No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
دن کا سورج تقریباً ڈھلنے کو تھا،جب وہ دلہن کے بھاری جوڑے میں رمیض عالم درانی کے سنگ درانی پیلس میں داخل ہوتی سسکی تھی۔
اس کے خود کے گھر کو تو باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔
ہاں۔۔۔ہاں یہ سچ تھا کہ گزشتہ روز اس کی عزت کو پیروں تلے روندا نہیں کیا گیا تھا،،،
وہ انجان غنڈے اس کی سسکیوں منتوں سے جی بھر کے لطف لیتے ہوئے محض قیمتی زیور اتار کر اسے چھوڑ چکے تھے،،،
گویا ان کا ڈرانا مقصود تھا۔
اس دوران رمیض عالم درانی کا اس کی ذات کے لیے شدتِ بےبسی سے تلملانا قابلِ دید ہی تو تھا۔
مگر پھر کیا ہوا تھا۔۔۔؟؟
انھیں دوبارہ سے بےہوش کرکے وہ غنڈے خود وہاں سے مال گاڑی موبائل سب لے کر فرار ہوچکے تھے،،،
ہاں البتہ جاتے جاتے اتنی مہربانی ضرور کرگئے تھے کہ ان کے رسیوں سے بندھے ہاتھ پیر کھول گئے تھے۔
لیکن وہ تو پھر بھی برباد ہوچکی تھی ناں۔۔۔!!!
”اندر چلو۔۔۔ہمارا سب کے سامنے اپنے حق میں صفائی دینا ابھی باقی ہے۔۔۔“ حیا کو وہیں ساکت کھڑا دیکھ رمیض سنجیدگی سے گویا ہوا،تو اس نے چونک کر بھیگی آنکھوں سے اسے دیکھا۔
انداز میں خوف سا تھا۔
آگے بڑھنے کا خوف۔۔۔
بہت کچھ غلط ہوجانے کا خوف۔۔۔
”ڈ۔۔ڈر لگ رہا ہے بہت۔۔۔“ نفی میں سر ہلاتی وہ آہستگی سے بولی تو رمیض نے نرمی سے اس کی سُنی کلائی تھامی،پھر مضبوط قدم اٹھاتا ہوا اس کے سنگ اندر کی جانب بڑھتا چلا گیا۔
اس دوران وہاں کاموں میں مشغول دو ملازموں نے بڑی حیرت سے ان دونوں کی جانب دیکھا تھا۔
وہ جو اپنا آپ ڈھیلا چھوڑے اس کے ساتھ گھسٹتی چلی جا رہی تھی،لاؤنج میں آتے ہی اس کا لرزتا دل اپنوں کو وہاں دیکھ کر بند ہوا تھا۔
وہ لوگ جو سادگی سے ولیمہ کرکے کچھ دیر پہلے ہی گھر واپس لوٹے تھے ان دونوں کو وہاں دیکھ کر حیرت کی ذیادتی سے اٹھ کھڑے ہوئے۔
معاً رمیض نے ان کے مقابل آکر رکتے حیا کی کلائی چھوڑی تھی۔
وقاص صاحب بےیقین۔۔سرخ آنکھوں کے ساتھ کئی قدم چل کر اپنی بیٹی کے عین سامنے آرکے تو حیا نے سر سے سرک چکے بھاری دوپٹے کو بہتے آنسوؤں میں واپس سر پر جمایا۔
ایسے میں عالم صاحب اور حفصہ بیگم کی تاسف زدہ نگاہیں رمیض پر ٹکی تھیں۔
”ب۔۔بابا۔۔۔۔۔؟؟“ اس کے لرزتے ہوئے سرخ لب بمشکل پھڑپھڑائے تھے۔۔جب ضبط کھوتے ہی وقاص صاحب کا کانپتا ہاتھ اٹھا اور سب کی موجودگی میں اسکے نازک گال پر بےدردی سے اپنی گہری چھاپ چھوڑ گیا۔
