Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

وحشتوں میں ڈھلتی ہوئی اِس شام کی مانند اُس کی ممتاء بھری خوشیاں بھی پوری طرح سے ڈھل چکی تھیں۔۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ اِس پل ہاسپیٹل روم کے بیڈ پر بےسدھ پڑی۔۔۔اپنی اجڑی ہوئی کوکھ کا سوگ منارہی تھی۔۔۔
اُس ننھی سی جان کا سوگ منا رہی تھی جس کو رمیض عالم درانی پر واضح کرنے سے پہلے ہی وہ ہمیشہ کے لیے گنوا چکی تھی۔۔۔
اور یہ اذیت ایسی تھی کہ حیا وقاص کو اپنا کمزور وجود بار بار بےدم ہوتا محسوس ہونے لگتا تھا۔۔۔ویران آنکھیں بار بار بھیگنے لگتی تھیں۔۔تڑپتا دل بار بار دھڑکنا بھول جاتا تھا۔
اور جس انجان شخص کی لاپروائی کی وجہ سے یہ سب ہوا تھا،وہ بےحس تو اُسی وقت سب کو چکما دے کر وہاں سے اپنی گاڑی بھگا لے گیا تھا۔۔۔
”حیا!حوصلہ کرو چندا۔۔آج تمھارے ساتھ جو کچھ بھی حادثاتی طور پر پیش آیا ہے اُس کا بڑا دکھ ہے مجھے۔۔۔لیکن تمھارا یوں رو رو کر خود کو ہلکان کرنا مجھے مزید اذیت میں مبتلا کر رہا ہے بیٹا۔۔۔“ قریب چئیر پر بیٹھے وقاص صاحب قدرے افسردگی سے بول رہے تھے۔
حیا نے چونک کر بھیگی پلکیں جھپکاتے ہوئے اُن کا اداس چہرہ دیکھا۔
سرخ آنکھوں کے کنارے سوجھ سے گئے تھے۔
”شاید مجھے رمیض اور تمھارے سسرال والوں کو کال کرکے سب بتادینا چاہیے۔۔۔اِس مشکل وقت میں سب کی موجودگی تمھارے دکھ کو کم کرنے کے لیے بہتر رہے گی۔۔۔۔۔“ معاً اپنی جیب سے موبائل فون نکالتے ہوئے وہ بےبسی تلے مزید گویا ہوئے۔۔۔تو تیزی سے سرنفی میں ہلاتی ہوئی وہ لیٹے لیٹے ہی اُن کی جانب کھسکتی ،موبائل فون والا ہاتھ تھام گئی۔
”ن۔۔نہیں بابا نہیں۔۔۔آ۔۔آپ اِس حادثے کی بابت کسی کو بھی ایک لفظ نہیں بتائیں گے۔۔۔رمیض کو تو بالکل بھی نہیں۔۔۔وہ پرسکون ہیں اِس وقت اور میں اُنھیں پرسکون ہی دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔ایک بار اُنھیں جیت کر پاکستان واپس آلینے دیجیے۔۔۔اپنی خوشی منالینے دیجیے پھر میں خود انھیں سب بتادوں گی۔۔۔مِس کیرج کے اِس معاملے کو فی الحال بعد کے لیے اٹھا رکھیں۔۔۔مگر ابھی کے لیے فقط خاموشی اختیار کرلیجیے بابا۔۔پلیز۔۔۔میری خاطر۔۔۔۔۔“ لرزتی آواز میں شدتوں سے ملتجی ہوتی حیا جہاں اپنے باپ کو ہر صورت رضامند ہونے پر مجبور کرچکی تھی۔۔۔وہیں وقاص صاحب بھی اِس قطیعت بھرے فیصلے پر سرجھکاتے ہوئے اُس کے مومل ہاتھ کو تھپک کر رہ گئے۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
یہ استنبول کا کئی رقبے پر محیط کشادہ باورچی ہال تھا جہاں
انٹرنیشنل کوکنگ کمپیٹیشن کے حوالے سے نہایت جدید طرز کے انتظامات کیے گئے تھے۔
تیز روشنیوں تلے
شیفز،،،
آڈینس،،،
ججز،،،
کیمرہ مینز،،،
ہلیپرز۔۔۔۔
تقریباً سبھی کے چہروں کے تاثرات بآوازِ بلند گونجنے والی اناؤنس منٹ پر بدلتے چلے گئے۔
