Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 15

” ٹِک۔۔ٹِک۔۔ ٹِک۔۔۔۔“ کمرے میں لگی گھڑی اس وقت رات کے سوا دو بجا رہی تھی،،،جس سے قدرے لاپرواہ سا وہ کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر کھڑا سگریٹ پر سگریٹ سلگاتا چلا جا رہا تھا۔۔۔
آاااہ۔۔۔ہ۔۔۔۔۔!!!
محض چند دنوں میں ہی وہ کتنا ذیادہ بدل گیا تھا ناں۔۔۔
راتوں کو دیر سے گھر لوٹنا۔۔۔
کثرت سے اسموکنگ کرنا۔۔۔
آفس ورکرز،،، گھریلو ملازموں پر بلاوجہ کی بھڑاس نکالنا۔۔۔
بےسکونیوں سے ہر پل آشنا رہنا۔۔۔
حتیٰ کہ گھر والوں سے بھی ڈھنگ سے بات نہ کرنا۔۔۔
اپنے کنفرم ہوچکے روگ کو راز رکھتے رکھتے وہ مغرور۔۔۔۔اناپرست شخص حقیقتاً اپنی مسکراہٹ کھوچکا تھا۔۔۔
اس کے باوجود بھی کم از کم اسے یہ تسلی تو تھی ہی کہ اُس کی اتنی بڑی محرومی فقط میاں بیوی کے بیچ میں ہی گہرے راز کی مانندمحفوظ تھی۔۔۔
لیکن اپنے اندر پلتے اِس روگ کے سبب ٹھیک سے نظریں تو وہ حسنہ وقاص سے بھی نہیں ملا پارہا تھا۔۔۔
سگریٹ کا دھواں اڑاتے ہوئے زیدان نے قدرے بےتابی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔
معاً اپنی پشت پر سنائی دیتی قدموں کی آہٹ پر وہ خیالوں سے چونکتا ہوا پلٹنے کو تھا،،،جب حسنہ نے بروقت اُسے پیچھے سے آکر اپنی بانہوں میں بڑی نرمی سے سمیٹا۔۔۔
اُسکی مہربان محبت پر بےاختیار ادھ جلا سگریٹ پرے پھینکتے ہوئے زیدان نے آنکھیں موند کر کھولیں۔۔۔
”کیوں خود کو اس قدر اذیت دے رہے ہیں آپ زیدان۔۔۔۔؟؟؟کیا جانتے نہیں کہ اگر آپ تکلیف میں ہوں تو سکون مجھے بھی میسر نہیں آتا۔۔۔۔“ اپنی تپی گال اس کی چوڑی پشت پر ٹکاتی ہوئی وہ بظاہربڑی نرمی سے اس سےشکایت کررہی تھی۔
جواباً زیدان نے تھکا ہوا گہرا سانس لیا۔۔۔
”میری اذیت کا معیار تم جانتی تو ہو اچھے سے۔۔۔۔پھر بھی کامل سکون کی بات کررہی ہو۔۔۔۔؟؟؟ہونہہ۔۔۔میں چاہتا تھا کہ اپنے عشق سے تمھارے وجود کو مہکاکے تمھیں مکمل معتبر کردوں۔۔۔مگر تمھاری بڑی بہن کی گہری بدعاؤں نے تو الٹا میرے وجود کو ہی سلگا کر نامکمل کر چھوڑا ہے۔۔۔۔“ چوڑے سینے کو جکڑے ہوئے اس کے نازک ہاتھوں کو مضبوطی سے تھامتا وہ قدرے تاسف سے غرایا۔۔۔تو حسنہ کا دل اس کی بےچینیوں پر اندر ہی اندر وحشت زدہ ہوا۔۔۔۔
خود کی خاطر بڑی مشکلوں سے جو کھیل وہ رچا چکی تھی۔۔۔اب اس سے ہارنا گویا زندگی سے ہارنے کے مترادف تھا۔۔۔۔
معاً ایک جھٹکے سے ہاتھ چھڑواتی ہوئی حسنہ سلک کی لانگ نائٹی میں ملبوس سرعت سے اس کے مقابل۔۔بےحدقریب آئی تھی۔
”آپ کا سکون فقط میں ہوں زیدان۔۔۔آپ کے پاس ہوں۔۔۔ہر لمحہ ساتھ ہوں۔۔۔جب مجھے کوئی مسئلہ نہیں تو پھر آپ کیوں اس قدر فکروں میں گھلے جارہے ہیں۔۔۔۔؟؟؟نہیں دیکھا جاتا ناں مجھ سے آپکا یہ افسردہ چہرہ مزید۔۔۔بس کردیں اب۔۔۔پلیززز۔۔۔۔“ اس کی بئیرڈ پر بڑے حق سے ہتھیلیاں جماتی جہاں وہ اسے سمجھانے کو ہلکان ہوئی تھی۔۔۔وہیں زیدان بھی اپنی مچلتی محبت کے آگے بےبس ہوتا اسکی نازک کمر اپنی مضبوط بانہوں میں سمیٹ گیا۔۔۔
