Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

وہ دھاڑ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے ہی،،، پنکھری لبوں پر سے اپنا نارنجی رنگ دوپٹہ ہٹاگئی تھی۔۔۔جب قدرے ٹھٹھک کر لیپ ٹاپ سے نگاہیں ہٹاتے زیدان عالم درانی نے۔۔۔ آنے والے نفوس کی جانب دیکھا۔۔۔
اپنے پیچھے دروازہ بند کرتے ہی وہ۔۔۔تندہی سے چلتی ہوئی اُس کے سامنے آرکی تھی۔۔
جواباً وہ بھی قدرے خوشگوار حیرت سے اپنی سیٹ چھوڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
کھلے نارنجی رنگ سوٹ کے سنگ،،، ہم رنگ شفون کا دوپٹہ سر پر جمائے ہوئے حیا وقاص بلاشبہ اُسے پہلے سے کہیں ذیادہ خوبصورت لگی تھی۔۔
”ح۔۔حیا تم۔۔۔تم یہاں۔۔۔۔؟؟؟واٹ آ پلیزنٹ سرپرائز یار۔۔۔۔تم۔۔تم کھڑی کیوں ہو آؤ ناں بیٹھو یہاں۔۔۔۔۔۔۔“ حیا کا ضبط سے اناری چہرہ دیکھ کر خوشدلی سےکہتا ہوا وہ گھوم کرٹیبل کی اُس سائیڈ رکھے دو منی سائز صوفوں کی جانب آیا تھا۔۔۔
مگر وہ اپنے اندر ابلتے لاوے کو نازک مٹھیاں بھینچ کر شدت سے محسوس کرتی ہوئی ہنوز ساکت کھڑی تھی۔۔۔
چھپ چھپا کر یہاں تک آنے پر بلاشبہ اُسے بڑی مشکل ہوئی تھی۔۔
”کیا ہوا حیا۔۔۔۔؟؟؟کم آن بیٹھ کر بات چیت کرتے ہیں ناں۔۔۔تم ایسے کیوں۔۔بےہیو۔۔۔۔!!!!“ الجھے لہجے میں بڑی ہی نرمی سے پوچھتا ہوا اب کہ زیدان خود اُسے بازو سے تھام کر صوفے پر بیٹھانے کو تھا۔۔۔۔جب اُس کی نرم گرفت جھٹکتے ہوئے بےاختیار حیا کا ہاتھ پوری شدت سے اٹھا،،،اور مقابل کے رخسار کو پل میں سرخ کر گیا۔۔۔۔۔
”چٹااااااخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ زوروں سے پڑنے والا وہ نازک تھپڑ نہیں۔۔۔بلکہ تیزاب تھا جو زیدان عالم درانی کے گال کو اندر تک جلا کر رکھ گیا تھا۔۔۔۔
”وہاٹ دی ہیل از دِس۔۔۔۔؟؟؟“ اپنے تپے رخسار کو دو انگلیوں سے چھوتے ہوئے جہاں اُس کے لب بےیقینی سے پھڑپھڑائے تھے،،،وہیں اِس بند آفس روم میں ضبط سے گہرا سانس لیتے ہوئے حیا کی نفرت و حقارت کا گراف مزید بڑھا۔۔۔۔
زیدان کی نگاہوں میں تیزی سے سُرخی پھیلنے لگی۔
”تم نے مجھے تھپڑ مارا۔۔۔۔؟؟؟زیدان عالم درانی کو۔۔۔۔۔!!!ہاؤ ڈئیر یو ٹو سلیپ می یُو سِلی گرل۔۔۔۔۔؟؟؟؟“ اگلے ہی پل حیا کو بازوؤں سے دبوچ کر اپنے قریب کرتا ہوا وہ اُسکے چہرے پر چیخ کر پوچھ رہا تھا۔۔۔
آج تک کسی ایک نے بھی اُس پر یوں ہاتھ اٹھانے کی جرات نہیں کی تھی۔۔۔۔مگر اُس کے چنگل میں پھنسی وہ دبو سی لڑکی یہ کیا حماقت کرگئی تھی اُس کے ساتھ۔۔۔؟؟؟
