No Download Link
Rate this Novel
Episode 16
”غور سے دیکھ ڈرائیور چاچے۔۔۔تیری خود کی ہی بیٹی ہے یہ۔۔۔کافی خوبصورت بھی ہے۔۔۔ہےناں۔۔۔؟؟؟“ وہ سانولی رنگت کا شاطرشخص اپنے موبائل کی چمکتی اسکرین آگے کرتا ہوا۔۔۔بےیقینی تلے دبے اڑتالیس سالہ ناصر کو بڑے مزے سے اُس کی منجھلی بیٹی کی تصاویر دِکھاتا چلا جا رہا تھا۔۔۔
”ر۔۔رانی۔۔؟؟؟م۔۔میری بچی۔۔۔۔“ بنا کسی چادر دوپٹے کے رسیوں کی مدد سے کرسی کے ساتھ جکڑی ہوئی رانی اپنے پریشان باپ کے ہوش اڑانے کو کافی تھی۔۔
وہ بےچارہ تو رانی کی طویل غیرموجودگی پر اب مجبوراً اپنے رشتے داروں سے اُس کی بابت پوچھنے جارہا تھا۔۔۔مگر یکدم ویران سے رستے میں ملتے اِس انجان شخص نے اپنی گھٹیا کرتُوت دکھا کر اس کا دماغ سُن ڈالا تھا۔۔
”بالکل تیری جوان بچی اس وقت میرے قبضے میں اپنی سُدھ بُدھ کھوئے ہوئے ہے۔۔۔۔“ شہاب نے انگھوٹے سے اسکرین کو مسلتے ہوئے قدرے خباثت سے جتایا۔۔۔
اپنے ایک دوست کے سنگ سنسان راہ سے اُس لڑکی کو اٹھانا اس کے لیے ذیادہ مشکل کام نہیں تھا۔۔۔۔
معاً آپے سے باہر ہوتا ناصر دونوں ہاتھوں سے اُس توانا۔۔کمینےشخص کا گریبان دبوچ گیا۔۔۔
”چھوڑ دے میری بیٹی کو ورنہ جان لے لوں گا میں تیری۔۔۔۔چھوڑ دے اُسے گھٹیا انسان۔۔۔ہااااہ۔۔۔ہ۔۔۔۔“ غصے سے چلاتا ہوا ناصر مقابل کو مکے مارنے کی ناکام کوششوں میں ہانپ سا گیا تھا۔۔۔
کیونکہ شہاب نے بڑی مہارت سے اس کی مردانہ کلائی بروقت پکڑ کر مڑور ڈالی تھی۔۔۔
”ابے اؤئے کھوسٹ چاچے۔۔۔یہ کمزور سے ہاتھ پیر چلانے کی بجائے اب میری بات دھیان سے سن تُو۔۔۔اگر نہیں چاہتا کہ تیری رانی ہوش میں آنے کے بعد میری دسترس میں بھی آجائے۔۔۔تو جیسا میں کہتا ہوں ویسا کر۔۔۔۔“ وہ چبا چبا کر پھنکارتا ہوا اگلے ہی پل تندہی سے اسکی دکھتی کلائی چھوڑ گیا۔۔۔تو حددرجہ پریشان ہوچکے ناصر نے نم آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا۔
اسے یاد نہیں پڑتا تھا کہ عزت کی روزی روٹی کھانے والا وہ عام سا بندہ کب مقابل غنڈے کا دشمن بن بیٹھا تھا۔۔۔؟؟؟
کیوں راہ جاتی اُس کی جوان لڑکی کو ڈھلتی صبح میں ہی اٹھالیاگیا تھا۔۔۔۔؟؟؟
”بتاؤ۔۔کک۔۔۔کیا کرنا ہوگا مجھے۔۔۔؟؟“ شدت سے ڈوبتے دل پر قابو پاتا ناصر اب بڑے ضبط سے پوچھ رہا تھا۔
جواباً چھوٹے بڑے مختلف جرائم میں ملوث شہاب مطمئن ہوتا کمینگی سے مسکرایا۔۔۔
پھر سیاہ لبوں کی مسکراہٹ سمیٹ کر اس کے لرزتے کندھے پر ہاتھ جماتا ہوا ذرا قریب ہوا۔
”جس کو ڈیلی اسکول چھوڑنے اور لے جانے کی ذمہ داری تُو نے اٹھارکھی ہے ناں ڈرائیور چاچے۔۔۔مجھے بس وہ بچہ چاہیے۔۔۔“ وہ کچھ رازداری سے بولا تو اس کی ڈیمانڈ جان کر ناصر نے چونکتے ہوئے قدرے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر اس کا مسکراتا چہرہ دیکھا۔
اُسے تو لگا تھا کہ وہ اس سے کسی بڑی رقم کی ڈیمانڈ کرے گا۔۔۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔۔۔
درحقیقت تو وہ اس کا حریف تھا ہی نہیں۔۔۔
وہ تو اُسکی آڑ میں فقط درانی خاندان سے دشمنی پالے ہوئے تھا۔۔۔
مگر کیوں۔۔۔۔؟؟؟
”کل تُو اس بچے کو معمول کے مطابق اسکے گھر سے اٹھائے گا۔۔۔مگر اسکول لے جانے کی بجائے سیدھا میری بتائی جگہ پر لے کر آئے گا سمجھا۔۔۔۔ورنہ۔۔۔جن جن اذیتوں میں۔۔میں تجھے مبتلا کروں گا وہ تُو سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔“ ناصر کی تقریباً سفید ہوچکی داڑھی کو مدھم سا کھینچ کر پھنکار کر دھمکاتا ہوا وہ اُس کو مزید وحشتوں میں ڈال گیا تھا۔۔۔
