Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

”آپ میری خطاؤں کی وجہ سے اِس سنگین حالت کو پہنچ گئے ہیں ناں بابا۔۔۔لیکن مجھےفنا کرنے کی خاطرجو سیاہ کرتوت آپ کی بڑی بیٹی نے رچائے ہیں،،،میں نہیں چاہتی اُسے جان کرآپ جان سے ہی چلے جائیں۔۔۔اگر جان سے جانا چاہیے تو فقط حیا وقاص کو۔۔۔وہی تو فسادات کی حقیقی جڑ ہے۔۔۔اسی لیے۔۔۔اسی لیے میں اپنی نفرت کا سارا زہر اُس کی مٹھاس میں گھول آئی ہوں بابا۔۔۔سب سے کہہ دوں گی کہ اُس نے بذاتِ خود تنہائی میں خودکشی کا یہ طریقہ اپنایا تھا۔۔۔اور اس میں کچھ برائی نہیں۔۔۔اسی انجام کی حقدار ہے وہ۔۔۔۔ہاں اسی کی تو حقدار ہے۔۔۔۔۔“ دوائیوں کے زیرِ اثر گہری غنودگی میں جاچکے وقاص صاحب کا بےدم ہاتھ تھامے وہ،،،نم۔۔سلگتے لہجے میں اپنا جانیلوا راز اُن پر افشاں کررہی تھی۔۔۔۔
اپنی غلطیوں پر شرمندگی کا بناوٹی دکھاوا کرتی ہوئی جہاں وہ جھوٹے آنسوؤں سے حیا وقاص کو اپنی جانب مائل کرنے میں قدرے کامیاب ٹھہری تھی۔۔۔وہیں ہاسپیٹل آنے سے قبل،،،بظاہر محبت سے بنائی ہوئی دھواں اڑاتی چائے اُسے تھما آئی تھی۔۔۔
بےذائقہ۔۔مگر جانیلوا زہر گھلی گرما گرم میٹھی چائے۔۔۔۔
سوچتے ہوئے حسنہ نے بےدردی سے اپنی بھیگی آنکھوں کو رگڑ کر صاف کیا۔
چائے گھونٹ گھونٹ حلق میں اتارنے کے بعد۔۔۔اب تک تو شاید وہ تڑپ تڑپ کر ہمیشہ کے لیے آنکھیں بھی موند چکی ہوگی۔۔۔۔!!!
نفرتوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں بہتا ہوا حسنہ وقاص کا پتھردل ناچاہتے ہوئے بھی پل بھر کے لیے ڈوبا تھا۔۔۔۔
اگلے ہی پل وہ وحشت سے وقاص صاحب کے ہاتھ کی مدھم جھری زدہ پشت کو اپنے جلتے ہوئے نم گال سے ٹکا گئی۔۔۔
”عورت کے آنسو اور مسکراہٹ مرد کی تسکین کا باعث ہوتے ہیں۔مرد یہی سوچ کر تسکین حاصل کرتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے عین مطابق عورت کو ہنسا بھی سکتا ہے اور رلا بھی سکتا ہے۔۔۔مگر اب میں تمھیں خود سے یہ تسکین مزید حاصل کرنے نہیں دوں گی زیدان عالم درانی۔۔۔ تمھاری آنکھوں میں فقط ہجر کے آنسو ہوں گے اور میرے لبوں پر فتح یابی کی مسکراہٹیں۔۔۔۔۔۔“ ہولے سے بکھرتی زہرخند مسکراہٹ کے سنگ۔۔۔خشک پنکھڑی لبوں سے بڑبڑاتی ہوئی حسنہ وقاص حقیقتاً سفاکیت میں بہت آگے کو نکل چکی تھی۔۔۔
اس سے قدرے انجان کہ آنے والا وقت اُس کی ذات کے لیے کس قدر بدترین ثابت ہونے والا تھا۔۔۔۔!!!

اِس دوران نصیبوں میں گھلتی سیاہی اُس کا انگ انگ ویران کرنے کو شدتوں سے بےتاب ہوئی تھی۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ قدرے رش ڈرائیونگ کرکے،،،بارہ منٹوں کا رستہ تقریباً پانچ منٹوں میں ختم کرتا ہوا یہاں تک پہنچا تھا۔۔۔۔
سورج کی گہری تپش تلے۔۔تندہی کے ساتھ گاڑی سے اترتے ہوئے،،،سیاہ پلکیں اذیت کی نمی سے چمک رہی تھیں۔۔۔۔
ایسے میں رمیض عالم درانی کا اشتعال سے پھٹتا ہوا دل اِس سمے حیا وقاص کے ساتھ کی گئی اتنی بڑی ذیادتی پر بھی حددرجہ ملامت زدہ سا ہورہا تھا۔۔۔۔
پہلے سے ہی گیٹ کے اَن لاکڈ دروازے کو دھڑام سے کھولتا ہوا جہاں وہ بےحد غصے سے گھر کے اندر داخل ہوا تھا۔۔۔وہیں درانی پیلس سے باہر نکلتے چوکیدار نے بڑی حیرت سے رمیض عالم درانی کے خطرناک تیوروں کو بغور دیکھا۔
