No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
”زلیخا۔۔۔۔بیٹا وہ۔۔۔بلقیس آپا نے تمھارے لیے ایک رشتہ بتایا ہے مجھے۔۔۔لڑکا ویل ایجوکیٹڈ ہے۔۔۔جاب کرتا ہے۔۔۔اچھے خاندان سے ہے۔۔۔گڈلوکنگ،خوش مزاج اور سب سے بڑھ کر کنوارا ہے ابھی تک۔۔۔عمر میں تم سے ایک سال چھوٹا ہی ہوگا بس۔۔۔۔“ وہ اپنے کمرے میں بیٹھی لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھ رہی تھی،جب اسکے پاس بیٹھتی حفصہ بیگم نے کچھ جھجک کر بات کا آغاز کرتے ہوئے۔۔۔بڑے ناپ تول کر الفاظ ادا کیے تھے۔
”آہاں۔۔۔اور بیچ کی بات کیا ہے امی۔۔۔؟؟وہ بھی بتائیے ذرا۔۔۔آخر کو وہ کنوارا لڑکا بھلا کیوں ایک سات سالہ بچے کی ماں سے شادی کرنے کو رضامند بیٹھا ہے۔۔۔۔“ لیپ ٹاپ سے توجہ ہٹاتی زلیخا نے بنا لگی پٹی کے جواب مانگا تو حفصہ بیگم پل بھر کو گڑبڑا سی گئیں۔
”ا۔۔اسے ماں اور بچے دونوں کو اپنانے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔۔۔لیکن۔۔۔لیکن وہ بس اتنا چاہتا ہے کہ گھر داماد بننے کے ساتھ ساتھ تمھارے نام کی پراپرٹی میں بھی برابر کا حصے دار بن جائے۔۔اور اس میں کوئی برائی بھی نہیں ہے۔۔اس کا ہو یا پھر تمھارا بات تو ایک ہی ہوگی ناں۔۔۔۔“ بتاتے ہوئے آخر میں حفصہ بیگم کی آواز زلیخا کی بدلتی نگاہیں دیکھ بےحد دھیمی پڑی تھی۔
”بس اتنا ہی۔۔۔۔؟؟؟فوراً سے پہلے انکار کردیجیے آپ اسے۔۔۔۔لالچی اور دھوکےبازوں سے شدید ترین نفرت ہے مجھے۔۔۔ایسے لوگوں کی میری زندگی میں کوئی جگہ نہیں ہے اور یہ بات آپ اچھے سے جانتی ہیں امی۔۔۔۔۔“ تمسخر سے پوچھتی وہ آخر میں لیپ ٹاپ کو بند کرتی چٹخ سی گئی۔
”تو کیا تم ساری زندگی ایسے ہی نکال دو گی۔۔۔۔کبھی اپنا گھر نہیں بساؤ گی۔۔۔؟؟دل جلتا ہے میرا زلیخا۔۔۔دل جلتا ہے جب جب میں اپنی بیٹی اور نواسے کی زندگی سے جڑی اس بڑی محرومی کے بارے میں سوچتی ہوں۔۔۔اور تم بھی یہ بات اچھے سے جانتی ہو۔۔۔“ اس کا کندھا تھام کر بولتی ہوئی حفصہ بیگم بھی شدتِ بےبسی تلے تپ کر بولی تھیں۔
وہ گھر چل کر آئے کتنے ہی رشتے بے دھڑک ٹھکرا چکی تھی۔۔۔۔
”اگر تم کسی سے محبت کرتی ہو تو بھی بتا دو۔۔۔۔“ وہ مزید گویا ہوئیں تو زلیخا نے چونک کر ان کی طرف دیکھا۔
محبت۔۔۔۔۔!!!!
