No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
لرزتے ہاتھوں سے پیسوں بھرا بیگ سینے میں دبوچے ہوئے وہ،،،اس وقت آبادی سے قدرے دور۔۔سنسان جگہ پر بنی اِس ٹوٹی پھوٹی بےنام عمارت کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔
سُرخ خوفزدہ آنکھوں سے بہتے ہوئےآنسو اس کی اندرونی بےچینیوں کا شدت سے پتہ دے رہے تھے۔
دو دن۔۔۔!!
کہنے کو تو محض وہ دو دن ہی تھے۔۔۔مگر حمزہ کی گمشدگی کے سبب زلیخا کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں تھے۔۔۔ اُسے یاد تھا جب وہ عالم صاحب اور فائق کے سنگ مٹینگ اٹینڈ کرنے کے سلسلے میں گالاتا ریسٹورنٹ میں آئی تھی،،،اور پھر واشروم ایریا سے فریش ہوکر نکلتے سمے۔۔۔اچانک اُسے اَن ناؤن نمبر سے ایک ویڈیو موصول ہوئی تھی۔
ناچاہتے ہوئے بھی کلپ چلانے پر جہاں اگلے ہی لمحے رسیوں میں بندھا حمزہ روتا ہوا پوری اسکرین پر واضح ہوا تھا۔۔۔وہیں لبوں پر ہاتھ جماتی زلیخا کی سانسیں بےاختیار تھمی تھیں۔۔۔
ویڈیو میں اس کے لختِ جگر کے نازک چہرے پر زوروں سےتھپڑ مارتا نقاب پوش۔۔اور درد کی شدت سے ”مومی۔۔۔مومی“ کہہ کر بلکتا ہوا اس کا نازوں سے پلا سات سالہ بچہ۔۔۔
اُفففف۔۔۔۔
قیامت ہی تو تھی زلیخا عالم درانی کے لیے۔۔۔۔
تبھی عین وقت پر اسٹارٹ ہوچکی میٹنگ میں بلانے کی خاطر۔۔۔اُس کی جانب آتے ہوئے فائق نے پہلے اُسکی فق رنگت دیکھی تھی۔۔۔
اور پھرقدرے حیرت سے۔۔۔اُس کی ڈھیلی گرفت سے چھوٹ کر نیچے گرتا ہوا موبائل فون۔۔۔۔
اس کے بعد برپا ہونے والی ہنگامی صورتحال کو۔۔۔مزید یاد نہ کرتے ہوئے زلیخا سر جھٹک کر ماضی سے واپس حال میں لوٹ کر آئی تھی۔۔۔
معاً اُس نے بھیگا چہرہ موڑ کر اپنے ہمراہ کھڑے فائق دُرید کو دیکھا۔۔۔
اگلے ہی پل دونوں کی نگاہیں ملی تھیں۔۔۔
نتیجتاً زلیخا کا بےچین دل بےساختگی میں دھڑک اٹھا۔۔۔
ہاں۔۔۔ہاں اُس شخص نے اُن کٹھن پلوں میں قریب آکر نہ صرف اُسے سنبھالنے کی بھرپور کوشش کی تھی۔۔۔ بلکہ عین وقت پر کڈنیپرز کی طرف سے آنے والی کال کو بذاتِ خود غصے میں اٹینڈ کرتے ہوئے۔۔۔حمزہ کے حق میں جذباتی بات چیت بھی کرڈالی تھی۔۔۔۔
یہ تو بھلا ہوا تھا کہ۔۔۔جواب میں کڈنیپرز نے فقط اُن دونوں کو ہی پرائیویسی کا پورا پورا خیال رکھتے ہوئے اپنے پاس آنے کا بول دیا تھا۔۔۔