پھر کچھ سوچتا ہوا تیزی سے واپس اندر کی جانب لپکا۔۔۔۔تاکہ عالم صاحب کو اِس فکر دلاتی صورتحال سے باخبر کرسکے۔۔۔
بھاری۔۔پھولی سانسوں کے بیچ اپنے نیوی بلیو کف دانت پیس کر اوپر کو چڑھاتے ہوئے اُس نے بڑی تیزی سے شفاف لاؤنج کو پار کیا تھا۔۔۔۔
جب ٹھیک سامنے والے کمرے کے کھلے دروازوں سے صاف دکھائی پڑتا ناقابلِ برداشت منظر،،،یکدم ہی اوپری کھلے بٹنوں سے جھانکتے اُس کے تپے سینے کو چیڑ کر رکھ گیا۔۔۔۔
”اب کیوں گھبرا رہی ہو ہہمم۔۔۔؟؟؟کردار تو تمھارا ویسے ہی سب کی نظروں میں داغدار ہوچکا ہے۔۔۔۔اب حقیقتاً بھی داغدار کیے دیتا ہوں ہرج ہی کیا ہے آخر۔۔۔؟؟خود کے ساتھ ساتھ تمھیں بھی برباد کرکے جاؤں گا ناں۔۔۔۔۔“ وحشی ہوچکا زیدان عالم درانی شدتوں سے مزاحمت کرتی حیا پر جھکا پل پل زور زبردستی کرنے کی متواتر کوششوں میں تھا۔۔۔۔
جبکہ گداز بستر میں دھنسی اپنی دُکھتی کلائیوں کو مقابل کی سخت گرفت سے چھڑوانے کی کوشش میں سسکتی ہوئی وہ ہلکان ہی تو ہورہی تھی۔۔۔۔
”زیداااااااان۔۔۔۔۔!!!!!“ ضبط کی ساری طنابیں چھوٹتے ہی رمیض عالم درانی حلق کے بل شدت سے دہاڑتا ہوا بھاگ کر اُس کی جانب لپکا۔۔۔
پھر قدرے ہڑبڑا کر اپنی جانب پلٹ چکے زیدان کے جبڑے پر پوری قوت سے مکا دے مارا۔۔۔
نتیجتاً جبڑے کے سنگ سینے میں بھی یکدم پھیلتے درد پر وہ کئی قدم لڑکھڑا کر پیچھے ہوا تو۔۔۔
حیا نے قریب ہی پڑے شفون کے دوپٹے سے اپنا آپ ڈھانپتے ہوئے،،،بھیگی پلکیں جھپکا کر اپنے شوہر کا خطرناک حد تک تنا ہوا سرخ چہرہ دیکھا۔۔۔
جو اگلے ہی پل قدرے بےتابی سے قریب ترین آتا ہوا بےساختہ اُس کے نم چہرے کو مضبوطی سے تھام چکا تھا۔۔۔۔
اس دوران۔۔۔سنگین ترین لمحات کے باوجود بھی دونوں کا لرزتا دل ایک دوسرے کی نگاہوں میں بےتابانہ تکتے ہوئے بیک وقت دھڑک سا اٹھا۔۔۔
”حیا۔۔۔۔۔!!!“ اپنی بیوی کی غلافی آنکھوں میں شدت سے بھیگتی خفگی ازبر کرنے کے باوجود بھی رمیض کا مچلتا دل محض پل بھر کے لیے سکون میں آیا تھا۔۔۔جب صحیح موقع پاتے ہی غضب میں آچکے زیدان نے ہاتھ میں پکڑے واز کو بڑی بےدردی سے اپنے بھائی کی چوڑی پشت پر توڑ ڈالا تھا۔۔۔۔۔
”ہاااہ۔۔۔رمیض۔۔۔۔۔؟؟؟؟“ اِس اچانک افتاد پر دل تھامتی حیا جہاں بےاختیار گھبرائی تھی۔۔۔وہیں رمیض عالم درانی نے درد کی شدید لہر پر ضبط کرتے ہوئے،،، لبوں کے ساتھ ساتھ سختی سے مٹھیاں بھی بھینچ لیں۔۔۔
پھر ٹوٹ کر بئیرڈ میں جذب ہوتے آنسوؤں پر گہرا سانس بھرتا ہوا آہستگی سے اُس کی جانب پلٹا،،،
اتنا بغض۔۔۔۔
اتنا حسد۔۔۔۔
اتنی دشمنی۔۔۔۔
اتنی نفرت۔۔۔۔
آخر کیسے۔۔۔۔کیسے وہ اُسکا اپنا بھائی ہوسکتا تھا۔۔۔۔؟؟؟
آخر کیسے ےےے۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟
بدلے کی زد میں بپھڑا ہوا زیدان احتیاطاً دو سے تین قدم پیچھے ہٹا تھا۔۔۔۔
اس دوران سینے کے اطراف میں پھیلتا عجیب سا درد پل پل بڑھنے لگا تھا۔۔۔جبھی وہ اضطرابیت کا شکار ہوتا مسلنے سا لگا۔۔۔
”داغدار کرنا تو بہت۔۔۔بہت بہت دور کی بات ہے زیدان عالم درانی۔۔۔تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی میری بیوی کو چھونے کی۔۔۔۔ہاااااں۔۔؟؟؟“ قدم قدم قریب آتے ہی جہاں رمیض نے زیدان کو سنبھلنے کا موقع دئیے بنا ہی،،،،پے در پے بھاری ضربیں لگاتے ہوئے اُس کے ناک اور ہونٹ سے خون کی لکیریں نکلوائیں تھیں۔۔۔۔وہیں گارڈ کے آگاہ کرنے کے سبب حفصہ بیگم کے سنگ وہاں آچکے عالم صاحب کمرے کی دہلیز پر ہی ششدر ہو کر ساکت ہوئے۔۔۔۔