”مانتا ہوں کہ محبت نہیں عشق کرتی ہو تم مجھ سے۔۔۔مگر جان لو کہ زندگی کے ہر معاملے میں صرف محبت ہی کافی نہیں ہوا کرتی حسنہ۔۔۔آخر کب تک۔۔۔کب تک تم مجھ جیسے نامکمل مرد کے ساتھ بن ماں کے زندگی کا مزہ لوٹتی رہو گی۔۔ہہمم۔۔؟؟؟“ اسکی سیاہ حقیقتوں سے قدرے انجان،وہ بڑے ضبط سے اپنی سب سے بڑی خامی گنواتا ہوا لب بھینچ گیا تھا۔۔۔
حسنہ نے پل بھر کو اسکی جلتی نگاہوں سے نظریں چراتے ہوئے بمشکل تھوک نگلا۔
پھر آنکھوں میں نمی لاتی ہولے سےمسکرائی۔۔۔
”اپنی زندگی کی آخری سانس تک۔۔۔۔ایک بار مجھ پر یقین تو کرکے دیکھیں آپ زیدان۔۔۔۔پھر آپکو بھی اچھے سے علم ہوجائے گا کہ میری محبت زندگی کے ہر چھوٹے بڑے معاملے کو مات دینے کے لیے کافی ہے۔۔۔ہم۔۔۔ہم مستقبل میں بچے کی اڈاپشن کا پلین بھی تو کرسکتے ہیں ناں۔۔۔۔“ بڑے اعتماد سے جتاتے ہوئے اس کی نازک انگلیاں زیدان کی بئیرڈ پر مسلسل سرسرا رہی تھیں۔۔۔
زیدان دل بھاتے لمس سمیت اس کے گہرے لفظوں پر اندر تک سرشار ہوا تھا۔۔۔۔
”بہت لکی ہوں میں جو مجھے تم جیسی بیوی ملی ہے۔۔۔میرے بےتاب دل کا سکون ہو تم جانم۔۔۔۔آئی لو یو۔۔۔۔آئی لو یو سو مچ۔۔۔۔“ بڑے جذب سے خمار زدہ آواز میں کہتا ہوا زیدان جہاں اپنی محبوب بیوی کو خود کے کسرتی سینے میں بھینچ چکا تھا۔۔۔
وہیں اپنے کھلے بالوں میں سرسراتی ہوئیں اس کی مردانہ انگلیوں پر حسنہ وقاص کا شدتوں سے ڈوبتا،تیزی سے دل دھڑک اٹھا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”آااائییی۔۔کاکروچ۔۔۔۔!!!“ موٹے تازے لال بیگ کو سرعام من مستیاں کرتے دیکھ وہ دبا دبا سا چیختی ہوئی،،،پھرتیوں سے دروازہ کھول کر گیلے بالوں کے سنگ اندھا دھند واشروم سے باہر کو بھاگی۔۔۔
تو جہاں ورسٹ واچ ڈریسنگ ٹیبل پر ہی بھول جانے کے سبب رمیض عالم درانی واپس کمرے کے وسط میں آچکا تھا،،،وہیں گیلے سلیپرز کی وجہ سے یکدم حیا کا شفاف فرش پر پیر پھسلا۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ سر کے بل بری طرح سے زمین بوس ہوتی،،،ٹھٹھک کر تیزی سے اُس کی طرف لپک چکے رمیض نے۔۔ایک ہی جست میں بروقت اُسے کلائی سے تھام کر اپنے کسرتی سینے کی جانب کھینچ لیا۔
نتیجتاً پوری طرح سے بوکھلا چکی حیا نے بےاختیار مقابل کو سختی سے نازک مٹھیوں میں جکڑتے ہوئے شدت سے مسکرانے پر مجبور کیا تھا۔
گھبراہٹ میں بھاری ہوچکے تنفس کے سنگ نم بالوں سے اٹھتی شیمپو کی بھینی بھینی خوشبو پر رمیض عالم درانی نے بے اختیار ضبط کا گہرا سانس بھرا۔
”مانا کہ میں بہت ہینڈسم ہوں بیوی۔۔۔قابلِ عشق بھی ہوں۔۔۔مگرمیری بانہوں میں آنے کے لیے تمھیں خود کو چوٹ لگوانے کی حماقت بالکل بھی نہیں کرنی چاہیے۔۔۔۔مجھ سے ڈائریکٹ کہو ناں۔۔۔بنا کسی وجہ کے بھی اپنی بانہوں میں بھرسکتا ہوں تمھیں۔۔۔“ بھاری۔۔نرم لہجے میں ہونے والے میٹھے طنز سے کہیں ذیادہ حیا وقاص کو اپنی نازک کمر پر نرمی سے دھرا اُس کا بھاری ہاتھ محسوس ہوا تھا۔
اگلے ہی پل قدرے ہوش میں آتی وہ جھٹکے سے اُس سے دور ہوئی۔۔۔تو مقابل نے ہلکے گلابی رنگ سوٹ میں نکھرتے ہوئے اُس کے گلاب نقوش بغور دیکھے۔
