Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

میٹنگ سے مکمل فارغ ہونے کے بعد اب وہ آفس روم میں اطمینان سے بیٹھا اپنے قیمتی موبائل فون پر ایک ایک کرکے اس کی دل دھڑکاتی تصاویر دیکھ رہا تھا۔
”خوبصورت۔۔۔۔“ پوری اسکرین پر قابض اُس چمکتے چہرے کو آہستگی سے چھوتے ہوئے اس کے لب اشتیاق سے پھڑپھڑائے۔
”دلکش۔۔۔۔۔“ معاً سرخ لبوں پر آکر رکتی انگلی اس بار زیدان عالم درانی کے دل کی بیٹ مس کرگئی تھی۔
اگلی تصویر میں وہ جینز کے اوپر یلیو شارٹ کُرتا پہنے،دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ایک ادا سے کھڑی تھی۔
دھیرے سے ہنستے ہوئے اس نے تصویر آگے کرنے کو پھر سے اسکرین پر انگھوٹھا پھیرا۔
”اففف۔۔رئیلی انٹرسٹنگ۔۔۔۔۔“ شوخی سے بائیں آنکھ دباتی وہ کھلے انداز میں گلابی لبوں کو سکیڑے کِس پوز دے رہی تھی۔
معاً زیدان نے سیٹ سے سر ٹکاتے گہرا سانس خارج کیا۔اسے اپنی ساری پرسنل تصاویر بھیجنے والی حسنہ وقار خود تھی۔
زیدان کے ذہن میں آج سے ٹھیک ڈیڑھ مہینے پہلے کے حسین لمحے تازہ ہوئے تھے۔۔۔جب وہ اطراف سے بےخبر بارش کے پانی میں بھیگ رہی تھی۔ایسے میں اپنے علیشان گھر کی اونچی چھت سے یہ سب دیکھتا زیدان عالم وہی تھم گیا تھا۔
دوپٹے سے ندارد بھیگا ہوا بدن اچھے بھلے مرد کو بہکا سکتا تھا۔۔۔اور زندگی میں پہلی بار وہ اپنی ہونے والی سالی کو بغور تکتا اپنا آپ بھولا تھا۔
برستی بارش تلے۔۔کھلے نم بالوں کو جھٹکتی حسنہ نے بھی کسی احساس کے تحت اوپر دیکھا۔پھر اپنے تایا زاد کو اپنی جانب تکتا پاکر ٹھٹکی۔
مگر حقیقتاً حیران تو وہ تب ہوا تھا جب شرم سے اندر بھاگنے کی بجائے حسنہ وقاص اسکی جانب چہرہ کیے نرمی سے مسکرائی۔
پھر بےباکی سے اپنی بانہیں پھیلاکر آہستگی سے گھومتی ہوئی وہ اسے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیر کر دلکشی سے مسکرانے پر مجبور کرگئی تھی۔
ہاں وہ بےباک سی شوخ لڑکی اب اس کے باغی دل پر شدتوں سے قابض ہو چکی تھی۔۔۔مگر۔۔۔!!!
