریں پھیر گئے تھے۔
نتیجتاً حسنہ نے قدرے وحشت سے زیدان کی جانب دیکھا۔۔۔جو آج کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے موڈ میں نہیں لگ رہا تھا۔۔۔۔
”زیدان۔۔۔زیدان۔۔۔۔کچھ بھی کر لیں۔۔۔کوئی بھی سخت سے سخت سزا دے ڈالیں مجھے۔۔۔اُففف تک نہیں کروں گی۔۔۔آ۔۔آپ۔۔آپ چاہیں تو دوسری شادی بھی کرلیں۔۔۔ہاں۔۔۔میں نے اجازت دی۔۔۔لیکن خدا کے لیے۔۔۔ایسا بھاری ستم نہیں کریں مجھ پر۔۔۔۔نہیں کریں نااااں۔۔۔۔“ لرزتے لہجے میں جھنجھوڑنے کی کوشش کرتی ہوئی وہ وحشتوں سے پاگل ہونے کو تھی۔۔۔۔
”میں تمھیں۔۔۔۔۔!!!“ جواباً پل بھر کا توقف لیتا وہ اب بھی اُس کی جان نکالنے سے باز نہیں آرہا تھا۔۔۔
وقاص نے تلخی سے سینے کو مسلا۔۔۔
”اگر اب تم نے جملہ پورا کیا ناں زیدان عالم درانی۔۔۔۔تو خدا کی قسم میں سب کو تمھاری بدترین اصلیت بتا دوں گی۔۔۔رک جاؤ یہی۔۔۔۔“ اب کہ حسنہ بہتے آنسوؤں میں حلق کے بل چیختی ہوئی دھمکی پر اتر آئی تھی۔
”طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔۔“ تندہی سے پھڑپھڑاتے لبوں نے پل میں سارا قصہ تمام کیا تھا۔
”ہااااہ۔۔۔۔ہاااااہ۔۔۔۔۔۔“ بےاختیار زیدان کا سلوٹ زدہ کالر چھوڑتی حسنہ صدمے تلے دبا دبا سا چیخ پڑی۔۔۔۔
سانس لینے میں مشکل ہی تو ہوئی تھی۔۔۔
ضبط کے باوجود بھی لڑھکتے آنسوؤں پر وقاص صاحب کا درد بڑھنے لگا۔
اُن کی بسی بسائی بیٹی اپنے سیاہ کرتوتوں کے سبب اُنہی کی نم نگاہوں کے سامنے طلاق یافتہ ہوچکی تھی۔۔۔
” تمھاری سزا پوری ہو چکی حسنہ وقاص۔۔۔۔بحیثیت بیوی اب تمھاری میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔اورنہ ہی آگے کبھی ہوگی۔۔۔۔اس لیے دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔۔ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔۔۔آؤؤؤؤٹ۔۔۔۔“ معاً بازو سے دبوچ کر اُس کی سماعتوں میں پگھلا ہوا سیسہ اتارتا ہوا زیدان۔۔۔اگلے ہی پل قدرے حقارت سے اُسے پرے دھکیل چکا تھا۔۔۔
”سنیں۔۔سنیں میری بات۔۔۔!!!م۔۔میں بتاتی ہوں آپ سب کو۔۔۔اِس اِس فریبی شخص کی سیاہ اصلیت۔۔۔۔۔“ جانیلوا سکتہ ٹوٹتے ہی حسنہ بھی بےدردی سے گال رگڑتی ہوئی سارے پردے فاش کرنے پر اتر آئی۔۔۔
تو جہاں زیدان عالم درانی کی نگاہوں کی سرخی گہری ہوئی تھی۔۔۔وہیں حفصہ بیگم کے سنگ عالم صاحب اُس کے بھیگتے لفظوں پر چونکے۔۔۔
”اِسی کی سازش کے تحت اُس دن حیا اور رمیض بھائی زبردستی نکاح کرنے پر مجبور ہوئے تھے۔۔تاکہ بدلے میں مجبوری کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر یہ شخص مجھے پاسکے۔۔۔ہاں میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔۔اُن دونوں کو کڈنیپ کروانے والا اور کوئی نہیں بذاتِ خود زیدان عالم درانی تھا۔۔۔ہماری۔۔ہماری شادی مجبوری کی نہیں۔۔۔بلکہ پری پلین محبت کی شادی تھی۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھا اٹھا کر بتاتے ہوئے۔۔۔حسنہ وقاص کے اندر باہر طوفان سے امڈ آئے تھے۔۔۔
چوٹ ہی ایسی لگی تھی۔۔۔
پھر بھلا کیوں نہ بپھڑتی۔۔۔!!!