”م۔۔میرا پیر پھسلا ہے۔۔۔دل یا عقل نہیں جو میں آپ کی بانہوں میں پناہیں ڈھونڈتی پھروں گی۔۔۔“ دھک دھک کرتے دل پر بمشکل قابو پاتی وہ کچھ برہمی سے گویا ہوئی۔۔تو پل بھر کو دھیرے سے ہنستا رمیض حیا کا دل مزید دھڑکا گیا۔۔۔
گزرتے ہوئے دنوں میں وہ شخص اب جانتے بوجھتے اُسے تنگ کرنے لگا تھا۔۔۔
رات کو سوتے سمے لائٹ بند کردینا،،، تو کبھی زبردستی رعب میں لاکر اپنا درد ہوتا سر دبانے کے لیے اُسے مجبور کرنا۔۔۔۔
مختصراً جتنا دور بھاگتی تھی اتنا ہی قریب سے قریب ترین آنے کے بہانے تلاشنے لگا تھا وہ۔۔۔
”سریسلی۔۔۔؟؟؟اور جو آدھی آدھی رات میں اپنی ساری عقلیں گنوا کر میرے سینے سے آلگتی ہو اُس کا حساب کون چکتا کرے گا۔۔۔؟؟؟“ معاً کسرتی سینے پر سنجیدگی سے بازو لپیٹ کر صاف صاف چھیڑتے ہوئے وہ خود تو نہیں ہچکچایا تھا،،،ہاں البتہ اُسے اپنی بےباک لفظوں سے ہچکچانے پر ضرور مجبور کرچکا تھا۔
”اگر آپ کو لگتا ہے کہ میں اس صاف جھوٹ کو سچ مان جاؤں گی تو یہ آپ کی بہت بڑی غلط فہمی ہے رمیض صاحب۔۔میں گہری نیند میں بھی ایسی حماقت کی خواہاں نہیں ہوسکتی۔۔۔!!!“ گہری سیاہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ بڑے یقین سے جتا رہی تھی۔۔۔جب رمیض نے پل بھر کو لب بھینچتے ہوئے قدرے سنجیدگی سے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔پھر اپنی شریر نگاہوں کا زاویہ بےاختیار حیا کے قدموں کی جانب پھیرا۔
” کاکروچ۔۔۔۔۔!!!“ یک لفظی بھاری آواز حیا وقاص کو شدید گھبراہٹ میں لانے کے لیے کافی تھی،،،جب اگلے ہی پل وہ اچھل کر سیدھا رمیض کے کندھے سے آلگی تھی۔
جبکہ اپنا کسرتی بازو اُس کے نازک ہاتھوں کی گرفت میں سختی سے مقید دیکھ کر رمیض کے لب ایک بار پھر سے دلکش مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔
”رمیضضضضض۔۔۔پلیز اسے یہاں سے مار بھگائیں خدا قسم مجھے بڑا ڈر لگتا ہے اِن کیڑے مکوڑوں سے۔۔۔۔۔“ شفاف زمین کو پوری آنکھیں پھیلا کر ٹٹولتی ہوئی حیا شدت سے ملتجی ہوتی ہلکان ہونے کو تھی۔۔۔
اس قدر ہلکان کہ خود کے اچھا خاصا بےوقوف بنائے جانے پر بھی دھیان دینا محال ہوا تھا۔۔۔۔
”آگئی ناں پھر سے میرے قریب ترین۔۔۔۔اب تو یہ ثابت بھی ہوچکا۔۔۔۔“ معاً سماعتوں کے قریب جھک کر مسکراتی ہوئی بھاری سرگوشی کرتا ہوا وہ مزید وہاں نہیں رکا تھا۔۔۔بلکہ حیرت تلے ڈھیلی پڑتی گرفت پر نرمی سے اپنا بازو چھڑواتا ہوا حیا وقاص کو ساکت چھوڑے،،، ورسٹ واچ لے کر سکون سے کمرے سے نکلتا چلا گیا۔
”بہت بڑے فریبی ہیں آپ رمیض عالم درانی۔۔۔۔حساب تو اب میں بےباک کروں گی اِس چیز کا۔۔یاد رکھیے گا۔۔۔۔۔“ اتنی آسانی سے خود کے پاگل بنائے جانے پر شدتِ غضب سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے حیا وقاص کے پنکھری لب محض پھڑپھڑا کر رہ گئے تھے۔۔۔
جبکہ دھڑکنیں ہنوز بےترتیب سی تھیں۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”ابے ہاں یار۔۔۔۔جتنی خوبصورت ہے اس سے کہیں ذیادہ مغرور بھی۔۔۔سالی نخریلی کہیں کی۔۔۔۔“ وہ خوشگوار سے موڈ میں عالم صاحب کی طرف سے ملی ہوئی گاڑی کی ڈگی کھولے ہوئے۔۔۔ ریسٹورنٹ کا کچھ ضروری سامان رکھ رہا تھا۔۔۔جب یکدم سماعتوں سے صاف ٹکراتی ہوئی مردانہ۔۔کمینی آواز نے رمیض عالم درانی کو ناچاہتے ہوئے بھی چونکایا۔۔۔