”سالے۔۔۔وہ پھنسانے کے نہیں۔۔۔فقط محبت کے قابل ہے۔۔۔سنا تُو نے۔۔۔شی از کیپ ایبل جسٹ فار لوَ ڈیمٹ۔۔۔۔“ معاً فائق کی دھاڑتی آواز سماعتوں میں اترتی ہوئی پل بھرکو زلیخا کے دل کی دھڑکنیں چھیڑ گئی تھی۔
اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات بغور دیکھتے ہوئے حفصہ بیگم نے اپنی نم آنکھوں کو جھپکا۔
”آپ فکر نہیں کریں امی۔۔۔جس دن مجھے کوئی شخص سچ میں میرے اور حمزہ کے قابل لگا۔۔۔تو میں بنا دیر کیے اس کے ساتھ اپنا گھر بسالوں گی۔۔۔۔“ قدرے مضبوط لہجے میں بولتی ہوئی زلیخا عالم درانی یہ بات بخوبی جانتی تھی کہ وہ حمزہ سمیت اپنے ماں باپ پر ہرگز بوجھ نہیں تھی۔۔۔
مگر ایک کسک ضرور تھی جو دلوں میں پنپتی ہوئی اس بڑی محرومی کا احساس شدت سے دلاتی تھی۔۔۔اور بار بار دلاتی تھی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ ہاتھ میں چیزی پیزے کا شاپر پکڑے ہوئے شکست خوردہ سا گھر واپس آیا تھا۔
ہال میں لگی گھڑی سکوت میں ٹِک ٹِک کرتی ہوئی اس پل رات کے سوا بارہ بجارہی تھی۔
رمیض گہرا سانس بھرتا ہوا سیدھا کچن کی جانب بڑھا۔
پھر شاپر میں سے پیزے کا ڈبہ نکال کر فریج میں رکھتا ہوا۔۔۔ٹھنڈے پانی کی بوتل پکڑے شیلف کی طرف آیا۔
شیشے کے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے اس کا موڈ مزید خراب سا ہوا تھا۔
پولیس میں کمپلین درج کروانے کے باوجود بھی اب تک ان بدذات غنڈوں کی کوئی خبر ہاتھ نہیں لگی تھی۔۔۔
شاید وہ سارا کچھ لوٹ کر اُسی وقت کراچی شہر سے فرار ہوچکے تھے۔
دو گھونٹ میں ہی سارا پانی پی کر رمیض نے گلاس شیلف پر پٹخنے کے سے انداز میں رکھا۔
وہ چاہ کر بھی اپنی اور حیا کی بےگناہی کو سب کے سامنے ثابت نہیں کرپارہا تھا۔۔۔
ثابت نہیں کرپارہا تھا کہ یہ کسی کی گہری سازش تھی۔۔۔
”بیٹا۔۔۔جو کچھ بھی برا ہونا تھا سو ہوچکا۔۔۔اب خود کو ماضی کے بھاری بوجھ سے آزاد کردو اور زندگی میں آگے بڑھو جیسے سب بڑھ چکے ہیں۔۔۔“ بےچینی سے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوئے اس کی سماعتوں میں عالم صاحب کا نرم لہجہ شدتوں سے گھلا تھا۔
آج وہ ریسٹورنٹ اس سے ملنے کم۔۔سمجھانے ذیادہ آئے تھے۔۔۔
اِس تیزی سے بھاگتے وقت کے دوران وہ کم از کم دو بار حفصہ بیگم سے بھی فون پر مختصراً بات چیت کرچکا تھا۔۔۔
”فقط کہنا یا تصور میں سوچنا آسان ہے بابا۔۔۔کرنا ہرگز نہیں۔۔۔“ وہ ہنوز بضد تھا۔
”اگر انسان چاہے تو ناممکن کو بھی ممکن بنادیتا ہے بیٹا۔۔۔تم ایک بار دل سے ارادہ تو کرکے دیکھو۔۔۔“ وہ باپ تھے سو دوبدو جواب حاضر تھا۔
”تو پھر بنا کسی ثبوت کے آپ بھی مان لیں۔۔۔مان لیں کہ میں حیا کو اسکی شادی والے دن اپنے ساتھ بھگاکر نہیں لےگیا تھا۔۔۔جو بھی ہوا تھا وہ سب حادثہ تھا۔۔۔یا پھرکسی انجانے دشمن کی گہری چال۔۔۔مگر ہم بےقصور تھے۔۔۔کسی اور کا نہ سہی،مگر ان سنگین حالات میں مجھے کم از کم آپ کا یقین چاہیے بابا۔۔۔“ چہرے پر ہاتھ پھیرکر کچن سے باہر نکلتے ہوئے رمیض کو اپنا ٹوٹا ہوا بےبس سا لہجہ یاد آیا تھا۔۔جب وہ نم آنکھوں سے ملتجی ہوتا خود کے ساتھ ساتھ عالم صاحب کو بھی قدرے افسردہ کر چکا تھا۔۔۔
