Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26

شہراستنبول پر سیاہ رات کی لامحدود چادر اِس پل پوری طرح سے پھیل چکی تھی جب وہ سست قدموں کے ساتھ ایفل ہوٹل کی راہداری میں داخل ہوا۔
کل کوکنگ کمپیٹیشن کا آخری لیول تھا،جس میں اُس سمیت محض تین شیفز ہی باقی بچے تھے۔۔۔۔
مگر سنسناتا ہوا دماغ تو اِس پل اِن سوچوں سے قدرے پرے۔۔کسی اور کے ہی نفرت آمیز جملوں میں اٹکا رہ گیا تھا۔
”کیسے مرد ہیں آپ۔۔۔؟؟اپنی بےلگام ہوچکی بیوی پر قابو تک نہیں پاسکتے۔۔۔افسوس۔۔۔صد افسوس۔۔۔۔“ معاً سماعتوں میں گھلتی ہوئی تند نسوانی آواز پر رمیض عالم درانی کی سیاہ نگاہوں کی سرخی گہری ہوئی تھی۔
”میرے شریف النفس شوہر پر چھپ چھپ کر ڈورے ڈالتی پِھررہی ہے وہ۔۔۔انفیکٹ کئی بار اُسے رنگے ہاتھوں پکڑ چکی ہوں میں۔۔۔کہنے کو تو میری بہن لگتی ہے مگر اُس کے چال چلن کسی سوتن سے کم نہیں ہیں۔۔۔اب مزید برداشت نہیں ہوتا مجھ سے۔۔۔۔“ کچھ دیر پہلے اسپیکر سے ابھرتا ہوا درشت لہجہ کتنی بےباکی سے اُس پر انکشاف کرتا چلا جارہا تھا ناں۔۔۔
پیشانی پر بل ڈال کرسوچتے ہوئے رمیض کے وجود میں بےچینیاں سی سرائیت کرنے لگیں۔۔۔
اپنے کمرے کی جانب قدم ہنوز سست روی سے اٹھ رہے تھے۔
”شاید آپ کی محبت میں ہی کوئی کشادہ کمی ہے یا پھر غیرت میں۔۔۔جبھی تو آپ سے نہ پہلی بیوی سنبھالی گئی تھی۔۔۔اور نہ ہی اب دوسری سنبھالی جا رہی ہے۔۔۔اب بھی وقت ہے رمیض بھائی۔۔۔اپنی بیوی کو فقط خود تک محدود کرلیجیے ورنہ زندگیوں میں مچنے والا فساد حقیقتاً ناقابلِ برداشت ہوگا۔۔۔۔“ شدت سے آس پاس بکھرتا ہوا حسنہ وقاص کا زہریلا طنز اُسے لبوں کے ساتھ ساتھ سختی سے مٹھیاں بھی بھینچنے پر مجبور کرچکا تھا۔
اس دوران ماتھے کے بلوں میں ہونے والا اضافہ بےساختہ تھا۔
وہ عورت حیا وقاص کی سگی بہن تھی بھی کہ نہیں۔۔۔۔!!!
