No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
”میں رمیض عالم درانی۔۔۔اپنے پورے ہوش و حواس میں تمھیں طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔
طلاق دیتا ہوں۔۔۔۔“ درشتگی سے بولتا وہ اگلے ہی پل طلاق کے سائن شدہ پیپرز اسکے منہ پر اچھال چکا تھا۔
ہلکے نارنجی رنگ آسمان کی بلندیوں کو چھوتا پی۔آئی۔اے کا جہاز۔۔۔جہاں اپنی رواں رفتار کے ساتھ راہ میں حائل ہوتے بادلوں کو اندھا دھند چیڑتا چلا جارہا تھا۔۔۔وہیں گزشتہ رات کا منظرتیزی سے ذہن کے سیاہ پردے پر لہراتا اسے سختی سے مٹھیاں بھینچنے پر مجبور کرگیا۔
”ت۔۔تم۔۔۔؟؟؟“ جواباً وہ ساکت نگاہوں سے اسکا ضبط سے لال چہرہ دیکھ کر رہ گئی۔
فقط چند پل لگے تھے اسکی حیرت میں خوشگواریت کو گھلنے میں۔
”تم سچ بول رہے ہو ناں رومی۔۔۔؟؟؟و۔۔ویٹ آ سیکنڈ ہاں۔۔۔اوہ۔۔اوہ مائے گاڈ۔۔۔۔“ فٹافٹ سے پیپرز کو جھک کر اٹھاتی وہ اپنی تسلی ہونے پر شدت سے کھلکھلائی۔
چوبیس سو گھنٹے اسکی محبت میں دم بھرنے والا وہ شخص یوں ایک جھٹکے میں اسکی بے جا من مانیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دے گا۔۔یہ تو اس نے اپنے وہم و گمان میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔
جبکہ۔۔۔اسکے خوبصورت چہرے پر بکھری مسکراہٹیں مقابل کو سخت ترین اذیت سے دوچارکرتی چلی گئیں۔
بند آنکھوں کو مزید میچتے ہوئے جہاں اسنے اپنا سر پیچھے سیٹ پر ہولے سے پٹخا تھا۔۔وہیں یادوں کے بھنور میں ہنوز ڈانواں ڈول ہوتے ہوئے اس کا دل نئےسرے سے جلنے لگا۔
”یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں تمھاری محبت میں شدت سے پاگل تھا پھر بھی۔۔۔پھربھی تم نے ایک غیرمرد کی خاطر اپنے شوہر سے بےوفائی کی۔۔۔اپنی خودغرضی تلے ہمارے مضبوط رشتے کو پوری طرح سے بکھیر کے رکھ دیا تم نے روز۔۔۔۔کس لیے۔۔؟؟صرف اسی لیے ناں کہ وہ مجھ سے ذیادہ دولتمند تھا۔۔۔۔؟؟؟“ یک دم سے اسکے قریب آتا وہ سرد لہجے میں پھنکارا۔۔۔۔
سرسراتا انداز صاف شکایت کرتا ہوا ہی تو تھا۔
پیپرز سے نگاہیں اٹھا کر اسکی لہورنگ آنکھوں میں جھانکتی روزینہ کی ریڑھ کی ہڈی میں بےاختیار سرد سنساہٹ سی دوڑگئی۔
”مت بھولو رومی کہ یہ میری زندگی ہے اور اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنے کی خاصی قابلیت ہے مجھ میں۔۔۔یہ تمھارا پاکستان نہیں ہے جہاں مرد عورتوں پر اپنی مرضی کے فیصلے مسلط کرکے انکا جینا حرام کرتے پھریں گے۔۔۔یہ امریکہ ہے سویٹ ہارٹ۔۔۔یہاں عورتوں کو اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی مکمل آزادی حاصل ہے۔۔۔اور میں یہ حق ضائع کرنے کی بجائے اچھے سے استعمال میں لانا چاہتی ہوں۔۔۔سنا تم نے۔۔۔؟؟؟“ سنبھل کر اس بار خالصتاً انگریزی میں بولتی وہ حددرجہ تلخ ہوئی۔۔۔۔تو اسکی اس قدر سنگدلی پر اب کہ اسکا خود کا ضبط بھی ٹوٹنے لگا۔