”ٹھیک ہے۔۔۔مان لیا کہ تم دونوں بےقصور ہو۔۔۔مگر مجبور میں بھی ہوں۔۔۔زیدان کے ساتھ جو اتنی بڑی ذیادتی ہوئی ہے اس کی وجہ سے مجھے اپنے چھوٹے بیٹے کا بھی ساتھ دینا ضروری ہے رمیض۔۔۔خیر میں کوشش کروں گا کہ جلد از جلد تمھیں ایک شاندار فلیٹ لے دوں۔۔۔موجودہ حالات کے تحت یہی مناسب ہے۔۔۔“ چوڑا کندھا تھپتھپا کر اسے یقین کی ڈور تھمانے کے ساتھ ساتھ عالم صاحب نے اپنی مجبوریوں سے آگاہ کرنا بھی ضروری سمجھا تھا۔
شاید بگڑے معاملات سنورنے کا وقت ابھی بہت دور تھا۔۔۔۔
”اس کی ضرورت نہیں ہے بابا۔۔۔۔فی الحال تو نانی جان کے گھر میرا اور حیا کا گزارا ہورہا ہے۔۔۔لیکن کل کو اگر فلیٹ لینے کی ضرورت پڑی بھی تو وہ میں خود سے مینج کرلوں گا۔۔ریسٹورنٹ کا اونر ہوں۔۔۔اب اتنا باصلاحیت تو ہو ہی چکا ہوں میں۔۔۔۔“ پل بھر کو لب بھینچ کر سر کو جنبش دیتے ہوئے اپنے باپ کی مجبوریوں کوسمجھتا وہ آخر میں مسکرا کر گویا ہوا تھا۔۔۔
نتیجتاً اس کی جانب دیکھتے عالم صاحب خود بھی مسکرا دئیے تھے۔۔۔
سست روی سے چلتے ہوئے رمیض اپنے کمرے کے سامنے آرکا۔۔
پھر سوچوں سے سر جھٹک کر آہستگی سے دروازہ کھولتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔
سامنے ہی وہ بیڈ پر اس کی جانب پیٹھ کیے سو رہی تھی۔۔۔
ایسے میں سوٹ کے ہم رنگ دوپٹے کو خود پر اچھے سے پھیلا کر سونا۔۔۔ گہری نیند میں بھی اس کی احتیاط کو اچھے سے واضح کررہا تھا۔۔۔
انتہائی کمزور سی احتیاط کو۔۔۔
رمیض نے تاسف سے سر ہلایا۔۔۔
”چلو یہ بھی مان لیتا ہوں کہ تمھیں اس چیز کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔مگر اپنی بیوی کو اگنور کرنے کی بجائے اس پر توجہ دینے کی تو خاصی ضرورت ہے ناں تمھیں بیٹے۔۔۔جب ہمارے کہنے پر اِس سفر کا انتخاب کر ہی چکے ہو تو پھر منزل تک پہنچنے میں کیا قباحت ہے بھلا۔۔۔۔؟!میری خاطر ایک بار ایسا بھی کرکے دیکھ لو۔۔۔۔۔“ سماعتوں میں گھلتی عالم صاحب کی قدرے مان بھری متلجیانہ آواز نے رمیض کو ناچاہتے ہوئے بھی حیا کی جانب لپکنے پر مجبور کیا تھا۔
جہاں وہ اس کے آنے سے پہلے ہی سوجایا کرتی تھی،،وہیں خود کی لائٹ جلا کر سونے کی عادت سے بھی واقف کروا چکی تھی۔۔۔۔
اس کے پاس آکر رکتا رمیض اگلے ہی پل اپنی ہتھیلی بیڈ کراؤن پر مضبوطی سے ٹکاتا ہوا ذرا سا اس پر جھکا تھا۔۔۔
حیا کے بےداغ چہرے کی سائیڈ کو بغور تکنے کی جرات کرتے ہوئے اس کی آنکھوں کی سرد سیاہی گہری ہوئی تھی۔۔۔۔جب نیند میں ہی کروٹ چھوڑ کر سیدھی ہوتی ہاتھ پیٹ پر رکھ گئی۔
پلک جھپکائے بنا وہ ہنوز اسی کا دمکتا چہرہ یک ٹک گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
نقوش میں معصومیت کی کشش سمیٹے بلاشبہ وہ بہت خوبصورت تھی۔۔۔۔
آہستگی سے ہاتھ آگے بڑھاکر اس کے گال کو چھونے کی گستاخی کرتے ہوئے جہاں رمیض عالم درانی کا دل دھڑک اٹھا تھا۔۔۔وہیں گال پر ہوتی سرسراہٹ کے سبب۔۔۔ننھی پیشانی پر پڑتی تیوری حیا کے نیند میں بھی بےچین ہونے کا پتہ دے گئی تھی۔
مسکراہٹ دبا کر سرعت سے ہاتھ پیچھے ہٹاتے ہوئے رمیض عالم درانی نے بھلا کہاں سوچا تھا کہ وہ روزینہ کے علاوہ کسی اور عورت کو بھی ایسی نگاہ سے دیکھے گا۔۔۔۔