”دور رہو مجھ سے گھٹیا انسان،،،،تم صرف میرے اِس ایک تھپڑ کے ہی نہیں۔۔۔بلکہ چلو بھر پانی میں شرم سے ڈوب مرنے کے بھی حق دار ہو زیدان عالم درانی۔۔۔چھوڑو مجھےےےے۔۔۔“ زیدان کی پل پل سخت ہوتی گرفت میں کچھ سہم کر پھڑپھڑاتی ہوئی۔۔۔وہ زہر اگلنے سے اب بھی باز نہیں آئی تھی۔۔۔
زیدان کا دماغ مزید خراب ہونے لگا۔
”یہ کیا بکواس کرتی چلی جا رہی ہو تم ہہہمم۔۔۔؟؟ہوش میں تو ہو۔۔۔۔۔؟؟؟“ اُس کی تیزی سے بھیگتی۔۔۔بھوری آنکھوں میں غصے سے دیکھ کر جھٹکا دیتا ہوا وہ اب بھی ساری بات کو فوری طور پرسمجھ نہیں پارہا تھا۔۔۔
بھلا اِس قدر نفرتیں اُس کے نازک لرزتے وجود میں کب سے گھل گئی تھیں؟؟جو آج وہ بےدھڑک تھپڑ تک مارنے پر اتر آئی تھی۔۔۔۔
”چھوڑو مجھے بےہودہ انسان۔۔۔دور رہ کر بات کرو مجھ سے۔۔ورنہ جان لے لوں گی میں تمھاری۔۔۔۔۔۔“ غرا کر بولتی ہوئی حیا نے جہاں پوری قوت لگاتے ہوئے اُسے خود سے کئی قدم دور دھکیلا تھا۔۔۔وہیں ضبط سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے زیدان کی پیشانی پر بل مزید گہرے ہوتے چلے گئے۔۔
”خود پر شرافت کا جھوٹا لبادہ اوڑھ کر اب ذیادہ ڈرامے بازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں میرے سامنے۔۔۔تمھاری بدترین حقیقت جان کر ہوش میں تو میں اب آئی ہوں۔۔۔۔ہماری شادی والے دن مجھے کڈنیپ کروا کر۔۔۔میری پیشانی پر بدکرداری کا داغ سجا کر کیسے تم سب کے سامنے اپنی بیوی کے ہمراہ نیک اور پارسا بن گئے ناں زیدان عالم درانی۔۔۔۔!!!اپنی سوکالڈ محبت پانے کی خاطر میری ہنستی بستی زندگی کو کیسے اجاڑ کر رکھ دیا ناں تم نے۔۔۔۔!!!یہاں تک کہ اپنے سگے بھائی کو بھی نہیں بخشا۔۔۔آخر کس قسم کے انسان ہو تم جسے اپنے مفادات کے آگے کچھ بھی اچھا برا سُجھائی نہیں دیتا۔۔۔۔؟؟؟“ گہرے سانسوں میں ایک ایک کرکے اُس کے سارے پول کھولتی ہوئی حیا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اُس کا وجیہہ چہرہ نوچ ڈالے۔۔۔
جبکہ اُسکے نازک لبوں سے تندہی کے ساتھ پھسلتی خود کی سیاہ حقیقت جان کر وہ حیرت تلے دبتا ہوا شدت سے چونکا۔۔۔۔
پھر قدرے بےتابی سے سیاہ رنگ ٹائی کوکھینچ کر ٹھیک کرتے ہوئے ہولے سے مسکرا دیا۔۔۔
معاً مقابل کی گہری ہوتی مسکراہٹ کو اگلے ہی پل کمینی ہنسی میں بدلتے دیکھ حیا کچھ حیران ہوتی مزید سلگ اٹھی تھی۔۔۔۔
کس قدر گھٹیا شخص تھا ناں وہ۔۔۔۔جو اتنا برا کرکے بھی شرمندہ ہونے کی بجائے یوں ڈھٹائی سے ہنس رہا تھا۔۔۔۔۔
