No Download Link
Rate this Novel
Episode 21
”اِس سبز رنگ جوڑے میں بہت حسین لگ رہی ہو تم۔۔۔بہت ہی دلچسپ۔۔۔۔“ کرافٹنگ کا بچا کھچا سامان سمیٹ کر اُس نے کبرڈ میں رکھا ہی تھا،،،جب اچانک پشت سے ابھرتی بھاری۔۔ گھمبیر آواز اُس کی سماعتوں میں چبھتی ہوئی حلق تک کو کڑوا کرگئی۔
اگلے ہی پل حیا قدرے تندہی سے کبرڈ کے دروازے کو بند کرتی ہوئی مقابل کی جانب پلٹی تھی۔۔۔جو ہنوز اُسے سر تا پیر قدرے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
”جسٹ شٹ اپ۔۔۔۔تمھیں ذرا سی بھی شرم نہیں آتی اپنے بھائی کی بیوی پر ایسے بےہودہ جملے کستے ہوئے۔۔۔ایسی۔۔۔ایسی گندی نگاہیں جماتے ہوئے۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟؟“ پھنکار کر پوچھتے ہوئے حیا کے دلکش نقوش پر پل میں نفرت پھیلی تھی۔
حمزہ کے کہنے پر وہ رمیض کے کمرے میں چلی آئی تھی۔۔۔جہاں کبرڈ کے اندر سب سے چھپا کر رکھا گیا میرڈ کپل گلوب اُسکے ہاتھوں چمکیلے کور میں پیک ہونے کو شدت سے منتظرتھا۔
گفٹ کے نفاست سے پیک ہوتے ہی حمزہ نے اُسے چہک کر تھاما تھا۔پھر تھینکیو والا نرم سا ہگ کرتے ہوئے فوری کمرے سے باہر بھاگ گیا تھا۔
مگر عین وقت پر زیدان عالم درانی اوپر چھت پر ہورہی نکاح کی تقریب کو چھوڑ چھاڑ کر۔۔۔یوں موقعے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں چلا آئے گا،،،یہ حیا نے قطعی نہیں سوچا تھا۔
اُس کے لہجے کی تلخی سہتے ہوئے زیدان نے آہستگی سے گرے پینٹ کی جیبوں سے ہاتھ باہر نکالے۔پھر دو قدم اٹھاتا ہوا اُسکے قریب ترین چلا آیا۔۔۔تو بے اختیار کبرڈ سے لگتی حیا نے ناگواری سے بھنویں سکیڑیں۔
”نہیں آتی۔۔۔۔کیا کروں۔۔۔؟؟؟ بڑے بھائی کی بیوی سے پہلے میری بچپن کی منگیتر جو رہ چکی ہو تم۔۔۔۔اور منگیتر بھی وہ۔۔۔۔جو مجھ سے بے پناہ محبت کرچکی ہے۔۔۔پہلی محبت تو بھلائے نہیں بھولتی سوئیٹ ہارٹ۔۔تو پھر بھلا تم جیسی حساس ترین لڑکی کیسے اتنی آسانی سے بھلا سکتی ہے۔۔۔۔؟؟ہہمم۔۔۔؟؟“ معاً اُس کے سر کے قریب کبرڈ پر ہاتھ جماتا ہوا وہ اپنا چہرہ قریب کرکے مدھم خمارزدہ آواز میں پوچھ رہا تھا۔۔۔
حیا اُس کی بےباک جرات پر غصے سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی۔۔۔۔
”محبتوں کے ذائقے تم جیسے بےحس مردوں کے لیے نہیں بنے۔۔۔تم فقط میری بےپناہ نفرت کے حقدار ہو۔۔۔سمجھے۔۔۔۔“ مقابل کی نزدیکیوں پر غراتی ہوئی اب کہ وہ گھبرا کر ایک سائیڈ سے فرار ہونے کو تھی۔۔۔جب زیدان نے دوسرا ہاتھ بھی تندہی سے کبرڈ پر رکھتے ہوئے بروقت اُس کی ساری راہیں مسدود کیں۔۔۔
”تو تم محبتوں کے ذائقے سے آشنائی کروا دو ناں۔۔۔۔خدا کی قسم فقط تمھارے لیے میں اپنی ساری بےحسی ایک پل میں چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔“ وجیہہ چہرے کو مزید ایک انچ قریب لاتا وہ دوبدو گویا ہوا،،،،تو حیا نے بےاختیار اُس کے کشادہ سینے پر ہتھلیاں جماکر اُسے پیچھے دھکیلنے کی ناکام ترین کوشش کی۔
بےبس آنکھوں میں ناچاہتے ہوئے بھی تیزی سے نمی گھلنے لگی تھی۔
خبردار۔۔۔۔!!!قریب نہیں آنا میرے ورنہ۔۔۔۔“ مقابل کے مزید جھکنے پر ہراساں ہوتی وہ دبا دبا سا چلائی تو زیدان اُس کی گھبراہٹ سے لطف لیتا کھل کر مسکرایا۔
گلابی چہرے پر جمی۔۔۔سرخ نگاہوں کی بےباکیاں ہنوز تھیں۔
”ورنہ کیا۔۔۔۔۔؟؟؟“ چہروں کے مابین آئے محض دو انچ کے فاصلے کو ہنوز قائم کیے وہ آنکھیں سکیڑ کر قدرے تجسس سے پوچھ رہا تھا۔
جیسے کچھ بہت ضروری معلومات ہاتھ لگنے والی ہو۔اُس کی ڈھٹائی پر سانس روکتے ہوئے حیا کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گالوں پر لڑھکے۔۔۔
اِس پل اگر کوئی ایک بھی وہاں آجاتا تو۔۔۔۔۔۔؟؟؟
سوچ کر ہی دل ڈوبا تھا۔۔۔۔
اور ایک وہ تھا بےپرواہ۔۔۔۔
قدرے نڈر سا۔۔۔۔!!!