اتنی نفرت۔۔۔۔؟؟؟
اتنا بغض۔۔۔۔؟؟؟
اِس قدر بہتان بازی۔۔۔؟؟؟
”او جسٹ سٹاپ اِٹ کیا جاہلیت ہے یہ۔۔۔؟؟بکواس ہے سب۔۔صرف اور صرف بکواس اِس سے ذیادہ کچھ بھی نہیں۔۔۔۔“ معاً اپنے بند روم کے سامنے آ کر زوروں سے سر جھٹکتا ہوا وہ قدرے ناگواریت سے زیرِ لب غرایا۔۔۔
ذہن کے سیاہ پردے پر بےاختیار حیا وقاص کا معصومیت بھرا حسین چہرہ لہرایا تھا۔۔۔
اِس دوران پاس سے گزرتا ہوا ترکی شخص کچھ تجسس سے اُس پر نگاہ ڈال کر آگے کو نکل گیا۔
”ہاں۔۔۔رتی بھر بھی یقین نہیں ہے مجھے حسنہ وقاص کے گھٹیا لفظوں پر کیونکہ میری حیا کبھی دوغلی فطرت کی ہو ہی نہیں سکتی۔۔۔بےانتہا محبت کرتی ہے وہ مجھ سے۔۔پھر بھلا کیوں ایسی ناقابلِ برداشت جرات کرے گی۔۔۔؟؟؟نہ۔۔۔امپاسیبل۔۔۔۔“ بڑے ضبط سے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے اُس نے اپنا اعتبار رتی بھر بھی نہیں ڈگمگانے دیا تھا۔۔۔
وہ عورت تو شاید جلن کی آڑ میں پوری پاگل ہوچکی تھی۔۔۔۔
اگلے ہی پل جینز کی جیب سے مطلوبہ کیز نکال کر رمیض نے لاک کھولا۔
پھر تھکی ہوئی گہری سانس لیتا ہوا دروازہ کھول کر روم میں داخل ہوا۔۔۔۔تو اندر پہلے سے ہی موجود کسی انجان لڑکی کے سنگ کمرے کا حلیہ یکسر بدلا ہوا دیکھ حیرت تلے ٹھٹھک گیا۔۔
ہنوز جلتی روشنیوں تلے بستر۔۔۔سائیڈ ٹیبلز۔۔۔فرش پر جگہ جگہ ترتیب سے بکھری گلاب کی خوشبودار پتیاں۔۔۔
اس پر مستزاد جلتی اسٹائلش کنڈلز۔۔۔ماحول کو رومانٹک بنانے میں پیش پیش تھے۔
معاً رمیض خراب ہوتے موڈ کے ساتھ اُس ناآشنا۔۔۔بےباک لڑکی کی جانب متوجہ ہوا،،،جو اُس کی آہٹ سن کر بھی چہرہ پھیرے۔۔۔ آخری کینڈل جلانے میں مصروف تھی۔
”کون ہو تم۔۔۔۔۔؟؟؟“ دو قدم آگے بڑھاتا۔۔رمیض مٹھیاں بھینچ کر قدرے سردمہری سے پوچھ رہا تھا۔
گھٹنوں تک آتے نیم عریاں آتشی لباس پر اُس لڑکی کے کندھوں سے ذرا نیچے کھلے اسٹریٹ بال زہر ہی تو لگے تھے اسے۔۔۔
نتیجتاً دھڑکتے دل کے ساتھ جرات کرتی ہوئی وہ مقابل کی جانب پلٹی۔۔۔
”رومی۔۔۔۔۔۔!!!“ قدرے محبت سے پھڑپھڑاتے ہوئے روزینہ کے آتشی لب براہ راست دیکھتے ہوئے رمیض عالم درانی کا دماغ بھک سے اڑا تھا۔
”ر۔۔روزینہ۔۔۔۔۔؟؟؟“ ایک عرصے بعد اُس کا خوبصورت چہرہ قدرے بےیقینی سے تکتے ہوئے اُس کے تنے اعصاب بےاختیار ڈھیلے پڑے۔۔۔تو چابیاں ہاتھ سے چھوٹ کرنیچے جاگریں۔
رمیض کے متوقع تاثرات نم آنکھوں سے دیکھتی ہوئی روزینہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی۔
”تم لاکھ بری۔۔لاکھ بےوفا سہی۔۔۔مگر سچ یہی ہے روزینہ۔۔۔میرا بڑا بھائی آج بھی تمھیں بے حد چاہتا ہے۔۔۔تمھارے عشق میں پاگل ہے وہ ۔۔۔انفیکٹ میں نے خود تنہائیوں میں کئی بار تمھاری محبتوں کا دم بھرتے ہوئے دیکھا ہے اُنھیں۔۔۔۔“ معاً سماعتوں میں گھلتی ہوئی زیدان عالم درانی کی تسلی بخش آواز نے جہاں اُس کی ہمتوں کو شدت سے بڑھاوا دیا تھا۔۔۔۔