ورنہ کافی حد تک ممکن تھا کہ آج وہ یہاں اکیلی آتی۔۔۔۔
ان مشکلوں حالاتوں کے دوران جہاں زیدان پولیس والوں کو ساتھ بھیجنے پر بضد تھا۔۔۔۔وہیں شدید پریشانی میں پھنسے عالم صاحب اور رمیض اِس نازک معاملے کو گہرائی اور خاصی عقلمندی سے ہینڈل کرنا چاہ رہے تھے۔۔۔
جبھی اعتبار کی ڈور تھماتے ہوئے اُن دونوں کو پیسوں بھرا بیگ دے کر یہاں تنہا بھیج چکے تھے۔۔۔
”مم۔۔مجھے میرا بچہ تو مل جائے گا ناں۔۔۔۔؟؟؟اگر اُن وحشیوں نے اپنی مطلوبہ رقم لینے کے باوجود بھی میرے بیٹے کےساتھ کوئی شیطانی کر ڈالی تو۔۔۔۔؟؟؟نہیں نہیں نہیں۔۔۔ م۔۔۔میں بتا رہی ہوں فائق درید زندہ نہیں رہ پاؤں گی میں حمزہ کے بغیر۔۔۔۔پلیز سیو ہِم۔۔۔۔ “ ہاتھ کی پشت سے بےچین ہوکر نم گال رگڑتی ہوئی وہ روہانسی ہوتی بولی تو۔۔۔فائق نے ہمت کرتے ہوئے اُس کا وہی لرزتا ہاتھ سنجیدگی سے تھام لیا۔۔۔
محض اِن دو دنوں میں اُسکا کِھلتا گلاب چہرہ کتنا مرجھا سا گیا تھا ناں۔۔۔!!!
”میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں زلیخا عالم درانی۔۔۔۔وعدہ کرتا ہوں حمزہ پر ایک بھی کھڑوچ آئے بنا۔۔میں اُسے صحیح سلامت آپ کے حوالے کروں گا۔۔۔۔پھر چاہے اس کے لیے مجھے اپنی جان کو ہی جوکھم میں کیوں نہ ڈالنا پڑے۔۔۔۔میں دریغ نہیں کروں گا۔۔۔۔۔“ زلیخا کا سرخ چہرہ ضبط سے بےتابانہ تکتے ہوئے گویا اُس نے بڑی مضبوط تسلی دی تھی۔۔۔۔
اس قدر مضبوط کہ ہاتھ چھڑائے بنا ہی وہ پل بھر کو اطمینان سے بھیگی آنکھیں موند کر کھول گئی تھی۔۔۔۔
اگلے ہی پل فائق اُسے ساتھ لیتا ہوا اِس بوسیدہ سی کھنڈر عمارت کے اندر کی جانب لپکا تھا۔۔۔۔
”رکو بے۔۔۔۔“ وہ پھونک پھونک کر آگےکو قدم بڑھا رہے تھے جب اچانک ایک نقاب پوش شخص پسٹل تھامے ہوئے تیزی سے اُن کے سامنے آیا۔۔۔
پھر زلیخا کے بےساختہ خوف سے دبا سا چیخنے کی پرواہ کیے بنا ہی۔۔۔۔عمارت سے باہر احتیاطاً جھانک کر پوری تسلی کرتا ہوا۔۔۔۔واپس ان کی جانب پلٹا۔
اس کے بعد اُن دونوں کے پاس موبائل فون نہ ہونے کی پوری پوری چھان بین کرتا ہوا مطمئن ہوا۔۔۔