جس کی مسکراہٹ نوچ لینے کو حیا کا دل بےاختیار چاہا تھا۔۔۔۔۔
”ورنہ میں رمیض کو صاف صاف بتادوں گی کہ تم مجھے جان بوجھ کر ہراساں کررہے ہو۔۔۔۔اور پھر تمھارا حشر حقیقتاً دیکھنے لائق ہوگا زیدان عالم درانی۔۔۔۔“ ایک ایک لفظ پر زور دیتی ہوئی وہ اپنی مضبوط دھمکی سے اُسے ڈرانا چاہ رہی تھی۔۔۔مگر محض لمحے بھر کے لیے چونکتا وہ تو بےساختہ مزاق اڑاتے انداز میں ہنس پڑا تھا۔۔۔
”او کم آن ڈارلنگ۔۔۔۔اگر تمھیں لگتا ہے کہ تمھاری اِن کھوکھلی دھمکیوں سے ڈر کر۔۔۔خوفزدہ ہوکر میں اپنے قدم پیچھے لے لوں گا تو بہت بڑی غلط فہمی میں ہو تم۔۔۔جانتی ہو محبت سے کہیں ذیادہ اب ضد بن چکی ہو تم میری حیا وقاص۔۔اور میں تو ہوں ہی ازل سے ضدی بندہ۔۔۔آخر کب تک یوں کتراتی رہو گی مجھ سے ہہمم۔۔۔؟؟“ یکدم سریس ہوکر سرد لہجے میں جتاتا جہاں وہ اُس کی لٹ کو چھو تے ہوئے مزے سے آنکھ دبا گیا تھا۔۔۔وہیں حیران ہوتی حیا ایک بار پھر اُسے خود سے پرے ہٹانے پر ہلکان ہوئی۔۔۔
”نہیں ویسے۔۔ذرا گھٹن نہیں ہوتی تمھیں ایک ایسے شخص کے سنگ اپنی زندگی کے دن کاٹتے ہوئے جو ماضی میں اپنی سابقہ بیوی کی موت کا ذمہ دار ٹھہر چکا ہے۔۔۔کیسے۔۔۔؟؟؟آخر رہ کیسے رہی ہو تم اتنے سکون سے اُس سنکی انسان کے ساتھ۔۔۔ہہممم۔۔۔۔؟؟؟مانتا ہوں کہ میرا بھائی ہے۔۔۔لیکن ہے تو خطرناک قاتل ہی ناں۔۔۔۔کل کو اگر کہیں اُس نے تمھارا گلا دبا کرتمھیں بھی جان سے مار دیا تو۔۔۔؟؟؟ناقابلِ برداشت نقصان ہوگا ناں یہ تو۔۔۔نہ نہ نہ۔۔۔میں یہ سب افورڈ نہیں کر سکتا سو بہتر یہی ہے حیا کہ تم اُس سے طلاق لے کر سیدھا میرے پاس چلی آؤ میں سنبھال لو۔۔ں۔۔۔۔۔۔“ قدرے ضبط سے اپنے سینے پر اُس کے نازک مکے کھاتا وہ عجلت بھرے انداز میں فسادی الفاظ بولتا جارہا تھا،،،،جب مقابل کی سفاکیت پر اچانک برداشت کھوتی حیا نے بپھڑ کر اُس کا گریبان مٹھیوں میں دبوچا۔
”بکواس بند کرو تم اپنی گھٹیا انسان۔۔ورنہ میں تمھاری یہ بےغلام زبان گدی سے کھینچ لوں گی۔۔۔۔“ بہتے آنسوؤں میں شدید اشتعال تلے وہ اُس کے چہرے پر چلائی تو اُسکے تنے نقوش تکتے ہوئے زیدان نے سختی سے اپنے لب بھینچ لیے۔آنکھوں کی سرخی میں صاف ناگواری پھیلی تھی۔
اگلے ہی پل تاسف سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے زیدان نے کبرڈ سے ہاتھ ہٹاتے،،،جہاں اپنے گریبان کو دبوچی اُس کی دونوں کلائیاں مضبوطی سے جکڑ ی تھیں۔۔۔۔وہیں دبے قدموں کمرے کے ادھ کھلے دروازے سے اندر داخل ہوتی حسنہ کا دماغ،،، اُن دونوں کو یوں ایک دوسرے کی بانہوں میں دیکھ کر بھک سے اڑا۔
”یہ کیا جہالت ہورہی ہے یہاں۔۔۔۔؟؟؟“ حیرت سے چیخ کر پوچھتی ہوئی وہ دونوں کو شدت سے چونکاتی اگلے ہی پل تیزی سے اُن کی طرف آئی تھی۔۔۔
معاً زیدان کے فوری کلائیاں چھوڑ کر پیچھے ہٹنے پر حیا نے پانی بھری سرخ آنکھوں سے اپنی چھوٹی بہن کا سخت چہرہ دیکھا۔۔۔جہاں اُس کے حق میں یقین کی رتی بھر بھی کوئی رمق موجود نہیں تھی۔۔۔۔
”تم۔۔۔۔؟؟؟تم میرے شوہر کو تنہائی میں بلا کر،،،یہ دو ٹکے کی ادائیں دکھا کر۔۔۔اُسے اپنی جانب مائل کرنا چاہ رہی تھیں۔۔۔؟؟؟ہمت کیسے ہوئی تمھاری ایسی ذلیل حرکت کرنے کی۔۔؟؟ہاں بولو۔۔۔جواب دو مجھے۔۔۔۔؟؟؟“ نازک کندھے سے جھنجھوڑ کر جھٹکا دیتی ہوئی حسنہ بدزبانی کے ساتھ ساتھ اب کہ براہِ راست دست درازی پر بھی اتر آئی تھی۔
جبکہ اس بدترین الزام پر جہاں خفت سے سرخ پڑتے ہوئے حیا کا پورا وجود بےسکونی تلے لرز اٹھا تھا۔۔۔وہیں حیرت کو چیڑتی ہوئی ایک شاطرمسکراہٹ زیدان کے لبوں پر مچل کر فوری غائب ہوئی۔
اگلے ہی پل وہ آگے بڑھ کر حسنہ کو بازو سے تھامتا ہوا جھٹکے سے اپنی جانب موڑگیا تھا۔
”کالم ڈاؤن حسنہ۔۔۔مت بھولو کہ آج اِس گھرمیں میری بڑی بہن کا نکاح ہورہا ہے،،،کئی مہمان آئے ہوئے ہیں یہاں۔۔۔سو تمھیں یوں چیخ چیخ کر تماشہ کرئیٹ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔سمجھ رہی ہو ناں تم۔۔۔۔۔!!!“ بظاہر دانت پیس کر کہتا ہوا وہ اپنے تئیں گرم ہوچکے معاملے کو دبانے کی کوشش کررہا تھا۔۔۔
مگر حسنہ وقاص تو کیفی والے فتنے پر پہلے سے ہی پاگل ہونے کو تھی۔۔۔بھلا ایک عدد ڈپٹ سے کہاں بآسانی دب جاتی۔۔۔۔!!!