بلاشبہ شہاب کو اُس بچے تک رسائی کا سب سے آسان طریقہ فی الحال یہی ڈرائیور دکھائی پڑرہا تھا۔۔۔۔
گزشتہ روز وہ فیک ڈرائیور بن کر ناصر کے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی حمزہ کو اسکول سے لینے گیا تھا۔۔۔یہ کہہ کر کہ۔۔۔
”پہلے ڈرائیور کی طبیعت ناساز ہوچکی ہے جبھی گھر والوں نے ناصر کی جگہ اسے بھیج دیا ہے۔۔۔“
مگر گیٹ پر کھڑے چوکنے گارڈ نے سخت رولز کےسبب یہ کہتے ہوئے صاف منع کر دیا تھا کہ۔۔۔
”جب تک پیرنٹس خود انھیں یہ بات کنفرم نہیں کر دیتے۔۔۔تب تک وہ بچے کو کسی بھی ایرے غیرےشخص کے ساتھ نہیں بھیج سکتے۔۔۔۔“
اور نتیجتاً شہاب مٹھیاں کَستا ہوا ناکام واپس لوٹ آیا تھا۔۔۔
”آخر تم ایسا کرنا کیوں چاہتے ہو۔۔۔؟؟؟مم۔۔۔میں یہ کام نہیں کر پاؤں گا۔۔۔۔اُن کا برسوں پرانا اعتبار اٹھ جائے گا مجھ پر سے۔۔تمھیں خدا کا واسطہ ہے،،،ت۔۔تم ۔۔۔تم کچھ کیے بنا ہی میری رانی کو صحیح سلامت واپس لوٹا دو۔۔۔۔“ تڑپتے ہوئے دل کے راضی نہ ہونے پر جہاں ناصر نے بےاختیار اس کے آگے لرزتے ہاتھ جوڑے تھے۔۔۔وہیں اس کے ترلے منتوں پر شہاب کا دماغ سلگا۔
”ابےاوئے دوکوڑی کے ڈرائیور۔۔۔دوسروں کا اعتبار چاہتا ہے تُو۔۔۔؟؟یا پھرخود کی عزت۔۔۔۔؟؟یہ فیصلہ تجھے کرنا ہے اور ابھی کے ابھی کرناہے۔۔۔اگر پولیس یا کسی اور کو بیچ میں انوالو کرکے تُو نے میرے ساتھ ذرا سی بھی چالاکی کی۔۔۔تو یاد رکھنا بدلے میں تجھے تیری رانی کی لاش ہی ملے گی بس۔۔۔۔“ شہاب نے بےدردی سے اسکا گریبان دبوچتے ہوئے جہاں بڑی ہی سفاکی سے دھمکایا تھا۔۔۔وہیں ناصر بہتے آنسوؤں میں سرجھکاتا ہوا حددرجہ کمزور پڑا تھا۔۔۔
”ٹییییی۔۔۔۔ٹیییییی۔۔۔۔“ معاً پیچھے سے آتی گاڑی نے بآوازِ بلند ہارن بجایا،،،،تو قدرے سست روی سے گاڑی چلاتا ناصر اپنے گزشتہ روز کے خیالوں سے قدرے چونک باہر آیا۔۔۔
پھر سر جھٹکتے ہوئے پچھلی گاڑی کو ذرا سا راستہ دیتا ہوا خود کی رفتار بھی تیز کر گیا۔۔۔
اگلے ہی پل ناصر کی نم۔۔۔سرخ۔۔۔آنکھیں بیک ویو مرر پر پڑی تھیں۔۔۔
”مجھے معاف کردینا میرے بچے۔۔۔۔اپنی اولاد کی خاطر میں یہ سب کرنے پر مجبور ہوگیا ہوں۔۔۔۔۔“ پچھلی سیٹ پر حمزہ شاہ زین کا بےسدھ پڑا وجود افسردگی سے تکتے ہوئے اس کے لرزتے لب پھڑپھڑا کر رہ گئے تھے۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ اس کی وارن کرتی ہوئی سخت نگاہوں سے بچ بچاکر۔۔۔بہانہ لگاتی سیدھا کچن میں چلی آئی تھی۔۔۔۔
آج رمیض نے امریکہ سے آئےاپنے جگری دوست فیضان اور اُسکی فرنگی بیوی صوفیہ کو اسپیشلی گھر پر انوائٹ کیا تھا۔۔۔
مگر جذبات میں آکر جو پنگا وہ اُس خطرناک شخص سے جانتے بوجھتے لے بیٹھی تھی۔۔۔اب اُسکا انجام سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی۔۔
رمیض عالم درانی نے بطورِ شیف سارے پُرذائقہ دعوتی کھانے بذاتِ خود اپنے ہاتھوں سے تیار کیے تھے۔۔۔
مگر پھر ایپرن ،کیپ اتار کر فریش ہونے کی غرض سے جیسے ہی وہ اپنے روم میں گیا۔۔۔حیا فوری دبے قدموں کچن میں چلی آئی تھی۔
دل کو بھاتی خوشبوؤں کو بمشکل اگنور کرتی ہوئی وہ نمک دانی اٹھاتی تیزی سے اُس کے تیار شدہ کھانوں کی جانب آئی تھی۔
پھر اُس کی بڑی محنت سے تیار کی گئی اسپیشل ڈش ”چکن پیڈ تھائی نوڈلز“ کا انتخاب کرتی معنی خیزی سے مسکرائی۔۔۔
بہت ہی کم وقت لگا تھا حیا وقاص کو نوڈلز میں آدھی نمک دانی انڈیل کر اُسکا ستیاناس کرتے ہوئے۔۔۔
جلدی جلدی سےاچھی طرح مکس کرتی وہ جس خاموشی سے یہاں آئی تھی،،،اُسی خاموشی سے اپنے پیچھے شک و شہبات کی کوئی گنجائش چھوڑے بنا کچن سے باہر نکلتی چلی گئی۔۔۔
مگر پھر کھانے کی ٹیبل پر کیا ہوا تھا۔۔۔۔!!
