No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
ماتھے پر بل ڈالے وہ اس وقت سامنے پارلر کی طرف اپنی بیزار نگاہیں مرکوز کیے ہوئے فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔
”سنو عدیل۔۔۔جنید صاحب ہمارے بہت خاص گیسٹ ہیں۔۔ان کی خاطرمدارت سمیت ریسٹورنٹ کے باقی انتظامات بھی اچھے سےسنبھالینا تم۔۔۔اس وقت میں ایک ارجنٹ کام میں پھنس گیا ہوں ورنہ خود چلا آتا۔۔۔۔۔“ رمیض سنجیدگی سے اپنے مینجر کو گائیڈ کررہا تھا،جب وہ دلہن بنی ہوئی سہج سہج کر قدم رکھتی پارلر سے باہر آئی تھی۔
وہ جو بےزار سا اپنی گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اس پر نگاہیں پڑتے ہی خدا حافظ کہہ کر کال کاٹتا سیدھا ہوا۔
حیا وقاص کچھ جھجک کر اس کی جانب دیکھتی ہوئی اپنا بھاری لہنگا تھامےقریب سے قریب تر چلی آرہی تھی۔
ایسے میں رمیض عالم درانی کے دل کی دھڑکنیں صرف ایک پل کے لیے اسکے میک اپ شدہ من موہنے نقوش میں الجھتی تیز ہوئی تھیں۔
جیسے ہی وہ پاس سے گزرتی گاڑی کی دوسری طرف بڑھی تو وہ بھی سر جھٹکتا ہوش میں آیا۔پھر اس کی طرف پلٹا۔
اگر جو عالم صاحب کی بجائے حفصہ بیگم اسے ایمرجنسی میں اِس محترمہ کو پارلر سے پک اپ کرنے کی درخواست کرتیں تو وہ یقیناً کوئی نہ کوئی بہانہ بنا لیتا۔۔۔
مگر اب تو بابا نے بول دیا تھا سو کام چھوڑ کر اسے میرج حال تک لے کے جانا ہی جانا تھا۔
”آگے کہاں بیٹھ رہی ہو۔۔۔؟؟؟پیچھے جاکر بیٹھو۔۔۔۔“ اسے فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولتے دیکھ رمیض نے فوری طور ٹوکا تو حیا چونک کر اس کا سنجیدہ چہرہ دیکھنے لگی۔
”لیکن آگے بیٹھنے میں کیا پرابلم ہے رمیض بھائی۔۔۔؟؟“ اسے حقیقتاً وجہ سمجھ نہیں آئی تھی۔
”کیونکہ میں تمھیں اپنے برابر میں نہیں بٹھانا چاہتا۔۔۔ہاں اگر زیدان خود تمھیں لینے آتا تو وہ ضرور ایسا چاہتا۔۔۔“ دوبدو جواب دیتا وہ اپنی طرف کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ چکا تھا۔
حیا نے اناری رنگ لبوں کو بھینچتے ہوئے کھلے دروازے کو آہستگی سے بند کیا۔پھر ضبط سے پچھلی سیٹ پر جا بیٹھی۔
وہ اکھڑ دماغ شخص خود کو سمجھتا کیا تھا۔۔۔؟؟
اتنے اہم دن پر بھی اسے ہمیشہ کی طرح نیچا دیکھانے سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔
اس دوران پارلر کے باہر گن پکڑکے مطمئن کھڑا گارڈ کسی ضروری کام سے بلانے پر پلٹ کر اندر جا چکا تھا۔