وہیں ہنوز ساکت کھڑے رمیض نے اُسے بےتابانہ اپنی جانب لپکتے ہوئے دیکھا۔
فکس کیے گئے ہِڈن(پوشیدہ) کیمرے تلے روزینہ بےدھڑک اُس کے سینے سے آکر لگی تھی۔۔۔
ایسے میں لیپ ٹاپ کی چلتی اسکرین پر گہری نگاہیں جمائے زیدان عالم درانی کے لب کمینگی سے مسکرائے۔
بےحساب پیسے کے بل بوتے ہڈن کیمرے کا سیٹ اپ۔۔اور روزینہ کی ہوٹل کے کمرے تک غیراخلافی رسائی کروانے والا ایک وہی تو تھا۔۔۔۔
”اوہ رومی۔۔۔۔مائے لوَ۔۔۔۔آئی لوَ یو آ لوٹ۔۔۔م۔۔میں آ گئی ہوں تمھارے پاس واپس۔۔۔وعدہ کرتی ہوں۔۔۔مرجاؤں گی مگر تمھیں چھوڑ کر کبھی نہیں جاؤں گی۔۔آئی پرامس۔۔۔۔“ قدرے بےتابی سے کشادہ پشت پر ہاتھ پھیر کر بولتی ہوئی۔۔وہ اپنی تیز مہک سے مقابل کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو شدتوں سے مفلوج کررہی تھی۔
رمیض عالم درانی کی وجاہت آج بھی غضب کی تھی۔
اپنے سحر میں جکڑلینے کو ہمہ وقت تیار۔۔۔۔
اگلے ہی پل روزینہ نے اس کی مردانہ کلائیوں کو تھام کر اپنی چست کمر کے گرد باندھا۔۔۔تو اُس کے ناقابلِ برداشت لمس پر رمیض کی سانسیں گھٹنے لگیں۔
”آااہ۔۔۔وٹ دی ہیل از دِس۔۔۔؟؟؟دور ہٹو مجھ سے۔۔۔!!!“ گہرا سکتہ ٹوٹنے پر غراتے ہوئے اُس نے ایسے خود سے پرے دھکیلا تھا جیسے وہ کوئی اچھوت ہو۔۔۔۔
”رومی۔۔۔۔۔؟؟؟“ اِس اچانک افتاد پر کئی قدم دور ہوتے ہوئے۔۔گرنے سے بمشکل بچتی وہ حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔تو ضبط سے سرخ ہوچکے چہرے پر ہاتھ پھیرتا وہ پلوں میں بپھڑا۔
”کیا رومی ہاں۔۔۔۔کیاااااا رومی۔۔۔؟؟؟رمیض عالم درانی ہوں میں۔۔اور تم میرا فقط ایک داغدار ماضی ہو جسے میں مرکر بھی یاد نہیں کرنا چاہتا۔۔۔اس کے باوجود بھی ہمت کیسے ہوئی تمھاری میرے سامنے آنے کی۔۔۔؟؟مجھے یوں بےباکی سے چھونے کی۔۔۔۔؟؟؟“ اُس سے فاصلہ بنائے وہ قدرے نفرت سے دہاڑا تو پلکیں جھپکانے پر دو آنسو ٹوٹ کر روزینہ کے گالوں پر پھسلے تھے۔
دل کمزور پڑنے لگا تھا۔۔۔
”آفکورس اتنی دیر سے اپنے اندر دبی بھڑاس تو وہ تم پر نکالے گا ہی نکالے گا۔۔۔مگر یہ سب وقتی ہوگا۔۔۔آگے سے برداشت کرنا۔۔۔اور پگھلانا اب تمھارا کام ہے۔۔سو بہتر طریقے سے کرنا۔۔۔ہہہمم۔۔۔“ زیدان عالم درانی کے کہے گئے بھاری الفاظ ایک بار پھر سے اُسکی یاداشت میں گونجے تھے۔۔۔
”آ۔۔آئی ناؤ رمیض۔۔۔ماضی میں،میں نے جو تمھارے ساتھ ذیادتی کی تھی۔۔۔اس کو لے کر تم بہت ہرٹ ہو مجھ سے۔۔۔لیکن میں۔۔۔۔“ ہونے والی شدید تذلیل پر ضبط کا گہرا سانس لیتی وہ پھر سے اُس کے قریب آنے کو ہوئی۔۔۔۔جب درشتگی سے ہاتھ اٹھاتا رمیض اُسے وہیں خائف ہوکر تھمنے پر مجبور کرگیا۔
