No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
”میں نہیں جانتی کہ میری خوشیوں کا حقیقی قاتل کون ہے بابا۔۔۔؟؟؟مگر آپ کا نہ پہلےمجھ پر یقین کرنا۔۔۔اور نہ ہی اب مجھے اعتبار کی کوئی ڈورتھمانا میری اِن اذیتوں کو دن بہ دن بڑھاوا دے رہا ہے۔۔۔کم از کم ایک بار۔۔۔ایک بار تو اپنی ساری خفگیاں مٹا کر مجھ پر بھروسہ کریں بابا۔۔۔بالکل اسی طرح جیسے اپنی چھوٹی بیٹی حسنہ پر کرتے ہیں۔۔اندھا دھند اعتبار۔۔۔۔“ بھیگی آنکھوں سے وائس میسج کرتی ہوئی وہ آج پھر اپنے باپ کے آگے شدتوں سے ملتجی تھی۔۔۔
مگر افسوس کہ اب وہ اس کے لیے اس قدر سخت دلی کا مظاہرہ کرنے لگے تھے۔۔۔کہ اُس سے بات تک کرنا بھی گوارا نہیں سمجھتے تھے۔
ہاں البتہ حیا کو یہ تسلی ضرور تھی کہ وہ اس کی تاسف زدہ۔۔۔بھیگتی عرضیوں کو وقت بے وقت ضرور سن لیا کرتے تھے۔۔۔۔
موبائل کی اسکرین بند کرتے ہوئے حیا نے ضبط کا گہرا سانس لیا۔۔۔پھرریلکس کرنے کو سرخ چہرے پر ہاتھ پھیرکر کمرے سے باہر نکل آئی۔۔۔
ہلکے مہندی رنگ شلوار قمیض کے سنگ کندھے پر ہم رنگ شفون کا دوپٹہ جمائے،،،اس کی کھلی رنگت دمک سی رہی تھی۔۔۔
بختو اس وقت دُھل چکے کپڑوں کو سکھانے کے لیے چھت پر گئی ہوئی تھی۔۔۔
اُس دن کی بدمزگی کے بعد سے اس کا خود چھت پر جانا تو تقریباً نہ ہونے کے برابر ہوچکا تھا۔۔۔
جبکہ رمیض زور کی طرح اس وقت بھی ریسٹورنٹ میں موجود تھا۔
حیا بالوں کا ڈھیلا جوڑا بناتی ہوئی سیدھا کچن میں گئی۔۔۔
پھرسست روی سے اپنے لیے چائے بنانے کے بعد وہ ہال میں موجود صوفے پر آکر بیٹھ گئی۔۔۔۔
ارادہ چائے پینے کے ساتھ ساتھ سامنے لگی ایل۔ای۔ڈی میں کوئی پروگرام لگا کر اپنا دھیان بٹانے کا تھا۔۔۔
اکثر بوریت۔۔اداسی میں وہ یہی سب تو کرتی تھی۔۔۔۔
چائے کے گھونٹ بھرتی حیا جہاں کچھ بھی پسند نہ آنے پر۔۔۔دوسرے ہاتھ سے ریمورٹ کے ذریعے چینل بدلتی ہوئی بےاختیار ٹام اینڈ جیڑی کارٹونز پر آکر تھمی تھی۔۔۔وہیں خلافِ معمول رمیض عالم درانی بھی اپنے دھیان میں دبے قدموں گھرمیں داخل ہوا۔
جیڑی کے جان بوجھ کر چھیڑنے پر ٹام کا پھرتیوں سے اس کے پیچھے بھاگنا حیا کے پنکھری لبوں پر ہولے سے مسکراہٹ بکھیرگیا تھا۔۔۔
ڈراموں فلموں سے ہٹ کر واحد یہ کارٹون اس کے لیے آل ٹائم فیورٹ رہے تھے۔۔۔
رمیض جینز کی جیب میں چابیاں پھنساتا ہوا لاؤنج میں آتے ہی چونک کر رکا۔
سامنے دیکھ کر۔۔۔گھنی بھنویں اچکاتے ہوئے اسکی گہری سیاہ آنکھوں میں خوشگوار سی حیرت ابھری تھی۔
تو یعنی اسکی بیوی بچگانہ کارٹونز دیکھنے کی بھی شوقین تھی۔۔۔۔!!!