”ہہمم۔۔ہہمم۔۔ہہمم۔۔۔!!!اِٹس مینز کہ تمھارے باپ نے تم پر میرا وہ راز فاش کردیا ہے جسے میں تقریباً سبھی سے چھپائے ہوئے ہوں۔۔۔۔انٹرسٹنگ۔۔۔رئیلی انٹرسٹنگ۔۔۔۔“ اطمینان سے سر کو جنبش دیتے ہوئے۔۔۔ٹھوڑی مسل کرکہتا وہ اگلے ہی پل خطرناک حد تک سنجیدہ ہوا تھا۔
حیا نے ٹوٹ کر سرخ گالوں پر پھسلتے آنسوؤں کو بےدردی سے رگڑ کر صاف کیا۔۔۔
”مگر اس کے باوجود بھی میں پوری امید کرتا ہوں کہ اب میرے پیارے چچا جان اِس سے آگے یہ غلطی دوبارہ نہیں دُہرائیں گے اور نہ ہی تم خود۔۔۔ورنہ اِس کا انجام تم تینوں باپ بیٹیوں کے حق میں کس قدر برا ہوسکتا ہے،،،سوچ کر ہی روح کانپ جائے گی۔۔۔
جیسا کہ بانجھ بہن کی بدنامی بھری طلاق۔۔۔باپ کی روڈ ایکسیڈنٹ میں ہونے والی دردناک حادثاتی موت۔۔۔اور تمھاری۔۔۔؟؟؟تمھاری عزت بھی تو اجڑ سکتی ہے ناں سوئیٹ ہارٹ۔۔۔کچھ بھی ممکن ہوسکتا ہے۔۔۔اس لیے میرے معاملے میں خاموشی اختیار کرو۔۔صرف خاموشی۔۔۔۔“ مٹھیاں بھینچ کر پھر سے قریب آتا ہوا زیدان اُس نازک سی جذبات تلے لرزتی ہوئی لڑکی کو صاف صاف ڈرا رہا تھا۔۔۔دھمکا رہا تھا۔۔۔۔
نتیجتاً حیا کی بھیگی سرخ آنکھوں میں شدید قسم کا تاسف ابھرا۔۔۔جو رفتہ رفتہ اُسے اپنے بااثر لفظوں کی زنجیروں میں شدت سے قید ہونے پر مجبور کررہا تھا۔۔۔
”بے تحاشہ نفرت ہورہی ہے مجھے تم جیسے ذلیل انسان سے جو اتنی گری ہوئی سوچ کا مالک ہے۔۔۔۔اور بےحد افسوس ہورہا ہے مجھے خود پر کہ میں ساری زندگی اُس شخص کی محبت کا دم بھرتی رہی جو کبھی میرے لائق تھا ہی نہیں۔۔۔۔۔“ نفرت سے چنگھاڑ کر کہتی ہوئی وہ زیدان عالم درانی کی انا پر ٹھیک ٹھاک چوٹ ہی تو کرگئی تھی۔
اگلے ہی پل اس نے حیا کے بازوؤں کو درد دیتی گرفت میں دبوچا۔۔۔
”اور اگر میں تمھاری اِس نئی نئی نفرت کو واپس سے اُسی پرانی۔۔۔ جوش مارتی محبت میں بدل دوں تو۔۔۔۔۔؟؟؟؟“ اُس کی پھٹی پھٹی وحشت بھری آنکھوں میں دیکھتا ہوا وہ بڑے چیلنجنگ انداز میں پوچھ رہا تھا۔
حیا کے حلق میں بےاختیار آنسوؤں کا پھندا اٹکا۔۔۔
دھڑکنیں مزید لرزی تھیں۔
”م۔۔میں مرجاؤں گی مگر۔۔۔اب کسی نامحرم سے محبت کرنے کا گناہ اپنے سر ہرگز نہیں لوں گی۔۔جان لو کہ میرے وجود پر۔۔۔میری روح پر۔۔۔اور میری محبتوں پر فقط میرے شوہر کا حق ہے۔۔فقط رمیض عالم درانی کا حق۔۔۔یاد رکھنا میری یہ بات۔۔۔۔۔“ بڑے اعتماد سے ٹھہر ٹھہر کر بولتی ہوئی وہ زیدان کی نگاہوں میں بھرےتمسخر کو پل میں بجھا چکی تھی۔۔۔
اُس کا ابھرتا سکون غارت کر چکی تھی۔۔
