Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

اپنے چھوٹے بھائی کی مہندی کے فنکشن میں شرکت کرنے کے بعد،اب وہ اپنے کمرے کی کھلی کھڑکی میں کھڑا اِس وقت سگریٹ سلگا رہا تھا۔
کئی لوگوں نے اس کی ذات۔۔۔اس کی شادی شدہ زندگی کے متعلق پوچھا تھا،جس کے جواب میں اس کے والدین نے حقیقت چھپاتے ہوئے سب کے سامنے اس کا جھوٹا بھرم بنا دیا تھا۔
پُرسوچ سرخ نگاہیں غیرمرئی نقطے کو تکتی رمیض کے گہری سوچوں میں گم ہونے کا پتا دے رہی تھیں۔
آج ریسٹورنٹ میں ناچاہتے ہوئے بھی اُس نے فکس مینیو کے سبب اپنے ہاتھوں سے وہی کیک بنایا تھا،،،جو پہلے کبھی وہ اپنی روٹھی ہوئی بیوی کو منانے کے لیے بڑی چاہت سے بنایا کرتا تھا۔۔۔
اور نتیجتاً وہ مان بھی جایا کرتی تھی۔۔۔
مگر پھر۔۔۔!!!
رمیض نے تلخی سے دھواں اڑایا۔۔۔نگاہوں کے سامنے کا منظر یکدم بدلا تھا۔
”یُو مسٹر شیف۔۔۔۔اگر تمھیں یہ لگتا ہے کہ میں تمھارے بنائے ہوئے اِس ٹیسٹ لیس چاکلیٹ کیک سے مان جاؤں گی تو بیلیومی بہت غلط لگتا ہے تمھیں۔۔۔“ اس کے اتنی محنت،محبتوں سے بنائے گئے کیک کو ایک جھٹکے میں پرے پھینکتی وہ شدت سے چلائی تھی۔
رمیض نے حیرت سے اس کا غصے سے سرخ چہرہ دیکھا۔پھر اپنے بگڑ چکے زمین بوس کیک پر نگاہ ڈالتے ہوئے اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں تاسف سا پھیل گیا۔
”وٹس رونگ وِد یو روزینہ۔۔۔آخر اتنا غصہ کس بات کا ہے تمھیں۔۔۔؟؟پرامس کیا تو ہے کہ کل تمھیں تمھاری پسند کی ڈائمنڈ رِنگ لے دوں گا۔۔۔اپنے بُھول پن کی معافی بھی مان چکا ہوں۔۔منانے کی کوشش بھی کرچکا۔۔پھر یہ سب تماشہ کیوں۔۔۔؟؟“ ماتھے پر بل ڈالے وہ ہنوز نرمی سے پوچھ رہا تھا۔
جانے کیوں اب اس کی من چاہی بیوی دن بہ دن بگڑنے لگی تھی۔
بات بات پر اس کا بلاوجہ کا الجھنا اسے کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا تب۔۔۔
”بُھول پن؟؟؟سیریسلی رومی۔۔۔؟؟؟صاف صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کہ تم اورتمھارا یہ دو ٹکے کا ریسٹورنٹ میری خواہشوں کو پورا کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔۔۔۔“ سینے پر بازو باندھتے ہوئے اس کا لہجہ صاف مذاق اڑاتا ہوا تھا۔
جواباً وہ اس کے بیگانہ تیوروں سمیت اسکی دلکش آنکھوں میں اپنے لیے حقارت ہی حقارت دیکھ ٹھٹھک کر رہ گیا تھا۔۔۔
”آہ۔۔۔“ وہ ہنوز سینہ جلاتی سوچوں میں شدت سےغرق ہوا تھا،جب حمزہ اس کی پشت دیکھتا ہوا دبے قدموں کمرے میں چلا آیا۔
