Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 30

وہ بہتے آنسوؤں میں شکست زدہ سی اِس عمارت سے باہر نکلی تھی۔۔۔
ایسے میں بیرونی دہلیز پر ایستادہ کھڑے گارڈ نے اُس کی بکھری بکھری سی حالت بغور دیکھی تھی۔۔۔۔جو اطراف سے لاپرواہ قدم قدم اٹھاتی آگےکو بڑھتی چلی جارہی تھی۔۔۔
”تم سے بے انتہا محبت کی تھی میں نے۔۔۔بےحد۔۔۔بےدریغ۔۔۔اندھی۔۔۔خود غرض۔۔۔ہر قسم کی محبت۔۔۔مانتی ہوں بہت بڑی بڑی خطائیں سرزد ہوئی ہیں مجھ سے۔۔۔لیکن تمھاری طرف سے جو صلہ مجھے ملا میں وہ قطعی ڈیزرو نہیں کرتی تھی زیدان عالم درانی۔۔۔کم از کم طلاق جیسا بدترین داغ تو بالکل بھی نہیں۔۔۔“ مقابل کا گریبان پکڑے وہ کتنے ضبط سے بھیگا شکوہ اُس کی لاپرواہ سماعتوں میں انڈیل رہی تھی ناں۔۔۔۔
مگر بےزاری سے کان کی لو کھجاتا ہوا وہ دھیرے سے ہنس پڑا تھا۔۔۔۔
یادوں کی گہرائی میں جاتے ہوئے حسنہ کا تنفس پھر سے بگڑنے لگا۔
”آئی ناؤ یار دیوانی تھیں تم میری۔۔۔اور اب تک ہو۔۔۔۔آئی ناؤ ویری ویل۔۔۔لیکن کیا ہے ناں سوئیٹ ہارٹ۔۔۔سارا معاملہ اِس۔۔۔اِس دھڑکتے دل کا ہے۔۔۔اسی نے مجبور کیا تھا مجھے تمھیں طلاق دینے کے لیے۔۔۔اور اب یہی دل شدتوں سے حیا وقاص کو اپنا بنانے کی چاہ کررہا ہے۔۔۔۔خدا قسم اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی تمھیں کبھی طلاق نہ دیتا اگر۔۔۔تمھاری بڑی بہن کو اپنی بیوی بنانا مقصود نہ ہوتا تو۔۔۔۔“ اُس کا یوں سینہ مسلتے ہوئے دھڑلے سے بولنا حسنہ کو زہریلے تیر کی طرح ہی تو لگا تھا۔۔۔۔
”ت۔۔تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔میرے جیتے جی تو بالکل بھی نہیں۔۔۔م۔۔میں تمھیں خود پر یہ ناقابلِ برداشت ذیادتی کبھی نہیں کرنے دوں گی۔۔۔۔۔۔“ پھٹی پھٹی نگاہوں سے اُس کا سفاک چہرہ دیکھتی وہ شدتِ بےبسی سے چیخ پڑی تھی۔
اُس غلطیوں کی وجہ سے نہیں بلکہ حیا وقاص کی چاہ میں اُسے طلاق ملی تھی۔۔۔۔
یہ جان کر تن بدن کا نفرت سے جھلس جانا تو بےساختہ تھا۔۔
”ارے اتنا بپھر کیوں رہی ہو۔۔؟؟؟تمھارے یوں چیخنے چلانے سے نہ تو میرا دل بدلے گا۔۔اور نہ ہی یہ خوبصورت حقیقت۔۔۔۔حیا کو اپنے نکاح میں لینے کے بعد میں اُس کے ہمراہ ہمیشہ کے لیے لندن شفٹ ہوجاؤں گا۔۔۔اور پھر تم سب سے دور ایک پرسکون زندگی ہم دونوں کی منتظر ہوگی۔۔۔۔“ اپنے پکے ارادوں سے آگاہ کرتا زیدان مزے سے اُس کے انگ انگ میں زہر اتارتا جارہا تھا۔۔اور وہ۔۔۔وہ زوروں سےنفی میں سر ہلاتی ہوئی پاگل ہوتی جارہی تھی۔
”ن۔۔نہیں۔۔۔نہیں نہیں نہیں۔۔۔ایسا نہیں ہوسکتا۔۔۔۔۔“ سڑک کے کنارے سست روی سے چلتی ہوئی حسنہ دانت پیس کر اپنا پھٹتا دماغ تھام گئی۔
”ہاں۔۔۔۔ایسا ہی ہوگا حسنہ بی بی۔۔۔اب میری فکریں چھوڑو۔۔۔اور سارا دھیان اپنے بیچارے بوڑھے باپ کی طرف لگاؤ جو کمزور ترین دل کے ساتھ اتنے دنوں سے ہاسپیٹل میں زیرِ علاج ہے۔۔۔۔۔“ آس پاس بکھرتی ہوئی وہ بھاری آواز تمسخر ہی تو اڑا رہی تھی۔۔۔
اُس کا۔۔۔
اُس کے باپ کا۔۔۔
اُس کی محبتوں کا۔۔۔۔
اُس کے آنسوؤں کا۔۔۔۔
اُس کی بےبسی کا۔۔۔۔
اور اِن گہری اذیتوں کا سبب کس کی ذات بنی تھی بھلا۔۔۔؟؟؟
”حیا وقاص۔۔۔۔۔!!!!“ شدتِ نفرت سے حسنہ کے پنکھڑی لب لرزے۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں اگر وہ نہ ہوتی تو آج اُسے یوں ذہنی و جسمانی بےسکونیاں کبھی نہ جھیلنی پڑتیں۔۔۔۔
وہی۔۔۔وہی تو تھی سارے فساد کی حقیقی جڑ۔۔۔۔!!!