حفصہ بیگم سمیت عالم صاحب نے قدرے الجھ کر زیدان کو دیکھا۔۔۔جو بظاہر بڑے اطمینان سے مسکراتا ہوا اُس کے قریب آیا۔۔۔
اِس دوران عرق آلود ہوتی پیشانی پر وقاص صاحب پل پل اپنا ضبط کھونے لگے تھے۔
”باندھو۔۔باندھو۔۔۔۔دل کھول کر جتنے مرضی چاہے جھوٹے بہتان باندھو مجھ پر۔۔۔۔مگر جانتی ہو کیا؟؟تم جیسی بےاعتباری۔۔مکار عورت کا اب یہاں کوئی بھی یقین کرنے والا نہیں ہے۔۔۔کوئی ایک بھی نہیں۔۔۔گوٹ اٹ۔۔۔۔!!!! چبا چبا کر تاسف سے کہتا ہوا وہ حسنہ کے ہلکان دل کو مزید جلاگیا تھا۔۔۔
”م۔۔میں بہتان نہیں باندھ رہی ہوں۔۔۔یہی حقیقت ہے۔۔۔اگر یقین نہیں آتا ناں تو۔۔۔بب۔۔بابا سے پوچھ لیں۔۔۔۔وہ جانتے ہیں سب کچھ۔۔۔بابا۔۔۔؟؟؟؟“ لرزتی مٹھیاں بھینچ کر شدت سے انکاری ہوتے ہوئے۔۔۔ جہاں حسنہ نے اپنا پکا گواہ سامنے لانا چاہا تھا۔۔۔وہیں وقاص صاحب دل کی رکتی حرکت پر حواس کھوتے۔۔دھڑام سے زمین بوس ہوئے۔۔۔
نتیجتاً سبھی حیرت ملی پریشانی سے اُن کی جانب لپکے تھے۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ ڈھلتی ہوئی رات کے اِس پہر بستر پر اپنی سیاہ زلفیں بکھیرے بے سدھ لیٹی تھی۔۔۔۔
بھیگی غلافی نگاہیں غیرمرئی نقطے پرٹکی اِس پل قدرے ساکت تھیں۔
آگ لگانے والا تو۔۔آگ لگا کر سرشار سا کب کا وہاں سے جا چکا تھا۔
پاس ہی الٹے پڑے موبائل فون پر رمیض عالم درانی کی جانے کتنی ہی کالز۔۔۔
انٹرنیشنل کوکنگ کمپیٹیشن جیت جانے کے کتنے ہی میسجز آچکے تھے مگر۔۔۔۔وہ بار بار ساتھ چھوڑتی دھڑکنوں کے سنگ فقط لاپروا رہنا چاہتی تھی۔۔۔
”کچھ جھوٹ نہیں بولا میں نے۔۔۔سچ ہے کہ وہ مر چکی ہے۔۔۔۔یہ بھی سچ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اُس دغا باز۔۔۔اُس۔۔۔اُس بدکردار عورت کا بےدردی سے گلا گھونٹا تھا میں نے۔۔۔۔“ سماعتوں میں شدت سے چیختا ہوا بھاری لہجہ۔۔۔حیا کو بیڈ شیٹ سختی سے نازک مٹھیوں میں دبوچنے پر مجبور کرگیا تھا۔
ٹوٹ کر لڑھکتے آنسو تواتر سے کنپٹیوں میں جذب ہوتے چلے جارہے تھے۔