معاًاس کی معصوم آنکھیں سامنے ٹیبل پر رکھے والٹ کے ساتھ سگریٹ پیک،لائٹر کو دیکھ کر چمک اٹھی تھیں۔
”سگریٹ۔۔۔“ ننھے دل کی ابھرتی خواہش پر لبیک کہتا وہ بےآواز دوڑتا ہوا ان چیزوں کی طرف لپکا۔
ایسے میں ہنوز تلخ خیالات میں گھرا رمیض اپنے بھانجے کی موجودگی کو قطعی محسوس نہیں کرپایا تھا۔
اُس روز فلم کی دیکھا دیکھی،حمزہ نے بھی سگریٹ نکال کر چھوٹے لبوں کے بیچ دباتے ہوئے ایک محتاط نگاہ پلٹ کر رمیض پر ڈالی تھی۔۔۔جو ہنوز منہ موڑے کھڑکی سے باہر جھانکتا اسموکنگ کر رہا تھا۔
”ٹِک۔۔۔“ کی آواز کے ساتھ اس نے آگ کے ننھے شعلے سے بمشکل سگریٹ کو سلگایا۔پھر جلدی سے سانس اندر کھینچا تو،،،حلق سے پھوٹتا کھانسی کا دورہ جہاں رمیض کو ٹھٹھک کر پلٹنے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔وہیں کمرے کی دہلیز پر کھڑی زلیخا نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے بچے کی جانب دیکھا۔
”حمزہ۔۔۔۔۔؟؟؟فوراًپھینکو اسے۔۔۔۔!!!“ چیخ کر اس تک آتی وہ اس کے ہاتھ کی ڈھیلی گرفت سے سگریٹ چھین کر پھینک چکی تھی۔
رمیض بھی اپنا سگریٹ پھینکتا پریشان سا قریب چلا آیا تھا۔۔۔
”ما۔۔ما۔۔۔۔۔“ کھانسی سے سنبھلتا وہ بمشکل سنبھلا تو ضبط ٹوٹنے پر زلیخا کا ہاتھ اٹھا اور ”چٹاخ“ کی آواز کے ساتھ حمزہ کی نازک گال پر انگلیوں کے سرخ نشان چھوڑ گیا۔
”بس کردیں آپا۔۔۔۔۔؟؟؟بچہ ہے وہ۔۔۔۔“ نتیجتاً حمزہ کے سہم کر رونے پر رمیض نے مٹھیاں بھینچ کر زلیخا کو ٹوکا تھا۔
وہ حقارت و غصے سے اسے دیکھنے لگی۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ خود بھی تو حمزہ کے سامنے سینہ تان کر اسموکنگ کررہا تھا۔۔۔اور ساتھ ہی ساتھ اس کے معصوم بچے کو بھی۔۔۔اففف۔۔۔۔!!!
سوچتے ہوئے زلیخا کا دماغ مزید گھوما۔۔۔
”اور تم۔۔۔۔؟؟؟بڑے ہوکر بھی ایسی گھٹیا حرکت سکھاؤ گے میرے بچے کو۔۔۔سگریٹ نوشی۔۔۔؟؟؟میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی رمیض۔۔۔۔مانا کہ اس کا باپ نہیں ہے۔۔۔مگر ماں ابھی زندہ ہے اس کی۔۔۔اور اس قابل بھی کہ اپنے بچے کو اچھے برے کی تمیز سکھا سکے۔۔۔سوتمھیں کچھ سکھانے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے تم۔۔۔۔“ کرخت لہجے میں بولتی ہوئی وہ اپنے تیز دھار لفظوں سے رمیض کی جلتی آنکھوں میں حیرت بھر گئی تھی۔
