No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
رات کی گہری سیاہی تیزی سے پھیلتی ہوئی جہاں کافی حد تک وسیع آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی،وہیں وہ صوفے کی پشت پر دکھتا سر ٹکائے ہوئے پُرسوچ انداز میں ماتھا مسل رہا تھا۔
اس پل لاؤنج میں چھائی خاموشی سمیت نیم اندھیرا اُس کی وحشتوں کو مزید بڑھاوا دے رہا تھا۔
ایک عرصے بعد اسکے قدم حیا وقاص کے سنگ اس گھر میں پڑے تھے۔
حفصہ بیگم نے یہاں کی صفائی ستھرائی کے لیے بہت پہلے ہی دو عدد ملازمائیں بھیج دی تھیں۔۔۔
جو پھرتیوں سے ہاتھ پیر چلاتی ہوئی گھر کی حالت کافی حد تک سنوار کر یہاں سے جاچکی تھیں۔
اسے یاد تھا جب وہ امریکہ جانے سے پہلے یہاں خاص کر اپنی نانی سے ملنے کے لیے آیا تھا۔اور پھر چند ماہ بعد ہی وہ سب کو چھوڑ چھاڑ کر ہمیشہ کے لیے اس جہاں سے چل بسی تھیں۔
معاً اس کی سوچوں کا رخ بدلا تو شدید طلب ہونے پر رمیض نے جلدی سے سگریٹ سلگا کر لبوں کے بیچ دبایا۔
کتنی مضحیکہ خیز بات تھی ناں۔۔!!
وہ جو عورت ذات سے اتنا بڑا دھوکا کھانے کے بعد اپنی زندگی میں کبھی شادی نہ کرنے کی ٹھان چکا تھا،اب اپنی ہی ہونے والی بھابی کو بیوی بناکر اس گھر میں لے آیا تھا۔
اففف۔۔۔۔۔!!!
”چلو بنا کسی ثبوت کے ایک پل کے لیے مان بھی لیتے ہیں کہ تم لوگ کڈنیپ ہوئے تھے۔۔۔تو کیا رمیض۔۔۔؟؟؟اس سے سب بگڑے کام ٹھیک ہوجائیں گے۔۔۔؟؟؟ خاک میں مل چکی عزت واپس لوٹ آئے گی۔۔۔؟؟؟نہیں،ہرگز نہیں۔۔۔ایسا کچھ بھی نہیں ہوگا الٹا مزید بگڑے گا سب۔۔۔بہتر یہی ہے کہ تم حیا سے نکاح کرلو۔۔۔مرد ہو سہہ لو گے۔۔۔مگر وہ صنفِ نازک ہے آگے کی تلخ زندگی برداشت نہیں کرپائے گی۔۔۔تمھارے نام سے بدنام ہوئی ہے اب اگر اسےتمھارا ہی ساتھ نہ ملا تو وہ بِن ماں کے بچی فنا ہوکر رہ جائے گی۔۔۔۔“ عالم صاحب کی مضبوط۔۔سنجیدہ آواز آس پاس بکھرتی ہوئی اسے ایک بار پھر سے گہری حقیقت کو اس کے منہ پر مار چکی تھی۔
رمیض نے بےچینی سے ہوا میں دھواں اڑایا۔
”میں تیار ہوں۔۔۔۔“ آخر میں اپنے باپ کے جڑے ہاتھ دیکھ کر کیسے وہ بےبسی کی انتہاؤں کو چھوتا ہوا اپنی ہر ضد چھوڑ بیٹھا تھا ناں۔۔۔
ضبط کا گہرا سانس بھرتے ہوئے رمیض کو اپنی بدترین ہار یاد آئی تھی۔
”موم ڈیڈ۔۔۔جو کچھ میرے ساتھ ہوچکا ہے وہ سب میں نے بڑی مشکلوں سے برداشت کیا ہے۔۔۔مگر اب میں اِن دونوں دغابازوں کی موجودگی اِس پیلس درانی میں ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔۔۔آپ اپنے بڑے بیٹے سے بول دیں کہ وہ نکاح کے بعد اپنی معشوقہ بیوی کے ہمراہ کسی الگ گھر میں رہ لیں یا پھر اسے لے کر کم از کم امریکہ نہیں تو لندن دبئی کہیں بھی شفٹ ہوجائیں میری بلا سے۔۔۔مگر یہاں نہیں۔۔۔ورنہ رشتوں میں جو بگاڑ پیدا ہوا ہے وہ طوفان بدتمیزی میں بھی بدل سکتا ہے۔۔۔۔“ زیدان کی وہ بدظنی،،،وہ نفرت آمیز لہجہ۔۔۔بھلا کیسے بُھلایا جا سکتا تھا۔۔۔!!!