اگلے ہی پل وہ گردن موڑتا ہوا آہستگی سے پیچھے پلٹا تھا۔۔۔
کئی قدموں کے فاصلے پر موجود ایک نوجوان لڑکا اُسکی جانب پیٹھ کیے اپنی بائیک صاف کرتا ہوا۔۔۔مسلسل فون پر محوِ گفتگو تھا۔۔۔
جبکہ رمیض کو اُس آوارہ لڑکے کی اطراف سے بےنیازی بری طرح کھلی تھی۔۔
اگلے ہی پل وہ قدرے ناگواری سے سرجھٹک گیا۔۔۔ ریسٹورنٹ سے مخصوص ٹائم نکال کر آج اُسے اپنے انتہائی قریبی دوست فیضان کو بھی ائیرپورٹ سے ریسیو کرنے جانا تھا۔۔۔جو اٹھارہ سالوں بعد اچانک امریکہ سے واپس لوٹ رہا تھا۔۔۔
”ایک بار ہاتھ آگئی تو خدا قسم چھوڑوں گا نہیں میں اسے۔۔۔بلکہ کسی لائق ہی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔پلین کے مطابق اپنا پتا تو میں پھینک چکا ہوں۔۔۔اب بس دھواں اٹھنے کے فوری بعد آگ بھڑکنے کا ویٹ ہے مجھے۔۔۔پھر دیکھ۔۔۔کیسے تیرا یہ یار کاشی تھپڑ کا بدلہ اُس کی عزت کی دھچیاں بکھیر کر لیتا ہے۔۔۔ “ شطانیت سے اپنے دوست کو باور کرواتے ہوئے جہاں وہ خباثت سے ہنس دیا تھا۔۔۔۔وہیں دانتوں پر دانت جماتے ہوئے رمیض نے تندہی سے ڈگی بند کی۔۔۔ پھر پیشانی پر ناپسدیدگی کے بل ڈالے گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھا۔ اگر وہ اُس کا پڑوسی تھا تو بلاشبہ یہ بڑی ہی قابلِ افسوس بات تھی۔۔۔
”بےغیرت۔۔۔واہیات انسان۔۔۔۔“ باہر لگے شیشے میں صاف دکھائی پڑتی اس کی سیاہ پشت کو تنفر سے تکتے ہوئے اگلے ہی پل رمیض گاڑی اسٹارٹ کرتا ہوا وہاں سے بھگا لے گیا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
اپنی مہنگی گاڑی کو گیراج میں کھڑا کرتی ہوئی وہ اگلے ہی پل فرنٹ دروازہ کھول کر باہر نکلی تھی۔
جینز کے سنگ گہرا پرپل ٹاپ جہاں اُسکی کھلی سفید رنگت پر خوب جچ رہا تھا۔۔۔وہیں کچھ دن پہلے کروایا گیا باب ہیرکٹ اُس کے دکھاوے میں کافی حد تبدیلی لے آیا تھا۔
روزینہ کے اشارہ کرنے پر جہاں ملازم گاڑی سے اسکا سوٹ کیس نکالنے کو بھاگ کر لپکا تھا۔۔۔وہیں اِس شاندار ولا کے اندر داخل ہوتی اپنی مالکن کو دیکھ میڈ بےاختیار بوکھلاسی گئی۔
”ہیری گھر پر ہی ہے۔۔۔؟؟؟“ اسے ہاتھ میں وائن سے بھرے دو گلاسوں کا ٹرے تھامے دیکھ قریب آتی روزینہ نے آنکھوں سے سیاہ چشمہ اتارتے ہوئے قدرے خوشگوار لہجے میں پوچھا۔
ارادہ اپنی غیرمتوقع آمد پر ہیری کو حیران کن سرپرائز دینے کا تھا۔۔۔ورنہ تو اس نے اپنے شوہر کو پیرس سے واپسی کی ڈیٹ ایک دن آگے کی بتائی تھی۔
”ی۔۔یس میم۔۔۔۔“ مخصوص یونیفارم میں ملبوس میڈ زرد ہوتے رنگ کے ساتھ بمشکل بولی۔۔۔تو روزینہ اس کے چہرے پر دوڑتی پریشانی کو محسوس کرتی ہوئی چونکی۔۔۔
پھر سرنفی میں ہلاتی ہوئی لاپرواہی سے آگے بڑھی۔
”میڈم۔۔۔آپ کو تو کل آنا تھا ناں۔۔۔پھر آج اچانک یہاں کیسے۔۔۔۔۔؟؟؟“ گھبراہٹ میں سرعت سے پلٹتی میڈ خود کو حیرت میں ڈوبا سوال کرنے سے باز نہیں رکھ پائی تھی۔
پیچھے ہی ملازم سوٹ کیس لیے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔جب اپنے بیڈ روم کی طرف جاتی روزینہ میڈ کے لب و لہجے پر برہم ہوتی پلٹی۔