اُن کے دو جوان بیٹے آپس میں ہی جانیلوا لڑائی لڑ رہے تھے۔۔۔۔۔
جبکہ اس ہنگامی صورتحال پر ناچاہتے ہوئے بھی پلنگ پر سسکی روکتی حیا کا دل کٹنے سا لگا۔۔۔۔
”تمھارے پھیلائے فساد کے سبب میں اپنی پاکدامن بیوی پر بدترین تہمت لگانے پر مجبور ہوا۔۔۔۔تمھاری فرعونیت کی وجہ سے میری بیوی کی کوکھ اجڑ گئی۔۔۔۔تمھارے ناجائز جنون کی وجہ سے میرا اعتبار ملیامیٹ ہوگیا۔۔۔میری مخلص محبت رسوا ہوگئی۔۔۔اور اب۔۔۔اب جبکہ تمھارے سارے سیاہ راز فاش ہوچکے ہیں تو بدلے کی آڑ میں تم میری بیوی کی عزت لوٹنے تک آگئے۔۔۔؟؟؟تف ہے تم پر۔۔۔تم۔۔۔تم بھائی کہلانے کے نہیں بلکہ زندہ زمین میں درگور ہوجانے کے لائق ہو زیدان عالم درانی۔۔۔۔“ درد کرتی چوٹوں سے بد حواس ہوچکے مقابل کو بےاختیار گردن سے دبوچ کر وہ چیختا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔
اپنے اندر کا ابالے کھاتا لاوا ٹھنڈا کرنے میں مسلسل ناکام ٹھہر رہا تھا۔۔۔
جبکہ اِن تلخ انکشافات کو سنتے ہوئے دونوں میاں بیوی نے حیرت و بےیقینی سے نگاہیں جھکا کر سسکتی حیا کی جانب دیکھا۔۔۔جو دوپٹے کو سختی سے مٹھیوں میں دبوچے ہنوز خائف سی لرز رہی تھی۔۔۔
معاً تیزی سے پورے وجود میں بکھرتے درد پر گہرے سانس لینے کی کوشش کرتا زیدان مشعتیل سا رمیض کی مردانہ کلائیوں کو جکڑ گیا۔۔۔
پھراپنا آپ چھڑوانے کی ناکام کوشش کی۔۔۔تو حفصہ بیگم اِس بگڑتے معاملے کو سنبھالنے کی کوشش میں نم نگاہوں کے ساتھ تیزی سے اُن دونوں کے قریب ترین چلی آئیں۔۔۔بےچینیاں عروج پر تھیں۔۔۔
اِس دوران عالم صاحب سارا معاملہ سمجھنے کی کوشش میں برہمی سے ہنوز وہیں جمے کھڑے تھے۔۔۔
لیکن پھر اگلے ہی پل۔۔۔۔۔جھوٹ اور سچ سبھی کے سامنے کھل کر الگ الگ ہوا تھا۔۔۔۔
”ہہ۔۔ڈونٹ۔۔۔ڈونٹ ہٹ می اگین رمیض عالم درانی۔۔۔۔گردن چھوڑ میری سالے۔۔۔و۔۔ورنہ۔۔۔ بنا کوئی لحاظ کیے حشر نشر بگاڑ دوں گا میں تمھارا۔۔۔تمھاری بیوی بچپن سے ہی صرف میری ملکیت رہی ہے۔۔جو۔۔جو دل میں آئے گا وہی کروں گا میں اُس کے ساتھ۔۔۔روک سکتے ہو تو روک لو۔۔۔۔۔“ چکراتے سر کو شدت سے جھٹکتا وہ اب بھی نڈر سا۔۔گھٹی تند آواز میں زہر اگلنے سے باز نہیں آیا تھا۔۔۔۔
نتیجتاً عالم صاحب کے سنگ حیا نے ضبط سے بھیگی پلکیں بھینچ لیں۔۔۔
دونوں کو الگ کرنے کی کوشش کرتیں حفصہ بیگم بھی اِس تلخ اعتراف پر دل تھام گئی تھیں۔۔۔۔
”آاااا۔۔۔ہ۔۔۔۔۔“ معاً تپے گالوں پر بہتے سیال کی پرواہ کیے بنا ہی رمیض نے اشتعال سے دہاڑتے ہوئے،،، زیدان کی پشت بےدردی سے پیچھے دیوار کے ساتھ مارتے ہی اپنا سخت مکا فضا میں اٹھایا تھا،،،،
جب یکدم پیٹ میں اٹھتی ناقابلِ برداشت تکلیف پر شدتوں سے نڈھال ہوتے زیدان کے حلق سے بےساختہ زہریلی خون آلود قے پھوٹ کر باہر نکلی۔۔۔۔
اُس کی اچانک شدید خراب ہوتی ناساز حالت پر جہاں رمیض عالم درانی نے پیشانی پر الجھن زدہ بل ڈالتے ہوئے قدرے آہستگی سے اُس کی پسینہ آلود گردن کو بمشکل چھوڑا تھا۔۔۔وہیں حددرجہ بےسکون ہوچکی حفصہ بیگم نے زمین بوس ہوتے زیدان کو بہتے آنسوؤں میں بروقت اپنی آغوش میں سنبھالا۔۔۔
