Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

”میں سرعام یہ اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے تم سے بےپناہ محبت ہے حسنہ وقاص۔۔۔۔“ سماعتوں میں گھلتی ہوئی مردانہ خوشگوار آواز اِس پل اُس کے سنساتے دماغ پر ہتھوڑا بن کر برسی تھی۔
سوئے ہوئے زیدان عالم درانی کے سینے پر سر رکھ کر لیٹے ہوئے ہونے کے باجود بھی نیند تو جانے کب کی اُس کی جلتی آنکھوں سے اڑ چکی تھی۔۔۔
”تم پاگل ہوچکے ہوکیفی۔۔۔مکمل پاگل۔۔۔اور یہ کن محبتوں کی بات کررہے ہو تم آخر۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟میں نے تو مرکر بھی کبھی تم سے یہ بات نہیں کہی کہ مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔محض دوستی کو محبت سمجھنے کی بےوقوفی تم نے کی ہے سو اب بھگتو۔۔۔۔“ معاً حسنہ وقاص کو اپنا بدلحاظ لہجہ یاد آیا۔
”مت بھولو کہ محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہواکرتی۔۔۔۔اور تم نے اپنے ہر ہر عمل سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ تم بھی مجھے بےپناہ چاہتی ہو۔۔۔۔جتنا کہ میں تمھیں۔۔۔۔“ پوری یونی کے سامنے دیوانگی سے کہتا ہوا وہ کتنا پُر یقین ہوکر اُس کے تپے رخسار کو چھونے کی گستاخی کرگیا تھا ناں۔۔۔
”چٹاااااااخ۔۔۔۔۔۔!!!“ بےاختیار اُس شخص کے چہرے پر مارے گئے تھپڑ کی تند آواز حسنہ کو شدت سے اپنے آس پاس بکھرتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
تو کیا۔۔۔اب وہ شخص اپنی ہوچکی ذلالت کا بدلہ لینے کی غرض سے یہاں آیا تھا۔۔۔۔؟؟؟
یوں غریب بن کر۔۔۔۔
شریف بن کر۔۔۔۔
حقیقی پہچان چھپا کر۔۔۔۔
مکار عاشق بن کر۔۔۔
بےاختیار نم سرخ آنکھوں کے ساتھ زیدان کا ڈھیلا حصار توڑتی ہوئی وہ قدرے وحشت سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
نکاح کی تقریب میں زلیخا اور حمزہ کے سنگ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑا وہ شخص بظاہر تو بڑا پُرسکون دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔مگر۔۔۔نگاہیں ملنے پر اُس کے لبوں پر ابھرتی وہ شیطانی مسکراہٹ۔۔۔۔!!!
افففف۔۔۔۔!!!
شدت سے بےسکون ہوتے ہوئے حسنہ کا بھاری ہوتا دل ڈوب کر ابھرا۔
ہاں۔۔۔ہاں منفرد انداز میں ہی سہی۔۔ مگر وہ شخص اپنا انتقام لینے میں بڑا پکا تھا۔۔۔
یہ بات بھلا وہ کیسے بھول سکتی تھی۔۔۔!!!
لیکن سوچا نہیں تھا کہ گھٹیا گینگسٹر کی وہ گھٹیا اولاد اُس کے لیے اِس حد تک گِر جائے گی۔۔۔
دکھتی کنپٹیوں کو بےدردی سے مسلتے ہوئے ضبط کے باوجود بھی دو آنسو ٹوٹ کر حسنہ کے تپتے گالوں پر لڑھکے تھے۔
بند کھڑکیوں کے پار سیاہ آسمان میں جہاں صبح کی مدھم مدھم روشنی اب پھوٹنے کو تھی۔۔۔وہیں
وہ یکدم پلٹتی ہوئی زیدان کے قریب آئی۔
قدرے جھک کر مقابل کی ساکت پلکوں کو بےبسی سے تکتے ہوئے حسنہ کا دل اُسے ایک ایک بات بتادینے کو شدت سے مچلا تھا۔۔۔
مگر پھر بےتابی سے اُس کے مضبوط سینے کو چھوتے ہوئے اُس کے پھڑپھڑاتے گلابی لب تھم سے گئے۔
بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ۔۔۔فائق درید کی سفاک حقیقت سے پردہ اٹھاتے اٹھاتے اُس کی خود کی سیاہ حقیقتیں چھپی رہتیں۔۔۔!!!
وہ تو کھل کر سب کے سامنے آتی اُس کی رسوائی کا سبب بننی تھیں۔۔۔۔
اور مقابل سویا شخص تو پہلے سے ہی اُس سے بڑا بدظن تھا۔۔۔۔سب جان کر تو ویسے ہی ابدی جدائی کا روگ دیتے ہوئے اُسے جیتے جی مار ڈالتا۔۔۔
معاً قدرے سہم کر اپنے لبوں پر سختی سے ہاتھ جماتی ہوئی حسنہ اُس کے کسرتی وجود سے پرے ہوئی تھی۔۔۔
اتنے دنوں بعد۔۔۔ آج جاکر زیدان عالم درانی نے اُسے اپنی نرم قربتوں سے آشنا کروایا تھا۔۔۔۔تو پھر بھلا سب بتاکر کیسے وہ اپنی ذات پر اتنا بڑا رسک لے لیتی۔۔۔۔؟؟؟
درحقیقت تو اُسے سب سے۔۔سب کچھ ہی چھپانا چاہیے تھا۔۔۔
پھر چاہے وہ خود کی اصلیت تھی یا فائق دُرید کی۔۔۔۔!!!
