Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

اوئے دیکھ تو۔۔۔۔اس کے فیشن چیک کر ذرا۔۔۔ڈھلتی جوانی میں بھی سکون نہیں ہے اسے۔۔۔“ وہ اس مہنگے مال سے شاپنگ کرنے کے بعد ایمرجنسی میں ایک طرف بنے واشروم ایریا کی طرف آئی تھی۔مگر پھر فری ہونے کے بعد جیسے ہی وہ واشروم سے نکل کر باہر آئی تو وہاں پہلے سے ہی موجود دو لڑکوں میں سے ایک نے چھوٹتے ہی اس پر مدھم آواز میں فقرہ کسا۔
اسی کی تقلید میں دوسرے لڑکے نے بھی ہنس کر سر سے کیپ اتارتے ہوئے سر تا پیر اسے کمینگی سے دیکھا تھا۔۔۔جو جینز کے اوپر سرخ رنگ کا کھلا کرتا پہنے ہوئے بنا دوپٹے کے ہرلحاظ سے فیشن ایبل لگ رہی تھی۔۔۔
مگر عمر اور بھرے بھرے صحت مند وجود کے لحاظ سے لڑکی تو ہرگز نہ تھی۔۔
قطار میں بنے واش بیسن کی طرف آتے ہوئے زلیخا نے بڑے ضبط سے ان دونوں کو اگنور کیا تھا۔۔۔جو کہ عمر میں تئیس چوبیس سالہ عیاش لگ رہے تھے۔
وہ نہیں جانتی تھی کہ ان لوفر لڑکوں کی لیڈیز ٹوائلٹ کے ایریا میں آنے کی کیا تُک تھی۔۔۔اور نہ ہی اس نے کوئی تفشیش کرنا گوارا سمجھا تھا۔
”ہاں یار بات تو تُو بالکل ٹھیک کررہا ہے۔۔۔مگر دیکھنے میں یہ کوئی مالدار عورت لگتی ہے مجھے۔۔۔“ ساتھ والے لڑکے نے اب کی بار واش بیسن پر رکھے مہنگے برینڈ کے شاپنگ بیگز پر ایک نگاہ ڈالتے ہوئے مزید ٹکڑا لگایا۔۔
زلیخا نے سپاٹ چہرے کے ساتھ ہاتھ دھوتے ہوئے خود پر قابو پانے کے لیے گہرا سانس بھرا تھا۔
”ویسے عورت بولنے پر لڑکیاں کاٹ کھانے کو دوڑتی ہیں۔۔۔۔یہ بھی ہمیں کاٹ کھانے کو دوڑتی اگر جو واقعی میں لڑکی ہوتی تو۔۔۔“ اسے کھلے بالوں سے بلیک گلاسز اتار کر ہینڈ بیگ میں ڈالتے دیکھ وہ ایک دوسرے کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہنسے تھے۔
ان کی مسلسل چھیڑ خانیوں پر اب زلیخا کا پارہ ہائی ہونے لگا تھا۔
”ہاہاہا۔۔۔بالکل صحیح کہا یار۔۔۔یہ تو ہے ہی پوری کی پوری عورت۔۔۔پکی عمر کی پکی عورت۔۔۔۔“ دوسرا بھی مزید شوخا ہوا تھا جب ہینڈ بیگ سمیت اپنے شاپنگ بیگز سنبھالتی زلیخا غصے سے ان کی جانب پلٹی۔
”یہ کیا واہیات حرکتیں کررہے ہو تم لوگ۔۔۔ہہمم۔۔؟؟شرم نہیں آتی یوں کسی کو بھی چھیڑتے ہوئے۔۔۔؟؟؟یا پھر گھر میں ماں بہن نہیں ہے؟؟جو ساری حیا ہی بیچ کھائی ہے تم لوفروں نے۔۔۔“ قدرے سخت لہجے میں ان پر برستی زلیخا دونوں کی مسکراہٹ چھین چکی تھی۔
”ارے آنٹی کو برا لگ گیا یار۔۔۔۔“ وہ لڑکا ڈھٹائی سے کہتا ذرا سا ہنسا تھا۔۔۔جب دوسرا لڑکاکیپ واپس سر پر چڑھاتے ہوئے زلیخا کے قریب آیا۔