اگلے ہی پل وہ چلتا ہوا اس کی پشت پر آرکا۔۔۔۔
مگرحیا اس کی موجودگی سے ہنوز انجان چوکڑی مارے۔۔بڑے ہی انہماک سے کارٹونز دیکھ رہی تھی۔۔۔جہاں اب ٹام کا اپنی نخریلی۔۔۔محبوبہ بلی کو پٹانے کا دلچسپ سین شروع ہوچکا تھا۔۔۔۔
اس دوران چائے کا آخری طویل گھونٹ بھرتے اس نے کپ سامنے ٹیبل پر رکھا تھا۔
”چھوٹی بچی ہو کیا۔۔۔؟؟؟“ چلتی اسکرین سے مسکراتی نگاہیں ہٹاتا وہ بظاہر سرد لہجے میں پوچھ رہا تھا۔۔۔جب پشت سے آتی بھاری آواز پر ہڑبڑا کر پلٹتی حیا نے حیرت سے اس کا وجیہہ چہرہ دیکھا۔۔
پھر کندھے سے اتر چکے دوپٹے کو جلدی سے خود پر پھیلا کر لیتی ہوئی سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔
”نہیں تو۔۔۔باشعور،شادی شدہ لڑکی ہوں۔۔۔“ ریموٹ پکڑ کر والیوم اونچا کرتی ہوئی وہ اپنے شوہر کا طنز اچھے سے سمجھ گئی تھی۔
”اگر اتنی ہی باشعور ہو تو پھر یہ بچگانہ کارٹونز کیوں دیکھ رہی ہو؟؟؟ٹام اینڈ جیڑی۔۔۔سریسلی۔۔۔؟؟؟“ اسکے سر کے دائیں بائیں صوفے کی پشت پر ہاتھ ٹکاتا وہ ذرا جھک کر مذاق اڑاتے لہجے میں بول رہا تھا۔۔۔
حیا بخوبی جانتی تھی کہ وہ کارٹون سیریز سے شروع سے ہی الرجک تھا۔۔۔
”تو کیا رومینٹک فلمیں دیکھوں۔۔۔؟؟؟“ ذرا تپ کر پوچھتی ہوئی جہاں وہ اسے زچ کرنے کو ڈھٹائی سے مزید والیوم بڑھاگئی تھی۔۔۔وہیں رمیض کی مسکراہٹ بےساختہ گہری ہوئی۔
”دیکھنے میں ویسے کوئی حرج بھی نہیں ہے بیوی۔۔۔۔“ بھاری۔۔ شریر لب و لہجے کہتا ہوا وہ اسکی طرف حددرجہ جھکا۔۔۔تو براہِ راست کان کی لُو پر پڑتی اُسکی گرم سانسیں، حیا کی دھڑکنیں شدت سے اتھل پتھل کرگئیں۔
معاً وہ اُسکی غیرمتوقع نزدیکی پر قدرے بوکھلاتی ہوئی۔۔۔بدک کر صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔پھر حیرت سے اس کی جانب پلٹی۔۔۔
”ہاں تو۔۔۔ کارٹونز دیکھنے میں کیا حرج ہے۔۔۔؟؟؟بلی چوہے والے ہی سہی،لیکن ان میں بھی رومینٹک سینز کی کمی نہیں ہے۔۔۔۔“ گہری ہوتی سانسوں کے ساتھ آنکھیں پھیلا کر لرزتا احتجاج کرتے ہوئے۔۔۔اگلے ہی پل دونوں کی نگاہیں بیک وقت چلتی اسکرین پر پڑیں تھیں۔۔۔
ٹام بلا اپنی نخریلی محبوبہ کے ساتھ بڑی نفاست سے ڈانس کے اسٹیپ لیتا ہوا سرشار سا دکھائی دے رہا تھا۔