معاً پشت پر ٹکے ہاتھوں میں سے ایک کو۔۔۔قدرے پھرتی سے اسکی نازک کمر کے گرد کستا وہ اگلے ہی پل اسے شدت سے اپنی جانب کھینچ چکا تھا۔
جھٹکے سے اسکے مضبوط سینے سے لگتی روزینہ کی دھڑکنیں اسکے سخت لمس پر بےہنگم ہوئیں۔
وجود میں دھنستی انگلیوں پر بھی اس نے خود کو چھڑوانے کی رتی بھر کوشش نہیں کی تھی۔
اس دوران طلاق کے پیپرز ہنوز اسکی گرفت میں تھے۔
”میں تمھیں وفا کی دیوی سمجھتا رہا روز لیکن صد افسوس تم تو دولت کی خالص پجارن نکلی۔۔۔ایسی پجارن جو معصوم جانوں کو نوچ کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتی۔۔۔۔“ دھیمی سلگتی آواز اس کی سماعتوں میں گھولتا وہ اب کہ دوسرا بازو بھی اسکے گرد مضبوطی سے حمائل کرگیا۔
قدرے قریب سے اسکے وجیہہ نقوش تکتی روزینہ کی نگاہوں میں ناچاہتے ہوئے بھی خمار کی گلابیت سی گھلنے لگی۔
بلاشبہ۔۔وہ شاندار مرد اسکے موجودہ بوائے فرینڈ کی بانسبت۔۔۔اسکا دل شدتوں سے دھڑکانے کی صلاحیت ذیادہ رکھتا تھا۔
”جانتی ہو۔۔؟؟حقیقی محبت کا اولین تقاضا سراسر وفا پر منحصر ہوتاہے۔۔۔لیکن جہاں وفا ہی نہ ہو۔۔پھر وہ محبتیں درحقیقت محبتیں نہیں بلکہ ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بن جاتی ہیں۔۔۔۔“ کہتے ہوئے معاً اپنا دایاں ہاتھ دھیرے سے اوپر کو سرکاتا وہ اسکی شفاف گردن تک لایا۔۔۔تو اس کے ارادوں سے بےخبر روزینہ ناچاہتے ہوئے بھی اسکی دلفریب قربت میں پگھلنے سی لگی۔
”ایسا ناقابل برداشت بوجھ جو محض دھوکے۔۔۔فریب۔۔۔بےوفائی کی یاد دلاتا ہے۔۔۔اور میرے نزدیک بےوفائی کرنے والوں کو زندہ جینے کا کوئی حق نہیں ہے۔۔۔۔“ پھنکار کر بولتا وہ یک دم سے اسکی گردن دبوچ چکا تھا۔۔۔جب اس اچانک افتاد پر ہڑبڑا کر ہوش میں آتی روزینہ کو۔۔۔باریک گلف تلے اپنی گردن پر شدت سے گھٹن کا احساس ہوا۔
تو یعنی وہ اس کے خلاف جانلیوا منصوبہ بندی کرکے یہاں آیا تھا۔۔۔؟؟
”چھ۔۔چھوڑو مجھے۔۔۔رومی۔۔۔آر یو میڈ۔۔۔۔؟؟؟“ طلاق کے پیپرز فرش پر پھینکتی وہ اپنا آپ چھڑوانے کی ناکام کوشش میں گھٹا گھٹا سا چیخی تھی۔
جواب میں ان سنی کرتا وہ اس پر اپنی گرفت مزید سخت کرگیا۔۔تو اسکی سرخ بھیگی آنکھیں باہر کو ابلنے لگی۔
حلق میں اٹکتی سانسوں پر روزینہ کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ پڑنے لگا تھا۔
”ر۔۔رومی پلیز۔۔۔م۔۔میری سانس۔۔۔۔یو بلڈی۔۔باسٹرڈ۔۔۔ لیو۔۔می۔۔۔۔پ۔۔لی۔۔ز۔۔۔۔“ شدت سے چیخنے کی ناکام کوشش میں آنسو اسکے گالوں پر لڑھک آئے۔۔۔ پر مقابل اسکے چند نازک مکوں کو اپنے چوڑے سینے پر برداشت کرتا۔۔اس پل رحم کھانے کے موڈ میں قطعی نہیں تھا۔