”چلو اب میرے ساتھ۔۔۔باس تمہی لوگوں کے منتظر ہیں۔۔۔۔اور ہاں۔۔۔یاد رہے کوئی بھی ہوشیاری نہیں چلے گی۔۔۔ورنہ۔۔۔۔۔“ سختی سے بولتا ہوا شانی نامی کڈنیپر اُن پر گن تانے ہوئے۔۔۔اگلے ہی پل اُنھیں سب سے آخر میں بنے کمروں میں سے ایک کی طرف گھیسٹ چکا تھا۔۔۔ کمرے کے اندر داخل ہوتے ہی۔۔جہاں سامنے چئیر پر رسیوں سے بندھے حمزہ کو بےہوش دیکھ، زلیخا کی روح شدت سے لرزی تھی۔۔۔
وہیں فائق نے دوسرے نقاب پوش کڈنیپر کو اپنی جانب آتے دیکھ غصے سے مٹھیاں بھینچ لیں۔۔۔
وہ لیڈر تھا جس نے یہ سارا ناقابلِ برداشت کھیل رچایا تھا۔۔
ایک ماں ہونے کے ناطے اچانک اپنی ساری برداشت کھوتی زلیخا۔۔سیاہ رنگت کا بیگ فرش پر پھینکتی ہوئی تڑپ کر حمزہ کی جانب لپکنے کو تھی۔۔۔
جب فائق نے بروقت اُسے بازو سے تھام کر اپنی جانب کھینچا۔۔
”اے لڑکی۔۔۔۔ذیادہ شانی نہیں بننے کا۔۔۔بولا تھا ناں کہ کوئی ہوشیاری نہیں۔۔۔ایک بار کی سمجھائی بات بھیجے میں نہیں گھستی کیا تیرے۔۔۔۔؟؟؟“ شانی فوری اُس پر اپنی پسٹل تان گیا تھا۔۔۔۔
”ابھی رک جائیں زلیخا۔۔۔ابھی نہیں۔۔۔آپ کو ڈیل کے بتائے گئے اصول یاد ہیں ناں۔۔۔۔۔!!!“ فائق اُس کی پھٹی پھٹی بھیگی آنکھوں میں ضبط سے دیکھتا ہوا۔۔۔دھیمے لہجے میں گویا منت کر رہا تھا۔۔۔۔
جبکہ اُسکی یاد دہانی پر زلیخا کی سوجن زدہ آنکھوں کی سرخی بڑھی۔۔۔
”فائق بچہ ہے وہ میرا۔۔۔میرے سامنے ہے وہ۔۔۔۔پہلے ہی بہت دوری سہہ چکی ہوں اب تو مجھے اُس سے ملنے دو ناں۔۔۔پلیززز۔۔۔۔۔“ سسک کر دبا دبا سا چیختی ہوئی وہ شاید پسٹل کے ڈر سے بھی لاپرواہ ہوچکی تھی۔۔۔جبھی سمبھلنے کو نہیں آ رہی تھی۔۔۔
”بس کچھ دیر اور۔۔۔۔سمجھیے میری بات کو۔۔۔۔۔۔“ معاً فائق نے زلیخا کو دونوں بازؤں سے تھام کر ہلکا سا جھٹکا دیتے ہوئے،،ہوش میں لانا چاہا تھا۔۔۔
جو بالکل قریب سے اُس کی سرخ آنکھوں میں تکتی ہوئی اب کی بار تھمی۔
پھر بےہوش ہوئے حمزہ پر بھرپور نم نگاہ ڈالتی ہوئی شدتِ بےبسی سے لب بھینچ گئی۔
”پیسے لائے ہو۔۔۔؟؟؟“ کب سے ان کی جانب بےزاریت سے دیکھتا ہوا شہاب نامی لیڈر صاف مدعے پر آیا۔۔۔تو سبھی اُس کی جانب متوجہ ہوئے۔
”ہاں۔۔۔۔“ جھک کر نیچے گرا بیگ اٹھاتے ہوئے فائق نے تندہی سے جواب دیا۔۔پھر نا محسوس طریقے سے زلیخا کا ہاتھ تھام گیا۔
”پولیس یا کوئی ساتھی۔۔۔بھی۔۔۔۔؟؟“ پھر سے سوال کرتا ہوا وہ احتیاطاً کرخت انداز میں ٹٹول رہا تھا۔
”نہیں۔۔۔۔“ فائق نے اب بھی یک لفظی جواب ہی دیا تھا۔
