Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23

”تمھارا انتظار اب ختم ہونےکو ہے ڈئیر ایکس بھابی۔۔۔۔بہت جلد تمھارا دلبر رومی تمھارے پاس تمھارے ہی شہر استنبول میں ہوگا۔۔۔کئی دن وہاں ٹھہرے گا بھی،،،مگر میں تمھیں صاف صاف واضح کیے دیتا ہوں کہ یہ تمھارا اونلی ون اینڈ لاسٹ چانس ہے۔۔۔اب یہ تم پر منحصر ہے کہ خود سے شدید ناراض ہوئے سابقہ شوہر کو کب۔۔ کیسے۔۔اور کس حد تک اپنی جانب مائل کرتی ہو تم۔۔۔۔ہہمم۔۔۔۔؟؟؟“ ڈھلتی شام تلےکھلی کھڑکی کے سامنے۔۔موبائل فون کان سے لگائے کھڑا۔۔وہ خالصتاً انگریزی میں زور دےکر بول رہا تھا۔
مدھم تنبیہی لہجہ صاف اُ کسانے والا تھا۔
معاً دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوتی حسنہ اُسے سرعت سے رخ پلٹنے پر مجبور کرگئی۔
دوسری طرف سکون میں آتی روزینہ بنا رکے جانے اُسے کون کونسی تسلیاں دیتی چلی جا رہی تھی،،،جب سادگی سے گڈبائے کہتا ہوا زیدان کال کاٹ گیا۔
اُس کے چہرے پر پھیلا اطمینان بغور دیکھتی ہوئی حسنہ چل کر اُس کے مقابل آ رکی تھی۔
”کس سے بات کررہے تھے آپ۔۔۔؟؟؟حیا سے۔۔۔؟؟؟“ لہجہ بظاہر سادہ تھا۔۔۔مگر ٹٹولتی آنکھوں کی چبھن پر زیدان نے ضبط سے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گہرا سانس بھرا۔
”فار گاڈ سیک حسنہ۔۔۔۔حیا نہیں تھی وہ یار۔۔۔فارن کلائنٹ تھا میرا۔۔۔اب تمھاری بہن ترکی میں تو رہنے سے رہی۔۔۔اورمیں تمھیں اپنی صفائیاں دے ہی کیوں رہا ہوں آخر۔۔۔؟؟ فضول کے شک و شہبات میں تمھارا تو دماغ خراب ہوچکا ہے۔۔۔۔“ بےاختیار تسلی دینے کے باوجود بھی وہ اُسے مدھم لہجے میں ڈپٹتا ہوا بیڈ پر جا بیٹھا۔ساتھ ہی اپنا موبائل فون بھی بستر پر ہی پٹخ چکا تھا۔
جواباً حسنہ نے پلٹ کر زیدان کو بےبسی سے دیکھا۔۔۔
ہنوز سر پر لٹکی ہوئی کیفی نام کی تلوار جہاں چوبیس سو گھنٹے اُس کے سانس خشک کیے رکھتی تھی۔۔۔وہیں مقابل کے وقتاً فوقتاً بدلتے لہجوں پر وہ قدرے بےتاب سی ہوجایا کرتی تھی۔۔۔
کیا ہوکر رہ گئی تھی اُس کی زندگی۔۔۔۔؟؟؟
ایسی بےسکونیاں تو حسنہ وقاص نے کبھی بھی اپنے لیے نہیں چاہی تھیں۔۔۔
معاً سر جھٹک کر ایک دم سے ہی پرسکون ہوتے ہوئے وہ اس کے ساتھ آبیٹھی۔۔۔تو زیدان نے کچھ برہمی سے اُس کے دلکش نقوش دیکھتے ہوئے چہرہ پھیر لیا۔
”اچھا ناں سوری۔۔۔!!اب یوں ناراض تو نہیں ہوں آپ مجھ سے۔۔۔جانتے تو ہیں اِس خفگی سے میرا دل بےچین ہونے لگتا ہے۔۔۔کیا آپ چاہتے ہیں میں بےچین رہوں۔۔۔۔؟؟؟“ بمشکل اپنی انا مارتی ہوئی وہ اُس کا کسرتی بازو تھام کر سر اُس کے کندھے پر رکھ چکی تھی۔