چھوٹا بھائی تھا وہ اُسکا۔۔۔۔
اور پھر عالم صاحب نے بھی تو فقط اُسی کی بات کو ترجیح دی تھی۔۔۔
جانے انجانے وہ اپنوں سے بہت دور ہوچکا تھا۔۔۔بہت ذیادہ دور۔۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ حالاتوں،رشتوں سے بےبس ناچاہتے ہوئے بھی یہ زہریلا گھونٹ حلق سے نیچے اتار چکا تھا،،،
لیکن یہ بھی سچ تھا۔۔۔اگر وہ اس رشتے سے خوش نہیں تھا،تو خوش وہ بھی نہیں تھی۔
رمیض نے اذیت سے سوچتے ہوئے ادھ جلے سگریٹ کو کوفت سے نیچے پھینکتے ہی بوٹ تلے مسلا۔
شاید نکاح کے بعد وہ خود بھی اپنی بیوی کے ہمراہ درانی پیلس میں رہنا گوارا نہ کرتا۔۔۔۔
”آاا۔۔ہہہ۔۔۔۔“ اچانک سماعتوں میں گھلتی چھناکے کی آواز کے ساتھ تیز نسوانی چیخ نے رمیض کو شدت سے چونکایا تھا۔
اگلے ہی پل وہ تشویش زدہ سا صوفے سے اٹھتا ہوا دو کمروں میں سے ایک کی جانب بڑھا تھا۔
دروازہ لاک نہیں تھا۔۔۔
رمیض تیزی سے اندر داخل ہوا جہاں وہ ٹوٹے بکھرے کانچ کے قریب ترین بیٹھی اپنی کلائی زخمی کرنے کو تھی۔
اس سے پہلے کے حیا اپنی نازک جان کسی جوکھم میں ڈالتی،،،رمیض لمبے ڈگ بھرتا ہوا بروقت اس تک پہنچا،اور قدرے پُھرتی سے کانچ کا نوکیلا ٹکڑا اس سے چھین کر پرے پھینک گیا۔
حیا نے صدمے سے چہرہ اٹھا کر اس کی جانب دیکھا،،،جو اگلے ہی پل جھک کر اسے بازو سے دبوچتا ہوا جھٹکے سے اپنے سامنے کھڑا کرگیا تھا۔
”ایسی بےوقوفی کرکے مزید بدنام ہونا چاہ رہی تھی تم۔۔۔؟؟؟“ وہ غصے سے دھاڑا تو نم پلکیں جھپکاتی حیا بھی جیسے ہوش میں آئی۔
پھر بھیگی نگاہوں کے سنگ بڑے ضبط سے اپنے بازو پرسختی سے جما اس کا ہاتھ دیکھا۔
”چھوؤ مت مجھے۔۔زہر لگتا ہے تمھارا یہ لمس۔۔۔۔“ اگلے ہی پل وہ پوری قوت لگاتی اسکی گرفت جھٹک چکی تھی۔
شدید ناگواری تلے رمیض کی تیوریاں بڑھتی چلی گئیں۔
”حالاتوں سے مجبور ہوکر میں تمھارے نکاح میں تو آچکی ہوں رمیض عالم درانی۔۔۔مگر یاد رکھنا کہ حیا وقاص تمھاری قربت کسی صورت نہیں جھیلے گی۔۔۔نفرت ہے مجھے تم سے۔۔بےحد نفرت۔۔۔۔“ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وہ لرزتی ہوئی آواز میں نفرت سے پھنکار رہی تھی۔
اتنی بکواس پر رمیض کا ضبط ٹوٹنے لگا۔۔۔تو وہ بےاختیار ایک قدم اسکے قریب ہوا۔