اگلے ہی پل اس نے سفید رنگت کی بلی کو لچکیلی کمر سے پکڑ کر ہوا میں انتہائی اونچا اچھالتے ہوئے واپس اپنی بانہوں میں تھاما۔۔تو رمیض نے سینے پر بازو باندھتے ہوئے بھنویں اچکا کر حیا کا ضبط سے گلابی پڑتا چہرہ دیکھا۔۔۔
”واہ کیا خوب رومینس ہے۔۔۔اگر جوکبھی میں نے تمھیں اِس بلے کی مانند اتنی دور ہوا میں اچھالا تو میری بانہوں میں واپس آتے آتے تم یقیناً اپنے حواس کھوچکی ہو گی محترمہ۔۔۔۔بہتر ہے کہ بچگانہ عادتیں چھوڑ کر اب کچھ عقلمندی کا مظاہرہ کرو۔۔۔۔“ رمیض تاسف سے سر ہلاکر لطیف سا طنز کرتا ہوا حیا کو اپنی بات سے مزید سرخ کرگیا۔
پھرسرجھٹکتا ہوا فریش ہونے کو اپنے روم کی جانب بڑھا۔۔۔تو حیا نے نازک مٹھیاں بھینچ کر کھولیں۔۔
”آ۔۔۔آپ مجھ سے اتنا فری ہونے کی کوشش کیوں کررہے ہیں رمیض صاحب۔۔۔؟؟؟یقین کریں یہ غیرسنجیدگی آپ پر رتی برابر بھی نہیں جچ رہی۔۔۔۔“ اس کی پشت کو گھورتی ہوئی وہ لرزتی دھڑکنوں پر قابو پاتی قدرے تیکھی آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
اب بھلا وہ کیوں بلاوجہ ہی اپنی بتائی گئی حدود پار کرنے کی ناکام کوششوں میں تھا۔۔۔۔
جواباً رمیض عالم درانی اشتیاقاً اس کی جانب پلٹا۔
قریب آتے ہوئے گہری سنجیدہ نگاہیں اسی کے بےچین سے۔۔دلکش نقوش پر مرکوز تھیں۔
”مانتا ہوں کہ تم شروع سے ہی میری شدید سنجیدگی،سرد پن اور بےرخی کو جھیلتی آئی ہو۔۔۔مگر اب میرا نظریہ تمھیں لے کر بہت حد تک بدل چکا ہے بیوی۔۔۔سو تم بھی میرے ان بدلتے تیوروں کی عادت ڈال لو۔۔۔۔“ اسکے تپتے رخسار پر آئی لٹ کو آہستگی سے کان کے پیچھے اڑس کر،،،،مضبوط لہجے میں اپنے بدلاؤ کا کھلا اظہار کرتا ہوا وہ حیا کو حیرتوں میں چھوڑکر وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
”اتنی آسانی سے تو کبھی بھی نہیں رمیض عالم درانی۔۔۔۔۔“ سکتہ ٹوٹنے پر واپس صوفے پر ڈھیتے ہوئے جہاں حیا کے پنکھری لب شدت سے پھڑپھڑائے تھے۔۔۔
وہیں گلابیت گھلی آنکھوں میں فکر کے گہرے سائے دوڑنے لگے۔۔۔۔
کیا وہ حقیقتاً اُس کی جانب مائل ہورہا تھا۔۔۔۔؟؟؟
ہونے والے سنگین حادثات کے باوجود بھی اتنی آسانی سے۔۔۔۔؟؟؟؟افففف۔۔۔۔!!!!
