No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
”زیدان عالم درانی حسنہ وقاص کے ساتھ انوالو ہے۔۔۔؟؟یہ کیا بکواس کر رہا ہے تُو شیبی۔۔۔؟وہ تو خود چند دنوں میں اُس کی بڑی بہن سے شادی رچانے والا ہے پھر بھلا ایسا کیسے ممکن ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟“ ریڈ وائن کا گلاس ٹیبل پر پٹختا وہ حیرت زدہ سا فون پر پوچھ رہا تھا۔
کافی دن پہلے یونیورسٹی میں سب کے سامنے ہوئی اپنی بےعزتی پر کیفی نے اسی روز اپنے جگری دوست شیبی کو حسنہ پرنظر رکھنے کا بول دیا تھا۔
لیکن اب جو بات اسے پتہ چل رہی تھی وہ حقیقتاً اسے جھٹکا دے گئی تھی۔
”شادی کر تو رہا ہے یار۔۔۔مگر میں نے اُس حسنہ بی بی کی ساری ہسٹری کھنگال لی ہے۔۔وہ اپنے ہونے والے بہنوئی کے سنگ خفیہ طور پر کئی بار رومینٹک ڈیٹیں مار چکی ہے۔۔۔ثبوت کے طور پر ان کی فوٹیج بھی بھیج دی ہیں میں نے تجھے چیک کرلے۔۔۔۔“ دلجمعی سے بتاتا شیبی سب راز کھولتا جا رہا تھا۔
کیفی نے خراب ہوچکے دماغ کے ساتھ کال کاٹی۔
پھر سرخ آنکھوں سے آئی ہوئی تمام تصاویر کو ایک ایک کرکے دیکھنے لگا۔۔۔جو یقیناً چلتی ویڈیو سے لی گئی تھیں۔
وہ کوئی مہنگا سا ہوٹل تھا جہاں لگے خفیہ کیمروں نے ان دونوں کو ایک مکمل منظر میں قید کر لیا تھا۔
کیفی نے سختی سے لب بھینچ کر تصویر کو زوم کر کے دیکھا۔
کتنی خوش تھی ناں وہ مقابل مرد کے ہاتھوں میں اپنا نازک ہاتھ پھنسائے۔
بالکل ایسی ہی من مستیاں وہ اس کے ساتھ بھی تو کر چکی تھی۔۔۔
”سالی۔۔۔گالیاں۔۔۔##۔۔۔۔“ معاً جلتے دل کے ساتھ مغلفات بکتے ہوئے کیفی نے اپنا قیمتی موبائل فون غصے سے سامنے دیوار پر دے مارا۔
”میرا دل توڑنے کی پاداش میں،میں تمھیں ہی توڑ کر رکھ دوں گا حسنہ وقاص تم دیکھنا۔۔۔یہ میرا وعدہ رہا تم سے۔۔۔۔“ قطیعیت بھرے لہجے میں چیخ کر کہتا وہ اگلے ہی پل پاس پڑی وائن کا گلاس اٹھائے ایک ہی سانس میں چڑھا گیا تھا۔۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ سرمئی رنگت کا استری شدہ شلوار کُرتا بازو پر رکھے ہوئے تیزی سے حفصہ بیگم کے کمرے کی جانب لپکی تھی۔
”تائی جان۔۔۔؟؟یہ رمیض بھائی کے کپڑے میں نے استری کردئیے ہیں۔۔۔۔“ حفصہ بیگم جو کسی سے کال پر بات کرتی اپنے کمرے سے باہر نکل رہی تھیں،سامنے آکر رکتی حیا کے یوں مخاطب کرنے پرپل بھر کو چونکیں۔
پھر ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے اسے خود دے کر آنے کا بولنے لگیں۔
ان کی بات سمجھتے ہوئے حیا کے چہرے کا رنگ پھیکا پڑا تھا۔