”مگر وہ عورت اس کی شریعی بیوی تھی۔۔۔“ حیا کو واپس سے پرسکون ہوتا دیکھ رمیض کے دل نے ٹھوس جواز پیش کیا تھا۔
”لیکن اگر یہ بھی محبت کا دیا روشن ہونے کے بعد بےوفا نکلی تو۔۔۔؟؟؟“ بےاختیار دماغ نے کھلبلی سی مچائی۔
”مگر اُس میں اور اِس میں تو زمین آسمان کا سا فرق تھا۔۔۔
انداز۔۔۔
لباس۔۔۔
عادات۔۔۔
لب و لہجہ۔۔۔
فطرت۔۔۔
کچھ۔۔۔کچھ بھی تو ایک جیسا نہیں تھا۔۔۔“ اس کے نقوش تکتے ہوئے دل صاف صاف بغاوت پر ہی تو اتر رہا تھا۔۔۔
”ماسوائے اِس ایک کمی کے۔۔۔حیا رمیض عالم درانی کی پہلی محبت وہ نہیں بلکہ اسکا چھوٹا بھائی تھا۔۔۔“ بڑی خامی بتاتا دماغ گویا دل پر طنز کا نشتر پیوست کرتا ہوا ہنسا تھا۔
”اففف۔۔۔۔“ بےاختیار رمیض سرعت سے پیچھے قدم لیتا مٹھیاں بھینچ گیا۔
”اگر وہ ٹوٹا بکھرا شخص اپنا دردناک ماضی بھلانے کی کوششوں میں تھا،،،تو کیا وہ نازک سی لڑکی،،،ایک بیوی ہوکر شوہر کی محبت ملنے پر اپنا ہر دکھ نہیں بھلا سکتی تھی۔۔۔؟؟؟“ چل کر اپنی جگہ پر(بیڈ کے دوسری طرف) آتے ہوئے دل کی دہائیاں ہنوز زوروں پر تھیں۔۔۔
”اگرایسا ہے تو پھر۔۔۔یہ بھی آزما کر دیکھ لو۔۔۔آگے تمھاری قسمت۔۔یا پھر حیا وقاص کی فطرت۔۔۔۔“ جھنجھناتا ہوا دماغ دوٹوک سناتا جہاں ایک دم ہی ٹھنڈا ہوا تھا۔۔۔وہیں رمیض عالم درانی بڑے استحقاق سے حیا کی جانب کروٹ لے کر لیٹتا ہوا،بیچ میں باڑ بنے تکیے کو دبوچ گیا۔۔۔
اس دوران کسی کی نگاہوں کی گہری تپش بھی حیا کی پکی نیند میں کوئی ہلچل نہیں مچا پائی تھی۔۔۔
”آنکھوں سے شروع ہو کر
کہانی الفت تک جا پہنچی؛
جب ہم کو ہوش آیا تو بات
شروعاتی محبت تک جاپہنچی۔۔۔“
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”ہاں تو پھر بتاؤ مجھے ڈارلنگ تمھارے لیے کس کلر کی شرٹ لوں۔۔۔۔؟؟؟گرے یا بلیک۔۔۔۔؟؟؟مجھے تو گرے والی ذیادہ اچھی لگ رہی ہے۔۔۔تم پر بہت سوٹ کرے گی۔۔۔۔“ مہنگے مال سے خود کے لیے ڈھیرساری شاپنگ کرنے کے بعد اب وہ جینٹس بوتیک میں کھڑی،موبائل فون پر ہیری سے اسکی چوائس پوچھ رہی تھی۔
شرٹس کی پِکس وہ پہلے ہی اسے واٹس ایپ کرچکی تھی۔
”بلڈی ریڈ کلر۔۔۔۔رئیلی ہاٹ۔۔۔۔“ دوسری طرف وہ جواب دینے ہی والا تھا جب۔۔۔بیچ کے سامنے اسکی مضبوط عریاں بانہوں میں نیم دراز اِیما نے ہولے سے اس کے کان میں خمار زدہ سرگوشی کی۔۔۔
”آاا۔۔۔جانِ من وہاں پر بلڈی ریڈ کلر کی شرٹ دیکھو ناں۔۔یو ناؤ آئی لائیک اِٹ بیڈلی۔۔۔۔“ اِیما کی دلچسپ مسکراہٹ کو دیکھ کر شستہ انگریزی میں بولتا ہوا وہ کسی اور کی پسند کو اپنی پسند جتا رہا تھا۔
”بلڈی ریڈ۔۔۔۔؟؟؟او۔۔اوکے۔۔میں دیکھتی ہوں۔۔۔ایکسیوزمی۔۔۔۔!!!“ اسپیکر سے اُبھرتے خوشگوار فرمائشی لہجے پر روزینہ پل بھر کو چونکتی سنبھلی۔پھر نگاہیں دوڑاتی سیل مین کو مخاطب کرنے لگی۔۔۔
انداز میں کچھ حیرت بھی تھی۔۔۔
اس کا شوہر بھلا کب سے خود کے لیے یہ رنگ پسند کرنے لگا تھا۔۔۔۔؟؟؟
ہیری کی طرف سے گفٹ ملی ڈائمنڈ کی رِنگ کو انگوٹھے تلے مسلتی اِیما۔۔۔نیم عریاں لباس میں آتے جاتے رہائشی لوگوں کو دیکھتی اب بےزار ہونے لگی تھی۔
اگلے ہی پل اس نے ہیری سے موبائل جھپٹ کر کال کاٹنے کی ناکام کوشش کی تھی۔