”تم کون ہوتی ہو مجھ سے یہ سوال پوچھنے والی۔۔ہاں۔۔؟؟میڈ ہو تو میڈ بن کے رہو۔۔۔اپنی اوقات بھولنے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں۔۔۔انڈرسٹینڈ۔۔۔۔!!!“ خالصتاً انگریزی میں انگلی اٹھاکر اسے ٹھیک ٹھاک سناتی ہوئی وہ مزید وہاں رکی نہیں تھی۔۔۔بلکہ میڈ کے ضبط سے سر جھکانے پر پیر پٹختی ہوئی اپنے روم کی جانب لپکی۔
پیچھے ملازم نے اپنے صاحب کی بیوی کے تیکھے تیوروں پر محتاط ہوتے ہوئے سوٹ کیس میڈ کے پاس ہی رکھ دیا تھا،،،جو اس کی جانب دیکھ کر لب کچلتی ہوئی آنے والی ہنگامی صورتحال کی بابت شدت سے فکرمند ہوئی تھی۔۔۔
”ہیری ڈارلنگ۔۔آئی۔۔کک۔۔۔۔“ اپنے بیڈ روم کا ان لاکڈ دروازہ آہستگی سے کھول کر اندر داخل ہوتی وہ قدرے چہک کر بولنا چاہ رہی تھی۔۔۔جب سامنے کے سلگا دینے والے منظر نے اس کے الفاظ بیچ میں ہی ضبط کر ڈالے۔۔۔
ہیری جو اِیما کے گلے میں گولڈ نیکلس ڈالنے کے بعد۔۔۔اس کو اپنے مضبوط حصار میں سمیٹتا ہوا ہنوز ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔۔معاً چہکتی ہوئی نسوانی آواز پرٹھٹھک کر پلٹا۔
اسی کے سنگ اِیما بھی سرعت سے مڑی تھی۔۔۔
”ڈیم۔۔۔۔۔“ وائن لاتی میڈ کی بجائے روزینہ کو پھٹی پھٹی بےیقین آنکھوں سے خود کی جانب تکتا پاکر ہیری کے لب شدت سے پھڑپھڑائے۔۔۔
اس نے میڈ کو سختی سے وارن کیا بھی تھا کہ کوئی بھی اِس روم تک نہ آنے پائے۔۔۔۔
مگر مقابل ”کوئی بھی“ نہیں۔۔۔بلکہ اسکی ”بیوی“ تھی۔۔۔
وہ بیوی جو تیزی سے بھیگتی آنکھوں کے ساتھ من من بھاری قدم اٹھاتی ان کے قریب آئی تھی۔۔
اس دوران ہاتھ میں تھام رکھا قیمتی کالا چشمہ تو ہاتھ سے چھوٹ کر پیچھے ہی کہیں گرچکا تھا۔
”اِی۔۔اِیما۔۔۔۔؟؟؟“ بند ہوتے دل کے سنگ روزینہ کے لب شدید حیرت تلے پھڑپھڑائے تھے۔۔جو اس کا سرخ چہرہ دیکھ کر نیکلس پر ہاتھ جماتی ہوئی اب کہ کافی حد تک گھبرا چکی تھی۔۔۔
”روزی۔۔تم۔۔تم تو کل آنے والی تھی ناں بےبی۔۔۔۔۔؟؟؟“ اُس کی غیرمتوقع آمد پر اپنی حیرت کو دبائے بنا ہیری کچھ نرمی سے گویا ہوا جب روزینہ نے بہتے آنسوؤں میں اسکا تپا چہرہ۔۔۔پھر اس کے شرٹ لیس وجود کو دیکھا۔۔۔
اور یہی۔۔۔یہی پر آکر اُس کا ضبط ٹوٹ کر بکھرا تھا۔۔۔
”یُو بلڈی ہور (فاحشہ)۔۔۔۔چٹاااااخ۔۔۔۔“ اگلے ہی پل روزینہ نے اِیما کے چہرے پر رکھ کر تھپڑ مارا۔۔تو شدت سے جلتے گال پر حیرت سے ہاتھ جماتے ہوئے اس نے بےاختیار شکایتی نگاہ ہیری پر ڈالی۔۔۔
جواباً وہ طول پکڑتے اِس ہنگامے پر گڑبڑایا تھا۔۔۔
”دوستی کے نام پر سیاہ دھبہ ہو تم۔۔۔۔شرم نہیں آئی اپنی ہی بیسٹ فرینڈ کو چیٹ کرتے ہوئے۔۔۔ہاں۔۔؟؟؟آخر تمھاری ہمت کیسے ہوئی میرے شوہر پر ڈورے ڈالنے کی۔۔۔؟؟جواب دو مجھے۔۔۔؟؟؟“ اس کی شفاف گردن سے اپنا قیمتی نکلیس جھپٹ کر اتارتی وہ۔۔۔ چیختی ہوئی مزید بپھری تھی۔۔۔
”ریلکس روزی پلیز۔۔۔۔“ ہیری نے اسے سنجیدگی سے ٹوکا۔۔پھرآگے بڑھ کر بیڈ پر پڑی نارنجی ٹی شرٹ تھامتے ہوئے جلدی سے اپنے وجود پر چڑھائی۔۔۔
مگر وہ اس قدر بڑے ہوچکے خسارے کو سہتی کسی کی سن ہی کہاں رہی تھی۔۔۔۔!!!