”تمھیں بلاوجہ بیوٹیشن کے ہاتھوں اس قدر سجنے سنورنے کی ضرورت نہیں تھی ویسے۔۔۔اس مصنوعی تراش خراش کی بانسبت تم اپنی قدرتی سادگی میں ذیادہ مناسب لگتی ہو۔۔۔خواہ مخواہ پارلر آکر خود کے ساتھ ساتھ میرا قیمتی وقت بھی برباد کردیا۔۔۔۔“ ایک بےنیاز سی نگاہ پہلے سے ہی سیٹ ہوئے شیشے سے اس کے تنے چہرے پر ڈالتا وہ مکمل اعتماد سے گویا ہوا۔
بھاری لہجہ ہمیشہ کی طرح بےتاثر تھا لیکن بظاہر تعریف و تنقید کرتے الفاظ حیا کو حیرت سے اس کی طرف دیکھنے پر مجبور کرگئے تھے۔
اس کی نظروں سے لاپرواہ ہوتے ہوئے جہاں رمیض نے اگنیشن میں چابی گھوماتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔۔۔وہیں دو انجان لوگ قدرے پھرتی سے گاڑی کے دونوں دروازے کھول کر زبردستی اندر گھسے۔
پل بھر کا کھیل تھا جب حیا کی مدھم چیخ پر رمیض نے حواس باختہ ہوتے حیرت سے پلٹ کر پیچھے دیکھا۔
وہ دونوں حیا کو بیچ میں کرتے ہوئے دروازے بندکرکے اپنی لوڈ ہوئی پسٹلز اس پر تان چکے تھے۔
”کون ہو تم لوگ۔۔۔؟؟؟اور کیا چاہیے ہم سے۔۔۔۔؟؟“ اس جانیلوا افتاد پر پسٹلز کو محتاط ہوکر دیکھتے ہوئے رمیض نے ضبط سے پوچھا۔
جانے کب سے اور کیوں وہ غنڈے انہی کی طاق میں بیٹھے تھے۔۔۔؟؟؟
اس دوران گاڑی کے کالے شیشے فوراً اوپر چڑھادینا ان غنڈوں کی ہوشیاری کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
یہ بھی تو بدقسمتی ہی تھی جو پارلر سائیڈ والی روڈ پر رش نہ ہونے کے برابر تھا۔
”ر۔۔رمیض بھائی۔۔۔؟؟“ خوف سے بھیگتی آنکھوں کے سنگ حیا کے اناری لب شدت سے پھڑپھڑائے۔
”ہمیں جو چاہیے ہوگا وہ تو ہم ہر قیمت پر لے ہی لیں گے شانے تو بس شرافت سے گاڑی چلا ورنہ۔۔۔۔اس دلہنیا کا دماغ اڑا ڈالے گے۔۔۔گاڑی چلاااااا۔۔۔۔۔“ بائیں جانب والا شخص حیا کو بازو سے دبوچے ہوئے، پسٹل کی نوک اس کے سر پر دباتا رعب سے بولا۔۔۔
نتیجتاً حیا کی سانسیں تو بند ہوئی ہی تھیں،رمیض بھی حیا کی زرد پڑتی رنگت دیکھتا پل بھر کو بےبسی سے لب بھینچ گیا۔
”تم لوگوں کو پیسہ موبائل گولڈ جیولری جو چاہیے میں دینے کو تیار ہوں۔۔۔انفیکٹ ایکسٹرا منی بھی دے دوں گام۔۔بس کسی کو بھی ذرہ برابر نقصان پہنچائے بنا ہماری گاڑی سے اتر جاؤ۔۔۔پلیز۔۔۔۔“ سرد لہجے میں ملتجی ہوتے اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں سرخی پھیلنے لگی تھی۔
جواباً دائیں جانب بیٹھے ساغر نے غصے سے آگے ہوتے رمیض کے سر پر قدرے زور سے پسٹل ٹکائی تو کسی انہونی کے ڈر سے حیا سسکی۔
رمیض کی جانب تکتے ہوئے آنسو تواتر سے گالوں کو بھگو رہے تھے۔