پل پل ڈھلتے سورج تلے اُس نے اپنے بھیگے سرخ گالوں کو بےدردی سے رگڑ کر صاف کیا۔
دل غم و غصے کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
اُسے زندہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔
بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔
نفرتوں میں ہلکان ہوتی حسنہ بھاری ہورہے دماغ میں آنے والی اِس خطرناک سوچ پر بڑی شدت سے رضامند ہوئی تھی۔۔۔۔
اور پھر پاس سے گزرتے ہوئے لوگوں کی چبھتی نظروں سے قدرے بےنیاز سی۔۔۔نم پلکیں جھپکاتی ایک طویل گہرا سانس بھرگئی۔
”تم نے تو میری زندگی اور یادوں میں اپنے نام کا زہر گھولا ہے ناں حیا وقاص۔۔۔اب تم دیکھنا۔۔دیکھنا کہ کیسے میں تمھاری نس نس میں زہر گھولتی ہوں۔۔۔اتنا زہر گھول دوں گی کہ تمھارا جینا ناممکنات میں سے ایک ہوجائے گا۔۔۔۔“ من ہی من میں چیخ کر مخاطب ہوتی وہ حقیقتاً سفاکیت کی انتہا پر اتر آئی تھی۔۔۔۔
اس دوران دو آنسو ٹوٹ کر آہستگی سے تپتے گالوں پر لڑھکتے چلے گئے۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”ایم سوری ٹو سے بٹ۔۔۔۔“ ایمرجنسی وارڈ سے باہر نکلتے ڈاکٹر کو دیکھ جہاں زلیخا سمیت درید صاحب بھی تیزی سے اُن کے قریب آئے تھے۔۔۔وہیں اُن کے گبھرائے۔۔نم چہروں پر چیختے سوال کو سمجھتا وہ بولتے ہوئے بے اختیار رکا۔۔۔۔۔
”بٹ کیاااااا۔۔۔۔۔؟؟؟؟بولیے۔۔ بتائیے۔۔۔ایک بار کہہ دیجیے ناں کہ اب وہ خطرے سے باہر ہے۔۔۔ہوش میں ہے۔۔بالکل ٹھیک ہے۔۔۔۔“ برداشت کھوتی زلیخا قدرے بدلحاظی سے چلائی تھی۔۔۔
ڈاکٹر کا یہ لفظ ”سوری“ جانلیوا ہی تو ہوا کرتا تھا۔۔۔۔
درید صاحب نے بھی دانت پر دانت جماتے ہوئے سختی سے مٹھیاں بھینچی۔۔
خود پر خاصا ملال بھی تھا۔۔۔
اُن کی دشمنیوں وجہ سے آج اُن کا بیٹا بےقصور ہوتے ہوئے بھی اِس بدترین حالت کو پہنچ چکا تھا۔۔۔
”نو۔۔۔۔ہی اِز اِن قومہ۔۔۔۔!!!معلوم نہیں پیشنٹ کب اپنے حواسوں میں واپس لوٹ آئے۔۔۔دن۔۔مہینے۔۔۔سال۔۔۔یا پھر سالوں بھی لگ سکتے ہیں۔۔۔مگرآپ اُن کے لیے دل سے دعا کیجیے گا۔۔باقی ہم اپنی طرف سے بہتر اور بھرپور ٹریٹمنٹ دیں گے اُنھیں۔۔۔ایکسکیوزمی۔۔۔۔۔“ وضاحت میں ساری صورتحال بیان کرتا ڈاکٹر اُن کی جان نکالتا ہوا۔۔۔مزید اُن کے پاس رکا نہیں تھا۔۔۔۔