”جب میری خود کی ذاتی چیز۔۔میری ہی دسترس سے باہر ہوجائے ناں ڈارلنگ۔۔۔تو پھر میں اسے کسی غیر کی دسترس میں رہنے کے بھی قابل نہیں چھوڑتا۔۔۔۔“ اسکی پل پل غیر ہوتی حالت پر وہ صاف پھنکارا۔
”پ۔۔پل۔۔پلیز۔۔۔چ۔۔۔چھوڑ۔۔۔رو۔۔می۔۔۔“ اسکے شدت سے تڑپتے وجود سے جان نکلتی چلی جارہی تھی۔
مگر وہاں کوئی پرواہ رہی۔۔ہی کب تھی بھلا۔۔۔۔؟؟؟
گزرتے ہوئے ان بدترین پلوں کے سنگ۔۔۔اب کہ اس کی مزاحمت دھیرے دھیرے دم توڑنے لگی۔۔۔جب یک دم سماعتوں سے ٹکراتی فکرمندآواز پر اسکا وحشتوں تلے سن ہوتا دماغ بری طرح چونک سا گیا۔
”سر۔۔۔سرآر یو لیسنگ می۔۔۔؟؟؟؟“ قدرے قریب سے آتی شاید وہ کوئی نسوانی سی پکارتھی۔
شدت سے بےچین ہوتے۔۔اس کی آنکھیں ہنوز بند تھیں۔
”سر۔۔۔۔؟؟؟آریو اوکے۔۔۔؟؟اِف یو آر۔۔۔۔دین پلیز اوپن یور آئیز۔۔۔ سر۔۔۔؟؟“ معاً کسی کے نرمی سے کندھا جھنجھوڑنے پر وہ کچھ بوکھلا کر آنکھیں کھول گیا۔۔۔پھرقدرے حیرت سے اپنے مقابل سیدھی کھڑی ہوتی ائیر ہوسٹس کو دیکھ کر۔۔۔بےاختیار اطراف میں سرخ نم نگاہیں دوڑائیں۔۔
جہاز کی دیگر سیٹوں پر پرسکون ہوکر بیٹھے مسافروں میں سے اس پل کوئی بھی اسکی جانب متوجہ نہیں تھا۔
ہاں۔۔۔ہاں اسکی بےسکون کرتی سوچوں کے برعکس سب کچھ نارمل تھا۔۔۔بلکل درست تھا۔۔۔
”سرآپ ٹھیک تو ہیں۔۔۔۔اگر آپکو۔۔۔۔“ اسکے چہرے پر آئے پسینے کو کچھ حیرت سے دیکھتی وہ تشویش زدہ سی پوچھ رہی تھی۔۔جب وہ اسکی جانب دیکھ کر بات کاٹتا تیزی سے بول پڑا۔
”ی۔۔یس۔۔۔ایم فائن۔۔۔پراپرلی فائن۔۔۔آپکو میرے لیے خوامخواہ میں پریشان ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔“ ضبط سے سرخ ہورہے چہرے پر ہاتھ پھیر کر پسینہ صاف کرتا وہ خود کو کافی حد تک سنبھال چکا تھا۔
اس دوران اسکی سرخ ہورہی۔۔۔ گہری سیاہ نگاہوں میں ناچتی وحشت ائیرہوسٹس سے مخفی نہیں رہ پائی تھی۔۔۔
جبھی اسکے نپے تلے انداز پر لب بھینچتی وہ بمشکل مسکرائی۔۔۔پھر اثبات میں سر ہلا کر مجبوراً اسے اسکے حال پر چھوڑتی ہوئی دوسرے مسافروں کی جانب بڑھ گئی۔
پہلے سے ہی کیے جاچکے انتظامات کے سبب وہ امریکہ کو ہمیشہ کے لیے خیرباد تو کہہ چکا تھا۔۔۔۔
لیکن اپنا سکون۔۔۔
محبت۔۔۔
نرمی۔۔۔
اطمینان۔۔سب کچھ وہیں پر چھوڑ آیا تھا۔
معاً اسنے شدتوں سے دھڑکتے دل پر ہاتھ جماکر۔۔بگڑ چکے تنفس پر قابو پاتے ہوئے ایک طویل۔۔ گہرا سانس بھرا تھا۔
اس دوران آنکھوں میں تیزی سے ابھرتی نمی کو پلکیں جھپکا جھپکا کر اندر اتارنے کی ناکام کوشش میں جو اگلا خیال اسکے ذہن کو شدت سے چھو کر گزرا تھا۔۔۔وہ خود کے قاتل نہ ہونے کا تھا۔