ہاں۔۔ہاں کسی اور کا مستقبل تباہ ہوتا سو ہوتا۔۔۔مگر اُسکا کسی بھی قیمت پر نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔۔
پلوں میں قطیعت بھرا سفاک فیصلہ کرتے ہوئے حسنہ کو یکدم ہی اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا۔
معاً اپنے ضبط سے سرخ چہرے کو رگڑ کر صاف کرتی ہوئی وہ جلدی سے بیڈ سے نیچے اتری۔پھر خشک پڑتی سانسوں کے سنگ سائیڈ ٹیبل پر پڑے خالی جگ کو دیکھا۔
حلق بھیگانے کی طلب تیزی سے بڑھنے لگی تھی،،،،جب اگلے ہی پل وہ سرخ رنگ نائٹی میں تندہی کے ساتھ کمرے سے باہر نکلتی چلی گئی۔
ارادہ سیدھا کچن میں جاکر گھٹا گھٹ پانی پینے کا تھا۔۔۔
لاؤنج سے گزرتے ہوئے جلتی ہوئی مدھم روشنیوں کے سنگ سناٹا بھی صاف چیخ رہا تھا۔کچن میں پہنچ کر فوری لائٹ جلانے کے بعد اُس نے واٹر کین پکڑتے ہوئے براہ راست اُسے اپنے پنکھڑی لبوں سے لگایا۔پھر کھڑے کھڑے ہی پانی سے ساری پیاس بجھاتی،،،گہرے گہرے سانس بھرنے لگی۔
تبھی وہ نفوس بھی اپنے خالی وجود میں لاتعداد بےسکونیاں سمیٹے ہوئے۔۔۔بےدھڑک کچن میں داخل ہوا تھا۔
سخت سینہ ناچاہتی قربتوں سے ہنوز جل سا رہا تھا۔
معاً اپنے پیچھے کسی کے رکنے کی آہٹ محسوس کرتی حسنہ چونک کر تیزی سے پلٹی۔۔۔لیکن پھر اپنے مقابل فائق دُرید کو جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا دیکھ،اُس کے چہرے پر شدید ناگواری پھیلتی چلی گئی۔
سر تا پیر سفر کرتی ہوئیں اُس کی چبھتی نظریں ناقابلِ برداشت سی تھیں۔
”واؤ سویٹ ہارٹ۔۔۔سوچا نہیں تھا کہ ایسا حسین منظر ہمیں دوبارہ دیکھنا نصیب ہوگا۔۔۔ڈیپ ریڈ کلر کی یہ نائیٹی اِس وقت تمھارے نازک بدن پر بہت پرفیکٹ لگ رہی ہے۔۔۔“ سر تا پیر اسے کمینی نگاہوں سے گھورتا ہوا وہ گھمبیر لہجے میں بولا۔
سلک کی سلیو لیس لانگ نائٹی پر بال کھلے چھوڑے وہ واقعی میں بڑی دلچسپ لگ رہی تھی۔
جواباً غصے سے لال پڑتے ہوئے حسنہ کو بےاختیار اپنے ماضی کے وہ بدترین لمحے یاد آئے تھے،،،جب مقابل نے اُسے شاپنگ کرواتے ہوئے ایسی ہی ایک عدد پیروں تک آتی لانگ،وائٹ کلر کی چست نائٹی خرید کر دی تھی۔اور اس کی بےجا ضد پر وہ کچھ دیر کے لیے پہن کر اس کے سامنے بھی آچکی تھی۔
”تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔؟؟؟فوراً دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔آئی سیڈ گیٹ آؤٹ۔۔!!!“ دانت پیس کر اسے ذلیل کرتے ہوئے اُس کو اِس سمے کسی نہ کسی کے جاگ جانے کا ڈر بھی لاحق ہوا تھا۔
جواباً کیفی تاسف سے سر ہلا کر مسکراتا ہوا اس کے قریب ہوا۔۔تو وہ پیشانی پر بل ڈال کر شیلف سے لگتی۔۔۔ناچاہتے ہوئے بھی گھبرائی۔
”میں اس گھر کا اکلوتا داماد ہوں سوئیٹی اس لیے تم لاکھ چاہ کر بھی مجھے یہاں سے دفع نہیں کرسکتی۔۔۔ویسے اگر اُس روز تم نے میرا پرپوزل ایکسیپٹ کرلیا ہوتا تو ایسےحسین ترین نظارے تمھارے شوہر کی بجائے مجھے ہر رات دیکھنے کو ملتے۔۔۔۔“ بےباکی سے اس کا سرخ گال چھوکر مضبوط ترین لہجے میں کہتا ہوا وہ اس کے تن بدن میں آگ ہی تو لگا گیا تھا۔
”او جسٹ شٹ اپ یُو چیپ بلڈی مین۔۔۔۔۔۔۔“ اِس کھلی بدتمیزی پر کلستے ہوئے بےاختیار حسنہ کا ہاتھ ہوا میں بلند ہوا تھا،،جسے کیفی بروقت کلائی سے دبوچ کر مروڑتا ہوا اسی کی پشت سے لگا گیا۔
اجڑی نگاہوں کی سرخی بڑھی تھی۔
”آاا۔ہ۔۔۔۔“ مقابل کی حددرجہ نزدیکی پر نفرت سے سرخ پڑتی وہ کراہ کر رہ گئی۔