بلکہ دیگر مریضوں کو دیکھنے کی غرض سے وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔۔
”فائق۔۔۔۔۔!!!“ پیچھے۔۔قدرے لرز کر اپنی کوکھ پر ہاتھ جماتی زلیخا کو۔۔سسکتے لبوں کے سنگ اپنا آپ شدتوں سے ویران ہوتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔۔۔
بلاشبہ وہ گواہ تھی۔۔۔۔
دل گواہ تھا۔۔۔
نگاہیں گواہ تھیں۔۔۔
انگ انگ گواہ تھا۔۔۔
کہ جھوٹ ،،،فریب،،،دغا سے کوسوں پرے۔۔۔۔
اندر بےسدھ پڑا وہ بےبس شخص۔۔۔اپنی گھٹتی سانسوں میں بھی اُس کی حقیقی چاہ کا شدت سے خواہاں تھا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ اپنا تپتا ہوا آنسوؤں سے تر چہرہ دھو کر کمرے میں واپس آئی تھی۔پھرسائیڈ ٹیبل پر رکھے سیاہ مگ کو اٹھاتی ہوئی ٹانگیں سمٹ کر پلنگ پر بیٹھ گئی۔۔۔
حسنہ کے ہاتھ کی بنائی ہوئی چائے کی گرماہٹ اب ذرا سی کم ہوچکی تھی۔۔جو وہ ہاسپیٹل جانے سے پہلے بذاتِ خود اُس کے لیے بناکرگئی تھی۔
معاً اداسی میں بھی حیا کے لب ہولے سے مسکرائے۔
اِن اجڑے حالاتوں میں دیر سے ہی سہی۔۔۔مگر اُس کی چھوٹی بہن کو اب نہ صرف اپنی خطاؤں کا حددرجہ احساس ہوچکا تھا۔۔۔بلکہ خود کو مارتے پیٹتے ہلکان کرتے۔۔۔رو کر گلے لگتے ہوئے وہ صاف صاف معافی تلافی بھی کرگئی تھی۔۔۔
تو پھر بھلا ماں باپ کی غیر موجودگی میں وہ کیسے نہ اپنے نازک دل کے ساتھ اُس کے سامنے پگھلتی۔۔۔؟؟؟
نم پڑتی غلافی آنکھیں موند کر کھولتے ہوئے بےاختیار حیا نے گہرا سانس لیا۔۔۔
وقاص صاحب کے دل کے چاروں وال یکدم بند ہوجانے کے سبب جہاں وہ ہارٹ اپریشن ہونے کے بعد ہنوز ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔۔۔وہیں رمیض عالم درانی کی بےاعتباری اُسے دن رات مارے دے رہی تھی۔۔۔
کاش۔۔۔کاش کہ جس طرح کڑے ثبوتوں کے ساتھ اُس پر بےدردی سے تہمت لگائی گئی تھی۔۔۔۔ویسے ہی پکے ثبوتوں کے سنگ وہ اپنی بےگناہی بھی ثابت کرپاتی۔۔۔۔
اے کاش۔۔۔۔!!!