دئیے گئے ایک گھنٹے کے کوکنگ ٹاسک میں” ویجیٹیرئن ٹرکش پائڈ “ نامی بہترین ڈِش بنانے کے سبب رمیض عالم درانی اپنا پہلا لیول بآسانی پار کرگیا تھا۔۔۔
جبکہ مختلف ممالک کے منتخب کردہ چودہ شیفز میں سے تین افراد آج کی بازی ہارتے ہوئے قدرے افسوس کے ساتھ اِس مقابلے سے باہر ہوچکے تھے۔
معاً سامنے بیٹھی آڈینس نے جیتنے والوں کے لیے بےتابانہ تالیاں بجائیں۔۔۔تو جہاں آہستگی سے شیف کیپ اتارتے ہوئے،،،رمیض عالم درانی نے اپنی فتح یاب مسکراتی نگاہیں اُن کی جانب دوڑائی تھیں۔۔۔وہیں لوگوں کی بھیڑ میں خود کو چھپانے کی کامیاب کوشش کرتی ہوئی روزینہ،،،بڑی محبت سے اپنے رومی کو سر تا پیر تکتی چلی گئی۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
اُسے خود کا ناتواں سا وجود اِس ناآشنا اندھیرنگر کی سیاہی میں پل پل گم ہوتا محسوس ہورہا تھا۔۔۔۔جب یکدم اُس کی سماعتوں میں مدھم سسکیاں شدت سے گھلیں۔۔۔
وہ سرعت سے پلٹا تو اپنے مقابل ہوتی زرد روشنی تلے ہلتے جھولے میں۔۔۔گھٹنوں میں منہ چھپا کر بیٹھی اُس عورت کو دیکھتا ہوا قدرے ٹھٹھک سا گیا۔
بوسیدہ لکڑی کا اپنے آپ جھولتا ہوا جھولا اور سسکتی ہوئی وہ عورت پہلے تو اس وسیع ویرانے میں کہیں بھی نہیں تھی۔
بےچینی سے سینہ مسل کر وہ بمشکل آگے بڑھا،،،جب یکلخت اُس عورت نے اپنا بھیگا چہرہ اوپر اٹھا کر اُسے برہم دھندلائی نگاہوں سے دیکھا۔
”م۔۔ماں۔۔۔۔۔۔؟؟؟“ بےیقینی تلےگھٹتی سانسوں میں فائق درید کے لب شدت سے پھڑپھڑائے تھے۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ شناسا نقوش اُس کی اپنی ماں کے ہی تو تھے۔۔۔جو ایک طویل عرصے بعد اُس کی کھلی نگاہوں کے سامنے زندہ ہوئے تھے۔
بلاشبہ محروم ہوجانے کے باوجود بھی وہ اُس کا سب کچھ تھیں۔۔۔
اگلے ہی پل وہ نم انگارہ آنکھوں کے ساتھ دیوانوں کی طرح مسکراتا ہوا بےتابانہ۔۔۔سفید رنگت کے لباس میں ملبوس آرزو بیگم کی جانب لپکا۔۔۔
تو تندہی سے اُسے ہاتھ اٹھا کر وہیں روکتی ہوئی وہ اپنا سرنفی میں ہلاگئیں۔
نتیجتاً فائق کو شدت سے اپنا آپ وہیں پر منجمد ہوتا محسوس ہوا۔
پھر ڈبڈبائی آنکھوں میں حیرت سموئے اُن کا سخت ترین چہرہ دیکھا۔
”مت کہو مجھے ماں۔۔۔تم میرے بیٹے نہیں ہو۔۔۔میرے بیٹے ہو ہی نہیں سکتے تم کیونکہ لڑکپن میں جسے میں چھوڑ کر گئی تھی۔۔وہ۔۔۔وہ تو شاید میرے ساتھ ہی مر چکا تھا۔۔۔۔“ ویرانے میں گونجتے وہ الفاظ کم۔۔۔۔پگھلتا ہوا سیسہ ذیادہ تھے جسے پل میں اُس کے کانوں میں انڈیل دیا گیا تھا۔
”ا۔۔ایسے تو مت کہیں ماں۔۔۔م۔۔میں فائق آپ ہی کا تو بیٹا ہوں۔۔دیکھیے ناں مجھے۔۔۔غور سے دیکھیے میرا چہرہ۔۔۔پہچانا۔۔۔۔؟؟؟“ تڑپ کر اپنے وجیہہ چہرے پر ہاتھ پھیر پھیر کر باور کرواتے ہوئے اُس نے یقین دلانے کی پوری سعی کی تھی۔۔۔۔
مگر سب جان کر بھی وہ کچھ مانتیں تب ناں۔۔۔۔!!!
