Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

بدھ کی روشن دوپہر گلاس وال سے اندر کو جھانک رہی تھی۔۔۔جس سے بےپرواہ وہ دونوں اس وقت عالم کے آفس روم میں بیٹھے ٹیکن تھری گیم کھیلنے میں مصروف تھے۔
اسکرین پر جمی حمزہ کی نگاہیں جہاں فائٹرز کے سٹنٹس پر پل پل پُراشتیاق ہوتی چلی جارہی تھیں۔۔وہیں کی بورڈ پر لاپرواہی سے چلتی فائق کی انگلیاں اس کےپھر سے ہارنے کا پتہ دینے کے درپے تھیں۔
”مجھے ٹیکن تھری گیم بہت پسند ہے انکل۔۔۔اسپیشلی پال فائٹر۔۔۔دیکھنا میں آپکے جن فائٹر کو پھر سے ہارا دوں گا۔۔۔۔۔“ جتنے کو بےتاب حمزہ پُریقین لہجے میں گویا ہوا تو ساتھ بیٹھا فائق اس بچے کی اس قدر فریکنینس پرمسکرا دیا۔
یہ چوتھی بار تھا جو وہ جان بوجھ کر ایک سات سالہ بچے سے ہارا تھا۔
آج وہ اپنی ماں کے ہمراہ ضد کرکے یہاں آیا تھا۔اور پھر کتنے ہی آفس رومز میں دربدر گھوم کر بھی اس کی بوریت دور نہیں ہوئی تھی۔
یہ تو فائق درید تھا جو کسی کام سے عالم صاحب کے روم میں آیا تھا،مگر پھر ان کی بجائے حمزہ کو وہاں پاکر۔۔۔بلا جھجک اس دل بھاتے بچے کی پسند پر چلتا ہوا پہلی ہی ملاقات میں اس کی گڈ بک میں شامل ہوچکا تھا۔
”کے۔او۔۔۔۔۔“ اسپیکر سے پھوٹتی وائس نے حمزہ کی جیت کے سنگ دوسرے ہی راؤنڈ پر گیم اوور کی تھی۔
”یاااہوووووو۔۔۔۔میں جیت گیا مسٹر جن۔۔۔ہاااہااا۔۔۔یُو آر آ لوزر۔۔۔لوزر۔۔۔“ خوشی کے مارے وہ اپنے نانا کی سیٹ پر ہی کھڑا ہوتا اچھل اچھل کر اسے لتاڑ رہا تھا۔
اب فائق کو پنش کی صورت میں اسے آئسکریم بھی تو کھلانی پڑنی تھی۔
جواباً فائق پل بھر کو ہنستا ہوا منہ بسور گیا۔۔۔تو حمزہ نے اپنے نیو فرینڈ کا بظاہر اترا ہوا چہرہ دیکھ کر دل سے قہقہ لگایا۔
معاً دروازے کےپاس کھڑے ہوکر تب سے ان کی گفتگو سنتا مینجرکمال تیزی سے اندر داخل ہوا تو دونوں نےچونک کر اس کی جانب دیکھا۔
”واہ مسٹراسیسٹنٹ۔۔۔ہائی پوسٹ پانے کے لیے کام کاج چھوڑ کر اونرز کے بچوں کا دل بہلانا اچھا شارٹ کٹ ہے ویسے۔۔۔“ ٹیبل کےقریب آتے ہوئے اس نے بلا جھجک گہرا طنز کیا تو فائق نے،،مسٹر کمال کی بات پر سنجیدگی سے اسے دیکھا۔
جب سے وہ یہاں آیا تھا،اس شخص کی نظروں میں حد سے ذیادہ کھٹکتا تھا۔
”پلیز اپنی چھوٹی ذہنیت کا علاج کروائیے مسٹرکمال۔۔۔بچہ بور ہورہا تھا بس اسی لیے میں نے اسے ذرا سی کمپنی دی ہے۔۔۔“ کہتے ہوئے فائق کے لہجے کی ناگواری حمزہ نےبھی صاف محسوس کی تھی۔
”آئی ناؤ آپ میرے نیو فرینڈ سے جیلس ہورہے ہیں۔۔۔کیونکہ میں نے آپ کی بجائے ان سے جو ٹرو فرینڈشپ کرلی ہے۔۔۔“ حمزہ نے بھی معصومیت سے کہتے ہوئے اپنی طرف سے اسے آگ لگائی تھی۔
”اوو لٹل بےبی اصل معاملہ تمھارا بیسٹ فرینڈ بننا نہیں۔۔۔بلکہ اصل فائدہ تو تمھاری کھڑوس ماں کو پھنسانا ہے۔۔۔اتنے سال ہوگئے اپنی خدمات پیش کرتے کرتے۔۔۔مگر وہ ہے کہ کسی کے ہاتھ ہی نہیں آتی۔۔۔۔“ خالصتاً انگریزی میں بولتا ہوا جہاں وہ حمزہ کو پوری طرح کنفیوز کرگیا تھا،وہیں اس کی کمینگی کو سمجھتے ہوئے فائق غصے سے مٹھیاں بھینچتا اس کے نزدیک آرکا۔