”نو اِیما۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ بےاختیار ہیری نے ذرا پیچھے ہوتے ہوئے دبی آواز میں اسے آنکھیں دکھائیں۔۔۔تو دوسری طرف سماعتوں سے ٹکراتی اپنے شوہر کی مدھم تنبیہی پر روزینہ ٹھٹھک سی گئی۔
نتیجتاً اِیما منہ بسورتی ہوئی اسی کے کندھے سے جا لگی تھی۔
”ہیری۔۔۔؟تم نے ابھی ابھی کیا بولا۔۔۔؟؟اِیما۔۔۔!!اِیما کا نام لیا ناں تم نے ابھی۔۔۔۔؟؟؟میں نے سنا۔۔۔۔۔“ روزینہ قدرے حیرت سے مشکوک ہوتی پوچھ رہی تھی۔۔۔
وہ تو بزنس ٹور پر آیا ہوا تھا ناں۔۔۔۔
ہیری پل بھر کو ہڑبڑا کر اِیما کی شیطانی ہنسی کو گھورتا ہوا فوراً سے پہلےسنبھلا۔
”واٹ اِیماااا۔۔۔۔۔؟؟؟نوووو سوئیٹ ہارٹ۔۔۔میں نے تو فون پرتمھیں فلائنگ کس دی ہے یار۔۔۔لائیک دِس۔۔۔اُمممماااا۔۔۔۔۔“ قدرے شاطری سے وہ روزینہ کی آنکھوں میں اپنی نام نہاد محبت کی دھول جھونک کر پل میں اسے خود سے مطمئن کرگیا۔۔۔
اس دوران سیل مین بھی مطلوبہ رنگت کی شرٹ سامنے رکھ چکا تھا۔
”آاااا ڈارلنگ۔۔۔۔مائے میسٹیک۔۔اُممماااا یو ٹو۔۔۔۔۔۔“ خود کو مل رہے اِس قدر بڑے فریب سے قدرے انجان روزینہ نے جہاں شیریں محبت کا جواب محبت سے دیا تھا۔۔۔۔وہیں اپنی مکاری پر کمینگی سے مسکراتا ہوا ہیری جل چکی اِیما پر اپنی گرفت مضبوط ترین کرگیا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
قدرے سختی سے کَسی ہوئی مٹھی کو بار بار اپنی شکن آلود پیشانی پر مارتا ہوا وہ کس حال میں آفس آیا تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔۔۔
بھینچی ہوئی آنکھوں کی گہری سرخی اِس پل اس کے اندر شدت سے لگی آگ کا پتا دے رہی تھی۔
اگر آج دبئی کے کلائنٹس کے ساتھ حد سے ذیادہ ضروری میٹنگ فکس نہ ہوئی ہوتی تو۔۔۔شاید وہ کبھی۔۔۔کبھی بھی خود کی غیر ہورہی حالت پر یہاں نہ آتا۔۔۔
”ز۔۔زیدان۔۔۔مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔۔۔کچھ بہت ضروری۔۔۔آپ۔۔۔آپ پلیز ہمت سے میری یہ بات سنیے گا۔۔۔کیونکہ مجھے علم ہے کہ اس سب کے لیے بہت حوصلے کی ضرورت پڑے گی۔۔۔۔۔“ وہ آفس نکلنے کے لیے نک سک سا تیار تھا ،جب اس کے سینے پر آہستگی سے ہاتھ جماتی ہوئی کتنی پریشانی سے بولی تھی ناں وہ۔۔۔۔
”تم بولو ناں جانم۔۔۔فقط تمھاری ہی تو سننے کے لیے ہمہ تن گوش ہوں میں۔۔۔۔“ معاً اُسکو نازک کمرسے تھامتے سمے زیدان کو اپنا شوخ سا میٹھا لہجہ یاد آیا تھا۔۔
”ہماری رپورٹس کے فائنل رزلٹ آچکے ہیں۔۔۔۔“ پریشانی کے سنگ اب کہ حسنہ کی بےچینی بھی بڑھی تھی۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں ویک اینڈ پر دورانِ سیر و تفریح،اسکی بیوی اچانک ہونے والی طبیعت خرابی کے سبب نہ صرف اسے اپنے ساتھ اچھے ہاسپیٹل لے گئی تھی بلکہ حددرجہ ضد کرکے۔۔۔محبت کی قسمیں دے دلا کر۔۔۔خود کے ساتھ ساتھ اُس کا پرسنل ٹیسٹ بھی وہاں موجود میل ڈاکٹر سے کروا چکی تھی۔۔۔
ورنہ تو وہ کبھی بھی ایسے نت نئے جھمیلوں میں نہیں پڑا تھا۔۔۔
”تو۔۔۔۔؟؟؟“ آنکھوں میں چمک لے کر پوچھتے ہوئے وہ کسی خوشخبری۔۔۔کسی خوشگوار سرپرائز کی توقع کررہا تھا،
اسکے خود کے ساتھ ساتھ اب تو باقی گھر والے بھی تیزی سے بیت رہے وقت کے سنگ کسی ایسی ہی خوشگوار اطلاع کے منتظر تھے۔۔۔
مگر۔۔۔۔۔!!!!