”چٹااااخ۔۔۔۔۔“ سکوت کو توڑتی اِس تلخ آواز نے جہاں سبھی کو چونکایا تھا وہیں اپنے جلتے گال پر حیرت سے ہاتھ جماتی وہ ساکت ہوئی۔
یہ دیکھ کر قریب کھڑے رمیض عالم درانی نے سختی سے اپنی مٹھیاں بھینچی تھیں۔
”تف ہے تم جیسی بدکردار اولاد پر جو اپنی من مرضیوں کی بدولت خود کے ساتھ ساتھ والدین کی پارسائی کو بھی داغدار کر ڈالتی ہے۔۔۔“ وقاص صاحب کے منہ سے غصے میں نکلنے والے الفاظ نہیں۔۔بلکہ دہکتے انگارے تھے جو حیا کی روح کو شدتوں سے جھلساتے چلے گئے۔
اپنے باپ کے پتھریلے چہرے کو بےیقینی سے تکتے ہوئے آنسوؤں کی لڑی ٹوٹ کر اسکے گالوں پر لڑھکی تھی۔
”بس ایک بار۔۔ایک بار مجھ سے کہہ دیا ہوتا کہ بابا جان۔۔۔مجھے آپکی مرضی سے یہ شادی نہیں کرنی۔۔۔بخدا ماتھے پر شکن لائے بنا میں تمھاری یہ بات بآسانی مان لیتا۔۔۔یوں اپنی شادی والے دن اِس شخص کے ساتھ بھاگ کر ہمارے چہروں پر کالک ملنے کی کیا ضرورت تھی تمھیں۔۔۔؟؟“ سرخ چہرے کے ساتھ اپنے بھتجیے کی طرف اشارہ کرتے وہ قدرے نفرت سے چیخ رہے تھے۔
حیا نے سسکتے ہوئے شد و مد سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
اصلیت جانے بنا وہ کس قدر غلط سمجھ رہے تھے ناں اپنی بیٹی کو۔۔۔
بدکردار۔۔۔!!!
”ایسا کچھ نہیں ہے بابا۔۔۔آ۔۔آپکی بیٹی بالکل بھی ایسی نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔۔۔بس ایک بار میری بات سن لیں۔۔م۔۔میں آپکو سب کچھ بتاتی ہوں۔۔۔میں خود سے کہیں بھی۔۔کسی کے بھی ساتھ نہیں بھاگی تھی بلکہ۔۔۔۔“ رو کر یقین دلانے کی ناکام کوشش کرتی وہ بہت کچھ بتانا چاہ رہی تھی لیکن بروقت بیچ میں پڑتی حفصہ بیگم درشتگی سے اسکی بات کاٹ گئیں۔
”یہ صفائیاں بعد کے لیے رکھ لیں بھائی صاحب۔۔۔پہلے ان سے یہ کنفرم کروالیں کہ نکاح کرکے واپس لوٹے ہیں یا پھر بنا نکاح کے ہی بےشرمی سے یہاں تک چلے آئے ہیں۔۔۔۔“ وہ بنا لحاظ کے بولیں تو حیا نے قدرے تاسف سے اپنی مہربان تائی جان کا یہ تلخ روپ دیکھا۔۔۔
معاً پیشانی مسلتے رمیض عالم کا ضبط پوری طرح سے جواب دے گیا۔