ایک عرصے بعد محسوس ہوتا لمس ناقابلِ برداشت ہی تو تھا۔
”ایسی غلطی،غلطی سے بھی مت کرنا حسنہ وقاص۔۔۔کیونکہ اب میں وہ کیفی نہیں رہا جو تمھاری محبتوں میں پاگل تھا۔۔۔بلکہ تمھارے دھوکے کی بدولت میں وہ وحشی انسان بن چکا ہوں جو تھپڑ کے جواب میں ہاتھ توڑ کر رکھ دیتا ہے۔۔۔“ اس کے چہرے پر پھنکارتا ہوا وہ دوسری کلائی بھی دبوچ کر اُس کی نازک کمر سے ٹکا چکا تھا۔
نتیجتاً بھیگتی آنکھوں کے سنگ مقابل کی مزید سخت ہوتی گرفت میں پھڑپھڑاتے ہوئے۔۔۔حسنہ کی سرخ پڑتی کلائیاں دکھنے لگیں۔
”کک۔۔کیفی!پاگل مت بنو چھوڑو مجھے۔۔۔اگر میرے شوہر یا تمھاری بیوی میں سے کسی ایک نے بھی ہمیں ایسی حالت میں یہاں دیکھ لیا تو یاد رکھنا۔۔۔ت۔۔تمھارا تو پتہ اس گھر سے کٹے گا ہی کٹے گا،ساتھ میں میری زندگی بھی برباد ہوجائے گی۔۔۔پلیز لیو می۔۔۔۔“ اس کی سانسوں کی گہری تپش برداشت نہ کرتے ہوئے وہ چہرہ موڑتی اذیت سے التجاء کررہی تھی۔
اس کے بہتے آنسوؤں کو دیکھتا وہ گہرا مسکرایا۔
”میں تو پہلے سے ہی برباد ہوں۔۔۔تم مجھے چھوڑ کر فقط اپنی فکر کرو،،،کیونکہ خاص تمھاری زندگی کو برباد کرنے کے لیے ہی تو میں یہاں تک آیا ہوں حسنہ ڈارلنگ۔۔۔بےحدقریب سے۔۔۔رفتہ رفتہ کرکے۔۔۔۔“ کیفی نے ذرا سا جھک کر اس کی سماعتوں میں سرگوشیانہ آواز میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا تو وہ بےساختہ سسک اٹھی۔
مقابل ہر لحاظ سے اُس کے لیے خطرہ ہی خطرہ تھا۔۔۔
”حسنہ۔۔۔۔۔؟؟؟“ معاً باہر لاؤنج میں گونجتی بھاری آواز نے جہاں کیفی کو چونکایا تھا۔۔۔۔وہیں فق ہوتے رنگ کے ساتھ حسنہ وقاص کی جان پر بنی۔۔۔
بلاشبہ پکارتی ہوئی وہ آواز بذاتِ خود زیدان عالم درانی کی تھی۔۔۔۔
بھلا وہ کب جاگا تھا۔۔۔؟؟؟
”ہاااہ۔۔۔ہ۔۔۔ز۔۔زیدان۔۔زیدان۔۔۔آگئے۔۔۔۔“ قدرے بوکھلا کر زیرِ لب بڑبڑاتی ہوئی حسنہ فرار ہونے کو بےآواز مچلی تھی،،،
مگر مقابل چھوڑتا تب ناں۔۔۔۔!!!
”اففف۔۔۔یہ خوف۔۔۔یہ آنسو۔۔۔یہ اذیت۔۔۔یہ بےبسی۔۔۔یہ تڑپ یہی۔۔۔یہی سب کچھ تو بےحدقریب سے دیکھنے کا خواہشمند تھا میں۔۔۔لیکن اصل مزے کی بات پتا ہے کیا ہے۔۔۔؟؟تمھیں اندر تک ہلا دینے والا یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک میں چاہوں گا۔۔۔۔۔“ مدھم تمسخر اڑاتے لہجے میں بولتا ہوا کیفی اُس کی سانسیں آخری حد تک خشک کرگیا تھا۔
”حسنہ۔۔۔وہاں کچن میں تم ہو کیا۔۔۔۔۔؟؟؟“ الجھ کر پوچھتے ہوئے زیدان کی بوجھل سی بھاری آواز ایک بار پھر سے لاؤنج کا سکوت توڑ گئی تھی۔
جواباً حسنہ نے خوف سے پھیلتی نم نگاہوں سے کیفی کی زہر خند مسکراہٹ دیکھی۔۔۔
کچن کی جانب بڑھتے قدموں کی چاپ پر اب کہ دل بند ہونے کو تھا،،،جب اچانک کیفی اُس کی کلائیاں چھوڑتا پیچھے ہوا۔۔۔۔
ورنہ کافی حد تک ممکن تھا کہ وہ صدمے سے بےہوش ہوجاتی۔۔۔۔
”ز۔۔زیدان۔۔۔۔۔“ معاً ہوش میں آتے ہی وہ بآواز بلند جواب دیتی ہوئی بجلی کی تیزی سے کچن سے باہر بھاگی تھی۔
پیچھے وہ شیلف کے ساتھ لگتا تمسخرانہ سر جھٹک کر رہ گیا۔
حیلے بہانوں سے پلوں میں خود سے مطمئن کرتی ہوئی حسنہ اپنے شوہر کو واپس کمرے میں لے جا چکی تھی۔
راستہ صاف ہوتے ہی۔۔۔تن چکے چہرے پر ہاتھ پھیرتا فائق خود بھی کچن سے باہر نکلا تھا۔۔۔لیکن اچانک سماعتوں سے صاف ٹکراتی کھانسنے کی مدھم آواز نے اُسے رک کر پلٹنے پر مجبور کیا تھا۔
بلاشبہ کچن کی دیوار کے اُس پار کوئی اور بھی پوشیدہ طور پر موجود تھا۔۔۔۔