”خبردار جو دوبارہ میرے قریب آنے کی بےوقوفی کی تو۔۔بتا رہا ہوں میرا اشتعال سہہ نہیں پاؤ گی تم۔۔۔۔!!!اور ویسے بھی تم جیسی بدکردار عورت کی اتنی اوقات ہی نہیں کہ میری قربت میں سانس بھی لے سکے۔۔۔اب دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔گیٹ لاااااسٹ۔۔۔۔۔۔“ معاً تیزی سے پلٹ کر روم کا پورا دروازہ جھٹکے سے کھولتے ہوئے اُس کی سانسیں اشتعال تلے پھول چکی تھیں۔
وہ نہیں جانتا تھا کہ۔۔۔ کیسے وہ قابلِ نفرت عورت امریکہ سے یہاں ترکی چلی آئی تھی۔۔۔؟؟؟
نہ ہی اُس کے اچھے برے کو جاننے میں رتی بھر بھی دلچسپی تھی۔۔۔
لیکن اتنا ضرور جان چکا تھا کہ اب وہ مزید اُس کی یہاں موجودگی قطعی برداشت نہیں کرسکتا تھا۔
ورنہ ممکن تھا کچھ برا کربیٹھتا۔۔۔
نتیجتاً روزینہ کو اُس کی نفرت میں اپنا آپ جلتا ہوا محسوس ہونے لگا۔
مقابل کے تیور اُس کی سوچ سے بڑھ کر خطرناک ثابت ہورہے تھے۔
مگر وہ اتنی آسانی سے ہمت ہارتی تب ناں۔۔۔!!!
”نہیں جاؤں گی میں۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم میرے بغیر رہ نہیں سکتے۔۔۔مجھ سے آج بھی بےتحاشہ محبت کرتے ہو۔۔۔پھر بھی کیوں اتنے سنگدل بن رہے ہو تم رمیض عالم درانی۔۔۔۔؟؟؟مان کیوں نہیں لیتے حقیقت کو۔۔۔۔؟؟“ بھیگے گال بےدردی سے رگڑتی ہوئی وہ خود بھی اِس بار خالصتاً انگریزی میں چیخی تھی۔۔۔۔
جواب میں گہری چالوں سے قدرے انجان سرخ انگارہ آنکھیں جھپکاتا۔۔۔ وہ ناچاہتےہوئے بھی حیران ہوا۔
وہ عورت حقیقتاً بےوقوف تھی۔۔۔
حد سے ذیادہ بےوقوف۔۔۔
جو ڈنکے کی چوٹ پر اُسے دغا دینے کے بعد بھی۔۔۔
اُس کی ہونے والی اولاد کو مارنے کے باوجود بھی اِس قدر بڑی خوش فہمی میں مبتلا تھی۔۔۔۔
”ہاں یہ بہت خوبصورت حقیقت ہے۔۔۔ہاں مجھے بے تحاشہ محبت ہے۔۔۔میں جینے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔۔۔۔“ قدم قدم قریب آتا ہوا وہ بول رہا تھا۔۔۔۔
روزینہ کے آتشی لب بےاختیار مسکرانے لگے۔۔۔
”لیکن تمھارے بغیر نہیں۔۔۔بلکہ اپنی دوسری بیوی حیا وقاص کے بغیر۔۔۔۔بخدا عشق میں مبتلا ہوچکا ہوں میں اُس کے۔۔۔۔جان لی ناں اب اپنی اوقات۔۔۔۔؟؟چلو نکلو یہاں سے اور دوبارہ غلطی سے بھی کبھی اپنی شکل مت دکھانا مجھے۔۔۔۔جسٹٹٹٹ آؤٹ۔۔۔۔“ بڑے تحمل سے حقیقت کا گہرا طمانچہ اُس کے منہ پر مارتا ہوا رمیض عالم درانی جہاں اگلے ہی پل۔۔۔اُس کا شدت سے بےدم ہوتا وجود بازو سے گھسیٹ کر کمرے سے باہر نکال چکا تھا۔۔۔
وہیں بےزار ہوچکا زیدان عالم درانی بھی اسکرین ریکاڈنگ کا آپشن آف کرتے ہی لیپ ٹاپ بند کرگیا۔۔۔
ایسے میں اپنے خوبصورت۔۔۔زرد چہرے پر درشتگی سے بند ہوتے دروازے کو دھندلائی آنکھوں سے تکتی ہوئی روزینہ حقیقتاً کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں بچی تھی۔۔۔۔
سب ختم ہوا تھا۔۔۔۔۔سب کچھ۔۔۔۔!!!!