”موبائل پکڑا اپنا اور جلدی سے گاڑی چلا۔۔۔۔ورنہ سچ بات ہے اِدھر ہی ٹھوک دوں گا تیرے کو یا وحشت۔۔۔۔“ گن سے اس کے سر پر قابلِ برداشت ضرب لگاتا وہ رمیض کو سختی سے مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرچکا تھا۔
اگلے ہی پل گہرا سانس بھرتے ہوئے وہ سیٹ پر سیدھا ہوا پھر ڈیش بورڈ پر پڑا اپنا موبائل فون اس کو پکڑاتا لب بھینچ گیا۔
اس دوران دبک کر بیٹھی حیا اپنی پسلی پر پسٹل کی نوک سختی سے محسوس کرتی مزید سہم چکی تھی۔
رمیض نے شدتِ بےبسی سے ایک بار پھر(بیک ویو مرر) شیشے کو حیا پر سیٹ کیا۔پھر بند ہوچکی گاڑی کو بددلی سے اسٹارٹ کرتا ہوا آگے بڑھا گیا۔
پیچھے پارلر سے باہر نکلتے گارڈ نے قدرے چونک کر اُس بلیک کلر کی گاڑی کو نگاہوں سے دور جاتے دیکھا تھا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”واٹ۔۔۔؟؟کیا تم سچ کہہ رہے ہو حمزہ۔۔۔؟؟تمھارے رمیض ماموں نے تمھیں وہ سگریٹ نہیں دیا تھا۔۔۔؟؟تم نے جو کچھ بھی کیا خود سے کیا۔۔۔؟؟“ زلیخا قدرے حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
کل رات اپنے کمرے میں آنے کے بعد وہ روتا روتا وہیں پر سو گیا تھا،اس کے بعد وہ خود بھی غصے اور بےچینی کی کیفیات میں گھری رہی تھی۔۔۔
لیکن ابھی ابھی جو حقیقت حمزہ نے اسے اٹک اٹک کر بتائی تھی،وہ اندر سے زلیخا کو اپنے تلخ رویے پر بے اختیار شرمندہ سا کرگئی تھی۔
”یس مومی۔۔۔ماموں کو تو پتا بھی نہیں تھا کہ میں ان کے روم میں اینٹرہوا ہوں۔۔۔مگر آپ نے مجھے اتنی زور کا سلیپ کیا اور پھر ماموں کو بھی جھوٹا بلیم کیا۔۔۔“ شکایت کرتا وہ روندو سی صورت بنا گیا تھا۔
ہاں وہ زلیخا کے ڈر سے آئندہ ایسی کوئی بری حرکت نہ کرنے کا وعدہ کر چکا تھا۔۔۔
لیکن یہ بھی سچ تھاکہ اگر جو اس کی مومی اسے پہلی جیسی نرمی نہ دیکھاتی تو شاید اب بھی وہ اپنے ماموں کے حق میں کچھ نہ بولتا۔
”حمزہ تم۔۔۔۔“ زلیخا جو گہرے گلابی لبوں کو پھڑپھڑاتی ہوئی اسے تنبیہی انداز میں کچھ کہنا چاہ رہی تھی،معاً حفصہ بیگم کے پریشانی سے پاس آکر بیٹھنے پر چونک کر ان کی جانب متوجہ ہوئی۔
”امی۔۔۔؟؟آپ پریشان دکھائی دے رہی ہیں۔۔کیا بات ہے۔۔۔؟؟؟“ زلیخا نے حفصہ بیگم کا بےتاب چہرہ دیکھتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا تھا جو فون بند جانے پر کال کاٹ چکی تھیں۔