”گھر میں ماں بہن تو ہے الحمداللہ۔۔۔مگر گھر سے باہر کوئی گرلفرینڈ نہیں ہے۔۔۔۔تم ہمارے لیے آسانی کردو ناں۔۔۔۔“ بےشرمی سے مسکرا کر کہتا وہ زلیخا کے بازو کو انگلیوں سے چھوتے ہوئے اس کا دماغ ہی تو گھوما چکا تھا۔
”یُو باسٹرڈ۔۔۔۔ہاؤ ڈئیر یو ٹو ٹچ می۔۔۔۔“ بھڑک کر پوچھتے ہوئے بےاختیار زلیخا کا ہاتھ اٹھا اور ”چٹااااخ“ کی آواز کے ساتھ مقابل کھڑے لڑکے کا گال سرخ کرگیا۔
یہ دیکھ کر اس کا دوست بھی چونک کر خطرناک حد تک سریس ہوا تھا۔
”ڈونٹ ٹچ می اگین۔۔۔۔ورنہ حشر نشر بگاڑ کے رکھ دوں گی میں تم لوگوں کا۔۔۔گیٹ اٹ۔۔۔۔“ شہادت کی انگلی اٹھا کر انھیں سرخ چہرے کے ساتھ وارن کرتی ہوئی وہ تندہی سے وہاں سے جانے کو تھی۔۔۔جب کیپ والا لڑکا غصے سے اس کا رستہ روکتا رکاوٹ بنا۔
”اچھا۔۔۔حشر نشر بگاڑے گی تُو ہمارا۔۔۔۔؟؟لے بگاڑ۔۔۔ارے گھور کیا رہی ہے بگاڑ ناں۔۔۔۔“ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے،بگڑ کر بولتا ہوا وہ ایک ہی جھٹکے میں زلیخا کے ہاتھ سے شاپنگ بیگز چھین کر فرش پر بکھیر چکا تھا۔
نتیجتاً حمزہ کی برینڈڈ پینٹ شرٹ کا پیکٹ ایک بیگ سے پھسل کر باہر کو نکل آیا۔
ایسے میں دوسرے لڑکے نے بھی قریب آتے ہوئے غصے میں گھری زلیخا کو گھیرا تھا۔۔۔
ان کی قسمت اچھی ہی تو تھی جو ابھی تک کوئی بھی اس ایریے کی طرف نہیں آیا تھا۔
”تم دو ٹکے کے لوگ مجھے جانتے نہیں ہو ابھی کہ میں تم دونوں کے حق میں کس قدر برا کرسکتی ہوں۔۔۔اسی لیے بہتر یہی ہے کہ اپنی اوقات میں رہو۔۔۔“ محتاط ہوکر سخت تنبیہی لہجے میں کہتی ہوئی وہ کسی حد تک گھبرا چکی تھی۔
”ہمارا اب اوقات میں رہنا ہی تو مشکل بن چکا ہے میڈم۔۔۔بہت شوق ہے ناں تجھے ہاتھ اٹھانے کا۔۔۔اب دیکھ ہمارے ہاتھ کہاں کہاں اٹھتے ہیں۔۔۔۔۔“ زلیخا کے کندھے سے اس کا ہینڈ بیگ دبوچ کر اتارتا جہاں وہ زہریلے لہجے میں بولا تھا۔۔وہیں اپنے دوست کے اشارے پر دوسرے لڑکے نے گھٹیا پن پر اترتے ہوئے زلیخا کو کمر سے پکڑکر پوری قوت سے اپنی بانہوں میں دبوچا تھا۔
”تم گھٹیا لوگ۔۔۔چ۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔۔میں نے کہا چھوڑوووو۔۔۔۔“ ان کھلی شرمناکیوں پر زلیخا بوکھلاتی ہوئی بری طرح چیخ اٹھی۔۔۔تو مقابل کھڑا لوفر لڑکا اسے تلملا کر مزاحمت کرتا دیکھ کمینگی سے ہنس دیا۔
اس سے پہلے کہ بدلہ لینے کو وہ بھی سرعام بےباکیوں پر اترتا ہوا زلیخا کے منہ کو دبوچ کر قریب ترین ہوتا کوئی جسارت کرتا۔۔۔اچانک کسی نے پیچھے سے آتے ہوئے اسے بروقت گردن سے دبوچ کر پوری قوت سے پیچھے دھکیلا تھا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