ہاں۔۔۔ہاں وہ اس قابلِ نفرت عورت کو ٹوٹتی سانسوں پر بےدردی سے پرے دھکا دیتا اس کا سر شدید زخمی کرچکا تھا۔۔۔
ناچاہتےہوئے بھی اسے آخری سانسوں پر زندہ چھوڑ آیا تھا۔۔۔جو بذاتِ خود۔۔اسکے اس دنیا میں آنے والے بچے کی قاتلہ رہ چکی تھی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”میں سرعام یہ اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے تم سے بےپناہ محبت ہے حسنہ وقاص۔۔۔۔“ اس خوبصورت لڑکی کے سامنے ایک گٹھنے کے بل جھک کر بآواز بلند اقرار کرتے ہوئے جہاں اس نے سرخ مخملی ڈبیا کھول کر آگے کی تھی۔۔۔وہیں اطراف میں کھڑے یونی کے کئی سٹوڈنٹس کے چہروں پر شوخ مسکراہٹیں بکھرتی چلی گئیں۔۔۔تو کچھ حسد کی آگ میں اندر ہی اندر جل بھن سے گئے۔
”کیا تم مجھ سے شادی کرکے میری اس محبت کا جواب محبت میں دینا پسند کرو گی۔۔۔۔؟؟“ مزید پوچھتا ہوا وہ بڑی محبت سے اس کی بےتاثر نگاہوں میں دیکھ رہا تھا۔
”نہیں۔۔۔۔۔“ معاً یک لفظی جواب دیتی وہ بڑی سہولت سے اسے انکارکرگئی تو اسکے سپاٹ لہجے پرکیفی سمیت تقریباً سبھی کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
”نہیں۔۔۔؟؟کیا ت۔۔۔تم مجھ سے مزاق کررہی ہو۔۔۔۔؟؟میں اس پل بہت سنجیدہ ہوں یار۔۔۔۔“ یقین نہ کرتا ہوا وہ بےچینی سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
حسنہ وقاص نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے قدرے بےزاریت سے گہرا سانس بھرا۔
”اور میں اپنی پوری زندگی کو لے کر سنجیدہ ہوں۔۔۔۔بے حد سنجیدہ۔۔۔۔اس لیے تم سے شادی تو دور۔۔۔محبت تک کرنے کی روادار نہیں ٹھہر سکتی۔۔۔۔۔“ دوبدو جواب دیتی وہ کھلے عام اس کی تذلیل کرگئی تھی۔
اپنے یاروں سمیت آس پاس کھڑے سٹوڈنٹس کی چہ مگوئیوں پر۔۔۔کیفی نے غصے سے گولڈ رِنگ کی مخملی ڈبیہ بند کرتے ہوئے مٹھی میں بھینچ لی۔
وہ تو یونی کے ان آخری دنوں میں پرپوز کرکے اسے خوبصورت سا سرپرائز دینا چاہ رہا تھا مگر مقابل کھڑی وہ لڑکی اس کے جذباتوں کی یوں بےدردی سے توہین کرے گی اس نے توقع ہی کہاں کی تھی بھلا۔۔۔؟؟
”انففف از انفف حسنہ وقاص۔۔۔۔۔یہ کیا بکواس کررہی ہو تم۔۔۔۔؟؟اورکس کے دباؤ میں آکر یہ سب کر رہی ہو۔۔ہوں۔۔۔؟؟جواب دو مجھے۔۔۔۔“ سرد لہجے میں پوچھتا ہوا وہ اسے بےاختیار بازو سے دبوچ کر اپنے قریب کرچکا تھا۔
اسکے بدلے رنگ ڈھنگ سب کچھ عیاں کررہے تھے۔۔
”کیفی۔۔۔کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔؟؟چھوڑو مجھے۔۔۔“ اسکی سرعام گستاخی پر حسنہ نے تلملا کر دور ہونے کی ناکام کوشش کی تو وہ جھٹکا دیتا اپنی گرفت اس پر مزید سخت کرگیا۔
اس دوران پل پل اٹھتے ہنگامے کو تکتے ہوئے بہت سوں کی آنکھوں میں تجسس ملا تمسخر چمک رہا تھا۔