فیضان اور صوفیہ نے جتنے اشتیاق سے وہ نوڈلز چکھے تھے۔۔۔۔اتنی ہی تیزی سے منہ کے زاویے بری طرح بگاڑتے ہوئے بےاختیار وہیں تھوک بھی ڈالے تھے۔۔۔۔
نتیجتاً رمیض نے حیرت سے اُنھیں بنا دیری کے گھٹا گھٹ پانی چڑھاتے دیکھ۔۔۔ خود بھی پریشانی سے اپنے بنائے ہوئے نوڈلز چکھے تھے۔۔۔۔
زہر ہوتا نمک منہ میں گھلتے ہی اُس نے جن نگاہوں سے گھبرا چکی حیا کو دیکھا تھا۔۔۔وہ تاثر ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑانے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔
”اففف۔۔۔۔!!!“ معاً سر جھٹک کر اپنی سوچوں کا تسلسل توڑتی حیا نے گلاس میں بچے پانی کا آخری گھونٹ بھی جلدی سے نگلا تھا۔۔۔
پھر خود کو ریلکس کرنے کی غرض سے چہرے پر ہاتھ پھیرتی ہوئی کچن کی دہلیز کی جانب لپکی۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ باہر نکل پاتی۔۔عین وقت پر کچن میں داخل ہوتے رمیض نے اسے ٹھٹھک کر وہیں رکنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔
”ک۔۔۔کیا بات ہے۔۔۔؟؟ایسے میری طرف کیوں آرہے ہیں آ۔۔آپ۔۔۔؟؟؟“ اسے قدرے سنجیدگی کے ساتھ قدم قدم چل کر اپنی جانب آتا دیکھ۔۔۔حیا بھی اپنے قدم پیچھے لیتی ہوئی خائف سی بولی۔۔۔
حلق تر کرتے ہوئے دل کی دھڑکنیں بےترتیب سی ہوئی تھیں۔۔۔
مگر وہ تھا کہ بنا رکے۔۔۔ڈھٹائی سے اس کے قریب آتا چلا جارہا تھا۔۔۔
”ر۔۔رمیض اسٹاپ۔۔۔۔پلیز۔۔دور رہیں مجھ سے۔۔۔۔۔“ قدرے چونک کر شیلف کے ساتھ لگتی وہ ایک بار پھر سے اُسے سہم کر ٹوک چکی تھی۔۔۔
معاً رمیض قریب ترین آکر رکتا ہوا،،،،اسکے دائیں بائیں شلیف پر اپنی ہتھیلیاں جماگیا۔۔۔تو خود کو اُسے کے حصار میں مقید ہوتا دیکھ حیا حیرت تلے گڑبڑا کر رہ گئی۔۔۔
”میرے بنائے گئے نوڈلز میں ڈھیروں نمک ملا کر اسے زہر بنانے والی تمہی تھی ناں وائفی۔۔۔۔۔۔؟؟؟“ ذرا سا اُس پر جھک کر سرد لہجے میں پوچھتا ہوا وہ حیا کو بارہا نگاہیں چرانے پر مجبور کررہا تھا۔۔۔۔
”نن۔۔نہیں تو۔۔۔۔۔“ شیلف میں گھسنے کی ناکام کوشش میں وہ جھوٹ بولتی ہوئی ہکلائی۔۔
”نہیں۔۔۔؟؟؟“ اُس کے یوں صاف صاف مُکر جانے پر رمیض زور دے کر غرایا۔۔۔تو حیا نے ہڑبڑا کر اس کی تپش دیتی سنجیدہ۔۔۔نگاہوں میں دیکھا۔۔
”ہ۔۔ہاں۔۔۔۔“ مقابل کے رعب میں آتے ہوئے اس کے پنکھڑی لب ہولے سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔
”مجھے میرے دوست اور اسکی فرنگی بیوی کے سامنے اتنا بےعزت کروانے کی اب کیا سزا دوں میں تمھیں۔۔۔؟؟؟ہہممم۔۔۔۔؟؟؟“ اس کے سہمے اعتراف پر سر کو جنبش دے کر نیا سوال کرتا ہوا وہ اس کے پریشان نقوش کو بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔
”ک۔۔کوئی بھی نہیں۔۔۔۔“ نچلا لب کچل کر معصومیت سے بولتے ہوئے حیا کے دل کی گداز دھڑکنیں تیز سے تیز ہوتی چلی جا رہی تھیں۔۔۔
لبوں پر بھٹکتی نگاہوں کا زوایہ فوری بدلتے ہوئے رمیض کے دھڑکتے دل نے ہولے سے کروٹ بدلی تھی۔۔۔
”یہ تو واہیات حرکت کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا تمھیں۔۔۔۔!!“ بظاہر اپنے لہجے کو سخت بناتا وہ حیا کی غلافی نگاہیں نم کرگیا تھا۔
”س۔۔سوری۔۔۔۔“ اپنے انجام کی بابت سوچتی حیا۔۔بےاختیار مٹھیاں بھینچتی روہانسی لہجے میں گویا ہوئی۔۔۔
پیچھے سے کسی نہ کسی کے آجانے کی بھی فکر الگ سے لاحق تھی۔۔۔۔
”لفظ سوری سے میری کوئی واقفیت نہیں ہے۔۔۔۔جب تمھیں اچھے سے میری طبیعت کا پتا تھا کہ میں کس حد تک خطرناک شخص ہوں۔۔۔غصے میں آجاؤں تو کیا کیا کرسکتا ہوں۔۔پھر بھی۔۔۔پھربھی تم نے جانتے بوجھتے مجھ سے الجھنے کی ہمت کی۔۔۔؟؟؟یہ سب فضولیات کرکے میری توجہ پانا چاہ رہی ہو تم حیا رمیض عالم درانی۔۔۔ہوں۔۔۔؟؟؟“ اسکی دلچسپ حالت پر رمیض اپنی مسکراہٹ بآسانی دباکر بولتا ہوا اس پر مزید جھکا۔۔۔