”جسٹ شٹ اپ۔۔۔اب اگر اس سے آگے تم نے ذرا سی بھی بکواس اور کی تو آئی سوئیر میں تمھارا منہ توڑ دوں گا ابھی کہ ابھی۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھا کر سخت ترین لہجے میں وارن کرتے ہوئے فائق کی یہ بدلحاظی دروازے کے قریب آتی زلیخا نے بھی حیرت سے سنی تھی۔
بھنویں سکیڑتے ہوئے ہاتھ ناب پر ہی جم کر رہ گیا تھا۔
”تمھیں کیوں اتنی تکلیف ہورہی ہے؟تمھاری محبوبہ یا بہن کے بارے میں تو بات نہیں کررہا ناں میں۔۔۔دوٹکے کے معمولی سے ملازم ہو سو اپنی اوقات میں رہو تم۔۔۔زلیخا کو تو میں پھنساؤں گا ہی اور ساتھ میں تمھیں بھی اس کمپنی سے چلتا کروں گا تم دیکھنا۔۔۔۔“ مقابل کو تپانے کی خاطر ناگواری سے چٹکی بجا کر بولتا ہوا مسٹر کمال،بلاشبہ جذبات میں آکر اپنے پیروں پر بہت بڑا کلہاڑا مار چکا تھا۔
اب کی بار اس کی بات کو کافی حد تک سمجھتے حمزہ کو بھی وہ شخص اچھا نہیں لگا تھا۔
”سالے۔۔۔وہ پھنسانے کے نہیں۔۔۔فقط محبت کے قابل ہے۔۔۔سنا تُو نے۔۔۔شی از کیپ ایبل جسٹ فار لو ڈیمٹ۔۔۔۔“ معاً فائق نے برداشت کھونے پر اس کا کالر دبوچ کر غراتے ہوئے بےدھڑک مکا اس کے منہ پر دے مارا۔۔۔تو جہاں زلیخا غصے سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تھی۔۔۔وہیں مسٹر کمال درد سے بلبلاکر کئی قدم لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے ہوا۔
حمزہ نے قدرے اشتیاق سے یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔
فائق درید کے مارنے کا انداز اسے بالکل ٹیکن تھری گیم کے جن فائٹر کی طرح لگا تھا۔
”فائق۔۔۔فائق جسٹ لیو ہم۔۔۔۔“ سرخ چہرہ لیے وہ پھر سے پیٹنے کو بوکھلا چکے مسٹر کمال کی طرف لپکا تھا،،،جب بروقت بیچ میں پڑتی زلیخا نے چلا کر اسے پیچھے دھکیلا۔
کسرتی بازو مضبوطی سے تھامتے وقت بلاشبہ زلیخا عالم درانی کی دھڑکنیں پل بھر کو بےترتیب ہوئی تھیں۔
”نو مومی ہی از آ بیڈ انکل۔۔۔“ حمزہ نے پلکیں جھپکاتے ہوئے مداخلت کی۔۔۔تو انگارہ نظر بھر کر زلیخا کی جانب دیکھتا ہوا فائق ضبط سے پیچھے ہٹا۔
نتیجتاً اس کی نگاہوں کی گہری سرخی نے زلیخا کا دل مزید دھڑکایا تھا۔
”آ۔۔آپ نے دیکھا زلیخا میم۔۔۔یہ جاہل مڈل کلاس لڑکا کیسے جانوروں کی طرح بےہیو کررہا تھا میرےساتھ۔۔۔۔چھوٹے سے بچے کا بھی لحاظ نہیں کیا اس نے۔۔۔آ۔۔آپ پلیز اسے فوراً یہاں سے نکال باہر کرئیے یہ ہماری کمپنی کے لیے بالکل بھی سوٹ ایبل نہیں ہے۔۔۔۔“ پل میں پینترا بدلتا مسٹر کمال اپنے صاف جھوٹ سے زلیخا کو آخری حد تک تپا گیا۔
”چٹاااااخ۔۔۔۔۔!!“ اگلے ہی پل اس کا شدت سے اٹھتا ہاتھ مسٹر کمال کو اس کی اوقات بتاگیا تھا۔
”پھنسنے پھنسانے کا گیم ہرلحاظ سے اوور ہوچکا ہے مینیجرکمال صاحب۔۔۔اب آپ یہاں سے دفع ہوسکتے ہیں۔۔۔گیٹ لاسٹ۔۔۔۔۔“ وہ غرا کر بولتی ہوئی مقابل کی پیشانی پسینے سے تر کرچکی تھی۔۔
فائق کی سخت نظروں میں اس کے لیے صاف تمسخر ابھرا۔
”م۔۔میم۔۔۔۔“ مسٹر کمال نے اپنے حق میں بوکھلا کر کچھ کہنے کی ناکام کوشش کی تھی۔۔۔