”مجھ سے تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کرنا سیکھو تم۔۔۔۔ایسی بکواس باتوں اور بےکار ٹون کا عادی ہرگز نہیں ہوں میں۔۔۔۔گوٹ اٹ۔۔۔“ اس کی سنسناتی کنپٹی پر شہادت کی انگلی سے زور ڈالتے ہوئے بڑے اس نے ضبط سے جتایا تھا۔
حیا کی آنکھوں کی نمی مزید گہری ہوئی۔
”تمیز ہاں۔۔۔؟؟؟جب تم نے کسی تمیز کا مظاہرہ نہیں کیا تو پھر میں کیوں کروں۔۔؟؟“ویسے بتاؤ ناں تمھاری نیت کب مجھ پر خراب ہوئی تھی،جب اُن غنڈوں نے میرے سر سے عزت کی چادر کھینچی تھی،تب۔۔؟؟یا پھر شروع سے ہی خراب تھی۔۔؟؟؟یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں تمھارے چھوٹے بھائی کی منگ تھی۔۔۔۔“ اس کا ہاتھ جھٹکے بنا ہی،وہ براہ راست اس کا گریبان مٹھیوں میں دبوچتی بھیگتے لہجے میں پوچھ رہی تھی۔
اس کے شدت سے چبھتے تیز دھار طنزوں نے حقیقی معنوں میں رمیض کا دماغ گھوما ڈالا۔
وہ لڑکی اسے کیا سمجھ رہی تھی۔۔۔؟؟؟
ایک شدید گرا ہوا انسان!!
”او شٹ اپ یو ڈیمٹ۔۔۔جسٹ شٹ اااپ۔۔۔شوق یا محبت میں نکاح نہیں کیا میں نے تم سے۔۔۔فقط تمھاری بکھر چکی عزت کو سمیٹنے کے لیے قبول کیا ہے میں نے تمھیں۔۔۔مت بھولو کہ اس معاملے میں جتنی مجبور تم تھی اتنا ہی مجبور میں بھی تھا۔۔۔انڈرسٹینڈ۔۔۔۔“ اپنا گریبان چھڑوا کر اس کے بھیگے گال دبوچتا وہ طیش زدہ سا چلایا تو حیا اندر تک کانپتی سسک اٹھی۔
”ت۔۔تو پھر کیوں چنی تم نے اپنے لیے یہ مجبوری۔۔۔؟؟کک۔۔کیوں مجھے اپنے بھائی کی طرح دھتکار نہیں سکےتم۔۔۔؟؟؟کم از کم میری زندگی مزید عذاب تو نہ ہوتی۔۔۔“ برہمی سے پوچھتی وہ اس کے آگے ایکدم ڈھیلی پڑی تھی۔
اس کے بہتے آنسوؤں کے بعد سرخ ناک کو کرختگی سے دیکھتا وہ اس کا چہرہ چھوڑ گیا۔
”چاہنے کے باوجود بھی میں نے تمھیں نہیں دھتکارا یہ احسان مانو میرا۔۔۔ اور اگر نہ مان کر یونہی میرے خلاف چلتی رہی تو بیلیو می حیا وقاص تمھاری اِس عذاب زندگی کو مکمل جہنم میں بدل کر رکھ دوں گا میں۔۔۔۔“ اُسکے جتلاتے ہوئے سرد ترین لہجے پر حیا نم سرخ نگاہیں اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔
”جیسے اپنی پہلی بیوی کی بدل کر رکھ دی تھی۔۔اُسے مارکر۔۔بےرحم قاتل بن کر۔۔؟؟؟“ تاسف سے پوچھتی ہوئی وہ رمیض کی دکھتی رگ پر قدم رکھ چکی تھی۔
اگلے ہی پل وہ تنے جبڑوں کے ساتھ حیا کو بازوؤں سے دبوچ کر قریب ترین کرتا ہوا اسکی سانسیں روک گیا۔