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”میرے سالے حسام نے آپ کی کمپنی کے ساتھ بڑی لگن سے یہ گرینڈ پراجیکٹ سائن کیا تھا۔۔۔مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ میرے بیٹے کے ہمراہ اُس کا بھی شدید قسم کا ایکسیڈنٹ ہوجانے کے سبب وہ آج یہاں نہیں آسکا۔۔۔
کافی سفارشات کے بعد اُس کی جگہ اب مجبوراً مجھے خود یہ معاملہ دیکھنا پڑرہا ہے۔۔۔ادروائز اِن بزنس کے کاموں سے دور ہوئے تو عرصہ ہوچکا مجھے۔۔۔۔“ وہ اِس وقت آفس بلڈنگ کے کشادہ سے میٹنگ روم میں سب اسٹاف ممبران کے ساتھ موجود تھے۔۔۔
اور اب ٹانگ پر ٹانگ جمائے کچھ مغروریت سے اپنا مدعا بیان کررہے تھے۔۔
مگر یہ بات قطعی نہیں بتا پائے تھے کہ سالے کے ساتھ ساتھ اُن کی محبوب بیوی نگینہ کی جانب سے بھی کی گئی سخت تاکید کا اثر تھا یہ۔۔۔ورنہ اپنے غیرقانونی کام کاج چھوڑ کر شاید ہی وہ یہاں آتے۔۔۔
”جی میں سمجھ سکتا ہوں درید صاحب۔۔۔مسٹر حسام کی لگن واقعی میں بڑی سچی ہے۔۔۔بڑی الگ طبیعت کے مالک ہیں وہ۔۔۔۔جبھی تو اُن کی ضد پر آپ کو بذاتِ خود یہاں پر آنا پڑا ہے۔۔۔خیراب ہمیں اِس نیو پراجیکٹ کے حوالے سے پریزنٹیشن شروع کرلینی چاہیے سب ویٹ میں ہیں۔۔۔“ جواباً تائید میں سر ہلاتے عالم صاحب نے جہاں مختصراً بات سمیٹتے ہوئے باقاعدہ میٹنگ کا آغاز کرنا چاہا تھا،،،،
وہیں اُن کے ہمراہ بیٹھی زلیخا نے آگے آئے بال کان کے پیچھے اڑستے ہوئے ضبط کا گہرا سانس بھرا۔
پہلے اُس شخص کا دھڑلے سے سگار پینا اور پھر بات چیت کرنے کا انداز اُسے بالکل بھی نہیں بھایا تھا۔
آفس بلڈنگ میں داخل ہوتے سمے بھی چند ایک تجربہ کار افراد اُنھیں بطورِ گینگسٹر پہچاننے میں کامیاب ٹھہرے تھے۔
ویسے بھی کمپنی کے اِس نیو گرینڈ پراجیکٹ کو سرے سے لیڈ کرنے والے عالم صاحب بذاتِ خود تھے۔۔۔اسی لیے آج زیدان کے ساتھ ساتھ فائق کی بھی آفس میں غیر موجودگی ان کے لیے قابلِ برداشت تھی۔
”شیور۔۔۔۔۔“ مسکرا کر کہتے ہوئے درید صاحب نے بےاختیار ساتھ لائی سیاہ رنگ یو۔ایس۔بی کوٹ کی جیب سے نکال کر فوراً اُنھیں تھمائی۔۔۔۔تو نیو ہائر ہوئے مینیجر نے فوراً سے اُسے پکڑ کر لیپ ٹاپ کے ساتھ کنیکٹ کردیا۔