شادی کی تیاریاں کافی حد تک پوری ہوچکی تھیں۔ایسے میں گنتی کے چند خاص۔۔قریبی رشتہ داروں کی آمد بھی ہوچکی تھی۔
حفصہ بیگم حیا کے لیے تینوں دن کی مہنگے پارلر میں بکنگ کنفرم کروا کے زلیخا کے کمرے میں چلی آئی تھیں۔۔۔
وہ کافی دیر سے ایمرجنسی شاپنگ پرگئی ابھی تک واپس نہیں لوٹی تھی۔
کمرے میں موجود حمزہ ہنوز اسکول یونیفارم میں ملبوس،صوفے پر بیٹھا ایل۔ای۔ڈی اسکرین پر چلتی مووی پُرشوق نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔
”حمزہ۔۔۔۔!!!“ حفصہ بیگم کی نظریں حمزہ سے ہوتے ہوئے بےساختہ بڑی سی اسکرین پر پڑیں تو وہ بری طرح چونک گئیں۔
دو عدد جانے مانے اداکار آپس میں گھمبیر معاملے پر بات چیت کرتے ہوئے شراب نوشی کے سنگ سگریٹ نوشی بھی کررہے تھے۔
ایسے میں آس پاس بولڈ لڑکیوں کی موجودگی صاف شرمناکی ہی تو تھی۔
وہ بھلا کارٹونز چھوڑ کرفلمیں۔۔۔بالخصوص ایسی بےباک فلمیں کب سے دیکھنے لگا تھا؟
”حمزہ۔۔۔؟؟؟بچے یہ تم کیا دیکھ رہے ہو اتنے غور سے۔۔۔۔؟؟“ حیرت سے پوچھتے ہوئے ان کو غصہ سا آیا تھا۔
اگر زلیخا یہ سب دیکھ لیتی تو یقیناً اس کی اچھی بھلی کلاس لیتی کہ ان کا نواسہ یاد رکھتا۔۔۔
”نانو جان۔۔۔میں ان دو آدمیوں کو غور سے دیکھ رہا ہوں جو سگریٹ پی رہے ہیں۔۔۔“ وہ بنا چونکے ہنوز اسکرین پر اپنی گہری نظریں جمائے بتارہا تھا۔
حفصہ بیگم نے مزید حیران ہوتے ہوئے بےاختیار اسکرین پر نگاہ ڈالی۔
معاً اُن مردوں کی گود میں سمٹ کر بیٹھتی ہوئی وہ بولڈ لڑکیاں اب بےباکیوں پر اترنے کو تھیں۔
”مگرتمھیں کیا ضرورت ہے ایسی فالتو چیزیں دیکھنے کی۔۔۔ بدلو یہ چینل اور اچھے بچوں کی طرح اچھے اچھے کارٹونز دیکھا کرو بس۔۔۔؟؟“ حفصہ بیگم نے ضبط سے ڈپٹتے ہوئے ریموٹ پکڑ کر جلدی سے چینل بدلا تو حمزہ نے بدمزہ ہوتے ہوئے اپنی نانو کی جانب دیکھا۔
”بٹ یہ فالتو نہیں ہے نانو جان۔۔۔میں نے خود دیکھا تھا اُس رات ماموں رمیض بھی سیم ایسے ہی سموکنگ کررہے تھے۔۔۔بالکل ایسے ہی لمبا لمبا دھواں اڑا رہے تھے وہ بھی۔۔۔۔“ وہیں صوفے پر لیٹتے لیٹتے اس نے چڑ کر انکشاف کیا۔
اس کی بات سن کر حفصہ بیگم پل بھر کو ساکت ہوئیں۔
اب وہ حمزہ کو کیا تفصیل بتاتیں۔۔۔کہ کیسے ان کے بیٹے نے ٹینشنوں کی زد میں آتے ہوئے نہایت بری شے کو منہ لگا لیا تھا۔۔۔
”تم نے جو بھی دیکھا ہے اسے بھول جاؤ بیٹا۔۔۔یہ بالکل بھی اچھی چیز نہیں ہوتی۔۔اٹس ٹو مچ ڈینجرس۔۔۔اور اگرتمھاری مومی کو اس بات کی ذرا سی بھی بھنک پڑ گئی ناں تو اس سے بہت مار پڑے گی تمھیں یاد رکھنا۔۔۔۔“ اس کے پاس بیٹھ کر مضبوط لہجے میں تنبیہہ کرتے ہوئے وہ اندر ہی اندر رمیض کے لیے افسردہ ہوئی تھیں۔