اس دوران ساکت کھڑی حیا کا تاسف زدہ چہرہ،ٹوٹ کر لڑھکتے آنسوؤں تلے بھیگتا چلا جارہا تھا۔
کس قدر سفاک تھی ناں اُس کی اپنی ہی بہن۔۔۔جو بنا سوچے سمجھے،حقیقت کو پرکھے بغیر ہی اُس پر اندھا دھند تہمت کا قہر برسا رہی تھی۔۔۔۔!!!!
ایک بار پھر سے۔۔۔۔!!!
”کالم ڈاؤن۔۔۔؟؟؟کیسے کالم ڈاؤن ہوجاؤں میں زیدان۔۔۔کیسے۔۔۔؟؟یہ عورت آپکو یوں تنہائی میں اپنی قربتوں سے روشناس کروا کر۔۔۔اپنی طرف رُجھا پھسلا کر میرا گھر برباد کرنے کی کوششوں میں ہے۔۔۔اور آپ مجھے کہہ رہے ہیں کہ میں کوئی تماشہ کرئیٹ نہ کروں۔۔۔؟؟؟کروں گی میں تماشہ۔۔۔ابھی جاکر بتاؤں گی سب لوگوں کو اِسکی بدترین اصلیت کہ کیسے۔۔۔؟؟کیسے یہ بےحیا عورت اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے بھی شریف بہنوئی پر ڈورے ڈالتی پِھر رہی ہے۔۔اپنی ہی بہن کا گھر اجاڑ۔۔۔۔۔۔“ زیدان کی سخت گرفت کو پوری شدت سے تلملا کر جھٹکتی ہوئی وہ حیا کی جانب پلٹتی ایک بار پھر سے حلق کے بل چیخی تھی۔۔۔جب ضبط کی طنابیں چھوٹتے ہی حیا کا ہاتھ پوری قوت سے اٹھا اور حسنہ وقاص کا دایاں گال تپاکر رکھ گیا۔
”چٹااااااااخ۔۔۔۔۔۔“ پورے کمرے میں گونجتی آواز کئی پلوں کے لیے حسنہ سمیت زیدان کو بھی سن کرگئی تھی۔
”تُف ہے تم پر۔۔۔اور تُف ہے تمھارے فریبی شوہر پر۔۔۔۔“ حیا نفرت سے بھرائی آواز میں پھنکارتی بےاختیار تھوک گئی تھی۔
نتیجتاً اُس کا جلالی روپ سرد مہری سے دیکھتے ہوئے جہاں زیدان نے شدت سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔۔وہیں نم آنکھوں کے ساتھ حسنہ جلتے گال پر ہاتھ جمائے ہوئے ہنوز سکتے میں کھڑی تھی۔۔۔
”حسنہ زیدان عالم درانی۔۔۔!!!کھوکھلی محبتوں کے نام پر اپنے شوہر کے ساتھ مل کر جتنی ذیادتی تم میرے ساتھ کر چکی ہو ناں۔۔۔۔اس کے بعد میں تمھیں اس قابل ہی نہیں سمجھتی کہ اپنی پاکدامنی کے حوالے سے تم جیسی دوغلی عورت کو لفظ بھر بھی صفائی دوں۔۔۔میرے لیے میرے شوہر کا اعتبار ہی کافی ہے۔۔۔۔۔“ سختی سے نم گال رگڑ کر صاف کرتی ہوئی حیا اُس پر یہ بات اچھے سے واضح کرگئی تھی۔۔۔۔
واضح کرگئی تھی کہ وقاص صاحب کی مانند وہ بھی اُن کی سیاہ کرتوتوں سے بخوبی آشنا تھی۔جواباً حسنہ کا دل ڈوب کر ابھرا۔تبھی حیا وہاں سے جاتی جاتی اچانک اُن کی جانب پلٹی تھی۔
”اور ہاں۔۔۔۔اگر تم نہیں چاہتیں کہ بانجھ ہونے کے ساتھ ساتھ بیوہ ہونے کی اذیت بھی چکھو تو بہتر یہی ہوگا کہ وقت رہتے اپنے بےلگام شوہر کو لگامیں ڈالو۔۔۔ورنہ خسارہ حقیقتاً ناقابلِ برداشت ہوگا۔۔۔۔۔۔“ گہرا سانس لے کر وارن کرتی وہ مزید وہاں رکی نہیں تھی۔۔۔بلکہ اب کی بار حسنہ کے تپے چہرے پر لفظوں کا گہرا طمانچہ مارتی ہوئی تندہی کے ساتھ کمرے سے نکلتی چلی گئی۔
پیچھے وہ دونوں ہی ویران ہو چکی دہلیز کو دیکھ کر رہ گئے تھے۔
”زیدان یہ۔۔۔۔۔“ ہوش میں آتی حسنہ یکلخت زیدان کے مقابل آکر مضبوطی سے اُس کا ہاتھ تھامتی کچھ کہنے کو تھی،جب فوری اُسے جھٹکتا وہ بےاختیار تپا۔
”یار دماغ مت کھاؤ میرا پہلے ہی بہت ٹینس ہوں میں۔۔۔۔اگر مجھ پر یقین کرنا ہے تو کرو۔۔۔نہیں کرنا تو میری بلا سے۔۔۔تمھیں اپنی صفائیاں دینے کا فی الوقت کوئی موڈ نہیں میرا۔۔۔۔۔“ درشتگی سے چڑ کر کہتا ہوا وہ اچانک اپنا موبائل فون بجنے پر حسنہ کو حیران و پریشان چھوڑ،،،لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔
پیچھے اُس نے ٹوٹ کر گالوں پر پھسلتے آنسوؤں کے سنگ۔۔۔بےدردی سے اپنا سختی سے بندھا جوڑا کھولتے ہی کیچر زمین پر دے مارا۔
”آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ۔۔۔؟؟میرے ساتھ ہی کیوں؟؟؟اُفففف۔۔۔۔پاگل ہوجاؤں گی میں۔۔۔۔“ طیش سے چبا چبا کر بولتی ہوئی حسنہ سنساتے دماغ کے ساتھ اپنے بال سفاکی سے دبوچ کر رہ گئی تھی۔
”ہیلو۔۔۔۔۔۔۔!!!“ تیزی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے۔۔۔زیدان کال اٹینڈ کرتا موبائل فون کان سے لگا چکا تھا۔
”زیدان۔۔۔۔۔؟؟؟“ اسپیکر سے ابھرتی کسی عورت کی جھجکتی۔۔شیرینی آواز نے اُسے چونکایا۔
”ہاں میں ہی ہوں۔۔۔۔آپ کون۔۔۔؟؟؟“ الجھن سے لاؤنج کو پار کرتے ہوئے وہ اِس آشنا سے لب و لہجے کو چاہ کر بھی پہچان نہیں پا رہا تھا۔
”میں بات کررہی ہوں۔۔۔روزینہ۔۔۔۔تمھاری ایکس بھابی۔۔۔۔“ معاً سماعتوں سے ٹکراتی خالصتاً انگریزی نے جہاں زیدان عالم درانی کے اٹھتے قدموں کو شدت سے ساکت کیا تھا۔۔۔۔وہیں پیشانی پر پڑے بل بےیقینی تلے سمٹتے چلے گئے۔
”وہااااااٹ۔۔۔۔۔“ اِس دماغ سن کرتے انکشاف پر حلق سے پھوٹتا یک لفظی جملہ بےساختہ تھا۔۔۔۔
وہ۔۔۔وہ تو رمیض عالم درانی کے ہاتھوں مر چکی تھی ناں۔۔۔۔۔!!!!
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ ڈریسنگ ٹیبل کے آگے کھڑی،،،ہلکے موتیا رنگت کے کامدار دوپٹے کو اتارنے کے بعد اب کان سے سونے کا بھاری جھمکا اتار رہی تھی۔۔۔جب اچانک شفاف آئینے میں ابھرتا کیفی کا وجیہہ عکس زلیخا کو چونکا گیا۔
اگلے ہی پل وہ اُس کی کان کی گلابی لُو کو چھوتا ہوا بذاتِ خود دوسرے جھمکے کو بھی آہستگی سے اتار گیا تھا۔
نتیجتاً اُس کے دل دھڑکاتے مردانہ لمس پر زلیخا کے بھرے بھرے گلابی رخسار پل میں سرخ ہوئے تھے۔
”آپ شرما رہی ہیں مجھ سے۔۔۔۔؟؟؟؟“ اُسکی دھڑکنیں مزید بےہنگم کرنے کی خاطر۔۔۔اب کہ بھاری نیکلس کو احتیاط سے اتارتا ہوا وہ بڑی ہی سادگی سے چھیڑ رہا تھا۔
ایسے میں معمول سے ہٹ کر حمزہ کا آج اشتیاقاً اپنی نانی جان کے پاس سونا بھی تو اُس شخص کو بند کمرے میں خاموش بےباکیوں پر مجبور کررہا تھا۔
”ڈر رہی ہوں۔۔۔۔“ مضبوط انگلیوں کی نرم سرسراہٹ کو نظر انداز کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی زلیخا بمشکل گویا ہوئی۔
”اپنے شوہر سے۔۔۔۔؟؟؟“ نیکلس اتار کر ڈریسنگ ٹیبل پر رکھتا وہ مصنوعی حیران ہوا تھا۔
زلیخا نے آئینے میں کیفی کے دل دھڑکاتے نقوش بغور دیکھے۔
”نہیں۔۔۔۔۔اپنی قسمت سے۔۔۔۔
جو بلاوجہ ہی مجھ پر اتنی مہربان ہورہی ہے۔۔۔۔۔“ کہیں نہ کہیں وہ اب بھی بے یقین سی تھی۔
معاً کیفی ہولے سے مسکراتا ہوا اُس کا رخ نرمی سے اپنی جانب موڑ گیا۔
”اب اگر قسمت آپ پر مہربانیاں کرنے پر رضامند ہے ہی تو پھر جواب میں آپ کا یوں ڈرنا بنتا نہیں ہے زلیخا فائق درید۔۔۔“ اداکاری کی حد کرتا ہوا وہ بآسانی زلیخا کا جوڑا کھول چکا تھا۔
جواباً مٹھیاں بھینچ کر کھولتے ہوئے،،،مقابل کی پُراستحقاق قربت زلیخا کی سانسوں پر پل پل بھاری پڑتی جارہی تھی۔
”ہمت کیجیے ناں۔۔۔یوں کترانے کی بجائے حقیقت کو تسلیم کیجیے۔۔۔۔کٹھن زدہ زندگی کے خوبصورت ترین پہلو بھی ہوا کرتے ہیں۔۔۔جنھیں پورے حق سے محسوس کرنا اب آپ کے اختیار میں ہے۔۔۔اگر آپ چاہیں تو۔۔۔۔۔!!!“ کندھوں سے تھام کر زلیخا کو پلنگ تک لاکر بیٹھاتا۔۔۔وہ اُسے چھیڑکر اچھا خاصا لطف ہی تو لے رہا تھا۔
اندرکہیں پورا اطمینان تھا کہ وہ مغرور عورت اُس کی بناوٹی پیش قدمی پر کبھی بھی مثبت جواب نہیں دے گی۔۔۔
جبکہ اپنے کم عمر شوہر کی اس قدر نرمی۔۔۔۔
اس قدر عنایت۔۔۔
اور دل کو گدگداتی ہوئی اس قدر میٹھی التجاء پر۔۔۔
زلیخا کا شدتوں سے دھڑکتا دل یک دم ہارا تھا۔