تو اسکی بےباکی پر ہراساں ہوتی حیا سرخ چہرے کے ساتھ جہاں تھوڑا پیچھے کو جھکتی بےساختہ اس کے کسرتی سینے پر دونوں ہاتھ جما گئی تھی۔۔۔وہیں شیلف پر قریب ہی پڑی لائٹر گن،،،رمیض بآسانی اپنے گرفت میں لے گیا۔۔۔
”آپکو سمجھ نہیں آتا ذرا دور ہٹ کر بات کریں مجھ سے۔۔ا۔۔اور۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔۔میں تو بس اپنے اندر دبی۔۔۔بھڑا۔۔۔س۔۔۔۔“ حیا دبے دبے غصے میں بول رہی تھی جب وہ اچانک سے لائٹر کا ٹریگر دبا کر شعلہ ابھارتا ہوا اس کے سامنے لے آیا۔۔۔
”ہاں تو پھر بتاؤ مجھے۔۔۔۔!!!کہاں سے سُلگانا شروع کروں میں تمھیں۔۔۔۔؟؟؟اس دماغ سے۔۔۔؟؟جس نے تمھیں اپنے شوہر کے خلاف ایسا فضول قسم کا آئیڈیا دیا۔۔۔۔یا پھر ان کانپتے ہاتھوں سے۔۔۔؟؟جنھوں نے تمھارے اس بکواس آئیڈیے کو پورا کرکے دکھایا۔۔۔ہوں۔۔؟؟جواب دو۔۔۔؟؟؟“ ہنوز بھڑکتے شعلے کو اسکے چہرے کے قریب قریب لہرا کر اب لرزتے ہاتھوں کی جانب لے کر آتا ہوا وہ حقیقتاً حیا کے ہوش اڑا چکا تھا۔۔۔
”ر۔۔رمیض نہیں۔۔۔نہیں پلیز یہ نہیں کریں میرے ساتھ۔۔۔م۔۔میں آپ سے کبھی الجھنے کی غلطی نہیں کروں گی اب۔۔۔ کوسوں دور رہوں گی آپ سے آئی سوئیر۔۔۔۔۔۔“ مقابل کی سنگدلی پر شدت سے پھڑپھڑاتی دھڑکنوں کے سنگ وہ جل جانے کے ڈر سے حددرجہ گھبراتی ہوئی اب کہ شدت سے رو دینے کو تھی۔۔۔
مقابل سے پنگا لینا کتنے خسارے میں ڈال گیا تھا ناں اسے۔۔۔۔!!!
رمیض نے جھٹکے سے آگ کا شعلہ بجھاتے ہوئے لائٹر گن کو شلیف پر پھینکا تھا۔۔۔
”اور اگر میں تمھیں خود سے دور ہی نہ جانے دوں تو۔۔۔؟؟قریب رہ پاؤ گی میرے۔۔۔۔؟؟؟“ اس کے سرخ گالوں پر ٹوٹ کر پھسلتے آنسوؤں کو نرمی سے صاف کرتا ہوا وہ مدھم گھمبیر لہجے میں گویا ہوا تو
اس کے پل پل بدلتے روپ پر شدت سے چونکتی وہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
پھر ہولے سے نفی میں سر ہلاتی رمیض کو اس کی توقع کے مطابق جواب دے گئی تھی۔۔۔
”جب تک میں اپنے حقیقی مجرم سے آشنا نہیں ہوجاتی۔۔۔تب تک مجھ سے کوئی بھی امید لگانے کی حماقت مت کیجیے گا۔۔۔۔۔“ برہمی سے کہتی ہوئی وہ مزید اُس کی بولتی ہوئی۔۔۔گہری سیاہ آنکھوں میں دیکھ نہیں پائی تھی۔۔۔
بلکہ پوری قوت لگاکر اُسے خود سے پرے دھکیلتی ہوئی وہاں سے بھاگتی چلی گئی۔۔۔
پیچھے وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر کھولتا ہوا ضبط کا گہرا سانس بھر کے رہ گیا۔۔۔پھر شکست زدہ سا بالوں میں ہاتھ پھیرتا ہوا خود بھی وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”ڈاکٹر راشدہ۔۔۔۔میری وائف ہیں۔۔۔۔“ سماعتوں میں اترتی اسکے کولیگ کی دھماکہ کرتی آواز نے زیدان کے گاڑی چلانے کی اسپیڈ حددرجہ بڑھا دی تھی۔۔۔
کچھ دیر پہلے آفس روم میں جو بھیانک ترین انکشاف اُس پر کھلا تھا۔۔۔اسکے بعد اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ پلکیں جھپکاتے ہی گھر پہنچ جائے۔۔۔
”وہ رپورٹ۔۔فیک تھی مسٹر زیدان۔۔۔حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔۔۔۔“ کس قدر مضبوط لہجہ تھا ناں اُس عورت کا۔۔۔
اس قدر مضبوط کہ زیدان ساکت۔۔۔پھیلی نگاہوں سے اُس کا خفت زدہ سا چہرہ دیکھتا رہ گیا۔۔۔
”م۔۔مطلب۔۔۔۔؟؟؟“ اس کے لیے ذیادہ بولنا محال ہی تو ہوا تھا اُس پل۔۔۔۔
”مطلب یہ کہ۔۔۔آپ کسی بھی محرومی کا شکار نہیں ہیں۔۔۔باپ بننے کی صلاحیت موجود ہیں آپ میں۔۔۔۔مگر آپکی وائف۔۔۔آئی ایم سوری ٹو سے۔۔۔وہ بانجھ پن کا شکار ہیں اس لیے کبھی ماں نہیں بن سکتیں۔۔۔۔“ تپتے دماغ میں مسلسل ہوتی آوازوں کی باز گشت پر اُس کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا تھا۔۔۔
رئیل رپورٹس بھی اس کے سامنے پیش کی گئی تھیں۔۔۔
مگر وہ اتنی آسانی سے یقین کرنے کو تیار ہی کہاں تھا بھلا۔۔۔۔!!!