جبرا الگ سے دکھ رہا تھا۔۔۔
”آئی سیڈ گیٹ آؤٹ۔۔۔۔۔۔“ دروازے کی جانب اشارہ کرتی وہ چلائی۔۔۔تو حمزہ نے کمال کے بوکھلائے چہرے کو دیکھ منہ چڑایا۔۔
اگلے ہی پل فائق کو خونخوار نگاہوں سے تکتا ہوا وہ غصے سے پیر پٹخ کر روم سے نکلتا چلا گیا۔
پانچ سالوں کی محنت یوں ایک جھٹکے میں ملیا میٹ ہوجائے گی یہ تو اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔۔۔
”یاااہووووو۔۔۔اس والے کھیل میں اب کی بار آپ کی جیت ہوئی ہے مسٹر جن۔۔۔۔“ سیٹ سے اتر کر ان دونوں کے قریب آتا حمزہ جوشیلے لہجے میں بولا،تو ذرا جھکتے ہوئے فائق نے مسکرا کر ہائے فائے کلیپ کرنے کے بعد بےاختیار زلیخا کی جانب دیکھا،،،جو کچھ حیرت سے بغور انہی دونوں کی جانب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”اِدھر دیکھو میری طرف۔۔۔۔تم روئی تھیں۔۔۔؟؟؟“ بھاری سنجیدہ آواز اس کے آس پاس بکھری تھی۔
”ن۔۔نہیں تو۔۔۔۔۔“ ڈوبتے سورج کو نم آنکھیں سکیڑ کر انہماک سے تکتے ہوئے معاً حیا کو اپنا گزشتہ رات کا بولا گیا جھوٹ یاد آیا تھا۔
اجنبیت کی ڈوریوں میں لپٹے یہ افسردہ دن یونہی تیزی سے کٹتے چلے جارہے تھے۔
وہ دونوں مضبوط رشتے میں بندھنے کے باوجود بھی ایک دوسرے کی زندگی میں کوئی مداخلت کیے بنا۔۔الگ الگ کمروں میں رہ رہے تھے۔۔۔ایسے میں جان پہچان کی پرانی ملازمہ بختو گھر کے سارے کام کاج کرکے شام سے پہلے چلی جاتی تھی۔
مگر کل جب بختو نے،زیدان اور حسنہ کے ہنی مون انجوائے کرکے واپس پاکستان لوٹ آنے کی خبر چغلی کے انداز میں اسے سنائی تھی،،،
تو پہلے حیا وقاص کے دل کی حالت بگڑی تھی اور پھر تنہائی میں آنکھوں کی بھی۔۔۔
”جہاں تک میں نے دیکھا ہے،چچا جان کا غم تمھیں اس قدر افسردہ تو ہرگز نہیں کرتا کہ نوبت یوں آنکھیں سُجانے تک آجائے۔۔۔اس غیرمعمولی روگ کا تو پھر ایک یہی مطلب ہوا ناں کہ تمھیں میرے چھوٹے بھائی بھابی کے ہنی مون پر جانے کی خبر مل چکی ہے۔۔۔۔انٹرسٹنگ۔۔۔۔“ پل بھر کو باریک بینی سے سوچنے کے بعد،ٹھوڑی پکڑ کر اس کی تیزی سے نم پڑتی نگاہوں میں جھانکتے ہوئے رمیض عالم درانی نے کتنا صحیح اندازہ لگایا تھا ناں۔۔۔
سوچتے ہوئے حیا بے اختیار اپنی تیز ہوتی دھڑکنوں پر ہاتھ رکھ گئی۔
اس احساس سے قدرے انجان کہ دو کمینی نگاہیں بڑی فرصت سے اس کی پشت کو سرتا پیر گھورنے میں مصروف تھیں۔۔۔
”کام والی نے بتایا یا تمھاری بہن نے۔۔۔؟؟؟یا پھر خود میرے اپنے بھائی نے۔۔۔۔؟؟؟کیونکہ چچا جان کا غم تمھیں اس قدر افسردہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔۔۔۔جتنا کہ کسی بچھڑے محبوب کا۔۔۔۔“ سختی سے اس کی ٹھوڑی مسلتا ہوا وہ کیسے ڈرا دینے والی تفتیش کررہا تھا۔۔
جبکہ دل کی چوری سرعام پکڑے جانے پر حیا کا چہرہ خفت سے سرخ پڑا تھا۔آنکھوں کی حیرت تیزی سے بھیگتی چلی گئی تھی۔
”پلیز رمیض۔۔۔آپ کے ساتھ نکاح کرنے کے بعد اب میرے اُس شخص سے سارے رابطے ختم ہوچکے ہیں۔۔۔۔“ مضبوط لہجے میں صفائی دیتے ہوئے پل بھر کو اس کی سانسیں اٹکی تھیں۔۔۔مگر خود کو چھڑوانے کی ہمت بھلا کہاں تھی اُس لمحے۔۔۔
