No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
گھڑی اس وقت رات کے سوا بارہ بجارہی تھی،جب وہ تھکن زدہ سا اپنے کمرے میں اینٹر ہوا۔۔۔
جلتے لیمپ کی روشی میں سامنے ہی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے ہوئے شاید وہ اُسی کے انتظار میں بیٹھے بیٹھے سوگئی تھی۔۔۔
زیدان کف اوپر کو موڑتا ہوا اس کے قریب چلا آیا۔پھر سینے پر بازو لپیٹتے ہوئے بےتاثر نگاہوں سے اُس کے سوئے نقوش بغور دیکھے۔
بینگنی رنگت کی لانگ نائٹی پر کھلے بال جچ رہے تھے۔۔۔۔
مگر زیدان کو قطعی نہیں۔۔۔
اُس فسادی جھگڑے کے بعد سے اپنی ذات کا بری طرح روندا جانا جہاں حسنہ وقاص کی دمکتی رنگت کو بےچینیوں تلے اب ماند کرچکا تھا۔۔۔۔وہیں زیدان عالم درانی کی اُس عورت کے لیے ساری دلچسپیاں ایک دم سے ختم ہوچکی تھیں۔۔۔
آج حمزہ کےصحیح سلامت گھر واپس لوٹ آنے پر جہاں سب کے بجھے چہروں پرمسکراہٹیں دوڑ گئی تھیں۔۔۔وہیں فائق نامی وہ معمولی سا ورکر کڈنیپر سےگولی کھانے کے بعد اب ایک نئی پریشانی کا سبب بنتا ہوا۔۔اس وقت ہاسپیٹلائزڈ تھا۔۔۔
ایسے میں اُس کی بیوی کی پھیکی پھیکی مسکراہٹ اور اس سب معاملے سے کافی حد تک بےنیازی اُس کے سوا کوئی بھی محسوس نہیں کر پایا تھا۔
معاً سر جھٹکتے ہوئے وہ زیدان نے گہرا سانس لیا۔۔۔ ”اٹھو۔۔۔۔۔“ زرا سا اُسکی جانب جھکتا ہوا وہ سرد لہجے میں گویا ہوا۔۔۔ مگر وہ تھی کہ پکی نیند کے سبب ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔
”تم سے کہہ رہا ہوں اٹھو فوراً۔۔۔“ سوئی حسنہ کا سکون برباد کرنے کی خاطر۔۔۔اُسے بازؤ سے پکڑ کر جھنجھوڑتا ہوا وہ جانتے بوجھتے اس کے سر پر دھاڑا تھا۔
اگلے ہی لمحے وہ قدرے گھبرا کر اپنی خمار زدہ سرخ آنکھیں کھول گئی۔
”ہااا۔۔ہ۔۔۔۔۔زیدان۔۔۔!!آ۔۔آپ۔۔۔ آپ آگئے۔۔۔؟؟میں تب سے آپ ہی کا تو انتظار کررہی تھی۔۔۔۔۔“ اس اچانک افتاد پر قدرے ہڑبڑاکر کہتی ہوئی وہ سیدھی ہوکر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
جبکہ اُس کا جواب زیدان کو زہر لگا۔۔۔
اگلے ہی پل وہ ناگواری سے بھنویں سکیڑتا ہوا سامنے رکھے صوفے پر جاکر بیٹھ گیا۔۔۔۔
”بھوک لگی ہے مجھے۔۔۔کھانا لاؤ میرے لیے۔۔۔۔“ کچھ تھکاوٹ سے شوز اتارتے ہوئے وہ بے لچک انداز میں بولا تھا۔
حسنہ اُسکے اکھڑ لب و لہجے پر ضبط کرکے رہ گئی۔۔۔
مقابل کی محبت میں جو جرم اُسنے کیا تھا،،،اُسکی پاداش میں وہ کئی دنوں سے ایسے ہی تو پیش آرہا تھا اُسکے ساتھ۔۔۔
کتنا منا بہلا چکی تھی ناں وہ اُسے۔۔۔۔
لیکن مقابل تھا کہ کسی بھی طرح سے ماننے پر ہی نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
”میں نے بھی ابھی تک کچھ نہیں کھایا۔۔۔۔۔میں ہم دونوں کے لیے کھانا لے کر آتی ہوں۔۔مل کر کھائیں گے۔۔۔۔“ مقابل کے اجنبیت بھرے انداز سہنے کے باوجود بھی وہ شرینی لب و لہجے میں بولتی ہوئی بھاری بھاری سر کے ساتھ فوری بیڈ سے اتر چکی تھی۔۔۔
”میں تم جیسی منافق عورت سے دو بول بات تک کرنا گوارا نہیں کرتا اور تم ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کا سوچ رہی ہو۔۔۔ہونہہ۔۔۔کوئی ضرورت نہیں ہے اس کی۔۔۔۔“ سرعت سے ٹوکتا زیدان اپنے لہجے کی حقارت سے حسنہ کا دل ایک بار پھر سے چھلنی کرگیا۔۔۔
وہ تیزی سے نم پڑتی آنکھوں سے اُسکے تنے نقوش دیکھنے لگی۔۔۔۔
”اب کھڑی میرا منہ کیا تَک رہی ہو؟؟؟جاؤ بھی یہاں سے۔۔جو کرنے کو کہا ہے وہ کرو۔۔۔۔۔۔“ دوسری طرف اب پہلے والا زیدان نہیں تھا جو اس کی نم آنکھوں پر بےچین سا ہوجایا کرتا تھا،،،
جو اُسکے حُسن۔۔اُسکی محبتوں میں مر مٹتا تھا۔۔۔جبھی شوز کو تندہی سے جھٹک کر دور پھینکتا ہوا۔۔۔۔اُسے کٹے دل کے ساتھ کمرے سے نکل جانے پر مجبور کرگیا۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ ٹرے میں سلیقے سے کھانا رکھ کر کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔۔
تب تک زیدان بھی فریش ہوکر بیڈ پر بیٹھ چکا تھا۔۔۔۔ حسنہ گرم کھانے کی ٹرے اُس کے سامنے رکھتی ہوئی خود بھی کچھ جھجک کر بیڈ پر ہی اُس کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔
”یہ کیا بےسوادی سا کھانا اٹھا لائی ہو تم میرے لیے۔۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟؟؟اسے تو ٹھیک سے گرم بھی نہیں کیا ہوا۔۔۔حیا کو دیکھا ہے کبھی۔۔۔۔!!! ہمیشہ ہر کام سلیقے سے کرتی ہے۔۔۔اور تم۔۔۔تم تو کچھ بھی نہیں کر پاتی ہو اُس جیسا۔۔۔لو لیول۔۔۔“ وہ اچھے سے جانتا تھا کہ آج ساری کنگ حسنہ نے خود اپنے ہاتھوں سے کی تھی۔۔۔جبھی نیم گرم۔۔وائٹ قورمے کے سنگ نوالے کا ذائقہ منہ میں گھلتے ہی وہ اچھا خاصا بھڑک اٹھا تھا۔۔۔
حسنہ نے قدرے حیرت سے اُسے دیکھا جو ٹرے کو حقارت سے اُسکی جانب دھکیلتا ہوا ایکٹنگ کرنے میں پیش پیش تھا۔۔۔۔
اس پر مستزاد مقابل کا آگ لگاتا ہوا طنز۔۔۔۔۔اُسکا ضبط ہی تو توڑ چکاتھا۔۔۔۔
”میں اُس جیسا کبھی بننا بھی نہیں چاہتی زیدان۔۔۔۔اور آپ کیوں جان بوجھ کر بات بات میں اُسے بیچ میں گھسیٹ لاتے ہیں۔۔۔؟؟مجھے مینٹلی ٹارچر کرنے کے لیے۔۔۔۔؟؟؟ کیوں۔۔۔کیوں کررہے ہیں آپ میرے ساتھ ایسا زیدان۔۔۔۔؟؟؟کیوں بھول رہے ہیں؟؟؟بیوی ہوں میں آپکی۔۔۔محبت ہوں میں آپکی۔۔۔۔!!!“ جواب میں وہ بھی تپ کر کھڑی ہوتی پھٹ پڑی تھی۔۔
وہ اُسے بے عزت کرنے کا اب کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔۔۔ زیدان اُسکی بےتحاشہ جلن پر پل بھر کو تمسخر اڑاتے انداز میں مسکرایا۔۔۔۔ پھر خود بھی اٹھ کر حسنہ کےقریب ترین آکر رکتا ہوا اُس کے نرم چہرے میں اپنی سخت انگلیاں دھنسا گیا۔۔۔
”اِسی چیز کا تو بےتحاشہ افسوس ہے مجھے ڈارلنگ۔۔۔تم سے محبت کرکے جو غلطی کی سو کی۔۔۔بیوی بنا کر اُس سے بھی بڑی حماقت کرڈالی۔۔۔جو میرے اعتبار کو ایک بارٹھیس پہنچاتا ہے ناں مجھے اُس شخص سے آٹو میٹکلی نفرت ہوجاتی ہے۔۔۔پھر چاہے وہ میری سوکالڈ بانجھ بیوی ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔!!!“ حسنہ کی سرخ بھیگی آنکھوں میں جھانکتا ہوا وہ بڑے سکون سے اُسکی تذلیل کررہا تھا۔۔۔ ٹوٹ کر گالوں پر پھسلتے آنسوؤں پر وہ اہانت سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔۔۔
”اور رہی بات حیا وقاص کی تو۔۔۔جان لو کہ میری زبان سے اُس کا ذکر ایک بار چھوڑ کر ہزار بار ہوگا اور بار بار ہوگا۔۔۔۔جانتی ہو کیوں۔۔۔؟؟؟“ اپنی لطف لیتی مسکراہٹ کو پل میں سمیٹتا ہوا وہ یکدم رکا۔۔۔تو حسنہ نے پیشانی پر بل ڈال کر ضبط سے اُس کی طرف دیکھا۔۔۔۔
اس دوران دماغ نے کہیں کچھ بہت غلط ہوجانے کا احساس دلایا تھا۔۔۔۔
معاً زیدان اُس کے بھیگتے گال سے اپنا تپتا گال مس کرکے اُسکی سماعت پر جھکتا ہوا اپنی بیوی کا دل ڈوبا گیا۔۔۔۔۔
”کیونکہ تمھارے نام کی بجائے اب میرا یہ باغی دل تمھاری بڑی بہن حیا وقاص کے نام دھڑکنے لگا ہے۔۔۔اور وہ بھی بڑی شدتوں سے۔۔۔اففف۔۔۔۔۔“ اپنے کسرتی سینے کو مسل کر۔۔۔سلگتی ہوئی سفاک سرگوشی کرتا وہ اپنے اِس نئے انکشاف سے حسنہ وقاص کی روح کو لرزا ہی تو گیا تھا۔۔۔
معاً اُسکے چوڑے سینے پر زور سے دو ہتھڑ مار کر وہ اگلے ہی پل اُسکا گریبان مٹھیوں میں دبوچ گئی۔۔۔
”تم میرے ساتھ اتنا بڑا ظلم نہیں کرسکتے زیدان عالم درانی۔۔میں ایسی بےوفائی بالکل بھی ڈیزرو نہیں کرتی ہوں۔۔۔اگر تم نے ایسا کچھ بھی غلط کرنے کی کوشش کی ناں تو یاد رکھنا۔۔۔۔بہت کچھ کر چکی ہوں میں۔۔۔اور بہت کچھ کرجاؤں گی۔۔۔۔“ قدرے غصے سے غراتی ہوئی وہ اُسے صاف صاف دھمکا رہی تھی۔۔۔ اِس کھلی بدتمیزی پر زیدان نے بھی مشتعل ہوکر اُسکی کلائیاں دبوچ لیں۔۔۔۔
”مجھے میری من مرضیوں سے روکنا تمھاری اوقات سے بہت پرے کی بات ہے۔۔۔اور اگر کچھ کربھی گئی تو منہ کے بل گرنا تمھارا مقدر بن جائے گا یُو ڈیمٹ۔۔۔۔“ حسنہ کے لڑھکتے آنسوؤں کی رتی برابر بھی پرواہ کیے بنا۔۔۔وہ چبا چبا کر بولتا ہوا اگلے ہی پل اُسے دبیز قالین پر بےدردی سے دھکیل چکا تھا۔۔۔
”آااہہہہہ۔۔۔۔۔۔۔!!!!!“ کہنیوں کے بل رگڑ کھا کر گرتی ہوئی وہ بےاختیار سسکی۔۔۔۔
مگر وہ حقارت ملے غصے سے اُسکا سراپا گھورتا ہوا مزید وہاں رکا نہیں تھا۔۔۔۔بلکہ سگریٹ پیک،لائٹر اٹھاتا ہوا تندہی سے کمرے سے ملحق ٹیرس کی جانب لپکا۔۔۔
پھر ٹھک سے وہاں کا دروازہ بند کرگیا۔۔۔۔
پیچھے بےدم پڑی حسنہ نے اہانت کے شدید احساس تلے اٹھ کر بیٹھنے کی رتی برابر بھی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔۔
”حسنہ وقاص نام ہے میرا۔۔۔۔تمھاری لاکھ ناراضگی۔۔لاکھ بدظنی ہی سہی زیدان عالم درانی۔۔۔ مگر جان لو کہ میں کسی بھی قیمت پر ہمارے اِس رشتے کو برباد نہیں ہونے دوں گی۔۔۔۔تمھاری زندگی میں آنے والی پہلی اور آخری عورت فقط میں ہی ہوں۔۔۔۔اس لیے جس طرح پہلے تمھیں تم سے چھینا تھا اب بھی ویسے ہی چھین لوں گی۔۔۔۔۔“ بکھر کر سرخ چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے ہٹائے بنا ہی،،، وہ مدھم سلگتی آواز میں بولتی چلی گئی۔۔۔تو بھیگی سرخ آنکھوں میں بےاختیار ایک جنون سا ہلکورے لینے لگا۔۔۔۔
اگلے ہی پل بےدردی سے لب کچلتی ہوئی وہ۔۔۔اپنی تپی پیشانی کو سختی سے بھینچی مٹھی پر ٹکا گئی تھی۔۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
آج بختو بی بی اپنی بیٹی کی خراب حالت کی وجہ سے کام پر نہیں آپائی تھی۔۔۔جبھی حیا کو صبح کے ناشتے کے بعد اب دوپہر کا کھانا بھی کچن میں کھڑے ہوکر خود ہی بنانا پڑ رہا تھا۔۔۔
گزشتہ روز حمزہ کا صحیح سلامت گھر واپس لوٹ آنا جہاں اُس سمیت ساری فیملی کو اندر تک اطمینان دلاگیا تھا۔۔۔وہیں فائق نامی اُس سلجھے ہوئے آفس ورکر کا ہنگامی صورتحال کے دوران کندھے پر گولی کھانا بھی متفکر کرنے کو کافی تھا۔۔۔
کس قدر نیک بخت شخص تھا ناں وہ۔۔۔جو بنا کسی ڈیمانڈ۔۔۔بغیر کسی لالچ کے اتنا سب کچھ کرگیا تھا۔۔۔
پریشر کُکر کو اچھے سے بند کرکے چولہے پر چڑھاتے ہوئے بے اختیار حیا کی سوچوں کا رُخ بدلا۔
کل رات خود اُس کے شوہر نے بھی تو اپنی بےباک جسارت سے اُسے حدرجہ متفکر ہونے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
ایک پل لگا تھا حیا کو گزری رات کا وہ دل دھڑکا دینے والا منظر پھر سے یاد کرتے ہوئے۔۔۔۔۔
”ی۔۔۔یہ کیا کررہے ہیں آپ۔۔۔؟؟بال چھوڑیں میرے۔۔۔۔!!“ اپنے کھلے ہوئے لمبے بالوں میں کھچاؤ لگنے پر جہاں وہ کچی نیند سے جاگتی ہوئی فوری پیچھے پلٹی تھی،وہیں وہ اُسکی نچلی زلفوں کو بنا چونکے مسل کر سونگھتا ہوا۔۔۔اُسے شدت سے ہڑبڑانے پر مجبور کرگیا۔
”کافی اچھی خوشبو ہے ان کی۔۔۔بائے دا وے کونسا شیمپو یوز کرتی ہو تم۔۔۔۔؟؟؟“ بھاری گھمبیر سی آواز میں پوچھتے ہوئے رمیض عالم درانی کی کنگ کردینے والی ڈھٹائی قابلِ دید تھی۔
سینے پر صحیح سے دوپٹہ پھیلاتی حیا کو قدرے محتاط ہوتے ہوئے اُٹھ کر بیٹھنا پڑا۔۔۔تو وہ بھی اُس کی جانب دیکھتا ہوا نرمی سے اس کے بال چھوڑ گیا۔
صد شکر تھا اس دوران بیچ میں رکھی گئی تکیے کی باڑ ہنوز تھی۔
”یہ کیسا بےتکا سا سوال ہے۔۔۔؟؟؟م۔۔مجھے اِس وقت آپ کی طبیعت بالکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہی رمیض صاحب۔۔۔۔میرے خیال میں اب مجھے یہاں سے اٹھ کر وہاں صوفے پر چلے جانا چاہیے تاکہ میں سکون کی نیند سو سکوں۔۔۔۔۔۔“ اُس کی گہری سیاہ آنکھوں میں خمار کی گہری رمک دیکھتے ہوئے تلخ ہوتی حیا جلدی سے بیڈ سے نیچے اترنے کو تھی۔۔۔جب وہ سرعت سے آگے ہوکر نازک کلائی تھامتا ہوا اُسے شدت سے اپنی جانب کھینچ گیا۔۔۔
نتیجتاً وہ دبی چیخ کے ساتھ واپس بستر پر اُسکے بہت قریب گری تھی۔
”بیوی ہونے کے ناطے تم پر رتی برابر حق ہی تو جتا رہا ہوں میں۔۔۔۔لیکن تم ہو کہ یوں بھڑک رہی ہو جیسے میں نے تمھیں اپنی مضبوط بانہوں میں بھینچ لیا ہو۔۔۔!!!“ بڑے استحقاق سے اُس پر سے اپنا کسرتی بازو گزار کر۔۔۔اُس کی پھٹی پھٹی دلکش آنکھوں میں دیکھتا ہوا وہ بڑی سنجیدگی سے بول رہا تھا۔
ہلکے گلابی رنگ سوٹ میں،،،سرخ ہوتی رنگت پر حیا کو سانس لینا مشکل ہوا۔
وہ شخص اُس کے بہت قریب تھا۔۔۔
”پلیز رمیض۔۔۔دور ہٹیے مجھ سے۔۔۔آپ نے کہا تھا کہ آپ زبردستی کے قائل نہیں ہیں۔۔۔“ اٹھنے کی سکت کھوتے ہوئے وہ بامشکل بول پائی تھی۔
”بےشک نہیں ہوں۔۔۔مگرمیں بھی تمھاری طرح سکون کی نیند سونا چاہتا ہوں اس لیے۔۔۔ہاتھ تو نہیں چھوڑوں گا۔۔نہ اب۔۔نہ آگے کبھی۔۔۔۔تم بھی بےکار کی مزاحمت مت کرو۔۔۔تھک جاؤ گی۔۔۔۔۔“ اُس کی آنکھوں میں بھرتی نمی دیکھ کر دھیمے پُرتپش لہجے میں کہتا ہوا وہ پیچھے تو ہٹ چکا تھا۔۔۔لیکن واپس اپنی جگہ پر سکون سے نیم دراز ہوتے ہوئے نازک کلائی ہنوز اسی کی مضبوط گرفت میں تھی۔
حیا نے گہرے سانس لیتے ہوئے ضبط سے گردن موڑ کر اُسکی جانب دیکھا۔۔۔جو نگاہوں میں مدھم سرخی لیے اُسی کو بےتابانہ تک رہا تھا۔
ناچاہتے ہوئے بھی حیا کی دھڑکنے شدت سے شور مچانے لگیں۔
یہ بہکے تیور اُس شخص کی سخت طبیعت سے بھلا کہاں میل کھاتے تھے۔۔۔۔!!!