”تم بیمار دلوں کو اپنا مریض بنانا بہت اچھے سے جانتے ہو۔۔۔“ چمکتی آنکھوں میں جھانک کر آہستگی سے جتاتی ہوئی وہ اپنے بدلتے تیوروں سے کیفی کو ٹھیک ٹھاک چونکا گئی تھی۔
”ناچاہتے ہوئے بھی بےحال دھڑکنیں تمھاری دی گئی ہدایات پر عمل کرنے کو مچلنے لگتی ہیں۔۔۔کہاں سے سیکھا یہ فن۔۔۔؟؟؟“ اپنے بازوؤں پر اُس کی ڈھیلی پڑتی گرفت کی پرواہ کیے بنا ہی۔۔زلیخا بےاختیار اُس کے قریب ہوتی اپنی بانہیں اُس کے کندھوں پر پھیلانے کی ہمت کرگئی تھی۔
پیشانی پر تیوری ڈال کر قدرے قریب سے اُس کے سجے نقوش دیکھتے ہوئے کیفی کا رنگ شدت سے متغیر ہوا۔دھڑکنیں بےساختہ متفکر ہوتی مچلی تھیں۔
”نہیں جانتا۔۔۔۔مگر یہ ضرور جان گیا ہوں کہ اب آپ واقعی میں میری جانب بہک رہی ہیں زلیخا۔۔۔۔ل۔۔لیکن اگر آپ دل سے پوری طرح رضامند نہیں ہیں تو میں انتظار۔۔ر۔۔۔۔“ دلچسپ حالات پلوں میں غیرمتوقع ہوتے دیکھ کیفی،،،اپنے تئیں بچنے کی کوشش میں بےاختیار دور ہوا تھا،،،
جب اچانک اُس کے سحر میں پوری طرح سے جکڑ چکی زلیخا بروقت قریب ترین ہوکر۔۔۔اُس کے ہلتے لبوں پر اپنی شہادت کی انگلی جماتی ہوئی ڈگمگاتے الفاظ ضبط کرگئی۔
اِس واضح بےباکی پر حیران ہوتے کیفی کا وحشت زدہ دل ساکت سا ہوا تھا۔اپنے بچھائے جال میں وہ آپ ہی پھنس جائے گا کہاں سوچا تھا بھلا۔۔۔
”ششش۔۔۔مجھے اپنی جانب اکسانے والے۔۔۔میرے ہر ڈر کو بھگانے والے تمہی تو ہو شوہر جی۔۔۔۔اور جب کوئی ڈر باقی نہ رہے تو پھربہکنا لازم ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔“ معاً اپنی نرم پوروں سے مقابل کے سنجیدہ ترین نقوش ایک ایک کرکے چھوتی زلیخا نے جہاں سلگتی سرگوشیاں کرتے ہوئے اپنا آپ محبتوں میں بےلگام کیا تھا۔۔۔وہیں گزرتی ہوئی اِس سیاہ رات میں فائق درید بھی اپنی خمار زدہ سرخ نگاہیں ضبط سے موندتا ہوا۔۔۔مجبوراً باغی ہوتا چلا گیا۔۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
نکھرے نکھرے چاند کی روشنی اِس پل اُس کے وجیہہ چہرے پر پھیلی حددرجہ سنجیدگی کو بخوبی واضح کر رہی تھی۔۔۔کمرے کی کھلی کھڑکی سے کبھی چمکتے چاند تو کبھی لامحدود آسمان کی سیاہ رنگت کو تکتا ہوا وہ ایک سگریٹ پھونک کر پھینک بھی چکا تھا۔
ہاں وہ نہیں جانتا تھا کہ اصل معاملہ کیا ہوا تھا مگر جب سے حیا۔۔۔درانی پیلس سے ہوکر گھر واپس لوٹی تھی،،،بجھی بجھی سی تھی۔۔۔اُس نے زور دے کر وجہ پوچھنا بھی چاہی تھی۔۔۔مگر وہ بمشکل مسکرا کر صاف نفی میں سر ہلاتی ہوئی بات کو بآسانی ٹال گئی تھی۔
معاً رمیض نے بےچینی سے پلٹ کر بیڈ کی جانب دیکھا تھا،جہاں وہ اُس کی جانب پشت کیے۔۔۔کھلے بالوں کے سنگ ہنوز سبز فراک پہنے ہوئے اپنی جگہ پر قدرے سکون سے سو رہی تھی۔اچانک موبائل فون کی بجتی پُرشور بیل نے کمرے کے گہرے سکوت کو توڑا تھا۔
نتیجتاً رمیض نے چونک کر سفید کرتے کی جیب سے فوری اپنا موبائل فون باہر نکالا۔پھر سیدھے ہوتے ہوئے ایک الجھی نگاہ جلتی اسکرین پر ڈالی۔۔۔جہاں شو ہوتا نمبر اُس کی پہچان کا قطعی نہیں تھا۔ گزشتہ روز بھی شاید اسی اَن ناؤن نمبر سے اُسے کئی کالز آچکی تھیں،،،جسے وہ ریسٹورنٹ میں خاصی مصروفیات کے سبب بالکل بھی اٹینڈ نہیں کرسکا تھا۔
”ہیلو۔۔۔۔۔؟؟؟“ اگلے ہی پل یس کرکے موبائل فون کان سے لگاتا وہ نرمی سے بولا،،،تو جہاں بےسکون سوچوں تلے جاگی ہوئی حیا نے آہستگی سے اپنی گلابی نم آنکھیں کھولی تھیں۔۔۔وہیں دوسری طرف ایک عرصے بعد اُسکی بھاری آواز سنتی ہوئی وہ بےاختیار اپنے دھڑکتے دل پر ہاتھ جما گئی۔
”ہیلو۔۔۔۔۔؟؟؟ہیلو۔۔۔۔؟؟؟کون۔۔۔؟؟آواز آرہی ہے۔۔۔۔؟؟؟ڈیم۔۔۔وٹ دی پرابلم۔۔۔۔۔!!!“ کسی کے بھی جواب نہ دینے پر رمیض نے بےزاریت سے اسکرین کو چیک کیا تھا۔۔۔۔کال ہنوز چل رہی تھی مگر آواز۔۔جواب ندارد۔۔۔