حیا نے بڑھتی نمی کو پلکیں جھپکا جھپکا کر اندر ہی دھکیلتے ہوئے سر جھٹکا۔۔۔
گزشتہ ساری شب وقاص صاحب کے پاس جاگ کر گزارنے کے بعد اب دل و ذہن تھکاوٹ کے سبب بھاری بھاری سا ہورہا تھا۔۔۔
اِس سے پہلے کہ وہ پنکھڑی لبوں کے قریب کرچکے مگ سے چائے کا گھونٹ بھرتی۔۔۔اچانک شور مچاتا موبائل فون قدرے چونک کر اُسے اپنی جانب متوجہ ہونے پر مجبور کرگیا۔
ناچاہتے ہوئے بھی کپ کو سائیڈ ٹیبل پر رکھتی حیا نے موبائل فون پکڑتے ہوئے جلتی اسکرین پر نگاہ ڈالی۔۔۔
آنے والی غیرمتوقع کال جانِ ستم گر کی جانب سے تھی۔۔۔جسے وہ پھڑپھڑاتے دل کے ساتھ اٹینڈ کرتی ہوئی اگلے ہی پل سماعت سے لگا چکی تھی۔۔۔۔
”ر۔۔رمیض۔۔۔؟؟؟“ حلق سے بمشکل نکلتی نسوانی آواز لرزی سی تھی۔۔۔۔جب دوسری طرف گاڑی چلاتے ہوئے اُس کے وجیہہ چہرے کا تناؤ بےساختہ بڑھا۔۔۔
اِس دوران ختم ہوچکا سگریٹ اُس نے تیزی سے کھلے شیشے سے باہر جھٹکا تھا۔۔۔
ہاسپیٹل میں غنودگی میں جاچکے وقاص صاحب کی،،،قدرے تاسف سے عیادت کرنے کے بعد ریسٹورنٹ کا کچھ ضروری کام نپٹا کر اب وہ ہاسپیٹل سے سیدھا اُسی کی طرف آرہا تھا۔۔۔
”یہ آخری بار ہے حیا وقاص جو میں بذاتِ خود تمھیں کال کرکے یہ آواز سننے پر مجبور ہوا ہوں۔۔۔۔اور آج آخری بار ہی تمھاری ناپسندیدہ شکل بھی دیکھوں گا۔۔۔اُس رات تو بابا کی مداخلت کی وجہ سے میں تمھیں رواں سانسوں سے رہائی نہیں دلا سکا۔۔۔نہ ہی بعد میں خود مرسکا۔۔۔لیکن اب اِس بےمعنی رشتے سے رہائی بےحد ضروری ہوچکی ہے۔۔۔ آرہا ہوں میں تمھیں ط۔۔طلاق دینے کے لیے۔۔۔تیار رہنا۔۔۔۔اس کے بعد تمھارے اور میرے راستے ہمیشہ کے لیے الگ۔۔۔۔۔“ بےسکونیوں تلے شدت سے دُکھتے دل کو مکمل پتھر بنائے،،،بھاری مستحکم آواز میں بولتا ہوا وہ حیا کی غلافی آنکھوں کو پل میں بھگوگیا تھا۔
اِس قدر بیگانگی۔۔۔!!
اِس قدر بےاعتباری۔۔۔!!
اِس قدر سفاکیت۔۔۔۔!!
سب کچھ ہنوز تھا اُس کی جانب سے۔۔۔۔
”تلخ ہے،کڑوی ہے۔۔۔لیکن حقیقت ہے!ایک لڑکی کی نادانی میں غیرمحرم سے کی گئی محبت کبھی نہ کبھی۔۔کہیں نہ کہیں بدترین ماضی بن کراُسکا خوبصورت مستقبل اجاڑ دیتی ہے۔۔۔سو میرا بھی اجڑ گیا۔۔۔لیکن میرا رب گواہ ہے رمیض عالم درانی۔۔۔اپنے محرم سے سچی محبت کرنے کے بعد میں نے کسی بھی نامحرم کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دینے کا گناہ نہیں کیا۔۔۔بےوفا نہیں ہوں میں۔۔۔۔“ روہانسے لہجے میں کہتی ہوئی وہ ضبط کرتے کرتے بھی سسک پڑی تھی۔۔۔
کیا اُن کی محبتیں اتنی ہی کمزور تھیں کہ بے اعتباری کا بوجھ سہتے سہتے اب بس دم توڑنے کو تھیں۔۔۔؟؟؟
نتیجتاً اسٹیرنگ گھوماتے ہوئے رمیض نے بےاختیار ڈیش بورڈ پر رکھے موبائل فون کی طرف دیکھا۔۔۔
ساکت دل دو پل کو شدت سے بغاوت پر اتر کے خود ہی خاموش ہوا تھا۔۔۔۔