کیونکہ حقیقی اعتبار تو اس نے اپنی بیوی کی
سچائی۔۔۔
قسم۔۔۔۔
محبت۔۔۔۔
پر کیا تھا۔۔۔اور دل سے کیا تھا۔۔۔
جبھی تو۔۔۔جبھی تو وہ کسی اور ہاسپیٹل میں اپنے پرسنل ٹیسٹ کروانے نہیں گیا تھا۔۔۔
”میں کیسے مان لوں کہ یہ سب سچ ہے۔۔۔؟؟اگر پہلی بار جھوٹ بولا جا سکتا ہے تو اب کیوں نہیں۔۔۔۔؟؟؟یا پھر یہ سوچوں کہ تم دونوں نےفراڈ کرکے میری ذات کا تماشہ بنایا۔۔۔؟؟جس فارن ڈیل سے میں نے ہاتھ روکا تھا اُسی چیز کا بدلہ اِس بے ہودہ صورت میں لیا گیا ہے مجھ سے۔۔۔۔ہہہممم۔۔۔۔؟؟؟“ وہ مشتعیل سا ٹیبل پر ہاتھ مارتا اپنا ضبط کھو رہا تھا۔۔۔
بگڑے تنفس کے ساتھ اسٹیرنگ پر اپنی پکڑ مزید سخت کرتے ہوئے اس نے اسپیڈ ایک سو بیس سے کم نہیں ہونے دی تھی۔۔۔
”اول بات تو یہ کہ ہمارا لفظ لفظ سچ ہے زیدان عالم درانی۔۔۔اور رہی بات فراڈ کی تو جان لو کہ وہ ہم نے نہیں۔۔۔بلکہ تمھاری خود کی بیوی نے تم سے کیا ہے۔۔۔۔میں مانتا ہوں کہ میری بیوی نے گمراہ ہوکر حسنہ وقاص کا وقتی ساتھ ضرور دیا تھا۔۔۔مگر راشدہ کو آنسوؤں۔۔لالچ اور دھمکیوں کے زیرِ اثر اس حد تک لانے والی بھی تمھاری ہی بیوی تھی۔۔۔۔“ اب کی بار آفس کے بند روم میں درشتگی سے باور کرواتے ہوئے اُسے کا دل بند کردینے والا اس کا کولیگ جنید اصغر تھا۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ہاں وہ رونگھٹے کھڑی کرتی اس بدترین حقیقت کو بھی تہمت سمجھ کر جھٹلا دیتا۔۔۔اگر جو بطورِ ثبوت۔۔۔روم میں لگے خفیہ کیمرے کی بدولت اپنی محبوب بیوی کو بڑی رقم پکڑاتے ہوئے نہ دیکھتا تو۔۔۔۔۔
”آآآآآاااااہ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔“ دماغ کی پھٹتی رگوں پر گاڑی روکتے ہی زیدان اسٹیرنگ پر زور سے مکا مارتا ہوا چیخا تھا۔۔۔
اپنی محبوب بیوی سے اس قدر بڑے دھوکے کی اس نے قطعی توقع نہیں کی تھی۔۔۔
حسنہ وقاص کے پیچھے کیا کچھ نہیں سہا تھا اُس نے۔۔۔
گھرآچکا تھا۔۔۔
سنسناتے دماغ پر زور دیتے ہوئے زیدان کو مزید یاد آیا تھا کہ آتے آتے وہ اپنے کولیگ کو واپس سے فارن پراجیکٹ میں حصہ ڈالنے کی گڈنیوز سناآیا تھا۔۔۔
بجتے ہوئے شدید ہارن پر جہاں بوکھلاتے گارڈ نے جلدی سے گیٹ کو دوحصوں میں وا کیا تھا۔۔۔وہیں زیدان گاڑی اسٹارٹ کرتا ہوا قدرے تندہی سے اُسے گیراج تک لے آیا۔۔۔
نم سی سرخ انگارہ آنکھوں کو سمیت سرخ چہرے پر سختی سے ہاتھ پھیرتا وہ دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔۔پھرلمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر کی طرف لپکا۔۔
”زیدان۔۔۔!!!بیٹا تم جلدی گھر واپس آگئے۔۔۔۔۔؟؟“ اپنے کمرے سے نکلتی حفصہ بیگم نے اسے چونک کر دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا تھا۔۔۔مگر وہ ان سنا کرتا ہوا اپنے روم میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کر چکا تھا۔۔۔
نتیجتاً ہر بات سے بےخبر۔۔حفصہ بیگم نے اپنے لاڈلے بیٹے کے رویے پر قدرے تاسف سےنفی میں سرہلایا۔۔۔پھر وہاں سے پلٹ گئیں۔۔
معاً حسنہ کے شاور لے کر واشروم سے باہر نکلنے پر۔۔۔ وہ خود پر بڑی مشکلوں سے قابو پاتا ہوا اس کی جانب بڑھا تھا۔۔۔۔
جبکہ زیدان کو اس وقت چونک کر اپنے سامنے دیکھتی وہ خوشگوار حیرت سے مسکرائی تھی۔۔۔
”جان۔۔۔!!آپ یہاں کیا کررہے ہیں اس وقت۔۔۔؟؟؟یہ تو آپکے آفس کا ٹائم ہوتا ہے ناں۔۔۔۔“ گیلے بالوں سے تولیہ اتار کر بیڈ پر اچھالتی ہوئی وہ شوخ لہجے میں بھنویں اچکاتی پوچھ رہی تھی۔۔۔
زیدان اسکی دلکش فریبی آنکھوں میں جھانکتا ہوا بڑے ضبط سے مسکرایا۔۔۔
”میرا یہ کمبخت دل تمھارے بغیر کہیں لگا ہی نہیں۔۔۔کیا کرتا۔۔۔آنا پڑا۔۔۔۔“ بھاری شیرینی لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر کہتا ہوا۔۔۔وہ ایک جھٹکے سے اس کا کھلا کھلا سا وجود خود سے لگا چکا تھا۔