”ہیلو۔۔۔اب کوئی کچھ بولے گا بھی کہ نہیں۔۔۔۔۔؟؟“ کوفت زدہ ہوتے ہوئے اب کہ وہ مجبوراً کال کو لاؤڈ اسپیکر پر ڈال چکا تھا۔
روزینہ جو اُس کے مخصوص لب و لہجے سے اپنی پیاسی سماعتوں کو راحت پہنچا رہی تھی،،،مقابل کے زور دے کر بولنے پر یکدم ہوش میں آئی۔۔۔ورنہ ممکن تھا کہ اب وہ سیدھا کال ہی کاٹ ڈالتا۔
”رومی۔۔۔۔۔!!!“ لہجے میں ڈھیروں محبت سموئے وہ آہستگی سے بولی،تو اِس نسوانی آواز کو لمحے کے ہزارویں حصے میں پہچانتے ہوئے رمیض عالم درانی بےساختہ تھما۔۔۔
تلخ ماضی کی دلدل میں غوتہ کھاتے دل کی دھڑکنیں پل میں سلگ اٹھی تھیں۔ایسے میں ہنوز بےحس و حرکت لیٹی حیا بھی اِس طرزِ تخاطب کو بآسانی سنتی ٹھٹکی۔پھر آہستگی سے اپنا رخ اُس کی جانب موڑ گئی۔
معاً موبائل فون پر اپنی گرفت خطرناک حد تک سخت کرتے ہوئے رمیض کا انگ انگ نفرت سے تن چکا تھا۔
بدقسمتی سے اِس پل وہ عورت اُس سے مخاطب تھی جس کا خیالوں میں تصور کرنا بھی اب اُسے قطعی گوارا نہیں رہا تھا۔
”رومی۔۔۔رومی میں ہوں تمھاری روزینہ۔۔۔۔یور روز رومی۔۔۔۔پلیز اپنی بار میں اب یوں خاموش مت رہو۔۔۔۔کچھ تو بولو ناں میرے لیے۔۔۔۔اچھا برا کچھ بھی۔۔۔میں تمھیں سننا چاہتی ہوں۔۔۔بڑی شدت سے سننا چاہتی ہوں رومی۔۔۔ پلیززز۔۔۔۔۔۔“ اُس کی سنگین خاموشی کو سمجھ کر ایک دم سے ہی جذباتی ہوتی روزینہ صاف روہانسی منتوں پر اتر آئی۔۔۔تو سختی سے اپنے لب بھینچتے ہوئے جہاں رمیض کی سیاہ آنکھوں میں نمی کے سنگ ناگواری کی گہری سرخی پھیلی تھی،،،وہیں اُسکے شستہ انگریزی میں بولے گئے لفظوں پر۔۔۔بےاختیار اٹھ کر بیٹھتی حیا نے قدرے بےیقینی سے اپنے شوہر کی چوڑی پشت کو دیکھا۔
کال پر اِس پل روزینہ محوِ گفتگو تھی۔۔۔۔۔
روزینہ۔۔۔رمیض عالم درانی کی سابقہ بیوی۔۔۔؟؟سوچتے ہوئے حیا کا دل شدتوں سے ڈوب کر ابھرا۔رات کہ اِس پہر یہ غیرمتوقع انکشاف روح پر بھاری ترین ہی تو ثابت ہوا تھا۔
اپنی تڑپ دکھاتی روزینہ لاؤڈ اسپیکر پر جانے اور کیا کچھ بولتی چلی جا رہی تھی۔۔جب ضبط ٹوٹتے ہی رمیض نے قدرے تنفر سے کال کاٹتے ہوئے فوری نمبر کو بلاک کیا۔
پھر خود کی اذیت پر قابو پانے کو۔۔۔۔بالوں میں ہاتھ پھیر تے ہوئے گہرے گہرے سانس لیتا پیچھے پلٹا۔۔۔تو بنا دوپٹے کے عین سامنے کھڑی حیا اُس کا رنگ متغیر کرگئی۔
”وہ۔۔۔زندہ۔۔۔ہے۔۔۔۔؟؟؟“ حیرت سے ہلتے پنکھڑی لبوں نے بڑی شدت سے مقابل کا دل بےچین کیا تھا۔
”حیا تم۔۔۔۔۔!!!“ بےبسی سے اُسے مخاطب کرتے ہوئے رمیض کی بھاری آواز کمزور پڑی تو وہ بھیگی آنکھوں کے سنگ نفی میں سر ہلانے لگی۔
”میں نے بذاتِ خود اُس کی آواز سنی ہے۔۔۔۔اس کا مطلب آ۔۔۔آپ قاتل نہیں ہیں۔۔۔؟؟ہاں۔۔۔ہاں آپ قاتل نہیں ہیں۔۔۔۔آپ کبھی قاتل تھے ہی نہیں رمیض عالم درانی۔۔۔۔کیونکہ آپکی سابقہ بیوی زندہ ہے۔۔۔۔“ اُس سے ذیادہ خود کو یقین دہانی کرواتے ہوئے حیا کی آواز لرز رہی تھی۔اگلے ہی پل طیش زدہ سی قریب ترین آکر اُس کے سفید گریبان کو مٹھیوں میں دبوچتی وہ رمیض کی سرخ آنکھوں کی جلن مزید بڑھا گئی تھی۔
”جب وہ عورت زندہ ہے تو پھر آپ نے کیوں جھوٹ بولا۔۔۔؟؟مجھ سے۔۔۔سب گھر والوں سے۔۔۔۔یہاں تک کہ اپنے آپ سے بھی۔۔۔۔کیوں۔۔۔؟؟؟کیوں سب کی نظروں میں جان بوجھ کر ایک بناوٹی قاتل بنے رہے۔۔۔؟؟کیوں اپنے ناکردہ جرم کی بدولت میرے دل میں اپنے لیے نفرت بھری آپ نے۔۔۔؟؟جواب دیں مجھے۔۔۔کیوں۔۔۔؟؟؟“ ٹوٹ کر بہتے آنسوؤں میں غصے سے پوچھا جانے والا ایک ایک سوال اُس کے اندر پچھتاوے بھر رہا تھا۔