زیدان بےاختیار بےزاریت سے پل بھرکو آنکھیں گھمائیں۔پھر چہرہ ترچھا کرکے اُس کی ملتجی آنکھوں میں جھانکا۔
”نہیں چاہتا۔۔۔قطعی نہیں چاہتا یار مگر مجھے خفا کرنے میں کوئی کسر چھوڑتی ہو تم۔۔۔؟؟؟“ طنز کرتا وہ ناچاہتے ہوئے بھی ذرا نرم پڑا تھا۔
”چاہے صورت کوئی سی بھی ہو۔۔۔آپ کو چھوڑنے کا ہی تو دل نہیں چاہتامیرا۔۔۔محبتوں میں بےبس ہوں کیا کروں۔۔۔۔؟؟“ زیدان کا ایک ایک وجیہہ نقش مسکراتی نگاہوں سے بےتابانہ تکتی ہوئی وہ دوبدو بول رہی تھی۔
جواباً بھنویں اچکا کرتمسخرانہ مسکراتا ہوا وہ سر جھٹک گیا۔
”و۔۔وہ آج باتوں ہی باتوں میں تائی امی مجھ سے ایک بار پھر۔۔پ۔۔پوتے کی فرمائش کررہی تھیں۔۔۔۔یو ناؤ ہماری شادی کو ہوئے بھی تین ماہ سے اوپر کا وقت بیت چکا ہے مگر ابھی تک اِس حوالے سے کوئی خوشخبری۔۔۔۔۔۔“ اُس کا بہتر ہوچکا موڈ بھانپ کر حسنہ گہرا سانس لے کر ہمت کرتی ہوئی اصل مدعے پر آئی تھی۔۔۔جب اچانک وہ بیچ میں ہی قدرے سرد مہری سے اُس کی بات کاٹ گیا۔
”تو تم اُنھیں صاف صاف بتادیتیں ناں کہ تائی امی!میرے ہوتے ہوئے آپ کا یہ خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔۔۔اور وجہ۔۔۔میرا یہ ناکارہ وجود ہے جو بچے پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں۔۔۔۔“ سر تا پیر کچھ حقارت سے اُسے دیکھتے ہوئے وہ اتنی بڑی بات وہ کتنی آسانی سے کہہ گیا تھا ناں۔
سینے میں دھڑکتا ہوا حسنہ وقاص کا دل شدت سے کٹ کر رہ گیا۔
اگلے ہی پل اُس کے کندھے سے سر اٹھاتی وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئی۔پھر تندہی سے کھڑی ہوتی اُس کے مقابل آئی۔
”میری اِس محرومی کی یوں بےرحمی سے دھچیاں بکھرتے ہوئے آپ کو ذرا سا بھی ترس نہیں آتا زیدان۔۔۔۔؟؟؟اپنی محبتوں کا عادی بناکر اب کیوں ناقابلِ برداشت نفرتوں سے پل پل مارنا چا رہے ہیں آپ مجھے۔۔۔۔؟؟؟“ معاً مٹھیاں بھینچ کر کہتی وہ دبا دبا سا چیخ اٹھی تھی۔
جواباً اٹھ کر کھڑے ہوتے زیدان نے سر کو جنبش دیتے ہوئے اُس کی تیزی سے بھیگتی نگاہوں میں جھانک کر دیکھا۔
وہ مکروہ عورت اب اُسے حددرجہ زچ کرنے لگی تھی۔۔۔کبھی اولاد کے نام پر تو کبھی علحیدہ گھر لینے کی فرمائشیں کرکرکے۔۔۔
مگر وہ اُس کی بےتکی باتوں کو رتی بھر بھی اہمیت دیتا تب ناں۔۔۔
”کیونکہ تم ہو ہی اس قابل حسنہ وقاص۔۔۔۔اور مجھے نہیں لگتا کہ اتنی بڑی محرومی کے بعد ہمارا یہ ساتھ ساری زندگی کے لیے چلے گا۔۔۔۔آخر کسی نہ کسی روز تمھارے اِس بانجھ پن کا راز ساری دنیا پر فاش تو ہوگا ہی ہوگا۔۔۔اور نتیجہ تم بہتر جانتی ہو۔۔۔۔“ بےسکونی سے سینے پر بازو لپیٹ کر بولتا ہوا وہ اپنی سفاکیت سے اُس کے ویران تن بدن کو بھڑکا ہی تو چکا تھا۔