پلوں میں میٹنگ روم کی تیز روشنیاں بجھتے ہی شفاف دیوار پر پروجیکٹر کی بڑی سی اسکرین بکھری تھی۔
مگر پھر پریزنٹیشن ویڈیو کی جگہ چلنے والی گھریلو تصاویر کی سلائڈ نے درید صاحب سمیت سبھی کو بری طرح سے چونکنے پر مجبور کردیا۔
”اوہ مائے بیڈ لک۔۔۔معذرت عالم صاحب۔۔۔مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ پریزنٹیشن والی یو۔ایس۔بی کی جگہ یہ۔۔۔یہ پرسنل یو۔ایس۔بی آ جائے گی۔۔۔۔اٹس ناٹ مائے فالٹ۔۔۔یہ سب تو میرے خاص ملازم کا کیا دھڑا ہے۔۔۔سالا بددماغ کہیں کا۔۔۔۔ آپ پلیز اسے بند کروادیں۔۔۔۔“ معاً ہڑبڑا کر چئیر سے اٹھتے درید صاحب جہاں شرمندگی ملے غصے میں غرا کر بول رہے تھے۔۔۔وہیں آخری تصویر پر رکتی ریل کو تکتے ہوئے،،،زلیخا عالم درانی کی نگاہیں بےساختہ ساکت ہوئیں۔
اگلے ہی پل وہ حیرت سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
مقابل دیوار پر فائق درید کی تصویر تھی۔۔۔
ہاں۔۔ہاں وہ فائق ہی تو تھا جو بڑے سکون سے اُس گینگسٹرآدمی کے کندھے پر ہاتھ جمائے کھڑا تھا۔۔۔
سٹاف کے سانگ عالم صاحب بھی خاصے چونکے تھے۔
”رکیں۔۔۔!!!!یہ آپ کے ساتھ جو لڑکا کھڑا ہے۔۔۔ی۔۔یہ کون ہے؟؟؟کیا آپ اسے جانتے ہیں۔۔۔؟؟؟“ مسکراتے ہوئے وجیہہ چہرے سے نگاہیں ہٹائے بغیر۔۔ پیشانی پر تیوری چڑھاتی وہ قدرے الجھ کر پوچھ رہی تھی۔۔۔
اس دوران دل ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔
کہیں تو کچھ غلط تھا۔۔۔۔
کچھ بہت غلط۔۔۔۔
”جانتا ہوں ناں۔۔۔بڑا بیٹا ہے یہ میرا۔۔۔فائق۔۔۔فائق درید۔۔۔۔“ حقیقت سے انجان،،،مدھم سنجیدہ لہجے میں جواب دیتے ہوئے وہ زلیخا کے سر پر دھماکہ ہی تو کر چکے تھے۔
”ب۔۔بڑا بیٹا۔۔۔۔؟؟؟مگر فائق کے ماں باپ تو مر چکے ہیں ناں۔۔۔؟؟؟وہ۔۔وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے میں اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔۔۔“ سن ہوتے دماغ کے ساتھ۔۔۔لڑکھڑاتے لہجے میں وہ اُن سے ذیادہ جیسے خود کو یقین دلا رہی تھی۔
اگر باپ کا نام ملتا بھی تھا تو کیا۔۔۔۔؟؟
اب وہ اُس کے شوہر کا باپ بن بیٹھے گا بھلا۔۔۔۔!!!