موبائل فون سِم سب کچھ تو وہ بدل چکی تھی۔۔۔۔
”تو پھرتمھاری سوچوں کے رابطے ابھی تک اس کے ساتھ کیوں قائم ہیں۔۔۔؟؟؟کہہ دو کہ میں غلط بول رہا ہوں۔۔۔!!!“ بہتے آنسو دیکھ دھاڑ کر بولتا ہوا وہ اسے وحشت سے نگاہیں چرانے پر مجبور کرگیا تھا۔
ایسے میں مقابل کی سلگتی سانسیں براہِ راست اسکے چہرے پر پڑتی اسے جھلسا ہی تو رہی تھیں۔
اپنی بےبسی کو شدت سے یاد کرتے ہوئے دو آنسو ٹوٹ کر حیا کے گالوں پر پھسلے۔
اس دوران چھت کی دیوار سے لگ کر کھڑے اس نفوس کی برداشت اسے ہنوز پتھر کا بنا دیکھ اب جواب دینے لگی تھی۔
”ا۔۔اگر آپ غلط نہیں۔۔۔تو پورےصحیح بھی نہیں ہیں۔۔۔۔“ بڑی ہمت سے اس کی حقارت زدہ سرخ آنکھوں میں جھانکتی ہوئی وہ دھیمی آواز میں بولی۔۔۔تو کچھ لمحوں تک اس کے مدھم کانپتے لبوں کو خاموش نگاہوں سے تکتا ہوا رمیض اس کی ٹھوڑی چھوڑتے ہی کلائی تھام گیا۔
پھر اپنے ساتھ تقریباً گھسیٹاتا ہوا خود کے بیڈ روم میں لے آیا۔۔۔اس کے ماتھے کی شکنیں دیکھ حیا کا دل ناچاہتے ہوئے بھی لرزا تھا۔۔۔جب وہ اگلے ہی پل اسے تندہی سے بیڈ کی جانب دھکیل گیا۔
” لیسن حیا رمیض عالم درانی۔۔۔اب سے تم میرے سنگ ایک ہی کمرہ اور ایک ہی بیڈ شیئر کرو گی۔۔۔ہمارے بیچ کاغذی رشتہ ہی سہی،مگر مجھے یہ قطعی منظور نہیں کہ مجھ سے جڑی عورت میری بجائے کسی اور مرد کو اپنی یادوں میں بساکر میرے ساتھ بےوفائی کرے۔۔۔اورتم تو کبھی ایسا کرنے کا سوچنا بھی مت ورنہ بہت برا انجام کروں گا میں تمھارا۔۔۔“ اسکے حیرت سے پلٹنے پر وہ شہادت کی انگلی اٹھائے قریب آتا بولا نہیں۔۔بلکہ شدت سے غرایا تھا۔
نتیجتاً نفی میں سر ہلاتے حیا کی سانسیں تیز ہوئی تھیں۔
تمھارے آنسو۔۔۔تمھاری مسکراہٹیں۔۔۔تمھارا سوچنا۔۔حتیٰ کہ تمھاری ذات فقط مجھ تک محدود ہونی چاہیے۔۔۔آخری بار وارن کررہا ہوں تمھیں سمجھ لو یہ بات۔۔۔“ بڑے استحقاق سے اس کا دایاں رخسار مسل کر آنسو صاف کرتا ہوا وہ جنون کی سی کیفیت میں جتا رہا تھا۔
وہ جنونیت جس کی توقع کم ازکم حیا وقاص کو تو بالکل بھی نہیں تھی۔
اس دوران دل ناچاہتے ہوئے بھی دھڑکا تھا۔
جہاں سورج حیا کی بھیگی نگاہوں کی پرواہ کیے بنا ہی پل پل ڈوبتا چلا جارہا تھا،،،وہیں اس کی سوچوں میں خلل ڈالے بنا ہی پشت پر موجود وہ نفوس اب بڑی مہارت سے بےآواز دیوار پر چڑھ رہا تھا۔
”اب کبھی شادی نہیں کروں گا، کہنے والا مرد اتنی جلدی پھسل جائے گا،میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔۔ہمارے درمیان صرف نفرت۔۔بےبسی اور مجبوری کا رشتہ ہے اس لیے نہ تو میں آپ کے ساتھ کسی قسم کی کوئی شئیرنگ کروں گی اور نہ ہی وہ حق دوں گی جس کی لالچ نے آپ کو اس حد تک بےایمان کردیا ہے۔۔۔۔“ اس کی قربت سے قدرےسہم کر دو قدم پیچھے ہوتی وہ طنزاً بولتی چلی گئی تھی۔
جواباً اس سنگین صورتحال کے باوجود بھی رمیض کے لبوں پر مسکراہٹ اپنی ذرا سی چھپ دکھلا کر اگلے ہی پل غائب ہوئی تھی۔