”آپ کب سے مجھ میں اپنا سکون تلاشنے لگے رمیض عالم درانی۔۔۔۔؟؟؟کیا آپ ایک بار پھر سے محبت کرنے کی سنگین غلطی کرنا چاہ رہے ہیں۔۔۔؟؟؟جس نے خساروں کے سوا کچھ دیا ہی نہیں۔۔۔۔“ ٹوٹ کر کنپٹی پر پھسلتے آنسوؤں پر وہ طنزاً پوچھ رہی تھی۔
اُسی کی جانب رُخ کیے وہ قدرے متاسف سا مسکرایا۔
”جانتی ہو؟میرا تیز دماغ ہربار محبت کرنے سے روکتا ہے مجھے۔۔۔مگر یہ جو باغی دل ہے ناں۔۔۔۔!!!“ کہتے ہوئے وہ بےاختیار ذرا سا قریب کھسکتا ہوا اُس کا ہاتھ اپنے دھڑکتے دل پر جماگیا۔۔۔تو بے چین ہوتے ہوئے حیا کے پورے وجود میں سرد سنسناہٹ سی دوڑ گئی۔۔۔
”یہ تمھارے دلفریب نقوش دیکھ کر پھڑپھڑانے سا لگتا ہے۔۔۔دماغ کی ہزاروں نصحیتوں کے خلاف ہوجاتا ہے۔۔۔خساروں سے بےپرواہ ہوجاتا ہے۔۔۔اور۔۔۔اور مجھے بار بار اُکساتا ہے محبت جیسی غلطی دوبارہ کرنے پر۔۔۔۔۔“ وہ اپنے اندر پنپتے جذبات کو بھاری نرم آواز صورت اُسکی سماعتوں میں گھول رہا تھا۔۔۔
اور وہ۔۔۔۔وہ سانس روکے کچھ خائف سی اُسے سنتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔
بلاشبہ اپنی بے باکیت سے وہ اُسے آہستہ آہستہ اپنی جانب قائل مائل کرنے کا خواہاں تھا۔۔۔۔
”بیلیو می بیوی۔۔۔میں یہ سنگین حماقت اب تمھارے ساتھ دُہرانا چاہتا ہوں۔۔۔اور بڑی شدت سے دُہرانا چاہتا ہوں۔۔۔۔بس ایک تمھارے ہی قائل ہونے کی دیری ہے۔۔۔۔“ شدت سے باور کرواتا ہوا وہ بےاختیار اُس کے لرزتے ہاتھ پر دباؤ دے گیا۔۔۔
تو وہ بنا کچھ کہے۔۔۔
بنا کوئی مزاحمت کیے۔۔۔
شدتوں سے پھڑپھڑاتے ہوئے دل کے ساتھ اپنا لال بھبھوکا چہرہ سیدھا کرتی سختی سے آنکھیں میچ گئی۔۔۔۔
مگر رمیض عالم درانی نے اُس کی کلائی کو قطعی آزادی نہیں بخشی تھی۔
معاًپریشرکُکر کی زوروں سےبجتی سیٹی پر جہاں حیا نے قدرے ٹھٹھک کر آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔وہیں
خیالوں کا تسلسل ٹوٹ کر بکھرنے کے باوجود بھی اُس کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
آج صبح سے ہی وہ اُس سے کتراتی پھر رہی تھی جو جانے کیوں ابھی تک ریسٹو رنٹ نہیں گیا تھا۔۔۔؟؟؟
”کھڑوس۔۔۔وائفی کِلر کہیں کا۔۔۔۔وہ صرف سخت جان ہاتھوں سے ہی نہیں بلکہ اپنی اوچھی باتوں سے بھی سانسیں بند کرنے کا ہنر رکھتا ہے۔۔۔عورت ذات سے سخت چِڑ کھانے والا اب کیسے اپنی نیت بدل گیا ہے ناں مجھ پر۔۔۔۔؟؟شروع سے ہی مجھ معصوم کی سانسیں خشک کیے رکھتا تھا۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔“ سرجھٹک کر دبے دبے غصے میں خود کلامی کرتی ہوئی حیا ساتھ ہی ساتھ دھنیہ کاٹنے لگی۔۔۔اس چیز سے قدرے انجان کے کوئی اُس کی پشت پر خاموشی سے کھڑا اُس کی ساری گفتگو بآسانی سن رہا تھا۔۔۔۔
”کبھی کبھی تو دل کرتا ہے کہ اُس چھچھوڑے کھڑوس کی گردن پکڑکے بالکل اس طرح مڑور ڈالوں۔۔۔یُوں۔۔یُوں کرکے۔۔۔اور پھر اینڈ پر ایسے ہی کھینچ کر الگ کردوں۔۔۔۔“ تنہائی میں اندر دبی بھڑاس نکالنے کو جہاں بے ساختہ ہی اُس نے باقی کے دھنیے کو ڈنڈیوں سے مڑوڑ کر کھینچتے ہوئے الگ کرڈالا تھا۔۔۔وہیں اپنی بیوی کی ایسی غیرمتوقع حرکت پر رمیض عالم درانی کے ماتھے پر تیوریاں چڑھ آئیں۔
”بس اتنا ہی دل کرتا ہے تمھارا۔۔یاں پھر کچھ اور بھی خواہشات اُگلنا باقی ہیں ابھی میرے بارے میں۔۔۔؟؟؟“ کسرتی سینے پر بازو لپیٹے ہوئے۔۔۔معاً وہ قریب ترین آکر غراتا اُس کے پیروں کے نیچے سے زمین ہی تو نکال چکا تھا۔
”ہاااہ۔۔۔۔ر۔۔۔رمیض آ۔۔آپ۔۔۔۔؟؟؟“ ہاتھ میں پکڑا دھنیہ بےاختیار شیلف پر پٹخ کر گہرا جھٹکا کھاتی ہوئی وہ اس کی جانب پلٹی۔۔۔
وہ سرد مہری سے اُسی کے سہم چکے نقوش گھور رہا تھا۔
”م۔۔میں وہ۔۔۔آہ۔۔۔ی ی ی۔۔۔۔۔“ فق ہوتی رنگت کے ساتھ اس کے لب کچھ کہنے کی کوشش میں شدت سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔جب یک دم وہ اسے گردن سے دبوچ کر دبا دبا سا چیخنے پر مجبور کرگیا۔۔۔