نتیجتاً اُس کی ڈھیلی پڑتی گرفت پر بےاختیار حیا نے نفرت سے اُسے پیچھے دھکیلا۔۔۔
پھر اُس کے تنے ہوئے سرخ چہرے پر آخری حقارت بھری نم نگاہ ڈال کر وہاں سے بھاگتی چلی گئی۔
پیچھے زیدان عالم درانی نے مشتعیل ہوکر بےاختیار صوفے کو زوروں کی ٹھوکر ماری تھی۔
”اففف حیا وقاص اففف۔۔۔۔۔ تمھاری معصومیت پر جچتی ہوئی یہ اکڑ یہ خودسری۔۔۔میرے اندر مچلتے باغی پن کو بڑی شدت سے ہوا دے چکی ہے۔۔۔۔ہاں پہلے نہ سہی۔۔۔مگر اب۔۔اب خاصی دلچسپی کا سامان بن گئی ہو تم میرے لیے۔۔۔۔“
قریب ہی صوفے پر ڈھیتے ہوئے وہ ایک جنون سے گویا ہوا۔۔۔
مگر پھر حیا کی کہی ہوئی آخری بات کو یاد کرتے ہی اُسکا وجود گہری بےچینیوں کی زد میں آیا تھا۔
بےاختیار چہرے پر ضبط سے ہاتھ پھیرتے ہوئے۔۔۔زیدان نے جلتی آنکھیں بندکرلیں۔۔۔
آفس روم میں گہرا سکوت چھایا تھا۔۔۔
ایک پل۔۔۔
دو پل۔۔۔۔
تین پل۔۔۔
کئی پل۔۔۔۔
اور پھر۔۔۔۔
”کیا ہو اگر تمھاری اِس بےرنگ اجڑی ہوئی زندگی میں تمھارا سوکالڈ شوہر ہی نہ رہے تو۔۔۔۔۔؟؟؟؟آخر کو تمھارے مارے گئے اِس نازک تھپڑ کا حساب بھی تو بےباک کرنا ہے ناں مجھے ڈارلنگ۔۔۔۔“ آہستگی سے سرخ آنکھیں کھولتے ہوئے جہاں زیدان عالم درانی کے لب سفاکی سے پھڑپھڑائے تھے۔۔
وہیں بےدردی سے اپنا تپا گال رگڑتے ہوئے سرد باغی مسکراہٹ اُس کے لبوں پر بکھرتی چلی گئی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”وہ نام تھا جو بدل گیا
میں شام تھی جو ڈھل گئی؛
وہ تصور تھا جو مٹ گیا
میں شمع تھی جو پگھل گئی
وہ اشک اشک بہہ گیا
میں درد درد سہہ گئی؛
وہ طوفان تھا جو گزر گیا
میں محبت تھی جو اجڑ گئی۔۔۔“
ملک ترکی کی سرحدوں کی جانب تیزی سے رواں دواں سَن ایکسپریس کا جہاز،جہاں راہ میں حائل ہوتے ہلکے سرمئی رنگ بادلوں کو اندھا دھند چیڑتا چلا جارہا تھا۔۔۔وہیں پرسکون مسافروں کے بیچ بےدم ہوکر بیٹھی وہ اپنی بھیگی نگاہیں بند کیے ہوئے تھی۔
ڈوبے دل کی دھڑکنیں اِس پل جس قدر مدھم ترین تھیں۔۔۔۔پھٹتے دماغ میں آفت مچاتا ہوا بہتی یادوں کا جانلیوا شور اُتنا ہی تیز تھا۔۔۔
”مجھے۔۔مم۔۔میرے بچے کو پسِ پشت ڈال کر ت۔۔تم نے۔۔۔اِس اِیما۔۔اِس بدکار عورت سے شادی کرلی۔۔۔۔؟؟؟آااہ۔۔۔آئی کانٹ بیلیو ہیری۔۔۔آئی کانٹ۔۔۔ آخر تم میرے ساتھ اتنی بڑی ذیادتی کیسے کرسکتے ہو۔۔کک۔۔۔کیسےےےےے۔۔۔۔؟؟؟“ اُس دغاباز شخص کا کالر مٹھیوں میں دبوچ کر کیسے شستہ انگریزی میں حلق کے بل چیخ رہی تھی ناں وہ اُس پل۔۔۔۔
اس پر مستزاد اُسی کے پیچھے ڈر کر کھڑی اِیما کی وجود جلاتی وہ مسکراہٹ۔۔۔۔!!