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
”سیف۔۔۔مجھے میرا لنچ باکس واپس کرو۔۔۔یہ تمھارا نہیں میرا ہے۔۔۔۔“ چھٹی کے وقت پلے گراؤنڈ میں ایک طرف موجود وہ اپنے سامنے کھڑے انتہائی صحت مندانہ بچے کو وارنگ دیتا ہوا سخت لہجے میں بول رہا تھا۔
سیف حمزہ سے ایک کلاس آگے تھا اور اپنے تین عدد ساتھیوں کی بچہ گینگ کے ساتھ مل کر ایسے ہی اکثر اُسے اور اس کے چشمش دوست کو تنگ کیا کرتا تھا۔۔۔
کبھی کاپی پھاڑ کر تو کبھی بریک ٹائم ٹیچر کی غیرموجودگی میں لنچ باکس چھین کر۔۔۔
ایک بار تو کمپلین کرنے پر اسے ٹیچر سے سخت پنش بھی مل چکی تھی۔۔۔لیکن وہ صدا کا ڈھیٹ بچہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر نہ صرف مزید چھیڑ خانیوں پر اتر آیا تھا۔۔۔بلکہ موقع ملتے ہی کاروائی کرنے کے بعد قدرے رعب ڈال کر اسے خاموش بھی کروادیا کرتا تھا۔
”چل ہٹ۔۔۔نہیں کروں گا میں اسے واپس۔۔۔یمی یمی پاستہ تو صرف میں اکیلا ہی کھاؤں گا۔۔۔تم بھاگو یہاں سے۔۔۔تمھارا ڈرائیور بابا تمھیں لینے آگیا ہوگا۔۔۔۔۔“ سینے پر ہاتھ مار کر اسے پیچھے دھکیلتے سیف نے بچا کچھا پاستہ بھی خود ہی ہڑپ کرنا چاہا تھا۔۔۔
جواباً سیف کے ساتھ کھڑے اُس کے شریر دوست حمزہ کا غصے والا چہرہ مزاق اڑاتی نظروں سے دیکھ کر ہنس دئیے۔۔
”یُو رائنو(گینڈے) کے بچے۔۔۔اِدھر واپس کرو میرا لنچ باکس۔۔۔میں کہتا ہوں واپس کرو اسے مجھے۔۔میں اب خاموش نہیں رہوں گا۔۔۔اپنی مومی اور ٹیچر سے تمھاری کمپلین ضرورکروں گا۔۔۔۔“ بھوک سے گڑبڑاتے پیٹ پر ضبط کرتا حمزہ ہمت کرتا ہوا جہاں اس سے لڑنے جھگڑنے پر اتر آیا تھا۔۔۔وہیں اس کے مکا مار کر لنچ چھیننے کی ناکام کوشش میں سیف کا پارہ چڑھ گیا۔۔۔
اس دوران حمزہ کا سہما ہوا چشمش دوست ایک طرف کھڑا سب کچھ خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
دو دن پہلے ہی تو سیف نے اسکا بھی چشمہ توڑ کر سارا الزام اس پر دھر دیا تھا۔
”ڈونٹ ٹچ می یُو لِزرڈ(چھپکلی)کے بچے۔۔۔۔۔“ حمزہ کی جرات پر سیف نے اپنے سریس ہوچکے دوستوں کو ایک نظر دیکھا۔۔پھر غصے سے چلاتے ہوئے حمزہ کی نازک گال پر زور کا تھپڑ دے مارا۔۔۔
”آآآآآااااا۔۔۔ہ۔۔مومی۔۔۔۔“ نتیجتاً حمزہ بوکھلا کر کٹی گھاس پر گرتا ہوا بےاختیار تلملایا۔۔۔۔
تو جہاں چشمش سنان مزید گھبرایا تھا۔۔وہیں سیف سمیت اسکے باقی دوست بھی حمزہ کی حالت پر دبے دبے قہقے لگاتے ہنس دئیے۔
جبکہ اِس تماشے سے قدرے انجان لاتعداد بچے اپنی اپنی کلاسوں سے نکلتے ہوئے اسکول کے کھلے گیٹ کی جانب اندھا دھند بھاگتے چلے جارہے تھے۔