”انف از انف۔۔۔حقیقت جانے بغیر آپ لوگ کیسے ہم پر ایسی بدترین تہمت لگا سکتے ہیں۔۔۔؟؟اور چچا جان آپ۔۔۔چلیں مجھ پر نہ سہی تو کم از کم اپنی پاکدامن بیٹی پر ہی اعتبار کر لیں۔۔۔شی از ٹوٹلی انوسینٹ یار۔۔۔۔۔“ برداشت ٹوٹنے پر رمیض نے آگے بڑھ کر قدرے برہمی سے سبھی کو ٹوکا۔۔۔تو کمرے کا دروازہ کھول کر اپنی نئی نویلی بیوی کے ہمراہ اطمینان سے ان سب کے بیچ آتا زیدان عالم تمسخر سے مسکرایا۔
”اگر یہ ٹوٹلی انوسینٹ ہوتی ناں بھائی۔۔۔تو عین شادی والے دن مجھے چھوڑ کر کبھی بھی آپکے ساتھ نہیں بھاگتی۔۔۔اگر اتنی ہی پاکدامن ہوتی تو کم از کم پوری ایک رات آپ کے ساتھ تنہا گزار کر واپس یہاں تک آنے کا حوصلہ مر کر بھی نہ کرتی۔۔۔۔“ زہریلے لفظوں کی گہری مار مارتا جہاں وہ سبھی کو اپنی جانب متوجہ کروا گیا تھا۔۔وہیں اپنی سجی سنوری چھوٹی بہن کا ہاتھ اس ستمگر کے ہاتھ میں جکڑا دیکھ حیا وقاص کا سر بری طرح چکرا کر رہ گیا۔۔۔
”جھوٹ ہے یہ سب زیدان سراسر الزام ہے۔۔۔حیا معصوم ہے،کیونکہ یہ میرے ساتھ کہیں بھاگی ہی نہیں تھی۔۔۔نہ ہی میں اسے لے کر کہیں بھاگا تھا۔۔ہمیں کسی نے جان بوجھ کر کڈنیپ کیا تھا ڈیمٹ۔۔کڈنیپ کیا گیا تھا ہمیں بیلیو می۔۔۔“ بآواز بلند ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتے ہوئے رمیض کی رگیں تن چکی تھیں۔
جہاں حیا کا سکتہ ٹوٹا تھا،وہیں زیدان نے حقیقت سے صاف منہ موڑتے تنفر سے سر جھٹکا۔
”بہانے تلاشنے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں برخوردار۔۔۔جب ہمیں سب کچھ معلوم ہوچکا ہے تو صاف صاف کہہ کیوں نہیں دیتے کہ تم دونوں نے جو کچھ بھی کیا محبت میں پاگل ہوکر کیا۔۔۔؟؟“ تب سے خاموش کھڑے عالم صاحب ان کی ڈھٹائی پر تپ کر بولے۔
اس کی طرف سے آیا وہ محبتوں بھرا طویل میسج منہ بولتا ثبوت ہی تو تھا۔۔۔
جواباًرمیض نے چونک کر اپنے باپ کی بےیقینی کو دیکھا۔پھر تھکے تھکے انداز میں چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
یہ کیسی مصیبت گلے آن پڑی تھی کہ کوئی بھی اِس کڑوی حقیقت پر یقین کرنے کو تیار ہی نہیں تھا۔
اس دوران حیرت سے اپنے مقابل آکر رکتی حیا کو دیکھ کر حسنہ کے نقوش یکدم سپاٹ ہوئے تھے۔
کیسے اجڑ کر واپس آئی تھی ناں وہ۔۔۔!!!
”زیدان۔۔۔؟؟زیدان نے میری چھوٹی بہن کا ہاتھ کس حق سے تھام رکھا ہے۔۔۔؟؟اور یہ دونوں ایک۔۔ایک کمرے سے کیوں نکل کر آئے۔۔۔؟؟“ کڑوے لہجوں کو فراموش کیے،وہ صدمے سے پوچھتی سب سمجھ کر بھی کچھ سمجھنا نہیں چاہ رہی تھی۔
جانیلوا ہی تو تھا سمجھنا۔۔۔!!!