مضبوط گرفت میں نرمی سی تھی۔۔۔مگر وہ لرزتے ہاتھوں سے اُس کی مردانہ کلائی تھامتی ہوئی ٹھیک ٹھاک گھبرا چکی تھی۔
وحشت سے پھیلی دلفریب آنکھوں میں بغور جھانکتے ہوا رمیض اگلے ہی پل اس کی سماعتوں کی جانب جھکا۔۔۔تو وہ سانس روک گئی۔
اس دوران دھواں چھوڑتی سیٹی ہنوز بج رہی تھی۔۔۔۔
”آج رات جب تم ہمارے بیڈ روم میں گھسو تو اپنی اِس نازک گردن کے لیے حفاظتی تدابیر لازمی کرلینا بیوی۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تمھارا یہ چھچھوڑا کھڑوس۔۔۔وائفی کِلر اپنی اوچھی باتوں کی بجائے سخت جان ہاتھوں سے ہی تمھاری سانسیں بند کرڈالے۔۔ہہمم۔۔۔؟؟“ انگوٹھے سے اُس کی شہ رگ سہلا کر اُسکے رونگٹھے کھڑے کرتا وہ سیدھا ہوا۔۔۔تو جواباً حیا نے نم ہوتی آنکھوں کے ساتھ جلدی سے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔
سرمئی رنگ شرٹ تلے جینز پہنے رمیض نے اپنی اُمڈتی مسکراہٹ بامشکل دباتے ہوئے اُس پر سے نگاہیں ہٹائیں۔۔۔
پھر شیلف پر بکھرے دھنیے کو دیکھ کر تاسف سے گہرا سانس بھرا۔۔۔تو اُس سے نگاہ چرانے کی پوری کوشش کرتی حیا اچانک جلنے کی بُو محسوس کرتی جلدی سے پلٹی اور قدرے پُھرتی سے چولہا بند کردیا۔۔۔
”حیاااا۔۔۔۔۔؟؟؟حیااااا بیٹا۔۔۔۔۔؟؟؟“ معاً لاؤنج سے آتی شناسا آواز پر جہاں رمیض چونکا تھا وہیں حیا کے دل کی دھڑکنیں ڈوب کر ابھریں۔۔۔
”بابا۔۔۔؟؟؟ی۔۔یہ تو میرے بابا کی آواز ہے ناں۔۔۔۔؟؟“ اگلے ہی پل سب بھلائے۔۔رمیض کی جانب پلٹتی وہ قدرے خوشگوار حیرت سے بڑبڑائی۔پھر سر پر دوپٹہ جماتی ہوئی سرعت سے کچن سے باہر کو بھاگی تھی۔۔۔
رمیض بھی بالوں پر ہاتھ چلاتا ہوا اُسی کے پیچھے لپکا تھا۔۔۔
”بابا۔۔۔۔۔؟؟؟“ لاؤنج کے بیچ و بیچ کھڑے وقاص صاحب کھلے کمروں کی جانب دیکھ رہے تھے،،،،جب بےتابی سے اُن کی پشت پر آکر رکتی حیا روہانسے لہجے میں اُنھیں شدت سے مخاطب کرگئی۔۔۔۔
”حیا۔۔۔میری بیٹی۔۔۔۔۔“ معاً وہ چونکتے ہوئے اُس کی جانب پلٹے۔۔۔پھر بےتابانہ اُسکا سر قدرے شفقت سے اپنے سینے سے لگا گئے۔۔۔تو ان دونوں کو سکون سے دیکھتا رمیض ہولے سے مسکرا دیا۔۔۔
”اسلام و علیکم چچا جان۔۔۔۔آپ کو یہاں دیکھ کرخوشی ہوئی مجھے۔۔۔۔“ معاً وقاص صاحب سے نگاہیں ملنے پر وہ خوش اخلاقی سے گویا ہوتا مزید وہاں رکا نہیں تھا۔۔۔۔بلکہ اپنے چچا جان کی نم مسکراہٹ پاکر،اگلے ہی پل دونوں باپ بیٹی کو تنہا چھوڑتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
رمیض عالم کے نزدیک فی الحال کے لیے اُن دونوں کو اکیلا چھوڑدینا ہی بہتر تھا۔۔۔ویسے بھی اب اُسے ریسٹورنٹ کے لیے نکلنا تھا۔۔۔۔
”م۔۔مجھے یقین نہیں ہورہا ب۔۔بابا۔۔۔ آپ۔۔۔۔۔آپ مجھ ہی سے ملنے کے لیے یہاں آئے ہیں ناں۔۔بتائیں۔۔۔؟؟؟“ معاً سر اٹھاتی حیا نے بھیگے گال رگڑتے ہوئے یقین دہانی چاہی تھی۔۔۔۔
جواباً وقاص صاحب لب بھینچتے ہوئے سر اثبات میں ہلا گئے۔۔۔
”ہاں بیٹا۔۔۔۔۔ایک باپ کو اُس کی بیٹی کی سچی تڑپ یہاں تک کھینچ لائی ہے۔۔۔۔۔“ اُس کے سر پر آہستگی سے ہاتھ جماکر بولتے ہوئے وہ حیا کی مسکراہٹ گہری کرگئے تھے۔
”بابا۔۔۔۔۔بابا۔۔۔۔آپ نہیں جانتے کہ کتنا تڑپی تھی میں آپ کے سینے سے لگ کر اپنے سارے غم بہانے کے لیے۔۔۔۔!!کتنا انتظار کیا تھا اپنے سر پر آپ کا یہ شفقت بھرا ہاتھ پانے کے لیے۔۔۔کتنی ہی دعائیں مانگی تھیں میں نے بابا۔۔کتنی ہی۔۔۔۔!!!“ اپنے سر پر رکھا اُن کا کپکپاتا ہاتھ۔۔۔لرزتے ہاتھوں سے تھامتی ہوئی وہ پل پل جذباتی ہورہی تھی۔
اُس کے آنسو افسردگی سے دیکھتے ہوئے وقاص صاحب کو شرمندگی سی محسوس ہونے لگی۔
کتنا غلط کر بیٹھے تھے ناں وہ اپنی ہی اولاد کے ساتھ۔۔۔۔!!!