اِس بات پر ہلکان ہوتی حسنہ نے بےاختیار آگے بڑھ کر اُس کا گریبان جکڑا۔
ٹھیک ٹھاک ماحول پلوں میں بگڑتا چلا جا رہا تھا۔۔۔۔
”کیوں نہیں چلے گا ہمارا ساتھ۔ ہاں۔۔؟؟؟ضرور چلے گا اور آخری دم تک چلے گا۔۔۔ہ۔۔ہم۔۔۔ہم اپنے لیے ایک نوزائیدہ بچہ ایڈاپٹ کرلیں گے ناں۔۔۔۔اُس کے ماں باپ بن کر اُسے پالیں گے۔۔جوان کریں گے۔۔اور پھر۔۔۔۔“ تڑپ کرسمجھاتی وہ پاگل ہونے کو تھی۔۔۔جب زیدان نے ماتھے پر ناگوار بل ڈالتے ہوئے اُس کی جانب قدرے ناپسندیدگی سے دیکھا۔آنکھیں ضبط سے سرخ ہونے لگی تھی۔
اگلے ہی پل وہ حسنہ کی کلائیاں دبوچ کر مڑوڑتا ہوا اُسی کی کمر سے ٹکا چکا تھا۔
”سس۔۔ز۔۔یدان۔۔۔۔“ اذیت دیتی سخت گرفت پر وہ سسک کررہ گئی۔۔۔
آنسو ٹپکاتی غلافی نم آنکھوں میں صاف وحشت اتر آئی تھی۔۔۔
”خبردار۔۔۔۔!!!خبردار جو آئندہ یہ گھٹیا بات تم نے میرے سامنے کی تو۔۔۔۔میں تم جیسی فریبی۔۔مطلبی عورت سے اتنی محبت تو قطعی نہیں کرتا کہ با صلاحیت ہوتے ہوئے بھی کسی اور کا نوزائیدہ بچہ ایڈاپٹ کرلوں۔۔۔دوسری شادی کرلوں گا یا پھر تمھیں طلاق دے دوں گا۔۔۔مگر کسی غیر کی اولاد کو اپنا نام دے کر قطعی ایڈاپٹ نہیں کروں گا ڈیمٹ۔۔۔۔سمجھ لو میری یہ بات۔۔۔“ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتا ہوا جہاں وہ اپنی طیش زدہ۔۔سلگتی سانسوں سے اُس کا بھیگا چہرہ جھلسا چکا تھا۔۔۔وہیں مقابل کے حقارت سے پرے دھکیلنے پر حسنہ وقاص سسک کر رہ گئی۔
معاً زیدان عالم درانی تندہی سے اپنا کالر جھٹکنے کے بعد بستر سے موبائل فون اٹھایا۔۔۔پھر اُسے گہری اذیتوں میں چھوڑتا ہوا کمرے سے باہر نکلتا چلا گیا۔
پیچھے وہ شکست خوردہ سی دماغ کی پھٹتی نسیں تھام کر رہ گئی تھی۔۔۔
اس بات سے قدرے بےخبر کہ اُس کا شوہراپنے سکون کی خاطر۔۔سنگین چال چلتے ہوئے جانے کتنوں کو ہی برباد کرنے کی ٹھان چکا تھا۔
اس دوران دبیز قلین پر گرنے کے انداز میں بیٹھنا بےساختہ تھا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣

کھڑکی کے پردوں سے چھن کر اندر آتی سورج کی شفاف۔۔۔مدھم کرنیں سیدھا اُس کے بیدار ہوتے نقوش پر پڑ رہی تھیں۔
معاًکسمسا کر اپنی خمارزدہ آنکھیں کھولتی وہ اٹھ کربیٹھ گئی۔پھر گہرئی جمائی لیتی ہوئی سست روی سے کھلے بالوں کا جوڑا باندھنے لگی۔۔تو اچانک اُس کی بھٹکتی نگاہیں دروازے میں ایستادہ کھڑے حمزہ پر گئیں۔
وہ اُس کا کھلا کھلا سا سادہ چہرہ عجیب نظروں سے تک رہا تھا۔