اس کے چہرے کی اڑی رنگت دیکھتے ہوئے زیدان کے لب ناچاہتے ہوئے بھی مسکراہٹ میں ڈھلے۔۔۔تو بھیگی نگاہوں سے اُس کے انداز دیکھ کر حیا کو بہت کچھ غلط ہوجانے کا احساس لاحق ہوا تھا۔
”کیونکہ۔۔۔تمھاری چھوٹی بہن اب میری قانونی اور شرعی بیوی ہے۔۔۔کل ہی ہم دونوں نے سب کی رضامندی سے تمھاری غیرموجودگی میں یہ شادی کی ہے۔۔۔مبارکباد نہیں دو گی ہمیں۔۔۔؟؟؟“ حظ اٹھاتے لہجے میں زور دے کر بولتا ہوا وہ حیا وقاص کے سر پر درانی پیلس کی پوری چھت گرا گیا تھا۔
وقاص صاحب ہمت ہارتے صوفے پر ڈھ سے گئے۔
ایسے میں رمیض نے بھی قدرے حیرت سے ان دونوں کی جانب دیکھا تھا جو مزید مضبوطی سے ایک دوسرے کے ہاتھ تھام چکے تھے۔
”بیوی۔۔؟؟؟ی۔۔یہ نہیں ہوسکتا۔۔۔زیدان آپ تو صرف مجھ سے محبت کرتے ہیں ناں۔۔۔تو پھر میرے علاوہ کسی اور سے شادی کرنے کا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں۔۔۔؟؟؟خدا کا واسطہ ہے کہہ دیں یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔پلیزمیرے ساتھ اتنا بڑا ظلم مت کریں بہت محبت کرتی ہوں میں آپ سے۔۔۔“ ہاتھ جوڑتی وہ شدتوں سے سسک اٹھی تھی۔۔۔
جبکہ اپنے شوہر کے لیے اس کا یہ شدت بھرا اعتراف محبت حسنہ کو اندر تک جلا چکا تھا۔
اس پر مستزاد حیا کا آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ چھڑوانے کی جرات کرنا۔۔۔اسے مزید تپا گیا۔
” بند کرو تم اپنی یہ ڈرامے بازی۔۔۔نہیں کرتے میرے شوہرتم سے کوئی محبت وحبت۔۔۔نفرت کرتے ہیں صرف نفرت اور سچ بھی یہی ہے۔۔۔تم جیسی بدکردار اوربھگوڑی لڑکی اس قابل ہے ہی نہیں کہ تم سے رتی بھربھی محبت جتائی جائے۔۔۔“ حیا کو پرے جھٹکتی وہ بنا لگی پٹی رکھے بےدردی سے اس کی ذات کے پرخچے اڑا گئی،تو حیا نے صدمے سے اپنی چھوٹی بہن کا اس قدر بدتمیزی والا لہجہ دیکھا۔
”حسنہ۔۔۔۔!!!“ اگلے ہی پل اس کا ہاتھ اٹھا اور”چٹااااخ“ کی تیز آواز کے ساتھ حسنہ کا رخسار سرخ کرگیا۔
اس آگ پکڑتے ہنگامے پر جہاں سبھی پریشان ہوئے تھے،وہیں زیدان نے غصے میں حسنہ کو چھوڑ کے حیا کو بازوؤں سے دبوچا۔
”ہمت کیسے ہوئی تمھاری میری بیوی پر ہاتھ اٹھانے کی۔۔۔ہہمم۔۔۔؟؟نفرت کرتا ہوں میں تم جیسی بھگوڑی،بدکردار عورت سے۔۔۔بےتحاشہ نفرت۔۔۔سن لیا تم نے۔۔؟؟اب اپنے محبوب کو لے کر دفع ہوجاؤ میری نظروں سے۔۔۔۔“ چنگاڑ کربولتا ہوا وہ پوری قوت سے اسے پرے دھکیل گیا۔
جواباً مکمل نڈھال ہوتی حیا جہاں پلوں میں زمین بوس ہوئی تھی،وہیں بےاختیار اس کی جانب بڑھتے رمیض عالم درانی کے سوا سبھی نے سنگدلی دکھاتے ہوئے ان دونوں سے اپنا منہ موڑلیا۔
ایسے میں ریلنگ کے ساتھ لگ کر کھڑی زلیخا سرد نگاہوں سے سب تماشہ دیکھتی اگلے ہی پل وہاں سے پلٹتی جا چکی تھی۔۔۔۔
” کمال کا طعنہ دیا آج دل نے
اگر کوئی تیرا ہے تو کہاں ہے؟“