”آئندہ میں تمھاری اس لمبی زبان سے اپنی سابقہ بیوی یا پھر اپنے چھوٹے بھائی کا لفظ بھربھی ذکر نہ سنوں۔۔۔ورنہ آئی سوئیر۔۔دوبارہ بےرحم قاتل بننے میں مجھے ایک سیکنڈ نہیں لگے لگا۔۔۔۔“ اس کی پھٹی پھٹی دھندلائی آنکھوں میں انگارہ آنکھیں گاڑتا ہوا وہ سفاکی سے گویا ہوا۔۔تو حیا کے لرزتے وجود میں خوف کی لہرسی دوڑ گئی۔
مقابل وائفی کلر تھا اور یہ بات انتہائی قابلِ احتیاط تھی۔
”م۔۔میں ڈرتی نہیں ہوں آ۔۔آپ سے۔۔۔“ جواباً بمشکل تھوک نگلتے ہوئے حیا کے مدھم سرخ لب پھڑپھڑائے۔
مقابل کی سانسوں میں رچی سگریٹ کی بُو شدت سے اس کے نتھنوں میں گھستی ہوئی پل پل اس کے اوسان خطا کررہی تھی۔
اگلے ہی پل وہ آنکھوں میں تمسخر سمیٹتا حیا کی سماعتوں پر جھکا تو آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر سپید گالوں پھسلے۔
”تو پھر ڈرنا سیکھو وائفی۔۔۔آئی سوئیرتمھارے حق میں بڑی فائدہ مند رہے گی یہ چیز۔۔۔۔۔“ جانیلوا بھاری سرگوشی کرتا ہوا وہ حیا وقاص کے ڈر کو مزید بڑھاوا دیتا مزید وہاں رکا نہیں تھا،بلکہ اسے بھاری لہنگے کے بوجھ کے ساتھ وہیں چھوڑتا۔۔۔پلٹ کر کمرے سے نکلتا چلا گیا۔
پیچھے وہ اس کے گہرے الفاظ پر غور کرتی نئی فکروں میں ڈوبی تھی۔
اس دوران بےدھیانی میں ایک قدم پیچھے لینے پر ٹوٹے کانچ کی ِکرچی حیا کی ایڑھی میں گھستی ہوئی اسے شدت سے سسکنے پر مجبور کرگئی۔۔۔
آگے کی زندگی اب واقعی عذاب سے جہنم ہونے والی تھی۔
کاش۔۔۔کاش اُس دن رمیض عالم درانی کی جگہ وہ زیدان عالم درانی کے ساتھ اغواء ہوئی ہوتی۔۔۔تو آج یہ سب نہ جھیلنا پڑتا اسے۔۔۔
پھٹتے ذہن کے ساتھ سوچتی ہوئی وہ تکلیف سے لاپرواہ بنتی نیچے ڈھیتی چلی گئی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”زلیخا میم۔۔۔یہ پراجیکٹ فائل عالم صاحب نے بھجوائی ہے۔۔۔آپ پلیز اسے چیک کر کے اپروو کردیجیے۔۔۔“ وہ ایمپلائی اس کے روم میں آتی خوشگوار لہجے میں ملتجی ہوئی،تو زلیخا سر سیٹ سے ہٹاتی ہوئی اثبات میں سر ہلاگئی۔
”فائن میں کرلوں گی۔۔۔تم جاؤ اور میرے لیے چائے بناکرلے آؤ۔۔۔سر درد سے پھٹ رہا ہے میرا۔۔۔۔“ ایمپلائی نے آہستگی سے فائل اس کے آگے ٹیبل پر رکھی تو وہ نرمی سے بولی۔
کافی کی جگہ وہ ذیادہ چائے لینا پسند کرتی تھی اور اس کی عادت سے سبھی واقف تھے۔