زیدان عالم قدرے بے چینی سے ٹیک ہٹاتا سیدھا ہوا۔بےخود مسکراہٹیں پل میں سمٹی تھیں۔
مگر اب وہ اس سے شدید خفا ہوبیٹھی تھی۔۔۔۔
اور وجہ حیا وقاص تھی۔۔۔
حسنہ وقاص کی دبو سی سوکالڈ بڑی بہن!!!جس سے وہ سب کی رضا مندی کے سبب اگلے ہفتے شادی کرنے والا تھا۔
زیدان عالم بددلی سے مٹھیاں بھینچتا ہوا سوچوں میں پڑا۔۔۔
اسے بیوی کے طور پر اپنی بچپن کی منگ نہیں بلکہ اس کی چھوٹی بہن چاہیے تھی۔۔۔
ہاں اسے حسنہ وقاص ہی چاہیے تھی۔۔۔
مگر کیسے۔۔۔۔۔؟؟؟؟
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
اس وقت کمرے کی بند فضا میں سگریٹ کی قابلِ برداشت بُو پھیلی ہوئی تھی۔بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر نیم دراز سا وہ کوئی چھٹی بار سگریٹ پھونک رہا تھا۔سیاہ نگاہوں کی سرخی اس پل اس کے اندر کی توڑ پھوڑ کا صاف پتا دے رہی تھی۔
تین سے چار دن ہوچکے تھے اُسے پاکستان آئے ہوئے۔۔۔مگراپنی اچانک واپسی کی جو وجہ اس نے گھر والوں کو بتائی تھی وہ سب کے سروں پر بم پھوڑنے کے لیے کافی تھی۔۔۔
معاً سنساتے دماغ پر زور ڈالتے ہوئے رمیض کو یاد آیا تھا کہ کیسے وہ سب گھر والوں کے سامنے جان بوجھ کر خود کو اپنی بےوفا بیوی کا قاتل باور کروا چکا تھا۔
اور کرواتا بھی کیوں ناں۔۔۔؟؟
آخر کو وہ بدکردار عورت دنیا کے لیے نہ سہی مگر اس کے لیے تو مرہی چکی تھی ناں۔۔
رمیض نے آنکھوں میں ابھرتی سرخ نمی کو تلخی سے رگڑا۔پھر ختم ہوچکی سگریٹ کو پاس پڑی ایش ٹرے میں جھٹک دیا۔
گھر والوں کی ہلکی پھلکی دلجوئی کے باوجود بھی پچھلے دنوں کی بدترین یادوں نے اس کی راتوں کی نیندیں حرام کردی تھیں۔اس کی ازلی تلخ مزاجی کو مزید تلخ ترین بنادیا تھا۔
اتنا آسان تھا کیا ان سب سے پیچھا چھڑوانا۔۔۔؟
ناچاہتے ہوئے بھی اِک سلگتا ہوا منظر اس کی یاداشت میں شدت سے ابھر کر نیم وا نگاہوں کے سامنے گھوما تھا۔
”یہ تم نے بہت اچھا کام کیا مائے بیوٹی کوئن۔۔۔جو مِس کیرج کے تھرو اپنے سوکالڈ شوہر کی اولاد کو وبالِ جان بننے سے پہلے ہی مروا ڈالا۔۔۔میں زندگی بھر کے لیے تمھیں تو عیش و آرام دے سکتا تھا مگر ایک معمولی سے شیف کی اولاد کا بوجھ ہرگز برداشت نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔۔“ ہوٹل کے شاندار روم میں وہ رئیس زادہ اس کی بدکردار بیوی کو بانہوں میں سمیٹے ہوئے کیسے خالصتاً انگریزی میں اس کی حوصلہ افزائی کررہا تھا ناں۔۔۔
سوچتے ہوئے رمیض عالم درانی کا دل ایک بار پھر سے پھٹنے لگا۔