”تمھاری بدکرداری اور بےوفائی کڑے ثبوتوں سے واضح ہوچکی ہے مجھ پر۔۔۔سو ثابت ہوا کہ تم نہ میرے۔۔اور نہ ہی میری مخلص محبتوں کے قابل ہو۔۔۔۔۔۔“ گہری بدگمانیوں میں ہنوز مضبوط،،،وہ آج بھی اُس کو زہریلے لفظوں کی گہری مار مارہا تھا۔۔۔
ٹوٹ کر تواتر سے بہتے آنسوؤں پر حیا کا دل اِس ستم ظریفی پر پھٹنے لگا۔
کاش۔۔۔۔کاش کہ وہ اپنی پریگنینسی سمیت مِس کیرج کے بارے میں وقت پر ہی اُسے بتا چکی ہوتی تو شاید آج زیدان عالم درانی ایسی اذیت ناک چالیں چلنے کے قابل نہ ہوتا۔۔۔۔
”حیااااااا۔۔۔۔۔!!!“ معاً باہر لاؤنج میں گونجتی شناسا بھاری آواز نے اُسے شدت سے ٹھٹھکایا۔۔۔۔تو تیزی سے کام کرتے بھاری دماغ کے ساتھ محض ایک پل لگا تھا حیا وقاص کو اپنے تیور بدلنے میں۔۔۔
”تو پھر طے رہا رمیض عالم درانی۔۔۔۔میں اپنی وفا۔۔۔اور پاکدامنی کا کڑا ثبوت آپ کے مقابل ابھی اور اسی وقت پیش کروں گی۔۔۔مگر شرط یہ ہے کہ آپ کو اپنے اطمینان تک اِسی کال پر خاموشی سے ٹھہرے رہنا ہوگا۔۔۔پھر چاہے اس کے بعد آپ مجھ سے جدا بھی ہوجائیں۔۔۔مجھے منظور ہے۔۔۔۔۔“ کانپتے ہاتھ کی پشت سے بھیگتے گال رگڑ کر صاف کرتی ہوئی وہ اپنے پُریقین سرد لفظوں سے رمیض کو ٹھیک ٹھاک چونکا ہی تو گئی تھی۔۔۔۔
معاً اسپیکر آن کرنے کے بعد پھرتیوں سے چمکتی اسکرین کو بند کرتے ہی جہاں حیا نے بیڈ سے اترتے ہوئے موبائل فون کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا۔۔۔وہیں وہ بھی تندہی سے دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوا۔
”کیوں آئے ہو تم یہاں زیدان عالم درانی۔۔۔۔؟؟؟“ اسپیکر سے ابھرتی نسوانی کرخت آواز نے رمیض کے کچھ بولنے کے لیے ہلتے لبوں کو بےاختیار ساکت کیا تھا۔۔۔
اگلے ہی پل وہ لب بھینچ کر احتیاطاً اپنی جانب سے کال کو میوٹ کرچکا تھا۔۔۔
تاکہ اُس کی جانب سے رتی بھر بھی آواز دوسری جانب نہ جاسکے۔۔۔۔
جبکہ چلتی کال سے قدرے انجان،،وہ ہلکے فیروزی رنگ سوٹ میں حیا کو سر تا پیر بغور دیکھتا ہوا اُس کے قریب چلا آیا۔۔۔
بھوری آنکھوں میں مدھم مدھم سا غضب ہلکورے لے رہا تھا۔۔۔
حیا نے گہری ہورہی سانسوں کے دوران بےاختیار سر سے اترتے شفون کے دوپٹے کو کھینچ کر درست کیا۔۔۔
عجلت میں گھر سے نکلتی ہوئی حسنہ شایدگیٹ کا دروازہ لاک کرنا بھول گئی تھی۔۔۔۔
”تمھاری بابت جاننے کے لیے یہاں آیا ہوں جانم۔۔۔پل پل انتظار میں ہوں لیکن ابھی تک میرے بھائی نےتمھیں طلاق نہیں دی۔۔۔کیوں۔۔۔؟؟؟حالانکہ جتنا وہ غیرت مند مرد بنتا ہے۔۔ اُسے چاہیے تھا کہ پہلے طلاق کے تین لفظ بولتا۔۔ پھر دھکے دے کر تمھیں اپنے گھر سے باہر نکالتا۔۔۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔کہیں تم اُسے اپنی سوکالڈ محبتوں کے واسطے دے دے کر ایموشنل بلیک مل تو نہیں کررہیں۔۔ہہمم۔۔۔؟؟؟“ بےچینی سے ٹھوڑی مسل کر پوچھتا ہوا زیدان تیوریاں چڑھائے۔۔۔بلاوجہ کی بڑھتی اِس ناقابلِ برداشت دیری کی وجہ جاننے کو اتاولہ ہوا تھا۔