”قانونی اور شرعی بیوی ہو تم میری۔۔۔میں جب مرضی چاہوں تم سے اپنا حق وصول کرسکتا ہوں۔۔۔مگر وہ کیا ہے ناں کہ اس حد تک بےایمان ہونے کے لیے رشتے میں دوطرفہ محبت اور اعتبار کا ہونا بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔۔۔جوکہ ہمارے درمیان تقریباً ناپید ہے۔۔۔اس لیے بے فکر ہوجاؤ۔۔۔میں زبردستی ایسی حدیں پار کرنے کا عادی بالکل بھی نہیں ہوں۔۔۔۔ہاں البتہ جس دن یہ دونوں عناصر ہماری زندگی میں شامل ہوگئے تو تب نہ میں اپنا حق لینے سے رکوں گا اور نہ ہی تم دینے سے۔۔۔“ سنجیدگی سے جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر اس کی غلط فہمی کو دور کرتا ہوا وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا بلکہ بہت کچھ جتاکر اسے مزید بےچین کرتا ہوا کمرے سے ملحق ٹیرس کی طرف نکلتا چلا گیا۔
پیچھے وہ چاہ کر بھی باغی بنتی اس کمرے سے باہر قدم نہیں رکھ پائی تھی،،،
الٹا شدتِ بےبسی سے نازک مٹھیاں بھینچ کر بیڈ کے ایک طرف بالکل کنارے پر جاٹکی تھی۔۔۔
مگر وہ تھا کہ اس کے سونے سے پہلے اس کے سامنے نہیں آیا تھا۔
”ٹھپپپپپ۔۔۔۔۔۔۔“ گہرا سانس لے کر اپنے بھیگے گال صاف کرتی حیا مزید سوچوں کی گہرائی میں ڈوبنا چاہ رہی تھی،جب کسی کے چھلانگ لگانے پر ٹھٹھک کر پیچھے پلٹی۔
معاً کاشی ہاتھ جھاڑتا ہوا سیدھا ہوا،پھر حیا کی بے یقین آنکھوں میں کمینگی سے ہنس کر دیکھا۔
”ت۔۔تم۔۔۔؟؟تم یہاں پر کیا کرنے آئے ہو۔۔۔۔؟؟“ ہوش میں آتی وہ بپھڑی ہوئی اُس ٹھرکی باز شخص کی جانب لپکی۔اس دوران سر سے اترا شفون کا دوپٹہ تیزی سے واپس اوڑھ چکی تھی۔
”دور دور سے اب میرا گزارا نہیں ہورہا تھا اسی لیے آپ جیسی بیوٹیفل لیڈی کے قریب سے دیدار کرنے آیا ہوں۔۔۔۔“ کاشی نے تپش دیتے لہجے میں جواب دیا۔
اس بےتکی بات پر مٹھیاں بھینچتے ہوئے حیا کے غصے کا گراف مزید بڑھا۔
وہ جب سے اس گھر میں آئی تھی۔۔۔بوریت کے سبب چھت پر ٹہلتے ہوئے خود کو ہلکا فیل کرنے کے دوران کئی بار اس آوارہ شخص کی بےباک نگاہوں کو بھی سہہ چکی تھی۔
”تم انتہائی بےحیا انسان ہو۔۔۔شرم نہیں آتی تمھیں دوسروں کی چھتوں پر بنا اجازت ٹپکتے ہوئے۔۔۔؟؟نکلو یہاں سے۔۔۔“ اس کی اتنی بڑی جرات پر وہ قدرے نفرت سے غراتے ہوئے بولی۔
اگر جو خود رمیض آکر ان دونوں کو ایسے دیکھ لیتا تو۔۔۔۔!!!
پل بھر کو سوچتے ہوئے حیا کا دل شدت سے ڈوبا تھا۔
اس احساس سے قدرے بےخبر۔۔۔کہ رمیض عالم درانی اپنے طریقے سے اپنا آپ شدت سے اسکی سوچوں میں گھول چکا تھا۔
”آپ دوسری تو نہیں،میری پڑوسن ہیں۔۔۔اور اگر پڑوسن اتنی حسین ہو تو بھلا کون کافر سامنے ٹپکنے سے باز آئے گا۔۔۔؟“ نازک وجود بےباکی سے تکتے ہوئے کاشی اسکا ہاتھ چھونے کی کوشش میں ڈھٹائی سے بولا،،،
وہ کئی سالوں سے اکیلا ہی ساتھ والے گھر میں رہائش پزیر تھا اور اپنی عیاش فطرت کے سبب ایسے ہی کئی نادان لڑکیوں پر دل ہار کر انھیں اپنےجال میں پھانس لیا کرتا تھا۔
اور اس بار اُسے پھانسنے کو ملی تھی یہ نازک مگر چڑچڑی سی حسینہ۔۔۔!