”آاااہ۔۔۔۔“ یاد کرتے ہوئے وہ لبوں کے سنگ اپنی مٹھیاں بھی سختی سے بھینچ گئی تھی۔
”ہاں ہاں۔۔۔کرنی پڑی مجھے شادی۔۔۔کرنی پڑی کیونکہ اُس نے میرے ہی سامنے،میرے لیے سوسائڈ کرنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔اور میں اپنی محبت کو مرتا ہوا کبھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔گیٹ اِٹ۔۔۔۔“ دوبدو غراتا ہوا وہ اُس کے ڈھیلے پڑتے وجود کو شدت سے پرے دھکیل گیا تھا۔
”محبت؟؟؟ہونہہ۔۔۔اور میں۔۔۔۔؟؟؟میں بھی تو تمھاری محبت ہوں ناں۔۔۔تمھاری بیوی۔۔۔تمھارے ہونے والے بچے کی ماں۔۔۔۔تو کیا تم مجھے جیتے جی مرتا ہوا دیکھ سکتے ہو۔۔۔؟؟بولو۔۔۔؟؟جواب دو۔۔۔؟؟؟“ بہتے آنسوؤں میں اپنے بالوں کو بےدردی سے جکڑ کر پوچھتی وہ پاگل ہونے کو تھی۔
وہ تو اُس کا دیوانہ تھا۔۔۔
مگر اُس کے ٹوٹتے دل کا شور سن کر بھی اب وہاں پرواہ تھی ہی کسے۔۔۔؟؟
اگلے ہی پل وہ اپنی پشت سے لگ کر کھڑی اِیما کو کلائی سے جھٹکا دے کر اپنے مضبوط حصار میں لیتا ہوا اُسے مزید ہلکان کرچکا تھا۔
”تمھیں شاید حقیقت کا علم نہیں روز مگر مجھے اچھے سے ہوچکا ہے۔۔۔ احساس ہوچکا ہے کہ تم کبھی بھی میری محبت نہیں تھی۔۔۔ماسوائے ایک وقتی دلگی کے۔۔۔جس کا خمار اب میرے وجود سے پوری طرح بہہ چکا ہے۔۔سی۔۔۔میری اصل محبت میرے پاس میری بانہوں میں ہے۔۔۔۔اور یہی رئیلٹی ہے۔۔۔تم جیو مرو۔۔۔دور رہو یا پھرقریب۔۔۔مجھے رتی بھربھی فرق نہیں پڑتا۔۔۔نہ تم سے۔۔۔نہ تمھارے وجود میں پلتے میرے نام کے اِس بوجھ سے۔۔۔چاہو تو ابارشن کے تھرو ہمیشہ کے لیے اِس بوجھ سے خلاصی پا سکتی ہو۔۔۔“ سرد ترین لہجے میں سفاکیت کی ساری حدیں توڑتا وہ بےحس شخص پل میں اُسکی نگاہیں۔۔
اُس کی سماعتیں۔۔
اُسکا وجود سب کچھ ویران کرگیا تھا۔
اُسکی جانب آبرو اچکا کر دیکھتی ایما کا انداز صاف مذاق اڑاتا ہوا تھا۔۔۔۔جب تلملا کر ہیری کے قریب آتے ہوئے اُس کا ہاتھ بلند ہوا اور ”تڑاااااخ۔۔۔۔۔۔۔“ کی زوردار آواز کے ساتھ اُسکا گال تپا گیا۔۔۔
اگلے ہی پل وہ بوکھلا چکی ایما کے سنہری رنگ بالوں کو سفید نیٹ سمیت دبوچ کر اُس کی چیخ پکار کا سبب بنی تھی۔۔۔
اور پھر۔۔۔۔پھر کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔؟؟؟
معاً روزینہ نے آہستگی سے اپنی سرخ دھندلائی آنکھیں کھولیں۔
مار پیٹ کا سلسلہ۔۔۔۔!!