”تمھارا شوہرعشق کرتا ہے مجھ سے۔۔۔۔اسے ڈوروں کا نام دے کر یوں بدنام تو مت کرو تم۔۔۔۔“ اس کے ناخنوں کے سبب اپنی گردن پر پڑنے والی خراشوں پر ضبط کرتی ہوئی ایما زہر خند لہجے میں مسکرا کر بولی۔۔۔
تو سماعتوں میں گھلتی اس کی شستہ انگریزی۔۔اس کی ہمت۔۔۔
اور اِس قدر اعتماد پر روزینہ مزید پاگل ہونے لگی۔۔۔
”عشق۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟؟جان لے لوں گی میں تمھاری گھٹیا دھوکےباز عورت۔۔۔(گالیاں##)۔۔۔۔“ تواتر سے بھیگتے رخساروں کی پرواہ کیے بنا ہی مغلفات بکتی ہوئی جہاں وہ اِیما کے کھلے بال مٹھیوں میں دبوچ کر اسے ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے سے لگا چکی تھی۔۔۔وہیں اس افتاد پر بوکھلاتا ہوا ہیری سرعت سے اپنی پاگل ہوچکی بیوی کی طرف لپکا۔
”لیو می یو میڈ بچ۔۔۔آہ۔۔ہ۔۔ہیری پلیز سیو می۔۔۔۔“ روزینہ کے نم گالوں پر خراشے ڈالتی ہوئی وہ قدرے اذیت سے چیخ کر خود کو چھڑوانے کی ناکام مزاحمت کر رہی تھی۔
”روزی اسٹاپ۔۔۔۔آئی سیڈ جسٹ لیو ہر۔۔۔۔روزینہ۔۔۔۔!!!تڑاااخ۔۔۔۔۔۔!!!“ اس کا شدتوں سے مچلتا وجود بڑی مشکلوں سے قابو کر کے دور کھینچتے ہوئے ہیری اپنے بھی بازو زخمی کروا چکا تھا۔۔۔جبھی روزینہ کو جھٹکے سے اپنی جانب موڑ کر طیش میں آتا ہوا وہ اس کے لال بھبھوکا چہرے پر پوری قوت سے تھپڑ مار گیا۔
خالصتاً انگریزی میں چیختی چلاتی وہ یکدم ہی ڈھیلی ہوئی تھی۔۔۔
ایسےمیں سینے میں پڑتی ٹھنڈ پر اِیما کے لب شاطرانہ مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔۔
”تم۔۔۔تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔۔۔؟؟؟“ آہستگی سے سلگتے گال کو چھوتی ہوئی روزینہ بےیقینی سے اس سے پوچھ رہی تھی۔۔
آنسو ٹوٹ کر گالوں پر پھسلے۔۔۔
”اِیما۔۔۔تم جاؤ یہاں سے۔۔۔جسٹ گو۔۔۔۔“ اسکا جواب دینے کی بجائے وہ اِیما کو فوری وہاں سے جانے کا بول رہا تھا۔۔
”اس سب کا بدلہ میں تمھیں برباد کرکے لوں گی۔۔۔تم دیکھنا۔۔۔۔“ نیچے گرا اس کا قیمتی نیکلس اٹھاتی اِیما کرختگی سے دھمکا کر اگلے ہی پل تندہی سے کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔۔تو روزینہ نے قدرے تاسف سے لب بھینچ کر ہیری کی جانب دیکھا جہاں رتی بھر بھی کوئی شرمندگی نہیں تھی۔۔۔
”تو کیا سچ میں تم اس کے عشق میں گرفتار ہوچکے ہو ہیری۔۔۔۔؟؟؟تم۔۔۔تم نے بھی مجھے اس۔۔اس ڈائن کے ساتھ مل کر فریب دیا ہے۔۔۔۔“ معاً اسے گریبان سے دبوچتی وہ پھر سے بپھری تھی۔۔۔اور اُس کا یہ رویہ ہیری کو ایک آنکھ بھی نہیں بھایا تھا۔
”ہاں دیا ہے۔۔۔۔دیا ہے میں نے تمھیں فریب۔۔۔تو۔۔۔؟؟کیا کرلوگی۔۔۔۔؟؟؟“ درشتگی سے اس کے ہاتھ جھٹکتا اب کی بار وہ بھی دہاڑا تھا۔
روزینہ پل بھر کو تھمتی شدت سے نفی میں سر ہلاگئی۔۔۔
وہ تو اس کا دیوانہ تھا۔۔۔پھر ایسے کیسے بدل سکتا تھا بھلا۔۔۔؟؟؟
”نہیں نہیں نہیں۔۔۔۔آئی ناؤ تمھیں صرف مجھ سے محبت ہے۔۔۔تم سر تا پیر صرف مجھے چاہتے ہو۔۔ ایسا کر ہی نہیں سکتے تم۔۔۔۔“ اس کا تپا ہوا سرخ چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیتی۔۔۔وہ روتی ہوئی اُس سے ذیادہ خود کو یقین دلا رہی تھی۔۔۔
اس کی بات پر ہیری کی آنکھوں میں صاف تمسخر سمٹ آیا۔۔۔
”میں ایسا کرسکتا ہوں۔۔۔کرسکتا ہوں کیونکہ میں بھی تمہی سا ہوں روزی۔۔۔۔اگر تم عورت ہوکر۔۔۔اپنے سابقہ شوہر کے عشق کو جھٹلاتے ہوئے دوسری محبت کرنے کا ہنررکھ سکتی ہو تو پھر ایک رنگ باز مرد ہوکر میں کیوں نہیں۔۔۔۔؟؟؟“ عریاں بازوؤں سے دبوچ کر سلگتے لفظوں کی گہری مار مارتا ہوا وہ روزینہ کو ششدر ہی تو کرگیا تھا۔
اففف۔۔۔اس قدر گہرا طعنہ۔۔۔۔۔!!!