مگر کون۔۔۔؟؟؟
دبے دبے قدم اٹھاتا کیفی جہاں تجسس و پریشانی سے آگے بڑھا تھا۔۔۔وہیں دیوار کے ساتھ لگ کر نیچے بیٹھا وہ ننھا وجود اپنے گلاب لبوں پر جمے دونوں ہاتھوں کی گرفت مزیدسخت کرگیا۔
”حمزہ۔۔۔۔۔!!!!“ آہستگی سے اُس کے سر پر پہنچ کر فائق درید کے سختی سے پھڑپھڑاتے لب اُس بچے کو بری طرح سہمنے پر مجبور کرگئے تھے۔
”ڈیڈا۔۔۔۔۔۔۔“ وہ بےاختیار اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔
اُس کا گھبرایا چہرہ تندہی سے گھورتے ہوئے کیفی سرعت سے اُس کے مقابل پنجوں کے بل بیٹھا تھا۔
اِس پہر حمزہ کب۔۔کیوں۔۔کیسے یہاں پہنچا تھا؟؟وہ نہیں جانتا تھا لیکن اُس کے تاثرات صاف صاف واضح کررہے تھے کہ وہ چھپ کر سب کچھ دیکھ چکا تھا۔۔۔وہ سب کچھ جوکہ اُسے بالکل بھی دیکھنا نہیں چاہیے تھا۔۔۔۔
”تو پھر کیا کیا دیکھا میرے لٹل بوائے نے۔۔۔ہہمم۔۔۔۔؟؟؟؟“ نرمی سے کندھوں سے تھام کر پوچھتے ہوئے سرد لہجہ سرسراتا ہوا سا تھا۔
جواباً حمزہ نے آنکھیں مزید پھیلاتے ہوئے اپنا خشک حلق تر کیا۔
وہ اِس وقت اپنی شخصیت سے ہٹ کر قدرے الگ ہی نظر آرہا تھا۔
حفصہ بیگم سے ڈھیروں کہانیاں سننے کے باوجود بھی وہ اُن کے پاس وہ والی گہری نیند نہیں سو پایا تھا،جو زلیخا کے ساتھ سوتے ہوئے اُس کو پُرسکون کرجاتی تھی۔
اور یہی وجہ تھی کہ آنکھ کھلتے ہی وہ اپنی نانی اماں کو بےخبری میں چھوڑ کر ماں کے کمرے کی جانب لپکا تھا۔مگر پھر عین موقعے پر اپنے نئے ڈیڈا کو کچن میں گھستا دیکھ وہ بھی بےاختیار ہوکر کھکھلاتا ہوا اُس کے پیچھے چلا آیا تھا۔
مگر حسنہ اور فائق کے مابین ہونے والی ایک ایک بات جو اُس کی چونکتی آنکھوں نے دیکھی اور ٹھٹھکتی سماعتوں نے سنی تھی وہ یقیناً حمزہ کے اوسان خطا کرنے کو کافی تھی۔
”میں نے آپ کو ممانی جان سے بہت گندا سلوک کرتے دیکھا ہے۔۔۔یو آر ناٹ آ گڈ مین ڈیڈا۔۔۔۔یو آر ناٹ۔۔۔۔۔“ مضبوط گرفت میں ہونے کے باوجود بھی ہمت کرکے بولتا وہ سات سالہ بچہ فائق درید کو گہرائی سے مسکرانے پر مجبور کرگیا تھا۔
”یس۔۔۔۔یس ایم ناٹ۔۔۔تو کیا تم یہ سب کچھ اپنی مومی کو بتاؤ گے۔۔۔۔؟؟؟“ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھتے ہوئے اُسکی آواز ضبط تلے ہنوز مدھم تھی۔
حمزہ نے سادگی سے پلکیں جھپکائیں۔
”یس آفکورس۔۔بتاؤں گا۔۔۔۔“ سراثبات میں ہلاتے ہوئے وہ بولا۔۔۔تو کیفی نے بےاختیار دانت پر دانت جماتے ہوئے اُسے بازوؤں سے دبوچا۔۔۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے اُسے قدموں سے اونچا اٹھاتا ہوا دیوار سے چسپاں کرگیا۔
”آاائییییی۔۔۔نو ڈیڈا نو۔۔۔۔پلیز مجھے نیچے اتاریں۔۔۔اِٹس ہرٹنگ۔۔۔۔۔“ فق ہوتے رنگ کے ساتھ شدت سے ملتجی ہوتا حمزہ۔۔۔روہانسا ہوکر اپنے ڈھیلے پیروں کو ہلانے لگا تھا۔۔۔جب اگلے ہی پل اُس کو سختی سے دیوار میں جھٹکا دیتا وہ غرایا۔
”چپ۔۔۔۔ایکدم چپ۔۔۔تمھاری آواز نہ نکلے اب حلق سے۔۔۔۔“ سرخ آنکھیں نکالتے ہوئے کیفی کی سفاکی بڑھی تھی۔
نتیجتاً حدردجہ خائف ہوچکے حمزہ کو ایک دم سے چپی لگی تھی۔
پھٹی پھٹی آنکھیں تیزی سے بھیگی تھیں۔