”جسٹ شٹ اااپ۔۔۔۔“ معاً حیا نے حیرت ملے غصے میں اپنا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اگلے ہی پل پوری شدت سے تھپڑ اسکی گال پر دے مارا۔
”چٹاااااخ۔۔۔۔۔“ سکوت توڑتی آواز نے جہاں کاشی کی گال تپائی تھی۔۔۔۔
وہیں سرخ رنگت کے سنگ حیا کی سانسیں بھی ضبط تلے گہری ہوئیں۔
اس دوران سفید رنگ شفون کا دوپٹہ بھی اتر کر کندھوں پر آگرا تھا۔
مقابل کی یہ سب دست درازیاں ناقابلِ برداشت ہی تو تھیں۔۔۔
نتیجتاً کاشی نے سرخ ہوتی آنکھیں نکال کر اسے غصے سے دیکھا۔پھر دانت پیستا ایک قدم اس کی جانب آیا۔
ایک کمزور سی لڑکی نے اسے دن دھارے پیٹ ڈالا تھا سو میٹر تو شارٹ ہونا ہی تھا۔۔۔۔
”ابھی کہ ابھی دفع ہوجاؤ یہاں سے اور دوبارہ کبھی غلطی سے بھی میرے سامنے آنے کی کوشش مت کرنا۔۔۔ورنہ میرا شوہر جس قدر جلاد ہے ناں،تمھیں زندہ زمین میں گاڑھ کے رکھ دے گا۔۔۔۔اب نکلو یہاں سے۔۔۔۔“ اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی،لرزتی آواز میں چیخ کر بولتی حیا نے نم آنکھوں کے سنگ اسے نفرت سے پرے دھکا دیا۔
پہلے آفتیں کم تھیں کیا؟جو اب یہ عجیب مصیبت بھی گلے آن پڑی تھیں۔۔۔
جواباً ذرا لڑکھڑا کر پیچھے ہوتے وہ اپنے ماتھے پر آئے بال پیچھے جھٹک گیا۔
”اچھا نہیں کیا تم نے مجھے تھپڑ مار کر حیا بی بی۔۔۔۔اگرتمھاری اس حیا کو پاش پاش نہ کردیا تو میرا نام بھی کاشان آصف نہیں۔۔۔“ منہ پر ہاتھ پھیر کر کھلے لفظوں میں اسے دھمکاتے ہوئے کاشی کا فشار خون بڑھا،تو حیا نے بھیگتے گال رگڑ کر صاف کیے۔
دل کی دھڑکنیں ڈوب کر ابھری تھیں۔۔۔
”نکلوووووو یہاں سے۔۔۔جسٹ گیٹ لاسٹٹٹٹٹٹ۔۔۔۔۔“ وہ بدلحاظی سے چلائی۔۔۔تو کاشی نے اطراف میں دیکھتے ہوئے ضبط سے سر ہلایا۔
پھر ڈھٹائی سے آخری بھرپور نگاہ اس پر ڈال کر وہاں سے پلٹ گیا۔
اسے قدرے پھرتیوں سے دیوار پر چڑھتا دیکھ۔۔حیا بھی رکتی دھڑکنوں کے سنگ نیچے جانے کو بھاگی تھی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”کوئی گڈ نیوز ہے ڈاکٹر راشدہ۔۔۔؟؟؟کیا۔۔۔کیا میں پریگنینٹ ہوں۔۔۔۔؟؟“ مقابل کے تاثرات پرکھے بنا ہی وہ آنکھوں میں چمک لیے پوچھ رہی تھی۔
گزشتہ روز زیدان کے آفس چلے جانے کے بعد وہ حفصہ بیگم کو بتا کر اپنی بیسٹ فرینڈ کے گھر چلی آئی تھی۔مگر پھر دعوت اڑانے کے بعد الٹیوں کا سلسلہ۔۔۔اور پیٹ میں یکدم سے اٹھتی درد کی طویل شدت نے اسے یہاں آنے پر مجبور کر چھوڑا تھا۔
اور اب حتمی رزلٹس آچکے تھے۔۔۔جنھیں جاننے کو وہ اس پل حددرجہ بےتاب دکھائی دے رہی تھی۔
جواباً ڈاکٹر راشدہ نے آہستگی سے فائل بند کرتے ہوئے بڑے ضبط سے حسنہ کی جانب دیکھا۔
بظاہر خوش باش نظر آنے والی وہ لڑکی اپنے وجود میں کتنا بڑا روگ پالے ہوئے تھی۔۔۔،یہ شاید اسے خود بھی معلوم نہیں تھا۔
”مس حسنہ زیدان عالم۔۔۔۔!!!کیا آپ واقعی تیار ہیں اپنے حوالے سے رزلٹس جاننے کے لیے۔۔۔؟؟؟“ خود کو تلخ حقیقت بتانے کے لیے تیار کرتی ہوئیں وہ اس سے بھی پوچھ رہی تھیں۔
”ہنڈرڈ پرسنٹ ریڈی ڈاکٹر راشدہ۔۔۔آپ بتائیے ناں۔۔۔۔“ آپس میں ہاتھ مسل کر جوش سے یقین دہانی کرواتی وہ تو یہ تک سوچ چکی تھی کہ زیدان سمیت باقی گھر والوں کو کب اور کیسے سرپرائز دینا ہے۔۔۔!!