”تم اور تمھارا یہ چہرہ میری پہچان کے لیے کافی نہیں ہے۔۔۔۔میری پہچان کے لیے تو بس یہ معصوم بے گناہ بچہ کافی ہے جس پر تم نے اپنا بےمعنی انتقام پورا کرنے کی غرض سے سفاکیت کی تمام حدیں پار کردی ہیں۔۔۔میرا بیٹا کبھی اس قدر بےرحم ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔۔“ حلق کے بل تڑخ کر چلاتے ہوئے۔۔آرزو بیگم نے جہاں دوڑ کر اپنے پاس آچکے حمزہ کو نرم آغوش میں سمیٹا تھا۔۔۔۔وہیں فائق نے اپنی پھٹی پھٹی بھیگی آنکھیں شدت سے رگڑ کر صاف کیں۔
وہ خود بھی مسکراتے حمزہ کی مانند دوڑ کر اُن کی ممتاء بھری آغوش میں چھپ جانا چاہتا تھا مگر ستم کہ مزاحمت کے باوجود بھی جم چکے پیروں کا ہل پانا یکدم دشوار ترین ہوا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل حمزہ نے تمسخر اڑاتی نگاہوں سے مقابل کی شدتِ بےبسی دیکھی تو مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔۔۔
”آپ مجھے ڈرانا چاہتے تھے ناں ڈیڈا سو میں تو ڈر گیا ہوں۔۔۔اب آپ کے ڈرنے کی باری ہے۔۔بہت طاقت ہے ناں آپ میں۔۔۔؟؟تو اب کیجیے میری آہوں سے مقابلہ۔۔۔۔“ ننھے گلاب لبوں سے پھسلتے گہرے تند الفاظ فائق درید کو شدتوں سے گھبرانے پر مجبور کر گئے تھے۔
معاً آرزو بیگم نے جھولے سے اترتے ہوئے ایک نفرت بھری نگاہ اُس کے بےبس وجود پر ڈالی۔پھرکھکھلاتے حمزہ کا ہاتھ تھام کر چپ چاپ آگے کی جانب چل پڑیں۔
”ماں۔۔۔ماں رکیں۔۔۔۔خدا کے لیے ایک بار پھر سے مجھے ایسے اذیت میں چھوڑ کر نہ جائیں۔۔۔میں برداشت نہیں کر پارہا۔۔۔۔“ حیرت سے اُن دونوں کی پشت دیکھتا وہ چیخا تھا۔
”میرا بیٹا اتنا سفاک انسان نہیں ہوسکتا۔۔۔۔“ بڑے اعتماد کے ساتھ کہتے ہوئے نہ تو وہ لوگ پلٹے تھے،،،اور نہ ہی اُنھیں پلٹنا تھا۔۔۔
”مااااں۔۔۔۔۔!!!!“ بال مٹھیوں میں دبوچتے ہوئے اُس کا دل پھٹنے لگا۔
پاس آکر چلے جانا جانیلوا ہی تو تھا۔۔۔۔
”اتنا ظالم نہیں ہوسکتا۔۔۔۔“ ویرانے میں گونجتی تاسف زدہ نسوانی آواز ہنوز کاری ضربیں لگا رہی تھی۔
”میری سانسیں۔۔۔سانسیں اکھڑ رہی ہیں ماں۔۔واپس لوٹ آئیں ناں۔۔۔۔۔“ انھیں پل پل خود سے دور جاتا دیکھ وہ نڈھال سا گھٹنوں کے بل وہیں ڈھے گیا۔۔۔
”اتنا مطلب پرست نہیں ہوسکتا۔۔۔نہیں ہو تم میرے بیٹے۔۔۔۔“ معاً مدھم ہوتا لہجہ اُن کے سیاہ اندھیرے میں گم ہوتے ہی مکمل تھم چکا تھا۔۔۔۔