”میری بات غور سے سنو بچے۔۔۔جو کچھ بھی آج تم نے یہاں دیکھا یا سنا ہے،،،اگر اِس بارے میں تم نے اپنی مومی یا پھر کسی ایک کو بھی بتانے کی کوشش کی۔۔۔ تو یاد رکھنا میں تمھارا اور تمھاری سوئیٹ مومی کا بالکل وہی حال کروں گا جو ٹیکن تھری گیم میں جِن کازاما اپنے کمپیٹیٹرز کا کرتا ہے۔۔۔بہت برا حال۔۔۔جانتے ہو ناں کیسے مار مار کے جان سے ہی مار ڈالتا ہے۔۔۔!!میں بھی بالکل ایسا ہی کروں گا۔۔تمھارے ساتھ۔۔۔تمھاری پیاری مومی کے ساتھ۔۔۔۔۔“ قدرے ٹھہرٹھہر کر زہر اگلتا کیفی پلوں میں اُس کے معصوم دل و دماغ میں اپنا اچھا خاصا ڈر بیٹھاگیا تھا۔ حمزہ کے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔
مدھم جلتی روشنیوں میں ہراساں ہوکر اُس کا تنا چہرہ تکتے ہوئے۔۔۔حمزہ کو وہ واقعی میں جِن کازاما ہی لگا تھا۔
ظالم۔۔۔سفاک۔۔۔خطرناک۔۔۔۔
بیسٹ فرینڈ تو کہیں بھی نہیں تھا جو ہمیشہ مسکرا کر نرمی سے بات کیا کرتا تھا۔
”تو بولو پھر۔۔۔۔بتاؤں گے اب کسی کو کچھ بھی۔۔ہوں۔۔۔؟؟؟“ اُس سہمے بچے کے دکھتے بازوؤں کی پرواہ کیے بنا وہ اچھے سے کنفرم کرنا چاہ رہا تھا۔
”ن۔۔نو ڈیڈاااا۔۔۔میں کسی کو بھی نہیں بتاؤں گا۔۔۔ک۔۔کبھی بھی نہیں بتاؤں گا۔۔۔۔۔“ زوروں سے نفی میں سر ہلاتے ہوئے جہاں حمزہ کی آواز بھیگ گئی تھی۔۔۔وہیں اُس کے لرزتے جواب سے اندر تک مطمئن ہوتے ہوئے کیفی کے لب کمینی مسکراہٹ میں ڈھل گئے۔
اگلے ہی پل سفاکی سے مدھم ہنسی ہنستا ہوا وہ حمزہ کو نرمی سے نیچے اتارگیا۔۔۔تو اپنی دھندلائی آنکھیں مسلتا ہوا وہ بجلی کی سی تیزی سے وہاں سے بھاگ نکلا۔۔۔۔
فائق درید کی چمکتی انگارہ نگاہوں نے اُسے واپس سے اپنی نانی اماں کے کمرے میں گم ہوتے دیکھا تھا۔۔۔۔
ابھی تو فی الحال یہ آغاز تھا۔۔۔۔ نجانے آگے وہ کس کس کے ساتھ کیا کچھ کرنے والا تھا۔۔۔۔؟؟؟؟
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
گزرتے ہوئے روز و شب۔۔وقت کو اپنے سنگ تیزی سےآگے کی جانب دھکیلتے چلے جارہے تھے۔
بیت چکے اِس ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں جہاں کتنوں کی ہی زندگیوں میں خوشنما رنگ گھلے تھے۔۔۔وہیں کچھ کو اپنا آپ حالات کی گہری مار تلے اب خاصا بےرنگ سا لگنے لگا تھا۔
خیر جو بھی تھا۔۔۔مگر یہ بات تو یقینی تھی کہ،،،رمیض عالم درانی کی دلفریب سنگت میں اب حیا وقاص اپنے قدرے پُرسکون پل جینے لگی تھی۔
بھیگے آنسوؤں کی جگہ شرماتی،کھلکھلاتی مسکراہٹوں نے لے لی تھی۔
دونوں کے مابین رشتہ بہتر ہونے کے فوری بعد نہ صرف اُن کا سادگی سے ولیمہ ہوا تھا۔۔۔بلکہ وہ شخص اُسے ہفتے بھر کے لیے اپنے ساتھ ترکی کے رومینٹک سے وزٹ پر بھی لے گیا تھا۔
دھڑکتے دل کے ساتھ مقابل کا وجیہہ چہرہ بغور تکتے ہوئے حیا کے ہلکے نارنجی لب ہولے سے مسکرائے۔۔۔
مضبوط اعتبار کے سنگ مخلص محبتوں کی گہری آنچ میں کٹھن زندگی ایکدم سے ہی بدل کر کتنی خوبصورت۔۔۔کتنی مکمل سی ہوگئی تھی ناں۔۔۔
وہ اِس وقت رمیض عالم درانی کے ساتھ اُس کے ریسٹورنٹ کے کچن میں موجود تھی،،،اور ملے ہوئے چیلنج کو پورا کرنے کی خاطر ابھی ابھی ٹرپل لئیر کا مدھم بھاپ اڑاتا چیزی سینڈوچ بنا کر اُس کے سامنے پیش کرچکی تھی۔
رمیض خود بھی اُس کے یہاں آنے سے پہلے ہی آج کا شارٹ مینیو بناکر فارغ ہوچکا تھا۔اور اب فورک نائف (کانٹا چھڑی) کی مدد سے سامنے رکھے چیزی سینڈوچ کو بڑی ہی سنجیدگی سے چکھ رہا تھا۔
ایسے میں بلیوجینز پر گرے شرٹ پہنے اُس کی وجاہت مزید نکھر چکی تھی۔
اوپر سے کشادہ پیشانی پر آئے سیاہ بال۔۔۔اففف۔۔۔۔
حیا نے آہستگی سے پلکیں جھپکائیں۔