”تمھاری خوشی کے لیے اتنی قربانی تو دینی ہی تھی ناں مجھے ہنی۔۔اور ویسے بھی۔۔بچے مجھے خود پسند نہیں ہیں۔۔۔آئی لائیک جسٹ یو مین۔۔۔۔“ اس کی گردن میں بےباکی سے باہیں ڈال کر قریب تر ہوتی وہ مقابل کو شدتوں سے بہکنے پر مجبور کرگئی تھی۔
تڑپ کر سینہ مسلتے رمیض کو اِس پل شدت سے افسوس ہونے لگا تھا۔۔۔کہ آخر کیوں۔۔؟؟کیوں وہ اُس فریبی عورت کو طلاق دینے کے بعد اس کی آخری سانسوں پر زندہ چھوڑ آیا تھا۔۔۔؟؟
گلا دبا کر جان سے مار کیوں نہ دیا۔۔۔؟؟
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”مومی۔۔۔؟؟؟“ وہ اس کے لیے گلاس میں دودھ لے کر آئی تھی جب اسنے زلیخا کو اپنے پاس بیڈ پر بیٹھتا دیکھ منہ بسور کر مخاطب کیا۔
”یس مومی کی جان۔۔۔۔!!!“ اپنے سات سالہ خوبصورت بیٹے کو اداس دیکھ کر وہ چونکی تھی۔
”کل سکول میں پیرنٹس میٹنگ ہے۔۔۔“ حمزہ آہستگی سے بڑبڑایا تو بالوں کو کان کے پیچھے اڑستی زلیخا کے لب اس کی بے وجہ اداسی پر مسکرائے۔
”ہاں تو۔۔۔اس میں اتنا سیڈ ہونے والی کیا بات ہے حمزہ۔۔۔؟؟“ اس کے بھورے بالوں میں لاڈ سے ہاتھ پھیرتی وہ دودھ کا گلاس اسے تھما چکی تھی۔
ویکلی پرینٹس میٹنگ اٹینڈ کرنا اب تو معمولی سی بات بن چکی تھی۔۔۔
”مومی یہی تو سب سے ذیادہ سیڈ ہونے والی بات ہے۔ٹیچرنے بولا ہے کہ کل سب بچے اپنے مومی ڈیڈی کو ساتھ لے کر آئیں گے۔۔۔اگر نہ لائے تو پنش ملے گی۔۔۔“ افسردگی سے بتاتا وہ سخت گیر ٹیچر سے ملنے والی پنش کو لے کر ڈر رہا تھا۔
اس کی بات سن کر زلیخا کی مسکراہٹ پل میں سمٹی۔
”لیکن بیٹا تمھاری ٹیچرآلریڈی یہ بات جانتی ہیں کہ تمھارے ڈیڈی نہیں ہیں۔۔۔سو ڈونٹ وری تمھیں کوئی پنش نہیں کرے گا۔۔ہہممم۔۔۔۔۔“ وہ بڑے ضبط سے یہ بات کہہ گئی تھی۔
چار سال پہلے ایکسیڈنٹ میں ہونے والی شوہر کی موت نے جہاں زلیخا عالم درانی کی ہنستی بستی زندگی کو مکمل بدل کر رکھ دیا تھا۔۔۔وہیں اس نے اپنی ساری خوشیاں حمزہ جیسی اکلوتی اولاد تک محدود کردی تھیں۔
اُس روز شاہ زین اس کے بھائی رمیض کو ائیرپورٹ چھوڑ کر واپس آرہا تھا جب سامنے سے تیز رفتاری میں آتا ٹرالہ شدتوں سے گاڑی سے ٹکراتا ہوا شاہ زین کو موت کی وادیوں میں دھکیلتا چلا گیا۔
اور اُسی دن سے زلیخا جانے انجانے میں رمیض عالم درانی کی ذات کو منہوس سمجھنے لگی تھی۔
سسرال تو عدت کے دن پورے ہوتے ہی چھوٹ چکا تھا اور تبھی سے وہ اپنے بچے کو لے کر اپنے ماں باپ کے گھر رہ رہی تھی۔۔
اس دوران جانے کتنوں کے ہی رشتے اس کے لیے آچکے تھے مگر وہ سبھی کو بےدردی سے ریجیکٹ کرتی۔۔عالم صاحب کےساتھ مل کر خود کو بزنس کے معاملات میں مصروف کرچکی تھی۔
آخر کو وہ کمپنی میں بیس پرسنٹ شئیرز کی مالک تھی۔