اس دوران جلتے گال پر اپنا ننھا ہاتھ جمائے،حمزہ اپنی ماں کے بھڑکنے پر آنسو بہاتا مزید سہم چکا تھا،سو جبھی کچھ بول نہیں پارہا تھا۔
”میں نے کچھ نہیں کیا آپا۔۔۔۔بہتر ہوگا کہ آپ اپنی یہ غلط فہمی دور کر لیجیے۔۔۔پلیز۔۔۔“ اِس صاف الزام پر ماتھے پر بل ڈالے وہ قدرے سرد لہجے میں گویا ہوا۔
پھر تاسف بھری نگاہ حمزہ پر ڈالی جو سرخ چہرے کے سنگ مسلسل سسکتا ہوا فی الوفت کچھ بھی بولنے کے قابل نہیں تھا۔
”مجھے تمھارے بارے میں کوئی بھی غلط فہمی پالنے کا شوق نہیں ہے رمیض۔۔۔تم کیا ہو یہ میں اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔بہتر ہوگا آئندہ میرے بچے سے کوسوں دور رہنا تم۔۔۔۔“ بےدردی سے بولتی ہوئی وہ اگلے ہی پل حمزہ کو بازو پکڑ کر کمرے سے نکلتی چلی گئی۔
”شِٹ۔۔۔۔۔۔۔“ پیچھے رمیض نے خود سے دو سال بڑی بہن کے خراب رویے پر قدرے بے بسی سے نیچے گرے سگریٹ کو بوٹ تلے مسلا تھا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”اوے ہوئے جناب۔۔۔ہمارے جیجا جی نے تو ابھی سے تمھیں اپنی بانہوں میں سمیٹنا شروع کردیا ہے لڑکی۔۔۔ذرا سوچو۔۔شادی کے بعد کتنے رومانٹک حالات ہوں گے۔۔۔اففف۔۔۔“ ہینڈفریز سے ابھرتی ہوئی اپنی بیسٹ فرینڈ کی شوخ آواز نے حیا کو کانوں کی لوؤں تک سرخ ہونے پر مجبور کردیا تھا۔
آج صبح ہی تو وہ زیدان عالم درانی کی پک کو زوم کرکے بڑی چاہت سے دیکھ رہی تھی۔۔جب اچانک اسے وٹس ایپ پر زیدان کا میسج ملا تھا،
جس میں اسے سب سے چھپ چھپا کر،رات کے اندھیرے میں اکیلےچھت پر ملنے کا صاف صاف بلاوا دیا گیا تھا۔
اور پھر وہ شدتوں سے دھڑکتے دل کے ساتھ سب سے چھپتی چھپاتی چھت پر جا بھی رہی تھی۔
لیکن برا ہو پیروں میں اٹکتے سبز رنگ غرارے کا جس نے حیا کو آخری سیڑھیوں پر منہ کے بل نیچے گرایا تھا۔
زیدان جو پہلے ہی چھت پر منتظر کھڑا تھا،اس کی حلق سے پھوٹتی چیخ پر تیزی سے بھاگ کر اس تک آیا۔
حیا نے سنبھلنے کی کوشش میں اس کی حیران آنکھوں میں دیکھا،جن میں اگلے پل ہی سرد تاثر ابھر آیا تھا۔
”تم۔۔۔؟؟تم دھیان سے نہیں چل سکتی تھی کیا۔۔۔؟؟اگر پیچھے کی طرف جا گرتی تو۔۔۔؟؟جانتی ہو کیا کیا نقصان ہوسکتا تھا پاگل لڑکی۔۔۔؟؟تم یہاں آئی ہی کیوں۔۔۔؟؟“ بنا دیری کیے اسے جھک کر اٹھاتے ہوئے زیدان کے لہجے میں فکر سے ذیادہ غصہ جھلک رہا تھا اُس پل۔۔۔
جبکہ اس کی فکر سے کہیں ذیادہ اپنے بازوؤں پر اس کی مضبوط گرفت محسوس کرتے ہوئے حیا کی دھڑکنوں میں ایک طوفان برپا ہوا تھا۔