”پھر تو اچھا کیا جو میرے پاس چلے آئے۔۔۔۔“ جواباً۔۔لحظے بھر کو شرماتی ہوئی حسنہ اس کی تپش دیتی سرخ نگاہوں میں دیکھ کر کھلکھلائی تھی۔۔۔۔
زہر ہی تو لگی تھیں مقابل کو اُس کی یہ دلکش مسکراہٹیں۔۔۔۔
”کتنی مکمل محبت ہے ناں ہماری جانم۔۔۔سوائے اِس ایک محرومی کے جو اس وقت میرے اندر پنپ رہی ہے۔۔۔“ زیدان دھیمے۔۔۔بےتاثر لہجے میں بولتا ہوا اس کے نم بالوں کو چھیڑرہا تھا۔
”ہماری کامل محبت ہر محرومی پر غالب ہے زیدان۔۔۔کیا یہ کافی نہیں۔۔۔۔؟؟؟“ اپنی کمر پر اسکے بازو کا پل پل سخت ہوتا حصار محسوس کرتی حسنہ بڑی نرمی سے اسے شیشے میں اتارنا چاہ رہی تھی۔
اس کے گلابی گالوں کو شدت سے چھوتا وہ سر کو ہولے سے جنبش دے گیا۔۔۔
حسنہ کی دھڑکنیں نرم لمس پر پل پل بےہنگم ہوتی چلی جارہی تھیں۔۔۔
”ویسے جانم۔۔۔کیا تمھیں اب بھی پورا یقین ہے کہ میں کبھی باپ نہیں بن سکتا۔۔۔؟؟“ بظاہر نرم لہجے میں استفسار کرتے ہوئے زیدان کے اندر بھانبھڑ جل رہے تھے۔
حسنہ نے اپنے گال پر اُس کی سرکتی ہوئی مردانہ انگلیوں کو دھڑکتے دل کے ساتھ تھاما۔پھر اس کی اندرونی حالت سے قدرے بےخبر اثبات میں سر ہلاگئی۔۔۔
”مجھے یقین سے ذیادہ افسوس ہے کہ آپ کبھی بھی باپ نہیں بن سکتے۔۔۔مگر اس تلخ حقیقت کے باوجود بھی میں آپ کی اِس کمی کو ہماری محبت پر کبھی غالب نہیں آنے دوں گی زیدان۔۔میں۔۔آااہ۔۔۔!!!“ اپنے لہجے میں محبت گھول کر وہ بڑے اعتماد سے بول رہی تھی۔۔۔جب یکدم ضبط ٹوٹنے پر زیدان نے بےاختیار حسنہ کا نازک گلا دبوچ کر اسے خود سے بےحد قریب کیا تھا۔
”جس لیڈی ڈاکٹر کو تم نے پیسوں کی پاور اور بکواس دھمکیوں کے زور پر میرے نام کی فیک رپورٹ بنوانے پر مجبور کیا تھا ناں۔۔۔وہ میرے کولیگ کی بیوی تھی۔۔۔آج اپنے شوہر کے ساتھ میرے آفس میں آکر ایک ایک بات بتاچکی ہے وہ مجھے۔۔۔بتا چکی ہے کہ میں تو باپ بن سکتا ہوں۔۔۔مگرتم جیسی یُوزلیس عورت کبھی ماں نہیں بن سکتی ڈیمٹ۔۔۔۔۔“ غصے سے اس کے منہ پر چیختا ہوا وہ حقیقت کے زور پر اُس کے رنگ اڑا چکا تھا۔۔۔
”چ۔۔چھوڑیں مجھے زیدان۔۔۔پاگل ہوگئے ہیں کیا آپ۔۔۔؟؟جھ۔۔۔جھوٹ ہے یہ سب۔۔۔سراسر جھوٹ۔۔۔۔“ حلق میں ہوتی گھٹن کے سبب حسنہ ناکام مزاحمت کرتی ہوئی پھنسی پھنسی آواز میں بمشکل گویا ہوئی۔۔۔ورنہ تو دل و دماغ اس اچانک افتاد پر مکمل بند ہونے کو تھا۔۔۔
اُسکے اس قدر ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے پر۔۔۔آپے سے باہر ہوتے زیدان کا،گلا چھوڑتے ہی شدت سے بھاری ہاتھ اٹھا تھا۔۔۔
”چٹاااااخ۔۔۔۔۔!!!“ کمرے میں گونجتی گہری آواز کے ساتھ جہاں حسنہ دھڑام سے دبیز قالین پر گری تھی۔۔۔وہیں بلیک پینٹ کی جیب سے اپنا موبائل فون باہر نکالتے ہوئے زیدان نے پھرتیوں سے مطلوبہ ویڈیو کلپ چلائی۔
پھر قریب آتے ہوئے اس کی حیرت و بے یقینی کو پیروں تلے روندتا اس کے اوپر جھکا۔۔
”دیکھو اسے غور سے۔۔۔۔یہ رشوت دینے والی جہنمی عورت تمہی ہو ناں۔۔۔ایک نمبر کی دھوکےباز۔۔۔اب بھی سچائی کو میرے منہ پر جھٹلاؤ گی۔۔۔۔؟؟جواب دو۔۔۔۔!!“ اس کی ٹپ ٹپ آنسو بہاتی آنکھوں کے آگے چلتی اسکرین کرتا زیدان نخوت سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
خود کو نوٹوں کی گڈی ڈاکٹر راشدہ کے حوالے کرتا دیکھ حسنہ کا دل شدت سے ڈوب کر ابھرا۔۔۔
”م۔۔میں نے جو کچھ بھی کیا۔۔۔فقط آپ کو۔۔۔آپکی محبت کو پانے کے لیے کیا زیدان۔۔۔اپنی آئندہ کی زندگی کو سنوارنے کے لیے کیا۔۔اور میرے نزدیک یہ بالکل بھی غلط نہیں ہے۔۔۔۔“ بکھرچکے نم بالوں کی پرواہ کیے بنا سسک کر بولتی ہوئی وہ آخر میں دبا دبا سا چیختی اعتراف کرہی گئی تھی۔۔۔
مگر اسکی قدر ہٹ دھڑمی بھی تو اِس پل قابلِ دید تھی۔۔۔۔!!!