آخر کو درانی خاندان کا پہلا پوتا،پوتی اس دنیا میں آنے والا تھا،اور یہ بات اس کے دل کی مچلتی دھڑکنیں مزید دھڑکا رہی تھی۔
مگر پھر اگلے ہی پل اِس روم میں گونجتی ڈاکٹر راشدہ کی مضبوط آواز نے گویا ہر شے کو آگ لگائی تھی۔
” یُو آر ناٹ پریگنینٹ مس حسنہ زیدان۔۔۔۔اور نہ ہی آپ آئندہ کبھی ہوسکتی ہیں کیونکہ آپ کا وجود بانجھ پن کا شکار ہے۔۔۔۔“ اچھے ہاسپیٹل سے تعلق رکھتی ڈاکٹر راشدہ پروفیشنل انداز میں ٹھہرٹھہر کر بتاتی صحیح معنوں میں حسنہ وقاص کے جسم سے اُس کی روح کھینچ گئی تھیں۔۔۔
جواباً ٹھٹھک کر سکتے کی حالت میں جاتے ہوئے حسنہ کا گلابی لبوں کو آہستگی سے وا کرنا بےاختیار تھا۔
”ی۔۔۔یہ آپ کیا۔۔۔؟؟کیا بکواس ہے یہ۔۔۔۔؟؟آ۔۔آپ دوبارہ فائل چیک کریں۔۔۔بہت بڑی غلطی ہوئی ہوگی آپ سے جھوٹ ہے یہ سب۔۔۔“ بے یقینی سے پوچھتی وہ آخر میں وحشت سے چلائی۔
جواباً ڈاکٹر راشدہ نے تاسف سے حسنہ کی بھیگتی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔جس کی پیشانی بھی اِس حقیقت کے ناقابل برداشت بوجھ تلے اب نم سی ہورہی تھی۔
”دیکھیے مس حسنہ۔۔۔میں آپ سے اسی بےیقینی،ڈر اور بےاختیاری ردِ عمل کی توقع کررہی تھی۔۔۔ایسے کیسز میں ذیادہ تر خواتین ایسا ہی جذباتی رویہ اپناتی ہیں۔۔۔جیساکہ اب آپ۔۔۔مگر افسوس کہ سچ یہی ہے جو یہ رپوٹ آپکی بابت لفظ بہ لفظ بیان کررہی ہے۔۔۔درحقیقت آپ میں وہ مین پارٹس سرے سے ہی موجود نہیں ہیں جو ایک بچے کی پیدائش کے لیے بہت ضروری ہوتے ہیں۔۔۔ایم سوری ٹو سے۔۔۔ بٹ اس بانجھ پن کے ساتھ اب آپ کبھی بھی ماں نہیں بن سکتیں۔۔مزید یہ کہ اس بہترین ہاسپیٹل کو چھوڑ کر آپ کہیں بھی چلی جائیں۔۔۔فائنل رزلٹس آپکو یہی دیکھنے کو ملیں گے۔۔۔۔“ وہ لیڈی ڈاکٹر ایک ایک بات اس کے سامنے کھول کر رکھتی ہوئی کتنے اعتماد سے اس کی ذات کی دھچیاں اڑا رہی تھی ناں۔۔۔
پھٹتے دل کو سنبھالنے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی حسنہ بےاختیار سسکی۔
پھر تواتر سے بہتے آنسوؤں کے سنگ لرزتے ہاتھوں سے سامنے پڑی اپنی بربادی (فائل) کو تھام گئی۔
اسے لفظ لفظ ٹٹولتے دیکھ ڈاکٹر راشدہ نے اس کے بھیگتے چہرے پر صدمے کے ساتھ بڑھتی بےچینی کو بھی صاف محسوس کیا تھا۔
اگلے ہی پل حسنہ خائف سی ہوتی فائل کو گویا کوئی زہریلا سانپ سمجھ کر دور پھینک چکی تھی۔۔
یہ سب کیا سے کیا ہوگیا تھا۔۔۔!!!