بھیگے گالوں پر پڑی خراشیں اس کے اندر کی جلن کو مزید بڑھاگئی تھیں۔۔۔
”وہ میری غلطی تھی ڈیم۔۔۔۔بہت بڑی غلطی۔۔۔مگرعشق تو میں نے صرف تمہی سے کیا ہے ناں۔۔سس۔۔سنو ناں ہیری پلیز۔۔۔پلیز ڈونٹ ڈو دِس۔۔۔تم صرف میرے ہو۔۔۔یہ سب برداشت نہیں ہوگا مجھ سے۔۔۔ م۔۔میں مرجاؤں گی یا پھر اسے مار ڈالوں گی۔۔۔۔“ شدتِ بےبسی سے تلملا کر بولتی ہوئی وہ مقابل کو بڑی زہر لگی تھی۔۔۔۔
روزینہ کا لفظ لفظ اس کو شرمندگی میں دھکیلنے کی بجائے الٹا اُس باختیار شخص کی ضد کو بڑھاوا ہی تو دے رہا تھا۔۔۔
”تو پھر مرجاؤ میری طرف سے۔۔آئی ڈیم کئیر۔۔۔۔۔“ معاً دانت پیس کر سفاکی سے بولتا ہوا وہ مزید وہاں نہیں رکا تھا بلکہ اسے بےدردی سے خود سے پرے دھکیلتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
پیچھے وہ اپنے بال دبوچ کر گرنے کے سے انداز میں نیچے بیٹھتی ہوئی شاید یہ بھول چکی تھی۔۔۔بھول چکی تھی کہ۔۔۔گزرے وقت میں کوئی اُس کے لیے بھی۔۔۔بالکل ایسے ہی تڑپا تھا۔۔۔۔
اور بڑی شدتوں سے تڑپا تھا۔۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”جنید۔۔۔؟؟آپ ٹھیک ہیں۔۔۔؟؟؟سب خیریت تو ہے ناں اتنے اپ سیٹ کیوں ہیں آپ۔۔۔؟؟؟“ وہ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کو سوتا چھوڑ اپنے روم میں چلی آئی تھی۔۔مگر اپنے شوہر کو ہاتھ میں پکڑا موبائل فون درشتگی سے بیڈ پر اچھالنے کے بعد سر تھامتے دیکھ شدت سے ٹھٹھکی۔۔۔
پھر خود بھی الجھ کر اس کے پاس آکر بیٹھتی ہوئی قدرے پریشانی سے پوچھنے لگی۔۔۔
”راشدہ۔۔۔کیا بتاؤں اب میں تمھیں۔۔۔عنقریب بہت بڑا خسارہ بھگتنا پڑے گا اب ہمیں۔۔۔!!!“ وہ اپنی دکھتی کنپٹیاں مسلتا ہوا بڑے ضبط سے بول رہا تھا۔
اُس کی بات سنتی راشدہ چونکی۔۔۔
جنید کم ہی اُس سے اپنے کام کو لے کر ڈسکشن کرتا تھا۔۔۔
مگر اب تو معاملہ کافی حد تک سنگین پڑتا دکھائی دے رہا تھا۔
”کیسا خسارہ جنید۔۔۔۔؟؟؟کیا بات ہوئی ہے کھل کر بتائیں مجھے۔۔۔؟؟؟“ اس کی پریشانی میں ہمدرد بنتی وہ جاننے کو بےتاب ہوئی تو اسکے ہاتھ تھامنے پر جنید نے تھکا ہوا چہرہ اٹھا کر اسکی جانب دیکھا۔
”میرا بددماغ کولیگ۔۔۔زیدان عالم درانی میری پریشانی کی حقیقی وجہ ہے راشدہ۔۔۔وہ خبطی بندہ۔۔۔اُففف۔۔۔اچھا بھلا فارن پراجیکٹ ہاتھ لگا تھا ہمارے۔۔۔مشترکہ طور پر ڈیل سائن کرنے کے بعد ہم دونوں ہی اسے مل کر ہینڈل کرنے والے تھے۔۔۔مگر یہ جانتے ہوئے بھی کہ اُس کے بغیر میں اکیلا کڑوڑوں کی یہ ڈیل افورڈ نہیں کرسکتا۔۔۔عین وقت پر مُکر گیا وہ کمینہ۔۔۔“ مٹھیاں بھینچ کر۔۔۔چبا چبا کر بولتے ہوئے جنید کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اِس سرعام ناانصافی پر جاکر زیدان کا سر پھاڑ ڈالے۔۔۔۔