”تو یہ کہ۔۔۔پچھلے کئی دنوں سے جس بات کا مجھے اور ڈاکٹرز کو ڈر لاحق تھا،،وہی ہوا ہے۔۔۔رپورٹس کے مطابق۔۔۔۔میں تو ماں بن سکتی ہوں،،،م۔۔مگر آپ۔۔۔آپ میں ایک۔۔باپ بننے کی صلاحیت سرے سے ہی موجود نہیں ہے زیدان۔۔یوآر آ اِن کمپلیٹ مین۔۔۔۔۔“ حسنہ وقاص نم آنکھوں کے ساتھزیدان عالم درانی کو بےیقینی تلے ساکت کرتی ہوئی۔۔۔اس کے سر پر پورے گھر کی چھت ہی تو گرا گئی تھی۔
معاً زیدان نے ماتھے پر زور کی ضرب لگاتے ہوئے ضبط کھونے پر جھٹکے سے انگارہ آنکھیں کھول لیں۔۔۔
مگر سلگتی یادیں یادداشت میں ہنوز بہتی ہوئی اسے گہری اذیت سے دوچار کررہی تھیں۔۔
”ہاؤ ڈیر یُو۔۔۔۔ہمت کیسے ہوئی تمھاری مجھ سے ایسا۔۔ایسا چیپ گھٹیا مذاق کرنے کی۔۔۔۔؟؟؟مجھے سچ بتاؤ حسنہ وقاص۔۔۔صرف سچ۔۔۔؟؟“ ہوش میں آکر اسے کندھوں سے جھٹکتا جیسے وہ پاگل سا ہوا تھا۔۔
ساری نرمی پل میں مفقود ہوئی تھی۔
”آپ کے سر کی قسم زیدان،،،ہماری محبت کی قسم جو کچھ میں نے بتایا وہی سچ ہے۔۔بالکل سچ۔۔۔“ اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر بھیگتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہتی وہ اس کے دماغ کی رگیں ہلاگئی تھی۔
سوچتے ہوئے زیدان نے طیش سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔۔۔
”لیکن اگر پھر بھی آپ کو میری کہی باتوں پر یقین نہیں آرہا تو آپ یہ رپورٹس چیک لیں۔۔۔خود جاکر ڈاکٹرز سے اپنی اس محرومی کے بارے میں پوچھ لیں۔۔یا پھر کسی بھی نئے پرانے ہاسپیٹل میں جاکر کنفرم کروالیں۔۔۔بخدا فائنل رزلٹس آپ کو ایک سے ہی ملیں گے کیونکہ آپ کا یہ مرض لاعلاج ہے زیدان۔۔لاعلاج ہے یہ مرض۔۔۔۔“ بند کمرے میں رو کر مزید سچ اگلتی ہوئی وہ فائل ہاتھ میں دیتی کیسے بےدردی سے اس کی مردانگی کی دھچیاں بکھیر رہی تھی ناں۔۔۔
اس قدر بےدردی سے کہ زیدان عالم درانی کو دوپل کے لیے اپنے ہی وجود سے شدتوں کی گھن محسوس ہوئی تھی۔۔۔
”امپاسیبل۔۔۔یہ۔۔۔یہ سب کیا ہوگیا ہے میرے ساتھ۔۔۔م۔۔میں پاگل ہوجاؤں گا۔۔۔آئی سوئیر میں کچھ غلط کر بیٹھوں گا۔۔۔۔“ وہ ضبط سے نم ہوتی انگارہ آنکھیں اپنی بابت لکھے روگ پر ذیادہ دیر تک جما ہی نہیں پایا تھا۔۔۔
ڈاکٹرز سے بھی وہ گاڑی میں بیٹھتے ساتھ ہی پرسنلی کنفرم کروا چکا تھا۔۔۔
آخر یہ۔۔۔یہ کیسی انہونی ہوئی تھی اس کے ساتھ۔۔۔ہہمم۔۔؟؟
وہ تو بالکل پرفیکٹ مرد تھا ناں۔۔۔!!