”کیا ہوا اگر جو میرے اندر کے ضمیر نے اُسے آخری سانسوں پر زندہ چھوڑنے کے لیے شدتوں سے مجبور کردیا تو۔۔۔۔؟؟کیا۔۔کیا ہوا اگر اُس کا جیتا جاگتا وجود اِس دنیا کی نظروں میں زندہ ہے بھی تو۔۔۔۔؟؟میرے لیے۔۔۔۔رمیض عالم درانی کے لیے تو وہ سر تا پیر فنا ہوچکی ناں۔۔۔تو پھر کیسے نہ کہوں کہ مر چکی ہے وہ۔۔۔۔؟؟کیسے نہ کہوں۔۔۔ہوں حیا۔۔۔۔؟؟؟؟“ ایک اور تسلی۔۔۔ایک اور جھوٹ۔۔۔
اذیت سے نفی میں سر ہلاتی وہ بےدردی سےنچلا لب کاٹ گئی۔
اس دوران بھاری ذہن کے سیاہ پردے پر لہراتے اُن دونوں کے قربتی لمحے بےساختہ تھے۔
وہ عورت مری ہی تو نہیں تھی اُس کے لیے۔۔۔۔
بخدا تمھاری ایک ایک ادا جانلیوا ہے بیوی۔۔۔۔“ سسک کر کروٹ بدلتے ہوئے اِس بار بھاری۔۔۔میٹھی سرگوشی حیا کے آس پاس بکھری تھی۔۔۔۔
اِس قدر جانیلوا کہ اب محض محبت پر ہی اکتفا کرنے کو جی نہیں چاہتا۔۔۔بلکہ عمر بھر کے لیے تمھارے سنگ۔۔عشق کی آتش میں رفتہ رفتہ سلگنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔“ محبتوں میں بھیگا لفظ لفظ اُس کے نازک وجود میں شدت سے بےچینیاں بھرتا چلا جارہا تھا۔۔
لیکن پھر۔۔۔۔
”تم یہ تو ثابت کر گئی حیا وقاص کہ تمھارا سوکالڈ شوہر قاتل نہیں ہے۔۔۔مگر افسوس۔۔۔یہ چاہ کر بھی ثابت نہیں کرپاؤگی کہ وہ ایک باوفا مرد ہے۔۔۔۔“ زیدان عالم درانی کا بےدردی سے تمسخر اڑاتا انداز اُسے جھٹکے سے اُٹھ کر بیٹھنے پر مجبور کرچکا تھا۔۔۔
بھبھک کر دکھتی کنپٹیوں کو مسلتے ہوئے۔۔وحشت زدہ سوچوں کے گہرے جال نے حیا وقاص کو حقیقتاً بےحال کرچھوڑا تھا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”چھپ چھپاکر ہی سہی صاحبزادے۔۔۔مگر اپنی ٹکر کی بیوی سے شادی رچائی ہے تم نے۔۔۔تمھیں ناکو چنے چبوانے کی خوب صلاحیت رکھتی ہے میری خاندانی بہو۔۔۔۔“ لہجے میں مدھم مزاح کا رس گھول کر وہ بڑے استحقاق سے مقابل کو جتا رہے تھے،،،،
پھٹے ہونٹ پر جما خون،،،مدھم سوجھی انگارہ آنکھیں،،،بائیں رخسار پر گہرے نیل کا نشان۔۔پھٹا گریبان،،،ٹوٹے بٹن۔۔۔۔اس پر گزشتہ شب کی بیتی قیامت کی واضح نشاندہی کر رہے تھے۔۔۔۔۔
تھوڑا مشکل ضرور تھا۔۔۔لیکن اپنے سپوت کی اُس عورت کے لیے خالص محبت جان کر وہ اِس پوشیدہ رشتے کو کھل کرتسلیم کرچکے تھے۔
جواباً فائق نے پلکیں جھپکا کر درید صاحب کا بظاہر پرسکون چہرہ دیکھا۔۔۔جو کم کم ہی اُس سے نرمی سے پیش آتے تھے۔