”شیور میم۔۔۔۔۔“ ایمپلائی تابعہ داری سے مسکرا کر بولتی ہوئی وہاں سے نکلتی چلی گئی تو زلیخا نے سر واپس سیٹ کی پشت سے ٹکا لیا۔
آج وہ عالم صاحب کے ہمراہ کافی دنوں بعد آفس آئی تھی۔۔۔جبکہ زیدان آجکل دیر سے آنے لگا تھا۔
پچھلے دنوں کی ہنگامہ آرائی کے بعد سے وہ اپنی فیملی سمیت بہت ذیادہ ان کمفرٹیبل ہوچکی تھی۔
ایسے میں حمزہ کا الٹے سیدھے سوالات کر کر کے اسے زچ کرتے رہنا بھی کچھ کم نہیں تھا۔
ان سب ناخوشگوار تبدیلیوں میں سے ایک نئی تبدیلی جو رونما ہوئی ہوئی تھی وہ یہ بھی تھی کہ محض فون کے تھرو بات چیت کرنے پر ہی اُس نوجوان لڑکے کو ان کے آفس میں جاب مل گئی تھی جس نے مال میں چند بدمعاش آوارہ لڑکوں سے اسے بچایا تھا۔
ستائیس سالہ وہ مڈل کلاس لڑکا فائق درید اسی کی خاص سفارش پر اب عالم صاحب کا میل اسیسٹنٹ بن چکا تھا۔
آج آمنا سامنا ہونے پر وہ کس قدر مٹھاس سے اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا ناں۔۔۔
تھنکیس کرتے سمے ایک عجیب سی چمک تھی اس کی گہری آنکھوں۔۔۔
زلیخا مدھم دکھتی کن پٹیوں کو زور دے کر سہلاتی ہوئی سوچ رہی تھی،جب اچانک ٹیبل پر رکھا اس کے موبائل فون کی میسج ٹیون بجی۔
سر جھٹک کر موبائل فون اٹھاتے ہوئے اس نے لاک کھول کر انباکس اوپن کیا تھا۔
”بی اونیسٹ۔۔۔سیاہ سے ذیادہ سبز رنگ جچتا ہے تم پر جانِ من۔۔۔۔۔“ کسی ان ناؤن نمبر سے ایسا واہیات میسج پڑھ کے زلیخا کا موڈ پل میں خراب ہوا تھا۔
مگر چونکنا بھی بےاختیار تھا، کیونکہ پچھلے دنوں میں وہ اپنے چھوٹے بھائی کی شادی میں یہ دونوں رنگ ہی پہن چکی تھی۔
”کون ہو تم۔۔۔؟؟؟“ ضبط سے سوال ٹائپ کرتی وہ کسی اپنے رشتے دار کی توقع کررہی تھی۔
”تمھارے حسن کا دیوانہ۔۔۔۔“ کچھ پلوں بعد الٹا جواب آیا تھا۔
لب بھینچتے ہوئے زلیخا کا پارہ ہائی ہوا۔
”جسٹ شٹ اپ۔۔۔نفرت ہے مجھے ایسے چیپ مذاق اور تم جیسے چیپ مردوں سے،جو اپنے گھٹیا پن میں رشتے داری کا لحاظ کرنا بھی نہیں جانتے۔۔آئی بلاک یو۔۔۔“ تندہی سے ٹائپنگ کرکے میسج سینڈ کرتی وہ اچھا خاصا جھاڑ چکی تھی۔
دوسری طرف وہ ڈھیٹ پنے سے مسکرایا تھا۔