ہنوز خاموشی سے اپنے بھائی کی شک و شہبات میں ڈوبی بدلحاظ آواز سنتے ہوئے بےاختیار اسٹیرنگ پر اپنی گرفت سخت کی۔۔۔
زخمی دل تپنے لگا تھا۔۔۔۔
”مخلص محبتوں میں کبھی بلیک میل نہیں کیا جاتا۔۔۔جیسے کہ اب تک تم بنا رشتوں کا لحاظ کیے مجھے ناحق کرتے آرہے ہو۔۔۔اور میں مجبوراً ہوتی چلی آرہی ہوں۔۔۔رہی بات تین لفظ بولنے کی تو خوش ہو جاؤ اپنی جیت پر۔۔۔دھکے کھا کر تو میں داغدار کردار کے ساتھ گھر سے باہر نکالی ہی جا چکی ہوں۔۔۔۔آج رات طلاق ملنے پر ہمیشہ کے لیے زندگی سے بھی نکال دی جاؤں گی۔۔۔۔۔۔“ مقابل کی نزدیکیوں کو بمشکل برداشت کرتی حیا اپنے شکست خوردہ سلگتے لفظوں سے زیدان کے تنے وجود میں سکون ہی سکون اتار گئی تھی۔۔۔
معاً اپنے لبوں پر جاندارمسکراہٹ بکھیرتا ہوا وہ اُس کی ٹھوڑی تھام کر اپنا وجیہہ چہرہ مزید قریب کرگیا،،،تو اُس کی دل جلاتی جرات پر سختی سے نازک مٹھیاں بھینچتی حیا کو شدت سے کراہیت ہونے لگی۔۔۔
مگر اُسے اپنے لرزتے قدموں پر فی الوقت قائم رہنا تھا۔۔۔
اپنی پاکدامنی ثابت کرنے کے لیے۔۔۔
مقابل کا حقیقی چہرہ واضح کرنے کے لیے۔۔۔
ہاں اُسے مضبوط ہی تو رہنا تھا۔۔۔۔۔
”دیٹس گریٹ نیوز۔۔۔یہ ہوئی ناں بات۔۔۔۔یو ناؤ واٹ ڈارلنگ۔۔۔؟؟اگر تم مجھےتھپڑ مارکر یوں میری انا ہرٹ کرنے کی بجائے شروع دن سے ہی میرے ساتھ کمپرومائز کرلیتی ناں۔۔تو یقین جانو تمھارے لیے یہ سب اتنا دشوار قطعی نہ ہوتا جتنا کہ اب ہے۔۔۔یہ جو میری ہر بات میں تمھاری نہ نہ نکل آتی ہے ناں۔۔بس یہی۔۔یہی نہ مجھے ہر حد سے گرنے پر مجبور کردیتی ہے۔۔۔۔۔“ پانی سے لبا لب ہوتی دلکش نگاہوں میں جھانک کر تاسف ملے نرم لہجے میں شکوہ کرتا ہوا وہ۔۔۔بڑی شدت سے دو سیاہ انگارہ آنکھوں کا نام نہاد اطمینان غارت کر چکا تھا۔۔۔
”سریسلی۔۔۔؟؟؟اگر تم میرے پیچھے اتنے ہی پاگل تھے زیدان عالم درانی تو پھر عین نکاح والے دن مجھے اپنے بڑے بھائی کے ہمراہ کڈنیپ کیوں کروایا تم نے۔۔۔ہاں؟؟؟میں خود بھی تو تم سے شادی کرنے کے لیے شدت سے خواہاں تھی ناں اُس سمے۔۔تو پھر کیوں مجھے خود سے دور کیا تم نے بتاؤ۔۔۔۔؟؟؟“ بےاختیار اُسے دھکا دیتی ہوئی وہ جانتے بوجھتے حلق کے بل تنفر سے چلائی تو۔۔۔۔گاڑی کی مزید سلو ہوتی اسپیڈ پر حیرت زدہ رمیض کا پھڑپھڑاتا دل شدت سے ڈوبنے لگا۔۔۔۔
”غلطی ہوگئی مجھ سے۔۔۔بہت بڑی غلطی ہوگئی جو اُس بانجھ عورت کی وقتی دل لگی کو ابدی محبت سمجھ کر تمھیں گنوا بیٹھا میں۔۔۔۔بےحد پچھتا بھی تو رہا ہوں۔۔۔لیکن یہ بات بھی جان لو کہ جو اقدام میں نے تمھیں حاصل کرنے کے لیے اب اٹھائے ہیں۔۔۔ان پر میں قطعی شرمندہ نہیں ہوں۔۔اور نہ ہی آگے کبھی ہوں گا۔۔۔۔۔“ کال پر موجود محتاط سماعتوں سے ہنوز انجان۔۔۔جہاں وہ قدرے چٹخ کر قریب آتا ہوا اپنے پہلے گناہ کا اعتراف کر گیا تھا۔۔۔وہیں رمیض عالم درانی کا دماغ بھک سے اڑا۔۔۔