”چھوڑ دوں۔۔۔؟؟سریسلی حسنہ وقاص۔۔۔؟؟چھ ماہ۔۔پورے چھ ماہ تک میرے دل میں اپنی محبتیں بساکر اب کہہ رہی ہو کہ چھوڑ دوں تمھیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔۔“ ضد میں آتا کسی بھی صورت اس سے دستبردار ہونے کو راضی نہیں تھا۔۔۔جبکہ اس کھلے سچ پر حسنہ پل بھر کو چپ ہوئی۔
ہاں یہ سچ تھا کہ وہ مقابل کی پرسنالٹی سے وقتی متاثر ہوکر خود اس کے قریب گئی تھی۔۔۔
اس کے ساتھ دوستی میں پہل کرنے والی بھی وہ بذاتِ خود تھی۔۔۔
مگر اس حد تک سنجیدہ تو ہرگز نہیں تھی کہ گینگسٹر باپ کی امیر،بگڑی ہوئی اولاد کے ساتھ زندگی بھر کے لیے اپنا فیوچر سیٹ کرتی۔دشمنی کی آڑ میں جانے کب کوئی قتل کرجاتا۔۔۔
”تم پاگل ہوچکے ہو کیفی۔۔۔مکمل پاگل۔۔۔اور یہ کن محبتوں کی بات کررہے ہو تم آخر۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟میں نے تو مرکر بھی کبھی تم سے یہ بات نہیں کہی کہ مجھے تم سے محبت ہے۔۔۔محض دوستی کو محبت سمجھنے کی بےوقوفی تم نے کی ہے سو اب بھگتو۔۔۔۔“ چلاکر بولتی ہوئی وہ اپنا درد کرتا بازو بلاآخر اس سے چھڑوا ہی چکی تھی۔
اِس شخص کے ساتھ شاپنگیں کرنا۔۔۔مویز دیکھنا۔۔۔لنچ کرنا۔۔۔تنہائی میں ایک حد تک رہ کر دوچار میٹھی میٹھی باتیں کرنا حسنہ وقاص کا پسندیدہ مشغلہ ضرور ہوسکتا تھا۔۔۔مگر محبت کرنا قطعی نہیں۔۔۔
اور وجہ صاف تھی۔۔۔
وہ اپنا بےقابو دل شدتوں سے کسی اور مرد پر ہار بیٹھی تھی۔
جبکہ اسکے سخت الفاظ کیفی کا دل چیڑ گئے۔۔
”ہاں نہیں کہا۔۔۔بےشک نہیں کہا لیکن۔۔۔یہ بھی مت بھولو کہ محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہواکرتی۔۔۔۔اور تم نے اپنے ہر ہر عمل سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ تم بھی مجھے بےپناہ چاہتی ہو۔۔۔۔جتنا کہ میں تمھیں۔۔۔۔“ اب کی بار ضبط کھوتا وہ بھی اس پر شہادت کی انگلی اٹھائے چیخا تھا۔
”پلیز فضول باتیں مت کرو تم۔۔۔۔اور ہٹو اب آگے سے۔۔۔۔“ مقابل کے سخت تیوروں پر برہم ہوتی اب کہ وہ اپنی جان چھڑوانے کو تھی۔
مگر وہ اتنی آسانی سے چھوڑتا تب ناں۔۔۔
”فضول تو میری عادتیں ہوا کرتی تھیں۔۔۔جنھیں چھڑاونے والی تم ہو۔۔۔۔اب میری ذات کو بدل کر تم یوں فرار نہیں ہو سکتیں حسنہ۔۔۔میں تم سے شدید ترین محبت۔۔۔۔“ بلاجھجک اسکے رخسار کو مضبوطی سے تھام کر انگوٹھے سے سہلاتا وہ جذباتی سا بولتا چلا جارہا تھا جب اس کی بےباک حرکت کو برداشت نہ کرتے ہوئے حسنہ نے درشتگی سے اسکا ہاتھ پرے جھٹکا۔
”چٹااااخ۔۔۔۔۔۔۔“ اگلے ہی پل اس کا ہاتھ اٹھا تھا اور پوری شدت سے کیفی کے گال پر اپنا نشان چھوڑ گیا۔
نتیجتاً کیفی سمیت تماشہ دیکھتے افراد کی آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں۔