”ایک بار۔۔۔۔بس ایک بار مان جائیے ناں بابا۔۔۔۔خدا قسم بے قصور ہوں میں۔۔۔۔خدا قسم اپنی شادی والے دن میں رمیض کے ساتھ کہیں بھی نہیں بھاگی تھی۔۔۔وہ تو۔۔۔“ گہری حقیقت سے بےخبر وہ ایک بار پھر سے معافی تلافی۔۔۔ترلو منتوں پر اتر آئی تھی۔۔۔جب وقاص صاحب بےچین ہوتے اُسے شدت سے ٹوک گئے۔۔۔
”بس بس بس۔۔۔م۔۔میں مان چکا ہوں ۔۔۔۔۔مان چکا ہوں کہ۔۔۔میری حیا بے قصور ہے۔۔معصوم ہے پاکدامن ہے۔۔۔“ نم آواز میں جتاتے ہوئے وہ اپنے مضبوط ترین لہجے سے حیا کو چونکا ہی تو گئے تھے۔۔۔
ایک ہی بار میں اس قدر یقین۔۔۔۔؟؟؟
مگر اگلے ہی اُس کے باپ کا اپنے لرزتے ہاتھوں کو معافی کی صورت اسکے سامنے جوڑنا اُسے ششدر کرگیا تھا۔۔۔
”مجھے معاف کر دو حیا بیٹی۔۔۔۔۔اپنے باپ کو معاف کر دو کہ جس میں حقیقت پر اعتبار کرنے کی صلاحیت سرے سے ہی موجود نہیں ہے۔۔۔بہت شرمندہ ہوں میں بیٹا۔۔۔بے حد شرمندہ ہوں جو اپنی باکردار۔۔پارسا بیٹی پر جانتے بوجھتےظلم کر بیٹھا میں۔۔۔۔۔“ ٹھہر ٹھہر کر بہتے آنسوؤں کے سنگ بولتے ہوئے وہ شرمسار سے سر جھکاگئے تو حیا کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔
”ب۔۔بابا آپ۔۔۔۔آپ حقیقت جانتے ہیں۔۔۔۔؟؟مگر ک۔۔کیسے۔۔۔۔۔؟؟؟“ تڑپ کر اُن کے جڑے ہاتھوں کو تھامتی ہوئی وہ بےیقینی سے سسک کر پوچھ رہی تھی۔۔۔
کیا اِن حقیقتوں کے سنگ وہ اُس کے گنہگار کو بھی جان چکے تھے۔۔۔۔؟؟؟
کہیں رمیض نے ہی تو یہ سب نہیں کروایا تھا۔۔۔۔؟؟؟
پل میں ابھرتے ہزار وسوسوں نے حیا وقاص کے وجود میں بےچینیوں کا طوفان برپا کیا تھا۔۔۔۔
”ہاں جانتا ہوں۔۔۔۔نہ صرف حقیقت کو۔۔۔بلکہ تمھاری خوشیوں کا قتل کرنے والے مجرموں کوبھی۔۔۔بذاتِ خود ان کے لبوں سے اعترافِ جرم سن چکا ہوں میں۔۔۔۔“ سر اٹھاکر اُس کا سرخ چہرہ دیکھتے ہوئے ان کی نم آنکھوں میں وحشتیں در آئی تھیں۔۔۔
دل نے بے اختیار نفرت سے کروٹ بدلی۔۔۔
”کک۔۔کون ہیں وہ مجرم بابا۔۔۔۔۔؟؟؟“ نم پلکیں جھپکا جھپکا کر بےتابی سے پوچھتی حیا سر تا پیر سماعت بنی تھی۔۔۔
”زیدان عالم درانی۔۔او۔۔۔اور۔۔حسنہ وقاص۔۔۔۔۔۔۔“ وقاص صاحب کے لب جہاں بڑی ہمت سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔وہیں حیا رمیض عالم درانی کا لرزتا وجود بےیقینی کے بھاری بوجھ تلے شدت سے بےجان ہوتا چلا گیا۔۔۔۔
یہ انکشاف حقیقی معنوں میں جانیلوا تھا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”کیسے ہو اب تم۔۔۔۔؟؟؟“ چوڑے کندھے پر اٹھتی ٹیسوں کو لب بھینچ کر برداشت کرتا ہوا وہ،،،بمشکل اٹھ کرسفید رنگ تکیے سے ٹیک لگا گیا تھا،جب وہ بے چین نگاہوں سے اُسے سر تا پیر دیکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
اُس روز اگر وہ بروقت پیچھے نہ ہٹتا تو پسٹل سے برق رفتاری کے ساتھ نکلتی وہ جانلیوا گولی کندھے کی جگہ یقیناً اُس کا سینہ چیڑ جاتی۔۔۔۔
مگر صد شکر۔۔۔۔صد شکر کہ ایسا نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
کئی دنوں کے اسپیشل ٹریٹمنٹ کے سبب اب تو وہ کافی حد تک ٹھیک ہوگیا تھا۔۔۔
لیکن فی الحال پوری طرح سے نہیں۔۔۔
کیا ہوتا اگر جو اُن بدترین لمحات میں فائق درید کو واقعی میں کچھ ہو جاتا تو۔۔۔۔؟؟؟
ڈوبتے دل میں بےاختیار اٹھتا یہ ایسا سوال تھا،،،جو زلیخا عالم درانی کی گزشتہ کئی راتوں کی نیندیں خراب کرچکا تھا۔
”کیسا لگ رہا ہوں میں آپکو۔۔۔۔؟؟میری آنکھوں میں دیکھ کر خود بتائیے ناں۔۔۔۔!!!“ اُسے کھویا کھویا سا دیکھ وہ قدرے نرم گھمبیر لہجے میں گویا ہوا۔۔تو زلیخا نے چونک کر اُس کی پل میں بدلتی نگاہوں میں دیکھا۔
سفید رنگت کے پرنٹڈ کُرتے تلے بلیک کیپری پہنے،وہ کھلے بالوں میں جچ رہی تھی۔
مقابل کا سوال جتنا غیرمتوقع تھا۔۔۔اُس سے کہیں ذیادہ گہرا تھا۔۔۔