”تم جیسیوں کو تو محبت کا ”م“ تک کرنا نہیں آتا۔۔۔محبتوں میں وفا کیا خاک کرو گی۔۔۔!!کیا کچھ نہیں کیا میں نے تمھارے لیے حسنہ وقاص۔۔۔مگر بدلے میں تم نے کیا کیا۔۔۔؟؟اپنا روگ دھوکے سے میرے نام کرنے چلی تھی تم۔۔۔ہہممم۔۔۔۔؟؟؟سب جاننے کے بعد اب نفرت ہونے لگی ہے مجھے تم سے۔۔شدید نفرت۔۔۔دل تو چاہ رہا ہے کہ ابھی کے ابھی طلاق دے کر تمھیں اس گھر سے چلتا کروں۔۔۔۔“ اس کے نم بالوں کو مٹھی میں دبوچتا وہ قدرے چٹخ کر گویا ہوا تو حسنہ ملنے والی اِس دوہری اذیت پر سختی سے کانپتے لب کچل گئی۔۔۔پھر اس کے آخری جملے پر قدرے ششدر ہوکر دھندلائی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھا۔
محض تھوڑے سے وقت میں بھلا اتنا کیسے بدل سکتا تھا وہ۔۔۔۔؟؟؟
آخر اس نے کیا ہی کیا تھا۔۔۔؟؟؟
صرف ایک کاری ضرب ہی تو لگائی تھی مقابل کی مردانگی پر۔۔۔!!!
”بس کردیجیے زیدان۔۔۔خدا کا واسطہ ہے بس کردیجیے اب۔۔۔۔آپ مر کر بھی ایسا نہیں کر سکتے سنا آپ نے۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔!!!“ جھٹکے سے اپنا آپ اس سے چھڑواکر۔۔پاگلوں کی طرح غراتی ہوئی وہ اُس سے ذیادہ گویا خود کو تسلی دے رہی تھی۔۔۔
زیدان نے شعلہ بار نگاہوں سے اس کی کَسی مٹھیوں میں جکڑا ہوا اپنا سفیدگریبان دیکھا۔۔۔
”چیلنچ کررہی ہو مجھے۔۔۔؟؟؟فائن۔۔۔اٹھو اور چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔ذرا باقی گھر والوں کو بھی تو پتا چلے تمھاری بدترین اصلیت کے بارے میں۔۔۔اس کے بعد تمھارا حتمی فیصلہ بھی ہوجائے گا۔۔۔“ بےاختیار حسنہ کو بازوؤں دبوچ کر خود کے ساتھ کھڑا کرتا وہ اگلے ہی پل اُسے بند دروازے کی جانب گھسیٹ چکا تھا۔۔۔
نتیجتاً حسنہ کے ہوش اڑے۔۔۔
آااہ۔۔۔۔یہ سب کیا سے کیا ہوگیا تھا اُس کے ساتھ۔۔۔۔؟؟؟
”چھوڑیں مجھے۔۔۔زیدان آئی سیڈ اسٹاپ۔۔۔جسٹ اسٹاپ اٹ زیدان۔۔۔۔۔“ زیدان نے طیش میں ناب گھوما کر ذرا سا دروازہ وا کیا ہی تھا۔۔۔جب وہ پوری قوت سے تلملاتی ہوئی اپنا آپ اس کی سخت گرفت سے چھڑواگئی۔۔۔پھر پھولے سانسوں کے ساتھ خائف سی کئی قدم پیچھے ہٹی۔۔
مقابل کی سنگدلی پر سرخ آنکھوں سے آنسو بھل بھل بہہ رہے تھے۔۔۔
زیدان ضبط سے لب بھینچتا ہوا اسکی جانب پلٹا۔۔۔
”اگر تم نے میرے ساتھ ایسا کچھ بھی کیا ناں۔۔۔۔تو یاد رکھنا پھر میں بھی سب کو تمھاری سچائی بتادوں گی۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھائے وہ صاف دھمکاتی ہوئی پھنکاری۔۔۔
اس بات سے قدرے انجان کہ اُس سے ملنے کے لیے آئے وقاص صاحب۔۔۔دروازے تک آتے ہوئے یکدم اِن لرزتے لفظوں پر چونک کر وہیں تھمے تھے۔۔۔
”بتادوں گی کہ ہماری محبت کی خاطر رمیض اور حیا کو عین شادی کے دن کڈنیپ کروانے والا کوئی اور نہیں بلکہ تم تھے زیدان عالم درانی۔۔۔ہاں۔۔۔ان کی زندگیوں کو تباہ کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ تمھارا ہی تھا۔۔۔۔۔“ وحشتوں سے بولتی ہوئی جہاں وہ زیدان کا سنسناتا دماغ بھک سے اڑاگئی تھی۔۔۔وہیں اس تلخ ترین انکشاف پر وقاص صاحب شدتوں سے کنگ ہوئے۔۔۔
”افسوس ہورہا ہے آج مجھے اپنے انتخاب پر۔۔۔شدید افسوس ہورہا ہے کہ میں نے ایک انتہائی گری ہوئی بانجھ عورت سے بےتحاشہ محبت کی۔۔۔کاش۔۔۔کاش کہ میں نے اُس وقت حیا کو نہ چھوڑا ہوتا تو آج میں سکون میں ہوتا۔۔۔۔۔“ شدتِ بےبسی سے مٹھیاں بھینچتا زیدان۔۔۔اسکی جانب نفرت سے دیکھتا ہوا طنزوں کی گہری مار۔۔۔مار رہا تھا۔
”مگر مجھے کوئی افسوس نہیں ہے۔۔۔۔“ پھٹتے دل کے ساتھ وہ بظاہر بےتاثر لہجے میں بولی تھی۔۔۔