”آ۔۔آپ نے ہی تو میسج کرکے مجھے یہاں بلایا تھا زیدان۔۔۔۔“ اس کی جانب دیکھنے کی جرات کرتی وہ سرخ چہرے کے ساتھ دھیمی آواز میں بولی۔
مقابل کی نزدیکی کے سبب مردانہ کلون کی دلفریب مہک حواسوں پر چھا رہی تھی۔
جواباً وہ شدت سے چونکا۔
”تو۔۔۔توتمھیں پھر بھی نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔بلکہ تمھیں یہاں ہونا ہی نہیں چاہیے۔۔اس سے پہلے کہ کوئی بھی ہمیں ایسی حالت میں دیکھے۔۔۔یو جسٹ گو۔۔۔جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔“ کشمکش کے عالم میں بولتا ہوا وہ حیا کو زبردستی سیڑھیوں کی جانب پلٹا گیا تھا۔
”مگر زیدان۔۔۔۔“ مدھم سا بوکھلا چکی حیا کچھ کہنا چاہتی تھی مگر سامنے ہی رمیض عالم درانی کو سپاٹ چہرے کے ساتھ پہلی سیڑھی پر کھڑا دیکھ وہ پوری سن ہوئی تھی۔۔۔
مگر پھر اگلے ہی پل وہ اُس پر عجیب سی بیزار نگاہ ڈالتا ہوا وہاں سے پلٹ گیا تھا۔۔۔
”یار حیا میں تم سے کچھ کہہ رہی ہوں تم آگے سے بول کیوں نہیں رہی۔۔۔؟؟یہ ایکدم سے ہی کہاں گم ہوگئی ہو تم بھئی۔۔۔۔؟؟؟“ سماعتوں سے ٹکراتی ہوئی ندا کی تیز آواز پر وہ ایک دم سے اپنے خیالوں سے باہر نکلی تھی۔
”ہہ۔۔ہاں۔۔میں سن رہی ہوں تم بولو ناں کیا کہہ رہی تھی۔۔۔“ حیا نے سنبھل کر بولا تو دوسری طرف ندا گہرا سانس لیتی مسکرائی۔
”یار حیا۔۔۔؟؟؟میں سوچتی تھی کہ بس تمھارا ہونے والا شوہر ہی ہینڈسم ہے۔۔۔مگر اس کے بڑے بھائی کا تو لیول ہی سب سے الگ ہے یار۔۔۔اففف کیا ڈیشنگ لُک تھی ناں اس کی۔۔۔مگر افسوس کہ تمھارا جیٹھ میرڈ نکلا۔۔۔“ ندا کی ٹھرک نے پل میں حیا کے پنکھری لبوں سے مدھم مسکراہٹ چھینی تھی۔
”اپنے اس ٹھرکی پن سے باز آجاؤ ندا اور فوری توبہ کرو۔۔۔فوری۔۔۔“ وہ ڈپٹنے والے انداز میں بولی تو دوسری طرف ندا نے اس کے تلخ لہجے پر منہ بسورا۔
”کیوں۔۔۔؟؟؟سچ بات پر بھلا کیسی توبہ۔۔۔؟؟“ وہ بضد ہوتی حیا کا موڈ ٹھیک ٹھاک خراب کرگئی تھی۔
”اُس کا سچ ہی تو جانلیوا ہے۔۔۔یہ انسان اپنی سابقہ بیوی کا قتل کرکے پاکستان بھاگ آیا ہے۔۔۔۔“ وہ شدت سے یہ سب کہہ دینا چاہتی تھی مگر وقاص صاحب کی دی ہوئی سخت تنبیہہ نے اسے لبوں پر قفل لگانے پر مجبور کردیا تھا۔
”سنو۔۔۔بہت وقت ہوگیاہے اس لیے فون رکھ رہی ہوں اب میں۔۔۔سونا ہے مجھے خدا حافظ۔۔۔“ پونے دو بجاتی گھڑی دیکھ کر وہ بےاختیار کہہ گئی تھی۔