”اگر یہ ٹوٹلی انوسینٹ ہوتی ناں بھائی تو عین شادی والے دن مجھے چھوڑ کر کبھی بھی آپکے ساتھ نہیں بھاگتی۔۔۔اگر اتنی ہی پاکدامن ہوتی تو کم از کم پوری ایک رات آپ کے ساتھ تنہا گزار کر۔۔واپس یہاں تک آنے کا حوصلہ مرکر بھی نہ کرتی۔۔۔“ اُفففف۔۔۔اِس قدر اداکاری۔۔۔اِس قدر شیطانیت۔۔۔
بہتے آنسوؤں کے سنگ حیا کے وجود میں سکون سا اترنے لگا۔۔۔۔
مگر فاش کرنے کا یہ کھیل تو ابھی باقی تھا۔۔۔
”موسموں کی مانند بدلتی ہوئی تمھاری اِن کھوکھلی محبتوں نے مجھے حد سے ذیادہ ذلیل و رسوا کیا ہے۔۔۔اور بار بار کیا ہے۔۔۔۔کتنی ہی بار تم نے میری بہن کو مجبوری بناکر مجھے تنہائیوں میں ہراساں کرکے ذہنی اذیت سے دوچار کیا۔۔۔روزینہ کی آدھی ادھوری ویڈیو دکھا کر مجھے بدظن کیا۔۔۔ میری بدکرداری اور بےوفائی کا جھوٹا یقین دلا کر اپنے بڑے بھائی کو ورغلایا۔۔۔میرے ہونے والے مس کیرج کو ابارشن کا نام دے کر مجھے انسانیت کے درجے سے ہی نیچے گرادیا۔۔۔جس کی میں کبھی روادار تھی ہی نہیں۔۔۔۔۔اتنی۔۔اتنی ذیادتیاں کرنے کے باوجود بھی تم کہہ رہے ہو کہ تم بالکل بھی شرمندہ نہیں ہو۔۔۔۔؟؟؟؟آخر اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہو تم زیدان عالم درانی۔۔۔۔کیسےےےے۔۔۔۔۔؟؟؟“ بےاختیار اُس کے آف وائٹ کوٹ کا کالر مٹھیوں میں جکڑتی ہوئی وہ ایک ایک کرکے باقی کی سیاہ حقیقتیں بھی باور کرواتی چلی جارہی تھی۔۔۔جب اُس کی بھیگتی پلکوں پر نگاہیں جمائے زیدان نے ڈھٹائی سے بھنویں اچکائیں۔۔۔
پھر اُس کے بھیگے گال پر چپکی لٹ کو اشتیاقاً پیچھے ہٹاگیا۔۔۔
ایسے میں رمیض عالم درانی نے بےساختہ سلگتے سینے کو سختی سے مسلتے ہوئے اپنی تیوریاں گہری کیں۔
جس جواب کی توقع اب وہ کرنے لگا تھا۔۔۔کاش ویسا کچھ نہ ہوتا۔۔۔
مگر قسمت تو اِس پل فقط حیا وقاص پر ہی مہربان تھی۔۔۔
اور قدرے کھل کر مہربان تھی۔۔۔
تو پھر بھلا کیسے ممکن تھا کہ شدید خدشے حقیقت ثابت نہ ہوتے۔۔۔
”ہاں ہوں میں تمھارے معاملے میں بےحد ظالم۔۔۔۔میں ہوں کیونکہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے حیا وقاص۔۔۔۔“ بےجھجک اعتراف کرتا جہاں وہ حیا کو کالر چھوڑتے ہوئے اطمینان سے مسکرانے پر مجبور کرگیا تھا،،،وہیں خون خون ہوتے دل کے ساتھ رمیض عالم درانی نے قدرے اشتعال سے چیختے ہوئے اسٹیرنگ پر دو چار مکے دے مارے۔۔۔
جلتی سرخ آنکھیں اذیت سے نم ہوچکی تھیں۔۔۔
اُس کے اپنے ہی سگے بھائی نے اپنی خودغرضی میں یہ کیسی عداوت نبھائی تھی اُس سے۔۔۔؟؟؟
زیدان نے چونک کر حیا کی ناقابلِ فہم مسکراہٹ بغور دیکھی۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر خود بھی کمینگی سے مسکراتا ہوا اُس کے قریب ترین ہوا۔۔۔