”ت۔۔تائی جان۔۔۔۔“ حیا نے اپنے لیے راہِ فرار چاہی مگر بےسود۔۔۔۔
”جی بالکل بلقیس آپا۔۔۔رمیض کا بھی کچھ نہ کچھ سوچ ہی لیں گے ہم۔۔۔لیکن ابھی کے لیے تو ہماری تمام تر توجہ کا مرکز صرف اور صرف زیدان اور حیا کی ذات بنی ہوئی ہے۔۔۔“ کال پر ہنس کر جواب دیتی وہ اس کو نظرانداز کرتی ہوئی وہاں سے جا چکی تھیں۔۔
پیچھے حیا نے بددلی سے استری شدہ کپڑوں کو دیکھا۔
دوہرے رشتے طے ہوجانے کے باوجود بھی وہ اور حسنہ بآسانی اس گھر میں آجایا کرتی تھیں۔
مگر جب سے رمیض عالم درانی کی واپسی ہوئی تھی حیا اِدھر آنے سے ذرا کترانے سی لگی تھی۔
آج بھی وہ صبح سویرے تائی جان کے بلانے پر ہی یہاں آئی تھی۔۔۔
لیکن ملازمہ کی غیر موجودگی میں حفصہ بیگم نے موقعے کی مناسبت سے اس کو رمیض کے کپڑے استری کرنے کا بول دیا تھا۔
مرتی کیا نہ کرتی مصداق وہ جیسے تیسے کپڑے تو استری کرچکی تھی،مگر اب اُس شخص کے کمرے تک جانا اسے کسی عذاب سے کم نہیں لگ رہا تھا۔۔
”تو کیا اب مجھے یہ کپڑے دینے کے لیے اُس قاتل انسان کے بیڈ روم تک جانا پڑے گا۔۔۔؟؟؟اففف خدایا۔۔۔۔۔“ پریشانی میں خود سے ہی بڑبڑاتی ہوئی وہ شدتِ بےبسی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھی تھی۔
اپنی تائی جان کا کہا ٹالنا بھی تو اس کے لیے مشکل ترین تھا۔۔۔۔
سڑھیاں چڑھتے ہوئے حیا کے دل کی دھڑکنیں ناچاہتے ہوئے بھی سست ہوتی چلی جا رہی تھیں۔
تقریباً چھ سے سات دن ہونے کوآئے تھے اُس اکھڑ مزاج شخص کو امریکہ سے واپس پاکستان آئے ہوئے۔۔۔اور اسکی واپسی کی وجہ حقیقتاً رونگھٹے کھڑےکردینے والی تھی۔
اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو بےوفائی کے جرم میں مارکر آیا تھا اور۔۔۔اب امریکہ کبھی بھی واپس نہیں جاسکتا تھا۔
ان چند دنوں میں وہ دوپل کی محض دو ملاقاتوں میں ہی حیا کو خود سے بری طرح کترانے پر مجبور کرچکا تھا۔
معاًکمرے کے سامنے رکتی حیا نے سر جھٹکتے ہوئے اپنی تمام تر سوچوں کا تسلسل توڑا۔
پھر بمشکل تھوک نگلتے ہوئے۔۔ ہلکی سی دستک دے کر اگلے ہی پل دروازہ کھولتی اندر داخل ہوئی۔
وہ جو ماتھے پر تیوریاں چڑھائے،بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھا لیپ ٹاپ پر پاکستانی کھانوں کی نت نئی ریسپیز دیکھنے میں بری طرح غرق تھا،اس کے دھڑلے سے اندر آنے پر چونکتا ہوا سیدھا ہوا۔
”بھائی یہ آپکے کپڑے۔۔استری ہوچکے ہیں۔۔۔۔۔“ حیا خاصا جھجک کر بولتی ہوئی اس کے شلوارکُرتےکو آگے بڑھ کر بیڈ کی پائنتی پر پھیلا چکی تھی۔