”مل گیا محبت کا جواب۔۔۔؟؟؟یہی اوقات ہے تمھاری میرے نزدیک۔۔۔اور آگے بھی یہی رہے گی۔۔۔سمجھے تم۔۔۔اب دوبارہ میرے سامنے آنے یا مجھے چھونے کی کوشش بھی کی ناں تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔یاد رکھنا۔۔۔“ مقابل کی بے یقینی کو شدید غصے میں بدلتا دیکھ وہ مدھم لرزتے لہجے میں قدرے نفرت سے غراتی۔۔مزید وہاں رکی نہیں تھی بلکہ نم آنکھوں کے سنگ سرخ چہرہ لیے تندہی کے ساتھ وہاں سے نکلتی چلی گئی۔
معاً فاصلے پر کھڑے کیفی کے دوست باقی سبھی سٹوڈنٹس کو ڈانٹ ڈپٹ کر جلدی جلدی یونی کے اس ایریا سے بھگانے لگے تھے۔
ایسے میں کیفی نے حسنہ کو بجلی کی سی تیزی سے سرخ نگاہوں کے ساتھ اوجھل ہوتا دیکھ بمشکل خود پر ضبط کیا تھا۔پھر مٹھی میں بھینچی مخملی ڈبیہ کو قدرے غصے سے زمین پر دے مارا۔
ایک ایک کرکے اپنی کلاسوں کی جانب نکلتے سٹوڈنٹس کی جانب سے رخ پلٹتے ہوئے۔۔۔اس کا چہرہ اہانت کے شدید احساس تلے تپ چکا تھا۔
تبھی شیبی نے پاس آتے ہوئے نیچے گری سرخ ڈبیہ اٹھائی۔
”یار برو ٹینشن مت لے تُو۔۔۔۔ہم تیرے ساتھ ہیں۔۔۔۔تُو بس ایک بار آرڈر کر اور پھر دیکھ۔۔۔ہم راتوں رات اس بےوفا لڑکی کو اٹھا کر تیرے فارم ہاؤس میں لے آتے ہیں۔۔۔پھر تُو جان اور تیرا انتقام جانے۔۔۔“ کندھے پر ہاتھ جماتا وہ کیفی کو حوصلہ دیتا ہوا بولا۔۔۔تو بالوں کو مٹھی میں دبوچے اس نے شد و مد سے نفی میں سر ہلایا۔
”میں ایسے بچگانہ داؤ کھیلنے کا عادی بالکل بھی نہیں ہوں۔۔۔صحیح وقت آنے پر اِس بدترین ذلت کا انتقام تو میں حسنہ وقاص سے ضرور لوں گا۔۔۔اور بڑی گہرائی سے لوں گا۔۔۔مگر اپنے طریقے سے۔۔۔“ تن بدن میں لگی آگ کو برداشت کرتے ہوئے کیفی کا سنسناتا دماغ اس پل بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہوا تھا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”ہمارے دیدہ تر کو محبت ہوگئی تم سے
کسی گہرے سمندر کو محبت ہوگئی تم سے
بھلے وہ چاندنی شب ہویا فصلِ گل کی رنگینی
میرے ہر ایک منظر کو محبت ہوگئی تم سے؛
خدا جانےکہ اس شغل کا اب انجام کیا ہوگا؟
دلِ ناشاد و مضطر کو محبت ہو گئی تم سے
نہیں جاتی،تمھارے قرب کی خوشبو نہیں جاتی
میرےاجڑے ہوئے گھرکومحبت ہوگئی تم سے؛
کسی صورت بھی اب یہ اشک تھم نہیں سکتے
میری آنکھوں کےساگر کومحبت ہوگئی تم سے“
اس وقت پُھرتی سے چلتی پین کی نیلی نوک ڈائری کے شفاف صفحے کو اس کے شوقیہ لفظوں سے بھرتی چلی جارہی تھی۔
اختتام ہونے پر اس نے آخر میں عادتاً
”ایچ۔زیڈ“ لکھا تھا۔
پھر موجودہ تاریخ لکھتے ڈائری بند کردی اور بیڈ سے اتر کر ڈریسنگ ٹیبل تک چلی آئی۔
آئینے کے ٹھیک سامنے رکتے حیا وقاص نے بےاختیار اپنا عکس بغور دیکھا تھا۔