”حمزہ بیٹا۔۔۔؟؟؟ وہاں کیوں کھڑے ہو آپ۔۔۔؟؟اِدھر میرے پاس آؤ ناں۔۔۔۔“ ذرا چونک کر بولتے ہوئے زلیخا کے گلابی لبوں پر بےساختہ مسکراہٹ بکھری۔۔۔تو ننھی انگلیاں مڑوڑتا ہوا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے اسکے قریب چلا آیا۔
نتیجتاً زلیخا نے قدرے لاڈ سے اُسے اپنی گود میں بیٹھاتے ہوئے نرم حصار میں بھرا تھا۔
اب وہ ضد کرکے ذیادہ تر اپنی نانا نانی کے پاس ہی سوتا تھا۔۔۔
اُس کی عادتوں،لہجوں میں ایک جھجھک سی آچکی تھی۔۔
مختصراً اِن گزرتے دنوں میں وہ بہت تیزی سے بدل رہا تھا۔۔۔
” کیا بات ہے چندا۔۔؟؟میرا گڈا اتنا خاموش۔۔اداس اداس سا کیوں لگ رہاہے مجھے۔۔۔ہہمم۔۔؟؟؟” زلیخا نے اُس کے پھولے نازک گال کو چومتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔۔۔تو حمزہ بےاختیار وہیں بیٹھے بیٹھے مکمل اُس کی جانب پلٹا۔
ننھا سا دل ماں کی ممتاء نچھاوڑ کرنے پر تیزی سے دھڑک اٹھا تھا۔
”مومی۔۔۔آئی ڈونٹ لائیک ڈیڈا بی کاز وہ بالکل بھی اچھے انسان نہیں ہیں۔۔۔اور نہ ہی میرے بیسٹ فرینڈ۔۔۔آپ خود بھی اُن سے ایوائڈ کیا کریں ناں۔۔۔میری بجائے آپ ہر وقت صرف انہی کے ساتھ چپکی رہتی ہیں۔۔۔۔“ منہ بسور کر قدرے خفگی سے بولتا ہوا وہ زلیخا کو کافی حیران کرگیا تھا۔
”حمزہ بیٹا یہ تم کس قسم کی باتیں کررہے ہو۔۔۔؟؟؟کتنی بری بات ہے ناں۔۔ایسے نہیں کہتے۔۔۔دیکھو ہم دونوں ہی تمھیں بہت چاہتے ہیں چندا تمھارا اتنا خیال کرتے ہیں۔۔۔اسپیشلی تمھارے ڈیڈا۔۔۔۔پھر بھی ایسی نیگییٹویٹی کیوں آرہی ہے تمھارے دماغ میں۔۔۔ہوں۔۔۔؟؟؟؟“ بیٹے کے غیرمتوقع رویے پر متفکر ہوتی وہ حمزہ کو نرمی سے سمجھا رہی تھی۔۔۔
اُس سے کہیں ذیادہ تو فائق درید اُس کے بیٹے سے لاڈ محبت جتاتا تھا۔۔۔۔
جبھی وہ ہرلحاظ سے خوش تھی۔۔۔قدرےمطمئن تھی۔۔۔
مگر سیاہ حقیقتوں سے واقف وہ بچہ کچھ سمجھتا تب ناں۔۔۔۔!!!
” نو مومی یو آر رونگ۔۔۔ ہی از ناٹ مائے ڈیڈا۔۔۔ایکچولی ہی از کازاما جِن۔۔۔یس۔۔۔“ بےاختیار ننھے ننھے ہاتھوں سے زلیخا کے تپے رخسار تھامتے ہوئے حمزہ نے۔۔نفی میں سر ہلاکر شدید ناپسندیدگی سے کہا۔
معصوم آنکھیں بڑی بڑی کرکے بتاتے ہوئے انداز یوں تھا جیسے اپنا بڑا ہی گہرا راز اُس پر افشاں کررہا ہو۔۔۔
حمزہ کی بہکی باتوں پر بےاختیار زلیخا نے ذرا غصے سے تیوریاں چڑھائیں۔
یہ وہ کس ٹون میں۔۔کس طرح کی باتیں کہہ رہا تھا آخر۔۔۔۔؟؟؟
”او جسٹ اسٹاپ دِس نان سینس حمزہ۔۔۔اب دوبارہ میں تمھارے منہ سے ایسی کوئی بکواس نہ سنوں۔۔۔ورنہ رکھ کر ایک تھپڑ لگاؤں گی زور کا۔۔۔۔“ بےاختیار اُس کے ہاتھوں کو اپنے تن چکے چہرے سے جھٹکتے ہوئے زلیخا نے جہاں ڈپٹ کر اُسے بری طرح سہمنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔۔وہیں کمرے میں چائے لے کر داخل ہوتا فائق درید دونوں کو ساتھ دیکھ کر بےساختہ محتاط ہوا۔