”کیسے نہ پریشان ہوں میں زلیخا۔۔۔باراتی۔۔دلہا۔۔مولوی صاحب سب یہاں آچکے ہیں اور دلہن کے شدت سے منتظر ہیں۔۔۔مگر حیا ابھی تک ہال میں نہیں پہنچی۔۔۔رمیض اسے لینے گیا تھا پارلر سے۔۔۔لیکن۔۔۔!!مجھے۔۔مجھے ان دونوں کی بہت فکر ہورہی ہے۔۔۔۔“ بتاتے ہوئے وہ ہال میں مہمانوں کے بیچ ہوتی مدھم مدھم چہ مگوئیوں سے بخوبی واقف تھیں۔
سنگین معاملہ سنتی زلیخا بھی یکدم ہی پریشان ہوتی تھی۔
اس دوران ان دونوں کی باتوں سے جی بھر کے بور ہوتا حمزہ اپنی ہی عمر کے ایک بچے کو سامنے کھڑا دیکھ اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کی طرف لپکا تھا۔
”آ۔۔آپ ذیادہ اپ سیٹ مت ہوں امی جان ورنہ آپکا بلڈ پریشر ہائے ہو جائے گا۔۔۔لائیں ادھر میں کال کر کے دیکھتی ہوں مے بی اس بار اٹھا لیں۔۔۔۔“ تسلی دیتے انداز میں بولتی ہوئی زلیخا نے ان سے موبائل فون پکڑتے ہوئے جھٹ پٹ رمیض کے نمبر پر کال ملائی تھی۔
حیا تو اپنے ساتھ موبائل فون لے کر ہی نہیں گئی تھی۔۔۔
”انھیں ہزار بار کال کرچکی ہوں میں،تمھارے بابا،بھائی سب ہی۔۔۔ مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔۔۔پارلر والی سے بھی بات ہوئی تھی میری۔۔اس کا کہناہے کہ حیا اور رمیض کب کے وہاں سے نکل چکے ہیں۔۔۔کہیں کچھ برا نہ ہوگیا ہو ان کے ساتھ۔۔۔؟؟اففف۔۔۔خدایا مدد۔۔۔“ بتاتے ہوئے حفصہ بیگم کا دل بیٹھا جا رہا تھا۔
”امی کال۔۔۔ کال جا رہی ہے۔۔۔اس بار نمبر بند نہیں ہے۔۔۔۔فکر مت کریں سب ٹھیک ہوگا۔۔۔۔“ چونک کر بولتے ہوئے زلیخا نے گویا ان کو بڑی ہی کوئی خوشخبری کی بات سنا دی تھی۔
”شکر ہے رب کا۔۔۔۔کال اٹھائی رمیض نے۔۔۔؟؟؟“ وہ بے تابی سے پوچھ رہی تھیں۔۔۔مگر صد افسوس کے کال جان بوجھ کر کاٹ دی گئی تھی۔
”میں دوبارہ ٹرائے کرتی ہوں۔۔۔۔“ بڑھتی دھڑکنوں کے ساتھ کہتی زلیخا نے دوبارہ کال کرتے ہوئے موبائل فون کان سے لگایا تھا۔
پھر ایک سرسری سی نگاہ سامنے حمزہ پر ڈالی۔۔۔
بڑوں کی ٹینشن سے قدرے لاپرواہ سا وہ مہمان کے اُس بچے کے ساتھ بچگانہ کھیل کھیلنے میں مصروف ہوچکا تھا۔
بے اختیار حفصہ بیگم کے دل سے خیر کی دعائیں نکلنا شروع ہو چکی تھی۔
”چچ۔۔آخر مسئلہ کیا ہے اس کے ساتھ بھئی۔۔۔؟؟پھرسے کال کاٹ دی۔۔۔۔“ کال پھر سے کاٹ دی گئی تھی،جب زلیخا چڑ کر بولی۔
حفصہ بیگم کا دل پھر سے بیٹھنے لگا تھا۔
” ٹُوں ٹُوں۔۔۔ٹُوں ٹُوں۔۔۔۔“ ضد میں آتی وہ پھر سے کال ملانے کو تھی،جب سماعتوں سے ٹکراتی میسج ٹیون نے اسکرین پر بھی اپنا آپ شو کروایا تھا۔
”امی رمیض کا میسج ہے۔۔۔“ رمیض کے نام سے آیا میسج پل میں زلیخا کی توجہ اپنی جانب کھینچ گیا تھا۔