”ہااا۔۔اا۔۔۔ہ۔۔۔۔ماں۔۔۔۔؟؟؟“ پٹ سے سرخ انگارہ آنکھیں کھولتا ہوا وہ بھاری نیند سے۔۔جھٹکے سے اٹھ بیٹھا۔۔۔پھر پلکیں جھپکا جھپکا کر اطراف کو بےیقینی سے دیکھنے لگا۔
معاً بھیگے ہوئے کھلے بالوں کے سنگ کبرڈ سیٹ کرتی زلیخا قدرے چونک کر اُس کی جانب پلٹی۔۔۔جو اب چوڑے سینے کو بری طرح سے مسلتا ہوا بمشکل گہرے گہرے سانس بھر رہا تھا۔
اگلے ہی پل وہ قدرے متفکر سی لپک کر اُس تک آئی تھی۔
”فائق۔۔۔۔؟؟تم ٹھیک تو ہو ناں۔۔؟؟کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے۔۔۔؟؟؟“ قریب ترین بیٹھ کر اُس کا پسینے سے تپتا چہرہ تھامتی ہوئی زلیخا نے نرمی سے استفسار کیا تو۔۔۔بھیگتی سرخ نگاہوں کے سنگ شد ومد سے نفی میں سرہلاتا ہوا وہ بےساختہ اُس کی نرم کلائیاں جکڑ گیا۔
”و۔۔وہ چلی گئیں زلیخا۔۔۔ایک بار پھر سے مجھے چھوڑ کر چلی گئیں۔۔۔۔“ سادگی سے بولتا ہوا وہ بس رو دینے کو تھا۔۔۔
زلیخا نے کچھ حیرت ملی پریشانی سے اُس کی یہ جذباتی حالت دیکھی۔۔۔
وہ مضبوط مرد اتنا کمزور تو کبھی بھی نہیں رہا تھا۔
”ابھی کچھ لمحے پہلے ہی مجھ۔۔۔مجھے بتا کر گئی ہیں کہ میں اُن کا بیٹا نہیں ہوں۔۔۔بہت ظالم ہوں سفاک ہوں۔۔۔مطلب پرست ہوں۔۔۔مگر اُن کا بیٹا نہیں ہوں۔۔۔۔“ آرزو بیگم کی حددرجہ بےرخی کو گرتے آنسوؤں میں بیان کرتا ہوا وہ اندر تک ٹوٹ ہی تو رہا تھا۔۔بکھر ہی تو رہا تھا۔
جواباً زلیخا نے معاملے کی گہرائی کو سمجھتے ہوئے بےاختیار انگلیوں کی پوروں تلے اُس کے بھیگتے گال صاف کیے۔
وہ بند آنکھوں کے مناظر سے خاصا گھبرا چکا تھا۔۔۔
”ششش۔۔۔پرسکون ہو جاؤ اب۔۔۔بالکل ریلیکس۔۔ہہمم۔۔۔خواب تھا وہ۔۔۔محض ایک خواب۔۔۔۔“ وہ قدرے نرمی سے جتا رہی تھی۔۔۔ آنکھیں خود کی بھی نم ہوچکی تھیں۔
”ن۔۔نہیں۔۔۔بند آنکھوں سے دیکھی گئی حقیقت تھی وہ۔۔۔“ کھویا کھویا سا وہ بضد ہوا تھا۔۔۔
دیکھے گئے خواب کا اثر پلوں میں زائل ہونا ناممکن سا ہی تو تھا اُس کے لیے۔۔
جبکہ اُس کے نرمی سے کلائیاں چھوڑ دینے پر زلیخا نے گہرا سانس بھرا۔