تو پھر ایسی بدتر محرومی کیوں۔۔۔؟؟؟آخر کیووووں۔۔۔؟؟؟
شدت سے دکھتی کنپٹیوں کو ہتھیلیوں تلے مسلتے ہوئے وہ گہرے گہرے سانس لیتا ہوا گویا خود کی ہی توہین محسوس کررہا تھا۔۔۔
”کہیں اسے حیا وقاص کی بددعا تو نہیں کھاگئی تھی۔۔۔؟؟؟“ سرخ چہرے پر ضبط سے ہاتھ پھیرتا ہوا زیدان چونکا۔۔۔
ہاں شاید۔۔۔۔!!! دل و دماغ نے جیسے شدت سے تائید کی تھی۔
”سر۔۔۔۔؟؟؟“ بالوں کو مٹھی میں جکڑے وہ مزید گہرائیوں میں اترنا چاہ رہا تھا،،،جب دروازہ ناک کر کے بلاجھجک اندر داخل ہوتا فائق اسے ٹھٹھک کر سیدھا بیٹھنے پر مجبور کرگیا۔
”ہوں۔۔؟؟کہو سن رہا ہوں۔۔۔۔۔“ قدرے ناگواری سے اسے دیکھ کر ٹائی صحیح کرتے ہوئے زیدان رکھائی سے بولا۔۔۔
شاید وہ فارن کلائنٹس سے ہونے والی میٹنگ کے لیے ہی اسے بلانے آیا تھا۔۔۔
”سر آپ کو بتانا تھا کہ۔۔۔۔“ فائق اس کے تنے چہرے کو بغور دیکھتا ہوا نرمی سے بول رہا تھا، جب وہ سرعت سے اس کی بات کاٹ گیا۔۔۔
”ہاں تو پھر۔۔۔۔آگئے دبئی سے کلائنٹس۔۔۔؟؟میٹنگ کے لیے سب ریڈی ہے۔۔۔۔؟؟؟“ سیٹ سے کھڑے ہوتے ہوئے وہ تندہی سے سامنے پڑی فائل بھی اٹھا چکا تھا۔
”نوسر۔۔۔ایکچوئیلی وہ کلائنٹس آج نہیں آرہے۔۔۔۔اَن فارچونیٹلی عین وقت پر ہی وہ فلائٹ کو اپنے کسی پرسنل ایشو کی وجہ سے کینسل کر چکے ہیں۔۔۔۔۔“ فائق نے پل بھر کو لب بھینچ کر بات بتائی تو زیدان نے چونک کر اسکی جانب سخت نظروں سے دیکھا۔
”وہاااٹ۔۔۔۔؟؟اور یہ کب کی بات ہے۔۔۔؟؟کب انفارم کیا انھوں نے تمھیں اس بارے میں۔۔۔؟؟؟“ فائل واپس ٹیبل پر پٹختے ہوئے زیدان غصے سے اس کی طرف آتا پوچھ رہا تھا۔۔
مینیجر کمال کے چلے جانے کے بعد اب ذیادہ تر کام وہی تو سنبھال رہا تھا۔
نتیجتاً اپنے چھوٹے باس کے تیوروں پر فائق کا چہرہ ناچاہتے ہوئے بھی سپاٹ ہوا۔
”آلموسٹ دو گھنٹے ہوچکے ہیں اس بات کو سر۔۔۔۔۔“ بناگھبرائے بتاتا وہ ہاتھ پشت پر باندھ چکا تھا۔
”تو کیا تم مجھے یہ بات پہلے نہیں بتا سکتے تھے یُو ڈیمٹ۔۔۔ہہممم۔۔۔؟؟“ زیدان کو اس کا سینہ چوڑا کرکے جواب دینا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا،جبھی مزید خراب ہوتے دماغ کے ساتھ مقابل کے منہ پر زوروں کا مکا رسید کرگیا۔
”اففف۔۔۔۔“ آنکھ کے ٹھیک نیچے اٹھتی درد کی شدید لہر پر بےساختہ ہاتھ رکھتے ہوئے۔۔فائق کے لیے زیدان کا اتنا شدید ردِ عمل غیرمتوقع سا تھا۔
”میرا قیمتی وقت برباد کردیا تُونے سالے۔۔۔دو گھنٹے سے یہاں بیٹھ کر جھک مار رہا تھا تُو ہاں۔۔۔؟؟؟بول۔۔۔پہلے کیوں انفارم نہیں کیا تُونے مجھے ان کمی کمینوں کے بارے میں۔۔۔۔؟؟؟“ بنا کسی لحاظ کے براہ راست اسے اسکے کالر سے دبوچ کر جھنجھوڑتا ہوا وہ پل پل بپھر رہا تھا۔۔۔
تواتر سے ہوتی ٹیسیوں پر بمشکل ضبط کرتے فائق نے مٹھیاں بھینچ کر کھولیں۔۔۔
”تم نے بھی تو کچھ نہیں بتایا تھا مجھے۔۔۔۔“ اپنا کھنچا کالر زیدان کی آہنی گرفت سے چھڑوائے بنا وہ سرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سرد ترین لہجے میں غرایا،،،،تو جہاں اسکی بات کا مطلب نہ سمجھتے ہوئے زیدان نے مزید سختی سے مٹھیاں بھینچی تھیں۔۔۔وہیں عالم صاحب کا میسج لے کر روم میں آتی زلیخا سامنے کا منظر دیکھ ششدر رہ گئی۔