”بٹ میری نیو ٹیچر تو یہ بات نہیں جانتی ناں مومی۔۔۔اور نہ ہی میں نے انھیں بتایا ہے۔۔۔۔۔“ دودھ کو کچھ ناپسندیدگی سے دیکھتا وہ چڑ کر بولا تو زلیخا نے چونک کر اسے دیکھا۔
جانے کیوں اب اسے اپنے محروم باپ کی کمی کچھ ذیادہ ہی محسوس ہونے لگی تھی۔اکثر وہ یہ بات سب کے سامنے منہ پر بھی کہہ دیا کرتا تھا۔
”اچھا تم چپ چاپ یہ دودھ فنش کرو۔۔۔کل جب میں تمھارے ساتھ اسکول جاؤں گی تو تمھاری نیو ٹیچر کو سب بتا دوں گی اوکے۔۔۔۔“ نرمی سے کہتی وہ اب اپنے ہاتھ سے گلاس پکڑ کر اسے دودھ پلانے لگی۔
جبکہ حمزہ منہ کے عجیب و غریب زاویے بناتا ہوا بددلی سے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرتا کچھ ہی دیر میں سارا دودھ پی چکا تھا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ دونوں بہنیں اس وقت چھوٹے سے لاؤنج میں دھرے ڈائنگ ٹیبل پر براجمان اپنے بابا کے ساتھ رات کا کھانا کھانے میں مصروف تھیں۔
اپنی باری آنے پر آج حیا نے وقاص صاحب کی پسند کے کڑی چاول خود اپنے ہاتھوں سے بنائے تھے۔
لیکن اب جو بات اُن بہنوں کو اچانک ان سے پتا چل رہی تھی وہ دونوں کا اطمینان پل میں چکنا چور کرنے کو کافی تھی۔
”کیا یہ بات سچ ہے بابا۔۔۔؟؟کیا واقعی میں رمیض بھائی اپنی اُس انگریزنی بیوی کو مار کر پاکستان بھاگ آئے ہیں۔۔۔؟؟؟“ بےاختیار چاولوں سے ہاتھ روکتی حسنہ نے بڑی مشکلوں سے اپنی آواز پر قابو پاتے پوچھا۔۔۔تو حیا نے آنکھیں پھیلائے اپنے ابا کا سر اثبات میں ہلتے دیکھا۔۔
وہ سخت مزاج شخص جو اپنے چھوٹے بھائی کی شادی پر نہ آنے کی ٹھان چکا تھا۔۔۔اب چند دن پہلے ہی اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے پاکستان واپس لوٹ آیا تھا۔۔
لیکن قتل کی بات سن کر تو حیا کے رونگھٹے ہی کھڑے ہوچکے تھے۔
”ہاں۔۔۔بڑے بھائی صاحب کو تو اس نے اپنے پاکستان آنے کی اصل وجہ یہی بتائی ہے۔۔۔بیوی کی بدکرداری اور دغا بازی نے اس غیرت مند انسان کو ان حدوں تک پہنچنے پر مجبور کردیا ہے جس کا انتخاب شاید وہ کبھی بھی اپنی زندگی میں نہ کرتا۔۔۔۔“ آدھی ادھوری حقیقتوں سے واقف۔۔۔کھانا چھوڑ چکے وقاص صاحب کا لہجہ دھیما مگر تاسف زدہ سا تھا۔۔۔
جہاں ایک طرف حیا کی شادی کی خوشی تھی۔۔وہیں اپنے لاڈلے بھتیجے کے ساتھ ہوچکا ناخوشگوار واقع انھیں افسردہ کرگیا تھا۔۔ مگر ان کی اپنائیت کو کسی بھی طور پر کم نہیں کرپایا تھا۔
حسنہ نے بےاختیار گہرا سانس بھرا تو حیا کے چہرے کی رنگت بدلی۔