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”لُک ایما۔۔۔مائے ڈائمنڈ بریسلٹ۔۔۔!!! وہ چہک کر اپنا چمکتا دمکتا بریسلیٹ ریسٹورنٹ میں بیٹھی اپنی بیسٹ فرینڈ کو دکھا رہی تھی۔
”واؤ سوئیٹ ہارٹ۔۔۔۔اٹس رئیلی پریشیس۔۔۔۔“ ایما نے اس کے ہاتھ سے بریسلٹ لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے نگوں پر حسرت سے انگھوٹھا پھیرا۔
پھر بلاجھجک اپنی سفید کلائی پر پہن کر قدرے خوشی سے آگے پیچھے سے دیکھنے لگی۔
”بالکل،میں ان سب چیزوں کی دیوانی ہوں اور میرا شوہر صرف اور صرف میرا دیوانہ ہے۔۔۔۔“ خالصتاً انگریزی میں جتاتی ہوئی روزینہ اترائی تھی۔
اس کی دمکتی چمکتی رنگت دیکھ کر کہیں سے لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ اپنی زندگی میں کسی کی شدید ترین نفرت کا شکار رہ چکی ہے۔
”تم بہت لکی ہو روزی،جو تمھیں اتنا امیر اورمحبت کرنے والا شوہر ملا ہے۔۔۔مجھ بدنصیب کو دیکھو۔۔۔اِس ایک مہینے میں یہ میرا تیسرا بریک اپ ہے۔۔۔میری لائف میں کوئی بوائے فرینڈ ٹکتا ہی نہیں ہے یار۔۔۔آااہہہ۔۔۔۔“ ایما نے بظاہر منہ بسور کر اسے بتایا۔۔۔ورنہ تو دل اپنی دوست کی ایسی خوش نصیبی پر شدتوں سے جل اٹھا تھا۔
وہ جو بھی بوائے فرینڈ بناتی تھی، یا تو وہ دو ٹکے کا فریبی نکل آتا یا پھر بال بچوں والا شادی شدہ مرد۔
”تو تم بھی میری طرح بوائے فرینڈ کی بجائے کوئی امیر شوہر پھانس لو ناں جو ہر وقت صرف تمھارے آگے پیچھے گھومتا رہے،اور دل کھول کر تم پر اپنی دولت نچھاوڑ کرے۔۔۔بالکل میرے ہیری کی طرح۔۔۔“ روزینہ نے اس سے اپنا بریسلٹ اتروا کر اپنی گرفت میں لیتے ہوئے مخلصانہ مشورہ دیا تھا۔
معاً ایما کی نیلی نگاہیں دور سے اسی طرف آتے ہیری پر پڑی تھیں،جو شاید اپنے کلائنٹس کے ساتھ کوئی میٹنگ اٹینڈ کرنے یہاں آیا تھا۔
”سچ میں ڈھونڈ لوں۔۔۔؟؟“ آہستگی سے پوچھتے ہوئے ایما کی نگاہیں عجیب انداز میں چمک اٹھی تھیں۔
بہکتی ہوئی نظروں کا مرکز سامنے ٹیبل پر بیٹھتا سوٹڈ بوٹڈ ہیری تھا جس کی خود کی نگاہ بھی اب ایما پر پڑ چکی تھی۔
”ہاں ناں ڈھونڈ لو۔۔۔۔“ پشت پر بیٹھے اپنے شوہر کی آمد سے بےخبر روزینہ نے جہاں اپنی پکی دوست کے ہاتھ میں اجازت نامہ تھمایا تھا،وہیں ہیری کو ہنوز تکتے ہوئے ایما کا دل نت نئے ارادے بناتا ہوا مزید بے ایمان ہوتا چلا گیا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ اس وقت اپنی ہونے والی ساس کے کمرے میں بیٹھی اپنی خراب قسمت پر سسک رہی تھی۔کچھ بھی ثبوت نہ ہونے کے سبب،رمیض عالم درانی اتنی آسانی سے سب گھر والوں کی ناحق بات کے آگے گھٹنے ٹیک دے گا،یہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔
ایسے میں حفصہ بیگم نے ملازمہ کے سنگ مل کر بےحسی سے ہاتھ چلاتے ہوئے کافی حد تک اس کی بکھری حالت کو سدھار دیا تھا۔