اگلے ہی پل وہ ماتھا پیٹ کر تیزی سے ان کی جانب لپکتی ہوئی دونوں کے بیچ میں آئی تھی۔۔۔
”ز۔۔۔۔زیدان۔۔۔۔؟؟زیدان کیا ہوگیا ہے تمھیں۔۔۔۔؟؟پاگل ہوگئے ہو گیا چھوڑو اسے۔۔۔زیدان۔۔۔!!!“ اُن دونوں کو بمشکل ایک دوسرے سے الگ کرتی ہوئی وہ کچھ ہی لمحوں میں ہانپ سی گئی تھی۔
”ہاں ہو گیا ہوں میں پاگل اپیہ۔۔۔ہوگیا ہوں۔۔۔۔۔“ بالوں کو مٹھی میں جکڑ ے۔۔۔بھڑک کر بولتا ہوا وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا،بلکہ زلیخا کو مزید حیرت میں دھکیلتا ہوا آفس روم سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
فائق نے آنکھ کے نیچے تیزی سے سوجھتی ہوئی سرخ جگہ پر انگلیاں پھیریں۔۔۔
پھرسر جھٹکتے ہوئے آہستگی سے اپنا کالر صحیح کیا۔۔۔تو دھاڑ سے دروازہ بند ہونے پر زلیخا بےاختیار اس کی جانب پلٹی۔
”تم ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟اور یہ سب ہوا کیوں۔۔۔؟؟“ تذبذب کا شکار ہوکر پوچھتی وہ فائق کو تکلیف میں بھی مسکرانے پر مجبور کرگئی تھی۔
”کلائنٹس کے نہ آنے کا شدید غصہ مجھ معصوم پر نکالا گیا ہے۔۔۔مگر اس کے باوجود بھی آپ پوچھ رہی ہیں تو میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔“ دکھتی جگہ کو مسل کر کہتا وہ بڑی نرمی سے بول رہا تھا۔
اس کی سرخ نگاہوں میں میٹھا تاثر دیکھ کر زلیخا کا دل بےاختیار دھڑکا۔
اسکے گہرے اندازوں پر جہاں اب وہ اکثر چونک سی جایا کرتی تھی۔۔۔وہیں اس کے مردانہ ہاتھوں کی کافی کا ذائقہ بھی اسی کے جیسا خاموش مگر قدرے گہرا ہوتا تھا۔۔
”اس کی طرف سے میں تم سے سوری کرتی ہوں فائق۔۔۔۔یقیناً وہ کسی چیز کو لے کر بہت ذیادہ ٹینس ہوگا جبھی ایسا کرگیا۔۔ورنہ میرا چھوٹا بھائی بات بات پر مار پیٹ کرنے والا انسان بالکل بھی نہیں ہے۔۔۔“ آنکھ کے نیچے آہستگی سے پھیلتی مدھم نیلاہٹ پر وہ معذرت کرنے کے ساتھ ساتھ زیدان کے حق میں بھی صفائی پیش کررہی تھی۔
”اٹس اوکے مس زلیخا۔۔۔ویسے میں اسے محض اپنی فکرسمجھو یا پھرآپکے بھائی کی تعریف۔۔۔؟؟؟“ سینے پر بازو باندھ کر پوچھتا ہوا وہ غیرسنجیدہ ہوا تھا۔
اس دوران درد کی وقفے وقفے سے اٹھتی ٹیسیں ہنوز تھیں۔
جواباً زلیخا نے بھی سینے پر بازو باندھتے ہوئے بھنویں اچکا کر اس کی جانب دیکھا۔۔۔جو چوٹ کھا کر بھی دل سے مسکراتا تھا۔۔۔۔
”تم اندر سے بھی ویسے ہی ہو ناں جیسے سب کو باہر سے نظر آتے ہو۔۔۔؟؟؟“ قدرےسنجیدگی سے سوال کرتی وہ فائق کے لبوں پر رینگتی مسکراہٹ کو مزید گہرا کرگئی تھی۔
”سب کے لیے تو نہیں۔۔۔فقط خاص لوگوں کے لیے۔۔۔اگر شک ستائے تو بلا جھجک آزما کر دیکھ لیجیے گا۔۔۔۔۔“ مدھم۔۔۔شیریں لہجے میں بولتا ہوا فائق درید آگے بڑھ گیا تھا۔۔۔۔
پیچھے زلیخا عالم درانی پُرسوچ نگاہوں سے اسے وہاں سے جاتا ہوا دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
اس دوران دھڑکتا دل یکدم ہی زیدان کے رویے کی بابت سوچتا ہوا مزید بےچین ہوا تھا۔۔۔