اس دوران عالم صاحب کے سنگ حیا بھی قدرے گھبرا کر اُس کی جانب لپکی تھی۔۔۔جو بھاری زہر کے زیرِ اثر،،،تڑپتے ہوئے وجود کے ساتھ تیزی سے اپنی سانسیں کھو رہا تھا۔۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں بلاشبہ۔۔۔زیدان عالم درانی سب کی حیران کن،، بھیگی نگاہوں تلے،،،قدرے تیزی سے اپنی آخری سانسیں بھی کھوتا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”چل اندر۔۔۔اب سے یہی تیرا پکا ٹھکانہ ہے۔۔۔“ لیڈی کانسٹیبل نے مطلوبہ جیل کا دروازہ کھول کر قدرے بےدردی سے اُس کے لرزتے وجود کو اندر کی طرف دھکیلا تھا۔۔۔
اپنے خلاف آنے والی ٹرانزیکشن رپوٹ سے پہلے ہی وہ۔۔۔جھنجھنا اٹھے حواسوں کے سنگ میت پر چیخ چیخ کر بذاتِ خود اپنی سنگین ترین حقیقت کا اعتراف کرچکی تھی۔۔۔۔
بنا ڈرے سہمے۔۔۔۔
شدید صدمے کے زیرِ اثر بےساختہ ہونے والا وہ سیاہ اعتراف اِس قدر کھلا۔۔۔اِس قدر واضح تھا کہ اُس کا لرزتا بلکتا وجود کتنوں کی ہی بےتحاشہ نفرت کا صاف صاف نشانہ بن چکا تھا۔۔۔۔
اور پھر۔۔۔پھر کیا ہوا تھا۔۔۔۔؟؟؟؟
نتیجتاً حسنہ وقاص کو عدالت کی جانب سے صاف صاف عمر قید کی سفاک سزا ہی تو سنادی گئی تھی۔۔۔
اشتعال سے۔۔اُس کی بھیگی خوفزدہ نگاہیں دیکھتی ہوئی لیڈی کانسٹیبل اگلے ہی پل تندہی سے لاک لگا کر وہاں سے نکلتی چلی گئی۔۔۔
”کون ہے یہ حسین لونڈیا۔۔۔۔؟؟؟“ معاً اُسے ایک کونے میں سمٹ کر بیٹھتے دیکھ۔۔وہاں پہلے سے ہی موجود ہٹی کٹی تین عدد متوجہ خواتین میں سے ایک نے قدرے تجسس سے سوال داغا۔
اُن کی عجیب نگاہیں اپنے نازک وجود کے آر پار ہوتے دیکھ حسنہ خائف سی خود کو سیاہ چادر میں مزید سمیٹ گئی تھی۔
”سننے میں تو یہی آیا ہے کہ قاتلہ ہے یہ اپنے سابقہ شوہر کی۔۔۔میٹھی چائے میں زہر پلا کر مارا ہے اُس رئیس بزنس مین کو۔۔۔اِسی کی بڑی بہن سے تو شادی رچانے والا تھا ناں۔۔بس اسی لیے برداشت نہیں کرسکی یہ حسد خوری۔۔اور تو اور بعد میں اپنا یہ قاتلانہ جرم سب پر ظاہر کرنے والی بھی یہ خود ہی تھی۔۔۔۔“ ہنوز چوکڑا مارے دوسری عورت ہتھیلیاں مسل مسل کر سنی سنائی بات اُن کی سماعتوں میں مزے سے انڈیل رہی تھی۔
”پاگل۔۔بےوقوف عورت۔۔۔جب کانڈ کر ہی چکی تھی تو اپنا جرم آپ ہی بتانے کی کیا ضرورت تھی بھلا۔۔۔۔۔؟؟؟“ پہلی والی مجرم خاتون ہنکارا بھرتی ہوئی قدرے نخوت سے گویا ہوئی۔۔۔سخت نظریں ہنوز حسنہ پر ہی جمی تھیں۔۔۔۔
”محبت۔۔۔!!!اچھے اچھوں کی مت مار دیتی ہے۔۔۔یہ بےوقوف بھی اپنی ناکام عاشقی میں ماری گئی۔۔۔۔“ جواباً وہ دو بدو بولی تو باقی طنزاً ہنس پڑیں۔۔۔
بلاشبہ وہ تینوں آنے والے دنوں میں حسنہ وقاص کا جینا حرام کردینے والی تھیں۔۔۔
جبکہ ان کے فسادی ارادوں سے قدرے لاپرواہ سی وہ بہتے آنسوؤں میں اپنی جلتی۔۔سوجن زدہ نگاہیں موند گئی۔۔۔۔
پھٹتے ذہن کے سیاہ پردے پر بےاختیار زیدان عالم درانی کا سفید کفن میں لپٹا ہوا بےدم وجود لہرایا تھا۔۔۔
وہ بےدم وجود جو جانے کتنی ہی بار اُسے بھاری وحشتوں تلے بھبھک بھبھک کر رونے۔۔چیخنے چلانے پر مجبور کر چکا تھا۔۔۔
آپس میں پیوست وہ ساکت لب۔۔۔
جو کبھی بڑے غرور سے مسکرایا کرتے تھے۔۔۔
وہ بےحرکت سی بند آنکھیں۔۔جن میں ہر وقت ضدی سی چمک رہتی تھی۔۔۔
وہ بےرونق سا سپاٹ چہرہ۔۔۔جو ہر وقت مردانہ وجاہت تلے کِھلا کِھلا سا رہتا تھا۔۔۔
صدا کے لیےتھم چکی وہ سانسیں۔۔۔جو بڑی شدت سے اُس کے شوخ دل کو دھڑکایا کرتی تھیں۔۔۔
سب فنا ہوچکی تھیں۔۔۔اُس کا سب کچھ ہی فنا ہوچکا تھا۔۔۔