”اب آپ بھی میری اچھی مومی نہیں رہیں۔۔۔۔۔“ تیزی سے بیڈ سے اتر تے ہوئے۔۔بھیگی آنکھوں کے ساتھ روہانسا ہوکر بولتا وہ مزید وہاں رکا نہیں تھا۔۔۔بلکہ خود کو وارنگ دیتی نگاہوں سے تکتے ہوئے فائق پر خوف کی سرسری سی نگاہ ڈالتا ہوا کمرے سے بھاگتا چلا گیا۔
پیچھے زلیخا نے بےبسی سے گہرا سانس بھرتے ہوئے پیشانی تھامی تھی۔
معاً کیفی خود کو کمپوز کرتا ہوا تیزی سے زلیخا کی جانب لپکا۔
“ایوری تھنگ اِز اوکے زلیخا۔۔۔؟؟؟یہ حمزہ ایسے خفا ہوکر کیوں گیا ہے یہاں سے۔۔۔؟؟ڈانٹا ہے آپ نے اُسے۔۔۔۔؟؟؟“ بھاپ اڑاتی چائے کا مگ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اُس کے قریب بیٹھتےہوئے وہ بےتابی سے پوچھ رہا تھا۔
”ہاں ڈانٹا ہے کیونکہ وہ حرکتیں ہی الٹی کررہا تھا۔۔۔خفا تھا تم سے بہت،،،کہہ رہا تھا کہ تم بالکل بھی اچھے انسان نہیں ہو اور نہ ہی اب میں۔۔۔جانے کیا ہوگیا ہے اُسے جو ایسی اوٹ پٹانگ باتیں سوچتا اور کرتا پِھرتا ہے۔۔۔؟؟؟“ سر اٹھا کر اُس کی جانب دیکھتی زلیخا نے کچھ پریشان لہجے میں جواب دیا۔۔۔تو کیفی خود پر ضبط کرتا ہوا بڑی مشکلوں سے مسکرا کر رہ گیا۔
”شاید۔۔۔میرا اُسے سوئمنگ نہ سیکھانے کا نتیجہ ہے یہ۔۔۔اُس دن وہ مجھ سے ضدبھی کررہا تھا لیکن اٹس مائے میسٹیک۔۔آفس کی بڑھتی ذمہ داریوں کی وجہ سے میں اِس چیز کے لیے وقت ہی نہیں نکال پایا۔۔۔مگر آپ بالکل بھی فکر نہیں کریں جانِ تمنا میں اُسے اپنے طریقے سے ہینڈل کرلوں گا۔۔۔اور تو اور اب آپ میرے بچے کو بالکل بھی نہیں ڈانٹیں گی گوٹ اٹ۔۔۔۔۔“ کیفی کا دماغ بڑی تیزی سے کام کررہا تھا،جبھی پل میں خود سے بات بناتا ہوا وہ بڑی ہی ہوشیاری سے زلیخا کو اندر تک پُرسکون کرگیا۔
اندر ہی اندر اُس بےوقوف بچے کی ہمت پر اُبال سا اٹھنے لگا تھا۔۔۔۔
پہلے ہی وہ مقابل بیٹھی اُس عورت کا اندھا اعتماد پانے کے لیے اپنا آپ لٹا چکا تھا۔۔۔اور اب بھی رفتہ رفتہ لٹا ہی رہا تھا۔۔۔مگر اپنے انتقام کی اِس چُنی ہوئی کھٹن راہ میں مزید آزمائشوں کا روادار قطعی نہیں ٹھہرنا چاہتا تھا۔
”وہ سب تو ٹھیک ہے۔۔۔لیکن ایسے کیا دیکھ رہے ہو میری طرف۔۔۔؟؟؟“ فائق کو یک ٹک اپنی جانب تکتا پاکر۔۔۔زلیخا نے بےاختیار اُس کی نگاہوں کے آگے ہلکے سے چٹکی بجائی تو وہ چونکا۔پھر اُس کی گداز کلائی تھامتا ہوا دھیرے سےمسکرایا۔