”ہونہہ۔۔۔سو ہی نہ جانا کہیں تم جھوٹی۔۔۔۔اپنے سئیاں کی یادیں تمھیں کہاں سونے دیں گی بھلا۔۔۔۔!!!“ ندا نے پھر سے اُسے چھیڑتے ہوئے دلکشی سے مسکرانے پر مجبور کیا تھا۔
حقیقت بھی تو یہی تھی۔۔۔
اگلے ہی پل وہ جھٹ سے کال کاٹ گئی۔
آہستگی سے لیٹتے ہوئے حیا کی مسکاتی نگاہیں بےاختیار اپنے پہلو میں لیٹی حسنہ وقاص کی پشت پر پڑی تھیں۔وہ گہری نیند سو رہی تھی۔
جدائی کے آنسوؤں کے سنگ اپنے بابا سے ڈھیر سارا شفقت بھرا پیار سمیٹنے کے بعد وہ سیدھا حسنہ کے پاس ہی گئی تھی۔
اور پھر اس کی ہر برہمی کو بآسانی دور کرتی مطمئن بھی ہوچکی تھی۔
گہرا سانس بھرکے اسی کی طرف کروٹ لیتی حیا کی سوچیں جہاں ایک بار پھر سے زیدان عالم درانی کی طرف لپکتی اس کا دل دھڑکا گئی تھیں،وہیں حسنہ نے اپنی نم انگارہ آنکھیں کھولتے ہوئے سختی سے لب بھینچ لیے۔۔۔
کل کا چڑھتا سورج اگر ایک کے لیے وبالِ جان ثابت ہونے والا تھا،تو دوسرے کے انگاروں پر لوٹتے دل پر ٹھنڈی پھوار بن کر برسنے والا تھا۔۔۔
”بے خودی بے سبب نہیں غالب۔۔۔
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔۔۔“
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ عام سی جینز کے اوپر بلیو شرٹ زیب تن کیے کچھ جھجکتا ہوا ریسیپشن گرل تک آیا تھا۔
”جی کہیے؟؟؟ کس سے ملنا ہے آپکو۔۔۔؟؟“ پروفیشنل انداز میں پوچھتی ہوئی وہ لڑکی فائق درید کو کچھ سخت مزاج سی لگی تھی۔
کاؤنٹر پر اپنا فولڈر رکھتا وہ ہولے سے مسکرایا۔
”مجھے اس کمپنی کی آنر زلیخا عالم درانی سے ملنا ہے۔۔۔انہوں نے مجھے اپنا یہ آفیشیل کارڈ دیا تھا اور کہا تھا کہ میں ان سے ملنے یہاں آؤ۔۔۔آپ پلیز انھیں میرے آنے کا انفارم کردیجیے۔۔۔۔“ بلاوجہ اپنا کالر ٹھیک کرتے ہوئے وہ جیب سے کارڈ نکال کر اسے دکھاتا سادگی سے بتا رہا تھا۔
نور نے بغور آفیشیل کارڈ کو دیکھا جو انہی کے آفس کا تھا۔
”سوری۔۔۔مگر آپ ابھی ان سے نہیں مل سکتے۔۔۔“ تسلی ہونے پر دو ٹوک کہتی وہ فائق درید کو حیران کرگئی تھی۔
”مگر کیوں۔۔۔انھوں نے مجھے خود آفر کیا تھا۔۔۔۔“ اس نے سنجیدگی سے احتجاج کیا تھا۔
عجیب لڑکی تھی۔
”وہ تو ٹھیک ہے مگر پھر بھی آپ ان سے نہیں مل سکتے۔۔بیکاز وہ آج آفس ہی نہیں آئی ہیں۔۔۔۔۔“ نور نے اس کا کھلی رنگت والا چہرہ دیکھ کر گہرا سانس لیتے ہوئے مین ریزن بتایا تو وہ ایکدم چپ سا ہوگیا۔
”نہیں آئیں۔۔۔؟؟اوہ۔۔۔۔یقیناً کوئی بڑی وجہ ہی ہوگی نہ آنے کی۔۔۔ورنہ آنر کی غیرموجودگی۔۔۔۔۔“ پُرسوچ انداز میں بولتا ہوا وہ اس کی جانب دیکھ کر اپنی بات ادھوری چھوڑ گیا تھا۔