اُسی کے سبب اب۔۔۔۔اب وہ شخص زندہ ہی نہیں رہا تھا جسے وہ دیوانگی کی آخری حد تک چاہتی تھی۔۔۔۔
زندہ تھیں تو بس اُس کی یادیں۔۔۔۔
دھڑکنیں روکتی تو کبھی حد سے ذیادہ تیز کرتی ہوئی لاتعداد یادیں۔۔۔
”زیدان۔۔۔۔۔!!!“ معاً پھڑپھڑاتے لبوں کے سنگ حسنہ نے قدرے گھبرا کر اپنی ڈبڈبائی آنکھیں وا کی تھیں۔
”خدا غارت کرے تمھیں حسنہ وقاص۔۔۔“ زیدان عالم درانی کے جنازے کو تھام کر چیختی ہوئی حفصہ بیگم اُسے اپنے مقابل ہی تو دکھائی دی تھیں۔
”فنا ہو جاؤ۔۔برباد ہوجاؤ۔۔۔کبھی سکون نہ آئے تمھیں۔۔۔تمھاری نفرت کی آگ میرے جوان بیٹے کو نگل گئی۔۔۔میرا کلیجہ نوچ گئی۔۔۔۔“ بین کرتی ہوئی آواز کان کے پردے پھاڑ دینے کو بےتاب ہوئی تھی۔
بےاختیار اپنی سن ہوتی سماعتوں پر سختی سے ہتھیلیاں جماتی حسنہ شد و مد سے نفی میں سر ہلاتی ہوئی سسک پڑی۔۔۔
”توبہ توبہ۔۔۔۔رب ایسی بہو بیٹی کسی کو بھی نہ دے۔۔۔۔اگر ہو بھی تو گلا گھونٹ کر ماردینا چاہیے۔۔۔۔“ لوگوں کے سینہ جلاتے طنز بھی پیش پیش ہی تھے۔
اُس کی عجیب و غریب حرکات ملاحظہ کرتی پکے نقوش کی وہ عورتیں حیرت زدہ سی منہ کھولے اب بھی اُسے گھورتی چلی جا رہی تھیں۔۔۔
”میں تم سے بےحد محبت کرتا ہوں حسنہ وقاص۔۔۔“ معاً بھاری۔۔شرینی لہجہ۔۔۔اُنہی سفاک بدعاؤں اور طنزوں میں گھلا تھا۔
حسنہ کے سسکتے لب یکدم ہی مسکرائے۔۔۔
”میں تمھیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔“ معاً وہی بھاری آواز اُس کے سن ہوتے دماغ پر ہتھوڑے کی مانند برسی تھی۔۔۔۔جبھی وہ اگلے ہی پل نفی میں سر ہلاتی دبا دبا سا چیخ اٹھی۔۔۔
”م۔۔میں تم سے علحیدگی نہیں چاہتی زیدان۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔ح۔۔حیا کو مارنا چاہتی تھی۔۔۔مگر۔۔۔تم۔۔ تمھیں مارنا نہیں چاہتی تھی میں۔۔۔خدا قسم تمھیں نہیں۔۔۔ پھر۔۔پھر کیوں تنہا چھوڑ گئے مجھے ہاں۔۔۔۔؟؟؟کیووووں۔۔۔۔؟؟؟؟“ چیخ چیخ کر روتی حسنہ جہاں اپنے بھیگے گال شدتوں سے پیٹنے لگی تھی۔۔۔وہیں حواس باختہ ہوتی وہ خواتین اُس کے نڈھال ہوکر گرتے وجود کی جانب بھاگ کر لپکیں۔۔۔۔
کتنوں کی ہی بدعائیں حسنہ وقاص کو نگل چکی تھیں۔۔۔۔
اُفففف۔۔۔۔۔
حالات کی سنگینیوں نے حقیقی معنوں میں اُسے قابلِ رحم ہی تو بنادیا تھا۔۔۔۔۔
”خیال جس کا تھا مجھے
خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی
سوال میں ملا مجھے؛
گیا تو اس طرح گیا
کہ مدتوں نہیں ملا
ملا جو پھر تو یوں کہ
ملال میں ملا مجھے؛
تمام علم زیست کا
گزشتگاں سے ہی ہوا
عمل گزشتہ دور کا
مثال میں ملا مجھے؛
ہر ایک سخت وقت کے بعد
اور وقت ہے
نشاں کمالِ فکر کا
زوال میں ملا مجھے۔۔۔۔“
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”آئی ایم سوری۔۔۔۔ہی از نو مور۔۔۔۔!!!“ ڈاکٹر کے لبوں سے پھسلتے وہ الفاظ کم جلتے انگارے ذیادہ تھے۔۔۔جو بڑی ہی بےدردی سے زلیخا عالم درانی کے وجود میں اندر تک اتار دئیے گئے تھے۔۔
معاً اُس نے تیزی سے بھیگتی بےیقین نگاہوں سے سفید چادر تلے ڈھکے فائق درید کی جانب دیکھا۔۔۔تو اُسی کے ساتھ لگ کر کھڑے حمزہ کا ننھا سا دل پریشانی سے دھڑک اٹھا۔۔۔
تقریباً ڈیڑھ ماہ سے وہ دونوں ماں بیٹا اُس کی عیادت کو آرہے تھے۔۔۔
اُن سمیت جانے کتنے ہی لوگ اُس کے ہوش میں آنے کی۔۔۔اُس کی صحت یابی کی خالص دعائیں مانگ رہے تھے۔۔۔