”اچھا ٹھیک ہے! مان لیا کہ حقیقت تھی وہ۔۔۔مگرمیں ہوں ناں تمھارے پاس۔۔ہم مل کر ہرحقیقت کا سامنا کریں گے۔۔۔تمھاری خفا امی کو مناکر تمھارے پاس واپس لیں آئیں گے فکر مت کرو۔۔۔۔“ معاً مسکرا کر کندھے پر پڑے اپنے گرے رنگ دوپٹے کے پلو سے۔۔۔اُس کی پیشانی کا پسینہ پونچھتی ہوئی وہ مقابل کو شدت سے اپنے ہونے کا احساس ہی تو کروا گئی تھی۔۔۔
نتیجتاً اُس کے تسلی دیتے نرم الفاظ۔۔۔اُس کی میٹھی قربت کو حقیقی معنوں میں محسوس کرتے ہوئے فائق درید کا دل زوروں سے دھڑکا۔۔۔۔
ماں کے چلے جانے کے بعد سے ایسی محبت۔۔۔ایسی پرواہ تو اُس کی کسی ایک نے بھی نہیں کی تھی۔۔۔
کتنا ترسا تھا ناں وہ ایسی ہی چاہت۔۔۔ایسی ہی پرواہ کے لیے۔۔۔
جیسی اب زلیخا عالم درانی کر رہی تھی۔۔۔اور پورے حق سے کررہی تھی۔۔۔۔
”تم پاس ہو۔۔۔؟؟؟“ اُس کی نگاہوں میں جھانکتے ہوئے وہ حیرت سے مدھم بھاری لہجے میں کنفرم کررہا تھا۔
جبکہ اُس کے پہلی بار۔۔۔آپ سے تم تک کا فاصلہ طے کرنے پر وہ ہولے سے مسکرائی۔
”ہاں۔۔۔۔“ بےدھڑک اثبات میں سر ہلاتی ہوئی زلیخا حقیقی معنوں میں اُس کا پھڑپھڑاتا ہوا شدت سے پگھلنے کو تیار دل رفتہ رفتہ اپنی جانب سمیٹ رہی تھی۔
”ا۔۔اگر چھوڑ کر چلی گئیں تو۔۔۔۔؟؟؟“ اپنے کیے دھرے کا انجام سوچ کر گھبراہٹ پھر سے حواسوں پر غالب آئی تھی۔۔۔
دوری کا جانلیوا ڈر ایک بار پھر سے سرخ بھیگی آنکھوں میں پھیلنے سا لگا۔۔۔۔
”نہیں جاؤں گی۔۔۔۔“ قطعیت بھرے انداز میں ہلکی بئیرڈ کو سہلا کرکہتی ہوئی وہ مقابل کو خود سے خالص محبت کروانے پر ہی تو مجبور کر رہی تھی۔
”وعدہ کرو۔۔۔۔۔“ بےاختیار انگلیوں میں انگلیاں پھنسا کر بےخود ہوتے ہوئے فائق درید نے پورے حق سے یقین دہانی چاہی۔
ہارتے دل کے سنگ اب وہ دھیرے دھیرے پرسکون سا ہونے لگا تھا۔
”وعدہ رہا۔۔۔نہیں چھوڑ کر جاؤں گی۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔“ اُس کی بڑھتی منمانیوں پر زلیخا کی دھڑکنیں منتشر ہوتی چلی جارہی تھیں۔
فائق کتنے ہی پل خمار زدہ نم نگاہوں سے اُس کے پنکھڑی لبوں کی دلکش مسکراہٹ دیکھ کر رہ گیا۔۔۔
”تمھاری یہ دل کو بھاتی اپنائیت۔۔۔یہ دلفریب قربت۔۔۔ یہ ناقابلِ فراموش ساتھ۔۔۔۔اب حقیقتاً مجھے پرسکون کرنے لگا ہے زلیخا فائق درید۔۔۔بےبس ہونا مجھے پسند نہیں۔۔۔مگر پھر بھی۔۔۔پھربھی تمھارے معاملے میں یہ بےبسی اچھی لگنے لگی ہے اب۔۔اور میں۔۔۔یہ بےبسی تاعمر کے لیے چاہتا ہوں۔۔۔۔۔“ معاً پیشانی سے پیشانی ٹکاتا وہ فرطِ محبت سے گویا ہوا۔۔۔۔تو زلیخا اُس کے گھمبیر لب و لہجے کو شدت سے محسوس کرتی ہوئی سکون سے اپنی مسکراتی آنکھیں موند گئی۔۔۔