جھمکوں سمیت اپنا سونے کا ہار اسے پہنانے کے بعد۔۔۔اب وہ ایک ایک کڑا حیا کے بےجان ہاتھوں میں ڈال رہی تھیں۔
بڑوں کے سوچے سمجھے فیصلوں کے سبب نکاح کے فوری بعد رخصتی بھی طے کردی گئی تھی۔۔۔
اور یہ بلاشبہ اُس نازک جان کے لیے بڑا ہی جانیلوا فیصلہ تھا۔
”پلیز مجھ۔۔مجھے یہ نکاح نہیں کرنا تائی جان۔۔۔میں نے آپکے بیٹے کو ہمیشہ سے ایک بڑے بھائی کا درجہ دیا ہے۔۔اب بھلا شوہر کا درجہ کیسےدےدوں۔۔؟؟پلیزیہ نکاح روک دیں۔۔۔پلیززز۔۔۔“ حفصہ بیگم نے اس کے سر پر بھاری دوپٹہ صحیح سے اوڑھایا تھا،جب وہ ہاتھ جوڑتی شدت سے ملتجی ہوئی۔
”یہ تو تمھیں محبت جیسے فتور میں پڑنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔۔۔اور رہی بات بڑے بھائی کی تو جان لو کہ کزن کبھی سگے بھائی نہیں ہوا کرتے۔۔۔“ آئینے میں اسکا رویا رویا سا دلکش چہرہ دیکھتی ہوئی وہ تندہی سے بولیں تھیں۔
”محبت؟؟نہیں ہے مجھے اُس شخص سے کوئی محبت۔۔۔پہلے تو صرف نفرت تھی۔۔۔مگر اب بےحد نفرت ہونے لگی ہے۔۔۔اس کی منہوسیت کا پورا پورا یقین ہونے لگا ہے مجھے۔۔۔پہلے ہی میں اپنی بچپن کی محبت کھو چکی ہوں۔۔۔اب رمیض بھائی کی بیوی بناکر آپ سب لوگ مجھ پر ستم پر ستم مت کریں پلیز۔۔۔۔۔“ برداشت کھونے پر کھڑی ہوکر ان کی جانب پلٹتی،وہ شدتوں سے نفرت کی چنگاڑیاں اڑاتی چلی گئی۔۔۔تو حفصہ بیگم کی بھنویں تن گئیں۔
”ہمارےسروں میں جو خاک تم نے ڈلوادی ہے ناں حیا بی بی،اس کے بعد تمھیں میرے بیٹے کے سوا کوئی بھی قبول نہیں کرنے والا۔۔۔حتیٰ کہ تمھارا اپنا سگا باپ بھی نہیں۔۔۔بہتر ہے کہ چپ چاپ وہی کرو جیسا تم سے کرنے کو کہا جارہا ہے۔۔۔“ اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکتے ہوئے انھوں نے احساس دلانا چاہا تھا۔۔۔مگر وہ نفی میں سر ہلاگئی۔
”طلاق یافتہ ہے وہ۔۔۔۔“ خامی بیان کی گئی تھی۔
”بچپن سے منگنی شدہ تم بھی رہ چکی ہو۔۔۔اور دھتکاری بھی اپنے ہی منگیتر کے ہاتھوں گئی ہو۔۔۔۔“ دوبدو جواب نے حیا کو سسکنے پرمجبور کردیا تھا۔
”قاتل ہے وہ اپنی سابقہ بیوی کا۔۔۔۔“ اس بار وہ دبا سا چیخی تو حفصہ بیگم اس کی سرخ آنکھوں میں ڈر کا ڈولتا سمندر دیکھتی ہوئی پل بھر کو نگاہ چرا گئیں۔
”بدنام تو تم بھی ہو۔۔۔۔“ ضبط سے باور کرواتے ان کی آواز کچھ آہستہ ہوئی تھی۔
”اسی کی وجہ سے۔۔۔۔“ وہ گالوں کو بےدردی سے رگڑتی بولی۔
”تو جس کے نام سے بدنام ہوئی ہو۔۔۔اسی کے نام اپنا آپ واردو۔۔۔ورنہ زندگی جہنم ہوجائے گی۔۔۔۔۔“ حفصہ بیگم نے ٹھوس لہجے میں کہا تو کمرے میں آتے وقاص صاحب کو دیکھ کر حیا کے ہلتے لب ساکت ہوئے۔
”مولوی صاحب آگئے ہیں بھابی۔۔۔آپ اسے باہرلے آئیں۔۔۔۔“ حیا کے سرخ چہرے پر ایک ضبط بھری نگاہ ڈالتے وہ بےتاثر لہجے میں گویا ہوئے۔