”اووو۔۔۔چچ۔چچ۔چچ۔۔۔روندو بےبی اپنی مومی کو بلا رہا ہے۔۔۔؟؟مومی کی بجائے تم اپنے ڈیڈی کو کیوں نہیں بلالیتے۔۔۔تاکہ وہ آئیں اور مجھ سے تمھارا یہ خالی لنچ باکس چھین کر تمھیں دے دیں۔۔۔۔۔۔“ حمزہ کو روتے ہوئے جلتا گال مسلتے دیکھ اگلے ہی پل سیف نے پاستہ نیچے گراتے ہوئے اسے شدت سے چِڑایا تھا۔
”کیسے آئے گا یار۔۔۔؟؟اس کا تو ڈیڈی ہی نہیں ہے اِس دنیا میں۔۔۔ہاہاہاہاااا۔۔ااا۔۔۔“ ساتھ والے بچے نے بھی دل جلاتی باتوں میں حصہ ڈال کر ہاتھ پر ہاتھ مارتے اپنے شریر دوستوں کو ہنسایا۔۔۔تو نازک مٹھیاں بھینچتا ہوا وہ غصے سے اٹھ کر کھڑا ہوا۔
”میرے ڈیڈی نہیں ہیں تو کیا ہوا۔۔۔؟پاور فل بیسٹ فرینڈ تو ہیں ناں میرے پاس۔۔۔بالکل ٹیکن تھری گیم کے جن جیسے۔۔۔ فائٹ کرکے تم سب کو سبق سیکھادیں گے وہ۔۔۔۔“ روہانسے لہجے میں بھڑک کرچیلنج کرتا ہوا وہ اُن سب کو اپنی طرف سے ڈرا دھمکا رہا تھا۔
احساسِ محرومی پھر سے اس کے ننھے وجود میں پھیلتی ہوئی اس کا معصوم دل شدت سے ہلکان کر گئی تھی۔۔۔
سنان نے بےچارگی سے حمزہ کو آنسو رگڑ کر صاف کرتے ہوئے دیکھا پھر آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔
”اپنا لنچ باکس ان غریبوں کو دے دو حمزہ۔۔۔اور اپنا بیگ اٹھاؤ۔۔ہم اپنے اپنے گھر چلتے ہیں۔۔۔“ وہ تقریباً کان میں گھس کر بڑے دھیمے انداز میں بولتا مشورہ دے رہا تھا،جب سیف نےآگے بڑھتے ہوئے اُس چشمش کو بےدردی سے پڑے دھکیلا۔
جواباً حمزہ نے غصے سے اسکا گندمی موٹا چہرہ دیکھا تھا۔
”اچھا تو تمھارا ایک پاورفل بیسٹ فرینڈ بھی ہے۔۔۔!!گڈ۔۔۔مگر ڈیڈی تو نہیں ناں۔۔۔۔جب تمھارا خود کا کوئی ڈیڈی ہوگا تب آکر ہمیں سبق سکھانا۔۔مگر تب تک کے لیے ہماری کسی سے بھی نو کمپلین نو شکایت۔۔۔ورنہ اِس سے بھی برا کریں گے ہم تمھارے ساتھ۔۔۔چلو دوستوں۔۔۔“ کان سے پکڑ کر دھمکاتا ہوا سیف اگلے ہی پل لنچ باکس نیچے پٹخ کر۔۔۔اپنے دوستوں کے سنگ مکار ہنسی ہنستا ہوا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
معاً حمزہ نے نم آنکھوں سے جھک کر اپنا لنچ باکس پکڑنے کے بعد ایک طرف پڑا بیگ بھی اٹھاتے ہوئے کندھوں پر چڑھایا۔
”میں کہوں گا مومی سے۔۔۔کہوں گا کہ وہ میرے بیسٹ فرینڈ ”جِن“ کی وائف بن کر جلدی جلدی انھیں میرا ڈیڈی بنادیں۔۔۔۔پھر تم دیکھنا وہ اِن بیڈ بوائز کو کیسے سبق سیکھاتے۔۔۔جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔۔“ اُن سب کو نگاہوں سے اوجھل ہوتا دیکھ حمزہ نے قطعیت بھرے مضبوط ارادے کرتے ہوئے۔۔۔اپنے قدم آگے بڑھائے تو اس کے سنگ چلتا سنان چشمہ صحیح کرتا سر اثبات میں ہلاگیا۔۔۔۔