”گڈ گڈ۔۔۔۔تو پھر یوں کرو کہ ہمارے اصولوں پر چلتے ہوئے ایک ہاتھ سے دو۔۔۔اور دوسرے ہاتھ سے لےلو۔۔۔۔“ دونوں کے ضبط سے تنے چہرے دیکھتا شہاب ہنوز نقاب میں پوشیدہ۔۔قدرے کمینگی سے بولا تو آنسو ٹوٹ کر زلیخا کے رخساروں پر پھسلے۔
شانی ہنوز اُن پر اپنی لوڈ ہوئی پسٹل تانے کھڑا تھا۔۔۔۔
”ظالم۔۔۔۔“ ان لوگوں کی اِس قدر بے حسی پر زلیخا کے پنکھڑی لب ایک کرب سے پھڑپھڑائے تھے۔
”اوئے بیگ پکڑ اس سے اور پیسے گن کے بتا۔۔پورے ہیں۔۔۔۔؟؟“ شانی سے پسٹل پکڑ کر بےزاریت سے حکم دیتا ہوا وہ۔۔۔ابھی تک بےسدھ پڑے حمزہ کی جانب لپکا۔۔۔تو زلیخا کا دل کسی بڑے خدشے کے تحت پھڑپھڑایا۔
شانی نے جٹ پٹ فائق سے بیگ جھپٹا تھا۔۔
”پورے بیس لاکھ ہیں یہ باس۔۔۔۔“ کچھ وقت لگا کر۔۔۔۔حساب کتاب پورا کرتے ہی شانی نے گویا اپنے لیڈرپر بم پھوڑا تھا۔۔۔
”کیاااا۔۔۔؟؟؟بیس لاکھ۔۔۔۔؟؟مگر میں نے تو اِن سے پورے پچیس لاکھ کی ڈیمانڈ کی تھی۔۔۔۔یعنی کہ میرے ساتھ فراڈ۔۔۔۔!!!“ معاً وہ خاصہ طیش میں آتا غرایا تو اُس کے تیوروں پر فکرمند ہوتی زلیخا کا دل جہاں بری طرح ڈوبا تھا،،،وہیں فائق کا بھی دماغ اس بکواس پر خراب ہونے لگا۔۔۔۔
”جھوٹ مت بکو۔۔۔ہمیں اچھے سے یاد ہے کہ تم نے بیس لاکھ کی ہی ڈیمانڈ کی تھی۔۔۔اب اپنی بات سے مکرو نہیں اور ہمارا بچہ ہمارے سپرد کرو۔۔۔۔“ فائق ان دونوں کی کارگردگی دیکھ اب کہ زچ ہوتا خود بھی غصے سے دھاڑا تھا۔
جواباً شہاب نے دانت کچکچائے۔۔۔پھر تندہی سے اپنی گن لوڈ کرتے ہوئے۔۔۔ مدھم مدھم ہوش میں آرہے حمزہ کی،ننھی پیشانی پر پسٹل کی ٹھنڈی نال رکھی۔
”نہیں کروں گا۔۔۔۔کیا کر لے گا بے۔۔۔۔“ وہ یک دم ہی بضد ہوا تھا۔۔۔ بےاختیار نرم گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑاتی زلیخا کی جان تو لبوں پر آئی ہی تھی۔۔۔
ساتھ میں فائق کا دماغ بھی اسکی جرات پر بھک سے اڑا۔۔۔۔
ایسے میں اطمینان سے پیچھے دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا شانی بیگ کو اپنے مضبوط قبضے میں لے چکا تھا۔۔۔
”نن نہیں پلیز۔۔۔۔م۔۔میں ابھی کہ ابھی اپنے کلائنٹ سے کہہ کر تمھیں پانچ لاکھ تو کیا۔۔۔دس لاکھ مزید منگوادیتی ہوں۔۔۔مگر پلیز میرے بچے کو کچھ مت کہنا۔۔۔پلیزززز ہاتھ جوڑتی ہوں میں تمھارے آگے۔۔۔۔“ شدتوں سے بوکھلاتی زلیخا تیزی سے دو قدم شہاب کے قریب آتی ہوئی لرزتے ہاتھ جوڑ گئی۔۔۔تو وہ اُس کا بھرا بھرا دلکش وجود سر تا پیر دیکھتا ہوا۔۔۔شانی کے سنگ خباثت سے ہنس دیا۔