جہاں حفصہ بیگم نے دھیرے سے سر ہلاتے حیا کو تھا،وہیں اسے اپنی سانسیں گھٹتی ہوئی محسوس ہوئیں۔
”بابا پلیز۔۔۔سچ جان لینے کے بعد کم از کم آپ تو یہ مت کریں میرے ساتھ۔۔۔!!!“ تیزی سے ان کے سامنے جاتی وہ روہانسی ہوکر منت کر رہی تھی۔
سب کی طرح ان کا بھی سچ بات کو من گھڑت کہانی مان کر یقین نہ کرنا حیا کو گھائل کرگیا تھا۔
”اگر مجھے ذلت کی موت مرتا ہوا دیکھنا چاہتی ہو تو پھر مولوی صاحب کے سامنے بلاجھجک اس نکاح سے انکار کردینا تم۔۔۔۔“ سپاٹ لہجے میں بولتے ہوئے وہ مزید وہاں رکے نہیں تھے،بلکہ اپنی بیٹی کے بہتے آنسوؤں کی پرواہ کیے بنا برہمی سے کمرے سے نکلتے چلے گئے۔
پیچھے ڈھیلے ہوتے وجود کے ساتھ حیا کے سب انکار سب احتجاج پل میں بےدم ہوئے تھے۔۔۔۔
”ہنستے ہنستے یارہم تو رو پڑے
آنکھیں پونچھوں؛
آنسوپھر سے نم کریں۔۔۔“
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”آج تک کسی نے بھی مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔۔۔مگراُس نے سب کے سامنے میرے منہ پر تھپڑ مارا،اور میں جواب میں کچھ بھی نہیں کرسکی۔۔آااہہ۔۔۔“ سلگ کر بولتی ہوئی وہ اب بھی خاصا تپی ہوئی تھی۔
زیدان نے کندھے پر ٹھوڑی جماتے ہوئے اسے اپنے نرم حصار میں بھرا۔
”اتنا کچھ تو کردیا ہےہم نے اُس بیچاری کے ساتھ۔۔۔درانی پیلس سے رخصت کروا کر سیدھا مرحوم نانی اماں کے پرانے گھر تک پہنچا دیا۔۔۔ ہم خود بھی ایک دوسرے کے ساتھ اتنے خوش ہیں۔۔یہی سب تو چاہیے تھا ہمیں جانم۔۔۔“ آئینے میں اس کے تیکھے۔۔۔برہم نقوش دیکھتا ہوا زیدان ٹھہرٹھہر کر بول رہا تھا۔
جتنا سوچا تھا،اس سے کہیں ذیادہ آسان نکلا تھا سب۔
”وہ بیچاری تو چلی گئی۔۔۔مگر جاتے جاتے میرا دل اچھا خاصا جلاکرگئی ہے۔۔۔“ حسنہ کا تباہ ہوا موڈ کسی طور ٹھیک نہیں ہو پارہا تھا۔
اگلے ہی وہ اس کا رخ اپنی جانب موڑ گیا۔
”اچھا ناں۔۔۔موڈ ٹھیک کرو اپنا،ترکی کی ٹکٹیں کنفرم کرواچکا ہوں میں۔۔۔چار دن بعد ہم اپنے ہنی مون پر جارہے ہیں۔۔۔“ وہ اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامتا ہوا بولا۔
یہ سن کر حسنہ پل میں سب کچھ بھولتی کھل کر مسکرائی تھی۔
”ترکی۔۔۔آ۔۔آپ سچ کہہ رہے ہیں ناں زیدان۔۔۔۔؟؟“ یکدم قدرے خوشگوار موڈ میں پوچھتی ہوئی وہ اپنے چہرے پر رکھے اس کے ہاتھ تھامتی ایکسائٹڈ ہوئی۔
”بالکل سچ۔۔۔۔۔“ آفس کے سارے انتظامات مینج کرکے وہ محض ایک،ڈیڑھ ہفتے تک کا ہی وقت نکال سکتا تھا۔
اگلے ہی پل حسنہ کھلکھلاتی ہوئی اس کے چوڑے سینے سے جالگی
منہ دکھائی میں ملنے والی ڈائمنڈ کی قیمتی رِنگ اور اب ترکی کا رومانٹک وزٹ۔۔۔!!!
وہ من چاہا شخص اُسکی دیوانگی میں ہر خواہش پوری کررہا تھا۔
زیدان بھی مسکراتا ہوا بڑی شدت سے اسے خود میں سمیٹ چکا تھا۔۔۔۔