”دیوانے اپنے محبوب کو ایسے ہی تو دیکھا کرتے ہیں۔۔۔۔“ انگلیوں میں انگلیاں پھنساتا وہ بھاری لہجے میں بولا تو اُس کی چاہت جتاتے اِس انداز پر دلکش مسکراہٹ نے زلیخا کے گلابی لبوں کو شدت سے چھوا۔
ہاں۔۔ہاں بہت کم وقت میں وہ شخص اُسے بے حد عزیز ہوچکا تھا۔۔۔جبھی وہ خود بھی اُس سے اعترافِ محبت کرنے سے اب ہچکچاتی نہیں تھی۔۔۔
”اچھا لگتا ہے جب اِن حسین آنکھوں اور گلاب لبوں کی مسکراہٹ کی وجہ فقط میں بنتا ہوں۔۔۔بہت خوبصورت ہیں آپ زلیخا فائق درید۔۔۔اتنی کہ ہر پل آپ کے عشق میں ڈوب جانے کو دل کرتا ہے۔۔۔۔“ اس کی طرف جھک کر سرسراتے ہوئے معنی خیز لہجے میں بولتا وہ زلیخا کا دل شدتوں سے دھڑکا گیا۔
مدھم گلابی گال مقابل کی پُرتپش نگاہوں پر پل میں سرخ ہوئے تھے۔
”ت۔۔تمھارے اِس مارننگ رومینس نے تمھاری لائی ہوئی چائے ٹھنڈی کردی ہے شوہر جی۔۔۔۔“ جانے کیسے سارا ضبط کھوتے ہوئے فائق آخری حد تک اُس پر جھکنے کو آیا تھا۔۔۔جب دھیرے سے ہنس کر بروقت بیڈ کراؤن سے لگتی وہ ذرا ہڑبڑا کر بولی۔
وہ اکثر اُس کی محبت میں بذاتِ خود چائے آملیٹ کی حد تک کوکنگ کرلیا کرتا تھا۔
معاً کیفی زلیخا کی دلکش آنکھوں میں شرارت بھانپ کر۔۔۔اپنا چہرہ اُس کے سرخ نقوش کے قریب ترین لے جاتا ہوا اُسے گہرا سانس لینے پر مجبور کرگیا۔
”یوں دوری اختیار کرکے کبھی کبھار آپ میرے حساس معاملات میں بہت ذیادتی کرجاتی ہیں بیوی جی۔۔۔۔باز آجائیں ورنہ اگر میں صاف ذیادتی کرنے پر اتر آیا تو آپ کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہوجائے گا۔۔۔۔“ اُس کی پلکوں کی اٹھتی گرتی چلمن پر گہری پھونک مارتا وہ گھمبیرسرگوشیانہ آواز میں بول رہا تھا۔۔۔۔۔
”تو ہو جانے دو۔۔۔۔۔۔“ فائق درید کے ماتھے سے اپنی پیشانی ٹکاتے ہوئے جہاں زلیخا عالم درانی کے مسکراتے لب دھیرے سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔وہیں اُس کے لاپرواہ سے انداز پر کیفی کا سخت دل محض پل بھر کے لیے اُس کے حق میں دھڑک اٹھا۔۔۔۔
اے کاش کہ وہ جان لیتی۔۔۔۔جان لیتی کہ مقابل کے ہاتھوں ہونے والی ذیادتی،عنقریب ہی اُس کی سانسیں آخری حد تک دشوار کردینے والی تھی۔۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”بابا میں چاہتی ہوں کہ آپ۔۔۔آپ اب حسنہ سے مزید ناراضگی مت جتائیں۔۔۔اُسے دل سے معاف کردیں۔۔۔۔“ وہ بولی تو وقاص صاحب نے قدرے چونک کر حیا کو دیکھا۔
وہ محض کچھ دیر کے لیے ہی اُن سے ملنے ان کے گھر آئی تھی۔۔۔
”بیٹا یہ بات تم کہہ رہی ہو۔۔۔؟؟؟اُس کی ذیادتی۔۔سنگدلی کا شکار ہونے کے باوجود بھی۔۔۔۔؟؟؟بھول گئیں کہ کیسے تمھاری شادی خراب کروا کے ذلیل و رسوا کردیا تھا اُس نے تمھیں۔۔۔۔؟؟“ جتاتے ہوئے وقاص صاحب کا کھلا کھلا سا چہرہ ایک دم ہی تن کر سخت ہوا۔۔۔تو حیا نے بےاختیار اُن کے مدھم جھڑیوں والے ہاتھ تھام لیے۔