”تمھارے بیٹے کی قسم مذاق نہیں ہے یہ۔۔۔تمھاری ذات کو لے کر بہت سنجیدہ ہوں میں ڈارلنگ۔۔اور ہاں۔۔۔تم سے محبت پالنے کے لیے مجھے تمھاری رشتے داری کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔فی الحال تو میرا اجنبی ہونا ہی کافی ہے۔۔بعد میں مضبوط رشتے داری بھی جوڑ ہی لوں گا تم سے۔۔۔۔“ آئی ونک کرتے ایموجی کے ساتھ ڈھیر سارے سرخ دل بھیجتا وہ انجان شخص اپنے اس میسج سے زلیخا عالم درانی کو ساکت کرگیا تھا۔۔۔۔
آخر یہ سب کیا ہورہا تھا اس کے ساتھ۔۔۔؟؟؟
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
سورج کی بکھری روشنی تلے وہ سفید رنگ کی بڑی سی پرائیوٹ بوٹ تھی جو اس پل گہرے سمندر کے بیچ و بیچ ٹھہری ہوئی تھی۔
ایسے میں چلتی ہوئی مدھم ہوا اس کے کھلے سیاہ بالوں سے قدرے آہستگی سے چھیڑخانیاں کررہی تھی۔
معاً وہ ظالم اسے گردن کی پشت سے دبوچے گھسیٹ کر بوٹ کے کنارے تک لایا تھا۔سہمی نم آنکھوں سے سمندر کی گہری ہلچل تکتی حیا مزید گھبرائی۔
“کیا کہا تھا تم نے مجھ سے وائفی؟کہ اب میرا چھونا تمھیں زہر سے بھی زہر لگتا ہے۔میرے لمس نے تمھیں اس دنیا کی غلیظ ترین عورت بنادیا ہے۔۔۔ہے ناں؟؟یہ۔۔۔یہی سب بکواس کی تھی ناں تم نے میری جان؟” سرد ترین لہجے میں پوچھتا ہوا وہ جھٹکے سے اسے جھکا گیا تھاکہ اسکا نازک پیٹ حفاظتی اسٹینڈ سے جالگا۔جواباً سسکی روکنے کو وہ اپنا نچلا لب سختی سے کچل گئی۔خوف سے پھیلی نگاہوں میں سمایا ہوا بہتے پانی کا منظر اس کے رونگٹھے کھڑے کررہا تھا۔
“اب تم دیکھوگی ڈارلنگ!د یکھوگی کہ کیسے میں سانسوں سمیت تمھاری تمام تر غلاظت مٹاتا ہوں۔تمھیں آج صحیح معنوں میں تمھاری حقیقی پارسائی سے آشنا کرواؤں گا میں۔” جھک کر سماعتوں میں پھنکار گھولتا رمیض عالم درانی اگلے ہی لمحے اسکا لرزتا وجود اٹھائےبےدردی سے اپنی بانہوں میں سمیٹ گیا۔۔۔تو اس افتاد پر بوکھلاتی وہ رہائی پانے کو تڑپ کر رہ گئی۔
”نن۔۔۔نہیں پلیزتم ایسا کچھ بھی نہیں کروگے۔تت۔۔۔تم جانتے ہو ناں مجھے تیرنا نہیں آتا۔میں سچ مچ مرجاؤں گی مجھے نیچے اتارو فوراً۔ل۔۔۔لیو می!آئی سیڈ لیو می۔۔۔!“ اپنے شوہر کے جانلیوا ارادے بھانپتی وہ بھیگتی آواز میں شدت سے چلائی تھی اس امید پر کہ شاید مقابل کو کچھ ترس آجائے۔
اُس شخص کو ترس آجائے جسے وہ بذاتِ خود ”وائفی کِلر“ جیسے لقب سے نواز چکی تھی۔
مگر اپنے کشادہ سینے پر ان گنت نازک مکے کھاتا وہ سنگدل انسان اس کی اُڑی ہوئی رنگت دیکھ کر دلکشی سے مسکرایا۔