رمیض نے کچھ ناگواریت سے حیا کو دیکھا جو بنا نظریں ملائے سپاٹ چہرے کے ساتھ واپس جانے کو پلٹی تھی۔
”سنو۔۔۔۔!!!“ اس کا بھاری لب و لہجے میں پیچھے سے مخاطب کرنا حیا کو وہیں سن کرگیا۔
ڈوبتے دل کے ساتھ وہ آہستگی سے اس کی جانب پلٹی تھی۔
”حیرت ہے ویسے۔۔۔امریکہ میں رہ کر میں آیا ہوں۔۔۔مگر سلام دعا کے آداب تم بھلا چکی ہو۔۔۔۔“ سنجیدگی سے بولتا ہوا وہ اس کی اخلاقیات پر گہرا طنز کرگیا تھا۔
اس کی بات پر حیا حلق تر کرتی ناچاہتے ہوئےبھی شرمندہ سی ہوگئی۔
”ا۔۔اسلام علیکم رمیض بھائی۔۔۔ایم سوری۔۔پر پتا نہیں کیسے دھیان نہیں رہا مجھے۔۔۔ورنہ تو میں لازماً سلام لیتی ہوں۔۔۔۔“ دبی آواز میں اپنی صفائی دیتے ہوئے اسے مقابل کی نگاہوں کی ناگوار سی تپش بہت کھل رہی تھی۔
”خیرجو بھی ہو۔۔۔مگر میرا اب تم پر واپس سلامتی بھیجنے کا کوئی موڈ نہیں ہے۔۔۔جاتے ہوئے دروازہ بند کرتی جانا۔۔۔۔“ اس کے گریز کی وجہ سمجھنے کی رتی برابر بھی کوشش نہ کرتے ہوئے وہ سنجیدہ لہجے میں حیا کی ٹھیک ٹھاک بےعزتی کرچکا تھا۔
جواباً حیا نے اہانت سے سرخ چہرہ لیے اس کی جانب حیرت سے دیکھا۔۔۔جو قدرے بے نیازی سے تیوری چڑھائے واپس لیپ ٹاپ اسکرین کی جانب متوجہ ہوچکا تھا۔
کون کہہ سکتا تھا کہ فرسٹ کزن ہونے کے ساتھ ساتھ وہ اسکا ہونے والا جیٹھ بھی تھا۔۔۔
خود کے غصے اور نفرت پر ضبط کرتی ہوئی حیا اگلے ہی پل وہاں سے پلٹتی تندہی کے ساتھ کمرے سے جاچکی تھی۔۔۔
جبکہ دھاڑ کی آواز کے ساتھ بند ہوتے دروازے پر رمیض کی پیشانی پر بل پڑے تھے۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ قریبی پارک سے جاگنگ کر کے واپس آیا تھا۔مگر پھر کچھ سوچ کر درانی ہاؤس جانے کی بجائے سیدھا ساتھ والے گھر میں گھس گیا۔
ان لاک گیٹ سے اندر آتے ہوئے اسے معلوم تھا کہ وقاص صاحب اس وقت اپنے کام پر جاچکے تھے۔
خالی لاؤنج میں آتے ہوئے زیدان کی متلاشی نگاہیں پل میں ہی اطراف کو کھنگال چکی تھیں۔
معاً سامنے کچن سے سنائی دیتی صاف کھٹ پٹ نے اسے آگے ہوکر اندر جھانکنے پر مجبور کیا تھا جہاں وہ بےنیاز سی خود کے لیے آملیٹ بنانے میں مصروف تھی۔
اس دوران لبوں سے پھوٹتی دھیمی اداس گنگناہٹ اسکی کام میں دلچسپی کو بخوبی ظاہرکررہی تھی۔
اگلے ہی پل وہ قدرے خراب موڈ کے ساتھ دبے قدموں کچن میں داخل ہوا۔
”ہاااااہ۔۔۔۔ہ۔۔۔۔“ حسنہ جو ادھ پکے آملیٹ کو جلدی سے پاس دھری پلیٹ میں ڈالتی چولہا بند کرنے کوتھی۔۔کسی کےکھینچ کر اپنی جانب موڑنے پر دبا سا چیخ اٹھی۔
سامنے ہی وہ ماتھے پر بل ڈالے قدرے برہمی سے اسے گھور رہا تھا۔