گزشتہ رات بھی وہ بارہا اُسے لاکڈ کمرے سے باہر نکلنے کوکہتے رہے تھے۔۔مگر خاصی توڑ پھوڑ کرنے کے بعد بھی وہ ساری رات اپنے کمرے میں ہی بند رہا تھا۔۔۔۔
”آپ کی بہو کا یوں ناکو چنے چبوانا مجھے بڑے عذاب میں مبتلا کررہا ہے بابا۔۔۔اپنے انتقام میں اندھا ہوکر بہت ہی گھاٹے کا سودا کرگیا ہوں میں۔۔۔۔نتائج جانتا ہوں۔۔۔اور یہ بھی کہ بھگتنے کا مجھ میں رتی بھر بھی حوصلہ نہیں ہے۔۔۔نہ بھگتنے کا۔۔۔نہ ہی مزید کچھ کھونے کا۔۔۔۔۔“ شدتِ بےبسی سے جواب دیتا وہ ہنوز بیڈ کی پائنتی کے ساتھ ڈھنے کے انداز میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
بھاری آواز بےچینیوں تلے قدرے تھکی تھکی سی تھی۔۔۔۔
ایسے میں ادھ کھلی کھڑکی سے اندر کو جھانکتی دھوپ کی شفاف کرنیں بمشکل اُسکے ڈھیلے وجود کو روشن کر رہی تھیں۔
درید صاحب نے ضبط سے اُس کے ہاتھ کا گہرا زخم دیکھا،جو یقیناً رات ڈریسنگ ٹیبل پر پڑی مہنگی ترین شیشے کی پرفیومز توڑنے کے سبب ہوا تھا۔
”اب تو تم اچھے سے جان چکے ہو ناں کہ مخلص محبت نبھانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔۔۔اس معاملے میں ناچاہتے ہوئے بھی بڑے گہرے زخم کھانے پڑتے ہیں۔۔ناقابلِ برداشت قیمتیں چکانی پڑتی ہیں۔۔۔۔۔۔“ نیچے ہی دبیز قالین پر اُس کے مقابل بیٹھے وہ گہرے انداز میں اُسے دبی دبی تسلی ہی تو دے رہے تھے۔
خود پر پڑتی زیدان کی انگارہ آنکھوں کی جلن بےاختیار نم ہوئی۔
ہاں۔۔۔ہاں مخلص محبت تو وہ کرچکا تھا۔۔۔۔
لیکن ناقابلِ برداشت قیمتیں چکانا ابھی باقی تھیں۔۔۔۔
زلیخا عالم درانی تو اپنے حصے کی چکا چکی تھی۔۔۔
کیونکہ جو گہرا زخم وہ براہِ راست اُس کی روح پر لگاکر آیا ہوں وہ حقیقتاً ناقابلِ برداشت تھا۔۔۔
پھڑپھڑاتے دل کے سنگ سوچتے ہوئے ملال حد سے سوا ہونے لگا۔
”کیسی بات ہے ناں بابا۔۔۔۔فائق درید دغا کرنے پر پچھتا رہا ہے۔۔۔اور زلیخا عالم درانی وفا کرنے پر۔۔۔۔“ دھیرے سے ہنستے ہوئے جہاں دو آنسو ٹوٹ کر اُس کے دکھتے گالوں پر لڑھکے تھے۔۔۔وہیں درید صاحب اُسے پائنتی سے سر پٹخ کر آنکھیں موندتا دیکھ۔۔تاسف سے سر جھکا کر رہ گئے۔۔۔
معاملہ حقیقتاً سنگین تھا۔۔۔۔۔۔