محبتوں کی رسوائی۔۔۔۔!!
حتیٰ کہ اُس کے وجود میں پلتی اولاد تک کا قتل۔۔۔!!!
اور پھر کتنے ہی دن اُسے کمرے میں زیرِ علاج بند رکھ کر خود کیسے کھلم کھلا عیاشیاں کی تھی ناں اُن دونوں نے۔۔۔!!!
اپنے نازک پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے دو آنسو ٹوٹ کر روزینہ کے بھیگے سرخ گالوں پر لڑھکے تھے۔۔۔۔
زندگی کی کتنی بڑی غلطی کرگئی تھی ناں وہ۔۔۔۔
اگلےہی پل اُس کے سنسناتے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا۔۔۔
ایک پرسکون جھماکا۔۔۔!!!
قتل۔۔۔۔ہاں۔۔۔!!!
قتل تو فرار ہونے سے پہلے وہ خود بھی اُسکا کرآئی تھی۔۔۔
سوتے میں ہارٹ اٹیک دینے والا لیکوئڈ براہِ راست حاتم شیراز کے سخت سینے میں انجیکٹ کرکے آئی تھی وہ۔۔۔۔
اور بلاشبہ بےوفا بننے کے بعد اب ایک قاتل کی قاتلہ بننے میں اُسے قطعی کوئی افسوس نہیں تھا۔۔۔
اب اُسکی منزل ترکی تھی،جہاں اُسکے سگے چچا اور ان کی فیملی نے بہت بڑا دل کرکے اُسے اپنے پاس رکھنے کی بمشکل اجازت دی تھی۔۔۔۔
دکھتی کنپٹیوں کو شدت سے سہلاتے ہوئے ایکدم سے روزینہ نے گردن ترچھی کرکے ساتھ والے پیسنجر کی جانب دیکھا۔۔۔جو جانے کب سے اُس کے بھیگے چہرے کے پل پل بدلتے تاثرات نوٹ کررہا تھا۔۔
مگر اب اُس حسینہ کے تندہی سے خود کو گھور کر دیکھنے پر سٹپٹا کر اپنا دھیان سیدھا کرگیا۔۔۔
روزینہ نے غصے سے سر جھٹکا۔پھر سرخ بھیگے گال سختی سے رگڑتے ہوئے ونڈو کے پار دھند کو بغور دیکھا۔۔۔
اِن ناخوشگوار حالات میں جو کچھ بھی ہوا تھا سو ہوا تھا۔۔۔
لیکن ان سب میں ایک اور شے بھی تھی جو بڑی شدت سے بدلی تھی۔۔۔
روزینہ کا دل۔۔۔
جس میں اپنے سابقہ شوہر رمیض عالم درانی کو واپس پانے کی چاہ اُس کی دھڑکنیں تیز کرتی چلی گئی تھی۔
”مائن رومی۔۔۔۔“ آہستگی سے کناروں سے سوجھی۔۔۔سرخ نگاہیں موندتے ہوئے اُس کے خشک لب بڑی آہستگی سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
حبس زدہ بند کمرے میں بیڈ کی پائنتی کے ساتھ لگ کر بیٹھا وہ لاپرواہ نفوس،،،اپنے سامنے لگی محدود آگ کو بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔
جو کتنی ہی دل دکھاتی یادوں کو اپنے اندر راکھ بناتی ہوئی اب کہ پل پل بھڑکتی چلی جارہی تھی۔
اگلے ہی پل کیفی نے گود میں پڑی اُس آخری تصویر کو بھی اٹھا کر اپنی جلتی نگاہوں کے سامنے کیا تھا۔۔۔
حسنہ وقاص کا وہ ہنستا مسکراتا ہوا دلفریب چہرہ۔۔۔۔دیوانگی ملی نفرت تلے اُس کا فشار خون بڑھا گیا۔
”مانتا ہوں کہ بڑی حسین چیز ہو تم۔۔۔۔ماضی کے دنوں میں مجھ جیسے آدھے ادھورے بندے کو اپنے پیچھے اچھا خاصا دیوانہ کرلیا تھا تم نے۔۔۔مگر۔۔۔۔“ انگوٹھے تلے بےجان نقوش بےدردی سے مسلتے ہوئے اُس کے ہلکی مونچھوں تلے اداس لب پھڑپھڑا رہے تھے۔۔۔جب یکلخت رکتا وہ پیشانی پر ناگوار بل ڈال گیا۔
بڑھتا دھواں پورے کمرے کو دھندلا سا کررہا تھا۔
”مگر افسوس کہ۔۔۔اِس دل بہکاتی خوبصورتی سے کہیں ذیادہ ایک زہریلی ناگن ہو تم۔۔جس نے مجھے اپنی وقتی محبت کے جال میں پھانس کر بڑی بےدردی سے ڈسا ہے حسنہ وقاص۔۔۔۔“ وحشتوں میں گھرے کیفی کے وجود میں گویا زہر ہلکورے لے رہا تھا۔
اور بدلے کی آگ میں کتنے ہی وقت سے جھلستا وہ گینگسٹر باپ کا بگڑا نواب زادہ،،،اب خود بھی تو اُس کی نس نس میں اپنا زہر بھر دینا چاہتا تھا۔۔۔
لیکن ایک الگ ہی طریقے سے۔۔۔۔
”آہ مائے میسٹیک۔۔۔۔۔حسنہ وقاص نہیں۔۔۔۔حسنہ زیدان عالم درانی۔۔۔۔“ چبا چبا کر اپنے لفظوں کی بڑے ضبط سے تصحیح کرتا وہ اگلے ہی پل اُس آخری تصویر کو مٹھی میں توڑ مڑور کر بھڑکتی آگ میں پھینک چکا تھا۔۔
”تم نے میری بےرنگ زندگی کو رنگین بناکر اُس میں زہر گھولا تھا ناں۔۔۔۔اب میری باری۔۔۔۔تمھاری زندگی میں آگ لگادوں گا میں۔۔۔بالکل اِس تصویر کی مانند۔۔۔۔دھیرے دھیرے۔۔رفتہ رفتہ۔۔۔۔اور تم۔۔۔بےبسی کے حصار میں پھڑپھڑانے کے سوا کچھ نہیں کرپاؤ گی۔۔۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔۔۔“ زہر خندک لہجے میں بولتے ہوئے جہاں کیفی کی نگاہوں میں آتشِ نفرت کا عکس واضح تھا۔۔۔۔وہیں تپے ذہن کے سیاہ پردے پر اچانک سے کسی اور کے اُبھرتے ہوئے نقوش،،،اُس کے لبوں پر سفاک مسکراہٹ بکھیرتے چلے گئے۔۔۔۔
اُس کے حق میں آنے والا وقت اب قریب تھا۔۔۔بے حد قریب۔۔۔!!!