”ایک گہرے راز کی بات بتاؤں میں تمھیں۔۔۔۔؟؟؟“ وہ شیطانیت سے آنکھ دبا کر بولا تو تپی پیشانی پر بل ڈالتی حیا نے۔۔۔مردانہ کلون کی مہک میں اپنا سانس روک کر اُس کی سفاک نگاہوں میں دیکھا۔۔۔۔
”اُس دن۔۔۔ایکسیڈنٹ کے تھرو ہونے والا تمھارا وہ سوکالڈ سا مس کیرج۔۔۔میرے ہاتھوں سے ہی تو ہوا تھا۔۔۔۔ہاہاہااااہ۔۔۔۔“ زیدان عالم درانی کا ہنستا مسکراتا ہوا انکشاف جہاں حیا کی سماعتوں پر قہر بن کر ٹوٹا تھا۔۔۔وہیں شدتِ تکلیف سے ساکت پڑتے ہوئے،،،رمیض کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوتے ہوتے بچا۔۔۔۔
”قاتل انساااااان۔۔۔۔۔چٹااااااااااخ۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!“ معاً زخمی شیرنی کی مانند دھاڑتی ہوئی حیا کا ہاتھ اٹھا اور مقابل کھڑے فرعون صفت شخص کا رخسار پوری قوت سے جلا کر رکھ گیا۔۔۔۔
نتیجتاً سرخ گال کو لب بھینچ کر چھوتے ہوئے زیدان نے سخت چتونوں سے اُس کا بپھرا روپ دیکھا تھا۔۔۔جو اگلے ہی پل روتی ہوئی مشتعیل سی اُس پر جھپٹ پڑی تھی۔۔۔
ایسے میں بیٹری کی آخری پرسنٹیج ختم ہونے کے سبب۔۔یک دم بند ہوتے موبائل فون پر بپھر چکے رمیض نے گاڑی کی اسپیڈ آخری حد تک بڑھائی تھی۔۔۔
”او جسٹ اسٹاپ دِس نانسینس یُو ڈیمٹ۔۔۔۔۔!!!“ اپنے سرخ تپتے چہرے کو اُس کے نوچتے ناخنوں سے بچاتا ہوا زیدان اگلے ہی پل حیا کو بےدردی سے پیچھے پلنگ پر دھکیل دےگیا۔
شفون کا دوپٹہ تو کب کا سر سے پھسل کر اتر چکا تھا۔۔۔
”تمھارے لیے میرا عشق،،،میری دیوانگی اپنی جگہ۔۔۔لیکن اب اگر تم نے دوبارہ مجھ پر ہاتھ اٹھانے کی حماقت کی تو یاد رکھنا حیا وقاص،،،یہ ہاتھ توڑ کر رکھ دوں گا میں۔۔۔اب بہت برداشت کرلیں تمھاری یہ بدتمیزیاں۔۔۔۔۔“ اُسے بھیگی نفرت زدہ نگاہوں سے اپنی جانب تکتا پاکر وہ شہادت کی انگلی اٹھائے سخت تنبیہی لہجے میں پھنکارا۔۔۔
پھر خشک حلق میں پھیلتی عجیب سی چبھن کو تر کرنے کی خاطر۔۔کہیں بھی پانی نہ ملنے پر سائیڈ ٹیبل پر پڑے مگ کو براہ راست اٹھاگیا۔۔۔۔
اُسے تندہی سے ٹھنڈی ہوچکی چائے کی مٹھاس کو گھونٹ گھونٹ حلق میں اتارتے دیکھ حیا روتے روتے ہنسی۔
اُس کے ہاتھوں اپنی کوکھ اجڑنے کی اذیتیں ہنوز تھیں۔۔۔
”ہاتھ توڑنا تو بہت دور کی بات ہے زیدان عالم درانی۔۔۔تم اب اِس قابل ہی نہیں رہو گے کہ مجھے معمولی سی خراش بھی دے سکو۔۔۔چلتی ہوئی کال پر ایک ایک بات سن چکا ہے وہ۔۔۔تمھاری اِس۔۔اِس غلیظ ترین حقیقت سے پوری پوری واقفیت ہوچکی ہے اُسے۔۔ہاں ناں۔۔۔آرہا ہے وہ۔۔۔ رمیض عالم درانی۔۔۔سارے حساب بےباک کرنے لیے۔۔۔۔کھیل ختم ہوا۔۔۔۔“ بھیگے گال رگڑ کر قدرے اعتماد سے غراتی ہوئی حیا وقاص ایک بار پھرکڑوی حقیقت کا پُرشور طمانچہ رکھ کر مقابل کے منہ پر مار گئی تھی۔۔۔۔
جو حیرت تلے شدت سے فق ہوتی رنگت کے سنگ۔۔ اپنی تباہی کا انتخاب لاعلمی میں آپ ہی کر چکا تھا۔۔۔۔۔
اس دوران خالی ہوچکا مگ شدت سے ڈھیلی ہوتی گرفت سے چھوٹ کر زمین پرگرا تھا۔۔۔