”تف ہے تم جیسی بدکردار اولاد پر جو اپنی من مرضیوں کی بدولت خود کے ساتھ ساتھ والدین کی پارسائی کو بھی داغدار کر ڈالتی ہے۔۔۔“ بےاختیار وقاص صاحب کو اپنے بولے گئے سخت ترین جملے یاد آئے تھے۔۔۔
کتنا غلط بول گئے تھے وہ۔۔۔
”اپنی شادی والے دن اِس شخص کے ساتھ بھاگ کر ہمارے چہروں پر کالک ملنے کی کیا ضرورت تھی تمھیں۔۔۔؟؟“ تہمت پر تہمت۔۔۔ستم پر ستم۔۔۔
یاداشت تازہ کرتے ہوئے حیرت زدہ آنکھیں تیزی سے بھیگی تھیں۔۔۔
”ایسا کچھ نہیں ہے بابا۔۔۔آ۔۔آپکی بیٹی بالکل بھی ایسی نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔۔۔بس ایک بار میری بات سن لیں۔۔م۔۔میں آپکو سب کچھ بتاتی ہوں۔۔۔میں خود سے کہیں بھی۔۔کسی کے بھی ساتھ نہیں بھاگی تھی بلکہ۔۔۔۔“ دھڑکتا دل کرلایا تھا۔۔۔۔
کاش اُنھوں نے اپنی بےگناہ بیٹی کا یقین کیا ہوتا۔۔۔
بےاختیار ضبط کا گہرا سانس بھرتے وہ سینے پر ہاتھ رکھ گئے۔۔۔
”اب نہ سہی۔۔۔مگر آئندہ سے تم بڑے افسوس اور پچھتاوے اٹھانے والی ہو میرے ہاتھوں۔۔۔۔“ سرد ترین لہجے میں کہہ کر،سرخ چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہ مزید وہاں نہیں رکا تھا۔۔۔بلکہ اُس کی ڈھٹائی پر لعنت بھیجتا ہوا پلٹا۔۔۔
پھر دھاڑ سے پورا دروازہ کھولتے ہی وقاص صاحب کو وہاں کھڑا دیکھ بےساختہ ساکت ہوا۔
”ب۔۔بابا۔۔۔۔۔؟؟؟“ حسنہ بھی انھیں دیکھ شدتوں سے گھبرائی تھی،جو نم آنکھوں کے ساتھ متاسف زدہ سے ان دونوں کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
زیدان نے پریشانی سے ماتھے کی تیوری مسلی۔۔۔
تو یعنی بدقسمتی سے وہ سب کچھ جان چکے تھے۔۔۔۔
اگلے ہی پل وہ اپنے چچا جان سے نگاہیں چراتا ہوا حسنہ کی جانب پلٹا۔۔۔جو ان سنگین حالاتوں میں بھی پاس بیڈ پر پڑا دوپٹہ کانپتے ہاتھوں سے خود پر اوڑھ چکی تھی۔۔۔۔
”اگر میری فیملی کے ایک بھی فرد کو میرے اِس سچ کے بارے میں ذرہ برابر بھنک پڑی۔۔۔تو خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں اُسی پل تمھیں طلاق کے تین لفظ بول کر اِس گھر سے چلتا کروں گا۔۔۔یاد رکھنا میری یہ بات۔۔۔۔“ حسنہ کی جانب شہادت کی انگلی اٹھا کر سپاٹ لہجے میں باور کرواتے ہوئے وہ درحقیقت وقاص صاحب کو تنبیہ کررہا تھا۔۔۔
حسنہ نے اس کی بدلحاظی پر سسکتے ہوئے مٹھیاں بھینچی تھی۔۔۔جس کی رتی بھر بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے زیدان عالم درانی تندہی سے تیوری چڑھائے کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔
معاً وقاص صاحب نے رخسار پر پھسلتے آنسوؤں کے سنگ اپنی چھوٹی بیٹی کی بکھری حالت دیکھی تھی،،،،
”بابا۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔“ بےاختیار ان کے سامنے لرزتے ہاتھ جوڑتی حسنہ آہستگی سے نفی میں سر ہلاتی ہوئی گویا ان سے منت کررہی تھی۔۔۔
”میری حیا۔۔۔۔۔۔۔!!!“ جواباً قدرے بےچینی سے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ان کے لب شدت سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔
اگلے ہی لمحے وقاص صاحب اُس سے چہرہ پھیرتے ہوئے وہاں سے نکلتے چلے گئے۔۔۔
پیچھے وہ طیش میں دبا دبا سا چیختی۔۔۔اگلے ہی پل بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں دبوچ کر کھینچتی ہوئی،ایک ہی جھٹکے میں دور اچھال چکی تھی۔۔۔
”مانا کہ عشق ہمارا مکمل نہیں
جینا ظلم، زندگی جہنم ہی سہی؛
قبول ہےقتل ہونا دفن ہوجانا
مگرعشق میں فریب منظور نہیں۔۔۔“