اس قدر کڑوی حقیقت۔۔۔جس کا وہ کبھی تصور میں بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔
”ک۔۔کیا یہ بدترین سچ بدل نہیں سکتا ڈاکٹر۔۔۔۔؟؟؟“ شدت سے دکھتی کنپٹیوں میں انگلیاں دھنساتی وہ سسکی روک کر قدرے وحشت سے پوچھ رہی تھی۔
ایک کھوکھلی عورت کی زندگی کیا ہوتی ہے۔۔؟؟یہ سب اس سے پوشیدہ تو ہرگز نہیں تھا۔
”فی الحال تو ناممکنات میں سے ایک نظر آرہا ہے یہ۔۔۔۔“ اس کی سرخ آنکھوں میں دیکھ کر بولتے ہوئے ان کا انداز قطیعت بھرا تھا۔
حسنہ نے شدتِ بےبسی تلےسختی سے نچلا لب کچلا۔
وہ تو سر تا پیر پرفیکٹ لڑکی تھی۔۔پھر اِس بدتر محرومی کے ساتھ کیسے جی سکتی تھی بھلا۔۔۔۔؟؟؟
اِس۔۔۔اِس دنیا نے ہی اسے جینے نہیں دینا تھا۔۔۔۔۔
اس کی بری ہوتی حالت پر معاً ڈاکٹر راشدہ نے جگ سے پانی،گلاس میں انڈیل کر حسنہ کے قریب کیا۔۔۔جسے نظر انداز کرتی وہ پھٹتے دماغ کے ساتھ آنکھیں موند گئی۔
کبھی وارث نہ دینے کی صورت میں اگر۔۔۔اگر زیدان عالم کی دوسری شادی کروادی گئی یا پھر خود اس کے شوہر نے بدظن ہوکر اسے چھوڑ دیا تو۔۔۔ کیا وہ یہ بھاری ستم برداشت کرپائے گی۔۔۔۔؟؟؟
مٹھیاں بھینچتے ہوئے منفی سوچیں شدت سے حسنہ وقاص پر حملہ آور ہوئی تھیں۔
نہیں۔۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔۔!!! جواباً سلگتا دل زوروں سے چیخا تھا۔
طنز کے وہ گہرے نشتر۔۔۔
اس کے کھوکھلے وجود کا مذاق اڑاتی ہوئیں لوگوں کی سنگین نگاہیں۔۔۔
اور۔۔۔اور سب سے بڑھ کر اسکی بربادی پر زہریلی ہنسی ہنستی اس کی بڑی بہن حیا وقاص۔۔۔۔
اففف۔۔۔۔۔!!!
ضبط ٹوٹنے پر حسنہ بگڑے تنفس کے ساتھ جہاں پٹ سے آنکھیں کھول گئی تھی۔۔۔وہیں اس کے ذہن میں زور کا ہوتا جھماکا اسے چونکاگیا۔
یہ سوچ اسے پہلے کیوں نہیں آئی تھی۔۔۔۔؟!
ڈاکٹر راشدہ اسی کے پل پل بدلتے تاثرات بغور دیکھ رہی تھیں۔۔۔جب حسنہ نے سرخ نم چہرے پر ہاتھ پھیر کر ان کی طرف دیکھا۔
”مگر مجھے بہت کچھ نظر آرہا ہے ڈاکٹر راشدہ۔۔۔۔بدقسمتی سے اگر عورت بانجھ پن کا شکار ہو جائے تو یہ معاشرہ اس کی خوشگوار زندگی تلخیوں سے بھردیتا ہے۔۔۔لیکن اگر ایک مرد اسی محرومی کا شکار ہوجائے تو نہ صرف اس کے عیب کی پردہ پوشی کی جاتی ہے،بلکہ اس کی تلخ زندگی کو بھی سب کے سامنے خوشگوار بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔۔“ بتاتے ہوئے اس کے بھیگے لہجے میں سختی کے سنگ تمسخر بھی سمٹ آیا تھا۔
”اور اب میں بھی کچھ ایسا ہی چاہتی ہوں۔۔۔چاہتی ہوں کہ میرے عیب کے پرخچے اڑانے کی بجائے میرے شوہر کے عیب کی پردہ پوشی کی جائے۔۔ایک جھوٹ کی بدولت اس کی ہونے والی تلخ زندگی کو خوشگوار بناکر پیش کیا جائے۔۔اور اس سب میں مجھے آپ کی مدد درکار ہے۔۔۔“ آنکھوں کی بڑھتی ہوئی سرخی کے سنگ مزید بولتی ہوئی وہ اپنے مطلب کے لیے زیدان عالم درانی سے بےوفائی تک کرنے کو تیار تھی۔
”م۔۔میری مدد۔۔۔؟؟کیسی مدد۔۔۔۔؟؟“ اس کی بات کے نتیجے میں حیران ہونے کی باری اب ڈاکٹر راشدہ کی تھی۔۔۔
”ذیادہ کچھ نہیں۔۔۔۔بس آپ کو ایک عدد فیک رپوٹ بنانا پڑے گی۔۔۔میرے شوہر کے سامنے میرے ہی حق میں جھوٹی گواہی دینا ہوگی۔۔۔اور اتنی سی مدد کے لیے میرے خیال سے دو لاکھ روپے کا معاوضہ کافی ہوگا آپکے لیے ڈاکٹر راشدہ فیضان۔۔۔۔!!!“ لالچ دیتے لہجے میں بولتی ہوئی وہ نم آنکھوں کے ساتھ بڑے ضبط سے مسکرائی۔۔۔تو چہرے کی بدلتی ہوئی رنگت کے سنگ ڈاکٹر راشدہ کی نگاہوں میں بھی حسنہ وقاص کے خلاف صاف باغی پن اترآیا۔