ہر روز اسی امید پر دھڑکنیں مچل سی جاتی تھیں کہ شاید اب۔۔اب وہ بےسدھ شخص اپنی آنکھیں کھول کر اُن کی حقیقی مسکراہٹوں کا سبب بنے گا۔۔۔۔
مگر آج۔۔۔آج جو دل دہلاتی خبر اُن کی سماعتوں کو سننی پڑی تھی۔۔۔وہ خود کا ہی وجود بےدم کرنے کو کافی تھی۔۔۔۔
معاً ضبط کھوتی زلیخا نے شد و مد سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے۔۔۔ تڑپ کراُس بےدم وجود سے اپنی دھندلائی نگاہیں پھیری تھیں۔۔۔
”ا۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔آ۔۔آپ نے خود کہا تھا ڈاکٹر۔۔۔کہا تھا ناں ؟؟کہ دن،،،مہینے،،،یا پھر سالوں بھی لگ سکتے ہیں۔۔۔مگر۔۔۔مگر وہ قومہ سے باہر آئے گا۔۔ضرور آئے گا۔۔تو بتائیے ناں پھر۔۔۔؟؟؟کیسے اُسے موت کی آغوش میں دھکیل کر آپ مجھے ہی موت کی نوید سنا سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟کیسےےےے۔۔۔۔؟؟؟“ ٹوٹ کر بہتے آنسوؤں میں چیختی ہوئی وہ بیڈ کے اُس پار۔۔۔مقابل کھڑے ڈاکٹر کو تاسف سے گہرا سانس لینے پر ہی تو مجبور کرچکی تھی۔۔۔
”دیکھیے مس زلیخا۔۔۔۔یہ ہاسپیٹل ہے۔۔۔یہاں پر یوں شورشرابہ کرنے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے آپ کو پلیز سنبھالیں خود کو۔۔۔۔ہم نے اپنی طرف سے آخری حد تک کوشش کی تھی آپ کے ہزبینڈ کو بچانے کی۔۔۔مگر پیشنٹ کی اپنی ہی وِل پاور اِس میں شامل نہیں تھی کہ وہ مزید زندگی جینے کا روادار ہوسکے۔۔اٹس ناٹ اوور فالٹ۔۔ایم سوری اگین۔۔۔۔۔“ دو ٹوک لہجے میں کہتا ہوا وہ ڈاکٹر مزید وہاں نہیں رکا تھا۔۔۔بلکہ اُسے سسکتا ہوا چھوڑ کر سفاکی سے پرائیوٹ روم سے باہر نکلتا چلا گیا۔۔۔۔
پیچھے زلیخا بےاختیار اپنی درد کرتی کنپٹیاں تھام گئی۔۔۔۔
پہلے ہی وہ اپنی زندگی میں کئی رشتے کھو چکی تھی۔۔۔۔
اب دل سے قریب اِس شخص کو ہمیشہ کے لیے کھودینا سانسیں کھونے کے ہی تو مترادف تھا۔۔۔
وہ غصہ۔۔۔وہ بدظنی۔۔۔وہ ناراضگیاں۔۔۔تو اُس کے سینے پر گولی کھاتے ہی اڑن چھو ہوچکی تھیں۔۔۔۔
اس کے نتیجے میں واضح ہوئی تھی تو بس۔۔۔۔
محبت۔۔احساس۔۔۔تڑپ۔۔۔۔
”مومو۔۔۔کیا ڈیڈا بھی ہمیں بابا اور ماموں کی طرح ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر جاچکے ہیں۔۔؟؟؟کیا اب یہ ہمارے پاس کبھی واپس نہیں آئیں گے۔۔۔۔؟؟؟“ قدرے اداسی سے سوال کرتا ہوا وہ حقیقتاً فائق درید کو مِس کرنے لگا تھا،،،
جو آخری دنوں میں اُس کے ساتھ حددرجہ نرمی سے پیش آتا ہوا اُس کے ننھے سے دل میں ایک بار پھر اپنی جگہ بناگیا تھا۔
معاً بےدم ہوتی زلیخا پاس رکھے سٹول پر ڈھنے والے انداز میں بیٹھی۔۔۔
”آپ کی۔۔ب۔۔بددعا لگ گئی ہے مجھے زلیخا۔۔۔یہی۔۔یہی چاہتی تھیں ناں آپ۔۔۔؟؟؟“ ساکت ہوتی دھڑکنوں کے سنگ۔۔لرزتے ہاتھوں سے مقابل چت لیٹے شخص کے چہرے سے سفید رنگ چادر ہٹاتے ہوئے وہ شدتوں سے انکاری ہوتی رو پڑی تھی۔۔۔
حمزہ بھی نازک لبوں کو بھینچے۔۔۔اپنی بھیگتی ہوئی آنکھیں مسلتا ہوا قریب ترین چلا آیا۔۔۔تو زلیخا نے دھیرے سے فائق کے زرد چہرے کو تھام کر اپنی جانب موڑا۔۔۔۔
”فا۔۔فائق۔۔۔۔!!!“ بےدم نقوش اُس کی جان نکالنے کو کافی تھے۔۔۔۔
” مجھے تمھارا۔۔ایک بار پھر سے بیوہ ہونا تو منظور ہے زلیخا عالم درانی م۔۔مگر میرے ہاتھوں طلاق یافتہ ہونا قط۔۔قطعی منظور نہیں ہے۔۔۔۔“ گھٹتی سانسوں میں بھی کس قدر مضبوط لہجہ تھا ناں اُس ستمگر کا۔۔۔۔