”غیرت مند؟؟؟وہ بالکل بھی غیرت مند نہیں ہے بابا۔۔۔ بلکہ ایک بھگوڑا قاتل انسان ہے۔۔۔ اپنی بیوی کا قاتل۔۔۔انتہائی سفاک اور ظالم۔۔۔۔“ موردِالزام ٹھہرانے کی بجائے وقاص صاحب کا یوں اس کے حق میں بولنا حیا پر شدید ناگوار ہی تو گزرا تھا۔۔جبھی وہ جذباتی سی بولتی چلی گئی۔
حسنہ نے چونک کر اپنی بڑی بہن کے تیور دیکھے جس کا لہجہ جذبات تلے لرز رہا تھا۔
معاً سربراہی کرسی پر بیٹھے وقاص صاحب نے اسےسمجھانے کو آگے بڑھ کر آہستگی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
”مت بھولو بیٹی کہ وہ کزن ہونے کے ساتھ ساتھ تمھارا ہونے والا جیٹھ بھی ہے۔۔۔دوہرے رشتوں سے اتنی بدظنی مت دکھاو کیونکہ عنقریب تمھیں اپنی آئندہ کی ساری زندگی انہی لوگوں کے بیچ میں تو گزارنی ہے۔۔۔۔“ وہ جانتے تھے کہ حیا ہمیشہ سے ہی رمیض عالم کی ذات سے کتراتی آئی تھی۔۔۔
مگر اب جو نفرت بھرے تیور انھیں براہِ راست دیکھنے کو مل رہے تھے وہ حقیقتاً انھیں بڑی فکروں میں ڈال گئے تھے۔
چودہ سال پہلے۔۔وقاص صاحب کی بیوی کلثوم کی وفات کو کچھ ہی دن گزرے تھے جب ان کے بڑے بھائی عالم درانی نے باہمی رضامندی کے تحت حیا کا رشتہ اپنے چھوٹے بیٹے زیدان کے ساتھ پکا کردیا تھا۔
تیزی سے بڑھتا وقت جہاں عالم درانی کو دولت امیری کی چمک دمک سے روشناس کرواتا چلا گیا تھا۔۔وہیں وقاص صاحب اپنی دو بچیوں کے سنگ سادہ سی زندگی اور بڑے بھائی کی ازلی مخلصی پر حددرجہ مطمئن تھے۔
مگر اتنے بدلاؤ کے باوجود بھی ایک چیز جو آج تک نہیں بدلی تھی وہ ان دونوں کے ساتھ ساتھ گھر تھے۔
ایک طرف جدید طرز کا بنوایا گیا شاندار سا درانی پیلس تھا تو دوسری طرف وقاص صاحب کا وہی سادہ طرز کا پانچ مرلہ پرانا سا مکان۔۔۔
”لیکن بابا۔۔۔۔“ اس کھلی حقیقت پر جہاں حسنہ نے شدت سے جلتے دل کے ساتھ نامحسوس انداز میں بےچین ہوکر پہلو بدلا تھا۔۔۔وہیں حیا نے سست پڑتی دھڑکنوں کے ساتھ کچھ کہنا چاہا۔۔
مگر وقاص صاحب ہاتھ اٹھاتے اسے سرعت سے ٹوک گئے۔۔
حیا کی غلافی نگاہیں نم پڑنے لگیں۔۔
”یہ بات راز کی بات ہے جس تک بھائی صاحب نے بڑے مان سے ہمیں رسائی دی ہے۔۔۔اب ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ اسے فضول میں زیرِ بحث لانے کی بجائے ہم اس راز کو ہمیشہ کے لیے اپنے دلوں میں دفن کرلیں اور ایک ناخوشگوار حادثہ سمجھ کر بھول جائیں۔۔۔یہی ہم سب کے لیے بہترین راہِ حل ہے۔۔۔۔“ سپاٹ آواز میں باور کرواتے ہوئے وہ مزید وہاں رکے نہیں تھے بلکہ اپنی بیٹیوں کو الگ الگ سوچوں میں ڈوباتے وہاں سے اٹھ کر نکلتے چلے گئے۔۔
اس دوران پلیٹوں میں پڑا ادھورا رزق اپنی ناقدری پر ہنوز نالاں ہوکر رہ گیا تھا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