”تو پھر بتائیے مسٹر شیف۔۔۔!!کیسا لگا میرے ہاتھ سے بنے اِس چیزی سینڈوچ کا ٹیسٹ۔۔۔۔؟؟؟؟“ ٹھوڑی تلے مٹھی ٹکاتی وہ کھلکھلا کر گویا ہوئی،،،تو سینڈوچ کی ایک اور بائٹ چباتے ہوئے رمیض نے گہری نگاہوں سے اُس کی جانب دیکھا۔
گہرے نارنجی رنگ سوٹ پرسفید ایپرن کے ساتھ،،،اُسی کی ہم رنگ شیف کیپ پہنے۔۔۔وہ اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ سیدھا اُس کے دھڑکتے دل میں اتر رہی تھی۔
رمیض سے اپنے تاثرات سپاٹ رکھنا مشکل ہونے لگا۔
بلاشبہ گزرتے دنوں کے سنگ وہ لڑکی اُس کے لیے دلچسپ سے دلچسپ ہوتی چلی جارہی تھی۔
”اوں ہوں۔۔۔۔کچھ سواد نہیں ہے اِس میں۔۔۔ایکدم ٹیسٹ لیس۔۔۔۔“ معاً فورک کو پٹخنے کے انداز میں واپس پلیٹ میں رکھتا وہ حیا کو قدرے چونک کر دلکش مسکراہٹ سمیٹنے پر مجبور کرگیا۔
”مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے حیا رمیض عالم درانی کہ۔۔۔کراچی شہر کے مشہور ماسٹر شیف کی بیوی ہوتے ہوئے بھی تم کوکنگ کے معاملے میں بالکل فیل ہو۔۔۔ایکدم گول زیرو۔۔۔ہار گئیں تم اپنا چیلنج۔۔۔۔“ انگوٹھے تلے پیشانی مسل کر قدرے تاسف زدہ لہجے میں جتاتے ہوئے۔۔۔اُس شخص کی اداکاری اِس پل قابلِ دید ہی تو تھی۔۔۔
جبکہ اُس کے سپاٹ چہرے کو اداس ہوتی نگاہوں سے تکتے ہوئے حیا کا دھڑکتا دل ڈوب کر ابھرا۔
سوچا نہیں تھا کہ اتنی محنت کے باوجود صورت سے اچھا بھلا بنا یہ ٹرپل لئیر چیزی سینڈوچ،،،ذائقے میں اِس قدر خراب نکل آئے لگا۔۔۔کہ مقابل بنا لحاظ کے منہ پر ہی کھڑی کھڑی سنادے گا۔۔۔
”کیا واقعی میں،میں فیل ہوگئی ہوں۔۔۔؟؟؟اتنا خراب ٹیسٹ ہے اِس چیزی سینڈوچ کا۔۔۔۔۔؟؟؟“ مدھم پھیکی آواز میں۔۔پلکیں جھپکا جھپکا کر حیرت سے پوچھتی وہ مقابل کی ہارٹ بیٹ مس کرگئی تھی۔
”ہہمم۔۔۔۔بہت خراب۔۔۔بہت سے بھی ذیادہ۔۔۔یوناؤ واٹ ریسٹورنٹس میں لانا تو بہت دور کی بات ہے،اسے تو کوئی لوکل ڈھاپوں میں بھی لاکر کھانا پسند نہیں کرے گا۔۔۔۔“ معاً انگلیوں کی پشت سے پل بھر کو اُس کا مدھم گلابی گال سہلاتا وہ بڑے اعتماد سے اُس کے سارے بھرم توڑ گیا تھا۔
گدگداتے لمس پر ضبط کرتی حیا بے اختیار نچلا لب کچلتی ہوئی ایک قدم پیچھے ہٹی۔
پھر منہ بسورتے ہوئے شیف کیپ سر سے اتار کر شیلف پر پٹخ دی۔۔۔تو اُس کے تیور چمکتی نگاہوں سے تکتے ہوئے رمیض نے اپنی امڈتی مسکراہٹ دبانے کو سختی سے لب بھینچے۔
کس قدر معصوم تھی ناں وہ جو بنا کچھ گہرائی سے جانے پرکھے فوری اُس کے جھوٹ پر یقین کرگئی تھی۔۔۔
”م۔۔میں پھوہڑ قسم کی لڑکی قطعی نہیں ہوں یہ بات آپ بھی اچھے سے جانتے ہیں۔۔۔مجھے صرف گھریلو کوکنگ آتی ہے۔۔آپ کی طرح یہ ریسٹورنٹس والی آفیشیل نہیں۔۔۔ بس اسی لیے۔۔اسی لیے میں آپ کا دیا ہوا یہ چیلنج ہار گئی ہوں ورنہ زیرو کی بجائے پورے سو نمبروں سے جیت کر دکھاتی میں آپ کو۔۔ہاں۔۔۔مگر اب یہاں رکنے کا کوئی فائدہ تو ہے نہیں سو جارہی ہوں میں یہاں سے۔۔۔۔“ اپنی غیرمتوقع ہار پر اچھی خاصی برہم ہوتی اب کہ وہ وہاں سے جانے کے لیے جلدی جلدی ایپرن کے ربن کھولنے لگی۔۔۔تو رمیض نے بےاختیار آگے بڑھ کر اُسے بازو سے تھامتے ہوئے اپنے قریب کھینچا۔
”رمیض۔۔۔۔۔!!!“ نتیجتاً جھٹکے سے قریب ترین ہوتی وہ قدرے چونک کر اُس کے چوڑے سینے پر اپنی ہتھیلیاں جمائی گئی۔
دل بےاختیار دھڑک اٹھا تھا۔۔۔
”یہاں سے جانے کی اتنی بھی کیا جلدی ہے جاناں۔۔۔؟؟پہلے حقیقت تو جان لو۔۔۔دراصل۔۔تمھیں چھیڑنے کے لیے محض چھوٹا سا مذاق کر رہا تھا میں۔۔۔۔“ مدھم شیریں لہجے میں ہنس کر کہتا ہوا وہ پورے استحقاق سے حیا کی نازک کمر کے گرد اپنے بازؤ حمائل کرگیا۔۔۔تو اُس کی غیرمتوقع بےباکی پر وہ صاف گڑبڑائی۔