قدرے اداسی سے اسکول گیٹ پھلانگنے پر جہاں منتظر کھڑے ڈرائیور ناصر نے جلدی سے اس کے لیے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا تھا۔۔۔وہیں کافی فاصلے پر کھڑے نفوس نے آنکھیں سکیڑ کر بڑے ہی غور سے اُس خوبصورت بچے کو گاڑی میں بیٹھتے ہوئے دیکھا۔۔۔
”تو یہ رہا مومی کا پیارا بچہ۔۔۔۔میرا ننھا شکار۔۔۔۔“ سیاہ لبوں کی گہری پھڑپھڑاہٹ پر اس کی چمکتی ہوئی شاطرآنکھیں بےاختیارمسکرائی تھیں۔۔۔
🅡🅙 🅝🅞🅥🅔🅛🅘🅢🅣
وہ کافی دیر کا سویا ہوا اب جاگا تھا۔۔۔
سست روی سے فریش ہونے کے بعد اپنے کمرے سے نکل کر۔۔۔وسیع لاؤنج میں قدم رکھتے ہی، وہ اپنے باپ کو سامنے بیٹھا دیکھ چونک اٹھا۔
مگر ان کا کافی دیر بعد یہاں آنا اُس کے لیے غیر متوقع ہرگز نہیں تھا۔۔۔
”اپنے پاگل پن میں آکر یہ کیسی کیسی گھٹیا حرکتیں کرتے پِھر رہے ہو تم کیفی۔۔۔۔؟؟کل رات نہ صرف تم نے آوارہ دوست کے ساتھ مل کر اپنے چھوٹے بھائی کو بےدردی سے مارا پیٹا۔۔۔بلکہ اپنی ماں کو فون کال پر غلاظت بھی بکی۔۔۔ذرا شرم نہیں آئی تمھیں یہ سب کرتے ہوئے بولو۔۔؟؟“ وہ جو کب سے اسی کی آمد کے شدت سے منتظر تھے،،،فوری اٹھ کر قریب آتے ہوئے اپنا اشتعال اُس پر انڈیلتے چلے گئے۔
کیفی نے بڑے ضبط سے اُن کا غصے سے تنا ہوا چہرہ دیکھا تھا۔۔۔
”آپ کی دوسری بیوی اور اُس کے بےغیرت بیٹے سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے بابا۔۔۔اور نہ ہی کبھی ہوسکتا ہے۔۔۔رہی بات کل رات کی تو جو کچھ بھی میں نے کیا بہت کم کیا۔۔مجھے اس سے بھی ذیادہ کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔“ بےتاثر لہجے میں زور دے کر کہتا وہ مقابل کو مزید طیش دلا گیا تھا۔
اور دلاتا بھی کیوں نہ۔۔۔!!!
آخر کو اُن کے عیاش بیٹے نے گزشتہ روز کیا کچھ نہیں بکا تھا اُس کی مری ماں کے خلاف۔۔۔
کیفی تب پندرہ سال کا تھا جب اس کی سگی ماں کے سوئم پر ہی اس کے سنگدل باپ نے اپنی پریمیکا (محبوبہ) کے ساتھ دھوم دھام سے شادی رچالی تھی۔۔۔ گینگسٹر کی بہن ہونے کے ساتھ ساتھ وہ چالباز عورت امیریت میں بھی اس کے باپ سے دو ہاتھ آگےتھی۔۔۔
اور پھر کیفی کو اس کی دادی کے پاس چھوڑ کر وہ خود اُن سے دور دوسری بیوی کے سنگ الگ گھر بسا چکے تھے۔۔۔
ہاں البتہ جاتے جاتے وہ اِس بڑے سے شاندار گھر کے علاوہ دو چلتی چلاتی فیکٹریاں اپنی پہلی اولاد کے نام کرنے کی ذمہ داری بخوبی نبھانا قطعی نہیں بھولے تھے۔۔۔
گزرتے وقت کے سنگ جہاں اس کے باپ کو حرام کے کاموں میں ملوث ہونے میں ذرا دیر نہیں لگی تھی،،،وہیں دادی کے بعد ملازموں کے ہاتھوں پلتے کیفی سے وہ اکثر ملنے آجاتے تھے۔۔۔