”جانتی ہوں بابا۔۔سب جانتی ہوں۔۔۔بےشک حسنہ لاکھ غلط سہی۔۔۔بےشک اُسے کوئی احساس کوئی پچھتاوا نہ ہواپنے کیے کا۔۔۔لیکن اِس حقیقت کو بھی تو نہیں جھٹلایا جاسکتا ناں۔۔اگر وہ بروقت ذیادتی نہ کرتی تو آپ رمیض عالم درانی کی صورت میرے لیے بہترین ہمسفر کا انتخاب کبھی نہیں کر پاتے۔۔۔اور نتیجتاً میں ایک دوغلے شخص کے ہاتھوں اپنی زندگی فنا کروا بیٹھتی۔۔۔“ حیا بڑی ہی نرمی سے اُنھیں حقیقت کا دوسرا گہرا رُخ دکھا رہی تھی۔
وقاص صاحب نے اُس کے لفظوں کی گہرائی پر ضبط سے سر جھٹکا۔
”کہتے ہوئے دل میں اذیت سی اٹھتی ہے لیکن وہ اپنے کیے کی سزا بھگت رہی ہے۔۔پلیز آپ اپنی ساری خفگی مٹا کر اُسے اپنے ساتھ ہونے کا احساس دلائیے۔۔۔اِن کٹھن حالات میں کہیں نہ کہیں اُسے آپ کی بھی ضرورت ہے بابا۔۔۔پلیزززز۔۔۔۔“ انھیں زور دے کر سمجھاتے ہوئے جہاں حیا کا لہجہ ضبط کے باوجود بھی بھیگنے لگا تھا۔۔۔وہیں وقاص صاحب کا دل اپنی اولاد کی بابت ناچاہتے ہوئے بھی شدتوں سے بےتاب ہونے لگا۔
حسنہ کا سوچتے ہوئے اُن کی جانے کتنی ہی راتیں بےسکون جگ رتوں میں گزری تھیں۔
مگر وہ اپنے اندر کا دکھ کسی پر ظاہر کرتے تب ناں۔۔۔
”م۔۔میں سوچوں گا اِس بارے میں۔۔۔۔۔“ معاً آہستگی سے اپنے ہاتھ چھڑواتے ہوئے وہ پوری طرح سے پھر بھی نہیں پگھلے تھے۔
اُن کی سرخ ہوتی نم آنکھوں میں دیکھتی حیا کے لب ہولے سے مسکرائے۔
”اوہوں۔۔۔۔آپ فوری عملی اقدام کریں گے بابا۔۔۔میری خاطر۔۔۔۔۔۔“ نفی میں سر ہلاکر بضد ہوتی وہ وقاص صاحب کو حددرجہ بےبس ہی تو کررہی تھی۔
پلکیں جھپکانے کے سبب اس کی گالوں پر پھسلتے آنسو دیکھتے ہوئے وہ شکستگی کا گہرا سانس بھر کر رہ گئے۔
پھر نم آنکھیں مسل کر بمشکل سر اثبات میں ہلاتے ہوئے اسے سرشار کر گئے۔
”اپنی ماں کی ہی طرح بڑی صاف دل کی ہو تم بھی۔۔۔۔سمجھدار۔۔نرم طبیعت،سادہ مزاج سی۔۔رنگ و روپ میں بھی کافی حد تک اُسی سے ملتی جلتی۔۔۔۔“ قدرے شفقت سے سر پر ہاتھ پھیر کر بولتے ہوئے وہ بھی حیا کے سنگ نرمی سے مسکرا دئیے تھے۔
اُن کی بیٹی اپنے شوہر کے سنگ سکون کی زندگی جی رہی تھی یہ اطمینان بخش حقیقت وقاص صاحب کو اندر تک راحت دلا گئی تھی۔
معاً اپنے آنسو رگڑ کر صاف کرتی وہ بیٹھے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”آپ کی اِسی رضامندی کی خوشی میں،میں ابھی اپنے ہاتھوں سے آپکی پسندیدہ ادرک والی چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔۔۔“ سر سے سرکتا گلابی رنگ دوپٹہ بروقت درست کرتی وہ ہشاش سی پلٹی تھی۔۔۔