جواباً حمزہ نے بلاوجہ میں اپنی ریڈ ٹائی کھینچتے ہوئے منہ بسورا۔
کم کم مواقع ہی ایسے آتے تھے جب اسے اپنی نانو سے ڈانٹ پڑتی تھی۔
”چلو شاباش اب جلدی سے اٹھو۔۔۔اور اپنا یونیفارم چینج کرکے فریش ہوجاؤ۔۔۔تب تک میں صابرہ سے بول کر تمھارے لیے کھانا لگواتی ہوں۔۔۔۔“ وہ جانتی تھیں کہ حمزہ ابھی تک بھوکا تھا،
جبھی زبردستی اسے اٹھاکر فریش ہونے کے لیے بھیجتی خود بھی ”صبابرہ“ کو پکارتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئیں۔۔۔
اس بات سے قدرے انجان کہ ان کی سخت تنبیہہ کے برعکس حمزہ کے ننھے سے ذہن میں کچھ اور خیال ہی چل پڑے تھے۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”بہت بہت مبارک ہو مسٹرشیف رمیض عالم درانی۔۔۔ اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے تم نے یہ ریسٹونٹ خرید کر بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔۔“ وہ دونوں باپ بیٹا ”فوڈ لینڈ ریسٹورنٹ“ کے سامنے کھڑے تھے،جب عالم صاحب نے بڑے فخر سے اس کا چوڑا کندھا تھپتھپاتے ہوئے مبارکباد پیش کی۔
”شکریہ بابا جان۔۔۔۔مجھے اپنی زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے بھی آپ ہی کا سہارا درکار تھا۔۔۔جو آپ نے ہمیشہ سے دیا ہے۔۔۔۔۔“ جواباً دل سے مسکراتا وہ صاف گوئی سے بولا۔۔۔تو اپنے سپوت کی یہ سادگی دیکھ کر عالم صاحب کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
”اپنی اولاد کو سہارا دینا ایک باپ کا حتمی فرض ہوتا ہے بیٹا۔۔۔شکریہ بول کر اسے احسان میں تبدیل مت کرو۔۔۔۔“ انھوں نے مدھم لہجے میں بڑی گہری بات کی تھی۔
رمیض عالم درانی اس بار لاجواب ہوتا نرمی سے اثبات میں سر ہلاگیا۔
راتوں رات اِس ”فوڈ لینڈ ریسٹورنٹ“ کا سودا ہوا تھا۔۔۔
اور پھر سب سٹاف کے سامنے نئے آنر کا تعارف اور کئی لازم تبدیلیاں بھی۔۔۔۔
ہاں البتہ سابقہ آنر سے چلتا چلاتا ریسٹورنٹ خریدتے ہوئے رمیض کو کافی بھاری رقم چکانا پڑی تھی۔۔۔
”تمھارے امریکہ سے واپس لوٹنے کے بعد مجھے لگا تھا کہ اب تم بھی زیدان کی طرح بزنس ہی سنبھالو گے مگر ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔“ عالم صاحب مزید گویا ہوئے تو رمیض نے سر ترچھا کرکے ان کی جانب دیکھا۔
”شاید میں سنبھال بھی نہ پاتا بابا۔۔۔۔میرے نزدیک انسان کو وہی کام کرنا چاہیے جس پر اسے کمال کی مہارت حاصل ہو۔۔۔۔اور میرے ہنر کی تکمیل آپ کی نظروں کے سامنے ہے۔۔۔۔“ کہتے ہوئے اس نے بےاختیار اپنے ریسٹورنٹ کو دیکھا تھا جہاں کئی لوگ اشتیاق سے آ جا رہے تھے۔