”جی بالکل ایسا ہی ہے،ایکچولی آج اُن کے چھوٹے بھائی،سرزیدان کی شادی ہے اسی لیے ان کی یہاں غیر موجودگی ضروری تھی۔۔۔۔“ بتاتی ہوئی وہ مصنوعی مسکراہٹ لبوں پر لائی تو فائق بھی مسکراتا ہوا سر اثبات میں ہلاگیا۔
آنکھوں کا رنگ پل بھر کو بدلا تھا۔
”سر زیدان۔۔۔؟؟اس کمپنی کے مین آنر۔۔رائٹ۔۔؟؟“ اس کےصحیح اندازے پر نور نے تائید میں پلکیں جھپکائی تھیں۔
انداز اب جان چھڑوانے والے تھے۔
”تھنک یو۔۔۔تو میں۔۔۔میں پھر بعد میں آجاؤں گا۔۔۔۔نو ایشو۔۔۔۔“ سہولت سے کہتا ہوا وہ کاؤنٹر سے اپنا فولڈر اٹھاگیا تھا۔
”شیور۔۔۔۔۔“ نور مسکرا کر بولتی ہوئی اب کے وہاں آکر رکتی دوسری لڑکی کی جانب متوجہ ہو چکی تھی۔
”تو یعنی آپ سے دوبارہ روبرو ملاقات کرنے کے لیے ابھی مزید وقت درکار ہے مجھے مس زلیخا عالم درانی۔۔۔“ زیرِ لب بےبسی سے بڑبڑاتا ہوا وہ وہاں سے پلٹ گیا تھا۔
ایسے میں نور نے اس کی نیلی پشت کو بغور دیکھتے ہوئے اگلے ہی پل سر جھٹک دیا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”زیدان مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔اگر کہیں اس سب کا نتیجہ میری بہن یا پھر ہمارے خود کے حق میں برا نکل آیا تو۔۔۔؟؟؟“ اسے آئینے کے سامنے کھڑے ہوکر اطمینان سے ہم رنگ پگڑی پہنتا دیکھ وہ بظاہر خائف سی بولی۔
انگلیاں چٹخاتے ہوئے اسکی آواز وقتی پریشانی کو صاف واضح کیے دے رہی تھی۔
آج جو حیا وقاص کے ساتھ ہونے والا تھا،بلاشبہ وہ کئی زندگیوں میں طوفان مچادینے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
جواب میں ہولے سے مسکراتا وہ اسکی جانب پلٹا تو کریم رنگ شیروانی میں اسکا کسرتی وجود دیکھتے ہوئے حسنہ کو بےاختیار اپنے دل کی ایک بیٹ مس ہوتی محسوس ہوئی۔
اگلے ہی پل زیدان نے پورے استحقاق سے کندھوں سے تھام کر اسے جھٹکے سے اپنے قریب کیا تھا۔
”محبت کرتی ہو مجھ سے۔۔۔؟؟؟“ وہ اسکی خوبصورت آنکھوں میں جھانکتا پوچھ رہا تھا۔
بلاجھجک سر اقرار میں ہلاتی وہ مقابل کو سرشار سا کرگئی۔
”پانا چاہتی ہو مجھے۔۔۔؟؟؟“ دل دھڑکاتا ایک اور سوال۔۔۔
”ہر قیمت پر۔۔۔۔“ دوبدو جواب دیتی وہ اس کی مسکراہٹ گہری کرگئی تھی۔