آنسو تواتر سے حیا کے سپید گالوں کو بھگورہے تھے۔
”جب میں نے اپنی سابقہ من پسند بیوی کو نہیں بخشا تو بھلا تم جیسی ناپسندیدہ عورت پر ترس کھانے کی غلطی کیسے کرسکتا ہوں؟چھڑوانا چاہتی ہو ناں مجھ سے اپنا آپ سیکنڈ وائفی؟تو لو۔۔۔چھوڑ دیا۔۔۔“ چہرہ قریب ترین کرکے سپاٹ لہجے میں غراتا ہوا وہ اگلے ہی پل اسکا مچلتا ہوا نازک وجود پوری قوت سے اسٹینڈ کے پار گہرے پانی میں اچھال چکا تھا۔۔
”سمندر کے اندر اگر کسی شارک سے روبرو ملاقات ہوئی تو اسے میرا سلام دینا مت بھولنا مائے کیوٹ وائفی۔۔۔“ حلق کے بل چیختی ہوئی۔۔۔چھپاک کی آواز کے ساتھ پانی کے اندر گرتی وہ اس ستمگر کا لطیف سا سفاک طنز شدت سے ان سنا کرگئی تھی۔۔۔“
”ہااا۔۔ا۔۔۔ہ۔۔۔۔۔“ اپنے سلگتے چہرے پر ٹھنڈے پانی کی مدھم پھوار شدت سے محسوس کرتی حیا گہری نیند سے تڑپ کر سوجھی آنکھیں کھول گئی۔۔تو اس پر جھکا رمیض اسے یوں جاگتا دیکھ چونکا۔
پھر ہاتھ میں پکڑا تکیہ اس کی اکڑ چکی گردن کے نیچے رکھے بغیر ہی پیچھے ہوا۔
حیا کی خوف سے پھیلی سرخ نگاہیں رمیض کے شرٹ لیس کسرتی وجود کے بعد،،،سنجیدہ چہرے سے ہوتے ہوئے بھیگے بالوں پر ٹھہری تھیں۔۔۔جو کہ ڈھٹائی سے ہنوز وہیں جم کر کھڑا تھا۔
اگلے ہی پل وہ اپنی گردن کی اکڑاہٹ کو فراموش کرتی ہوئی سائیڈ ٹیبل پر پڑے واز کو پکڑکے پھرتیوں سے دور ہوئی۔۔۔تو رمیض نے حیرت سے اسکی یہ عجلت بھری حرکت دیکھی۔
”ی۔۔یہ کیا کرنے جارہے تھے تم۔۔۔؟؟اس تکیے کی مدد سے سانسیں دبا کر میرا قتل کرنے والے تھے ناں تم۔۔۔۔؟؟؟ہے ناں۔۔۔۔؟؟؟بولو۔۔۔جواب دو۔۔۔۔“ وحشت زدہ سی پوچھتی وہ شاید اب بھی اُس برے خواب کے زیرِاثر تھی۔
واز اس انداز میں دبوچا ہوا تھا جیسے ابھی مقابل کے سر پر دے مارے گی۔
جبکہ اسکی تیزی سے بھیگتی ہوئی سہمی نگاہیں دیکھ کر مقابل کا دماغ اس کی انتہائی فضول بات پر پل میں گھوم گیا۔۔۔
وہ جو شاور لینے کے بعد بنا شرٹ کے۔۔مجبوراً رف سے حلیے میں ہی سیدھا اس روم میں چلا آیا تھا،معاً اُسے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر ٹیڑھی گردن کے ساتھ سوتا ہوا دیکھ،،،ناچاہتے ہوئے بھی قریب پڑا تکیہ ہاتھ میں لیتا اس کے قریب آگیا تھا۔
مگر افسوس کہ ہنوز بھاری لہنگے میں پوری طرح چوکس ہوکر بیٹھی وہ لڑکی اس کی ہمدردی کوکس قدر غلط رنگ دے رہی تھی ناں۔۔۔!!!