امریکہ میں تو وہ ایک بہترین شیف تھا ہی،اب پاکستان میں بھی اپنا یہ من پسند مشغلہ بحال رکھنا چاہتا تھا۔۔۔جس میں یقیناً نفع ملنا تو طے تھا۔
”ایگریڈ بیٹا۔۔۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ شادی کے بعد تمھاری بیوی موج میں رہے گی۔۔۔“ عالم صاحب نے لطف لیتے ہوئے مزاح کیا تو لفظ ”بیوی“ پر رمیض کے لبوں کی مدھم مسکراہٹ پل میں غائب ہوئی۔
محض ایک پل میں کیا کچھ یاد نہیں آیا تھا۔۔۔
ماضی کے بدترین اوراق۔۔۔
”مجھے اب کبھی بھی شادی نہیں کرنی بابا۔۔اور میرا یہ فیصلہ اٹل ہے۔۔۔۔عورت ذات پر سے میرا اعتبار مکمل اٹھ چکا ہے۔۔۔“ قطیعت بھرے لہجے میں یہ بات کرتا وہ عالم صاحب کو بھی سنجیدہ ہونے پر مجبور کرچکا تھا۔
”مگر میں تمھاری اس بات سے متفق نہیں ہوں بیٹا۔۔۔ جو ہونا تھا سو ہو چکا۔۔۔اسے اپنی زندگی کا ایک تلخ باب سمجھ کر بھول جاؤ۔۔۔اور بس اتنا یاد رکھو کہ ہر عورت ایک سی نہیں ہوتی۔۔۔کچھ اگر وفا کے معاملے میں جان لینا جانتی ہیں تو کچھ وفا کے معاملے میں جان دینا بھی جانتی ہیں۔۔۔اور مجھے یقین ہے کہ بہت جلد تمھاری زندگی میں بھی ایک ایسی ہی نیک بخت عورت آئے گی جو اپنی وفا سے تمھیں تمھارا ہر غم بھلانے پر مجبور کردے گی۔۔۔۔“ ٹھہرٹھہر کرسمجھاتے ہوئے عالم صاحب اس کی بدظنی کو کم کرنے میں بڑے ناکام ٹھہرے تھے۔
”اور مجھے بھی یقین ہے بابا۔۔۔۔ایسا کبھی نہیں ہوگا۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔“ جواباً رمیض عالم درانی چپ چاپ انھیں دیکھتا ہوا براہِ راست منہ پر تو نہیں۔۔۔ہاں البتہ دل میں ضرور بڑبڑایا تھا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ دونوں لوفر لڑکے اس سے کافی سارا پٹ جانے کے بعد اب ڈر کر وہاں سے بھاگ گئے تھے۔۔۔لیکن افسوس کہ جاتے جاتے اس کا چھوٹا سا شاپنگ بیگ بھی ساتھ لے اڑے تھے جس میں اس کی پیکڈ رسٹ واچ تھی۔
”آپ۔۔۔آپ ٹھیک ہیں مس۔۔۔؟؟؟“ نتھنے سے نکلتے خون کو اپنے وائٹ کف سے رگڑ کر صاف کرتے ہوئے وہ اس کی طرف پلٹا تھا۔
زلیخا نے گہرے سانس لیتے ہوئے اس کی جانب دیکھا۔پھردھیرے سر کو اثبات میں ہلاتے ہوئے پیشانی پر آیا پسینہ صاف کیا۔
جواباً فائق درید تصدیق ہونے پر ہولے سے مسکرا دیا۔پھر پاس آتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا کریم کلر کا ہینڈ بیگ اسے تھما دیا۔
”میری ہلیپ کرنے کے لیے تھینکس۔۔مگر وہ لوگ تمھارا شاپنگ بیگ۔۔۔۔“ ہنوز بکھرے سامان کی پرواہ کیے بنا وہ بتا رہی تھی جب فائق بیچ میں بول پڑا۔
”بس ایک معمولی سی رسٹ واچ تھی اس میں۔۔۔فکر نہیں کریں اٹس اوکے۔۔۔“ نرمی سے بولتا ہوا وہ آگے بڑھتا اس کے نیچے بکھرے شاپنگ بیگز خود سے سمیٹنے لگا تھا۔