”ابھی منگوا دیتی ہوں کا کیا مطلب ہے بے شانی۔۔۔۔؟؟کیسے منگوائے گی تُو۔۔۔؟؟؟فون کرکے یا پھر واپس جا کر۔۔۔۔؟؟؟الو کا پٹھا سمجھ رکھا ہے کیا ہمیں۔۔۔۔؟؟؟ابھی کہ ابھی،یہی پر کھڑے کھڑے پیسے نکال باقی کے بھی۔۔۔۔ورنہ تیرا بچہ تو گیا۔۔۔۔۔“ پوری طرح ہوش میں آچکے حمزہ کی کنپٹی پر۔۔بےدردی سے پسٹل کی نال مارتا ہوا شہاب،اگلے ہی پل ٹریگر پر انگلی جماکر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتا ہوا درشتگی سے بولا۔۔۔۔
تو حمزہ کے سنگ زلیخا بھی بلبلا اٹھی۔۔
وہ ابھی تک اُس خبیث شخص کی دشمنی کا حقیقی سبب نہیں جان پائی تھی۔۔۔جس کا خمیازہ اُس بےچارے ناصر ڈرائیور کو بھی بھگتنا پڑا تھا۔۔۔
بقول اُسکے حمزہ کو بچاتے بچاتے نہ صرف وہ خود زخمی ہوکر بستر سے لگ پڑا تھا۔۔۔بلکہ معذرت خواہانہ انداز اپناتے ہوئے اپنی ملازمت کو بھی بذاتِ خود چھوڑ چکا تھا۔۔۔
سختی سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے اب کہ فائق درید کا ضبط پوری طرح سے ٹوٹنے پر آیا تھا۔۔۔
”فااااائق میرا بچہ۔۔۔۔میرا بچہ فائق۔۔ت۔۔تم نے وعدہ کیا تھ تم اُسے بچا لو گے۔۔۔۔اور تم جو کوئی بھی ہو۔۔۔ پلیز میرے بچے کو کچھ بھی مت کرنا۔۔ت۔۔تم جو کہو گے جیسا کہوگے میں کروں گی ناں۔۔۔۔“ رو رو کر حلق کے بل چیختی ہوئی زلیخا اپنے بچے کی فکر میں ہلکان ہی تو ہو چکی تھی،،،جبکہ بری طرح سے سہما ہوا حمزہ اُسکی حالت دیکھتا ہوا شدتوں سے رو رہا تھا۔۔۔
”پیسے۔۔۔۔؟؟؟“ بےرحم بنا وہ ڈھٹائی سے بولا تھا،،،جب بالکل اچانک سے ہی بپھڑ چکا فائق۔۔۔دو جستوں میں چئیر کے ساتھ لگ کر کھڑے شہاب تک پہنچتا ہوا،،اُس پر بری طرح جھپٹا۔۔۔
افرا تفری کے اِن غیرمتوقع لمحوں میں۔۔۔محض ایک پل لگا تھا ساری بساط الٹنے میں۔۔۔ جب فائق نے شہاب کی ناک پر پوری شدت سے مکا مارتے ہوئے پسٹل اُس کے ہاتھ سے چھینی تھی۔۔۔۔
نتیجتاً دکھتی ناک پر ہاتھ رکھ کر بلبلاتا ہوا وہ کئی قدم پیچھے ہوا۔۔۔تو فائق بروقت صحیح پوزیشن لیتا،،،اگلے ہی پل لوڈ ہوئی پسٹل شہاب کے سر پر تان گیا۔۔۔۔