بےیقین نگاہیں تیزی سے نم ہوئی تھیں۔
جبکہ اُس کی بات پر درید صاحب کے تیور پل میں بگڑے۔۔۔۔
”تم ہوتی کون ہو مجھے مارنے والی۔۔۔؟؟؟بےشک فائق کی سگی ماں مر چکی ہے۔۔۔مگر میں۔۔۔یعنی کہ اُس کا سگا باپ۔۔درید راحت ابھی زندہ سلامت ہے۔۔۔بالکل تمھارے سامنے۔۔۔ٹھیک ٹھاک کھڑا ہے۔۔۔۔“ ہاتھ پھیلا کر تندہی سے بآواز بلند بولتے ہوئے جہاں اگلے ہی سامنے ٹیبل پر پڑا اُن کا موبائل فون زوروں سے بج اٹھا تھا۔۔۔۔
وہیں عالم صاحب نے قدرے پریشانی سے ماتھا مسلا۔۔۔
مدھم چہ مگوئیاں کرتے سارے اسٹاف سمیت جو کچھ وہ سمجھ چکے تھے۔۔۔
اُن کی بیٹی ہنوز وہ سب سمجھنا نہیں چاہ رہی تھی۔
”آپ کے میری زندگی میں شامل ہونے سے پہلے تو میں بالکل تن تنہا جی رہا تھا زلیخا۔۔۔۔اس دنیا میں میرا کوئی اپنا نہیں تھا۔۔۔نہ ماں۔۔۔نہ باپ۔۔۔انفیکٹ کوئی ایک بھی نہیں۔۔۔۔مگر اب آپ ہیں ناں تو میں مکمل سا ہوگیا ہوں۔۔۔۔۔“ معاً فائق درید کی اداسی میں گھلا شیرینی لہجہ زلیخا کی سماعتوں میں شدت سے گونجا تھا۔
”وہ۔۔مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ تو نہیں بول سکتا۔۔۔نا ممکن۔۔۔۔۔“ دھندلائی نگاہوں کے سنگ نفی میں سر ہلاتی وہ خود سے ہی بڑبڑائی تھی،،،جب اچانک درید صاحب نے تمسخر سے مسکراتے ہوئے اُسے چمکتی اسکرین کا نمبر شو کروایا۔
”سَن کالنگ۔۔۔۔۔۔!!!“ پلکیں جھپکا کر بمشکل نمبر پرکھتے ہوئے زلیخا کا دھڑکتا دل شدتوں سے ڈوبا۔
ٹوٹ کر بکھرتے ہوئے یقین کے سنگ شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں بچی تھی۔۔۔
وہ نمبر اُس کے شوہر کا ہی تھا۔۔۔
ہاں۔۔اُس کا شوہر۔۔۔
ایک نام نہاد گینگسٹر کا بیٹا۔۔۔۔!!!
آنسو لڑھکتے ہوئے ٹھوڑی تک آئے تھے۔۔۔
”کیا اب میں یہ جان سکتا ہوں کہ تم کون ہو۔۔۔؟؟؟گرلفرینڈ۔۔۔؟؟؟یا پھر۔۔۔۔۔“ موبائل فون کو کوٹ کی جیب میں رکھتے ہوئے وہ طنزاً استفسار کررہے تھے۔۔۔
جب اُن کی بےباک جرات پر زلیخا قدرے تنفر سے ان کی بات بیچ میں کاٹ گئی۔۔۔
”گرلفرینڈ نہیں بیوی ہوں میں آپ کے بیٹے کی۔۔۔۔قانونی اور شرعی بیوی۔۔۔۔۔!!!“ شہادت کی انگلی اٹھا کر شدتوں سے جتاتے ہوئے جہاں زلیخا عالم درانی کی تیز آواز بھیگتی چکی تھی۔۔۔۔
وہیں درید صاحب کی کمینی مسکراہٹ پل میں سمٹی۔
”وااااٹ۔۔۔۔۔۔“ بے یقینی تلے ساکت ہونے کی باری اب اُن کی تھی۔۔۔۔