”تو پڑھو ناں جلدی سے۔۔۔دیکھوکیا کہہ رہا ہے وہ۔۔۔؟؟؟“ خیر کی خبر سننے کو ان کی سماعتیں بے تاب ہوئی تھیں۔۔۔جب زلیخا نے اثبات میں سر ہلاتے جلدی سے آیا نوٹیفیکشن اوپن کیا۔
میسج کھل کر اسکرین پر آیا تھا۔۔۔جسے نگاہوں سے پڑھتے ہوئے زلیخا عالم درانی کے چہرے کی رنگت بدلتی چلی گئی۔
”کیا ہوا ہے کیا لکھا ہے اسنے بتاؤ مجھےبھی۔۔۔؟؟؟حیا کو ساتھ لے کر کب تک آرہا ہے وہ یہاں۔۔۔۔؟؟“ قدرے چونک کر زلیخا کے تشویش زدہ تاثرات دیکھتی وہ سوال پر سوال داغتی چلی گئیں۔
”وہ نہیں آئے گا امی۔۔۔بتا دیں سب کو جاکر۔۔۔رمیض عالم درانی حیا کو یہاں لے کر نہیں آنے والا اب۔۔۔۔“ سرد ترین لہجے میں آہستگی سے کہتی وہ حفصہ بیگم کے سر پر بم پھوڑ گئی تھی۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
مہمانوں کی سوال کرتی نگاہوں سے وقتی طورمحفوظ،وہ سب گھر والے اس وقت ہال کے پرائیوٹ روم میں موجود تھے۔
”میں اچھے سے جانتا ہوں کہ آپ سب میرا اور حیا کے واپس آنے کا بےصبری سے انتظار کررہے ہوں گے۔۔۔لیکن شاید آپ میں سے کوئی بھی یہ بات نہیں جانتا ہوگا کہ ہم ایک دوسرے سے بے پناہ محبت کرتے ہیں۔۔۔محبت کیا،عشق کرتے ہیں عشق۔۔۔لیکن آپ لوگوں تو اس وقت صرف اپنی عزت۔۔اپنی ساکھ کے کھوجانے کا ڈر ہوگا ناں۔۔۔ہمارے سچے جذباتوں کی ہماری مجبوریوں کی پرواہ کوئی کہا کرے گا بھلا۔۔۔؟؟بس اسی لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم آپ کی ایک دوسرے کو دی ہوئی زبانوں کا قطعی کوئی پاس نہیں رکھیں گے،نہ ہی بےجوڑ رشتے جوڑنے کی سزا مزید بھگتیں گے۔۔۔اپنی محبتوں کو دلوں میں دفنا کر نہیں رکھ سکتے ہم۔۔۔اس لیے میں اور حیا آپ لوگوں سے بہت دور جا رہے ہیں۔۔۔اپنی ایک الگ ہنستی بستی دنیا بسانے۔۔۔اب واپسی کی راہیں ہمارے لیے فنا ہوچکی ہیں۔۔۔ آئی ہوپ کہ اتنی بڑی حقیقت جان لینے کے بعد آپ لوگ بھی ہمارا مزید انتظار کرنے کی بےوقوفی نہیں کریں گے۔۔۔خدا حافظ۔۔۔۔!!!“ بند پرائیوٹ روم میں، اس طویل میسج کا ایک ایک لفظ بآواز بلند پڑھتے ہوئے زیدان عالم درانی کی آواز میں غصہ صاف ہچکولے لے رہا تھا۔
”وٹ دی ہیل از دِس۔۔۔۔“ اگلے ہی پل اس نے حفصہ بیگم کا موبائل فون پوری شدت سے فرش پر دے مارا تھا۔
جہاں ایک طرف کھڑی حسنہ اسکی اِس حرکت پر چونکتی سیدھی ہوئی تھی وہیں دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑے وقاص صاحب کا سر ملامت و صدمے سے مزید جھکتا چلا گیا۔۔۔