معاً پیشانی پر ناگوار تیوریاں چڑھاتے ہوئے رمیض نے اُس کے بازوؤں کو اپنی مضبوط گرفت میں تھامتے مزید اپنی جانب جھٹکا دیا۔۔۔تو کلون میں رچی سگریٹ کی مہک حیا کے حواسوں پر بکھری۔۔۔
”کچھ جھوٹ نہیں بولا میں نے۔۔۔سچ ہے کہ وہ مر چکی ہے۔۔۔۔یہ بھی سچ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اُس دغا باز۔۔۔اُس۔۔۔اُس بدکردار عورت کا بےدردی سے گلا گھونٹا تھا میں نے۔۔۔۔“ حیا کے بھیگتے ہوئے گلابی چہرے پر غراتے ہوئے اُس کا سلگتا لہجہ دھیما تھا۔
”کیا ہوا اگر جو میرے اندر کے ضمیر نے اُسے آخری سانسوں پر زندہ چھوڑنے کے لیے شدتوں سے مجبور کردیا تو۔۔۔۔؟؟کیا۔۔کیا ہوا اگر اُس کا جیتا جاگتا وجود اِس دنیا کی نظروں میں زندہ ہے بھی تو۔۔۔۔؟؟میرے لیے۔۔۔۔رمیض عالم درانی کے لیے تو وہ سر تا پیر فنا ہوچکی ناں۔۔۔تو پھر کیسے نہ کہوں کہ مر چکی ہے وہ۔۔۔۔؟؟کیسے نہ کہوں۔۔۔ہہممم حیا۔۔۔۔؟؟؟؟“ اپنی سلگتی سانسوں تلے مسلسل اُسکا چہرہ جھلساتے ہوئے،،،وہ دانت پیس کر اپنے پوشیدہ جذبات بتاتا رفتہ رفتہ ٹوٹ ہی تو رہا تھا۔۔۔انگارہ آنکھوں کی سرخ نمی ناچاہتے ہوئے بھی بڑھنے لگی تھی۔
جواب میں ایک بار پھر سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے حیا کا بےلگام ہوتا دل اُس کے لیے مچلنے لگا۔جذبات تو شاید دبا راز فاش ہوتے ہی بدل چکے تھے۔
”جو بھی ہو جیسا بھی ہو۔۔۔مگر آپ بالکل بھی قاتل نہیں ہیں رمیض عالم درانی۔۔۔ہاں میرا شوہر قاتل نہیں ہے اور یہ حقیقت آپ کے بولے گئے ہر سچ۔۔ہرجھوٹ۔۔ہر خود ساختہ تصور پر بھاری ہے۔۔۔سن رہے ہیں ناں آپ۔۔۔!!!“ گریبان کو چھوڑتی ہوئی اب کہ وہ آہستگی سے اُس کا تنا لال چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھامنے کی جرات کرگئی تھی۔
جبکہ اپنی گھنی شیو پر محسوس ہوتے اُس کے کپکپاتے لمس پر۔۔۔بےساختہ حیران ہوتے رمیض کا دل شدت سے دھڑک اٹھا۔
ہاں۔۔۔وہ خود سے ہی تو اُس کے قریب آرہی تھی۔۔۔
”اور میری محبت۔۔۔۔؟؟؟وہ کیوں تمھارے دل۔۔۔تمھارے احساسات۔۔۔اور تمھارے گریز۔۔۔پر بھاری نہیں پڑتی۔۔۔۔؟؟؟کیوں تم میری ذات۔۔۔میرے جذبات۔۔۔اور میری قربتوں سے اس قدرکتراتی ہو۔۔۔۔؟؟؟اب بھی کیوں۔۔۔؟؟؟“ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھاری لہجے میں شکوہ کرتا ہوا وہ بےاختیار اُس کی نازک کمر کے گرد اپنا بازو سختی سے حمائل کرگیا،،،تو آخری حد تک قریب ہونے کے سبب بےساختہ مقابل کے چوڑے۔۔دھڑکتے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے حیا کا تنفس شدت سے بگڑنے لگا۔
وہ کتنی آسانی سے ساری باتوں کا رخ فقط اُس کی جانب موڑ گیا تھا ناں۔۔۔
معاً ہمت بکھرنے پر نگاہیں جھکاتی حیا نچلا لب کچلتی سرخ پڑی۔دو آنسو بڑی آہستگی سے گالوں پر لڑھکے تھے۔
”ہ۔۔ہاں یہ سچ ہے کہ میں کتراتی آئی ہوں۔۔۔۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ کے حق میں بےایمان ہوچکا میرا یہ دل اب۔۔۔اب پورے حق سے آپ کی عنایتیں سمیٹنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔“ لرزتی ہتھیلی تلے مقابل کی بےہنگم۔۔۔گداز دھڑکنوں کو شدت سے محسوس کرتی ہوئی وہ پل میں خود کو ہر بندش سے آزاد کرواگئی تھی۔
اُس کی نم جھکی پلکوں کی لرزاہٹ بغور تکتے ہوئے رمیض عالم درانی کے جذبات شدت سے بھڑکنے لگے۔
اگلے ہی پل وہ پوروں تلے اُس کے نم گال نرمی سے رگڑتا صاف کرچکا تھا۔
”تو یعنی اب میری بیوی واقعی میں مجھے پورے دل سے تسلیم کرنے کے لیے رضامند ہے۔۔۔۔؟؟؟“ اپنی حیرت دبا کر قدرےسنجیدگی سے تصدیق کرتے ہوئے۔۔۔بےاختیار اُس نے حیا کے کھلے بالوں کی دلفریب خوشبو کو آنکھیں موند کر اپنے اندر جذب کرنے کی کوشش کی تھی۔