”م۔۔مجھے تم ابھی بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہے ہو۔۔۔۔“ دل شدت سے دھڑک اٹھا تھا،مگر لہجہ خاصی سادگی لیے ہوئے تھا۔
جواباً گہرا سانس بھرتے ہوئے فائق کو اُس کی یہ بےنیازی اندر ہی اندر کھلی تھی۔
”تو گویا آپ حقیقتوں کو اپنے رنگ میں ڈھال کر ان کے معنی بدلنا بخوبی جانتی ہیں۔۔۔انٹرسٹنگ زلیخا عالم درانی۔۔۔۔۔“ بظاہر دھیرے سے ہنس کر کہتا ہوا وہ اگلے ہی پل کچھ تھکاوٹ سے سر پشت سے ٹکاگیا۔۔۔۔تو بیڈ سے محض دو قدم دور کھڑی زلیخا نے اُسکی بند ہوتی آنکھیں دیکھ لب بھینچے۔
”میں بس یہ جاننا چاہتی ہوں کہ تمھیں میرے بیٹے کی اس قدر پرواہ کیوں ہے آخر۔۔۔۔؟؟کیوں ایک اجنبی ہوتے ہوئے بھی تم۔۔۔تم یوں مر مٹنے کے لیے بھی تیار بیٹھے ہو۔۔۔۔؟؟؟“ سینے پر بازو لپیٹ کر سرد آواز میں پوچھتی ہوئی وہ۔۔فائق کو سر اٹھا کر بےتابانہ اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کر چکی تھی۔
”ہاں یہ سچ ہے کہ میں اب مرمٹنے کی حد تک پرواہ کرنے لگا ہوں۔۔۔۔۔مگر میری یہ پرواہ فقط آپکے بیٹے تک تو محدود نہیں ہے۔۔۔۔آپ کی بھی تو خاصی پرواہ کرتاہوں میں۔۔۔اور رہی بات میرے اجنبی ہونے کی تو جان لیجیے زلیخا۔۔۔جان لیجیے کہ جہاں بے لوث محبتیں بسنے لگیں پھر وہاں اجنبیت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔۔۔“ بھاری لب و لہجے میں دھڑلے سے جتاتا ہوا فائق جہاں،سفید پٹیوں تلے مچلتی درد سے بھی لاپرواہ بنا تھا۔۔۔وہیں قدرے حیرت سے اُس کا سنجیدہ چہرہ تکتے ہوئے زلیخا کا چہرہ بےاختیار گلابی پڑا۔
”بے لوث م۔۔محبتیں۔۔۔۔۔؟؟؟“ بازو ڈھیلے چھوڑتے ہوئے اسکی آواز صاف لڑکھڑائی تھی۔۔۔
جب اگلے ہی پل وہ ضبط سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ آگے ہوتا،،،،بآسانی اسکی سفید کلائی اپنی مضبوط گرفت میں تھام گیا۔۔۔
فائق کی اِس بے جھجک ہمت پر گہرا سانس بھرتی زلیخا نے قدرے ٹھٹھک کر اسکی طرف دیکھا۔
شور مچاتی دھڑکنیں تو بہت پہلے ہی اُس کے حق میں مچل رہی تھیں۔۔۔۔
”جاننا چاہ رہی تھیں ناں آپ میری اندورنی حالت کے بارے میں۔۔۔۔تو پھر سنیے۔۔۔۔شدیدمحبت ہوچکی ہے مجھے آپ سے زلیخا عالم درانی۔۔۔آپ کے بنا زندگی جینے کا تصور اب میری سانسوں کے لیے جانلیوا بنتا جارہا ہے۔۔۔اس لیے۔۔اسی لیے جلد از جلد آپکو اپنی زندگی میں شامل کرکے خود کی ادھوری ذات مکمل کرنا چاہتا ہوں میں۔۔۔یہی۔۔۔یہی تو ہے میری حقیقت جس کو آپ جانتے بوجھتے جھٹلانے کی ناکام کوششیں کررہی ہیں۔۔۔۔۔۔“ ٹھہرٹھہر کرتپش دیتے لہجے میں صاف اظہارِ محبت کرتا ہوا وہ زلیخا کا وجود سن کرتا چلا جارہا تھا۔
اس پر مستزاد اُسکا کلائی پر نرمی سے انگوٹھے کو پھیرنا اُسکی پیشانی کو سلگا چکا تھا۔
بھلا کہاں سوچا تھا کہ وہ کم عمر۔۔مڈل کلاس لڑکا ہاسپیٹل کے روم میں یوں بےباک ہوکر دھڑلے سے اپنے جذبات اُس پر عیاں کردے گا۔۔۔۔
معاً ہوش میں آتی ہوئی زلیخا جھٹکے سے اپنا ہاتھ اُسکی گرفت سے چھڑواگئی۔۔۔تو نتیجتاً فائق کے زخمی کندھے میں گہری ترین ٹھیس اٹھی۔۔۔
”افففف۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل کندھے کو سختی سے جکڑتے ہوئے اُسکا چہرہ اذیت سے سرخ پڑا تھا۔
جبکہ اُس کے تکلیف دہ تیوروں پر یکدم متفکر ہوتی ہوئی وہ بےاختیار اُس کے قریب ترین آتی آتی رک سی گئی۔
فائق نے ضبط سے اُسے پنکھری لبوں پر بےسکون ہوکر زبان پھیرتے دیکھا۔
گلابیت گھلی نگاہوں میں نمی سی گھلنے لگی تھی۔
”ت۔۔تم پاگل ہوچکے ہو بالکل۔۔۔جانتے بھی ہو کیا کہہ رہے ہو۔۔۔؟؟؟“ بےہنگم دھڑکنوں پر آہستگی سے ہاتھ جماتی وہ بظاہر تنک کر بولی تو۔۔۔اُس کا پل پل بگڑتا تنفس بغور تکتے ہوئے،،،سنگین حالات میں بھی فائق کے لب ہولے سے مسکرائے۔