یہ تو اِس اسٹائلش سے کشادہ کچن کے دروازے اچھے سے لاکڈ تھے۔۔۔ورنہ وہ پرائیویسی پسند بندہ اتنا مطمئن ہوکر کبھی بھی یوں صاف گستاخیوں پر نہ اترتا۔۔۔
”م۔۔مذاق تھا۔۔۔۔؟؟؟“ مقابل کی خمار زدہ ہوتی نگاہوں میں جھانکتے ہوئے حیا کے پنکھڑی لب بمشکل پھڑپھڑائے۔۔۔
اس دوران کمر پر سرسراتی ہوئی اُس کی مردانہ انگلیاں بڑی آہستگی سے ایپرن کےکھلے ربن باندھ رہی تھیں۔
دھیمے سےمسکراتے ہوئے وہ سرکو ہولے سے جنبش دے گیا۔
”گھریلو کوکنگ ہی سہی۔۔۔۔ مگرتمھارے کومل ہاتھوں کا ذائقہ باکمال ہے بیوی ٹرسٹ می۔۔۔چیزی سینڈوچ واقعی میں بہت ٹیسٹی بنا ہے۔۔۔ بالکل تمھاری وقتی چڑچڑاہٹ جیسا تیکھا۔۔۔بہکاتی محبتوں جیسا لذیذ ترین۔۔۔ویل ڈن مائے لٹل لیڈی شیف۔۔۔۔“ اپنے مخصوص لب و لہجے میں قدرے ٹھہر ٹھہر کر بتاتے ہوئے رمیض عالم درانی نے آخرمیں بےساختہ آنکھ دبائی تھی۔
اُس کی جانب حیرت سے تکتی حیا کو اُس کی یہ شوخ ادا قدرے دلکش سی لگی۔
”آپ۔۔آپ سچ کہہ رہے ہیں ناں۔۔۔۔؟؟؟“ مردانہ کلون کی دلفریب مہک محسوس کرتی ہوئی وہ۔۔منتشر ہوتی دھڑکنوں کے سنگ اب کہ ذرا چہک کر پوچھ رہی تھی۔
تو یعنی اُسکی دو گھنٹوں کی محنت بالکل بھی رائیگاں نہیں گئی تھی۔۔۔یہ سوچ کر ہی اندر تک سکون اترا تھا۔
”ہوں ہوں۔۔بالکل سچ۔۔۔۔“ نرمی سے اپنے کہے کی تصدیق کرتا ہوا جہاں وہ اگلے ہی لمحے اُس کے گھنے بالوں کو کیچر کی کَسی ہوئی قید سے رہائی دلوا چکا تھا۔۔۔وہیں مقابل کی بڑھتی جرات پر حیا وقاص کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد سنساہٹ سی دوڑ گئی۔
شاید وہ جانتی تھی کہ آگے وہ اشتیاقاً کیا کرنے والا تھا۔۔۔؟؟
معاً رمیض نے نرمی سے اُس کے سارے بالوں کو ایک سائیڈ پر آگے کی جانب لاتے ہوئے۔۔۔جھک کر اُن کی دل لبھاتی،خوشگوار مہک اپنے اندر اتاری۔۔۔تو مدھم مسکراہٹ کے سنگ آنکھیں موند کر کھولتے ہوئے حیا کا تنفس پل میں بگڑا۔
دھڑکنوں کا شور بڑھنے لگا تھا۔
”ی۔۔یہاں پر رومینٹک ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے آپکو مسٹر شیف۔۔۔مت بھولیں کہ یہ ہمارے گھرکا پرسنل کچن نہیں۔۔۔ بلکہ ریسٹورنٹ کا آفیشیل ک۔۔کچن ہے۔۔۔تو ذرا ہوش سے کام لیجیے۔۔پ۔۔پلیز۔۔۔۔۔“ اس کی مضبوط گرفت سے نکلنے کی کمزور کوشش کرتی وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہکلاہٹ کا شکار ہوئی تھی۔
”مجھے پرواہ نہیں۔۔۔۔۔“ جواباً اُس کا ہاتھ تھام کر رمیض نے نرمی سے اپنی گھنی بئیرڈ پر رگڑا۔
ہچکچا کر اُس کے وجیہہ نقوش کو دیکھتے ہوئے۔۔حیا کے گلابی گالوں میں تیزی سے سرخیاں گھلتی چلی گئیں۔
بھلا کون کہہ سکتا تھا کہ چوبیس سو گھنٹے ماتھے پر بل ڈال کر رکھنے والا وہ سخت۔۔اکڑو شخص اِس قدر رومانوی مزاج کا بھی ہوسکتا تھا۔۔۔۔۔
مگر تھا تو فقط اُسی کے لیے ناں۔۔۔
سوچتے ہوئے بےاختیار حیا کی مدھم بوکھلاہٹ میں سرشاری سی پھیلی تھی۔
”مگر مجھے ہے۔۔۔۔اگر کوئی آگیا تو۔۔۔۔؟؟؟“ اُس کی بڑھتی منمانیوں کے آگے بےبس ہوتے ہوئے اُس نے اپنے تئیں مقابل کو ڈرانے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی تھی۔
جبکہ اُس کی معصوم سی چالاکی پر رمیض عالم درانی کے لبوں کی پرسکون مسکراہٹ مزید گہری ہوئی۔