مگر کمرے کی دہلیز پار کرنے سے پہلےہی۔۔اچانک شدتوں سے چکراتے سر نے اُسے ٹھیک ٹھاک ڈگمگا جانے پر مجبور کردیا تھا۔
”اُفففف۔۔۔۔۔۔“ پلوں میں بھاری ہوتے تنفس پر جہاں۔۔حیا زرد ہوتی رنگت کے ساتھ قریب ہی پڑے سنگل صوفے پر ڈھے سی گئی تھی۔۔۔وہیں وقاص صاحب حیران ہوتے تیزی سے اُس کی جانب لپکے۔
”حیا!۔۔۔۔کیا ہوا میری بچی۔۔۔؟؟؟تم ٹھیک ہو۔۔۔؟؟؟“ اُس کی بگڑتی طبیعت پر وہ قدرے تشویش زدہ ہوکر پوچھ رہے تھے۔
”م۔۔میں۔۔۔ٹھ۔۔ٹھیک ہوں بب۔۔بابا۔۔۔۔“ گہرے گہرے سانس لیتی وہ بمشکل گویا ہوئی۔۔۔تو اُس کی حالت کو نا سمجھتے ہوئے وقاص صاحب نے پلٹ کر۔۔۔پُھرتیوں سے وہاں پڑے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا۔پھر فوری اس کی طرف آئے۔
”ٹھیک ہو۔۔۔۔؟؟؟ارے بیٹا دیکھو تو سہی خود کی حالت کیسے سانسیں اکھڑ اکھڑ جا رہی ہیں تمھاری۔۔۔رنگت بھی زرد پڑ گئی ہے۔۔۔ت۔۔تم یہ پانی پی کر ذرا ہمت کرو۔۔م۔۔میں فوری بھائی صاحب کے فیملی ڈاکٹر کو بلا کر لاتا ہوں۔۔ تم گھبرانا نہیں بالکل بھی میرا بچہ۔۔۔۔۔” عجلت میں پانی کا ادھ بھرا گلاس اُسے تھما کر پریشانی سے سر پر پیار دیتے ہوئے وہ دہلیز کی جانب دوڑنے کے انداز میں لپکے تھے۔
ایسے میں کمرے کے کھلے دروازے کی اوٹ میں تب سے کھڑا وہ نفوس فوری محتاط ہوتا ہوا سیدھا دیوار سے جا لگا تھا۔
”بابا۔۔۔ نہیں۔۔۔۔“ بمشکل گھونٹ پانی پی کر۔۔۔گھٹی سانسیں بحال کرنے کی کوشش میں ہلکان ہوتی حیا جہاں چاہ کر بھی اپنے بوکھلا چکے باپ کو جانے سے روک نہیں پائی تھی۔۔۔وہیں اپنے دھیان میں چھوٹا سا لاؤنج تیزی سے پار کرتے ہوئے وقاص صاحب اپنے پیچھے کسی نفوس کی موجودگی کو پرکھ ہی نہیں پائے تھے،،،جو باپ بیٹی کے بیچ ہونے والی ایک یک بات کو بآسانی سن رہا تھا۔
حیا نے بھاری ہوتے سر کے ساتھ طویل گہرا سانس کھینچتے ہوئے پانی کے گلاس کو سائیڈ پر رکھا تھا۔
”اففف۔۔۔بابا۔۔۔آ۔۔آپ کو براہ راست صاف صاف بتانے کی میری ہ۔۔ہمت ہی نہیں ہوسکی کہ ایسی حالت میں یہ سب۔۔مم۔۔معمولی سی علامات ہوتی ہیں۔۔۔ہ۔۔ہاں معمولی سی علامات،،،اور وجہ میرا پریگنینٹ ہونا ہے۔۔۔۔“ بےبسی سے بولتی ہوئی جہاں وہ اچانک آنے والی قے کے سبب سختی سے منہ پر ہاتھ جمائے۔۔اندھا دھند واشروم کی جانب بھاگی تھی۔۔۔
وہیں اِس ہانپتے انکشاف پر منجمد ہوچکا وہ شخص۔۔ہاتھ میں تھامے عشقیہ خطوط کو بےاختیار مسلتا ہوا سرتا پیر اشتعال کی بھٹی سلگ چکا تھا۔۔۔۔
سنسناتے ہوئے دماغ نے شدت سے کچھ انہونی کرنے کی ترغیب دی تھی۔۔۔۔