اس دوران ناک سے خون بہنا بالکل بند ہوچکا تھا۔
زلیخا نے عام سی پینٹ شرٹ میں ملبوس اُس لڑکے کی سفید پشت کو بغور دیکھا۔۔۔جو بظاہر تو انہی لوفر لڑکوں کی عمر کا دِکھ رہا تھا۔۔مگر ان جیسا بالکل بھی نہیں تھا۔
”تو میں تمھیں اس کی پے منٹ کر دیتی ہوں ناں۔۔تم اپنے لیے نئی خرید لینا۔۔۔۔“ فائق سارے بیگز ہاتھ میں تھامے اس کے مقابل آیا تو زلیخا نے بھی جھٹ پٹ سے اسے اپنی تجویز پیش کی۔
لہجہ اس پل کسی بھی قسم کے جذبات سے عاری بالکل سادہ سا تھا۔
”مانا کہ میں مڈل کلاس سا بندہ ہوں مس۔۔۔مگر بے ایمان ہرگز نہیں ہوں۔۔۔۔میری رسٹ واچ وہ چور لے کر بھاگے ہیں آپ نہیں۔۔۔ورنہ تو اپنی پے منٹ ضرور نکلوالیتا میں۔۔۔“ مسکراتے لہجے میں بولتا ہوا وہ سارے بیگز اس کے ہاتھ میں پکڑا چکا تھا۔
”اگر تم میری ہیلپ نہ کرتے تو تمھارے ساتھ یہ سب نہیں ہوتا۔۔۔۔“ اس کے سرخ ہوچکے ناک کو نظر بھر دیکھتی زلیخا دوبدو جواب دینا چاہتی تھی مگر یہ کہہ نہیں پائی تھی۔
آخر کو اس کا مدد کرنا بھی تو ضروری تھا۔۔۔۔
”تم کوئی جاب کرتے ہو۔۔۔۔؟؟؟“ زلیخا کے سوال کرنے پر وہ خاصا چونکا۔
”کوئی سفارشی جاب تو لگنے سے رہی۔۔۔اس لیے ابھی تک ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔مگر یہ سب آپ کیوں پوچھ رہی ہیں۔۔۔؟؟“ دھیمے لہجے میں بتاتا فائق آخر میں الجھا تھا۔
زلیخا کا دماغ تیزی سے کام کرنے لگا۔
معاً اس نے مطمئن ہوتے شاپنگ بیگز نیچے رکھے۔پھر ہینڈ بیگ کی زپ کھول کر اپنا آفیشیل کارڈ نکالتے ہوئے اسے پکڑادیا۔
”تم۔۔۔یہ کارڈ پکڑو۔۔۔اور اس مَنڈے کو میرے آفس آجانا۔۔۔۔آئی ہوپ تمھیں ایک بہت اچھی جاب مل جائے گی۔۔۔“
”آفس۔۔۔۔؟؟؟“ جلتے نتھنے کے ساتھ آفیشل کارڈ پر نگاہ ڈالتا وہ خاصا حیران ہوا تھا۔
”میں ایک بزنس وومن ہوں۔۔۔زلیخا عالم درانی۔۔۔درانی ایمپائرز کمپنی کی مالکن۔۔۔۔۔“ کندھے پر ہینڈ بیگ چڑھاتے ہوئے اس نے اپنا تعارف کروا کر مقابل کو مزید حیرت زدہ کیا تھا۔
”مگر۔۔۔۔“ فائق کو فوری طور سمجھ نہ آیا کہ جواب میں کیا بولے۔
”اگر تم بے ایمان نہیں ہو تو بے ایمان میں بھی نہیں ہو مسٹر۔۔۔۔ہیلپ کے بدلے ہیلپ کرنا اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔“ اپنی چیزیں سنبھالتی زلیخا مضبوط لہجے میں حساب بےباک کرتی ہوئی مزید وہاں رکی نہیں تھی بلکہ اسے مسکرانے پر مجبور کرتی وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
پیچھے فائق درید نے کارڈ کو دیکھتے ہوئے اپنے دکھتے نتھنے کو ہولے سے مسلا۔۔۔
فائنلی اسے ایک اچھی جاب ملنے جا رہی تھی۔۔۔۔