”گڈ۔۔۔تو پھر جو ہورہا ہے جیسا ہورہا ہے اسے خاموشی سے ہوجانے دو۔۔۔اور ہر ڈر فکر چھوڑ کر فقط یہ سوچو کہ ہمارے اس عمل کے نتیجے میں زیدان عالم درانی ہمیشہ کے لیے تمھاری قسمت میں لکھ دیا جائے گا۔۔۔“ اسے ہرلحاظ سےتسلی دینے میں کامیاب ٹھہرتا وہ محبت سے چور لہجے میں بولا تو حسنہ بھی اپنی چاہت کامل ہوجانے کی آس میں۔۔۔خود غرض بنتی کھل کر مسکرا دی۔
وہ خوش قسمت ہی تو تھی جو مقابل کھڑا شاندار مرد اپنی بچپن کی منگ کے خلاف گہری چال بنتا۔۔۔فقط اسکی چاہت میں دیوانہ ہوچلا تھا۔
”تمھارے لیے۔۔۔انفیکٹ ہماری سچی محبت کے لیے میں اتنا بڑا قدم اٹھانے جارہا ہوں ڈارلنگ۔۔۔اب تو تم مجھ سے یہ خفگیاں نہیں جتاؤ گی ناں۔۔۔؟؟؟“ وہ اس کے سندر چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں تھامتا گہرے لہجے میں پوچھنے لگا۔
گزشتہ شب کی تمام تر ناراضگیوں کو تو وہ پہلے ہی اپنی تسلیوں وعدوں سے مٹا چکا تھا۔۔
جواباً وہ اس کی تپش دیتی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی سر نہ میں ہلاتی دھیرے سے ہنسی تھی۔
”بس آپ ایک بار میرے ہوجائیں مسٹرزیدان عالم درانی۔۔۔پھر خفا نہیں ہوں گی۔۔۔۔“ اپنے چہرے پر موجود اس کے ہاتھوں کو تھام کر دباتی وہ بڑے اعتماد سے بولی تو زیدان کی خمار زدہ نگاہیں اسکے یاقوتی لبوں کی مسکراہٹ دیکھتی بہکتی چلی گئیں۔۔۔
حسنہ کی مسکاتی نگاہیں بھی بےخودی میں اس کے لبوں کی طرف بھٹکی تھیں۔۔۔
جب اچانک دروازے پر ہوتے کھٹکے کے سبب دونوں چونک کر ہوش میں آتے ہوئے قدرے پھرتی سے ایک دوسرے سے الگ ہوتے فاصلے پر ہوئے۔
معاً دروازہ کھول کر اندر آتی حفصہ بیگم حسنہ کو یوں اپنے بیٹے کے کمرے میں دیکھ کر پل بھر کو ٹھٹھک سی گئیں۔
پھرسر جھٹک کر مسکراتی ہوئیں ان کے قریب چلی آئیں۔
”ماشاء اللہ۔۔۔ماں صدقے جائے۔۔۔میرا چاند تو آج سچ مچ کا چاند دکھائی دے رہا ہے۔۔۔خدا تمھیں ہر بری نظر سے محفوظ رکھے۔۔۔۔“ مسکرا کر اپنی جانب دیکھتے زیدان کے رخسار محبت سے تھامتے ہوئے ان کی آنکھوں میں ستائش ہی ستائش تھی۔
اس دوران سرخ رنگ شرارے کُرتی میں شعلہ بنی حسنہ بالوں کو جھٹک کر پیچھے کرتی کافی حد تک خود کو سنبھال چکی تھی۔
البتہ دل کی دھڑکنیں ہنوز تیز رفتاری سے دھڑک رہی تھیں۔
آنے والے خوشگوار لمحات کا سوچتی حفصہ بیگم نے سرشار ہوتے ہوئے زیدان کا ماتھا چوما تھا اس بات سے قدرے انجان کہ۔۔۔دو باغی ہوچکے دلوں نے سب کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اس پل صرف اپنا سوچا تھا۔۔۔صرف اپنا۔۔۔!!!
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