اُس کے محض ایک انکار کے سبب۔۔۔سارے معاہدے کا ستیاناس ہونے کو تھا۔۔۔
جبکہ اپنے کام کو لےکر تو جنید ڈھائی کڑوڑ لگانے میں پہل کر بھی چکا تھا۔۔۔۔
اگر جو وہ اب بھی نہ مانتا تو ڈبل منافع ہاتھ لگنے کی بجائے ایک بڑا خسارہ اسکی قسمت کو سیاہ کرسکتا تھا۔۔۔
”زیدان عالم درانی“ کا نام سنتے ہوئے راشدہ نے پل بھر کو نگاہ چراتے ہوئے شدت سے اپنا نچلا لب کچلا۔۔۔
کیا کچھ تازہ نہیں ہوا تھا اسکی یاداشت میں۔۔۔۔
سسکتی منتیں۔۔۔
لالچ دیتا نسوانی لہجہ۔۔۔
دھمکیوں پر اترتی پُراثر پھنکاریں۔۔۔
”وہ ایسا نہیں تھا۔۔۔لیکن پچھلے کئی دنوں سے اس کی عجیب حرکتوں نے مجھ سمیت باقی سب کو بھی پریشان کر رکھا ہے۔۔۔بارہا کنوینس کر چکا میں ہوں اسے۔۔۔مگر۔۔۔وہ ہے کہ۔۔۔میں بتا رہا ہوں راشدہ۔۔۔اگر جو زیدان عالم درانی اس فارن ڈیل کے لیے بروقت راضی نہ ہوا تو میں،تو بڑا نقصان جھیلوں گا ہی۔۔۔مگر ساتھ میں اُس کمینے پر بھی فراڈ کا کیس تھوپوں گا۔۔۔۔۔“ مزید بتاتے ہوئے اس کا تپا ہوا لہجہ قطعیت بھرا تھا۔۔۔
معاً راشدہ نے گہرا سانس بھرتے ہوئے اُس کے مردانہ ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی۔۔۔
اس دوران ڈوبتے دل نے بھی پل میں اپنے پریشان شوہر کے حق میں قطیعت بھرا فیصلہ کیا تھا۔۔۔
ایک بالکل صحیح فیصلہ۔۔۔۔!!!
”شاید میں جانتی ہوں کہ وہ کچھ دنوں سے ایسی عجیب حرکتیں کیوں کررہا ہے۔۔۔۔؟؟؟“ بڑی جرات سے،ذرا جھجک کر اصل مدعے کا آغاز کرتی ہوئی راشدہ۔۔۔جنید کو ٹھٹھک کر حیرت سے اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کرگئی تھی۔
”کیا مطلب۔۔۔؟؟ت۔۔تم جانتی ہو۔۔؟؟اگر جانتی ہو تو بتاؤ ناں مجھے بھی۔۔آخر کیوں کررہا ہے وہ یہ سب۔۔۔۔؟؟؟“ بےچینی سے اسکی جانب مکمل پلٹتا ہوا وہ اسے فربہ کندھوں سے تھامے پوچھ رہا تھا۔۔۔
راشدہ نے جنید کی ٹٹولتی ہوئی سرخ آنکھوں میں جھانکتے ہوئے دو پل کا وقفہ لیا۔
”جب ایک ٹھیک ٹھاک مرد کو اِس جھوٹی خبر پر یقین آجائے ناں کہ وہ ساری زندگی کبھی باپ نہیں بن سکتا۔۔۔تو مینٹلی ڈسٹربنس کے سبب ایسی جذباتی منمانیاں کرنا بہت کامن سی بات ہوجاتی ہے پھر۔۔۔۔“ فقط اپنے شوہر کی خاطر۔۔۔قدرے ٹھہر ٹھہر کر بتاتی ہوئی راشدہ جہاں سیاہ حقیقت سے پردہ اٹھی گئی تھی۔۔۔وہیں تیزی سے گزرتے ان معلوماتی پلوں میں،حیرت تلے دبا جنید ایک ایک بات جان کر اب بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوا تھا۔۔۔۔۔۔