مگر پھر کم سے کم ہوتا یہ میل ملاپ اُن دونوں باپ بیٹے کے بیچ سرد تعلقات کو خراب سے خراب ترین کرتا چلا گیا تھا۔۔۔۔
اسی طرح جوانی کی دہلیز پار کرنے کے بعد الگ الگ یونیورسٹیز میں پڑھائی کے کئی سال برباد کرتا ہوا وہ دوستیوں اور ادھوری محبت میں اپنا کھویا سکون تلاشتا رہا تھا۔۔۔
مگر نہ تو اسےکبھی سکون میسر آیا تھا اور نہ ہی کوئی دل سے چاہنے والا۔۔۔
کتنا بدقسمت مرد تھا ناں وہ۔۔۔
”سرکشی میں اب تم حد سے بڑھ رہے ہو کیفی۔۔۔مجھے اتنا مجبور مت کرو کہ میں تمھارے ساتھ صاف صاف سختی پر اتر آؤں۔۔۔“ اسکی جانب شہادت کی انگلی اٹھا کر وہ کڑک آواز میں گویا ہوئے تو ان کی سرخ آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کیفی کے ماتھے پر بھی تیوری چڑھ آئی۔۔۔
”اور آپ خود۔۔۔؟؟؟آپ بھی تو ظلم و ذیادتی کی ہر حد پار کرچکے ہیں ناں بابا۔۔۔۔کل میری مری ماں کی سالانہ برسی تھی۔۔۔مگر اس میں شرکت کرنے کی جگہ۔۔۔میرے ساتھ رہ کر مجھے دو بول تسلی کے بولنے کی بجائے آپ تو بس اپنی فیملی اور عیاش دوستوں کی سنگت میں بےہودہ پارٹیاں کرتے پِھر رہے تھے۔۔۔اس بات پر شرم تو آپکو بھی کرنی چاہیے تھی۔۔۔۔۔۔“ ضبط ٹوٹنے پر وہ مٹھیاں بھینچ کر چیخا تھا۔۔۔
”کیفی ی ی ی ی۔۔۔۔۔۔!!!“ اگلے ہی پل مقابل کا ہاتھ اٹھا تھا اور ”چٹااااخ۔۔۔۔“ کی زوردار آواز کے ساتھ اس کا رخسار لال کرگیا۔۔
کیفی نے نم۔۔جلتی آنکھوں کے ساتھ اپنے باپ کو قدرے تاسف سے دیکھا تھا۔
فقط یہ۔۔۔یہی تو ان کی محبت تھی۔۔۔!!!
”تم سے پیار کرنے کا۔۔۔تمھیں کھلی ڈھیل دینے کا ایسا صلہ ملے گا مجھے۔۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔۔کیا کچھ نہیں کیا میں نے تمھارے لیے۔۔اور تم۔۔۔۔۔۔“ وہ ہنوز اُس پر بھڑک رہے تھے۔۔۔جب کیفی بےاختیار نفی میں سر ہلاتا ہوا اُنھیں ٹوک گیا۔۔۔
”نہیں بابا نہیں۔۔۔۔آپ نے جو کچھ بھی کیا وہ محض اپنے دکھاوے کے لیے۔۔ساری دنیا کے سامنے خود کو اچھا ظاہر کرنے کے لیے کیا۔۔۔۔مگر افسوس۔۔۔افسوس کہ مجھےکبھی بھی وہ پیار نہیں دے سکے آپ جس کا میں اولین مستحق تھا۔۔۔نہ مجھے۔۔۔اور نہ ہی میری ماں کو۔۔۔اور اس بڑی ناانصافی کے لیے میں آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کروں گا بابا۔۔۔مرتے دم تک نہیں۔۔یاد رکھیے گا میری یہ بات۔۔۔“ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولتے ہوئے وہ مزید وہاں نہیں رکا تھا۔۔۔بلکہ مزید بھیگتی ہوئی انگارہ آنکھوں کو سختی سے رگڑتا ہوا تندہی کے ساتھ وہاں سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
پیچھے وہ اپنے متنفر ہوچکے بیٹے کے لفظوں پر پیچ و تاب کھا کر رہ گئے تھے۔۔۔۔