اس بات سے قدرے انجان کہ مقابل کا دھڑکتا دل اب اپنے ہی بچھائے جال پر شدت سے ملال زدہ ہونے لگا تھا۔۔۔۔
بلاشبہ ماں کی صورت ہونے والی یہ واحد۔۔۔بااثر کاری ضرب تھی جو اُس کی ذات کو حقیقتاً بدل دینے کی صلاحیت رکھتی تھی۔۔۔۔
جبھی تو انداز بدل چکے تھے۔۔۔
احساسات بدل چکے تھے۔۔۔
”ح۔۔۔حمزہ۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل خود کی بھی جلتی آنکھیں بند کرتے ہوئے فائق درید کے لب شدتِ تاسف سے بےآواز پھڑپھڑا کررہ گئے تھے۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”کس حد تک محبت کرتی ہو تم مجھ سے حسنہ زیدان عالم درانی۔۔۔۔؟؟؟“ بند آفس روم میں کھینچ کر اپنے قریب کرتا ہوا وہ کس قدر میٹھے لہجے میں پوچھ رہا تھا ناں۔۔۔
انداز قدرے چیلنجنگ سا تھا۔
حسنہ اُس کی خمار تلے سرخ ہورہی نگاہوں میں دیکھ کر رہ گئی۔۔۔جہاں آج اتنے دنوں بعد اُس کے لیے استحقاق بول رہا تھا۔
”محبت۔۔۔؟؟؟ہونہہ۔۔۔محض محبت تو نہیں۔۔عشق کرتی ہوں میں آپ سے زیدان عالم درانی۔۔۔بےحد۔۔۔بے دریغ۔۔۔اِس قدر کہ کچھ بھی کر جاؤں گی میں آپ کی خاطر۔۔۔کچھ بھی۔۔۔۔۔۔“ مچلتی دھڑکنوں کے سنگ دیوانگی سے بولتی حسنہ کے ہاتھ مقابل کا وجیہہ چہرہ تھامتے ہوئے پل بھر کو لرزے تھے۔
اُس کے متوقع جواب پر زیدان کے لبوں پر فتح یاب سی مسکراہٹ بکھری۔
وہ اُس کی من بھاتی قربتوں میں یونہی پگھل جایا کرتی تھی۔۔۔۔
”انٹرسٹنگ جانم۔۔۔رئیلی انٹرسٹنگ۔۔۔تو کیا اِسی عشق کی خاطرتم میرے حق میں اپنی بڑی بہن کے خلاف گواہی دے سکتی ہو۔۔۔؟؟؟“ معاً اصل مدعے پر آتے ہوئے جہاں زیدان عالم درانی کا بھاری لہجہ حددرجہ سنجیدہ ہوا تھا۔۔۔وہیں کچھ حیرت سے اُس کی جانب تکتی حسنہ وقاص نے آہستگی سے اپنا چہرہ جھکایا۔۔۔
پھر گہرا سانس لیتی ہوئی اپنی گھنیری پلکیں اٹھا گئی۔
معاً اُس کا سر اثبات میں ہلتے دیکھ۔۔ مقابل اندر تک مطمئن ہوتا ہوا اُس کی پیشانی پر اپنا سلگتا لمس چھوڑ چکا تھا۔
بلاشبہ اپنی دیوانگی میں وہ بھی اُسی کی مانند،،،اچھے برے کا فرق بھلائے حدود سے بہت آگے کو نکل چکی تھی۔۔۔