”حمزہ کو سنبھالیے زلیخا۔۔۔۔۔فوری۔۔۔اور اگر ہم میں سے کسی ایک کو بھی مزید نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو میں اِس میں موجود چھ کی چھ گولیاں اُسی وقت تمھارے دماغ میں اتار دوں گا مسٹر کڈنیپر۔۔۔“ وہ چیخا تو زلیخا لمحے کے ہزارویں حصے میں۔۔۔رو رو کر نڈھال ہوچکے حمزہ کے قریب ترین آئی۔۔۔
پھر قدرے محبت سے اُس کے بھیگے نقوش چومتے ہوئے رسیاں کھولنے لگی۔۔۔
ایسے میں۔۔اپنے باس کے سر پر منڈلاتی موت دیکھ شانی بمشکل تھوک نگلتا بےبس سا ہوا تھا۔۔۔۔
”ہمت کیسے ہوئی تیری اُس بچے پر پسٹل تاننے کی۔۔ہاں۔۔۔۔؟؟؟اب میں تجھے بتاؤں گا کہ موت کے گہرے سائے تلے اصل اذیت دینا کسے کہتے ہیں۔۔۔۔؟؟؟“
شہاب کے پیٹ پر پوری قوت سے لات مار کر اُسے زمین بوس کرتا ہوا فائق اپنے آپے سے باہر ہوا تھا۔۔۔
”م۔۔مومی۔۔۔مجھے بڑا پین فیل ہورہا ہے مومی۔۔اور۔۔۔اور۔۔پتا ہے؟؟م۔۔مجھے بہت۔۔بہت ذیادہ ڈر بھی لگا تھا آپ کے بغیر مومی۔۔۔جب میں آپکو بلارہا تھا تو آپ کک۔۔کیوں نہیں آئی تھیں میرے پاس۔۔۔؟؟بڑا مش کیا تھا میں نے آپکو مومی جان۔۔۔۔“ اپنی ماں کی گرم جوش بانہوں میں سمٹا حمزہ مدھم ہچکیاں لیتا ہوا مسلسل اپنا درد بتا رہا تھا۔۔۔
اُس کی باتوں پرمشکلوں سے مسکراتی ہوئی زلیخا کا دل پھٹنے سا لگا۔۔۔
”حمزہ۔۔۔۔۔حمزہ میری جان۔۔۔میرے چنداا۔۔۔ڈرو نہیں۔۔۔۔تمھاری مومی اب آگئی ہیں ناں تمھارے پاس۔۔۔اور دیکھو تمھارے فائٹر فرینڈ جِن کو بھی ساتھ لائیں ہیں تاکہ تمھیں سیو کرسکیں۔۔۔ ششش۔۔۔۔بس اب رو نہیں۔۔۔چپ ہوجاؤ۔۔۔جسٹ ریلکس مائے بریوَ بوائے۔۔۔“ نرمی سے بھیگی آواز پر قابو پاتے ہوئے زلیخا نے ایک بار پھر سے حمزہ کے ننھے معصوم نقوش کو چٹا چٹ چوم ڈالا تھا کہ بے قرار ممتا کو اندر تک چین آ جائے۔۔۔
شانی سے اب مزید اپنے باس کی دھلائی برداشت نہیں ہوئی تھی،،،
جبھی بیگ وہیں چھوڑ۔۔۔اُس نے دانت پیستے ہوئے پیچھے سے آکر فائق کی پسلی پر زور کا مکا دے مارا۔۔۔
تو جہاں حمزہ کے سنگ زلیخا نے قدرے متفکر ہوکر اُن کی جانب دیکھا تھا۔۔۔۔وہیں فائق کا بیلنس بگڑتے ہی،،،زخمی ہوچکے شہاب نے قدرے چالاکی سے ہمت کرتے ہوئے اُس کے ہاتھوں سے پسٹل جھپٹ لی۔۔۔۔
معاًپولیس سائرن کی آوازیں شدت سے اِس بوسیدہ عمارت کے باہرگونجی۔۔۔تو دونوں کڈنیپرز اِس غیرمتوقع افتاد پر گھبرا سے گئے۔۔۔۔۔