سفید اور ہلکے افروزی کنٹراسٹ کے شلوار قمیض پر ہم رنگ شفون کا دوپٹہ اس پل اسکی سفید رنگت کو مزید نکھار رہا تھا۔
”سنو تم خوبصورت ہو مگر مجھےتمھاری حد سے ذیادہ سادگی اتنا اٹریکٹ نہیں کرپاتی۔۔۔۔“ معاً سماعتوں میں شور مچاتی بھاری آواز اسکے دل کی دھڑکنیں کم کرگئی تھی۔۔۔
”جلد ہی ہماری شادی ہونے والی ہے رائٹ۔۔۔اور یہ کوئی معمولی بات ہرگز نہیں ہے۔۔۔سو پلیز یار بدلو خود کو۔۔۔اپنے آپ کو پورا پورا میری پسند کےمطابق ڈھالنے کی کوشش کرو تم۔۔۔۔“ بلاشبہ زیدان عالم درانی کا لہجہ اُس پل نرمی لیے ہوئے تھا مگر اس سے ٹپکتی بےزاریت حقیقتاً چونکا دینے والی تھی۔
نم پڑتی آنکھوں کے سنگ اپنے عکس کو آہستگی سے چھوتے ہوئے حیا نے گہرا سانس بھرا۔
”توآپ کیا چاہتے ہیں۔۔۔؟؟کیا کروں میں۔۔۔۔؟؟؟“ دھیمے لہجے میں وہ کچھ پریشان سی جھجک کر اپنے بچپن کے منگیتر سے اسکی مرضی پوچھ رہی تھی۔۔۔جو شادی کی تاریخ پکی ہوجانے پر چند میٹھے بول بولنے کی بجائے اسے اپنی ایک الگ ہی غیرمتوقع سی داستاں سمجھانا چاہ رہا تھا۔۔
معاً حیا نے سینے پر پڑا دوپٹہ اتار کر سامنے ڈریسنگ پر رکھا۔ساتھ ہی ہلکے نم بال کیچر سے آزاد کرتے ہوئے آہستگی سے کندھوں پربکھردئیے۔
”میں چاہتا ہوں کہ تم میرے معیار کے مطابق اٹریکٹو بنو۔۔۔کچھ حد تک بولڈ۔۔۔شوخ چلچل سی لڑکی۔۔۔دل دھڑکا دینے والی ادائیں۔۔لُک اپناؤ کہ میں شدتوں سے تمھاری طرف کھینچا چلا آؤں۔۔۔تم سمجھ رہی ہو ناں جو میں تمھیں سمجھانا چاہ رہا ہوں۔۔۔یہ نائنٹیز کی بےکار ہیروئنز کی طرح بات بات پر شرمانا جھجکنا۔۔۔ایکسٹرا پردہ داری۔۔۔اففف آئی رئیلی ہیٹ اِٹ یار۔۔۔“ روانگی سے بولتا ہوا وہ اسے اسکی طبعیت سے ہٹ کر ایک الگ ہی قسم کی لڑکی بننے پر مجبور کررہا تھا۔
حیا نے لب بھینچ کر ڈریسنگ ٹیبل سے ڈیپ ریڈ کلر کی لپ اسٹک اٹھا کر اپنے پنکھری لبوں پر لگائی تھی۔
ہاں یہ سچ تھا کہ وہ اپنی چھوٹی بہن کے برعکس ایک سادہ مزاج۔۔۔دبو سی لڑکی تھی۔۔۔لیکن اس بار معاملہ گہرا تھا۔۔۔
محبت کا معاملہ۔۔۔
تو پھر کیسے نہ ہامی بھرتی۔۔؟؟
”آ۔۔آپ فکر نہیں کریں زیدان۔۔۔میں اپنی پوری کوشش کروں گی کہ آپکے ہر تقاضے پر پورا اتر سکوں۔۔۔“ اپنے آس پاس بکھرتی خود کی ہی مضبوط آواز حیا وقاص کو بےبسی تلے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔
کئی سالوں بعد لندن سے واپس لوٹنے کے بعد زیدان عالم درانی جہاں بڑے اچھے سے اپنے بابا کا بزنس سنبھالنے میں کامیاب ٹھہرا تھا۔۔وہیں اپنی سوچ اور پسند کے معاملے میں بھی بہت ذیادہ بدل چکا تھا۔
اس قدر ذیادہ کے حیا وقاص کی ذات کا ہلکان ہونا تو طے تھا۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