”تو یہ تھی آپ سب کی چہیتی پارسا حیا بی بی۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟؟کم اون۔۔۔کم از کم مجھ جیسا مخلص انسان ایسی دوغلی فریب کار لڑکی کو تو بالکل بھی ڈیزرو نہیں کرتا تھا۔۔۔۔“ اپنے مقابل پریشان کھڑی فیملی سے تلخی سے کہتا ہوا وہ اس پل ایکٹنگ کے اونچے درجوں کو چھورہا تھا۔
”جانے کیوں۔۔؟؟مگر مجھے اب بھی یقین نہیں آرہا اس بدترین حقیقت پر۔۔۔۔“ جواب میں عالم صاحب زمین پر پڑے ٹوٹ چکے موبائل پر نظر ڈال کر آہستگی سے کہتے ہوئے زیدان کو تمسخر پر مجبور کرگئے۔
اگلے ہی پل وہ ان کے قریب آتا ہوا اپنے باپ کو نرمی سے کندھوں سے تھام گیا تھا۔
”ڈیڈ میں بھی یقین نہ کرتا۔۔۔خدا قسم کبھی بھی یقین نہ کرتا اگر جو وہ دونوں یہاں موجود ہوتے تو۔۔۔۔لیکن افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان کی اب تک کی غیر موجودگی نے اس بدترین حقیقت کو سچ ثابت کردیا ہے۔۔۔اب آپ کا بے عیب بیٹا ہرلحاظ سے بےعزت ہوکر بنا دلہن کےگھر واپس جائے گا۔۔۔۔۔“ بڑے اعتماد سے کہتا ہوا وہ دکھ و افسوس کی چٹان بنا تقریباً سبھی کو ان دونوں سے بدگمان کرچکا تھا۔
رمیض کا نمبر بھی پھر سے بند ہوگیا تھا۔۔۔۔
ایسے میں اپنی نیک بخت بیٹی کے سیاہ بخت نکلنے پر وقاص صاحب کا دل ڈوب ڈوب جارہا تھا۔۔۔
اس قدر شرمندگی۔۔۔اففف۔۔۔
”ایسا نہیں ہے بیٹا۔۔۔۔“ حفصہ بیگم اس کے دکھتے لہجے پر تڑپ کر بولیں۔
معاً وہ سر ہلا کر ان کی بات کی نفی کرتا ہوا سرعت سے ان کے مقابل آیا تھا۔
”ایسا ہی ہے موم بالکل ایسا ہی ہے۔۔۔اب سب لوگ رشتے دار تھو تھو کریں گے ہم پر۔۔۔وہ دونوں تواپنی محبتوں میں بھاگ گئے،اور ان کے کیے کا بھگتے گا کون پیچھے۔۔۔؟؟میں۔۔۔ہم سب۔۔۔۔“ دھیمے کرخت لہجے میں تپ کر بولتا ہوا وہ وہاں موجود سبھی کو آنے والے لمحات کے لیے فکرمندکرگیا تھا۔
کمرے سے باہر عجیب و غریب باتیں بناتے ہوئے مہمان،مولوی سمیت اب تک ان کے منتظر تھے۔
جہاں زلیخا کا دل حیا رمیض کے لیے حددرجہ برا ہوا تھا،وہیں حسنہ نگاہوں میں دیوانگی کی رمق سموئے مسلسل زیدان کے دلچسپ نقوش تکتی چلی جارہی تھی۔
کیا کچھ نہیں کررہا تھا وہ اس کی محبتوں میں۔۔۔۔
”تو کیا چاہتے ہو تم۔۔۔کیا کرنا چاہیے اب ہمیں۔۔ہاں۔۔؟؟؟“ اس بار عالم صاحب نے شدتِ ضبط سے اس کی مرضی جاننا چاہی۔
آخر یہ کیسی بےعقلی کا مظاہرہ کیا تھا اُن کے عقلمند بیٹے نے۔۔۔۔؟؟؟
ابھی تو اسکے خود کے ساتھ پہلی بیوی کو لے کر اتنا ابتر سانحہ گزرا تو۔۔۔
اور اب بالکل اچانک ہی یہ سب۔۔۔۔!!!
”م۔۔میں آپ سب کے سامنے بے حد شرمسار ہوں۔۔۔“ اس سے پہلے کہ زیدان کچھ کہتا،اپنی برداشت کھو چکے وقاص صاحب ہاتھ جوڑتے سب کے مقابل آئے تھے۔
”اپنی بیٹی کو بطورِ امانت آپ لوگوں کے ہاتھوں سونپنے کی جو زبان دی تھی۔۔۔اسے چاہ کر بھی پورا نہیں کرپایا میں۔۔۔ہوسکے تو مجھے معاف کردیجیے گا۔۔۔۔“ شرم تلے سر جھکائے وہ دکھ سے بولتے چلے جارہے تھے۔
کہاں سوچا تھا بھلا بھائی بھاوج کے سامنے ایسا وقت بھی زندگی میں دیکھنا پڑے گا۔۔۔۔
عالم صاحب اپنے چھوٹے بھائی کا چہرے دیکھتے بےبسی سے آنکھیں میچ کر کھول گئے۔۔۔
اپنے بےقصور باپ کو ایسی حالت میں دیکھتے ہوئے حسنہ کے تیکھے نقوش پر بےاختیار بےچینی در آئی،تو زیدان پل بھر کو تاسف زدہ ہوتا جلدی سے آگے بڑھ کر ان کے جڑے ہاتھ تھام کر نیچے کرگیا۔۔۔
”آپ کو معافی مانگنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے چچا جان۔۔۔کیونکہ آپ اب بھی بیٹی دے کر ہمیں اپنی دی ہوئی زبان پوری کرسکتے ہیں۔۔۔“ زیدان عالم درانی کے مضبوط لہجے نے جہاں سبھی کو حیرت میں ڈالا تھا،وہیں حسنہ وقاص کا دل شدتوں سے دھڑک اٹھا۔
”م۔۔مطلب۔۔۔؟؟“ حیرت سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے وقاص صاحب کے لب پھڑپھڑائے تھے۔
نتیجتاً زیدان نے ساکت کھڑی حسنہ کی طرف گہری نگاہ ڈالی۔۔
”مطلب صاف ہے چچا جان۔۔۔آپ کی بڑی بیٹی تو میرے بھائی کے ساتھ بھاگ چکی ہے۔۔۔مگر چھوٹی بیٹی تو یہی موجود ہے ناں۔۔۔لہٰذا آپ میری حسنہ وقاص سے شادی کروادیجیے۔۔۔یقین جانیے یہ رہی سہی رشتہ داری بھی ختم ہونے سے کہیں ذیادہ بہتر اوپشن ہوگا۔۔۔“ سنجیدگی سے کہتے ہوئے وہ بڑے ہی شاطرانہ طریقے سے اپنے بڑوں کو نئی راہ دکھاچکا تھا۔
ایسی نئی راہ کہ جس کو مسترد کرنا شاید ہی ناممکنات میں سے ایک بن چکا تھا اب۔۔۔
”حسنہ بیٹی۔۔۔۔!!!“ اگلے ہی پل حسنہ کی جانب پلٹتے ہوئے نم آنکھوں کے سنگ وقاص صاحب نے آہستگی سے اسے مخاطب کیا۔۔۔تو سبھی کی نظریں خود پر محسوس کرتی وہ خائف سی نفی میں سر ہلاگئی۔
آنسوں کی لڑلیاں گلاب گالوں پر لڑھک آئی تھیں۔۔۔
یہ دکھاوا قابلِ دید ہی تو تھا۔۔۔جبکہ
اس کے یوں اداکاری کرنے پر اب کہ مسکراہٹ دبانے کی باری زیدان عالم درانی کی تھی،جو اپنی طے شدہ پلینگ پوری کرنے میں بڑی ہی شدت سے کامیاب رہا تھا۔۔۔