ایک پل کو تو فائق درید کی رنگت بھی متغیر ہوئی تھی۔۔۔
”سالے ایک اور بڑا فراڈ۔۔۔!!!اب تو سزا طے ہے۔۔۔۔۔“ طیش تلے سلگ کر بولتے ہوئے شہاب نے براہِ راست فائق درید کے چوڑے سینے کا نشانہ لیا تھا۔۔۔۔
عالم صاحب کی جانب سے پلین کے مطابق بھیجی گئی پولیس بڑی تیزی کے ساتھ بڑے داخلی دروازے سے عمارت کے اندر داخل ہوچکی تھی۔۔۔۔
”فائق پلیز سیو ہِم سیلف۔۔۔۔حمزہ میرے میرے پاس محفوظ ہے۔۔۔او۔۔اور تو اور۔۔۔پولیس بھی آچکی ہے اب۔۔۔۔۔“ زلیخا فائق کی کٹھن حالت دیکھ، شور مچاتی دھڑکنوں کے سنگ قدرے سہم کر بولی تھی۔۔۔۔
پر شاید کسی بھی قسم کے بچاؤ کے لیے اب بہت دیر ہوچکی تھی۔۔۔۔
”ٹھاااااا۔۔۔ہ۔۔ہ۔۔۔“ اگلے ہی پل جانلیوا آواز کے ساتھ چلتی گولی،،، فائق درید کے مضبوط وجود کو گہری ترین اذیت سے تڑپا کر رکھ گئی تھی۔۔۔
اُسی وقت پولیس کی نفری دوڑتی ہوئی اس شور شرابے والے کمرے میں داخل ہوئی تھی۔۔۔
”فائق۔۔۔۔۔۔؟؟؟“ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے لڑکھڑا کر گرتے دیکھ زلیخا کے لب بڑی اذیت سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔۔
ایسے میں اپنے فائٹر فرینڈ جِن کی تیزی سے خون آلود ہوتی حالت دیکھ حمزہ ایک بار پھر سے سہم کر رونا شروع کر چکا تھا۔۔۔۔
مگر اِن سنگین ترین حالات کے باوجود بھی کھلبلی مچاتی محبت نے جہاں بڑی شدت سے کسی کے اجاڑ دل کو روشن کیا تھا۔۔۔۔وہیں۔۔۔ کہیں دور منڈلاتی قسمت کچھ اداسی سے مسکرا کر رہ گئی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”فائنلی میں نے تمھیں اُس ڈائن کے بدترین چنگل سے چھڑوا لیا ہیری۔۔۔۔اب تو ساری دنیا ہی تمھارے لیے میری شدت کو جان چکی ہے۔۔۔جان چکی ہے کہ تم صرف میرے ہو۔۔۔جسٹ مائن۔۔۔۔۔“ مقابل کے نیم برہنہ سینے پر سر ٹکائے۔۔۔ایک جذب سے بولتی ہوئی وہ آج دنیا جہان کی چمک اپنی آنکھوں میں بھر لائی تھی۔
جبکہ اُس کے یوں اترانے پر ہیری نے آنکھیں میچ کر کھولیں۔۔۔
اِس شاندار سے بیڈ روم میں وقفے وقفے سے گونجتی روزینہ کی چہچہاہٹیں بھلا اُسے اب کہاں بھلی لگ رہی تھیں۔۔۔جو اپنی من مانیوں پر اترتی ہوئی اِیما کو وقتی طور پر ہی سہی مگر اُس سے دور کرچکی تھی۔