جواباً حیا نے شکستہ۔۔نرم نگاہیں اٹھاتے ہوئے مقابل کا پُرسکون وجیہہ چہرہ دیکھا۔۔۔جو اپنی خمار زدہ آنکھیں کھولتے ہوئے بےتابانہ اُس کے نقوش ازبر کرنے لگا تھا۔
انداز قدرے منتظر سا تھا۔۔۔۔
”کسی بھی رشتے کو پوری طرح سے نبھانے کے لیے دو طرفہ محبت اور اعتبار کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے یہ بات آپ نے ہی مجھ سے کہی تھی ناں۔۔۔؟؟؟آج۔۔۔اِس پل۔۔۔ ہمارے مابین دوطرفہ محبت بھی پنپ رہی ہے اور دو طرفہ اعتبار بھی۔۔۔ایسے میں رضامندی تو پھر بڑی لازم سی شے ہے رمیض صاحب۔۔۔۔“ کپکپاتی ہوئی اقرار بھری یہ ادا۔۔۔۔اُفففف۔۔۔۔
بڑی ہی گہرائی سے مثبت جواب دیتی ہوئی وہ مقابل کو اپنی جانب شدتوں سے بہکا گئی تھی۔۔۔
”بہت خوبصورت ہو تم۔۔۔۔۔“ بےخود ہوکر اُس کے کومل چہرے کو بھاری ہاتھوں میں نرمی سے تھامتے ہوئے رمیض کے لب سرسرائے۔
”نقوش پر جچتی ہوئی یہ معصومیت۔۔۔۔“ شرم سے تمتماتے گال دھیرے سے سہلاتے ہوئے سرگوشی بھاری ہوئی تھی۔
نتیجتاً حیا کا شدتوں سے دھڑکتا دل سرکتے ہوئے لمس پر اب کہ رکنے کو آیا۔۔۔
” گلاب لبوں کی یہ تھرتھراہٹ۔۔۔۔“ نیم وا لبوں پر نگاہ ٹھہرتے ہی وہ مبہوت سا ہونے کو تھا۔۔۔۔جب یکدم خائف ہوکر اُسکا ڈھیلا وجود بآسانی پیچھے دھکیلتی ہوئی وہ اپنا رخ موڑ گئی۔
سہمے وجود میں آنے والے خوشگوار لمحات کی بابت کھلبلی سی مچنے لگی تھی۔
جبکہ اُسے یوں گہرے گہرے سانس بھرتا دیکھ کر رمیض کے لبوں پر دھیرے سے دلکش مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی۔
”شرم میں بھیگتی ہوئی یہ گھبراہٹ۔۔۔۔“ پشت پر آکر رکتے ہوئے وہ سماعت پر جھک کر میٹھی سرگوشی کرنے سے اب بھی باز نہیں آیا تھا۔
حیا کے لبوں پر شرمیلی سی مسکراہٹ اپنی جھپ دکھلا کر سمٹی۔
”ر۔۔۔رمیض۔۔۔۔۔“ معاً رمیض نے جھٹکے سے اُس کا رخ اپنی جانب موڑا تو ایک بار پھر سے اُس کے حددرجہ قریب ہوتی وہ منمناکررہ گئی۔
”بکھرتی ہوئی یہ سانسیں۔۔۔اور ان سانسوں میں رچی ہوئی وفا کی مہک۔۔۔بخدا تمھاری ایک ایک ادا جانلیوا ہے بیوی۔۔۔۔“ دو پل کو گھنی بئیرڈ رگڑ کر تپتے گالوں کو تھامتا وہ اگلے ہی پل آہستگی سے حیا وقاص کی نم ہوتی پیشانی پر سلگتے لبوں کا لمس چھوڑ گیا تھا۔
”اِس قدر جانیلوا کہ اب محض محبت پر ہی اکتفا کرنے کو جی نہیں چاہتا۔۔۔بلکہ عمر بھر کے لیے تمھارے سنگ۔۔عشق کی آتش میں رفتہ رفتہ سلگنے کو جی چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔“ لفظ لفظ سے حیا وقاص کو اپنی محبتوں کے مان بخشتا جہاں وہ پورے استحقاق سے اُس کا نازک لرزتا وجود اپنی مضبوط ترین بانہوں میں بھر چکا تھا۔۔۔وہیں وہ بھی بھاری سانسوں کے سنگ سرشار سی رمیض عالم درانی کو تھامتی ہوئی،،،اگلے ہی پل چوڑے کندھے پر سر ٹکائے قدرے سکون سے اپنی آنکھیں موند گئی۔۔۔
بلاشبہ سیاہ رات تلے گزرتے ہوئے دلفریب لمحات۔۔۔
بولتی تنہائیاں۔۔۔
دھڑکتے دل۔۔۔۔
کھلکھلاتی محبتیں۔۔۔
سلجھتی روحیں۔۔۔
پُر استحقاق قربتیں۔۔۔
سب کچھ ہی تو اطمینان بخش تھا۔۔۔
بےحد اطمینان بخش۔۔۔۔۔۔
”آتشِ عشق سے میں ڈر چکا تھا،
ڈر چکا تو تم ملے
دل تو کب کا جل چکا تھا،
جل چکا تو تم ملے
جب میں رفتہ رفتہ سلگ رہا تھا
تب کہاں تھی اے زندگی
وجودبھی غم سے بھر چکا تھا،
بھر چکا تو تم ملے
بے قراری،پھر محبت،
پھرسے دھوکہ اب نہیں
فیصلہ میں کر چکا تھا،
کر چکا تو تم ملے
میں تو سمجھا؛
سب سے بڑھ کر سفاک تھا میں یہاں
خود پہ تہمت دھر چکا تھا،
دھر چکا تو تم ملے۔۔۔“