”ز۔۔زیدان۔۔۔کیا۔۔پاگل ہوگئے ہیں آپ۔۔۔؟؟پلیزچھوڑیں مجھے۔۔۔“ اسکی گرفت سے اپنا بازو چھڑوانے کی ناکام کوشش کرتی وہ ضبط سے غرائی۔۔۔
ساتھ ہی کچن کے مکمل کھلے دروازے کی جانب محتاط سی نگاہ دوڑائی کہ کہیں تائی جان کی طرف گئی حیا اچانک آہی نہ جائے۔۔۔
”تم یہ فضول کی مزاحمت کرنا چھوڑو اور مجھے یہ بتاؤ کہ کب ٹوٹے کی تمھاری یہ بلاوجہ کی اکڑ۔۔۔ہہممم۔۔۔۔؟؟؟یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ایسے اریٹیٹنگ اٹیٹیوڈ کا بالکل بھی عادی نہیں ہوں تو پھر مجھے ایسی اذیت دینے کی خاص وجہ۔۔۔؟؟؟“ اسے بازوؤں سے جھٹکا دے کر قریب کرتا وہ برہمی سے پوچھ رہا تھا۔
اس کی جانب دیکھتی حسنہ کو اسکے ساتھ ساتھ اب خود پر بھی غصہ آنے لگا۔
”فار گاڈ سیک زیدان۔۔۔تھوڑی عقل کریں اور دور ہٹیے مجھ سے پلیز۔۔۔اگر گھر والوں میں سے کسی ایک بھی فرد نے آپکو میرے ساتھ ایسی احمقانہ حرکتیں کرتے دیکھ لیا ناں تو آپکو بالکل بھی اندازہ نہیں اسکا انجام ہم دونوں کے حق میں کس قدر برا ہوسکتا ہے۔۔۔؟؟؟“ اسکے سینے پر دباؤ ڈال کر سمجھاتی ہوئی وہ اس ضدی شخص کو پیچھے دھکیلنے میں بڑی ناکام رہی تھی۔
”احمقانہ حرکتیں۔۔۔؟؟ہونہہ۔۔۔مجھ جیسے شاندار مرد کو اپنی محبت کے گہرے جال میں پھنساکر جتنا برا تم نے کردیا ہے ناں حسنہ بی بی!!!اسکے بعد مجھے اچھے برے کی قطعی کوئی پرواہ نہیں رہی۔۔۔اور میری اس ناقص ہوتی عقل کی ذمہ دار بھی صرف تم ہی ہو۔۔اسی لیے جو پوچھ رہا ہوں صرف اس کا جواب دو مجھے۔۔۔۔“ وہ اس سے بلاوجہ کا گریز برت رہی تھی یہ بات زیدان اچھے سے جانتا تھا جبھی بےباکی سے اسکی نازک کمر کو جکڑتا ہوا حسنہ کی دھڑکنوں میں اُدھم مچا گیا۔
قدرے قریب سے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے جہاں ایک کی آنکھوں میں خمار اترنے لگا تھا وہیں یہ بات سن کر دوسرے کے غصے کا گراف شدت سے بڑھتا چلا گیا۔
”آپکا یہ اعترافِ محبت اب میرے لیے سراسر بے معنی ہیں مسٹر زیدان عالم درانی۔۔۔؟؟؟مت بھولیں کہ دو دن بعد آپکی میری بڑی بہن سے شادی ہونے والی ہے۔۔اُس بہن سے جو بچپن سے ہی آپ کی منگ رہ چکی ہے۔۔۔جس میں آپ سمیت سبھی کی رضامندی شامل ہے۔۔۔تو پھر میں کیوں نہ اپنے قدم پیچھے لوں۔۔۔آپ جیسے دھوکےباز انسان سے کیوں گریز نہ برتوں۔۔۔ہاں۔۔۔؟؟“ تیزی سے بھیگتی آنکھوں کے ساتھ اس کی کالی شرٹ کا گریبان دبوچتی وہ پھٹ پڑی تھی۔
اُس دن کتنے آرام سے وہ سب کے سامنے شادی کی ہامی بھرتا اس کا دل توڑ گیا تھا ناں۔۔۔!!!