”نہیں بننا مجھے تمھاری بیوہ۔۔کبھی نہیں۔۔۔!!!!“ معاً زلیخا کا دانت پیس کر دبا دبا سا چیخنا بےساختہ تھا۔۔۔۔۔
ایسے میں بڑھتی یادوں کا سلسلہ اُسے اندر ہی اندر پاگل کردینے کو تھا۔۔۔
”آ۔۔آپ کی طرف سے۔۔ملنے والی نفرت۔۔بیگانگی۔۔جدائی میرے لیے۔۔م۔۔موت کے ہی تو مترادف ہے۔۔۔۔۔“ پل پل بکھرتی سانسوں پر بڑی ہمت سے ساکت پلکوں کو چھوتی وہ ہلکان ہورہی تھی۔۔۔
کیا وہ سچ میں اُسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔؟؟؟؟
اتنی آسانی سے۔۔۔۔؟؟؟
اب۔۔۔اب تو اُس کی طرف سے ہونے والا محبت کا وہ دعویٰ بھی سچا تھا۔۔۔
تو پھر۔۔۔پھر وہ تنہا کیوں کر گیا تھا اُسے۔۔۔۔؟؟؟آخر کیوں۔۔۔۔؟؟؟
”سنو۔۔۔سنو تم۔۔تمھیں میری بیگانگی۔۔۔میری نفرت۔۔۔میری جدائی موت لگتی ہے ناں۔۔۔تم ایک بار۔۔فقط ایک بار میرے پاس واپس لوٹ آؤ فائق درید۔۔۔خدا کی قسم بے پناہ چاہتیں دکھاؤں گی میں تمھیں۔۔۔تمھارے لیے اپنی محبتوں کی انتہا کردوں گی۔۔۔۔ایک ایک پل تمھاری سنگت میں ہنستے ہنستے گزار دوں گی۔۔۔۔ شکوے،،،غصہ۔۔بےزاری۔۔۔ ناراضگیاں سب ختم۔۔۔۔بس میرے پاس لوٹ آؤ ناں۔۔۔۔“ شدتوں سے ملتجی ہوتی زلیخا نے جہاں سسک کر اُس کے چوڑے سینے پر بھیگا گال ٹکاتے ہوئے رواں دھڑکنوں کو بمشکل محسوس کیا تھا،،،،
وہیں آہستگی سے اپنی آنکھیں کھولتے ہوئے فائق درید کے لب دلکشی سے مسکرائے۔۔۔۔
جبکہ اُسے یوں ٹھیک ٹھاک جاگتا دیکھ حمزہ کی نگاہیں حیرت ملی خوشی سے پھیلی تھیں۔۔۔۔
”لیں۔۔لوٹ آیا ہوں میں آپ کے پاس۔۔۔۔اب اپنی اِس قسم پر صدا قائم رہیے گا زلیخا عالم درانی۔۔۔۔“ بھاری مسکراتی ہوئی آواز میں بولتا وہ زلیخا کو قدرے ٹھٹھک کر ہوئے جھٹکے سے سیدھا ہونے پر مجبور کرچکا تھا۔۔۔
”ہاا۔۔ا۔۔۔ہ۔۔۔فا۔۔فائق۔۔۔۔فائق تم۔۔۔۔۔!! بےیقینی تلے۔۔پھٹی پھٹی بھیگی آنکھوں سے اُس کے مسکراتے نقوش کو چھوتے ہوئے اُس کے لیے بولنا محال ہی تو ہوا تھا۔۔۔
مگر پھر صورتحال کو گہرائی سےسمجھتے ہی اُس کے لرزتے لبوں کی مسکراہٹ پل میں سمٹی۔
”چٹاااااخ۔۔۔۔۔۔۔“ فائق جو بڑی محبت سے اُس کے دل دھڑکاتے نم نقوش کو تکتا چلا جارہا تھا۔۔۔معاً رخسار پر پڑتے قابلِ برداشت تھپڑ پر سختی سے لب بھینچ کر رہ گیا۔
اِس دوران قریب ہی کھڑے حمزہ نے بے ساختہ ”آؤچ“ کرتے ہوئے اپنے نازک لبوں پر حیرت سے دونوں ہتھیلیاں جمائی تھیں۔پھر بھاگ کر گھومتے ہوئے بیڈ کے دوسری طرف آ کھڑا ہوا۔۔۔
”اُفففف۔۔۔ابھی تو محبتوں کی انتہا کے بڑے دعوے کیے جارہے تھے جانِ تمنا۔۔مگر اب یہ تھپڑ۔۔۔۔یقین کیجیے مجھ جیسا مریضِ عشق ایسی سخت عنایت کے قابل نہیں ہے ابھی۔۔۔۔۔۔“ قدرے ڈھٹائی سے مسکراتے۔۔ نحیف لہجے میں کہتا ہوا وہ اطراف کی پرواہ کیے بنا ہی سفاک ہوچکی زلیخا کو پشت سے تھامتا ذرا قریب کر چکا تھا۔۔۔
گزشتہ شب ہی تو وہ قومہ سے باہر آیا تھا۔۔۔
ایسے میں ڈاکٹر سے ملنے والی خوشخبری پر درید صاحب رات کو ہی اُس سے ملنے کے لیے چلے آئے تھے۔۔۔۔
اور پھر راتوں رات ہی اُس نے اپنے باپ کی موجودگی میں ڈاکٹر صاحب کو یہ دل دہلا دینے والا ڈرامہ رچانے پر شدت سے مجبور کیا تھا۔۔۔۔
”قریب سے موت کا سواد چکھنے کے باوجود بھی تمھاری ستم کرنے کی بری عادت گئی نہیں ناں فائق درید۔۔۔کبھی پاس رہ کر ستم کرتے ہو تو کبھی دور جاکر سیدھا جان لینے پر ہی اتر آتے ہو۔۔۔۔“ بھیگی آواز میں قدرے خفا خفا سی بولتی وہ بنا اُس کی سنبھلتی طبعیت کا لحاظ کیے اب کی بار سینے پر قابلِ برداشت مکا مارچکی تھی۔۔۔