”قتل۔۔۔؟؟؟تمھارا دماغ تو سیٹ ہے بےوقوف لڑکی۔۔۔؟؟؟شادی کی پہلی صبح ،میں تمھارا قتل آخرکس دشمنی کی بناء پر کروں گا۔۔ہہمم۔۔؟؟؟سریسلی یو آر آ مینٹلی سِک لیڈی۔۔میری ہی غلطی تھی جو فضول میں تم سے ہمدردی جتانے چلا آیا۔۔۔۔۔“ غصے سے بولتا ہوا وہ اگلے ہی پل ہاتھ میں پکڑا نرم تکیہ درشتگی سے اس کے منہ پر اچھال گیا۔
”آااہہ۔۔۔۔“ سیدھا منہ پر پڑتا تکیہ حیا کی گردن میں درد کی شدید لہر ابھار چکا تھا۔۔۔جس کی پرواہ کیے بنا ہی رمیض چلتا ہوا کبرڈ تک آیا۔
جواباً گردن تھام چکی حیا نے بھی بےساختہ پلٹتے ہوئے اُسے کبرڈ سے گرے رنگ کی شرٹ نکال کر پہنتے دیکھا۔پھر کسی حد تک اصل معاملہ سمجھ آنے پر آہستگی سے واز نیچے رکھتے ہوئے بےدردی سے اپنے آنسو رگڑے۔
بلاشبہ رمیض نے دوسرے کمرے میں رات گزاری تھی لیکن حفصہ بیگم نے جو ان دونوں کا سارا ضروری سامان یہاں بھجوایا تھا وہ ملازمہ خاص ملنے والی تاکید پر اسی روم میں سیٹ کر گئی تھی۔
”دشمنی کا تو پتا نہیں مگر۔۔۔ہمارے بیچ دوستی جیسا بھی کوئی رشتہ نہیں ہے۔۔۔اس لیےآپ میرے ساتھ ہمددریاں جتانے سے گریز کیجیے۔۔۔مجھے یہ پسند نہیں ہے۔۔۔“ سنبھل کر بیڈ سے اترتی وہ آہستگی سے کہتی ہوئی اس پر چوٹ کرگئی تھی۔
اپنی مطلوبہ جینز سمیت بیلٹ بھی لیتا وہ کبرڈ کا دروازہ زور سے بند کرکے اس کی جانب مُڑا۔
”دوستی دشمنی کی کس کو پڑی ہے۔۔۔؟میاں بیوی کا رشتہ ہے ناں۔۔۔کافی ہے۔۔۔اسی لیے مجھے اپنی پسند بتانے کی بجائے فقط میری پسند پر چلنا سیکھو تم۔۔۔۔“ سردمہری سے دوبدو جواب دیتا وہ حیا کو لب بھینچنے پر مجبور کرگیا۔
”ریڈی ہوکر میں ریسٹورنٹ جارہا ہوں،پہلے ہی بہت لیٹ ہوچکا ہوں۔۔۔میرے پیچھے اپنا اور اس گھر کا اچھے سے دھیان رکھنا اب تمھاری ذمہ داری ہے۔۔۔سمجھی۔۔۔۔!!!“ سنجیدگی سے کہتے ہوئے رمیض نے سر تا پیر ایک گہری نگاہ اس کے نازک وجود پر ڈالی۔۔پھرسرجھٹکتا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا،،،تو پیچھے اس کی دو پل کی تپش زدہ نظروں سے چونک چکی حیا کو تب سے اپنا بھاری دوپٹہ نہ لینے کا احساس یکدم ہی سرخ سا کرگیا۔
اگلے ہی پل وہ نم آنکھوں سے پلٹتی اہانت کے احساس تلے تپی ہوئی بیڈ تک آئی۔۔۔ پھرسرخ رنگ کا کامدار دوپٹہ اچھے سے خود پر لپیٹتی ہوئی گردن کی ٹیسوں پر چڑ سی گئی۔
آرام دے کپڑے ہونے کے باوجود بھی وہ بدل نہیں پائی تھی۔اپنی ہوش ہی نہیں تھی تو بھلا کیسے بدلیتی۔۔۔؟؟
معاً پیٹ میں مچلتی بھوک نے آواز کرتے ہوئے جہاں حیا کو شدت سے اپنا احساس دلایا تھا،،،،وہیں گردن میں پھر سے اٹھتی درد کی لہر پر ضبط کرتی ہوئی وہ سب سے پہلے فریش ہونے کی نیت سے افسردہ سی واشروم کی طرف لپکی۔۔۔۔