زلیخا کو اُس کی پیشانی پر بکھرے بالوں سے کہیں ذیادہ اسکی مسکراہٹ کی دلکشی کا حساس ہوا تھا۔
”آپ سے اپنے دل کا حال کہہ رہا ہوں اور اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔۔۔۔۔“ اس کی پیشانی کے بل دیکھ کر بھی وہ اپنے زخمی کندھے کو ہنوز تھامے بضد تھا۔۔۔
زلیخا نے نچلا لب کچلتے ہاسپیٹل کے اِس پرائیوٹ روم میں پل بھر کو نگاہ دوڑائی۔پھر ضبط سے اُس کی تپش دیتی سرخ آنکھوں میں دیکھا۔
”غلط کررہے ہو بہت۔۔۔۔پہلے مجھے دیکھو پھر اپنے آپ کو۔۔۔اور بتاؤ۔۔۔؟؟؟کیا تم جیسا ینگ۔۔۔ہینڈسم۔۔۔اورکنوارا لڑکا اپنی لائف میں مجھ جیسی پکی عمر کی عورت کو ڈیزروَ کرتا ہے جو چار سال پہلے ہی بیوہ ہوچکی ہے۔۔۔؟؟؟“ مٹھیاں بھینچ کر قدرے برہمی سے پوچھتے ہوئے اس کے لہجے میں خود کے لیے صاف صاف تمسخر سمٹ آیا۔۔۔تو فائق نے تاسف سے اُسکی مزید بھیگتی نگاہوں میں دیکھتے ہوئے سرعت سے اسکی مومی کلائی تھام لی۔
اِس بار گرفت بڑی مضبوط تھی۔
”ہاں کرتا ہوں میں آپکو ڈیزروَ۔۔۔ہر لحاظ سے کرتا ہوں کیونکہ حقیقی محبتوں میں کوئی اونچ نیچ نہیں دیکھی جاتی زلیخا بی بی۔۔۔صرف اُن جذبات کی قدر کی جاتی ہے جو دلوں کو شدتوں سے دھڑکانے کا سبب بنتے ہیں۔۔۔آپ میری یہ بات اچھے سے ذہن نشین کرلیں کہ کم یا ذیادہ عمروں کا فرق میری محبت کو رتی برابر بھی متاثر نہیں کرسکتا۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔“ گہرا جھٹکا دے کر اسے اپنے قریب ترین بیٹھنے پر مجبور کرتا ہوا۔۔وہ کندھے میں اٹھتے شدید درد کی پرواہ کیے بنا ہی ایک دیوانگی سے بولتا چلا جا رہا تھا۔
جبکہ اُس کے بھاری لب و لہجے پر نروس ہوچکی زلیخا کا دل مزید ڈولا۔
پھیلی نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھتے ہوئے شور مچاتی دھڑکنیں اِس پل مقابل کے لفظ لفظ پر یقین کرلینے کو شدت سے اتاولی ہورہی تھیں۔
کیا کچھ نہیں کیا تھا اُس نے اُن دونوں ماں بیٹے کے لیے۔۔۔!!!
یہاں تک کے گولی کا جانیلوا سواد تک چکھ لیا تھا۔
فائق نے لب بھینچ کر مزید قریب ہوتے ہوئے زلیخا کی گال پر آہستگی سے لڑھکتے آنسو کو بڑی نرمی سے صاف کیا۔۔۔
انداز میں خمار سا گھلا تھا۔
تبھی کھٹکے کی آواز کے سنگ اچانک روم کا دروازہ کھلا۔۔۔۔تو بروقت ہوش میں آتی زلیخا لمحے کے ہزارویں حصے میں اُس سے دور ہوئی۔
دھڑکنیں بکھر چکی تھیں۔
”مومی۔۔۔میں آگیا پورے ہاسپیٹل کی سیر کرکے۔۔۔۔۔۔“ معاً نرس کے ہمراہ اُچھل اُچھل کر اندر آتے حمزہ نے قدرے چہک کر بتایا تو۔۔۔زلیخا گہرا سانس لیتی مسکرائی۔
پھر بھنویں اچکا کر فائق کا مسکراتا ہوا وجیہہ چہرہ دیکھا۔
”تو اب بتاؤ فائق درید۔۔۔؟؟کیا اب بھی تم اپنے لفظوں پر قائم رہوگے۔۔؟؟؟اپنی اِن بےلوث محبتوں کو نبھانے کے چکروں میں میرے سات سالہ بیٹے کو ساری زندگی کے لیے قبول کرلو گے تم۔۔۔؟؟؟یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ تمھاری نہیں بلکہ ایک پرائے مرد کی اولاد ہے۔۔۔۔“ اُسے تپانے کی خاطر مدھم لہجے میں سخت ترین الفاظ استعمال کرتی وہ پاس آچکے حمزہ کو اپنے سینے سے لگا چکی تھی۔
جواباً فائق نے دلچسپی ملی حیرت سے اپنی جانب دیکھتے حمزہ کا معصوم چہرہ بڑے غور سے دیکھا۔۔۔
پھر مسکرا کر آنکھ دباتے ہوئے اگلے ہی پل الجھ چکی زلیخا کی طرف متوجہ ہوا۔
”ہاں۔۔۔کروں گا قبول۔۔۔اور پورے دل سے کروں گا۔۔۔اعتبار کرنے کی باری اب آپ کی ہے۔۔۔۔“ پل بھر کا توقف لے کر،،،مضبوط ترین آواز میں سر ہلا کر بولتا ہوا فائق درید جہاں تابوت میں شدت سے آخری کیل بھی ٹھوک گیا تھا۔۔۔وہیں تھم چکی زلیخا سے لاپرواہ بنتا حمزہ بھی اپنے بیسٹ فرینڈ کو جواب میں آنکھ مارتا ہوا کھلکھلا اٹھا۔۔۔۔۔
اِس دوران نرس اُن تینوں کو ایک ساتھ دیکھتی ہوئی اگلے ہی پل اطمینان سے وہاں سے جا چکی تھی۔۔۔۔