اور وہ سب کی موجودگی میں اسکا مسکراتا ہوا چہرہ شکوہ کناں۔۔نم نظروں سے تکنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر پائی تھی۔۔
اس کے ہاتھوں کی جرات پر گہری نگاہ ڈالتا زیدان ہولے سے مسکرایا۔پھر نظریں اٹھا کر اس کا ضبط سے سرخ چہرہ دیکھا۔
”دھوکےباز تو میں تب کہلاؤں گا ناں ڈارلنگ جب حقیقت میں تمھاری بڑی بہن سے شادی کروں گا۔۔۔۔ کیا معلوم اسکی جگہ میں تمھیں اپنی زندگی میں شامل کرکے اپنا کھویا سکون واپس پا لوں۔۔۔“ حسنہ کی کسمساتی کمر پر اپنی گرفت مزید سخت کرتا وہ اطمینان سے بولا تھا۔
اس کے اطمینان پر حسنہ پل بھر کو چونکی۔
کیا وہ سنجیدہ تھا۔۔۔۔؟؟؟
”فقط کہہ دینا بہت آسان بات ہے زیدان عالم درانی۔۔۔عملاً کرکے دکھانا بہت سے بھی ذیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔۔۔حیا آپی آپکی بچپن کی منگ ہیں۔۔۔سب کے خلاف جاکر اسکی جگہ بھلا میں کیسے لے سکتی ہوں۔۔۔۔؟؟؟“ آنسو بہاتی آنکھوں کے ساتھ ساتھ نم آواز میں بھی اداسی گھلی تھی۔۔
زیدان نے اس کی بےاعتباری پر سر کو ہولے سے جنبش دی۔
”وہ تو محض منگ ہے۔۔۔مگر تم۔۔۔تم میرا سکون میری محبت ہو حسنہ وقاص۔۔۔اور یہ محبت جلد ہی ہر شے پر بھاری پڑنے والی ہے۔۔۔۔۔“ جتنی نرمی سے زیدان نے آنسو صاف کرتے ہوئے اس کے رخسار کو تھاما تھا۔۔۔اتنی ہی مضبوطی اس کی آواز اور لہجے میں تھی۔
حسنہ وقاص نے تیز دھڑکنوں کے ساتھ ٹھٹک کر اس کی جانب دیکھا۔
مقابل کا عیاں ہوتا اعتماد۔۔۔
حددرجہ سنجیدگی۔۔۔
لہجے کی مضبوطی۔۔۔
اور من چاہا لمس۔۔۔کچھ بھی تو قابلِ فراموش نہیں تھا۔
”آپ۔۔۔کک۔۔کیا کرنے والے ہیں زیدان۔۔۔؟؟؟“ اس کے وجیہہ نقوش بےتابانہ تکتی وہ حیران ہوئی تھی۔
”تمھارے لیے کچھ بھی۔۔۔۔“ ایک دیوانگی سے کہتا جہاں وہ دلکشی سے مسکرایا تھا وہیں حسنہ وقاص تیزی سے ابھرتی روشن امیدوں کے سنگ فقط اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