”ہاں میں تمھارا ہوں روزی۔۔۔۔مگر تم میری فطرت کو اچھے سے جانتی ہو کہ محبت میں قید مجھ جیسے مرد کو زہر سے بھی بدتر لگتی ہے۔۔۔۔“ اُس نے مدھم سلگتے ہوئے لہجے میں بےدھڑک اپنی فطرت اُسے باور کروائی تھی، جب اُسکی بانہوں میں سمٹی روزینہ۔۔۔سر اٹھا کر دلچسپی سے اُسکی جانب دیکھتی ہوئی مسکرائی۔
”زہر ہی سہی۔۔۔۔مگر میرے وجود میں پل رہے ہمارے اِس بچے کی خاطر تمھیں اب یہ زہر ساری زندگی کے لیے پینا پڑے گا ہیری۔۔۔اُس بچے کی خاطر جو ہمارے برباد ہوتے رشتے کو واپس سے آباد کرنے کا سبب بنا ہے۔۔۔۔“ بے اختیار اپنے نازک پیٹ پر نرمی سے ہاتھ جماتی روزینہ نے حقیقت کی گہری مار مارتے ہوئے۔۔اُس رنگ باز شخص کا اطمینان ایک بار پھر سے غارت کیا تھا۔۔۔
کئی دنوں کی بےسکونیوں میں یکدم برپا ہونے والی اِس خوش کُن تبدیلی نے جہاں روزینہ کو راحتوں کی اِک نئی راہ دکھائی تھی۔۔۔وہیں ہیری ملنے والی اِس غیرمتوقع خبر سے اندر ہی اندر ہل کر رہ گیا تھا۔
رفتہ رفتہ اُس کی نظروں سے اترتی ہوئی وہ عورت ایک بار پھر سے ماں بننے والی تھی۔۔۔
”ہاں یہ بچہ۔۔۔اِس کی بروقت اینٹری تمھارے حق میں بڑی ہی اچھی ثابت ہوئی ہے۔۔۔۔“ بددلی سے مسکراتے ہوئے۔۔۔قدرے زور دے کر کہتا ہیری بلاشبہ اپنی بیوی کی کوکھ میں پلتی اپنی اولاد سے قطعی خوش نہیں تھا۔۔۔
اور خوش ہوتا بھی کیوں۔۔۔۔؟؟؟
یہ سب تو نہیں چاہیے تھا اُسے۔۔۔۔
اپنے پیروں میں زنجیریں باندھنے کے ہی تو مترادف تھی یہ چیز اُس کے لیے۔۔۔
اور پھر دھڑکنوں کو شدت سے لبھاتا ہوا اپنا من پسند مقصد۔۔۔وہ بھی تو پورا کرنا تھا اُسے۔۔۔جسکی زبان وہ دل سے اپنی چاہنے والی کو دے کر آیا تھا۔۔۔
”بالکل۔۔۔اور ہم دونوں ہی تمھیں تاعمر کے لیے کسی اور کا نہیں ہونے دیں گے۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔تم پر۔۔۔تمھارے وجود پر۔۔۔اور تمھاری ایک ایک چیز صرف ہمارا حق ہے۔۔۔صرف اور صرف ہمارا۔۔۔گیٹ اِٹ۔۔۔۔۔“ اپنی محبتوں میں شدت سمو کر شستہ انگریزی میں بولتی ہوئی روزینہ نے جہاں بے تابانہ اُسکی اُگی ہوئی شیو کو سہلایا تھا۔۔۔وہیں ہیری اُس کی پل پل بڑھتی قربتوں میں گھٹن محسوس کرنے کے باوجود بھی رفتہ رفتہ پگھلتا چلا گیا۔۔۔
اِس بات سے قدرے بےخبر کہ آنے والے حالات کتنوں کے ہی حق میں جانیلوا ثابت ہونے والے تھے۔۔۔