اُن دونوں کی جانب تکتے حمزہ کے لب اس کھٹی میٹھی تکرار پر اب کہ مسکرانے لگے۔۔۔۔
”اتنا حسین اظہارِ محبت سننے کے لیے یہ ستم تو لازم تھا۔۔ورنہ بڑی حد تک ممکن تھا کہ آپ کی سنگدل فطرت کے سبب ساری زندگی کے لیے محروم رہ جاتا۔۔۔۔۔“ نرمی سے زلیخا کے تپے نم گال باری باری صاف کرتا وہ سینے میں اٹھتی مدھم سی ٹیس پر بآسانی ضبط کرچکا تھا۔۔۔۔
جواباً لاجواب ہوتی وہ مقابل کے حق میں شدتوں سے دھڑکتے دل کے سنگ اُس کی چمکتی نگاہوں میں دیکھ کر رہ گئی۔۔۔۔
”ڈیڈاااا۔۔میں بھی ہوں یہاں۔۔۔!!!!“ معاً حمزہ نے منہ بسور کر اپنی موجودگی کا شدت سے احساس دلایا تو۔۔۔ چہرہ پھیر کر اُس کی جانب نرمی سے دیکھتے ہوئے فائق نے اگلے ہی پل ہنس کر بازو وا کرتے ہوئے اُسے بھی اپنے سینے سے لگایا۔۔۔۔
”اُفففف ڈیڈا کی جان۔۔۔۔۔۔“ قدرے لاڈ سے کہتا وہ صدقِ دل سے اُس کے سر پر شفقت بھرا لبوں کا لمس چھوڑ چکا تھا۔۔۔۔
حمزہ پورے دل سے کھلکھلایا۔۔۔۔
نتیجتاً ان کی جانب بغور تکتے ہوئے۔۔۔پھڑپھڑاتے دل کے ساتھ ساتھ زلیخا کی مسکراتی آنکھیں بھی بھرآئیں۔۔۔۔
اتنی تلخیوں۔۔۔دشواریوں کے بعد وہ ایک بار پھر سے اُن باپ بیٹے کے سنگ اپنا آپ مکمل محسوس کرنے لگی تھی۔۔۔
”حمزہ کے ہمراہ اب چلیں گی ناں میرے ساتھ۔۔۔۔؟؟؟“ حمزہ کو ہنوز ساتھ لگائے فائق نے مدھم نم ہوتی آنکھوں کے سنگ ادھورہ سوال داغا۔
”کہاں۔۔۔۔؟؟؟؟“ آنسو صاف کرتی وہ الجھی تھی۔
”اپنے سسرالی گھر ۔۔۔صحیح معنوں میں ایک بہو اور بیوی بن کر چلیں گی ناں۔۔۔؟؟؟“ بھاری لب ولہجے میں بڑے مان سے پوچھتا ہوا وہ زلیخا کی گداز پشت پر دباؤ ڈال کر آخری حدتک قریب کرگیا تھا۔۔۔۔
اس دوران حمزہ فائق کے چوڑے سینے سے سماعت لگائے بڑے سکون سے اپنے ڈیڈا کی زوروں سے دھک دھک کرتی دھڑکنوں کو سن رہا تھا۔۔۔۔
”ایک شرط پر۔۔۔۔“ ایک احتیاطی نگاہ حمزہ پر ڈال کر وہ فائق کی بھاری سانسوں میں مسکرا کر گویا ہوئی۔۔۔
”حکم کیجیے ناں۔۔۔۔“ گھمبیر لہجے میں بولتا ہوا وہ گلابی لبوں کی مسکراہٹ پر دلچسپی سے اپنی غلافی نگاہیں ٹھہرا گیا تھا۔۔۔
”ساری زندگی جوڑوں کا غلام بن کر رہنا پڑے گا۔۔۔۔بولو منظور۔۔۔۔؟؟؟؟“ اپنے شریر تیوروں سے مزید بہکاتی زلیخا مقابل کو نرمی سے ہنسنے پر مجبور کرچکی تھی۔۔۔۔
”دل و جان سے منظور ہے جاناں۔۔۔۔“ لہجے میں محبتوں کا جہاں سمو کر بولتا ہوا فائق درید جہاں پورے استحقاق سے اپنی محبوب بیوی کی پیشانی پر اپنا سلگتا ہوا لمبا لمس چھوڑ گیا تھا۔۔۔۔وہیں زلیخا عالم درانی بھی گہری ہوتی مسکراہٹوں کے سنگ ہمت کرتی ہوئی ،،، اُس کی دھڑکنوں پر مدھم لمس چھوڑ گئی۔۔۔
پھر بنا نگاہیں ملائے نرمی سے کسرتی کندھے پر اپنا سر رکھ گئی۔۔۔۔تو اپنی بیوی کی اِس جانلیوا ادا پر پل بھر کو حیران ہوتے فائق درید کے لب قدرے سکون سے مسکرانے لگے۔۔۔
بیک وقت اطمینان سے دھڑکتے تین دلوں پر دور کھڑی قسمت بھی نازاں ہوتی مسکرائی تھی۔۔۔۔۔
”میں نے کہا وہ اجنبی ہے
دل نے کہا یہ دلگی ہے
میں نے کہا وہ سپنا ہے
دل نے کہا پھر بھی اپنا ہے
میں نے کہا وہ دو پل کی ملاقات ہے
دل نے کہا وہ صدیوں کا ساتھ ہے
میں نے کہا وہ میری ہار ہے
دل نے کہا یہی تو پیار ہے۔۔۔“