اپنی قربتوں کے سبب وہ اُسے شرماتی،ہچکچاتی ہوئی۔۔قدرے بےبس سی۔۔بےحد حسین لگتی تھی۔۔۔
اِس قدر حسین کہ وہ رفتہ رفتہ اپنا ناسور ماضی بھولنے لگا تھا۔۔۔۔
”فکر نہ کرو میرے ہوتے ہوئےکوئی بھی دور دور تک مداخلت کرنے کی حماقت نہیں کرے گا۔۔۔سو تمھیں اردگرد کو چھوڑ کرصرف اپنے شوہر کے جذباتوں کی پرواہ کرنی چاہیے بیوی۔۔۔۔۔“ بھاری لہجے میں سنجیدگی سے کہتے ہوئے اُس نے بے اختیار شہادت کی انگلی سے حیا کا تیکھا ناک چھوا۔۔۔تو ناچاہتے ہوئے بھی حیا کے لبوں پر خوبصورت سی مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی۔
”اور آپ کو اِس وقت انٹرنیشنل کوکنگ کمپیٹیشن کی تیاریوں پر فل آن فوکس کرنا چاہیے شیف صاحب۔۔۔۔یاد رکھیے کہ استنبول شہر جانے کو بس کچھ ہی دن باقی بچے ہیں۔۔۔۔۔۔“ بےساختہ اُس کے دھڑکتے سینے پر نازک سا مکا مارتی ہوئی وہ اُس کی ڈھٹائی کے آگے بےبس ہی تو ہوئی تھی۔
رمیض نے سر کو دھیرے سے جنبش دیتے ہوئے اُس کی مخروطی انگلیوں میں اپنی انگلیاں پھنسائیں۔پھر ہاتھ کی سفید پشت پر مدھم سا سلگتا لمس چھوڑتے ہوئے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔جو مزید سرخ ہوتی بمشکل اپنے قدموں پر جم کر کھڑی تھی۔
”میرے ساتھ تم بھی ترکی چلی چلو ناں۔۔۔۔اگر جو میں شیف آف دی ائیر کا ایوارڈ وِن کر بھی گیا تو رومینٹک سے کینڈل لائٹ ڈنر میں ہم دونوں مل کر اس جیت کی خوشی سی سیلیبریٹ کریں گے۔۔۔کیا کہتی ہو پھر۔۔۔؟؟؟“ سیاہ نگاہوں میں بڑھتی چمک کے سنگ پل میں پلین بناتے ہوئے وہ حیا کو شدت سے ٹھٹھکاگیا۔
ترکی جانے کے لیے اُس کی خود کی تیاریاں تو زوروں پر تھیں۔۔۔۔اور ویسے بھی یہ وہ سنہری موقع تھا جس کے لیے وہ کافی عرصے سے منتظر تھا۔۔۔
اور یہ رمیض عالم درانی کی خوش قسمتی ہی تو تھی جو انٹرنیشنل کوکنگ کمپیٹشن کے لیے۔۔۔دیگر ممالک کے مشہورشیفز کی طرح اُس کی بھی سلیکشن ہوچکی تھی۔
”اوہوں۔۔۔۔میں دوسری بار آپکے ساتھ ترکی نہیں جانا چاہتی۔۔۔۔اور یہ تو بالکل بھی نہیں چاہوں گی کہ اتنے اہم موقعے پر میری موجودگی رتی بھربھی آپکا دھیان بھٹکائے۔۔۔اس لیے آپ اکیلے ہی جائیے گا جناب اور جلد جیت کر واپس لوٹیے گا۔۔۔۔“ فوراً سے انکاری ہوتی حیا کے تاثرات تیزی سے بدلے تھے۔۔۔جس پر خاص غور کیے بنا وہ محض بھنویں اچکا کر رہ گیا۔
”اور اگر میں ہار کر واپس لوٹا تو۔۔۔۔؟؟؟“ انگلیوں پر دباؤ دے کر پوچھتا وہ پھر سے غیرسنجیدہ ہواتھا۔
جواباً حیا نے دھیرے سے سرنفی میں ہلاتے ہوئے اپنا گلال چہرہ ذرا قریب کیا۔پھر شدتوں سے دھڑکتے دل کے سنگ ہمت کرتی ہوئی اُسکی سماعت کے نزدیک ترین ہوئی۔
”ایسا نہیں ہوگا کیونکہ مجھے یقین ہے۔۔۔بہت جلد رومینٹک سے کینڈل لائٹ ڈنر میں ہم مل کر آپ کی جیت کی خوشی سیلیبریٹ کریں گے۔۔ٹرسٹ می رمیض عالم درانی۔۔۔۔۔“ گہرے سرگوشیانہ لہجے میں بولتی ہوئی حیا وقاص جہاں اگلے ہی پل مسکرا کر اُس کے کسرتی کندھے پر مان سے سر ٹکاگئی تھی۔۔۔وہیں رمیض عالم درانی سرشاری سے اُس کا نازک وجود اپنی مضبوط بانہوں میں بھرتا ہوا سکون سے آنکھیں موند گیا۔۔۔
اِس خوبصورت حقیقت سے قدرے انجان کہ اپنی کوکھ میں ننھی سی جان پالتی اُس کی بیوی۔۔ترکی سے واپس لوٹنے پر اُسے باپ بننے کی خوشخبری سنانے کا پکا ارادہ کرچکی تھی۔۔۔۔
ایسے میں آنے والے سنگین ترین لمحات نے اِن پنپتے ہوئے ارادوں پر بڑی ہی سفاکی سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔۔